31 C
Lahore
Monday, June 17, 2024

Book Store

Raqqaas Tasveeren|رقاص تصویریں|Maqbool Jahangir

رقاص تصویریں

مقبول جہانگیر

وہ سردیوں کی ایک خوشگوار صبح تھی۔ میرا دوست شرلک ہومز حسبِ معمول اپنے کسی اہم کیمیائی تجربے میں مصروف تھا۔
اتنا مصروف کہ جب مَیں نے کمرے میں قدم رکھا، تو اُسے میری آمد کا احساس بھی نہ ہوا۔
اُس کی لمبی، پتلی کمر میری جانب تھی اور ہاتھ میں شیشے کی ایک نلی جسے وہ غور سے دیکھ رہا تھا۔
مَیں آرام کرسی پر بیٹھ گیا اور ایک کتاب کی ورق گردانی کرنے لگا۔
میرا خیال تھا کہ اُس کا تجربہ جلد ختم ہو جائے گا، لیکن دو گھنٹے گزر گئے، وہ اَبھی تک سرگرمی سے اپنے کام میں لگا ہوا تھا۔ یکایک لینڈ لیڈی مسز ہڈسن کی آمد اور آواز سے وہ چونکا۔

’’کھانا تیار ہے مسٹر ہومز!‘‘

’’آہ ….. میرے دوست واٹسن! تم کب آئے؟ بھئی معاف کرنا مَیں اتنا مصروف رہا کہ …..‘‘
اُس نے معذرت آمیز لہجے میں کہنا شروع کیا۔

’’کوئی ہرج نہیں ….. کوئی ہرج نہیں۔‘‘ مَیں نے ہاتھ اٹھا کر کہا۔ ’’بھوک کے مارے میرا برا حال ہے۔ مسز ہڈسن تمہارے جواب کی منتظر ہیں۔‘‘

’’کھانا بجھوا دِیجیے مسز ہڈسن!‘‘ ہومز نے مسکرا کر کہا۔

کھانے کے دوران میں بھی وہ خلافِ معمول خاموش رہا۔ مَیں نے خیال کیا کہ شاید وہ اَبھی تک اپنے تجربے کی بعض گم شدہ کڑیاں تلاش کر رہا ہے، اِس لیے مَیں بھی چپ تھا۔
کھانے سے فارغ ہو کر اُس نے اپنے تمباکو کی تھیلی اور پائپ سنبھالا اور آرام کرسی پر اطمینان سے لیٹ گیا۔

’’کوئی نیا کیس؟‘‘ مَیں نے یونہی پوچھ لیا۔ ہومز نے نفی میں گردن ہلائی۔ پھر یکایک کچھ یاد آیا۔
اُس نے اپنے کوٹ کی اندرونی جیب سے کاغذ کا ایک پرزہ نکالا اور میرے آگے رکھ دیا۔
مَیں نے اُس پرزۂ کاغذ کو حیرت سے دیکھا۔ یہ کسی نوٹ بک میں سے پھاڑا گیا تھا۔ اُس پر پنسل سے چند آڑی ترچھی مضحکہ خیز شکلیں بنی ہوئی تھیں۔

’’یہ کسی بچے کا کارنامہ ہے۔‘‘ مَیں نے کہا۔

’’کیا واقعی؟‘‘ ہومز کہنے لگا۔ ’’تو تمہارے خیال میں یہ شکلیں کسی بچے نے بنائی ہیں؟‘‘

’’بالکل ….. ورنہ اِس کا اور کوئی مقصد مجھے نظر نہیں آتا۔‘‘

ہومز نے وہ پرزہ میرے ہاتھ سے لے لیا۔ چند لمحے تک پلک جھپکائے بغیر اُسے دیکھتا رہا۔ پھر بولا:

’’نارفوک میں رہنے والے کوئی مسٹر ہلٹن کوبٹ ہیں، اُنھوں
نے مجھے لکھا تھا کہ اگلی ریل سے وہ خود بھی لندن پہنچ رہے ہیں ….. آہ ….. ذرا سننا، یہ گھنٹی کی آواز ہے۔
غالباً مسٹر ہلٹن تشریف لے آئے ہیں۔‘‘

سیڑھیوں میں کسی کے بھاری قدموں کی آواز گونجی اور ایک لمحے بعد ہمارے سامنے ایک لمبا تڑنگا اور خوبصورت خدوخال کا شخص کھڑا تھا۔
ڈاڑھی مونچھیں صاف تھیں اور چہرے پر لمبے سفر کے باعث تھکن کے آثار نمایاں تھے۔
ہم دونوں سے باری بار مصافحہ کرنے کے بعد وہ کرسی پر بیٹھنے ہی والا تھا کہ اُس کی نظریں پرزۂ کاغذ پر پڑیں جو اَبھی تک ہومز کے ہاتھ میں تھا۔

’’کہیے مسٹر ہومز! آپ نے کیا معلوم کیا؟‘‘
اُس نے اپنی فراست سے پہچان لیا کہ ہم میں سے شرلک ہومز کون ہے۔
’’مَیں نے آپ کے بارے میں حیرت انگیز کہانیاں سنی ہیں کہ آپ پُراسرار اَور لاینحل معمّوں کو پلک جھپکنے میں حل کر دیتے ہیں.
میرا خیال ہے کہ یہ پرزۂ کاغذ آپ کے لیے انتہائی دلچسپی کا باعث ہو گا۔ مَیں نے اِسے پہلے یوں بھیجا کہ آپ اِس پر اطمینان سے غور کر سکیں۔‘‘

’’بےشک یہ معاملہ میری دلچسپی کا باعث ہے۔‘‘ ہومز نے کہا۔
’’ابتدائی نظر میں یہی معلوم ہوا اَور جیسا کہ میرے عزیز دوست ڈاکٹر واٹسن نے رائے ظاہر کی، یہ کسی بچے کے ہاتھ کی بنی ہوئی تصویریں ہیں.
اُس نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ چند آدمی گویا رقص کر رہے ہیں، مگر سوال یہ ہے مسٹر ہلٹن، آپ اِسے اتنی اہمیت کیوں دے رہے ہیں؟‘‘

’’مجھے تو اِس کی پروا بھی نہیں مسٹر ہومز!‘‘ ہلٹن نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
’’لیکن میری بیوی فکر کے مارے مری جاتی ہے۔
منہ سے تو کچھ نہیں کہتی، مگر جب سے یہ پرزۂ کاغذ اُس نے دیکھا ہے، اُس کی نیند حرام ہو گئی ہے اور چہرے پر خوف کے آثار ہیں۔ اِسی لیے مَیں اِس معاملے کی تہہ تک پہنچنا چاہتا ہوں۔‘‘

’’اِس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی بیوی نے نزدیک رقص کرتی ہوئی یہ ٹیڑھی میڑھی تصویریں کچھ معنی رکھتی ہیں؟‘‘ ہومز نے کہا۔

’’بہرحال ….. بہرحال ….. اب مَیں چاہتا ہوں کہ آپ مناسب سمجھیں، تو اپنی بیوی کے بارے میں کچھ بتائیے تاکہ ڈاکٹر واٹسن بھی سن سکیں اور ممکن ہے اِس معمّے کے حل میں کوئی مدد مل سکے۔‘‘

ہلٹن نے پہلو بدلا، پھر اپنے بھاری ہاتھ ملتے ہوئے کہنے لگا:

’’مَیں کوئی داستان گو تو ہوں نہیں، تاہم کچھ عرض کرتا ہوں۔ اگر کوئی بات تشریح طلب ہو، تو پوچھتے جائیے گا۔‘‘
چند لمحے خاموش رہنے کے بعد وہ دوبارہ گویا ہوا۔ ’’
اِس قصّے کا آغاز مَیں اپنی شادی سے کرتا ہوں جو گزشتہ سال ہی ہوئی ہے، مگر پہلے یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ مَیں کوئی امیر کبیر آدمی نہیں ہوں۔
رائیڈنگ تھارپ کے مقام پر ہمارا خاندان پانچ صدیوں سے آباد ہے اور پورے نارفوک میں ہمارے خاندان کا جو اِحترام اور وَقار ہے۔ وہ کسی دوسرے خاندان کا نہیں۔

’’پچھلے برس مَیں لندن آیا اور رسل سکوائر کے ایک بورڈنگ ہاؤس میں ٹھہرا۔ وہیں ہمارے قصبے کا پادری پارکر بھی قیام پذیر تھا۔
اُس بورڈنگ ہاؤس میں میری ملاقات ایک نوجوان اور دِلکش امریکی خاتون سے ہوئی جس کا نام ایلسی پیٹرک تھا۔ تعلقات بڑھ کر دوستی اور پھر محبت کے دائرے میں داخل ہو گے۔
مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہم نے رجسٹری آفس میں جا کر شادی کر لی اور پھر مَیں اُسے بیوی کی حیثیت سے نارفوک لے گیا۔

’’مسٹر ہومز! آپ یہ سب قصّہ سن کر حیران ہو رہے ہوں گے کہ مَیں ایسا خاندانی آدمی ہو کر یہ حرکت کیوں کر بیٹھا اور اَیسی عورت سے شادی کر لی، جس کے خاندان سے مَیں واقف تھا اور نہ مجھے اُس عورت کے ماضی کا کچھ پتا تھا۔
مَیں نے یہ سب باتیں نظرانداز کر دیں، کیونکہ وہ عورت نہ صرف صورت، بلکہ سیرت کے اعتبار سے بھی لاکھوں میں ایک ہے۔ اور اگر آپ اُس سے ملیں، تو یہی رائے قائم کریں گے۔

’’خیر، شادی سے ایک روز پہلے ایلسی نے مجھ سے کہا ’دیکھو ہلٹن! اگر تم سچ مچ مجھے چاہتے ہو اَور مجھ سے شادی کے خواہش مند ہو، تو ایک بات کا وعدہ کرو،
تم میرا ماضی کریدنے کی کوشش نہ کرو گے اور نہ اُس بارے میں مجھ سے کچھ پوچھو گے۔
کہو، یہ شرط منظور ہے؟‘ مَیں نے وعدہ کرتے ہوئے جواب دیا مجھے تم سے غرض ہے، تمہارے ماضی سے نہیں۔
مَیں تم سے کوئی ایسی بات نہ پوچھوں گا جو تم ظاہر کرنا نہ چاہتی ہو، البتہ تم خود ہی کچھ بتا دو گی، وہ علیحدہ بات ہے۔‘‘

رومال سے اپنا چہرہ صاف کرنے کے بعد ہلٹن نے اپنا بیان جاری کیا۔
’’شادی ہونے کے بعد ایک سال تک ہم خوش و خرم رہے اور ہمارے درمیان کوئی رنجش یا تکرار کی نوبت نہ آئی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ مجھے پا کر سب کچھ بھول گئی ہے۔
یہی حال میرا تھا، لیکن فلکِ ناہنجار کو ہماری یہ خوشی ایک آنکھ نہ بھائی۔ پچھلے مہینے یعنی جون کے اختتام پر یہ عجیب اور پریشان کن معاملہ سامنے آیا۔

’’ایک روز میری بیوی کے نام امریکا سے ایک خط آیا۔ ایلسی وہ خط پڑھ کر انتہائی دہشت زدہ ہوئی اور اُس کا چہرہ ہلدی کی طرح زرد پڑ گیا۔
اُس نے خط پڑھا اور پھر اُسے آتش دان کے بھڑکتے ہوئے شعلوں میں پھینک دیا۔ مَیں نے اُس سے قطعاً نہیں پوچھا کہ خط کس کا تھا، اُس میں کیا لکھا تھا اور نہ اُس نے مجھے بتانا مناسب سمجھا،
تاہم اُس دن کے بعد سے مَیں نے محسوس کیا کہ بےچاری ایلسی کے گرد غم و اندوہ اَور خوف کے ملے جلے سائے رقص کر رہے ہیں۔
اُس کی تمام شوخی اور ساری مسرتیں جیسے گُھٹ کر رہ گئیں۔
کچھ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ ایک نامعلوم خطرے کے باعث جو کسی وقت بھی نمودار ہو سکتا ہے، اندر ہی اندر گھل رہی ہے۔

’’مَیں بہرحال اُس کا شوہر ہوں، اور اُسے مجھ پر اعتماد کرتے ہوئے سب کچھ بتانا چاہیے تھا، لیکن چونکہ مَیں عہد کر چکا تھا کہ اُس سے کوئی بات خود نہ پوچھوں گا، اِس لیے مَیں چپ رہا۔
تاہم اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اُس کا ماضی خواہ کیسا ہی رہا ہو، بہرحال میری بیوی نیک صفت عورت ہے۔
یقیناً وہ کوئی ایسی غلطی نہ کر سکتی تھی جس کے لیے اُسے اپنے ضمیر کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے۔

’’خیر، اب مَیں اِس کہانی کے ایک نہایت دلچسپ موڑ پر آتا ہوں۔ ایک ہفتے قبل اور یہ غالباً منگل کا دن تھا کہ مَیں نے صبح کے وقت اپنے مکان کی کھڑکی کے شیشے پر چند ٹیڑھی میڑھی تصویریں دیکھیں۔
بالکل ایسی ہی جیسی اِس کاغذ پر آپ کو نظر آتی ہیں، یہ تصویریں چاک سے بنائی گئی تھیں۔
مَیں نے خیال کیا یہ شرارت اصطبل میں کام کرنے والے لونڈے کی ہے، چنانچہ مَیں نے اُسے بلایا اور پوچھا۔
وہ قسمیں کھانے لگا کہ اُس نے نہیں بنائیں اور نہ وہ کچھ جانتا ہے کہ یہ حرکت کرنے والا کون ہے۔

’’اُس کے بعد مَیں نے گھر کے اور ملازمین سے پوچھ گچھ کی، مگر سب کا جواب نفی میں تھا۔ یہ سب میرے بھروسے اور اِعتماد کے قابل لوگ تھے اور برسوں سے میرے پاس ملازم تھے۔
اُن پر زیادہ شک کرنا فضول تھا، تاہم اتنا ضرور پتا چل گیا کہ یہ بےہودہ تصویریں پیر اور منگل کی درمیانی رات کو کسی نے بنائی ہیں۔
قصّہ مختصر مَیں نے کپڑے سے اُنھیں صاف کیا، لیکن دوپہر کے کھانے پر جب مَیں نے اپنی بیوی سے اِس واقعے کا ذکر کیا، تو اُس کی آنکھیں حیرت اور خوف سے پھیل گئیں، ہونٹ کانپنے لگے اور رَنگ سفید پڑ گیا۔

’’اُس نے لرزتی ہوئی آواز میں بمشکل اتنا کہا ’خدا کی پناہ! تم نے وہ تصویریں مجھے کیوں نہ دکھائیں۔ اچھا، آئندہ اگر ایسا ہو، تو مجھے ضرور بتا دینا۔‘’
اُس کے بعد وہ چپ ہو گئی اور اُس نے کوئی لفظ زبان سے نہ نکالا۔ چند دن بخیر و عافیت گزر گئے، لیکن کل صبح پھر باغ میں گھومتے ہوئے ایک جگہ مجھے یہ پرزۂ کاغذ پڑا ملا جو بعدازاں ڈاک کے ذریعے مَیں نے آپ کو بھیجا۔
اِس کاغذ پر بھی یہی بےمعنی تصویریں بنی تھیں۔
مَیں نے یہ پرزہ ایلسی کو دکھایا، تو وہ اِسے دیکھتے ہی غش کھا کر گر پڑی۔ اُس کے بعد سے اب تک اُس کی حالت نہیں سنبھلی۔
ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ اِس دنیا سے قطع تعلق کر چکی اور اَب کسی اور ہی دنیا کے تصوّرات میں گم رہتی ہے۔‘‘

’’آپ کو فوراً پولیس کے پاس جانا چاہیے تھا۔‘‘ مَیں نے رائے ظاہر کی۔

’’پولیس؟‘‘ ہلٹن کے ہونٹوں پر بےجان مسکراہٹ نمودار ہوئی۔

’’پولیس کے پاس مَیں کیا لے جاتا جناب۔ وہ مجھے پاگل سمجھتے اور میرا مذاق اُڑاتے۔ یہ معاملہ سوائے مسٹر ہومز کے اور کوئی نہیں سلجھا سکتا۔‘‘
اُس نے بےتاب ہو کر ہومز کا ہاتھ پکڑا اَور ملتجیانہ لہجے میں کہنے لگا:
’’مسٹر ہومز! مَیں کوئی امیر آدمی نہیں ہوں، لیکن خدا کے لیے میری بیوی کو اِس نامعلوم اور پُراسرار عذاب سے نکالیے۔ مَیں اِس کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘‘

کمرے میں موت کی سی خاموشی طاری رہی۔ ہومز پلک جھپکائے بغیر چھت کی طرف تک رہا تھا۔ بالآخر اُس نے مدھم لہجے میں کہا:

’’مسٹر ہلٹن! اِس میں شک نہیں کہ آپ کے گھر میں چند غیرمعمولی واقعات رونما ہو رہے ہیں، جن کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ آپ کے یا آپ کی بیوی کے لیے کس قدر نقصان دہ ثابت ہوں، تاہم اِس کا حل آپ کے ہاتھ میں ہے۔
کیا آپ کسی طرح اپنی بیوی کو مجبور نہیں کر سکتے کہ وہ زبان کھولے اور اِن پُراسرار تصویروں کے بارے میں کچھ بتائے۔‘‘

ہلٹن نے اپنی بھاری گردن نفی میں ہلائی۔

’’ہرگز نہیں جناب ….. کبھی نہیں ….. مَیں اُس سے وعدہ کر چکا ہوں کہ ماضی کے حالات اُس سے پوچھنے کی کبھی کوشش نہ کروں گا۔
اگر خدا نے چاہا، تو زندگی کے آخری سانس تک مَیں اپنا عہد نبھاؤں گا۔
وہ خود مجھے بتانا چاہے، تو بتا دے، مَیں اُس پر کبھی جبر نہ کروں گا، تاہم مَیں اپنے ذرائع سے اُس کے بارے میں کچھ جاننے کا حق ضرور رَکھتا ہوں۔‘‘

’’بہرحال مجھے خوشی ہے کہ آپ اپنے عہد پر جوانمردی سے قائم ہیں۔‘‘ ہومز نے کہا۔
’’اچھا یہ بتائیے کہ اِس دوران میں کوئی اجنبی شخص آپ کے مکان یا اُس کے گرد و نواح میں گھومتے پھرتے دیکھا گیا ہے؟‘‘

’’جی نہیں! ہمارا علاقہ اتنا گنجان آباد نہیں۔ وہاں گنتی کے لوگ رہتے ہیں۔ نیا چہرہ تو فوراً پہچانا جاتا ہے۔‘‘

’’اِن حالات میں جبکہ تفتیش کے لیے ہمارے پاس مواد کافی نہیں، کامیابی مشکل نظر آتی ہے۔‘‘ ہومز نے کہا۔
’’میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ نارفوک واپس جائیے۔
اِس بات کی کوشش کیجیے کہ اگر ایسی ہی اور تصویریں کاغذ یا شیشے پر بنی ہوئی آپ کو ملیں، تو اُنھیں مٹانے سے پہلے اُن کی نقل اتار کر میرے پاس ضرور بھیجیے۔
مجھے یقین ہے کہ اُن تصویروں کے اندر کوئی پُراسرار پیغام یا اُسی قسم کا کوئی مفہوم ضرور چھپا ہوا ہے اور مَیں اُس کی تہ تک پہنچنے کا ارادہ کر چکا ہوں۔

’’افسوس کہ آپ نے کھڑکی کے شیشے پر چاک سے بنی ہوئی تصویریں مٹا دیں۔ اُن کی کاپی کاغذ پر ضرور اُتار لینی چاہیے تھی۔
اِس کے علاوہ اَپنی آنکھیں کھلی رکھیے ۔ گرد و نواح میں گھوم پھر کر معلوم کیجیے کہ کوئی اجنبی اِس طرف دیکھا تو نہیں گیا۔ اگر آپ کو کچھ اور باتیں معلوم ہوں، تو تاخیر کے بغیر میرے پاس آئیے۔‘‘

مسٹر کوبٹ ہلٹن سے ہمارا اِنٹرویو ختم ہو گیا۔ اُس کے بعد کئی دن تک شرلک ہومز کچھ کھویا کھویا اور بےچَین سا رہا۔
وہ کاغذ کا پرزہ اپنے سامنے رکھ کر گھنٹوں غور کرتا، اور آپ ہی آپ کچھ حساب لگاتا۔
اُس نے مجھے بتانے کی کوشش کی اور نہ مَیں نے پوچھنا چاہا، کیونکہ مَیں اُس کی طبیعت سے واقف تھا کہ جب تک وہ کسی خاص نتیجے پر نہ پہنچ لے، اپنے معاملات سے مجھے آگاہ نہ کرے گا۔

ایک روز جب کہ مَیں کسی کام سے باہر جانے کا ارادہ کر رہا تھا کہ ہومز نے آواز دی:

’’واٹسن! کہاں چلے؟ ذرا ٹھہرو۔‘‘

’’کیوں، کیا بات ہے؟‘‘

’’آج صبح ہلٹن کا تار مجھے ملا ہے۔ ایک بیس کی گاڑی سے وہ لندن پہنچنے ہی والا ہے۔ اُس کے تار سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعض نئے واقعات ظہور پذیر ہوئے ہیں۔ بس وہ یہاں آتا ہی ہو گا۔‘‘

ٹھیک آدھے گھنٹے بعد ہمارے مکان کے آگے گھوڑا گاڑی رکنے کی آواز آئی اور پھر چند لمحے بعد ہمارا دوست سامنے کھڑا تھا۔
اُس کا چہرہ پہلے سے کہیں زیادہ سُتا ہوا تھا اور آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے تھے۔ وہ آتے ہی دھڑام سے ایک کرسی پر گر پڑا اَور نہایت کمزور آواز میں بولا:

’’مسٹر ہومز! یہ معاملہ میرے لیے ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے۔ مَیں اِسے زیادہ طول نہیں دے سکتا، ورنہ میری بیوی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گی۔
چند دنوں کے اندر اَندر وہ ہڈیوں کا ڈھانچا سا بن گئی ہے۔ اُس کا منہ ابھی تک بند ہے۔ کچھ یہی حال میرا ہے۔
آپ دیکھتے ہیں کہ میرے اعصاب کس قدر پژمردہ اَور بےجان ہو رہے ہیں۔ میرا ذہن ماؤف ہوتا جاتا ہے۔‘‘
اُس کی آنکھوں سے آنسوؤں کے قطرے ڈھلک کر رخساروں پر آ گئے۔

’’بعض اوقات مَیں محسوس کرتا ہوں کہ ایلسی مجھ سے کہنا تو چاہتی ہے، لیکن کسی اندرونی خوف کے باعث اُس کی زبان نہیں کھلتی۔
مَیں نے کئی بار اِس انداز میں بات چھیڑی کہ وہ مجھے اپنا شوہر ہی نہ سمجھے، بلکہ قابلِ اعتماد دوست بھی جانے اور خوشیوں کے علاوہ اَپنے غموں میں بھی شریک ہونے کا موقع دے، لیکن اُس نے ایک مغموم تبّسم کے پردے میں میری بات ٹال دی۔‘‘

’’اچھا یہ بتائیے کہ آپ نے کچھ تازہ معلومات حاصل کیں؟‘‘

’’جی ہاں! بہت کچھ۔ مَیں اپنے ساتھ نہ صرف نئی تصویروں کی نقلیں لایا ہوں، بلکہ مَیں نے اُس بدمعاش کو بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔‘‘

’’آہ ….. آپ نے اُسے دیکھ لیا؟‘‘ ہومز نے بےتاب ہو کر ہاتھ ملنے شروع کر دیے۔
براہِ کرم تفصیل سے بتائیے۔ دیکھیے، کوئی معمولی سی معمولی بات بھی پیچھے نہ چھوڑیے۔ ممکن ہے وہ میرے لیے اہم ہو۔‘‘

’’بہت بہتر! مَیں عرض کرتا ہوں۔‘‘ ہلٹن نے داستان سنانے کی تیاری کرتے ہوئے کہا۔
’’جب مَیں آپ سے رخصت ہو کر اپنے مکان پر پہنچا، تو اگلی صبح کیا دیکھتا ہوں کہ باغیچے کے ساتھ واقع ٹول ہاؤس کے سیاہ دَروازے پر سفید چاک سے وہی تصویریں بنی ہوئی ہیں۔
مَیں نے فوراً ایک کاغذ لیا اور اُن کی نقل اتار لی۔ اے ….. یہ دیکھیے۔‘‘
اُس نے جیب سے ایک بڑا سا کاغذ نکالا اور ہمارے سامنے رکھ دیا۔ اُس پر کچھ شکلیں بنی ہوئی تھیں۔

’’خوب، خوب، آگے چلیے۔‘‘ ہومز نے کہا۔

’’اُن کی نقل تیار کرنے کے بعد مَیں نے کپڑے سے اُن تصویروں کو مٹا دیا۔
دو روز بعد پھر ایسی ہی تصویروں کا ایک تازہ نمونہ دکھائی دیا اور یہ ہے اُس کی نقل۔‘‘ اُس نے ایک اور کاغذ ہمارے سامنے رکھ دیا۔

ہومز کی آنکھیں چمکنے لگیں۔ اُس نے مضطرب ہو کر اُن دونوں نمونوں کو بار بار دَیکھا اور اُس کے ہاتھوں کی گردش تیز ہو گئی۔

’’اب معاملہ کچھ کچھ واضح ہوتا جا رہا ہے۔‘‘ اُس نے خوشی سے ہکلاتے ہوئے کہا۔

’’یہ دوسرا نمونہ ملنے کے تین دن بعد باغیچے ہی میں دھوپ گھڑی کے قریب مجھے کاغذ کا ایک اور پرزہ دکھائی دیا۔ اُس پر کسی نے یہی شکلیں بنائی تھیں۔
کاغذ کو ایک چھوٹے سے پتھر کے نیچے دبا کر رکھ دیا تھا کہ ہوا سے اُڑ نہ جائے۔ یہ دیکھیے۔‘‘ ہلٹن نے تیسرا کاغذ بھی ہومز کے سامنے رکھ دیا۔

’’اب جناب مجھے معلوم ہو گیا کہ کوئی شخص رات کے وقت باغیچے میں آتا ہے اور یہ شکلیں بنا کر رفوچکر ہو جاتا ہے، چنانچہ مَیں نے اُسے پکڑنے کا ارادہ کر لیا۔
مَیں نے اپنی بیوی کو کچھ نہ بتایا، بلکہ شام کا کھانا کھا کر چپکے سے اپنی سٹڈی میں گیا اور کھڑکی کے پاس ریوالور لے کر بیٹھ گیا۔
وہاں سے باغیچہ اور لان صاف نظر آتا ہے اور کوئی شخص بھی میری نظروں سے بچ کر جا نہیں سکتا۔ رات اگرچہ انتہائی سرد اَور تاریک تھی، تاہم مَیں استقلال سے بیٹھا رہا۔

’’پچھلے پہر چاند نکلا اور اُس کی ہلکی ہلکی روشنی میں باغیچے اور لان کا پورا منظر میری نگاہوں کے سامنے تھا۔ ٹھیک دو بجے تھے کہ مَیں نے سٹڈی روم میں قدموں کی چاپ سنی۔
حیرت سے مڑ کر دیکھا، تو میری بیوی تھی۔
اُس نے ڈریسنگ گاؤن پہن رکھا تھا اور بالکل ایک لاش کی مانند آہستہ آہستہ حرکت کر رہی تھی۔
وہ میرے قریب آئی اور بولی:

’’آپ یہاں کب تک بیٹھے رہیں گے، چلیے آرام کیجیے۔‘‘

’’تم جاؤ، مَیں اب اُس بدمعاش کا سراغ لگا کر رہوں گا جس نے ہمارا سکون چھین لیا ہے۔‘‘

’’کوئی پاگل ہو گا جو اَیسی حرکتیں کر رہا ہے۔ اِس کا زیادہ نوٹس نہیں لینا چاہیے۔‘‘ ایلسی نے کہا اور اِس کے ساتھ ہی اُس نے میرا شانہ مضبوطی سے پکڑ لیا۔
ایک لمحے کے لیے مَیں نے اُس کی طرف دیکھا۔ بدنصیب عورت کا چہرہ دُھلے ہوئے کپڑے کی مانند سفید تھا اور وُہ ٹکٹکی باندھے باغیچے کی طرف تک رہی تھی۔

’’میں نے اُس کی نگاہ کا تعاقب کیا۔ کیا دیکھتا ہوں ٹول ہاؤس کے قریب ایک انسانی سایہ جس نے سر تا پا سیاہ لبادہ اَوڑھ رکھا تھا، دبے پاؤں چل رہا ہے۔
پھر وہ دروازے کے سامنے پہنچ کر رکا۔ اُسے دیکھتے ہی میرے جنون اور غصّے کی انتہا نہ رہی۔
مَیں نے پستول سنبھالا، کرسی سے اٹھا اور باہر جانے کا ارادہ کیا، لیکن ایلسی نے مجھے پکڑ لیا اور رَو رَو کر منتیں کرنے لگی کہ خدا کے واسطے وہاں نہ جاؤ۔
مَیں نے اُس سے پیچھا چھڑانے کی بڑی کوشش کی، مگر ایلسی میری ٹانگوں سے چمٹ گئی۔ اِسی جدوجہد میں کئی منٹ گزر گئے۔
آخر مَیں نے اُسے دھکا دے کر ایک طرف پھینکا اور دِیوانہ وار دوڑتا ہوا ٹول ہاؤس کے قریب گیا، مگر اتنی دیر میں وہ موذی نہ جانے کہاں غائب ہو گیا۔
جاتے جاتے بھی وہ چاک سے دروازے پر رقص کرتی ہوئی چند تصویریں بنا گیا تھا۔

’’مَیں نے اُن کی نقل اتار لی۔ مَیں نے اُسے خاصی دیر اِدھر اُدھر تلاش کیا، مگر وہ تو جیسے فضا میں تحلیل ہو گیا۔ لیکن مسٹر ہومز حقیقت یہ تھی کہ وہ رَات کا بقیہ حصّہ اُسی باغ میں کہیں چھپا رہا،
کیونکہ صبح سویرے جب مَیں ٹول ہاؤس کے پاس سے گزرا،
تو دروازے پر پہلے سے بنی ہوئی شکلوں کے عین نیچے اُس نے چند نئی شکلیں اور بنا دی تھیں۔
دیکھیے، یہ ہے اُن کی نقل۔‘‘

ہومز نے گہری اور اِشتیاق بھری نظروں سے اُن شکلوں کا معائنہ کیا۔
اُس کی خوبصورت کشادہ پیشانی پر ایک ثانیے کے لیے غور و فکر کی علامات نمودار ہوئیں،
مگر دوسرے ہی لمحے اُس نے اُس کاغذ کو بھی احتیاط سے تہہ کر کے جیب میں رکھا اور ہلٹن سے کہنے لگا:

’’کیا آپ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ شکلیں اُس نامعلوم شخص نے ٹول ہاؤس کے اُسی دروازے پر بنائی تھیں جہاں اُس سے پہلے بھی بنا چکا تھا؟‘‘

ہلٹن نے کچھ سوچا، پھر بولا:
’’میرا ٰخیال ہے دروازہ تو وہی تھا، مگر اب یاد آتا ہے کہ یہ تازہ شکلیں اُس نے اُس دروازے کے کواڑ پر بنائی تھیں۔‘‘

’’خوب، خوب!‘‘ ہومز نے حسبِ معمول ہاتھ ملتے ہوئے کہا۔

’’ازراہِ کرم اپنا انتہائی دلچسپ بیان جاری رکھیے۔‘‘

’’مجھے زیادہ نہیں کہنا۔‘‘ ہلٹن نے جواب دیا۔
’’سوائے اِس کے کہ مَیں ایلسی پر سخت ناراض ہوا۔ محض اُس کی وجہ سے وہ بدمعاش بچ کر نکل گیا۔
ایلسی نے کہا ’مجھے روکنے کی وجہ صرف یہ تھی کہ کہیں وہ شخص میرے لیے خطرے کا باعث نہ بن جائے۔
اُس کی اِس بات سے میرے دل میں یہ خیال آیا کہ ایلسی ضرور اُس مردِ پُراسرار کو جانتی ہے۔
اُس نے مجھے اِس لیے نہیں روکا کہ اُسے میری جان کا خطرہ تھا، بلکہ وہ مجھ سے اُس شخص کو بچانا چاہتی تھی، کیونکہ بہرحال پستول میرے پاس تھا۔
اب بتائیے مسٹر ہومز، مجھے کیا کرنا چاہیے۔ مَیں نے یہ بھی سوچا ہے کہ اپنے فارم پر کام کرنے والے دس بارہ آدمیوں کو نگرانی پر لگا دوں۔
جونہی وہ بدمعاش دوبارہ وَہاں آئے، میرے آدمی مار کر اُس کا حلیہ بگاڑ دیں۔‘‘

’’جی نہیں! ایسا نہ کیجیے۔ اِس کا کوئی فائدہ نہ ہو گا۔‘‘ ہومز نے سوچتے ہوئے کہا۔
’’اچھا، یہ بتائیے آپ لندن میں زیادہ سے زیادہ کتنا عرصہ قیام کر سکتے ہیں؟‘‘

’’مَیں بالکل نہیں ٹھہر سکتا، مجھے فوراً واپس جانا چاہیے۔
مَیں ایلسی کو اور وُہ بھی اِن حالات میں، رات بھر تنہا ہرگز نہیں چھوڑ سکتا۔
اُس کی حالت بڑی ابتر ہے۔ جب مَیں آپ کے پاس آ رہا تھا، تو اُس نے بھیگی آنکھوں سے التجا کی تھی کہ جلد واپس آ جانا۔‘‘

’’ٹھیک ہے۔‘‘ہومز نے کہا۔
’’آپ کا واپس چلے جانا ہی بہتر ہے ، تاہم میرا اِرادہ تھا کہ آپ ایک دو دِن لندن میں رہتے، پھر مَیں آپ کے ساتھ ہی نارفوک چلتا۔ یہ کاغذ یہیں چھوڑ جائیے۔
مَیں اِن پر غور کروں گا۔ ممکن ہے کچھ اور باتیں معلوم ہو سکیں۔‘‘

ہلٹن کے رخصت ہوتے ہی شرلک ہومز نے تمام کاغذ میز پر پھیلا دیے اور اُن عجیب و غریب شکلوں پر غور کرنے لگا۔ اُس کے بعد اُس نے علیحدہ کاغذ پر کچھ لکھنا شروع کیا۔
کبھی اُس کا چہرہ کسی نامعلوم دریافت پر فرطِ مسرّت سے روشن ہو جاتا اور کبھی اُس کی پیشانی پر غور و فکر کی گہری لکیریں نمودار ہوتیں۔
کامل دو گھنٹے وہ اُس کام میں ایسا منہمک رہا کہ میری موجودگی بھی فراموش کر بیٹھا۔ کاغذوں پر الٹے سیدھے حروف، ہندسے اور نہ جانے کیا کیا بناتا اور کاٹتا رہا۔
آخرکار وُہ کرسی سے اٹھا اور دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر اِدھر سے اُدھر ٹہلنے لگا۔ یکایک وہ رُکا اور کاغذ کے ایک پرزے پر کچھ لکھتے ہوئے بولا:

’’اگر اِس تار کا جواب میری توقع کے مطابق آ گیا، تو یہ پُراسرار معّمہ حل ہو جائے گا اور شاید ہمیں کل صبح نارفوک جانا پڑے۔‘‘

مَیں اُس سے بہت کچھ پوچھنا چاہتا تھا، لیکن اُس کی معیت میں اتنے عرصے رہنے کے باوجود مَیں اُس کا اچھی طرح رازداں بن چکا تھا ۔
جانتا تھا کہ وہ اُس وقت تک کچھ نہ بتائے گا جب تک خود کسی آخری فیصلے پر نہیں پہنچ جاتا۔

دو دِن گزر گئے، تار کا کوئی جواب نہ آیا اور ہومز کی حالت اُس بےچَین اور مضطرب شکاری کتے کی سی ہو گئی جو اَپنے شکار کی بُو پا لیتا ہے، لیکن اُسے پکڑنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔
جونہی گھنٹی بجتی، وہ دَوڑ کر دروازے تک جاتا، مگر بےسود۔ تیسرے دن شام کی ڈاک میں ہلٹن کوبٹ کا ایک خط ملا جس میں لکھا تھا کہ ابھی تک کوئی نئی بات سامنے نہیں آئی۔
البتہ دھوپ گھڑی پر چند اور شکلیں بنی دیکھی گئی ہیں جن کی نقل بھیج رہا ہوں۔

رقاص تصویریں
رقاص تصویریں

ہومز نے غور سے اُن شکلوں کو دیکھا اور پھر اُس کی حالت میں ایک عجیب تغیرّ رونما ہوا۔
اُس کے چہرے پر ایک رنگ آتا، ایک جاتا تھا۔

’’واٹسن غضب ہو گیا ….. مَیں نے اپنی حماقت سے اتنی تاخیر کر دی ….. ذرا دَیکھنا رات کو کوئی ٹرین نارتھ واشہام کی طرف جاتی ہے۔‘‘

مَیں نے ٹائم ٹیبل کی ورق گردانی کی۔ معلوم ہوا تھوڑی دیر پہلے آخری ریل جا چکی ہے۔

’’پھر ہم علی الصبح پہلی ٹرین پکڑیں گے۔‘‘ ہومز نے کہا۔
’’مسز ہڈسن سے کہہ دو کہ ناشتا بہت سویرے ہمیں دے دے۔‘‘

مسز ہڈسن ہاتھ میں تار کا کاغذ لیے کمرے میں داخل ہوئیں۔ ہومز چلّایا:
’’آہ، جواب آ گیا۔‘‘
اُس نے مسز ہڈسن کے ہاتھ سے تار چھین لیا۔ اُس پر سرسری نظر ڈالی۔
’’پیارے واٹسن! اب ہمارا نارفوک پہنچنا بےحد ضروری ہے ….. بےحد ضروری ….. جو کچھ مَیں معلوم کرنا چاہتا تھا، اُس کی تصدیق اِس تار نے کر دی ہے
…..  ہمارا دوست ہلٹن کوبٹ ایک خطرناک اور اِنتہائی مہلک جال میں پھنس گیا ہے ….. خدا خیر کرے۔‘‘

سورج نکلنے سے پہلے ہم نے ناشتا کیا۔ گاڑی پکڑی اور نارتھ واشہام کے سٹیشن پر اتر گئے۔ یکایک سٹیشن ماسٹر تیز تیز چلتا ہوا ہماری جانب آیا۔

’’کیا آپ وہی جاسوس حضرات ہیں جو لندن سے تشریف لائے ہیں؟‘‘

اُس نے پوچھا اور مَیں نے دیکھا کہ ہومز کا چہرہ کسی اندرونی تکلیف کے باعث مسخ ہو گیا۔ اُس نے کہا:

’’آپ نے کیسے خیال کیا کہ ہم جاسوس ہیں؟‘‘

’’معاف کیجیے، یہ میرا اَندازہ تھا۔‘‘ سٹیشن ماسٹر نے بوکھلا کر کہا۔
’’ممکن ہے آپ سرجن ہوں ….. بہرحال ناروِچ کا پولیس انسپکٹر مارٹن تھوڑی دیر پہلے مجھ سے مل کر گیا ہے ….. عورت ابھی تک مری نہیں ….. شاید آپ بروقت پہنچ کر اُسے بچا لیں ….. لیکن پھانسی کے پھندے سے بچانا ذرا مشکل ہو گا۔‘‘

فرطِ حیرت سے ہومز کی بھویں تن گئیں۔ اسٹیشن ماسٹر نے بیان جاری رکھتے ہوئے کہا:

’’نوکر کہتے ہیں کہ پہلے مسز ہلٹن نے اپنے خاوند پر گولی چلائی، پھر خود کو گولی مار کر زخمی کر لیا۔
مسٹر ہلٹن تو موقع پر ہی مر گئے اور مسز ہلٹن جان کنی کی کیفیت سے گزر رَہی ہیں۔
افسوس ….. افسوس ….. نارفوک کا یہ سب سے معزز اور قدیم خاندان تھا۔‘‘

ایک لفظ کہے بغیر ہومز نے میرا بازو پکڑا اَور گھسیٹتا ہوا گھوڑا گاڑی کی طرف لے گیا۔
رائیڈنگ تھارپ تک سات میل کا فاصلہ ہم نے بالکل خاموشی سے طے کیا۔
وہ اَپنی نشست پر قدرے بیٹھا اور لیٹا ہوا تھا۔ آنکھیں بند تھیں اور چہرہ ہر قسم کے تاثر سے خالی۔

رائیڈنگ تھارپ کے صدر دَروازے پر پستہ قامت، مومی مونچھوں اور پھولے ہوئے سرخ چہرے کے چاق چوبند انسپکٹر مارٹن نے ہمارا اِستقبال کیا۔
ہومز کا نام سنتے ہی وہ حیرت اور اِحترام کی ملی جلی نظروں سے اُسے تکنے لگا۔

’’آہ ….. مسٹر ہومز، آپ سے یہ غیرمتوقع ملاقات میرے لیے باعثِ فخر ہے۔‘‘ اُس نے کہا۔
’’مگر مجھے حیرت ہے کہ اِس حادثے کی خبر آپ تک اتنی جلدی پہنچی کیسے اور پھر تعجب یہ ہے کہ آپ لندن سے یہاں آ بھی گئے ….. کمال ہے۔‘‘

’’حادثہ کس وقت ہوا؟‘‘ ہومز نے پوچھا۔

’’آج تین بجے صبح ….. لیکن …..‘‘ مارٹن نے بےصبری سے کہا۔ مگر ہومز اُس کی بات کاٹ کر بولا:

’’مَیں دراصل اِس حادثے کو روکنے کے لیے ہی یہاں آ رہا تھا۔
ابھی کچھ دیر پہلے سٹیشن ماسٹر نے بتایا کہ کیا واقعہ پیش آیا ہے۔ بہرحال تم نے کچھ نہ کچھ شہادتیں تو جمع کر لی ہوں گی۔ اب یہ بتاؤ کیا تم میرے ساتھ مل جل کر تفتیش کرو گے یا الگ ہو کر؟‘‘

’’مسٹر ہومز! مجھے آپ کے ساتھ شریک ہو کر بےحد خوشی ہو گی۔‘‘

’’ٹھیک ….. ٹھیک، تو پھر اِس صورت میں کسی تاخیر کے بغیر مَیں شہادتیں سننا اور جائے حادثہ کو ایک نظر دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘

عین اُسی وقت مکان میں سے ایک بوڑھا شخص ہاتھ میں بیگ لیے باہر نکلا۔ معلوم ہوا کہ وہ قصبے کا پرانا سرجن ہے۔
اُس نے بتایا اگرچہ مسز ہلٹن کے زخم خطرناک ہیں، تاہم اتنے مہلک نہیں۔ اُن کے بچ جانے کا امکان ہے۔ وہ اَبھی تک ہوش میں نہیں آئیں۔
گولی اُن کی کھوپڑی کے ایک حصّے میں لگی اور وَہیں رہ گئی۔ ہومز کے اِس سوال پر کہ مسز ہلٹن کو گولی ماری گئی ہے یا اُنھوں نے خود ہی اپنے کو نشانہ بنایا ہے، بڈھے سرجن نے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے کہا:

’’مَیں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا کہ اصل واقعہ کیا ہے، تاہم یہ ضرور ہے کہ گولی نہایت قریب سے چلائی گئی ہے۔
کمرے میں صرف ایک ہی پستول پایا گیا ہے جس کے دو بیرل خالی ہیں۔ مسٹر ہلٹن کوبٹ کے دل پر گولی لگی اور وُہ اُسی وقت مر گئے۔
میری رائے میں معاملہ کچھ یوں ہے کہ پہلے مسٹر ہلٹن نے اپنی بیوی پر فائر کیا ، بعد ازاں اپنے سینے پر پستول کی نالی رکھ کر گھوڑا دَبا دیا۔ یہ بات بھی حیران کُن ہے کہ پستول اُن دونوں کے درمیان پڑا پایا گیا۔‘‘

’’کیا مسٹر ہلٹن کوبٹ کی لاش اپنی جگہ سے ہٹائی جا چکی ہے؟‘‘ ہومز نے پوچھا۔

’’مسز ہلٹن کے سوا ہم نے کسی چیز کو نہیں چھیڑا۔‘‘ سرجن نے جواب دیا۔
’’اُنھیں یوں بھی اٹھانا پڑا کہ وہ وَہاں یقیناً مر جاتیں۔‘‘

’’آپ یہاں کتنی دیر سے ہیں؟‘‘

’’مَیں صبح چار بجے آیا تھا۔‘‘

’’آپ کے علاوہ کوئی اور بھی یہاں تھا؟‘‘

’’جی ہاں! ایک پولیس کانسٹیبل۔‘‘

’’آپ نے کسی چیز کو چُھوا تو نہیں؟‘‘

’’ہرگز نہیں۔‘‘

’’آپ کو یہاں کس نے بلایا تھا؟‘‘

’’گھر کی خادمہ نے۔‘‘ سرجن نے جواب دیا۔ ’’غالباً اُس کا نام سنڈرز ہے۔‘‘

’’کیا واردات کی خبر سب سے پہلے اُسی خادمہ کو ہوئی تھی؟‘‘

’’جی ہاں اور مسز کنگ کو بھی۔ وہ باورچن ہے۔‘‘

’’اب یہ دونوں عورتیں کہاں ہیں؟‘‘

’’میرا خیال ہے، باورچی خانے میں ہوں گی۔‘‘

’’ہوں ….. ‘‘ہومز نے سوچتے ہوئے کہا۔ ’’مناسب ہو گا کہ ہم پہلے اُنھی کی زبانی سارا قصّہ سنیں۔‘‘

بڑے ہال کمرے میں ہومز نے باقاعدہ عدالت لگائی اور شاہ بلوط کی بنی ہوئی ایک شاندار کرسی پر بیٹھ کر کارروائی شروع کر دی۔ خادماؤں کے بیان کا خلاصہ یہ تھا۔

رات کے آخری حصّے میں جب کہ وہ دونوں اپنے اپنے کمرے میں بستر پر محوِ خواب تھیں، اچانک ایک دھماکے سے اُن کی آنکھ کھل گئی۔
اُس کے ایک منٹ بعد دوسرا دھماکا ہوا۔ سب سے پہلے مسز کنگ اپنے کمرے سے نکلی اور سنڈرز سے پوچھنے کے لیے اُس کے کمرے میں گئی کہ یہ آوازیں کیسی تھیں۔
اُن کے کمرے بالائی منزل پر ہیں اور آواز زیریں منزل سے آئی تھی، چنانچہ وہ دونوں نیچے آئیں اور دیکھا کہ سٹڈی روم کا دروازہ کھلا ہے اور میز پر ایک موم بتی جل رہی ہے۔
اُنھوں نے کمرے میں جھانکا۔ مسٹر ہلٹن کوبٹ فرش پر اوندھے منہ گرے نظر آئے۔ اُس وقت وہ مر چکے تھے۔
کھڑکی کے نزدیک مسز ہلٹن پڑی تھیں۔ کھڑکی بند تھی اور اُس کی چٹخنی اندر سے لگی ہوئی تھی۔

خادماؤں کے شور مچانے پر اصطبل میں کام کرنے والا لڑکا اور چوکیدار دونوں آئے،
اُن سب نے مل کر مسز ہلٹن کو اٹھا کر اُن کے کمرے میں پہنچایا، پھر پولیس کو بلانے کے لیے آدمی بھیجا۔
اسٹڈی روم کی کوئی چیز نہ ٹوٹی تھی نہ غائب تھی اور نہ کسی شے کو چھیڑا گیا تھا۔
مسٹر ہلٹن نے شب خوابی کے لباس پر ڈریسنگ گاؤن پہن رکھا تھا، لیکن یہ بات حیرت انگیز تھی کہ مسز ہلٹن اپنے پورے لباس میں تھیں،
حالانکہ اُنھیں بھی معمول کے مطابق شب خوابی کے لباس میں ہونا چاہیے تھا۔
خادماؤں نے اقرار کیا کہ اُنھوں نے کبھی میاں بیوی کو آپس میں لڑتے جھگڑتے نہیں دیکھا۔

وہ ایک دوسرے کو جان سے زیادہ چاہتے تھے اور پورے قصبے میں ایسا مثالی جوڑا اَور کوئی نہ تھا۔

انسپکٹر مارٹن کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے دونوں عورتوں نے بتایا کہ رات کو مکان کا ہر دروازہ اَور ہر کھڑکی اندر سے اچھی طرح بند کر دی جاتی ہے اور اُس رات بھی ایسا ہی ہوا تھا۔
واردات کے بعد تمام دروازے اور کھڑکیاں اندر سے بند تھیں۔
اِس لیے اوّل تو کوئی شخص باہر سے مکان میں آ نہیں سکتا اور فرض کیجیے، وہ پہلے سے آن کر چھپا رہا، تو پھر گیا کدھر سے؟
جبکہ صبح کے وقت تمام دروازے اور کھڑکیاں بدستور اندر سے بند تھیں۔

’’بارود کی بُو تم میں سے کس نے پہلے محسوس کی؟‘‘ ہومز نے پوچھا۔

دونوں خادماؤں نے حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، پھر کہنے لگیں:

’’جناب! یہ عجیب بات ہے کہ ہمارے کمرے اوپر کی منزل میں ہیں اور اسٹڈی روم نچلی منزل میں، لیکن دھماکا ہونے کے فوراً بعد جب ہم دریافتِ حال کے لیے نیچے آنے لگیں، تو اُسی وقت بارود کی بُو ہم  نے محسوس کر لی تھی۔‘‘

’’آہ …..!‘‘ ہومز نے بےچینی سے ہاتھ ملنے شروع کر دیے۔
پھر وہ اِنسپکٹر مارٹن سے بولا:
’’انسپکٹر! اپنی تفتیش میں یہ نکتہ یاد رَکھنا، یہ بڑا اَہم ہے۔‘‘

انسپکٹر نے حماقت آمیز انداز میں گردن یوں ہلائی جیسے وہ ہومز کا مطلب سمجھ گیا ہے، حالانکہ بےچارا میری طرح بالکل کورا تھا۔

خادماؤں کے بعد چوکیدار اَور اصطبل والے لڑکے سے چند سوال کرنے کے بعد ہومز اُٹھ کھڑا ہوا۔

’’آئیے اب ذرا سٹڈی روم کو بھی دیکھ لیں۔‘‘

سٹڈی روم کچھ زیادہ وَسیع و عریض نہ تھا۔ اُس کے ایک جانب کتابوں سے بھری ہوئی تین الماریاں کھڑی تھیں۔ کھڑکی کے ساتھ ہی ایک رائٹنگ ٹیبل اور کرسی پڑی تھی۔
یہاں سے باہر باغیچے کا چپّہ چپّہ بخوبی نظر آتا تھا۔ بدنصیب ہلٹن کوبٹ کی لاش کمرے کے عین درمیان میں پڑی تھی۔
اُس کا بےترتیب اور مڑا تڑا شب خوابی کا لباس ظاہر کرتا تھا کہ کس قدر اَفراتفری میں بستر سے اٹھ کر یہاں آیا ہو گا۔
فائر سامنے سے ہوا اَور گولی اُس کا سینہ چیرتی ہوئی دل میں پیوست ہو گئی۔ موت فوراً ہی واقع ہوئی۔ اُس کے ڈریسنگ گاؤن اور ہاتھوں پر بارود کی بُو یا نشان قطعی نہ تھا۔
بڈھے سرجن کا کہنا تھا کہ مسز ہلٹن کے چہرے پر تو بارود کے نشانات موجود تھے، لیکن اُس کے ہاتھ بالکل صاف تھے۔

چند لمحے تک کمرے کی ہر شے کا بغور معائنہ کرنے کے بعد ہومز نے لاش اٹھانے کی اجازت دے دی، پھر اُس نے سرجن سے پوچھا:

’’ڈاکٹر! کیا آپ نے وہ گولی مسز ہلٹن کے جسم سے نکال لی جس نے اُنھیں زخمی کیا ہے؟‘‘

’’جی نہیں! اُس کے لیے خاصے اہم آپریشن کی ضرورت ہے۔ پستول میں ابھی تک چار گولیاں موجود ہیں اور دو چلائی گئی ہیں۔‘‘

’’معلوم تو فی الحال ایسا ہی ہوتا ہے۔‘‘ ہومز نے کہا۔ ’’مگر آپ اُس گولی کو کہاں لے جائیں گے جو یہاں آن کر ٹکرائی ہے؟‘‘
مَیں نے اُس کی لمبی پتلی انگشتِ شہادت کے زاویے پر نگاہ دوڑائی۔ وہ کھڑکی کے نچلے شیشے کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔ شیشے میں ایک سوراخ نظر آیا۔

’’خدا کی پناہ!‘‘ انسپکٹر مارٹن چلّایا۔ ’’
گولی شیشہ توڑ کر نکل گئی اور ہم نے پہلے اُسے نہیں دیکھا۔‘‘
ہومز کے لبوں پر ایک معنی خیز مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ سرجن تصویرِ حیرت بنا کھڑا تھا۔ آخر اُس نے کہا:

’’آپ ٹھیک کہتے ہیں مسٹر ہومز! تیسرا فائر بھی یقیناً کیا گیا ہے۔
اِس کا مطلب یہ ہے کہ واردات کے وقت کوئی تیسرا فرد یہاں موجود تھا، لیکن سوال یہ ہے کہ وہ تھا کون اور مکان سے باہر کیونکر گیا؟‘‘

’’یہی معمّا تو ہم حل کریں گے۔‘‘ ہومز نے کہا۔
’’انسپکٹر مارٹن! آپ وہ نکتہ ذہن میں رکھیے کہ خادمائیں جب اپنے اپنے کمروں سے نکلیں، تو اُسی وقت اُنھوں نے بارود کی بُو سونگھ لی تھی۔ یہ نکتہ نہایت اہم ہے۔‘‘

’’مگر ….. مَیں سمجھ نہیں سکا کہ آخر اِس نکتے کا واردات سے کیا تعلق ہو سکتا ہے؟‘‘
انسپکٹر نے آنکھیں جھپکاتے ہوئے کہا۔

’’یہ تو سامنے کی بات ہے انسپکٹر۔‘‘ ہومز نے کہنا شروع کیا۔

’’مجھے یقین ہے کہ فائرنگ کے وقت کمرے کا دروازہ بھی کھلا تھا اور کھڑکی بھی اور اِسی لیے بارود کی بُو فوراً دوسری منزل پر پہنچ گئی تھی، لیکن فوراً ہی اُنھیں بند کر دیا گیا۔
اِسی لیے مَیں کہتا ہوں کہ کوئی تیسرا فرد بھی اِس واردات میں ملوث ہے جو غالباً کھڑکی کے باہر کھڑا تھا اور …..‘‘

’’مگر مَیں پوچھتا ہوں جناب، پھر دروازہ اور کھڑکی اندر سے کس نے بند کی؟‘‘ سرجن نے کہا۔

’’مسز ہلٹن نے!‘‘ ہومز نے مسکرا کر کہا اور اَبھی سننے والوں کے منہ حیرت سے کھلے ہوئے تھے کہ ہومز نے میز پر پڑے ہوئے ایک چھوٹے سے زنانہ ہینڈ بیگ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:
’’یہ کہاں سے آیا؟‘‘
اُس نے بیگ اٹھا لیا۔ مگرمچھ کی کھال کا بنا ہوا نہایت قیمتی اور خوبصورت بیگ تھا۔ ہومز نے بیگ کھولا اور اُسے میز پر اُلٹ دیا۔
اُس میں بینک آف انگلینڈ کے پچاس پونڈ مالیت کے بیس نوٹوں کی ایک گڈی تھی اور یہ گڈی ربڑ کے ایک تسمے سے بندھی ہوئی تھی۔ اُس نے بیگ انسپکٹر کی طرف اچھال کر کہا:
’’اِسے سنبھال لیجیے۔ مقدمے کے دوران میں اِس کی ضرورت پڑے گی۔ اب مَیں مسز کنگ باورچن سے چند باتیں اور پوچھنا چاہتا ہوں …..‘‘

’’ہاں تو مسز کنگ! آپ نے بتایا ہے کہ رات کے وقت ایک زبردست دھماکا سن کر آپ کی آنکھ کھلی۔ یہ بتائیے کہ دوسرے دھماکے کی نسبت کیا پہلا دھماکا زیادہ زور کا تھا؟‘‘

’’ار ….. جناب ….. مَیں یقین سے نہیں کہہ سکتی …..‘‘ مسز کنگ نے ہکلا کر کہا۔ ’’آواز بڑی زوردار تھی۔‘‘

’’کیا یہ ممکن نہیں کہ دونوں فائر بیک وقت کیے گئے اور اُن کی ملی جلی آواز آپ نے سنی؟‘‘

’’آ ….. جناب مَیں یقین سے نہیں کہہ سکتی۔‘‘

’’بہرحال ….. بہرحال ….. مجھے کچھ ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ دو فائر دو پستولوں سے ایک ہی لمحے میں کیے گئے ….. آئیے انسپکٹر! اب ذرا باغیچے کو بھی ایک نظر دیکھ لیں۔‘‘

سٹڈی روم کی کھڑکی کے عین نیچے پھولوں کی کیاری تھی اور اُسے ایک نظر دیکھتے ہی پتہ چل گیا کہ پودے کچلے ہوئے ہیں۔
نرم گیلی مٹی پر مردانہ انسانی قدموں کے نشان واضح طور پر پھیلے ہوئے دکھائی دیے۔
یکایک ہومز کے منہ سے کلمۂ تحیّر بلند ہوا اَور اُس نے جھک کر کوئی چیز اٹھائی۔
یہ پیتل کا بنا ہوا سائلنسر تھا جو پستول پر اِس لیے چڑھایا جاتا ہے کہ فائر کرتے وقت آواز زیادہ نہ نکلے۔

’’مجھے پہلے ہی اِس چیز کی تلاش تھی۔‘‘ ہومز نے کہا۔
’’لیجیے انسپکٹر! کیس مکمل ہو گیا۔‘‘
دیہاتی انسپکٹر کا چہرہ فرطِ حیرت سے عجیب سوالیہ نشان بنا ہوا تھا۔ اب وہ میرے ساتھی کو کوئی جادوگر سمجھتے ہوئے بلا چُون و چرا اُس کے ہر حکم کی تعمیل کرنے کے لیے مستعد نظر آنے لگا۔
آخر انسپکٹر نے زبان کھولی:

’’آپ کا شک کس پر ہے جناب؟‘‘

’’آہ ….. یہ مَیں بعد میں بتاؤں گا۔ ابھی چند کڑیاں ایسی ہیں جنہیں آپس میں ملانا ضروری ہے۔
اب مجھے اُس لمحے کا انتظار ہے جب مسز ہلٹن ہوش میں آ کر گزشتہ رات کے ہنگامے پر اپنی زبان سے روشنی ڈال سکیں گی۔
فی الحال تو مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا گرد و نواح میں کوئی سرائے ’’ایلرج‘‘ کے نام سے مشہور ہے؟‘‘

حاضرین نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور نفی میں گردنیں ہلائیں، لیکن اصطبل میں کام کرنے والے لڑکے کے چہرے پر کچھ رونق پیدا ہوئی۔

’’جناب! اِس نام کی کوئی سرائے تو نہیں، البتہ ایسٹ رسٹن کے مقام پر یہاں سے چند میل دور اِس نام کا فارم ضرور ہے۔‘‘

’’کیا ایلرج فارم کسی غیرآباد حصّے میں ہے؟‘‘

’’جی ہاں! وہاں تو دور دُور تک آبادی نہیں۔‘‘

’’اِس واردات کی خبر ابھی وہاں تو نہیں پہنچی ہو گی؟‘‘

’’میرا خیال ہے نہیں پہنچی ہو گی۔‘‘

ہومز نے چند ثانیے کے لیے کچھ سوچا، اُس کے لبوں پر ایک پُراسرار تبسم پھیل گیا۔ ذرا جلدی سے گھوڑے پر سوار ہو کر وہاں جاؤ اور میرا یہ رُقعہ ایلرج فارم کے ایک شخص تک پہنچا دو۔‘‘
یہ کہہ کر ہومز نے اپنی جیب سے وہی پرزے نکالے جن پر رقص کرتی ہوئی تصویریں اور اُلٹی سیدھی شکلیں بنی تھیں۔
اسٹڈی روم کی میز پر بیٹھ کر ایک علیحدہ کاغذ پر کچھ لکھا اور لڑکے کو دیتے ہوئے ہدایت کی:

’’یہ رقعہ اُس شخص کے سوا کسی اور کو ہر گز نہ دینا جس کا نام مَیں نے اِس پر لکھا ہے اور جو کچھ وہ پوچھے، اُس کا ہر گز جواب نہ دینا۔ کہہ دینا مجھے کچھ معلوم نہیں ….. سمجھے؟‘‘
لڑکے نے اثبات میں گردن ہلائی اور رُقعہ ہومز سے لے لیا۔ ایک ثانیے کے لیے میری نظر اُس رقعے کی پشت پر پڑی۔ ہومز نے دانستہ اپنی تحریر بگاڑ پر عجیب انداز میں یہ پتہ لکھا تھا:

’’مسٹر ایبے سلینی، ایلرج فارم، ایسٹ رسٹن، نارفوک۔‘‘

لڑکے کے جانے کے بعد ہومز نے انسپکٹر مارٹن سے کہا:
’’بہتر یہ ہے کہ آپ اپنے تھانے سے کوئی تگڑا سا اور دِلیر سپاہی اور بلوا لیں، کیونکہ جس مجرم کو آپ پکڑ کر حوالات میں لے جائیں گے۔ وہ خاصا قوی ہیکل اور خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔‘‘
اُس کے بعد وہ گھر کے نوکروں کی طرف مخاطب ہوا:

’’مَیں ڈرائنگ روم میں جا کر بیٹھتا ہوں۔ اِس دوران کوئی شخص مسز ہلٹن کے بارے میں پوچھنے آئے، تو اُسے ہرگز اُن کی حالت کے بارے میں کچھ نہ بتایا جائے، بلکہ اُسے فوراً ڈرائنگ روم میں بھیج دیا جائے۔‘‘
پھر وہ مجھ سے کہنے لگا:
’’میرا خیال ہے واٹسن! دوپہر تک ہم اِس کام سے فارغ ہو کر لندن جانے والی ریل پکڑ چکے ہوں گے۔‘‘

انسپکٹر مارٹن نے ایک آدمی کو تھانے کی طرف روانہ کیا جو کئی میل دور تھا تاکہ کسی سپاہی کو بلا کر لائے۔ اُس کے بعد وہ ہمارے ساتھ ہی ڈرائنگ روم میں آ کر بیٹھ گیا۔
مَیں دیکھ رہا تھا کہ وہ نہایت مضطرب اور بےچَین ہے۔ اُس کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔
مسٹر شرلک ہومز آخر کس طرح قاتل کو گھر بیٹھے پکڑ سکتے ہیں۔ لیکن ہومز کے پُراسرار طریقوں کی اتنی ہیبت اُس کے دل میں بیٹھ چکی تھی کہ بےچارہ زبان کھولتے ہوئے ڈرتا تھا۔
سچ پوچھیے، تو کچھ ایسی کی کیفیت میری بھی تھی۔ ہومز نے غالباً اِس صورتِ حال کو بھانپ لیا۔
ایک صوفے پر بیٹھ کر اُس نے اطمینان سے اپنا پائپ سلگایا، جیب سے وہی پرزے نکالے جن پر رقص کرتی ہوئی شکلیں بنی تھیں اور مسکرا کر کہنے لگا:

’’ڈاکٹر واٹسن اور میرے عزیز انسپکٹر مارٹن! معاف کرنا مَیں نے آپ کو ابھی تک اِس واردات کے انتہائی دلچسپ حصّے سے آگاہ نہیں کیا، بہرحال اب وقت آ گیا ہے کہ مَیں اِس راز کو عیاں کر دوں۔
ذرا نزدیک آ جائیے اور اِن شکلوں کو غور سے دیکھیے ….. ڈاکٹر واٹسن کا خیال تھا کہ یہ شکلیں کسی بچے نے یونہی بنا دی ہیں اور بلاشبہ بادی النظر میں ایسا ہی معلوم ہوتا ہے، لیکن درحقیقت یہ شکلیں ایک عجیب قسم کی خفیہ تحریریں ہیں۔
جس شخص نے بھی پیغام رسانی کا یہ طریقہ ایجاد کیا ہے، مَیں اُس کی بےپناہ ذہانت کی داد دِیے بغیر نہیں رہ سکتا۔

’’ڈاکٹر واٹسن خوب جانتے ہیں کہ مَیں خفیہ تحریریں پڑھنے میں کس قدر مشّاق ہوں اور اَب تک اِس قسم کی ایک سو ساٹھ تحریریں پڑھ چکا ہوں، بلکہ بعض تحریریں مَیں نے ایجاد بھی کی ہیں۔
لیکن سچ پوچھیے، تو اِن شکلوں نے مجھے چکرا کر رکھا دیا۔ مَیں اِس فن میں اپنے آپ کو مبتدی سمجھنے لگا۔ آنجہانی مسٹر ہلٹن نے جب ڈاک کے ذریعے مجھے سب سے پہلا کاغذ بھیجا۔
مَیں اُسی وقت سمجھ گیا تھا،کہ یہ کوئی پیغام ہے جسے کسی عیّار شخص نے اِس طرز میں لکھا ہے کہ دیکھنے والا اِسے بچوں کی بنائی ہوئی تصویریں ہی سمجھے گا۔

’’بہرحال مَیں نے اِن شکلوں پر غور کیا، تو احساس ہوا کہ اِن میں سے ہر شکل انگریزی حروفِ تہجی کے طور پر استعمال کی گئی ہے، مگر یہ پتا چلانا بےحد دشوار تھا کہ کون سی شکل کس حرف کی نمائندگی کرتی ہے۔
مَیں نے ہمت نہ ہاری اور مسلسل اِن پر مغزماری کرتا رہا۔
یکایک احساس ہوا کہ اِن شکلوں میں سے ایک شکل کم از کم ایسی ضرور ہے جس پر انگریزی حرف ای (E) کا اطلاق ہو سکتا ہے اور وُہ شکل یہ تھی۔ ہومز نے ہمیں ایک شکل دکھائی۔

رقاص تصویریں
رقاص تصویریں

’’اب آپ پوچھیں گے کہ مَیں نے اِس شکل کو E کیوں سمجھا؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ انگریزی زبان میں حرف ای سب سے زیادہ اِستعمال ہوتا ہے۔
حتیٰ کہ ایک معمولی اور مختصر سے جملے میں بھی آپ دیکھیں گے کہ حرف ای ضرور کسی نہ کسی لفظ میں آ ہی جاتا ہے۔ سب سے پہلے کاغذ کا جو پرزہ مجھے مسٹر ہلٹن نے بھیجا۔
اُس میں بھی یہی صورتِ حال تھی اور چار شکلیں بالکل ایک جیسی تھیں۔ اُس سے مجھے اندازہ ہوا کہ یہ شکل حرف ای کی نمائندگی کرتی ہے، البتہ ایک الجھن یہ ضرور تھی کہ بعض شکلوں کے ہاتھ میں جھنڈے تھے اور بعض کے ہاتھ میں نہیں تھے۔
مثلاً اِس شکل پر غور کرنے سے احساس ہوا کہ اِس کا مطلب سوائے اِس کے اور کچھ نہیں کہ جھنڈے کا یہ نشان لفظ کے مکمل ہونے کی علامت ہے۔‘‘ (ہمیں ایک اور شکل دکھائی گئی)

’’واہ، واہ ….. کیا کہنے ہیں مسٹر ہومز!‘‘ انسپکٹر مارٹن حیرت سے چلّایا۔

’’لیکن اِس کے آگے کچھ سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کون سی شکل کس حرف کی جگہ استعمال کی گئی ہے۔‘‘ ہومز نے کہنا شروع کیا۔ ’’
اِس لیے مَیں نے ہلٹن کوبٹ کو ہدایت کی کہ جونہی چند نئی شکلیں اُنھیں دکھائی دیں، وہ اُن کی نقل اتار کر مجھے بھجوا دَیں۔ قصہ مختصر کئی دن کی مسلسل مغزماری کے بعد کامیابی کی صورت نظر آئی۔
مَیں نے اِس کے علاوہ اَین، وی، آر، ایس، ایچ، ڈی، ایل، ٹی، اے اور اَو کا سراغ پا لیا اور پھر جو اُن شکلوں پر غور کیا، تو بامعنی الفاظ بنتے چلے گئے۔

’’اُن الفاظ کے مطابق کسی شخص ایبے سلینی نے ایلسی کو پیغام بھیجا تھا کہ اگر وہ فوراً اُس سے آن کر نہ ملی، تو نہایت خطرناک صورتِ حال پیدا ہو جائے گی۔
چونکہ ہلٹن پہلی ملاقات میں مجھے بتا چکا تھا کہ اُس کی بیوی کے نام ایک خط امریکا سے آیا تھا، اِس لیے فوراً ذہن میں یہ خیال آیا کہ دھمکی آمیز پیغام اُسی بدمعاش امریکی ہی کا ہو سکتا ہے۔
کچھ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ اَمریکی شخص ایبے سلینی، ہلٹن کی بیوی کے ماضی سے آگاہ ہے اور اُس شریف عورت کو بلیک میل کرنے کی کوشش میں ہے۔

’’اُس موقع پر عورت کو چاہیے تھا کہ شوہر کو اَپنے اعتماد میں لیتی، لیکن افسوس نامعلوم وجوہ کے باعث وہ اَیسا نہ کر سکی۔
بہرحال مَیں نے نیویارک پولیس بیورو کے ایک سراغ رساں ولسن ہارگریو کو تار دِیا۔ وہ شخص میرا گہرا دوست ہے اور مَیں نے ایک کیس میں اُس کی کچھ مدد کی تھی۔
مَیں نے ولسن ہارگریو سے یہ پوچھا تھا کہ کیا ایبے سلینی نام کے کسی غنڈے کی شیٹ نیویارک پولیس کے پاس ہے؟ دو دِن بعد اُس کا جواب آیا۔ یہ ہے وہ تار۔‘‘

ہومز نے تار کا کاغذ تپائی پر رکھ دیا۔ مَیں نے اور اِنسپکٹر مارٹن نے پڑھا، لکھا تھا:

’’ایبے سلینی شکاگو کا سب سے خطرناک غنڈہ ہے۔‘‘

’’اُسی شام کوبٹ ہلٹن نے مجھے نئی شکلوں کی ایک نقل بھیجی اور اُسے الفاظ میں تبدیل کرتے ہی مَیں سمجھ گیا کہ معاملہ بےحد خطرناک ہو گیا ہے۔
اُس پیغام میں بدمعاش نے ایلسی کو دھمکی دی تھی کہ اگر وہ اُس سے ایلرج کے مقام پر آن کر نہ ملی، تو نتائج کی ذمےداری اُسی پر ہو گی۔
چنانچہ مَیں نے اُسی وقت لندن سے یہاں پہنچنے کی کوشش کی، مگر افسوس کہ آخری ٹرین نکل چکی تھی، اِس لیے صبح کی گاڑی پکڑنی پڑی۔ کاش! رات کی ریل مل جاتی، تو یہ المناک حادثہ رونما نہ ہوتا۔‘‘

انسپکٹر مارٹن اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ ’’مسٹر ہومز! آپ یہاں اطمینان سے بیٹھے ہیں اور اُدھر وہ قاتل فرار ہو گیا، تو مَیں اپنے محکمے کو کیا منہ دکھاؤں گا؟‘‘

’’انسپکٹر! تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، وہ کہیں نہیں جائے گا۔‘‘ ہومز نے مسکرا کر کہا۔

’’یہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں؟‘‘

’’اِس لیے کہ اگر اُس نے بھاگنا چاہا، تو یہ گویا جرم کا اقرار ہو گا۔‘‘

’’لیکن ….. ہم دیر کیوں کریں؟ آئیے وہیں چل کر اُسے گرفتار کر لیتے ہیں۔‘‘

’’مجھے یقین ہے وہ یہیں آئے گا۔‘‘

’’یہیں آئے گا؟‘‘ مارٹن چلّایا۔ ’’مگر وہ یہاں کیوں آنے لگا؟‘‘

’’اِس لیے کہ مَیں نے اُسے یہاں آنے کے لیے لکھ دیا ہے۔‘‘

’’خدا کی پناہ! مسٹر ہومز! آپ مذاق کر رہے ہیں۔ دنیا میں کون شخص ایسا ہے جو اَپنے آپ کو گرفتار کرانے کے لیے چلا آئے۔ یہ بھی تو ممکن ہے کہ وہ آپ کا رقعہ دیکھتے ہی راہِ فرار اختیار کر لے۔‘‘

’’جی نہیں ….. اُسے یہاں آنا ہو گا۔‘‘
ہومز نے ایک ایک لفظ پر زور دَیتے ہوئے کہا۔ اِس سے پہلے کہ انسپکٹر مارٹن میرے دوست کو خبطی سمجھ کر اول فول بکے، ہومز نے ہنس کر کہا ’’لیجیے، وہ حضرت آن پہنچے۔‘‘

ہم نے گردنیں گھما کر دیکھا۔ مکان کی طرف آنے والی چھوٹی سی پگڈنڈی پر ایک لمبا تڑنگا قوی ہیکل شخص ہاتھ میں چھڑی لیے لمبے لمبے ڈگ بھرتا چلا آ رہا تھا۔
اُس نے بھورے رنگ کا سوٹ پہن رکھا تھا اور سر پر پانامہ ہیٹ جما ہوا تھا۔
اُس کی چال سے ایسا غرور ٹپکتا تھا جیسے اِس پورے علاقے کو اپنی ملکیت سمجھتا ہے۔ چند لمحے بعد گھنٹی بجنے کی آواز مکان میں گونجی۔

’’میرا خیال ہے حضرات! کڑا لمحہ آن پہنچا۔‘‘ ہومز نے چپکے سے کہا۔
’’ہمیں اُس دروازے کے پیچھے پوزیشن لے لینی چاہیے۔ ہمارا وَاسطہ نہایت چالاک اور خطرناک آدمی سے ہے۔ انسپکٹر تمہارے پاس ہتھکڑی تو ہو گی؟ بس تیار رَہنا، اُس سے گفتگو مَیں کروں گا۔‘‘

دو منٹ گزر گئے۔ میرے دل کی دھڑکن عروج پر تھی اور یہی کیفیت انسپکٹر مارٹن کی تھی۔ اُس کا چہرہ کسی اندرونی جوش و خروش کے باعث سرخ ہو رہا تھا۔
ہومز دروازے کے پیچھے بےحس و حرکت کھڑا تھا۔ یک لخت دروازہ کھلا اور آنے والے نے اندر قدم رکھا۔ ہومز نے حیرت انگیز پھرتی سے اپنا پستول نکالا اور نووارد کی کنپٹی پر رکھ دیا۔
اِس سے پیشتر کہ اجنبی کوئی حرکت کر سکے، انسپکٹر مارٹن اُس کے ہاتھوں میں ہتھکڑی ڈال چکا تھا۔ یہ مرحلہ اِس سرعت سے طے ہوا کہ اجنبی حیران و ششدر رَہ گیا ۔
اُس کے منہ سے دیر تک کوئی لفظ نہ نکل سکا، بلکہ اپنی سرخ سرخ آنکھوں سے ہمیں باری باری گھورتا رہا۔ پھر دفعتاً اُس نے فلک شگاف قہقہہ لگایا اور بولا:

’’صاحبان! اِس مذاق پر داد دَیتا ہوں۔ آپ سے بات تو بعد میں کروں گا۔ مہربانی کر کے ایلسی کو اطلاع دیجیے کہ مَیں آ گیا ہوں۔ اُس نے مجھے رقعہ بھیج کر بلوایا ہے۔‘‘

’’مسز ہلٹن سخت زخمی ہیں اور بےہوش پڑی ہیں۔ اُن کا بچنا مشکل نظر آتا ہے۔‘‘ ہومز نے جواب دیا۔

نووارد کے حلق سے چیخ نکلی اور اُس نے گرج کر کہا:

’’تم بکواس کرتے ہو ….. زخمی وہ نہیں ہوئی، اُس کا مردود شوہر ہوا ہے ….. خدا مجھے معاف کرے ….. مَیں جو اُسے دل و جان سے چاہتا ہوں، بھلا کیسے اُس پر ہاتھ اٹھاؤں گا …..
سچ سچ بتاؤ معاملہ کیا ہے اور تم لوگ یہ کیا تماشا کر رہے ہو؟‘‘

’’مَیں آپ کو صحیح بتاتا ہوں مسٹر ایبے سلینی! ایلسی اپنے خاوند کی لاش کے قریب شدید زخمی حالت میں پائی گئی ہے۔‘‘ ہومز نے کہا۔

ایبے سلینی کے چہرے کا رنگ متغیر ہوا، ہونٹ کپکپانے لگے اور اُس نے ہتھکڑی لگے ہوئے ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپ لیا۔ پانچ منٹ تک اُس کا یہی عالم رہا۔ پھر اُس نے سر اٹھا کر ہماری طرف دیکھا اور نرم لہجے میں کہنے لگا:

’’صاحبان! اب مجھے آپ سے کچھ چھپانے کی ضرورت نہیں۔ ایلسی کے خاوند نے مجھے ہلاک کرنے کے لیے گولی چلائی تھی۔ مجھے مجبوراً اپنے دفاع میں فائر کر کے اُس کا قصہ پاک کرنا پڑا۔ میرا اِرادہ اُسے قتل کرنے کا ہرگز نہ تھا …..
لیکن آپ کہتے ہیں کہ ایلسی بھی زخمی ہوئی ہے ….. خدا کے لیے بتائیے کہ وہ کیسے زخمی ہوئی ….. مَیں نے تو اُس پر گولی نہیں چلائی ….. وہ مجھے جان سے زیادہ عزیز ہے ….. وہ میرے بچپن کی ساتھی ہے ….. اُس بدمعاش انگریز کو ہمارے درمیان آنے کی جرأت کیسے ہوئی ….. اُس نے ایلسی کو ورغلا کر اُس سے شادی کی، حالانکہ اُس پر میرا حق تھا۔‘‘

’’تم غلط کہتے ہو مسٹر سلینی!‘‘ ہومز نے کہا۔ ’’ایلسی کو تم سے محبت کے بجائے نفرت تھی۔ شدید نفرت اور چونکہ اُسے تمہارے کرتوتوں کا علم ہو گیا تھا، اِس لیے وہ اَمریکا سے نکل کر لندن آ گئی تھی۔
یہاں اُس کی ملاقات مسٹر ہلٹن سے ہوئی اور اُس نے اُس شریف انگریز کو اَپنی زندگی کا ساتھی چن لیا، لیکن تم نے ایلسی کا پیچھا نہ چھوڑا۔
تم اُس کے پیچھے لندن آئے اور اُسے دھمکیاں دینے لگے کہ وہ اَپنے خاوند کو چھوڑ دے اور تمہارے ساتھ امریکا بھاگ چلے، مگر اُس نیک طینت اور پاکیزہ طبیعت خاتون نے یہ گوارا نہ کیا۔

’’اُس نے سوچا اگر وہ اَپنے شوہر کو سب کچھ بتا دے، تو ممکن ہے اُس کے دل میں شکوک پیدا ہوں، اِس لیے وہ خاموش رہی، لیکن تم اپنی بدمعاشی سے باز نہ آئے اور رَقابت میں اندھے ہو کر ہلٹن کو ہلاک کر دیا۔
ایلسی کے لیے یہ صدمہ ناقابلِ برداشت تھا۔
شوہر تو ختم ہو ہی چکا تھا، اب ذلت و رُسوائی اور شوہر کے قتل کے ’الزام‘ سے نجات پانے کا واحد راستہ یہی تھا کہ وہ خودکشی کر لے، چنانچہ اُس نے پستول اٹھایا اور اَپنے سر میں گولی مار لی۔
یہ سب کچھ کیا دھرا تمہارا ہے مسٹر سلینی! اور اِس کے لیے تمہیں قانون کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا۔‘‘

سلینی خاموشی سے یہ تقریر سنتا رہا، لیکن اُس کی نگاہوں سے اب بھی شک و شبہے کا اظہار ہوتا تھا۔

’’اگر ایلسی مر گئی، تو میرا زندہ رہنا بےکار ہے۔‘‘ اُس نے آہ سرد بھر کر کہا۔ ’’لیکن مجھے یقین نہیں کہ جو کچھ آپ نے کہا، وہ سچ ہے۔
اگر ایلسی اتنی ہی زخمی ہے اور بےہوش پڑی ہے، تو یہ رقعہ کس شیطان نے لکھا؟‘‘ اُس نے اپنی مٹھی میں بھنچا ہوا کاغذ کا ایک پرزہ نکال کر میز پر پھینک دیا۔

’’یہ رقعہ مَیں نے تمہیں یہاں بلوانے کے لیے لکھا تھا۔‘‘ ہومز نے جواب دیا۔

’’تم نے؟‘‘ سلینی چیخا۔
’’بکواس، غلط ….. جن خفیہ اشاروں کی مدد سے یہ لکھا گیا ہے، اُس سے میرے اور اِیلسی کے علاوہ دُنیا میں کوئی تیسرا شخص آگاہ نہیں۔ تم نے بھلا کیسے لکھ لیا؟‘‘

’’مسٹر سلینی! اگر کوئی شخص خفیہ تحریر ایجاد کر سکتا ہے، تو خدا نے دوسروں کو بھی اُس کا راز پا لینے کی صلاحیت بخشی ہے۔‘‘ ہومز نے مسکرا کر کہا۔
’’بہرحال مَیں زیادہ بحث کرنا نہیں چاہتا۔ میری درخواست صرف یہ ہے کہ اُس معصوم عورت پر رحم کرو اَور صاف صاف اقرار کر لو کہ ہلٹن تمہاری گولی سے ہلاک ہوا ہے۔
ورنہ قتل کا شبہ ایلسی پر ہی کیا جائے گا ۱ور کیا فائدہ اُس کی خواہ مخواہ بدنامی ہو اَور وَیسے بھی اُس کا بچنا کچھ مشکل ہی ہے۔‘‘

چند لمحے سوچنے کے بعد سلینی نے کہنا شروع کیا:
’’بہت اچھا مسٹر ….. مَیں نہیں چاہتا کہ ایلسی میری وجہ سے کسی آفت میں پھنسے۔ مجھے اپنے جرم کا اقرار ہے۔ اِس دنیا میں نہ سہی، اگلے جہاں میں تو مَیں اُسے پا ہی لوں گا۔
جیسا کہ مَیں نے بتایا، مَیں اور اِیلسی بچین کے ساتھی ہیں۔ اُس کا باپ مسٹر پیٹرک آنجہانی شکاگو کا بدنام ترین غنڈہ تھا اور یہ خفیہ تحریر بھی اُسی کی ایجاد ہے۔

’’اُس کے گروہ میں دس آدمی شامل تھے۔ اُنھی میں میرا باپ بھی تھا جسے بعدازاں موت کی سزا ہوئی۔
ایلسی کے باپ نے مجھے اپنے بیٹوں کی طرح پالا تھا ۔
اُس کا خیال تھا کہ اپنی بیٹی کی شادی مجھ سے کرے گا، لیکن ایلسی ابتدا ہی سے اُن مجرمانہ سرگرمیوں کے خلاف تھی۔ مگر اُس کا بس نہ چلتا تھا۔ آخر وہ اَمریکا سے بھاگ کر لندن آ گئی۔
یہ صدمہ میرے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ مَیں نے اُس کا پتا معلوم کر کے ایک خط امریکا سے بھیجا، مگر ایلسی نے جواب نہ دیا۔ مجبوراً مجھے آنا پڑا۔
پھر مَیں نے خفیہ شکلوں کے ذریعے اُسے اپنی آمد سے آگاہ کیا اور ملنے کی درخواست کی۔ مَیں نے ایلسی سے ملنے اور اُسے سمجھانے کی انتہائی کوشش کی، لیکن ناکام رہا۔
صرف ایک مرتبہ اُس نے ٹول ہاؤس کے دروازے پر میرا پیغام دیکھ کر اُس کے نیچے خفیہ شکلوں میں جواب دیا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ مَیں ایسی حرکتیں نہ کروں اور وَاپس امریکا چلا جاؤں۔
دراصل وہ اَپنے انگریز شوہر سے الگ ہونا نہیں چاہتی تھی اور ممکن ہے مَیں واپس چلا جاتا، مگر ایک رات وہ اَنگریز مجھے ہلاک کرنے کی نیت سے اپنے اسٹڈی روم میں بیٹھا رہا۔ اِس بات پر مجھے تاؤ آ گیا۔

’’کل رات کا واقعہ ہے کہ مَیں ایلسی سے ملنے کے لیے آیا۔ وہ اسٹڈی روم میں موجود تھی اور مَیں باغیچے میں کھڑکی کے عین نیچے کھڑا تھا۔
ایلسی نے کھڑکی کھولی اور مجھ سے کہا کہ یہ رقم لے لو اور یہاں سے چلے جاؤ۔ اُس کی اِس بات سے مجھے سخت رنج ہوا۔ مَیں کھڑکی کے راستے کمرے میں داخل ہو گیا اور اُسے گھسیٹ کر نیچے اتارنے لگا۔
آواز سن کر ایلسی کا شوہر ہاتھ میں پستول لیے اندر گھس آیا۔ مَیں نے بھی اپنا پستول نکال لیا۔

’’بخدا میرا اِرادہ اُس پر فائر کرنے کا نہ تھا۔ لیکن اُس نے گولی چلا دی جو کھڑکی کے شیشے میں سے گزر گئی اور مَیں بال بال بچا۔ اُسی لمحے مَیں نے بھی اپنے پستول کی لبلبی دبا دی اور وُہ دَھڑام سے فرش پر گر گیا۔
مَیں نے کھڑکی سے باغیچے میں چھلانگ لگائی اور بھاگ نکلا۔
اُس کے بعد مَیں نے کھڑکی بند کیے جانے کی آواز سنی اور اُس کے بعد آج صبح تک مجھے کوئی خبر نہ ملی۔ پھر ایک لڑکا آپ کا بھیجا ہوا رُقعہ لے کر آیا۔
یہ رقعہ خفیہ تحریر میں تھا، اِس لیے مَیں اُسے ایلسی کی جانب سے بلاوا سمجھ کر بےدھڑک چلا آیا۔‘‘

مکان کے صدر دَروازے پر ایک گھوڑا گاڑی آن کر رکی اور اُس میں سے دو ہٹّے کٹّے پولیس کانسٹیبل برآمد ہوئے۔
اُنھوں نے آن کر انسپکٹر مارٹن کو سلیوٹ کیا۔ انسپکٹر نے ایبے سلینی کا بازو پکڑا اَور کہا ’’چلو!‘‘

’’کیا مَیں ایلسی کو ایک نظر دیکھ سکتا ہوں؟‘‘ سلینی نے التجا کی۔

’’نہیں! وہ بےہوش پڑی ہے۔‘‘
انسپکٹر نے کرخت لہجے میں جواب دیا اور اُسے دھکیلتا ہوا گاڑی کی طرف لے گیا۔

جب گاڑی ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئی، تو ہومز نے اپنی گھڑی دیکھ کر کہا:
’’تین بج کر چالیس منٹ پر ریل لندن جاتی ہے اور خدا نے چاہا، تو ہم رات کا کھانا اپنے گھر پر کھائیں گے۔‘‘

’’بےشک!‘‘ مَیں نے کہا۔
’’لیکن مجھے حیرت ہے کہ ایسا نازک کیس تم نے منٹوں کے اندر حل کر دیا، ورنہ یہ معاملہ انسپکٹر مارٹن کے بس کا نہ تھا۔ وہ ضرور بےچاری ایلسی کو اَپنے شوہر کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیتا۔‘‘
یہ کہتے ہوئے میری نظر اُس رقعے پر پڑی جو ہومز نے سلینی کو بھیجا تھا۔ مَیں نے اُسے اٹھا لیا۔

’’واٹسن! ذرا پڑھنے کی کوشش تو کرو۔ دیکھیں کیا مطلب نکالتے ہو؟‘‘

رقعے پر وہی الٹی سیدھی رقص کرتی ہوئی شکلیں بنی تھیں۔
مَیں نے بےوقوفوں کی طرح گردن ہلائی اور اَپنی جہالت کا اقرار کیا۔

’’آہ تم نہیں سمجھے۔ اِس کا مطلب صاف ہے۔ مَیں نے لکھا تھا:
’فوراً پہنچو۔‘ مجھے یقین تھا کہ یہ خفیہ تحریر دیکھتے ہی وہ دوڑا آئے گا، کیونکہ یہ بات اُس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ ایلسی کے علاوہ کوئی اور بھی اِن شکلوں کا راز جانتا ہے۔‘‘

آخر میں اپنے قارئین کو صرف یہ بتانا ہے کہ ایبے سلینی پر مقدمہ چلا، لیکن موت کے بجائے اُس نے عمرقید کی سزا پائی، کیونکہ وکیلِ صفائی نے ثابت کر دیا تھا کہ سلینی نے اپنے دفاع میں گولی چلائی۔
پہلا فائر ہلٹن کوبٹ نے کیا تھا۔
ایلسی کو خدا نے بعدازاں تندرست کر دیا، لیکن اُس نے پھر شادی نہ کی اور عمر کا بقیہ حصّہ اپنے شوہر کی یاد میں کاٹ دیا۔

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles