40 C
Lahore
Saturday, May 25, 2024

Book Store

teen Mehmaan|تین مہمان|Maqbool Jahangir

تین مہمان

مقبول جہانگیر

اکتوبر ۱۹۶۱ء کا ایک کہرآلود دِن تھا۔ شکاگو کی میڈرڈ اسٹریٹ میں خاصا سناٹا تھا۔ صبح کے دس بجے تھے اور کاروباری لوگ، ملازمت پیشہ عورتیں اور مرد اَپنے اپنے کاموں پر اور دَفتروں میں جا چکے تھے۔ کبھی کبھار اِکا دُکا کار سکوت کو توڑتی ہوئی نکل جاتی اور پھر وہی خوشگوار سکون طاری ہو جاتا۔

میڈرڈ اسٹریٹ اور چیمسفورڈ اسٹریٹ کے چوراہے پر سڑک کے کنارے ایک منزلہ مکان کے سامنے والے کمرے میں مسز براؤن صوفے پر نیم دراز سویٹر بُن رہی تھی۔ کمرا چھوٹا، لیکن ترتیب سے سجا ہوا تھا جس سے اہلِ خانہ کی خوش ذوقی ظاہر ہوتی تھی۔ کمرے کے پیچھے ایک چھوٹی سی لابی تھی جس کے دائیں طرف کھانے کا کمرا اَور بائیں طرف باورچی خانہ تھا۔ لابی کے سرے پر شب خوابی کے دو کمرے ساتھ ساتھ تھے۔ مکان کا پچھلا دروازہ نہیں تھا، بلکہ دیوار کے پیچھے گیراج تھا جس کا دروازہ چیمسفورڈ اسٹریٹ کی جانب کھلتا تھا۔

لابی میں مسز براؤن کا آٹھ برس کا لڑکا جونز ریل گاڑی سے کھیل رہا تھا۔ اُس روز بخار ہونے کے باعث وہ اسکول نہیں گیا تھا، ورنہ روزانہ اِس وقت وہ تنہا ہوتی۔ جونز تو پھر بھی بارہ بجے آ جاتا، لیکن مسٹر براؤن اور لوُسی پانچ بجے آتے۔ اِس گھر میں یہی چار اَفراد تھے۔ کچھ اضافی بستی ہونے کی وجہ سے اور کچھ مالی حالت درست نہ ہونے سے اُن کے ہاں نوکر نہیں تھا۔ براؤن ایک کتب فروش کے ہاں سیلزمین تھا۔ اُسے لگی بندھی تنخواہ ملتی جس کا ایک حصّہ پرانی کار کی قسطیں ادا کرنے میں نکل جاتا۔ لُوسی نے اِسی سال کیمبرج کیا تھا اور مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے ایک فرم میں ملازم ہو گئی تھی۔ اُسے اگلے سال کالج میں داخلہ لینا تھا۔

صدر دَروازے کی گھنٹی بجی اور مسز براؤن چونک پڑی۔ اِس وقت ڈاکیا، سیلز ایجنٹ، کوئی ملاقاتی، خاکروب، کسی کے آنے کی توقع نہ تھی۔ وہ قدرے اضطراب سے اُٹھی۔ اُون کا گولا اور نصف بُنا ہوا سویٹر تپائی پر رکھا اور ڈھیلے ڈھالے قدموں سے دروازے کی طرف بڑھی۔

دروازہ کھلا، تو سامنے میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے ایک شخص کھڑا تھا۔ اُس کے بال بکھرے ہوئے اور ڈاڑھی بڑھی ہوئی تھی۔ چہرے سے درشتی اور سنگ دلی برس رہی تھی اور آنکھوں سے خشونت اور وَحشت جھانک رہی تھی۔ مسز براؤن اِس حلیے اور وَضع قطع کا مہمان دیکھ کر سراسیمہ ہو گئی۔ اِس سے پیشتر کہ وہ اُس سے کچھ پوچھتی، اُس کی نظر نووارد کے دائیں ہاتھ میں پکڑے ہوئے ریوالور پر پڑی۔ وہ خوف زدہ ہو کر ایک قدم پیچھے ہٹی اور دُوسرے ہی لمحے چکرا کر زمین پر گر پڑی۔

اُسے ہوش آیا، تو وہ صوفے پر نیم دراز تھی۔ اُس نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھا، سامنے اسٹول پر کوئی بیٹھا تھا، لیکن یہ وہ شخص نہیں تھا۔ اُس کے ہاتھ میں بھی ریوالور تھا۔ وہ دَہشت سے تھرتھر کانپنے لگی۔ معاً اُسے جونز کا خیال آیا۔ وہ تڑپ کر اُٹھی، اُسے اُٹھتا دیکھ کر اسٹول پر بیٹھے ہوئے شخص نے دھیمی، لیکن گمبھیر آواز میں کہا:

’’جو!‘‘

دریچے سے ہٹ کر چھوٹے چھوٹے قدم رکھتا ہوا ایک آدمی اُس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ یہ وہی تھا جس کے لیے اُس نے دروازہ کھولا تھا۔ مسز براؤن نے گھبرا کر لابی کی طرف دیکھا، جونز وہاں نہیں تھا۔ وہ وَحشت سے اِدھر اُدھر دیکھنے لگی۔ دریچے کے قریب رکھی ہوئی کرسی پر اُسے جونز بیٹھا دکھائی دیا۔ اُس کا رنگ زرد تھا اور آنکھیں خوف سے پھیل گئی تھیں۔ اُس کے سامنے بھی ایک شخص لمبا سا شکاری چاقو کھولے بیٹھا تھا۔ مسز براؤن کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکل گئی۔ وہ تیزی سے اٹھ کر جونز کی طرف لپکی، لیکن جو نے اُس کا راستہ روک دیا۔

اُس نے مسز براؤن کو ریوالور کے اشارے سے صوفے پر بیٹھ جانے کا حکم دیا۔ وہ بےبسی سے صوفے پر گر پڑی اور آنسو بھری آنکھوں سے جونز کی طرف یوں دیکھنے لگی جیسے بےبس گائے اپنے بچھڑے کو قصاب کے چھرے تلے دیکھتی ہے۔

’’مت گھبراؤ۔‘‘ جو نے ٹھہری ہوئی لیکن درشت آواز سے کہا۔ ’’میرا نام جو ہے۔‘‘ اُس نے نظریں مسز براؤن کے چہرے پر گاڑ دیں۔

جو ….. جو ….. مسز براؤن کو جیسے یاد آ گیا۔ یہ نام سنا تھا، پڑھا بھی تھا، ابھی کل ہی اخبار میں ….. اُف ….. اُس نے اپنے ہونٹ شدت سے بھینچ لیے اور بری طرح کانپنے لگی۔ خطرناک ڈاکو، بےرحم قاتل، اشتہاری مجرم، جسے زندہ یا مردہ گرفتار کرنے پر پولیس نے انعام مقرر کیا تھا ….. کیا یہ وہی جو تھا؟

’’ہاں مَیں جو ہوں۔‘‘ غالباً جو نے اُس کے دل کی بات پڑھ لی تھی۔ ’’پولیس جس کی تلاش میں ہے اور یہ میرے دو ساتھی ہیں۔ ہم تمہارے گھر میں پناہ لینے پر مجبور ہیں، کیونکہ اِس سے زیادہ مناسب اور محفوظ جگہ اور کوئی نظر نہیں آئی۔ ہمیں اپنے ایک ساتھی کا انتظار ہے۔ وہ کسی وقت بھی یہاں پہنچ جائے گا اور ہم چلے جائیں گے۔‘‘ وہ اِس سکون اور اِعتماد سے بول رہا تھا جیسے کوئی فرمان پڑھ رہا ہو۔ ’’لیکن وہ کب آئے گا، یہ ہمیں نہیں معلوم۔ آج شام تک، کل یا …..‘‘

مسز براؤن کو جو وقتی سکون ملا تھا، وہ چھن گیا۔ نہ معلوم کب تک ….. کب تک اُس کا گھر اِن سفاک قاتلوں اور خوف ناک ڈاکوؤں کے قبضے میں رہے گا اور لُوسی؟ لُوسی کا خیال آتے ہی وہ بےچَین ہو گئی۔ وہ سولہ برس کی نہایت خوبصورت اور صحت مند لڑکی تھی۔ یہ وحشی درندے بھلا اُسے چھوڑیں گے؟ کیا کرے؟ اُسے گھر آنے سے کیسے منع کرے؟ کیا کہے؟

’’اِس گھر میں تمہارے علاوہ اَور کون کون ہے اور اُن کے آنے کا کیا وقت ہے؟‘‘ جو نے ایک اور ضرب لگائی۔

’’م ….. م ….. میرا شوہر۔‘‘ وہ ہکلائی۔ جو نے دریچے کے قریب کھڑے شخص کی طرف دیکھا۔

’’جیکی، پانی!‘‘

جیکی بھاری بھاری قدموں سے چلا گیا اور تھوڑی دیر بعد پانی کا گلاس لیے نمودار ہوا۔ گویا اِن لوگوں نے گھر کو اَچھی طرح دیکھ بھال لیا ہے۔ مسز براؤن نے پانی کا گلاس اُس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے سوچا۔ اُس نے دو گھونٹ بھرے۔ اُس کے حلق میں کانٹے پڑ گئے تھے۔ اِس کے باوجود وُہ پانی نہ پی سکی اور گلاس جونز کی طرف بڑھا دیا۔ جیکی گلاس لیے جونز کی طرف بڑھا اور اُس نے کانپتے ہاتھوں سے اُسے تھام لیا۔ جب وہ گلاس خالی کر چکا، تو مسز براؤن نے اطمینان کا گہرا سانس لیا۔ گویا جونز اپنے حواس میں ہے۔

’’میرا شوہر پانچ بجے آئے گا اور …..‘‘ وہ رُک گئی۔

’’ڈرو نہیں۔‘‘ جو بھانپ گیا۔ ’’ہم اِس گھر کے کسی فرد کو تکلیف نہیں پہنچائیں گے۔ ہمیں یہاں پناہ ملی ہے، ہم محسن کش نہیں ہیں۔‘‘

مسز براؤن کو اُس کی باتوں میں درشتی اور اَکھڑپن کے باوجود صداقت کی بُو آئی۔ اُس نے سوچا کہ جب لُوسی کو آنا ہی ہے، تو چھپانے سے کیا فائدہ؟ کہیں الٹا اثر نہ ہو۔ وہ بولی:

’’اور میری لڑکی اپنے باپ کے ساتھ آتی ہے۔‘‘

’’کوئی اور؟‘‘ جو نے پوچھا۔ اُس نے لڑکی میں کوئی دلچسپی نہ لی۔ ’’نوکر، کوئی ملاقاتی؟‘‘

’’کوئی نہیں۔‘‘ اب مسز براؤن کے دل سے خوف ہٹتا جا رہا تھا۔ سب سے بڑا ڈر یہی تھا کہ وہ لُوسی کو پریشان نہ کریں، لیکن وہ قطعی بےضرر ثابت ہو رہے تھے۔ ممکن ہے پانچ بجے سے پہلے اُن کا ساتھی آ جائے اور وُہ چلے جائیں یا اگر نہ بھی جائیں، تو کیا فرق پڑتا ہے۔ اب تو اِن بن بلائے مہمانوں کو ٹھہرانا ہی ہو گا۔ بجائے اِس کے کہ کسی ناخوشگوار وَاقعے کو دعوت دی جائے، کیوں نہ حالات سے سمجھوتا کر لیا جائے۔

’’اگر وعدہ کرو کہ ہمیں کوئی تکلیف نہ پہنچاؤ گے، تو جب تک جی چاہے یہاں رہ سکتے ہو۔‘‘ مسز براؤن نے دل جمعی سے کہا۔

’’یقیناً ہم تمہیں کوئی تکلیف نہیں دیں گے۔‘‘ جو نے اعتماد سے کہا۔ ’’لیکن اگر تم نے کوئی گڑبڑ کرنے کی کوشش کی، تو اُس کی ذمےداری تم پر ہو گی۔‘‘ اُس نے اپنے تیسرے ساتھی کی طرف دیکھا جس کے ہاتھ میں کھلا چاقو تھا۔ اُس نے چاقو جونز کی گردن سے لگا دیا۔ بیک وقت جونز اور مسز براؤن کے منہ سے ہلکی چیخیں نکل گئیں۔ جو نے بڑھ کر مسز براؤن کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہنے لگا:

’’شور مچانے کی ضرورت ہے اور نہ کوئی فائدہ۔ مجھے اُمید ہے ہم تمہیں زیادہ زحمت نہیں دیں گے۔ اب تم اپنا روزمرہ کام جاری رکھ سکتی ہو۔‘‘

مسز براؤن نے سویٹر اور سلائیاں سنبھال لیں۔

’’جونز کو میرے پاس بٹھا دو۔ وہ ڈر کے مارے مر جائے گا۔‘‘ اُس نے کہا اور جو کا اشارہ پا کر جونز لپکا اور ماں کی گود میں گر پڑا۔ مسز براؤن نے اُسے سینے سے لگا لیا۔

’’ڈِک تم اِن کا خیال رکھو۔‘‘ جو نے اپنے تیسرے ساتھی سے کہا اور دَروازے کے پاس جا کھڑا ہوا۔ ڈِک مسز براؤن کے سامنے ایک مستعد شکاری کی طرح بیٹھ گیا۔ مسز براؤن کی انگلیاں جلد جلد چلنے لگیں۔ وہ اَپنا اضطراب انگلیوں میں ڈھال رہی تھی۔ وہ کبھی آنکھ اٹھا کر ڈِک کے خوںخوار چہرے کو دیکھتی، کبھی دروازے پر کھڑے جو پر چھچھلتی نظر ڈالتی۔

جو نے بڑی آہستگی سے دروازہ کھول کر باہر جھانکا۔ سڑک بدستور سنسان پڑی تھی۔ اُس نے دروازہ بند کر لیا اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا جیکی کے پاس جا کھڑا ہوا۔ دونوں سرگوشی کرنے لگے۔ جونز بےکار بیٹھے بیٹھے اکتا گیا تھا اور بار بار پہلو بدل رہا تھا۔ مسز براؤن سے رہا نہ گیا۔ وہ کہنے لگی:

’’جونز! جاؤ اپنے کمرے میں آرام کرو۔‘‘

جو نے اُس کی آواز سن لی اور فوراً پلٹا۔

’’نہیں! جونز یہیں رہے گا۔‘‘ اُس نے سختی سے کہا۔ پھر کچھ سوچ کر بولا ’’اِس کے کھلونے کہاں ہیں؟‘‘

’’اِس کے کمرے میں۔‘‘ مسز براؤن نے قدرے تلخی سے کہا اور اُٹھنے لگی۔ اُس نے سوچا تھوڑی سی مہلت مل جائے، تاکہ وہ براؤن کو صورتِ حال سے آگاہ کر سکے، لیکن جو بھی ایک ہی کائیاں تھا۔ اُس نے مسز براؤن کو شانوں سے پکڑ کر بٹھا دیا اور بولا:

’’جونز آپ لے آئے گا۔ جیکی اِس کے ساتھ جاؤ۔‘‘

ماں کا اشارہ پا کر جونز اٹھا اور اَپنے کمرے کی طرف بڑھا۔ جیکی اُس کے پیچھے پیچھے گیا۔ کچھ دیر بعد وہ کھلونوں سے لدا پھندا آیا۔ اُس کی ہیئت دیکھ کر مسز براؤن کو ہنسی آ گئی۔ اُس نے کھلونے فرش پر ڈھیر کر دیے اور جونز کو پاس بٹھا لیا۔ مسز براؤن کا سارا خوف جاتا رہا تھا۔ وہ بولی:

’’مَیں کھانا تیار کر لوں۔ جونز کو بھوک لگ رہی ہو گی اور تم لوگ بھی …..‘‘ اُس نے بشاشت سے کہا۔

جو اُس کا بدلا ہوا موڈ دیکھ کر مسکرایا اور بولا:

’’بڑی سمجھ دار عورت ہو۔ خدا کرے تمہارا شوہر اور لڑکی بھی ایسے ہی سمجھ دار ہوں اور ہم کسی ناگوار محنت سے بچ جائیں۔‘‘

مسز براؤن کو پھر شوہر اور لڑکی کا خیال آ گیا۔ وہ اَپنے شوہر کو اچھی طرح جانتی تھی۔ وہ بہت ضدی اور اَپنی مرضی کا مالک تھا۔ ایک بار فیصلہ کر لیتا، تو اُسے بدلنا ممکن نہ تھا۔ اگر اُس نے اِن لوگوں سے مصالحت نہ کی، تو کیا ہو گا؟ اگر وہ مجرموں اور قانون شکنی کرنے والوں کا ساتھ دینے پر آمادہ نہ ہوا اَور اَپنا فرض ادا کرنے پر اَڑا رَہا؟ اُس کے بدن پر کپکپی کی لہر دوڑ گئی۔

وہ آج تک کوئی بات شوہر سے منوا نہ سکی تھی، بلکہ صاف بات تو یہ تھی کہ اُس کی اپنی کوئی مرضی، اپنی کوئی رائے تھی ہی نہیں۔ اُس کے چہرے سے بشاشت غائب ہو گئی اور وُہ غم و فکر سے نڈھال ہو کر کھانا تیار کرنے لگی۔ کہہ دوں گی جان بچانے کے لیے ایسا کیا تھا۔ اُس نے خود کو تسلی دی۔

’’فون کہاں ہے؟‘‘ وہ چونک پڑی۔ جو باورچی خانے کی دہلیز پر کھڑا تھا۔

’’میرے شوہر کی خواب گاہ میں۔‘‘ اُس نے بےدلی سے کہا۔ دفعتاً اُسے احساس ہوا کہ کیوں بتا دیا۔ کسی بہانے براؤن کو بآسانی فون کیا جا سکتا تھا۔ ہائے یہ موقع بھی گیا۔ وہ خود کو کوسنے لگی۔

تقریباً ایک گھنٹے کے بعد وہ فارغ ہو کر نشست گاہ میں آ گئی۔ جونز کھیلتے کھیلتے سو گیا تھا۔ ڈِک کمرے میں تنہا تھا۔ جو اور جیکی وہاں نہیں تھے۔ خدا کرے کوئی انتظام کرنے گئے ہوں۔ اُس نے دل میں سوچا اور آگے بڑھ کر جونز کو اُٹھانے لگی۔ یکایک ڈِک اٹھا اور اُس نے بڑے پیار سے اُسے ہاتھوں میں اُٹھایا اور آہستہ سے صوفے پر لٹا دیا۔

مسز براؤن اِس سے بہت متاثر ہوئی۔ کیا یہ لوگ اتنے ہی خطرناک اور سنگ دل ہیں جتنا اخبارات اور ریڈیو میں بتایا جاتا ہے؟ اُس کا جی چاہا کہ ڈِک سے باتیں کرے، لیکن کہاں سے شروع کرے اور پھر اِس کا وہ خوف ناک چہرہ جس کی ہر سلوٹ پر لکھا تھا یہ قاتل ہے، ڈاکو ہے، جیل سے بھاگا ہوا مجرم ہے۔

’’تمہارا ساتھی کہاں سے آئے گا؟‘‘ آخر کچھ نہ کچھ تو کہنا ہی چاہیے۔

’’آئے گا نہیں، آئے گی۔‘‘ ڈِک نے اپنے پیلے پیلے دانت نکال کر کہا۔ مسز براؤن چونک پڑی۔ کوئی عورت ہے؟ کیا وہ بھی اتنی بھیانک ہو گی؟ ڈاکو اَور قاتل ہو گی؟

’’کیا اُسے پتا معلوم ہے؟‘‘ اُس نے پوچھا۔

’’وہ یہاں کا چپہ چپہ جانتی ہے۔‘‘ ڈِک نے بےپروائی سے کہا۔

کون ہو سکتی ہے؟ مسز براؤن کے ذہن میں گرد و پیش کی تمام عورتوں کا حلیہ آ گیا۔ کیا وہ اِسی شہر، اِسی علاقے کی رہنے والی ہے؟ کیا مَیں اُسے جانتی ہوں؟

جو اور جیکی خواب گاہ کی سمت سے آئے۔ وہ اَب تک ٹیلی فون پر بات کر رہے تھے۔

’’وہ آج نہیں آ سکے گی۔‘‘ جو نے ڈِک سے کہا اور پھر مسز براؤن کی طرف بڑھا اور بولا ’’ہم آج شب یہیں بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ ہماری ساتھی نے بتایا ہے کہ پولیس نے شہر میں داخلے کے تمام راستے بند کر دیے ہیں۔‘‘ وہ دَریچے کے قریب رکھی ہوئی کرسی پر بیٹھ گیا اور پائپ نکال کر پینے لگا۔ جیکی ایک صوفے میں دھنس گیا۔

’’اب اپنے شوہر کو قابو میں رکھنا تمہارا کام ہے۔‘‘ جو نے دھواں چھوڑتے ہوئے کہا۔ اُس کا چہرہ کھنچ گیا اور وُہ ہونٹ بھینچ کر بولا ’’ہم بدمزگی پیدا نہیں کرنا چاہتے، اگر خون خرابے کے بغیر ہی معاملہ ٹھیک ہو جائے، تو اچھی بات ہے۔‘‘

مسز براؤن کے سینے میں یہ جملہ تیر کی مانند لگا۔ اُس کی آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا۔ اُف خدایا! بیٹھے بٹھائے یہ کیا مصیبت نازل ہو گئی۔ بےدلی سے اٹھ کر وہ باورچی خانے میں گئی اور وَہاں سے کھانے کے کمرے میں جا کر کھانا لگانا شروع کیا۔ برتن میز پر رکھ کر وہ خاموشی سے لابی میں جا کھڑی ہوئی۔ وہ لوگ سمجھ گئے اور چپ چاپ کھانے کی میز پر جا پہنچے۔

ایک لفظ منہ سے نکالے بغیر اُنھوں نے کھانا ختم کیا اور پھر نشست گاہ میں پہنچ گئے۔ مسز براؤن جونز کے سرہانے بیٹھ گئی۔ اُس کی بھوک پیاس غائب ہو گئی تھی اور دِل ڈوب رہا تھا۔ اُسے یہ بھی خیال نہ رہا کہ جونز کو جگا کر کھانا کھلا دے۔ جو اور جیکی کرسیوں ہی پر سو گئے، البتہ ڈک ایک ہوشیار چیتے کی طرح مستعد بیٹھا تھا۔ پانچ بجنے میں ابھی تین گھنٹے باقی تھے۔

ایک گھنٹہ اور گزر گیا۔ مسز براؤن کو دوپہر میں سونے کی عادت تھی۔ پریشانی اور ذہنی خلفشار کے باوجود اُس کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ وہ وَہیں صوفے پر سر ٹکائے سو گئی۔ جب اُس کی آنکھ کھلی، تو پونے پانچ بج رہے تھے۔ سامنے ڈِک اُسی طرح بت بنا بیٹھا تھا۔

نہ جانے کس مٹی کا بنا ہوا ہے۔ مسز براؤن نے سوچا۔ اُس کے دونوں ساتھیوں کے خراٹوں سے کمرہ گونج رہا تھا۔ جونز ابھی تک سو رہا تھا۔ مسز براؤن نے اُس کی پیشانی کو چھوا۔ بخار تیز ہو گیا تھا۔ پندرہ منٹ، صرف پندرہ منٹ باقی تھے۔ اُس کے ماتھے پر پسینے کے قطرے ابھر آئے اور دِل لرزنے لگا۔ وہ چپکے چپکے سلامتی اور عافیت کی دعائیں مانگنے لگی۔

پانچ بجے اور چیمسفورڈ اسٹریٹ پر کار رُکنے کی آواز آئی۔ مسز براؤن چونک پڑی۔ ڈِک پھرتی سے اٹھا۔ ایک نظر باہر دریچے پر ڈالی اور لپک کر جو اَور جیکی کو اُٹھانے لگا۔ ابھی وہ سنبھلنے بھی نہ پائے تھے کہ دروازے کی گھنٹی بجی۔ جو نے استفہامیہ نظروں سے مسز براؤن کی طرف دیکھا۔

’’میری بیٹی ہے۔‘‘ مسز براؤن کی آواز کانپ رہی تھی۔

جو نے ریوالور نکال لیا اور دَبے پاؤں دروازے کی طرف بڑھا۔ اُسی وقت مکان کے عقب سے گیراج کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔

جو نے دروازہ کھولا اور لُوسی کو ریوالور کی زد میں لے لیا۔ قریب تھا کہ لُوسی کی چیخ نکل جاتی، لیکن جو نے اُس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ وہ تھرتھر کانپنے لگی۔ جو اُسے صوفے پر بٹھا کر پھر دروازے پر پہنچ گیا۔ گیراج بند ہونے کی آواز آئی۔ کمرے میں موت کا سناٹا چھا گیا۔ مسز براؤن سر سے پاؤں تک لرز رہی تھی۔ اُس کی آنکھوں سےآنسوؤں کی جھڑیاں لگی ہوئی تھیں۔ لُوسی اپنے آپ پر قابو پا چکی تھی۔ اب اُس کے چہرے پر خوف و ہراس کی جگہ غصّہ اور حقارت نمایاں تھی۔

دروازہ کھلا اور براؤن کا پُرسکون، اسپاٹ چہرہ نظر آیا۔ جو کو دیکھتے ہی وہ بوکھلا گیا۔ غالباً زندگی میں پہلی مرتبہ مسز براؤن اور لُوسی نے اُسے اتنا خوف زدہ دَیکھا تھا۔ لیکن بیوی اور بیٹی پر نگاہ پڑتے ہی وہ سنبھل گیا اور رُعب سے بولا:

’’کون ہو تم؟ میرے گھر میں کیا کر رہے ہو؟‘‘

جو مسکرایا۔ ’’خفا ہونے کی ضرورت ہے نہ اِس سے فائدہ۔ آپ اطمینان سے تشریف رکھیے۔ ہم دوست ہیں۔‘‘

’’میرا کوئی دوست نہیں ہے۔‘‘ براؤن کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولا۔ اُس کی نظر جیکی اور ڈِک پر پڑی اور وُہ بپھر گیا:

’’خوب! تو میرا گھر ڈاکوؤں کا اڈا بنا ہوا ہے۔ مَیں کہتا ہوں تمہاری ہمت کیسے ہوئی؟‘‘

’’مسٹر براؤن!‘‘ جو غرایّا۔ ’’شور مچانے کی کوشش مت کرو۔ سوائے اِس کے کہ ہمیں وہ کام کرنا نہ پڑے جو ہم کرنا نہیں چاہتے، تمہیں کچھ حاصل نہ ہو گا۔‘‘

جو کا بدلا ہوا لب و لہجہ دیکھ کر مسز براؤن نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا:

’’براؤن بیٹھ جاؤ اور …..‘‘

’’خاموش رہو۔‘‘ براؤن گرجا۔ ’’مَیں موت سے نہیں ڈرتا۔ مار دَو مجھے گولی …..‘‘

وہ تیزی سے شب خوابی کے کمرے کی طرف بڑھا۔ جو نے پیچھے سے اُس کے سر پر ریوالور کا دستہ مارا۔ مسز براؤن اور لُوسی کے منہ سے بیک وقت چیخیں نکل گئیں۔ جونز بھی جاگ اٹھا اور رَونے لگا۔ براؤن سر تھام کر زمین پر اوندھے منہ گر گیا۔ سر سے خون کی پتلی سی دھار نکل کر اُس کے کپڑوں کو رنگین کر رہی تھی۔ مسز براؤن اور لُوسی دیوانہ وار اُٹھیں اور اُس پر جھک گئیں۔

’’وحشیو تم چاہتے کیا ہو؟‘‘ لُوسی نے غضب ناک ہو کر کہا۔

’’یہ اپنی ماں سے پوچھو۔‘‘ جو نے بےپروائی سے شانے جھٹکے اور دَریچے کے قریب چلا گیا۔ مسٹر براؤن نے دبی دبی آواز سے لُوسی کو ساری بات سمجھائی، لیکن اُس کے چہرے پر کرب کے آثار بدستور نمایاں تھے۔

’’مَیں ڈاکٹر کو بلانا چاہتی ہوں۔‘‘ لُوسی نے غصّے سے کہا۔ لیکن جو اَور اُس کے ساتھیوں نے اُس کی بات سنی اَن سنی کر دی۔ ’’تم نے سنا نہیں؟‘‘ لُوسی بپھری ہوئی شیرنی کی طرح کھڑی ہو گئی۔

’’تم لوگ ابتدائی طبی امداد نہیں دے سکتیں؟‘‘ جو نے کہا۔ ’’اتنی سی بات کے لیے ڈاکٹر کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ پھر اُس نے جیکی کی طرف دیکھا۔ ’’جیکی! اِن لوگوں کی مدد کرو۔‘‘

’’ہمیں تمہاری مدد کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔‘‘ لُوسی نے چلّا کر کہا۔ ’’مَیں ڈاکٹر کو فون کرنے جا رہی ہوں۔ تم مجھے روک نہیں سکتے۔‘‘

’’ٹھہرو!‘‘ جو نے گرج کر کہا۔ ’’اپنے خاندان کی تباہی کا باعث نہ بنو۔‘‘ پھر اُس نے نرمی سے کہا ’’دیکھو لڑکی! ہمیں یہاں چند گھنٹے اور ٹھہرنا ہے۔ ایک ساتھی کے آتے ہی ہم چلے جائیں گے۔ ہم تمہیں کچھ نہیں کہتے، تم بھی ہمیں نقصان  پہنچانے کی کوشش نہ کرو۔‘‘

’’مَیں وعدہ کرتی ہوں کہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گی۔‘‘ لُوسی نے پلٹ کر کہا۔ ’’لیکن مَیں خدا سے بھی وعدہ کرتی ہوں کہ اپنے باپ کو یوں مرنے نہیں دوں گی۔‘‘

لُوسی پیر پٹختی ہوئی خواب گاہ کی سمت بڑھی۔ ڈِک نے بڑھ کر اُسے روکنا چاہا، لیکن جو نے اُسے اشارے سے منع کر دیا۔ جیکی کو اُس کی بےوقوفی پر بڑا غصّہ آیا، لیکن وہ خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا۔ ڈِک بڑبڑانے لگا۔ مگر جو اِطمینان سے کمرے میں بیٹھا رہا۔ کچھ دیر بعد لُوسی آئی اور جو سے کہنے لگی:

’’تم لوگ ممی کی خواب گاہ میں چھپ جاؤ اور ڈیڈی کو اُن کے کمرے میں پہنچا دو۔‘‘

جیکی اور ڈِک یہ سن کر حیران رہ گئے، لیکن جو نے اُنھیں اشارہ کیا اور اُنھوں نے بےہوش براؤن کو اُٹھا لیا۔ اُن کے پیچھے مسز براؤن اور سہما ہوا جونز بھی چلے گئے۔

’’تم بہت سمجھ دار بچی ہو۔‘‘ جو نے پیار سے کہا، لیکن لُوسی نے نفرت سے منہ پھیر لیا۔

صدر دَروازے کی گھنٹی بجی۔ لُوسی نے دروازہ کھولا اور ڈاکٹر کو لیے براؤن کے کمرے کی طرف بڑھی۔ مسز براؤن کے کمرے میں دروازہ بند کیے، ایک سوراخ سے جو جھانک رہا تھا۔ تینوں چوکنے شکاریوں کی طرح مستعد کھڑے تھے۔ بند کمرے کی خاموشی میں اُن کے دل گھڑی کی ٹِک ٹِک کی طرح طرح چل رہے تھے۔ جو کو ڈاکٹر کمرے سے نکلتا نظر آیا۔ لُوسی اُسے دروازے تک چھوڑنے گئی۔ جب وہ لَوٹی، تو تینوں لابی میں کھڑے تھے۔

’’تمہارا بہت شکریہ لڑکی۔‘‘ جو نے بڑے ملائم لہجے میں کہا، لیکن وہ بالوں کو جھٹک کر براؤن کے کمرے میں چلی گئی۔ جو نے کلائی میں بندھی گھڑی میں دیکھا۔ ساڑھے چھ بجے تھے۔ اُس نے متفکر نظروں سے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا اور براؤن کے کمرے میں چلا گیا۔

’’خواتین معاف کرنا، مجھے فون کرنا ہے۔‘‘ اُس نے اجازت کا انتظار کیے بغیر ریسیور اُٹھایا اور نمبر ملانے لگا۔ وہ دَبی آواز سے باتیں کرتا رہا۔ لُوسی کان لگائے سنتی رہی، لیکن اُس کے پلّے کچھ نہ پڑا۔ جو نے ریسیور رَکھ دیا اور بوجھل قدموں سے باہر نکل گیا۔ لُوسی نے دبے پاؤں اُس کا پیچھا کیا۔

’’وہ گیارہ بجے کے قریب آئے گی۔ پولیس نے شہر کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ اُنھیں علم ہے کہ ہم یہاں چھپے ہوئے ہیں، تاہم وہ اِس علاقے تک نہیں پہنچے ہیں اور نہ اِس کا خطرہ ہے۔ اب ہمیں بڑی احتیاط سے یہ وقت کاٹنا ہے۔ جیکی! تم براؤن کے کمرے کا خیال رکھو۔ ڈِک تم غسل خانے میں جا کر عقب پر نگاہ رَکھو۔ دیکھو گولی بالکل نہ چلے، کسی حالت میں بھی نہیں۔‘‘ جو احکام دے کر نشست کے کمرے میں کھڑکی کے قریب ایک اسٹول گھیسٹ کر بیٹھ گیا۔

براؤن ہوش میں آ چکا تھا۔ لُوسی گرم اوولٹین لائی جسے اُس نے پی لیا۔ سب سے پہلے اُس نے ڈاکوؤں کے متعلق پوچھا کہ وہ گئے یا ابھی تک ڈیرہ ڈالے پڑے ہیں۔ مسز براؤن کہنا چاہتی تھی کہ وہ چلے گئے، لیکن لُوسی بول پڑی:

’’وہ گیارہ بجے تک چلے جائیں گے۔‘‘

براؤن سیخ پا ہو گیا۔ ’’گیارہ بجے کیوں، ابھی کیوں نہیں جاتے؟‘‘ اُس نے اُٹھنے کی ناکام کوشش کی، لیکن مسز براؤن اور لُوسی نے اُسے زبردستی لٹا دیا۔ اُس پر نقاہت طاری تھی، تلملا کر بےبسی سے لیٹا رہا۔

رات کا کھانا کسی نے نہیں کھایا۔ لُوسی صبح سے بھوکی تھی، لیکن وہ پانی بھی نہ پی سکتی تھی۔ جونز سو چکا تھا۔ براؤن کے کمرے کی بتی بجھا کر دونوں ماں بیٹیاں اُس کے کمرے میں بیٹھی تھیں۔ لُوسی کی نظریں گھڑی پر تھیں۔ گیارہ بجنے میں دو گھنٹے باقی تھے۔ دو صبرآزما، ہوش رُبا گھنٹے ….. مکان میں مکمل سکوت تھا۔

دس بج گئے۔ بن بلائے مہمانوں کو گھر میں قدم رکھے بارہ گھنٹے ہو چکے تھے۔ مسز براؤن کے لیے یہ گھنٹے بارہ سال سے کم نہ تھے۔ عذاب کے بارہ برس۔ لُوسی جھنجلا رہی تھی کہ پولیس کو اطلاع کیوں نہیں دی جاتی، وہ خود کو مجرم سمجھ رہی تھی قانون کی، معاشرے کی، انسانیت کی مجرم ….. نہ جانے جو اور اُس کے ساتھی مزید کتنے قتل کریں گے، کتنے گھروں پر ڈاکے ڈالیں گے، کتنی زندگیاں ویران کریں گے۔

اگر وہ ذرا سی ہمت کرے ….. ذرا سی ….. لیکن اُس کا انجام۔ وہ محض معمولی سی مزاحمت کا انجام دیکھ چکی تھی۔ براؤن کے سر سے بہتا گاڑھا گاڑھا سرخ خون دیکھ کر اُس کے تو اوسان خطا ہو گئے تھے۔ یہ درندے اُنھیں بھلا کب چھوڑنے والے تھے۔ اب یہی ہو سکتا ہے کہ وہ چلے جائیں اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔ البتہ ننھے جونز کو سمجھا دینے کی ضرورت ہے، ورنہ بھانڈا پھوٹ گیا، تو یہ گھر ہمیشہ کے لیے لوگوں کی نظروں سے گر جائے گا۔ کوئی اُن کی بےبسی کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ اُن سے کسی کو ہمدردی نہیں ہو گی۔ سب لعن طعن کریں گے، ممکن ہے پولیس بھی پریشان کرے۔

تیرھواں گھنٹہ شروع ہوا اَور لُوسی کا اضطراب بڑھ گیا۔ اُس نے ماں کی طرف دیکھا۔ وہ دوپہر کو نہ سونے کی وجہ سے آرام کرسی ہی پر سو گئی تھی۔ براؤن بھی سو گیا تھا۔ ڈاکٹر نے اُسے خواب آور دَوا دِی تھی۔ صرف وہ جاگ رہی تھی یا اُس کے مہمان۔ دفعتاً ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ لُوسی اُس کی طرف لپکی۔ مسز براؤن کی آنکھ کھل گئی اور وُہ بھی سنبھل کر بیٹھ گئی۔

’’ہیلو!‘‘ لُوسی نے کہا۔ اتنے میں جو اُس کے سر پر پہنچ چکا تھا۔ اُس نے اشارے سے کہا کہ پوچھو کون ہے؟

دوسری طرف سے کوئی عورت بول رہی تھی۔ لُوسی نے ریسیور جو کے ہاتھ میں تھما دیا۔ جو نے صرف ایک لفظ کہا جو لُوسی کی سمجھ میں نہیں آیا۔ جو خاموشی سے سنتا رہا، پھر اُس نے فون بند کر دیا۔ دروازے پر جیکی اور ڈِک کھڑے تھے۔

’’ہم میں سے دو آدمیوں کو دریا کے پُل کی طرف جانا ہے۔ سارا وَہیں ہو گی۔ پُل کے نیچے لانچ تیار ملے گی جس میں بیٹھ کر دریا پار کرنا ہو گا۔ سارا وَاپس آ کر تیسرے آدمی کولے جائے گی۔ وہ کار کے ذریعے پُل پار کریں گے۔‘‘ جو نے اپنے ساتھیوں سے کہا۔

’’لیکن پولیس وہاں بھی تو ہو گی؟‘‘ جیکی نے مشکوک لہجے میں کہا۔

’’اِس کا اُس نے انتظام کر رکھا ہے۔ اُس نے میری ویدر (Mary Weather) ٹاؤن سے اُنھیں فون پر بتایا کہ وہ اَور اُس کے ساتھی دریا پار کر کے جنوب کی سمت جا چکے ہیں۔‘‘ جو نے کہا۔

’’اور پولیس نے اِس پر یقین کر لیا۔‘‘ ڈِک نے طنزیہ لہجے میں کہا۔

’’پولیس نے اُس پر یقین کر لیا، کیونکہ اُس نے بتایا کہ ہم اُسے جبراً لیے جا رہے ہیں۔ اُس نے ہم پر اغوا اَور آبروریزی کا الزام بھی لگایا ہے۔‘‘ جو نے ہلکا سا قہقہہ لگایا۔ اُس کے ساتھی بھی ہنسنے لگے۔

’’اچھا اب دو آدمی کون ہوں گے؟‘‘ جو نے سنجیدگی سے پوچھا۔

’’ایک مَیں …..‘‘ ڈِک جلدی سے بولا۔

’’دوسرا مَیں …..‘‘ جیکی کچھ محجوب سا ہو گیا۔

’’خوب!‘‘ جو نے ہونٹ چبایا۔ ’’تو تم دونوں تیار ہو۔ ہاں تمہیں اپنی جان بچا کر نکل جانا ہی چاہیے۔ پیچھے رہ جانے والے پر نہ جانے کیا بِیتے۔‘‘ اُس کے زہر میں بجھے الفاظ اُن کے دلوں میں پیوست ہو گئے۔ تاہم وہ اَنجان سے بن گئے۔

’’اِسے مصلحت ہی کہیں گے، خودغرضی نہیں۔‘‘ جو نے پھر تیر چلایا۔ ’’اچھا تو مسٹر براؤن کی گاڑی نکالو اور نو دو گیارہ ہو جاؤ۔‘‘ اُس نے لُوسی کی طرف دیکھا۔

’’گیراج اور گاڑی کی چابیاں اِنھیں دے دو۔‘‘

’’اور گاڑی …..؟‘‘ لُوسی نے ہچکچاہٹ سے پوچھا۔

’’اُسے ہم ساتھ نہیں لے جائیں گے۔ پُل پر کھڑی مل جائے گی یا ….. تمہیں کار چلانا آتی ہے؟‘‘ جو نے اُسے گھور کر دیکھا۔

’’آتی ہے، لیکن مَیں اِن کے ساتھ نہیں جاؤں گی۔‘‘ لُوسی نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔

’’یہ بھی ٹھیک ہے۔‘‘ جو نے ساتھیوں کی طرف دیکھ کر کہا۔ ’’اِن کا کوئی اعتبار نہیں۔ اچھا تو پھر چابیاں لاؤ۔‘‘

لُوسی قدرے تذبذب میں پڑ گئی۔ پھر کچھ سوچ کر اُس نے باپ کے کپڑوں کو ٹٹولا اور چابیوں کا گچھا نکال کر جو کے حوالے کیا۔

’’تم ہمیں ضرور مصیبت میں پھنساؤ گے۔‘‘ اُس نے تنک کر کہا۔

’’تم سورج نکلنے سے پہلے کار لے آنا۔‘‘ جو نے چابیاں اُس سے لے کر جیک کی طرف اچھال دیں اور وُہ دونوں دبے پاؤں صدر دَروازے کی طرف بڑھے۔ اُسے کھولا اور رات کی تاریکی میں غائب ہو گئے۔ چند لمحوں بعد کار چلنے کی آواز آئی۔ جو اور اُس کے ساتھ ہی لُوسی نے اطمینان کا سانس لیا۔

’’مَیں تمہارا اِحسان کبھی نہیں بھولوں گا لڑکی۔‘‘ جو نے گہرا سانس لے کر کہا۔

’’اِس کی ضرورت نہیں ہے۔ مَیں بھی اپنی بزدلی کو کبھی فراموش نہیں کروں گی۔‘‘ لُوسی نے رکھائی سے جواب دیا۔ جو ہنسنے لگا۔

گیارہ بج چکے تھے۔ جو نشست گاہ کی بتی بجھائے کھڑکی سے لگا کھڑا تھا۔ دفعتاً دور سے کار کی دو بتیاں قریب آتی نظر آئیں۔ لُوسی کا دل دھڑکنے لگا۔ اُس کا سہارا لیے مسز براؤن بھی تیز تیز سانس لینے لگی۔ روشنی لحظہ بہ لحظہ قریب آ رہی تھی اور مکان کے عین سامنے ایک کار رُک گئی۔ جو نے ماں بیٹیوں کی طرف دیکھا:

’’الوداع مہربان دوستو!‘‘ اُس نے کہا۔

’’الوداع!‘‘ مسز براؤن کے منہ سے بھی نکل گیا اور لُوسی نے گھور کر ماں کو دیکھا۔

جو دروازہ کھول کر بغیر آواز پیدا کیے تیزی سے کار کی طرف بڑھا۔ کار کی بتیاں بجھی ہوئی تھیں۔ جو نے مضبوطی سے ریوالور تھام رکھا تھا۔ کار سے چند قدم دور رُک کر اُس نے آہستہ سے کہا:

’’سارا!‘‘

’’چلے آؤ جو!‘‘ کار کے اندر سے ایک کپکپاتی ہوئی زنانہ آواز آئی۔

جو نے آگے بڑھ کر کار کا دروازہ کھولا۔ دو اسٹین گنیں اُس کے سینے سے پیوست ہو گئیں اور ساتھ ہی اگلی نشست سے پولیس کے دو اَفسر کود کر باہر نکلے۔ دوسرے دروازے سے دو اور تیزی سے اتر کر اُس کی طرف لپکے۔ وہ دو اسٹین گنوں اور چار رِیوالوروں کی زد میں تھا۔

’’جو ریوالور پھینک دو۔‘‘ ایک افسر نے تحکمانہ لہجے میں کہا۔ جو نے کار کے اندر جھانکا۔ سارا کے حلق سے ریوالور کی نالی چپکائے ایک پولیس والا بیٹھا تھا۔

’’خوب تو دھوکا دیا گیا۔‘‘ جو نے کہا۔ اُسے کار میں دھکیل دیا گیا۔

مسز براؤن اور لُوسی دروازے میں کھڑی تھر تھر کانپ رہی تھیں۔ اُن کی آنکھوں میں بیک وقت خوف اور مسرّت کی چمک تھی۔ ایک پولیس افسر اُن کی طرف آیا۔ مسز براؤن نے مضبوطی سے لُوسی کا بازو تھام لیا۔ پولیس افسر قریب آ چکا تھا۔

’’مسٹر براؤن کہاں ہیں؟‘‘ اُس نے پوچھا۔

’’وہ سو رہے ہیں۔ اُنھیں ڈاکوؤں نے زخمی کر دیا ہے۔‘‘ لُوسی نے ہمت کر کے کہا۔

’’اچھا! کچھ دیر میں آپ کی کار پہنچ جائے گی۔ وہ ہمارے قبضے میں ہے۔‘‘ اُس نے کہا۔

’’اُسے جیکی اور ڈِک ہمارے پروگرام کے مطابق لے گئے تھے۔‘‘ پولیس افسر نے بتایا۔ ’’ہم نے سارا کو پہلے ہی گرفتار کر لیا تھا اور اُسی کے ذریعے سارا کام کروایا۔ اچھا اب اجازت دیجیے۔‘‘

پولیس افسر چلا گیا اور لُوسی ماں سے لپٹ گئی۔

یہ بھی پڑھیں:
https://shanurdu.com/raqqaas-tasveeren/

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles