23 C
Lahore
Saturday, April 13, 2024

Book Store

سزا

“سزا “

ازقلم : فوزیہ بشیرملک

آج شبِ برات تھی۔ سعدیہ نے عصر کی نماز پڑھی اور اس کے بعد قرآن پاک لے کر بیٹھ گئی۔
آدھا گھنٹہ تلاوتِ قرآنِ پاک کے بعد اپنے مرحوم والد، دادا، دادی اور تمام مسلمانوں کے  ایصالِ ثواب کی دعا کرنے لگی۔ اتنے میں اس کا چھوٹا بیٹا باہر سے کھیل کر آیا تو اسے روک کر اس  نے یہ ضروری سمجھا کہ اپنے بیٹے کو آج کے دن کی اہمیت کے بارے میں بتائے۔
لہٰذا بیٹے کو پاس بلا کر پوچھا کہ بیٹے شب برات کیا ہے؟
وہ بہت خوش ہو کر بتانے لگا “ہاں جی، مجھے پتا ہے کہ آ ج سب بچے اپنے گھروں پر لائیٹس اور موم بتیاں لگائیں گے اور شام کو سب دوست مل کر خوب پٹاخے چلائیں گے۔ بڑا مزہ آ ئے گا۔
یہ کہہ کر بیٹے  نے پٹاخے اور موم بتیاں خریدنے کے لئے پیسے مانگنے شرو ع کر دئیے ۔
سعدیہ کو بچے کی معصوم مگر گمراہ کن معلومات پر افسوس ہو نے لگا۔ اس  نے اسے پاس بٹھا کر پیار سے بتایا کہ “ بیٹا شب برات پٹاخے بجانے اور موم بتیاں لگانے کی نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی رات ہے۔ اس میں مسلمان زیادہ سے زیا دہ عبادت کر کے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔
اس کے علاوہ اپنے پیارے اور فوت شدہ رشتہ داروں کی قبر پر جا کر ان کے لئے قرآ ن پاک پڑھتے اور ان کی بخشش کی دعا مانگتے ہیں۔
قبروں کے اوپری حصے کی صفائی کرتے اور پھول وغیرہ ڈالتے ہیں۔ بیٹے  نے اس کی بات میں کوئی خاص دلچسپی ظاہر نہ کی اور پیسوں کا تقاضا کرتے ہو ئے پھر باہر کھیلنے چلا گیا ۔
بیٹا تو با ہر چلا گیا مگر سعدیہ یادوں کے سمندر میں اُ تر گئی۔
بچپن کی خوبصورت یادیں آنکھوں کے آ گے پھرنے لگیں۔ جن میں ابو تھے، دادا اور دادی اماں تھیں۔ اسے یاد آنے لگا کہ دادی اماں نماز کی پابندی کتنی زیادہ کرتی تھیں۔ ایک نماز کے ختم ہو نے کے بعد دوسری نماز پڑ ھنے کے لئے اذان ہونے کا دیر تک انتظار کرتی تھیں۔ دادی کی یاد کے ساتھ ہی بچپن کی ایک بہت بڑی یاد  ذہن میں اتر آئی۔
اُسے یاد آیا کہ دادی اماں اسے ہمیشہ پانی ضائع کرنے سے منع کرتی تھیں۔ گھر میں نلکا لگا ہوا تھا جس میں سے سارا دن ٹھنڈا میٹھا پانی بے حساب نکالا جا سکتا تھا۔ اسے یاد تھا کہ گاؤں کے کافی غریب لوگ بھی ان کے گھر پانی بھرنے آتے۔
عورتیں اور بچے گھڑے اور بالٹیاں بھر بھر  لے کر جاتے تھے، مگر کبھی زندگی میں پانی ختم نہ ہوا۔ اپنے بچپن میں اسے دادی اماں کی یہ نصیحت بہت عجیب لگتی اور اُسے کبھی یہ سمجھ نہ آئی کہ  نلکے کے ذریعے جو پانی زمین سے آ رہا ہے، وہ کیسے ختم ہو سکتا ہے اور کب ختم ہو گا ۔
دادی اماں گاؤں میں رہتی تھیں اور یہ گاؤں دریائے چناب کے کنارے پر تھا جس میں پا نی ہیں پانی تھا۔
ہر گھر میں پانی سے بھرے ہو ئے نلکے تھے۔ پانی کیسے ختم ہو سکتا تھا؟ خیر دادی اماں کی نصیحت کی اہمیت اسے کئی سال گزرنے کے بعد سمجھ میں آئی ۔
سعدیہ بچپن ہی میں اپنے والدین کے ساتھ شہر شفٹ ہو گئی تھی۔ جہاں پر اس کے والد ایک سرکاری ملازم تھے۔
جس علاقے اور محلے میں انہوں  نے گھر خریدا وہ علا قہ لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے افراد کا رہائشی علاقہ تھا۔ جہاں تک اُ سے یاد تھا، اُ س کے بچپن میں تو اس علا قے میں پانی کا اتنا مسئلہ نہیں تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آنے والے سالوں میں یہ مسئلہ بڑھتا چلا گیا اور ایک ایسے مسئلے کی شکل اختیار کر لی جس کا ذکر اکثر لوگوں کی زبان پر رہنے لگا۔
ہفتے میں ایک دو دن ایسے ہی ہوتے کہ لوگ بالٹیاں لے کر ایک دوسرے کے گھر سے پانی مانگ کر گزارہ کرتے۔
پھر آہستہ آہستہ محلے والوں کو یہ بات پتا چلی کہ ایک پانی کھینچنے والی مو ٹر بھی ہوتی ہے۔ اگر وہ پانی کے پائپ کے اوپر لگوا لی جائے تو موٹر سارا پانی کھینچ لیتی ہے اور آ پ کے پا نی کی ٹینکی بھری رہتی ہے ۔ پھر آہستہ آہستہ امی کی زبانی سعدیہ کو پتا چلا کہ فلاں گھر میں موٹر لگ گئی ہے۔
اور اب لوگ ان کے گھر سے پا نی لے کر آتے ہیں۔ ان کی گلی میں دو تین پانی کھینچنے والی موٹریں اور لگ چکی تھیں۔
موٹریں لگنے سے کچھ لوگوں کا بھلا ہو گیا مگر زیادہ تر لوگوں کے لیے پانی کا مسئلہ اس قدر شدید ہو گیا کہ وہ بوند بوند کو ترسنے لگے۔
ہفتوں تک ان کے گھروں کی ٹینکیوں میں پانی نہ آتا۔ وہ بالٹیاں پکڑ پکڑ کر لوگوں سے پانی کی بھیک مانگنے لگے ۔
پیسے والے امیر لوگوں  نے اپنی دولت کے بل پر غریبوں کے حصے کا پانی ان سے چھین لیا۔ امیروں کے صحن، گاڑیاں اور سائیکلیں ہر روز دُھلنے لگیں۔ گرمی کی شدت سے گھبرائے ہوئے امیروں کے بچے کھلے پانی سے نہا دھو کر دُھلے ہوئے اِستری شدہ کپڑ ے پہن کر شام کو پارک میں کھیلنے کے لئے آ تے تو اسی گلی میں رہنے والے غر یبوں کے بچوں کے پاس سے آنے والی پسینے کی بدبو اور زیادہ بڑھ جاتی۔
کئی کئی دن پانی کی کمی کی وجہ سے ان کے کپڑے نہ دھل پاتے اور ان کے جسموں کی طرح ان کے کپڑ ے بھی اتنے گند ے اور بدبودار رہنے لگے کہ اب کوئی امیر بچہ ان سے کھیلنا پسند نہ کرتا تھا۔
امیر عورتوں کے گھروں کی ٹینکیوں میں آ نے والا غریبوں کے حصے کے پانی نے امیر عورتوں کے غرور و تکبر کو اور زیادہ بڑھا دیا تھا۔ اب کچھ دنوں سے یہ صورتحال سامنے آ رہی تھی کہ یہ امیر عورتیں غریب محلے داروں کو پانی دے دے کر تنگ آ چکی تھیں اور اب بڑی ڈھٹائی اور بدتمیزی سے پانی دینے سے انکار کرنے لگیں۔
پانی والی امیر عورتوں اور پانی مانگنے والی غریب عورتوں میں اب اکثر ہی چھوٹی چھوٹی لڑائیاں ہونے لگیں۔ اور اکثر لڑائی جھگڑے کا یہ شور اس قدر بڑھ جاتا کہ محلے والے بھی اکٹھے ہو کر تماشا دیکھنے لگتے ۔
سعدیہ کی ہمسائی آنٹی کسٹم والی بھی اپنے گھر کی ٹینکی پر موٹر لگوا چکی تھی۔ شام کے وقت جب پانی آنے کا ٹائم ہوتا تو وہ بجلی کی موٹر آن کر دیتی جس سے جلد ہی موٹر سارا پانی پائیپوں میں سے کھینچ کر اس کے گھر کی ٹینکی بھرنے لگتی۔ اس کے بعد دن بھر کی گرمی سے ستائے ہو ئے اس کے بچے پائپ لگا صحن دھونا شروع کر دیتے۔
اس کے بعد ڈھیر سارا پانی ٹینکی میں سے نکال کر صحن میں پانی بھر لیتے اور خو ب نہاتے ۔ نہاتے ہوئے بچوں کے ہنسنےکھیلنے اور مزہ کرنے کی آ وازیں ہر گزرنے وا لے راہ گیر کو سنائی دیتی اور تھوڑا تھوڑا پانی بھی بہ بہ کر باہر گلی میں بہنے لگتا۔
کسٹم والی آنٹی کے اڑوس پڑوس میں رہنے والی پانی سے محروم عورتیں جن کے گھروں کی ٹنکیاں کئی دنوں سے خالی تھیں آ کر آنٹی کو سمجھاتیں کہ خدا کے لئے پانی ضائع نہ کرو ۔ اور موٹر نہ چلاؤ تاکہ ہمارے گھر میں بھی پانی آ سکے، مگر کچھ ہی دیر بعد ان عورتوں اور آنٹی کی لڑائی کی آوازیں محلے والے سننے لگتے۔
یہ عورتیں آنٹی کو اس کے بچوں کو بددُعائیں دیتی ہوئی اپنے گھروں کو واپس آ جاتی اور آنٹی ان کو گالیاں دیتی ہوئی زیادہ زور سے اپنا گیٹ بند کر کے اندر چلی جاتی ۔
مگر شاید دکھی محروم اور مجبور لوگوں کی دُعا اور بددُعا دونوں ہی اثر رکھتی ہیں۔ کسٹم والی آنٹی ایک شام کو اپنی ایک عزیزہ سے ملنے چلی گئی۔ بچے گھر پر تھے۔ حسبِ معمول بچوں  نے ٹینکی کا ڈھکن اٹھایا اور اس میں سے پانی کی بالٹیاں بھر بھر کے صحن میں پانی جمع کرنے
لگے تاکہ نہا سکیں۔
پانچ سالہ حسن بھی اپنے کھلونے میں پانی بھرنے کے لئے جھکا تو اپنا توازن بر قرار نہ رکھ سکا اور بے چارہ پانی کی ٹینکی میں گر گیا۔
گیارہ سالہ امبر  نے بھائی کو پانی میں گرتے ہو ئے دیکھ لیا تھا۔ وہ فوراً بھائی کو بچانے کے لئے پانی کی ٹینکی میں جھک گئی مگر ننھا بھائی ہاتھ نہ آ یا تو اور زیادہ جھک کر اسے پکڑنے کی کوشش میں خود بھی ٹینکی میں گر گئی ۔
ہائے افسوس کچھ ہی دیر پانی میں غوطے کھا نے کے بعد دونوں بہن بھائی پانی میں ڈوب کر مر چکے تھے۔ محلے والے با قی بچوں کا شور سن کر اکٹھے ہو گئے اور ایک آدمی نے مرے ہو ئے دونوں بچوں کو باہر نکالا ۔
آنٹی کسٹم والی گھر واپس آئیں تو بچوں کی لاشیں دیکھ کر بے ہوش ہو گئیں۔ اب وہ خود ایک زندہ لاش بن چکی ہیں۔ خاموشی رہتی ہیں۔ غریبوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کو یاد کر کےبہت روتی ہیں اور اللہ تعالٰی سے معافی مانگتی رہتی ہیں۔

تعارف
مصنفہ وقار النساہ گرلز کالج راولپنڈی کی گریجوایٹ ہیں، وہ ہسٹری اور ایجوکیشن میں ماسٹرز ڈگری رکھتی ہیں۔ ادب کے ساتھ گہرا لگاؤ ہے اور زندگی میں رونما ہونے والے واقعات کو بہت دلچسپ طریقے سے پیش کرنے کا ہنر جانتی ہیں۔ ایک گھریلو خاتون ہیں۔ حال ہی میں اُنہوں  نے چھوٹے چھوٹے افسانے لکھنے شروع کیے ہیں جنھہں اُن کے قریبی حلقوں میں بہت پزیرائی مل رہی ہے۔
Fouzia Bashir Malik,
Email: fouziamalik1971@gmail.com

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles