30 C
Lahore
Saturday, May 18, 2024

Book Store

Circus ka Shehzada|سرکس کا شہزادہ|Maqbool Jahangir

سرکس کا شہزادہ

مقبول جہانگیر

یہ فروری ۱۹۱۳ء کی ایک خوشگوار اَور چمکیلی صبح کا ذکر ہے۔

البانوی فوجوں کے کمانڈر اِن چیف جنرل اسد پاشا کو قسطنطنیہ سے دو ٹیلی گرام موصول ہوئے۔ جنرل اسد پاشا اُس وقت ناشتے کی میز پر بیٹھا تھا۔
اُس نے بےپروائی سے ایک تار کے مضمون پر نظر ڈالی۔ لیکن فوراً ہی اُس کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور آنکھوں کی گردش رک گئی۔ چند ثانیے تک وہ پتھر کے بت کی مانند اپنی کرسی پر بیٹھا تار کو دیکھتا رہا۔
پھر اُس نے غصّے سے ہاتھ مار کر ناشتے کی ٹرے کو ایک جانب پھینکا اور کمرے کے ایک گوشے میں لٹکی ہوئی رسّی کو پکڑ کر وحشیانہ انداز میں بار بار کھینچنے لگا۔ اُس کے کمرے سے باہر لگی ہوئی گھنٹی زور سے بج اٹھی۔

فوراً اُس کا نائب کرنل احمد کمرے میں داخل ہوا۔ اسد پاشا نے دونوں تار اُس کی طرف بڑھا دیے۔ کرنل احمد نے بلند آواز میں باری باری ہر تار کا مضمون پڑھا۔
اُن میں سے ایک کے نیچے لفظ ’’سلطان‘‘ اور دُوسرے کے نیچے ’’ہائی کمانڈر‘‘ کے الفاظ درج تھے۔ اُن دونوں تاروں کا مضمون ایک ہی تھا۔

’’پرنس حلیم الدین تمام فوجوں کی کمان سنبھالنے کے لیے عنقریب آپ کے پاس آ رہے ہیں۔ اُنھیں اُن کے عہدے کا چارج دے دیا جائے۔‘‘

کرنل احمد نے تار پڑھے اور وُہ بھی اپنے آقا کی طرح غم و اَندوہ کے سمندر میں غوطے کھانے لگا۔

۱۹۱۳ء میں البانیہ ایک زبردست سیاسی بحران کا شکار تھا۔ ترکی جس نے البانیہ پر پانچ سو سال تک حکومت کی تھی، آہستہ آہستہ اپنا اقتدار کھو رَہا تھا۔

یونان اور بلغاریہ اُس کے ہاتھ سے نکل چکے تھے۔ سلطان کی عیش پرستی اور وُزراء و اُمراء کی خودغرضیاں رنگ لائیں اور ۱۹۰۸ء میں ترکی میں وطن پرستی کی تحریک کا آغاز ’’نوجوان ترکوں‘‘ کی تنظیم سے ہوا۔
اُن کی جدوجہد سے مجبور ہو کر سلطان نے ۱۹۰۸ء میں آئینی اصلاحات نافذ کیں۔
اٹلی نے موقع پا کر طرابلس پر قبضہ کر لیا اور بلقانی ریاستوں نے ترکوں کو البانیہ اور مقدونیہ سے بھی نکال دیا۔

البانیہ والوں نے نوجوان ترکوں کی حمایت اِس امید پر کی تھی کہ وہ اُنھیں حقِ خوداختیاری دیں گے، لیکن البانیہ کی یہ خواہش پوری نہ ہوئی۔
۱۹۰۸ء سے ۱۹۱۰ء تک البانیہ نے ترکی کے تسلط سے آزاد ہونے کی بڑی کوشش کی، لیکن کامیابی نے قدم نہ چومے۔ اُدھر یونان، بلغاریہ اور سربیا بھی ترکی سے سخت ناراض تھے۔
آخر اُن سب نے ترکی کے خلاف آپس میں ایک معاہدہ کیا جس کی رو سے ہر فریق پر دوسرے کی مدد فرض ہو گئی۔

۱۹۱۲ء میں غیرمتوقع طور پر مونٹی نیگرو کی چھوٹی سی ریاست نے جس کے پاس نہ اسلحہ تھا اور نہ بڑی فوج تھی، ترکی پر حملہ کر دیا۔
مونٹی نیگرو کی مدد کے بہانے یہ تمام اتحادی ریاستیں ترکی کے خلاف صف آراء ہو گئیں اور اِس طرح پہلی جنگِ بلقان کا آغاز ہوا۔ یہ جنگ ۱۸؍اکتوبر ۱۹۱۲ء کو شروع ہو کر ۳۰ مئی ۱۹۱۳ء کو صلح نامہ لندن کی رو سے ختم ہوئی۔ اُس جنگ میں ترکی کو زبردست نقصان اٹھانا پڑا اور وُہ اَپنے تمام مغربی علاقے سے دستبردار ہو گیا ۔ اِس طرح ۲۸ نومبر ۱۹۱۲ء کو البانیہ نے آزادی حاصل کر لی۔
بین الاقوامی سیاسی میدان میں البانیہ کی حمایت اٹلی، آسٹریا اور ہنگری نے کی۔

البانیہ کی آبادی میں ستر فی صد مسلمان تھے اور اُن کی بڑی خواہش یہ تھی کہ اُن کا حکمران مسلمان ہی ہو۔ اُدھر دوسری قومیں جن کے نمائندے لندن کانفرنس میں البانیہ کی قسمت کا فیصلہ کر رہے تھے، اِس پر مُصر تھیں کہ البانیہ کی باگ ڈور کسی عیسائی کے ہاتھ میں رہے۔
اُن حالات سے سرکس کے دو عیاروں نے فائدہ اُٹھایا: ایک سلطان ترکی کا بھتیجا پرنس حلیم الدین بنا اور دُوسرا اُس کا محافظ ….. اور خادمِ خاص!

تین روز بعد ڈرازو کی بندرگاہ پر جنرل اسد پاشا معزز مہمان اور اَلبانوی فوج کے نئے کمانڈر اِن چیف پرنس حلیم الدین کے استقبال کے لیے پہنچ گیا تھا۔
بندرگاہ پر باوردی فوجی جوانوں کے علاوہ ہزارہا شہری بھی موجود تھے جو پرنس حلیم الدین کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے گھنٹوں پہلے سے وہاں پہنچ گئے تھے۔
اُنھیں خوشی تھی کہ جنرل اسد پاشا کا اقتدار ختم ہو رہا ہے اور اَب خود سلطان ترکی کا بھتیجا پرنس حلیم الدین اُن پر حکومت کرنے کے لیے آ رہا ہے۔
اِدھر جنرل اسد پاشا اور اُس کے نائب کرنل احمد کے دل زور زور سے دھڑک رہے تھے۔ اُنھیں شدید خدشہ لاحق ہو گیا تھا کہ پرنس حلیم الدین چارج لینے کے بعد نہ جانے اُن کے ساتھ کیسا سلوک کرے۔

آخر انتظار کے تکلیف دہ لمحات ختم ہوئے اور پرنس حلیم الدین کا چھوٹا سا بحری جہاز جس پر ترکی کا جھنڈا لہرا رَہا تھا، بندرگاہ کے اندر دَاخل ہوا۔
جونہی ایک لمبے تڑنگے باوقار اَور نہایت قوی اور جسیم شخص نے خشکی پر شاہانہ انداز سے قدم رکھا، لوگوں نے خوشی سے ’’پرنس حلیم زندہ باد‘‘ کے فلک شگاف نعرے لگائے۔
پرنس حلیم واقعی چال ڈھال اور شکل و صورت کے اعتبار سے ترکی شہزادہ ہی معلوم ہوتا تھا۔ اُس کی عمر اندازاً چالیس برس کے لگ بھگ تھی لیکن سر اور مونچھوں کے بال سیاہ تھے۔
اُس کا جسم دوہرا اَور قد چھ فٹ چار اِنچ تھا۔ اور سرخ رنگ کے لمبے طُرّے نے تو اُسے بالکل دیو ہی بنا دیا تھا۔ اُس کے سینے پر رنگ برنگے تمغوں اور میڈلوں کی دوہری قطاریں سجی ہوئی تھیں۔
پرنس حلیم کے بھرے بھرے چہرے کی رونق کو جس شے نے بارعب اور طرح دار بنا دیا تھا، وہ اُس کی گھنی اور نوکیلی سیاہ مونچھیں تھیں جن کے سرے اوپر کو تنے ہوئے تھے۔
اُس کی آنکھوں میں بےپناہ چمک پائی جاتی تھی۔ اُس کے بائیں پہلو سے لٹکتی ہوئی تلوار اُس کے قد و قامت کے اعتبار سے بالکل ایک کھلونے کی مانند نظر آتی تھی۔
قریب ہی کھڑا ہوا اَیک البانوی سپاہی پرنس کے سامنے بونا دکھائی دیتا تھا۔

پرنس کے پیچھے پیچھے اُس کا خادمِ خاص میکس شیل پگس مؤدبانہ انداز میں چل رہا تھا۔ اپنے آقا کی طرح وہ بھی لمبا تڑنگا اور بھاری بھر کم آدمی تھا۔
اُس کا چہرہ تپے ہوئے تانبے کی مانند سرخ اور سر کے بال بھورے تھے۔ پرنس حلیم اور اُس کے خادم کو دیکھ کر جنرل اسد پاشا اور کرنل احمد کی گھگھی بند گئی۔
اپنی پوری فوجی زندگی میں اُنھوں نے اِس دبدبے اور شان و شوکت والے آدمی بہت کم دیکھے تھے۔ اُنھیں اپنے دل سینوں میں بیٹھتے ہوئے محسوس ہوئے۔
پرنس نے اپنی عقابی نظروں سے البانوی فوج کے اُس دستے کا جائزہ لیا جو اُسے سلامی دینے کے لیے آیا تھا۔ جنرل اسد پاشا نے آگے بڑھ کر پرنس کو فوجی انداز میں سلام کیا۔
پھر اپنی تلوار دونوں ہاتھوں پر رکھ کر پیش کی، لیکن پرنس نے تلوار قبول کرنے سے انکار کر دیا اور مسکرا کر جنرل اسد پاشا کی طرف دیکھا اور پھر آگے بڑھ کر اُسے اپنے سینے سے لگا لیا۔

پرنس حلیم کےلیے ایک کسا کسایا گھوڑا لایا گیا جس پر وہ نہایت مشّاقی سے جست لگا کر سوار ہوا۔ اُس کے پیچھے پیچھے اُس کا ذاتی خادم، پھر جنرل اسد پاشا اور کرنل احمد اپنے اپنے گھوڑوں پر بیٹھ کر قصرِ شاہی کی طرف روانہ ہوئے جو شہر سے علیحدہ ایک پُرفضا مقام پر بنا ہوا تھا۔

اِس سے پیشتر اُس قصر میں ترکی گورنر قیام کیا کرتے تھے۔ عظیم الشان محل کے چاروں طرف باوردی مسلح فوجی سپاہیوں کا زبردست پہرہ لگا ہوا تھا۔
جونہی پرنس حلیم کا گھوڑا محافظ سپاہیوں کے دستے کی معیّت میں محل کے قریب پہنچا، جنرل اسد پاشا اپنے گھوڑے سے اترا اَور پرنس کو محل میں لے گیا۔ محل میں بےشمار کمرے تھے اور ہر کمرا بیش قیمت سامان اور فرنیچر سے سجا ہوا تھا۔
جنرل نے نہایت ادب اور اِنکسار سے پرنس کو محل کا ایک ایک گوشہ دکھایا اور پھر اُس حصّے میں لے گیا جہاں پرنس کے قیام کا بندوبست کیا گیا تھا۔

پرنس نے مناسب الفاظ میں جنرل کا شکریہ ادا کیا اور اُسے رخصت ہونے کی اجازت دی اور جونہی سب لوگ کمرے سے باہر نکلے اور دَروازہ بند ہوا۔
پرنس حلیم اور اُس کا ذاتی ملازم ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرائے۔ پھر اُنھوں نے ایک فلک شگاف قہقہہ لگایا اور ایک دوسرے سے لپٹ گئے، کیونکہ پرنس حلیم حقیقتاً پرنس نہ تھا۔

اُس کا اصلی نام اوٹو وائٹ تھا۔ اور وُہ تین روز پیشتر البانیہ کے ایک سفری سرکس میں ادنیٰ ایکٹر کی حیثیت سے ملازم تھا اور اُس کا ’’خادمِ خاص‘‘ میکس شیل پگس اُسی سرکس میں مسخرے کا کردار اَدا کیا کرتا تھا۔
اپنی کامیابی پر وہ اِتنا ہنسے، اتنا ہنسے کہ دونوں کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ اُنھوں نے تاریخ کے سب سے دلچسپ فریب کی پہلی منزل کامیابی سے سَر کر لی تھی۔

اوٹو وائٹ اور میکس شیل کی دوستی اور رَفاقت کی داستان بھی ازحد پُراسرار اَور حیرت انگیز ہے۔ قسمت نے اُن دونوں کو ملایا بھی، تو کہاں۔
سپین کی ایک جیل میں، جہاں وہ مختلف جرائم کے تحت سزائیں بھگت رہے تھے۔ آدمی ذہین اور ہوشیار تھے۔ جرمن، فرانسیسی، ہسپانوی اور اَنگریزی زبانیں اتنی روانی سے بولتے کہ اہلِ زبان بھی دھوکا کھا جاتے۔
جیل ہی میں اُن دونوں نے بھاگ نکلنے کا فیصلہ کیا اور پھر نہایت ہوشیاری سے جیل کے ایک پہرےدار کو فریب دے کر فرار ہو گئے۔
چونکہ دونوں ہی اپنے فن میں طاق تھے اور گھاٹ گھاٹ کا پانی پیے ہوئے تھے، اِس لیے جلد ہی اُنھیں ایک سفری سرکس میں ملازمت مل گئی۔

دراصل وہ اُس سرکس سے دو فائدے اٹھانا چاہتے تھے، ایک یہ کہ پولیس کی نظروں سے محفوظ رہیں اور دُوسرا یہ کہ دنیا کے دوسرے ممالک دیکھنے کا موقع مل سکے۔
یہ دونوں فائدے اُنھوں نے حاصل کیے۔ یورپ، ایشیا اور اَفریقا کے بہت سے ملکوں میں وہ اَپنے سرکس کے ساتھ گئے۔ اِسی دوران میں اُنھوں نے کئی عجیب کرتب بھی سیکھ لیے۔
اپنی مہم پسند طبیعت کے ہاتھوں کئی مرتبہ وہ مرتے مرتے بھی بچے، مگر ہر بار اَپنی حاضر دماغی کے ذریعے وہ موت کے منہ سے بچتے رہے۔

ایک مرتبہ جب وہ مرکزی افریقا میں اپنے سرکس کے ساتھ گھوم رہے تھے کہ ہنگری کے ایک شاہزادے سے اُن کی ملاقات ہوئی۔ شہزادے سے اُن کی دوستی بہت بڑھ گئی۔
ایک روز وہ اَپنے خادموں اور دُوسرے لوگوں کے ساتھ جنگل کی سیر کو نکلا، تو یہ دونوں بھی اُس کے ساتھ گئے۔ اِسی دوران میں راستہ بھول کر یہ سب لوگ ایک ایسے مقام پر جا پہنچے جہاں وحشی بونے رہتے تھے۔
اُن وحشیوں نے سب کو گھیر لیا اور زہر میں بجھے ہوئے تیروں کی بوچھاڑ کر دی۔

ہنگری کا شہزادہ مارا گیا اور اُس کے کئی ساتھیوں کو جن میں یہ دونوں بھی شامل تھے، وحشی بونوں نے پکڑ لیا۔ وہ اُنھیں بھی ہلاک کر ڈالتے، مگر اُنھوں نے کئی عجیب شعبدے دکھا کر بونوں کے دلوں میں اپنی ہیبت بٹھا دی۔
وُہ اُنھیں کوئی آسمانی دیوتا سمجھ کر بھاگ گئے۔

وینس میں اُن کے ساتھ ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ اُسی زمانے میں لینارڈو کی بنائی ہوئی مشہورِ عالم تصویر ’’مونا لیزا‘‘ لوریو کے عجائب گھر سے چوری ہو گئی تھی۔
اُس تصویر کا لوگوں میں بڑا چرچا تھا۔ اوٹو نے اُس تصویر کی ایک بہترین نقل تیار کی۔
ایک یونانی تاجر کو اَپنے دام میں پھانسا جسے پرانی چیزیں خریدنے کا جنون تھا۔
اُس کے ہاتھ پانچ لاکھ ڈالر میں یہ نقلی تصویر فروخت کر دی۔ یونانی تاجر نے پانچ لاکھ ڈالر کی رقم فرانک کی شکل میں ادا کی۔

چند روز بعد اوٹو اور میکس کو جب پتہ چلا کہ سب نوٹ جعلی ہیں، تو اُن کے طیش کی انتہا نہ رہی۔
کامل ایک ہفتے تک اُنھوں نے اُس تاجر کی تلاش میں سارا شہر چھان مارا۔
آخر اُسے پکڑ لینے میں کامیاب ہو گئے اور پھر اُنھوں نے اُسے پولیس کے حوالے کر دینے کی دھمکی دے کر خاصی خطیر رقم بٹور لی۔ جعلی نوٹ بھی واپس نہ کیے اور اُنھیں بھی گاہے گاہے بازار میں چلاتے رہے۔

اور اب یہ پرنس حلیم الدین والا قصّہ بھی بالکل اتفاقی طور پر شروع ہوا۔
اُن کا سرکس البانیہ کے ایک شہر تیرانہ میں آیا ہوا تھا۔
ایک روز وہ صبح کے وقت شراب خانے میں بیٹھے اِدھر اُدھر کی گپ ہانک رہے تھے کہ یکایک میکس کی نظر قریب پڑے ہوئے اخبار پر جا پڑی۔
اُس میں پرنس حلیم الدین کی تصویر چھپی ہوئی تھی اور اُس کے ساتھ ہی ایک چھوٹی سی خبر یہ بھی درج تھی کہ البانیہ کے مسلمانوں کی یہ خواہش ہے کہ پرنس حلیم الدین اُن پر حکومت کرے۔
میکس نے وہ تصویر اوٹو کو دِکھائی اور کہا:

’’ذرا غور سے دیکھو اور بتاؤ کہ تمہیں اِس تصویر میں کوئی خاص بات نظر آتی ہے؟‘‘

اوٹو نے تصویر پر نگاہ ڈالی اور فوراً ہی اُس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ اور وُہ چلّایا:

’’ارے! یہ تو میری ہی تصویر ہے۔ تمہیں …..‘‘

میکس نے اُس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔

’’بےوقوف ذرا آہستہ بولو۔ یہ تصویر تمہاری نہیں، پرنس حلیم الدین کی ہے، مگر تم نے دیکھا کہ اُس کی شکل و شباہت تم سے کس قدر ملتی جلتی ہے۔
اب پروگرام یہ ہے کہ تم پرنس حلیم الدین بن جاؤ۔‘‘

اوٹو کے ذہن میں بجلی کی ایک لہر سی دوڑ گئی۔ اُن کے زرخیز دماغوں نے فوراً اِس دلچسپ لیکن خطرناک ترین سکیم کا منصوبہ تیار کر لیا اور فوراً ہی اُس پر عمل شروع کر دیا۔
اُنھوں نے اُسی وقت ویانا میں اپنے ایک دوست کو بذریعہ تار ترکی کی فوجی وردیاں تیار کر کے سالونیکا بھیج دینے کی ہدایت کی۔
سالونیکا ترکی کے ایک صوبے مقدونیہ کا چھوٹا سا شہر ہے۔اُس کے بعد انھوں نے سرکس سے ایک ماہ کی رخصت لی اور دوسرے روز جہاز پر سوار ہو کر سالونیکا روانہ ہو گئے۔

سالونیکا پہنچ کر اُنھوں نے ویانا میں اپنے اُس دوست کو یہ ہدایت کی کہ وہ اُس مضمون کا ایک تار (جس کا ذکر ابتدا میں کیا جا چکا ہے) ڈرازو میں مقیم جنرل اسد پاشا کو ’’ہائی کمانڈر‘‘ اور ترکی کے ’’سلطان‘‘ کی طرف سے بھیج دے۔
اِس کارروائی کے بعد یہ دونوں شاطر سالونیکا سے ڈرازو پہنچ گئے اور سب کام اُن کی مرضی کے مطابق سرانجام پایا۔

اور اَب وہ ڈرازو کے عالیشان قصر کے ایک پُرتکلف اور سجے سجائے کمرے میں کرسیوں پر بیٹھے اپنی کامیابی پر قہقہے لگا رہے تھے۔

یکایک دروازے پر ہلکی سے دستک سنائی دی۔ یہ دونوں ہنستے ہنستے چپ ہو گئے۔ پھر نقلی پرنس حلیم نے اپنی آواز کو باوقار اَور رُعب دار بناتے ہوئے کہا:

’’کون ہے؟ اندر آ جاؤ۔‘‘

دروازہ آہستہ سے کھلا اور ایک گنجا اور کانا فوجی افسر کمرے میں داخل ہوا۔
اُس افسر نے جس کا نام دیولو تھا، ایڑیاں بجا کر پرنس کو سلیوٹ کیا اور اَپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا:

’’جنابِ والا! اگرچہ آپ کی ہر دِل عزیزی اور اُس محبت کو دیکھتے ہوئے جو البانیہ کے باشندوں کے دِلوں میں آپ کے لیے موجود ہے، حفاظتی انتظام غیرضروری معلوم ہوتا ہے۔
تاہم ایک محافظ دستہ مقرر کر دیا گیا ہے جو چوبیس گھنٹے محل کے باہر پہرہ دَے گا۔
اِس کے علاوہ مَیں ہر وقت آپ کی خدمت کے لیے موجود ہوں۔
جس وقت آپ یہ رسّی کھینچیں گے، مَیں حاضر ہو جاؤں گا۔‘‘

’’شکریہ!‘‘ پرنس نے کہا۔ ’’مجھے یقین ہے کہ آپ میرے اچھے ساتھی ثابت ہوں گے۔‘‘

میجر دیولو نے سلیوٹ کیا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔
اُس کے جانے بعد نقلی پرنس نے ایک سرد آہ بھری اور اَپنے دوست کی طرف متوجہ ہو گیا۔

’’اب بتاؤ کیا کیا جائے۔ اب مَیں نہ صرف البانیہ کا حکمران ہوں بلکہ پوری فوج کا کمانڈر اِن چیف بھی ہوں۔
ظاہر ہے مجھے اپنے آپ کو کسی نہ کسی کام میں مصروف رکھنا پڑے گا، مگر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ مَیں کیا کروں؟
اچھا اگر تم میری جگہ ہوتے، تو کیا کرتے؟‘‘

’’مَیں فی الفور حکم دیتا کہ میرے لیے ایک حرم تیار کیا جائے۔‘‘ میکس نے ہنس کر کہا۔
’’ارے گدھے! تجھے پتہ ہے کہ جنرل اسد پاشا اِس محل میں رہتا تھا۔
یقیناً اُس نے یہاں حرم کے طور پر بہت سی حسینائیں بھی رکھی ہوں گی۔
ذرا پوچھو تو سہی کہ وہ سب عورتیں کہاں ہیں؟‘‘

’’چپ بدمعاش! یہ کوئی مذاق کا وقت ہے۔
اِس وقت ہم اپنی جان ہتھیلی پر لیے پھر رہے ہیں۔ اگر اِنھیں ہماری اصلیت کا ذرا سا سراغ بھی مل گیا، تو زن بچہ کولہو میں پلوا دِیا جائے گا۔ اِس لیے ذرا سوچ سمجھ کر بات کرو۔‘‘

’’پھر کیا کیا جائے؟‘‘ میکس نے پوچھا۔ ’’البانیہ کا خزانہ لُوٹا جائے؟‘‘

’’یہ کام شاید اتنا آسان نہ ہو۔‘‘ اوٹو نے کہا۔
’’ہمیں پہلے یہاں کے عوام اور دُوسرے بڑے لوگوں کو اَپنے اعتماد میں لینا ہو گا۔
کوئی ایسا کام کیا جائے جس سے ہم عوام کو خوش کر سکیں۔‘‘

وہ دونوں چند منٹ تک ایک دوسرے کی طرف تکتے رہے۔ پھر میکس نے اچھل کر کہا:
’’میرے ذہن میں ایک ترکیب آئی ہے کہ البانیہ کی جیلوں میں اِس وقت جتنے بھی قیدی ہیں، اُن سب کو عام معافی کے تحت رہا کر دیا جائے۔‘‘

اور دُوسرے ہی لمحے اوٹو نے میجر دیولو کو بلانے کے لیے رسّی کھینچ لی۔ ایک منٹ کے اندر اَندر گنجا اور کانا افسر کمرے میں حاضر ہو گیا۔

’’مَیں تمہاری مستعدی سے خوش ہوا۔‘‘ اوٹو نے باوقار انداز میں کہا۔
’’جاؤ، جنرل اسد پاشا کو فوراً میرے پاس بھیج دو۔‘‘

آدھے گھنٹے بعد جنرل اسد پاشا، پرنس حلیم الدین کے حضور میں پہنچ چکا تھا۔
کمرے میں بچھے ہوئے بیش قیمت ایرانی قالین کے کنارے کھڑے ہو کر اُس نے پرنس کو سلیوٹ کیا اور اُس کے احکام کا خاموشی سے انتظار کرنے لگا۔ پرنس حلیم الدین اُس سے پچیس فٹ کے فاصلے پر اپنی میز پر سر جھکائے کسی اہم مسئلے پر غور کر رہا تھا۔
اگرچہ اُسے کمرے میں جنرل اسد پاشا کی موجودگی کا احساس ہو چکا تھا، لیکن اُس نے فوراً ہی سر نہیں اٹھایا۔ تین منٹ تک اسد پاشا ’’اَٹن شن‘‘ کھڑا رہا۔
آخر پرنس نے نگاہ اُٹھائی اور اَپنے مخصوص شاہانہ انداز میں بولا:

’’جنرل اسد پاشا! مَیں ….. پرنس حلیم الدین ….. تمہیں حکم دیتا ہوں کہ البانیہ کی جیلوں کے تمام قیدیوں کو عام معافی کے تحت رہا کر دیا جائے ۔
دُوسرا حکم تمہارے لیے یہ ہے کہ کل صبح ناشتے کے فوراً بعد ہماری فوجوں کے متعلق صحیح صحیح رپورٹ پیش کرو کہ ہمارے پاس اِس وقت اسلحہ کتنا ہے اور فوجی جوان کتنے ہیں۔‘‘

یہ احکام سن کر اسد پاشا کے چہرے پر ایک ناگوار سی کیفیت نمودار ہوئی، تاہم زبان سے کوئی حرف نکالے بغیر اُس نے پھر ایڑیاں بجا کر سلیوٹ کیا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔

دوسرے روز صبح ناشتے کے بعد پرنس کی خدمت میں جنرل اسد پاشا نے فوج سے متعلق رپورٹ پیش کر دی۔

پرنس حلیم الدین نے پورے پندرہ منٹ اُس رپورٹ کا ’’بغور‘‘ مطالعہ کیا۔
پھر اپنی کرسی میں دھنس کر لیٹ گیا اور نہایت مدبرانہ اور مفکرانہ انداز میں دو تین بار اَپنی گردن کو جنبش دی۔ کمرے کی چھت کو تھوڑی دیر تکتا رہا۔ پھر دفعتاً اسد پاشا سے مخاطب ہو کر کہنے لگا:

’’اپنے آدمیوں کو تیار رَہنے کا حکم دے دو۔ ہم جلد ہی بلغراد پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
مزید ہدایات ایک دو روز میں تمہارے پاس پہنچ جائیں گی۔‘‘

اسد پاشا حیرت و استعجاب کے عالم میں پرنس کی طرف تکنے لگا۔
اب پہلی مرتبہ اُسے پرنس کی عظیم شخصیت اور دَبدبے کا احساس ہوا۔
دراصل بلغراد پر حملہ کرنے کا وہ خود بہت دنوں سے منصوبہ بنا رہا تھا، لیکن سلطان ترکی اور ہائی کمانڈر کی جانب سے اُسے اِس بات کی کبھی اجازت نہیں دی گئی۔
اَب خود پرنس حلیم الدین بلغراد پر حملہ کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔
اِس کا دوسرا مطلب یہ تھا کہ یہ حملہ ترکی حکومت کی منظوری سے ہو گا۔ اُس نے مسکراتے ہوئے کہا:

’’میرے آقا! آپ نے میرے دل کی بات کہی ہے۔ مَیں فوراً آپ کے احکام کی تعمیل کروں گا۔
ہماری فوج ہر طرح تیار اور مستعد ہے اور اُسے آپ کی قیادت پر ہمیشہ فخر رہے گا۔‘‘

اسد پاشا جب چلا گیا، تو نقلی پرنس کا ساتھی میکس جو اَپنی نشست پر بیٹھا بےچینی سے پہلو بدل رہا تھا، غصّے سے چیخا:

’’اوٹو ….. اُلو کہیں کے۔ تم پاگل تو نہیں ہو گئے۔ تمہیں معلوم نہیں کہ بلغراد کتنی بڑی قوت کا نام ہے۔
اگر اُس پر حملہ ہوا، تو وہ اَلبانیہ کے کسی فرد کو زندہ نہ رہنے دے گا۔
یہاں کے لوگ ہمارے خلاف ہی اٹھ کھڑے ہوں گے۔ ہم یہاں مستقل طور پر حکومت کرنے نہیں آئے۔ بس خزانے کی تلاشی لو اور نکل چلو۔‘‘

اوٹو نے اپنے دوست کی بات نہایت سکون سے سنی اور اُسے سمجھاتے ہوئے کہا:

’’پاگل مَیں نہیں، تم ہو۔ مَیں بھلا بلغراد پر حملہ کیوں کروں گا؟ مَیں نے یہ چال صرف اسد پاشا اور دُوسرے افسروں کو اَپنے اعتماد میں لینے کے لیے چلی ہے۔
اسد پاشا اور اُس کا ساتھی کرنل احمد ہمیں شک و شبہے کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ اب اُن کا شک دور ہو جائے گا۔ اِس کے علاوہ مَیں یہ بھی چاہتا ہوں کہ البانیہ کے تمام پہاڑی قبائل کے سرداروں کو اپنے محل میں مدعو کروں اور اُنھیں بھی مطمئن کر دوں۔‘‘

اُسی روز دوپہر کے وقت جنرل اسد پاشا اپنے عملے کے دوسرے ارکان کے ساتھ پرنس کے پاس آیا اور مؤدبانہ طور پر اُس سے درخواست کی کہ عوام کی زبردست خواہش ہے کہ پرنس البانیہ کا تخت و تاج سنبھال لے اور باقاعدہ اَپنی بادشاہت کا اعلان کرے۔
نقلی پرنس یہ سن کر تھوڑی دیر تک خاموش رہا۔ پھر شاہانہ انداز میں بولا:

’’مَیں البانیہ کے باشندوں کے احترام کے لیے اُن کی خواہش پوری کروں گا۔
آپ میری طرف سے عوام کا شکریہ ادا کر دیجیے۔‘‘
اِس کے بعد وہ اَپنی کرسی سے اٹھا اور سینہ تان کر اپنے پورے قد و قامت کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔

’’دیکھیے! فی الحال ہمارے سامنے ایک بڑی مشکل درپیش ہے۔
یورپین طاقتیں البانیہ پر کسی غیرمسلم شخص کو مسلط کرنا چاہتی ہی۔
حالات ایسے ہیں کہ ہمارے لیے انکار کی گنجائش نہیں، اِس لیے مَیں عارضی طور پر اپنا ایک عیسائی نام ….. مثلاً اوٹو ….. اوٹو اوّل تجویز کرتا ہوں اور جنرل اسد پاشا بدستور تمام البانوی فوجوں کے کمانڈرِ اَعلیٰ ہوں گے۔‘‘

دو روز بعد ….. یعنی ۱۵ فروری ۱۹۱۳ء کو اوٹو وائٹ جو چند روز پیشتر تک سرکس کا ایک معمولی مسخرہ تھا، البانیہ کے تخت پر بادشاہ کی حیثیت سے قابض ہو چکا تھا۔
اُس کی رسمِ تاج پوشی نہایت شان و شوکت سے ادا کی گئی۔
اُس روز بادشاہ اَوٹو اوّل نے البانیہ کے تمام پہاڑی قبائل کے سرداروں اور فوج کے بڑے بڑے افسروں کو اَپنے محل میں دعوت دی۔
پہلے اُنھیں خوب کھلایا پلایا اور بعد ازاں محل میں سے بہت سی قیمتی چیزیں جمع کر کے اُن سرداروں کو تحفے کے طور پر پیش کر دیں اور وُہ نئے بادشاہ کی فیاضی پر اَش اش کرتے ہوئے رخصت ہوئے۔

اُس سے اگلے روز بادشاہ نے جنرل اسد پاشا کو حکم دیا کہ اپنے حرم کی خوبصورت ترین کنیزیں محل میں بھیج دے۔ کل ۲۵ حسینائیں تھیں۔
اُن میں سے تین کنیزیں اسد پاشا کو اَور بقیہ ایک ایک دو دو دُوسرے افسروں کو سونپ دیں۔ پھر اُس نے اسد پاشا کو حکم دیا کہ میرے لیے ایک ملکہ تلاش کی جائے۔
اسد پاشا نے البانیہ کے چھوٹے بڑے شہروں میں اپنے آدمی دوڑا دِیے کہ اعلیٰ اور معزز خاندانوں کی پڑھی لکھی اور خوبصورت لڑکیاں جو ہر طرح ملکہ بننے کی اہلیت رکھتی ہوں، فوراً حاضر کی جائیں۔
چنانچہ ترانا، شوتاری، کورستا، فانونا، ایلبس اور دُوسرے کئی شہروں سے نوجوان لڑکیاں ڈرازو پہنچنے لگیں۔
ملکہ کا انتخاب بادشاہ خود کرنا چاہتا تھا۔

بادشاہ نے اُن بہت سی لڑکیوں میں سے چند کو تو فوراً ہی ناپسند کر کے رخصت کر دیا۔
چند لڑکیوں کو محل میں ٹھہر جانے کی اجازت دی تاکہ اُنھیں بعد میں ایک بار پھر دیکھے۔
اُدھر اسد پاشا تیزی سے بلغراد پر حملہ کرنے کی تیاریاں کر رہا تھا، کیونکہ اوٹو نے اُس سے کہا تھا کہ جونہی وہ ملکہ کے انتخاب سے فارغ ہوا، فوراً بلغراد پر ہلّہ بول دیا جائے گا۔
قبائلی سردار بھی سب متحد ہو چکے تھے اور نئے بادشاہ سے بہت خوش تھے۔

بادشاہ بننے کے بعد چوتھی رات کا ذکر ہے کہ اوٹو ہیدا نامی ایک حسینہ سے اپنے کمرۂ خاص میں گفتگو کر رہا تھا کہ دفعتاً باہر فوجی بوٹوں کی آوازیں سنائی دیں۔
پھر زور سے دروازہ کھلا اور جنرل اسد پاشا بہت سے مسلح فوجی سپاہیوں کے ساتھ کمرے میں گھس آیا۔

اوٹو اِس بےجا مداخلت پر غصّے سے سرخ ہو گیا، کیونکہ اتنے عرصے میں وہ وَاقعی اپنے آپ کو البانیہ کا بادشاہ سمجھنے لگا تھا۔ وہ اُچھل کر کھڑا ہوا اَور چلّایا:

’’جنرل! تمہیں بغیر اجازت میرے کمرے میں آنے کی جرأت کیونکر ہوئی؟‘‘

اسد پاشا اُسے گھورتا رہا۔ پھر اُس نے کرنل احمد سے کہا:

’’اِس بدمعاش اور اِس کے ساتھی کو فوراً گرفتار کر لو۔‘‘

دہشت اور خوف کی ایک زبردست لہر اوٹو کے جسم میں دوڑ گئی، لیکن کیا مجال کہ اضطراب اور پریشانی کی ہلکی سی جھلک بھی اُس کے چہرے پر نمودار ہوئی ہو۔
وہ شاہانہ انداز میں تن کر کھڑا ہو گیا اور اَپنے لہجے کو بارعب بناتے ہوئے بولا:

’’اسد پاشا! مَیں تمہیں اِس بدتمیزی اور گستاخی کی سزا دینے کا فیصلہ کر چکا ہوں …..
تم نے ابھی تک میری نرم مزاجی اور خوش اخلاقی کا مشاہدہ کیا،
اب تم میرے غیظ و غضب کا مزہ بھی چکھو گے۔‘‘

اوٹو کا ۸۷ برس کی عمر میں انتقال ہوا، لیکن زندگی کے آخری لمحوں تک وہ اُس منظر کو نہیں بھول سکا،
جو اُس روز البانیہ کے شاہی محل کے ایک وسیع و عریض کمرے میں اُس نے دیکھا تھا۔
اُس کی آواز اور شخصیت کی ہیبت اسد پاشا، کرنل احمد، میجر دیولو اور دُوسرے تمام سپاہیوں پر بیٹھ گئی
….. تیر نشانے پر لگا، اُس نے فوراً کرنل احمد سے کہا:

’’کرنل! ہم تمہیں جنرل کا عہدہ بخشتے ہیں …..
اسد پاشا کو گرفتار کر کے جیل میں لے جاؤ اور کل صبح ہمارے حضور میں حاضر کرو۔‘‘

کرنل احمد نے آگے بڑھ کر اسد پاشا کے ہاتھوں میں ہتھکڑی ڈال دی ۔
فوجی اُسے اپنے نرغے میں لے کر کمرے سے باہر نکل گئے۔
جب اُن کے بوٹوں کی آوازیں لمبی راہ داری کے آخری سرے پر پہنچ کر ختم ہو گئیں،
تو اوٹو نے ہیدا کو حکم دیا کہ وہ اَپنے کمرے میں چلی جائے۔
جب وہ بھی چلی گئی، تو اوٹو جلدی سے ملحقہ کمرے میں داخل ہوا،
جہاں اُس کا ساتھی اپنی تینوں کنیزوں کے درمیان پڑا خراٹے لے رہا تھا۔
اوٹو نے چپکے سے اُسے جگایا اور اَپنے کمرے میں لا کر ساری داستان سنائی۔
میکس کے ہوش اڑ گئے۔ سارا نشہ ہرن ہو گیا اور وُہ تھرتھر کانپنے لگا۔
محل کے چاروں طرف زبردست فوجی پہرہ تھا۔
وہ اَگر اِس وقت باہر نکل کر فرار ہونے کی کوشش کرتے، تو سپاہیوں کو یقیناً شک ہو جاتا،
لیکن اُن کا نکلنا لازمی تھا۔ موت ہر لمحے اُن کے قریب آ رہی تھی۔

قصّہ یہ ہوا کہ اُس رات تھوڑی دیر پہلے اصلی پرنس حلیم الدین کا ایک تار قسطنطنیہ سے جنرل اسد پاشا کے نام موصول ہوا۔ اس میں درج تھا کہ وہ چند روز تک البانیہ پہنچ رہا ہے۔
اُس تار نے اوٹو کا سارا کھیل بگاڑ دیا۔

رات کا بقیہ حصّہ اُنھوں نے محل سے بھاگ نکلنے کی تدبیریں سوچتے ہوئے گزار دِیا۔
جونہی مشرق سے پَو پھٹی اور اُجالا آہستہ آہستہ پھیلنے لگا، میکس اور اَوٹو کے ہاتھ پیر پھولنے لگے۔
آخر اُس نازک ترین موقع پر بھی میکس کا ذہن ہی کام آیا۔ وہ کہنے لگا:

’’پیارے دوست! قضا ہمارے سروں پر کھیل رہی ہے۔ بچ نکلنے کی ایک ہی تدبیر مجھے سجھائی دیتی ہے۔
ابھی تھوڑی دیر بعد تم گھنٹی بجا کر دیولو کو بلانا ،
اُس سے کہنا کہ اسد پاشا کو سب کے سامنے اُس کی گستاخی کی سزا کا حکم سنایا جائے گا۔
اِس لیے سات بجے تک محل کے تمام محافظ، سپاہی اور دُوسرے لوگ تمہارے کمرے کے سامنے جمع ہو جائیں۔
بس وہی وقت ہمارے بھاگ نکلنے کا ہو گا۔
ہم کمرے کی پچھلی کھڑکی سے کود کر محل کے صدر دَروازے تک آسانی سے پہنچ جائیں گے۔
دروازے پر پہرےدار نہ ہوں گے۔ اُس کے بعد راستہ آسان ہے۔
ہم سیدھے تیرانہ جا کر اپنے سرکس میں ڈیوٹی پر حاضر ہو جائیں گے۔‘‘

دونوں نے ایک دوسرے سے گرم جوشی سے ہاتھ ملایا اور دِیوار پر لگے ہوئے خوبصورت کلاک کو دیکھنے لگے۔
پورے ایک گھنٹے بعد اوٹو نے گھنٹی بجا کر دیولو کو بلایا ،
حکم دیا کہ محل کے تمام محافظوں اور مکینوں کو سات بجے تک میرے کمرے کی بیرونی راہ داری میں جمع کرو۔
پندرہ منٹ بعد وہ دونوں کمرے کی عقبی کھڑکی سے پھاند کر دوڑتے ہوئے صدر دَروازے تک گئے۔
صبح کی گہری دھند میں گم ہو گئے۔ یہ ۲۱ فروری ۱۹۱۳ء کا ذکر ہے۔

اِس واقعہ پر ایک صدی سے زائد کا عرصہ گزر چکا،
لیکن البانیہ کی بوڑھی عورتوں کو اب بھی بادشاہ اوٹو اوّل کی حکومت کے پانچ روز بخوبی یاد ہیں۔
جب چاندنی راتوں میں اُن کے پوتے پوتیاں کہانی سنانے کے لیے ضد کرتے ہیں،
تو اُنھیں بادشاہ اوٹو کی سچی اور دِلچسپ کہانی سنا کر بہلایا جاتا ہے۔

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles