31 C
Lahore
Monday, June 17, 2024

Book Store

(مجروح (پہلی قسط

 

(مجروح (پہلی قسط
شکیل احمد چوہان

دسمبر کے مہینے میں سخت سردی کے باوجود ’’منشامزاری‘‘ کے ماتھے پر پسینہ تھا۔ وہ سوتے ہوئے بھی بے چین تھی
میں اگلے بارہ گھنٹے کے اندر اندر تمھیں کتے کی موت ماروں گی۔
تلخ لہجے میں ایک نسوانی آواز میں دی ہوئی دھمکی کے بعد مردانہ آواز میں دھیمے، مگر قدرے چبھتے ہوئے انداز میں قہقہہ گونجا۔ پھر اُس کے کانوں میں ایک گہری گھائل آواز پڑی
ارے جاؤ منشامزاری۔۔۔! بارہ گھنٹوں کے بجائے تم اگلے بارہ سال تک بھی مجھے ڈھونڈ نہ پاؤ گی۔ دھیمے تیکھے قہقہوں کا شور بڑھنے لگا تو منشامزاری ہڑبڑا کے اُٹھ بیٹھی۔ اُس کے ماتھے پر پسینہ بڑھ گیا۔ اُس نے سائیڈ ٹیبل پر پڑے ہوئے پانی کے گلاس سے اپنے حلق کو تر کیا۔ پھر وال کلاک پر وقت دیکھا۔ صبح کے تین بج رہے تھے۔

۞۞۞۞۞

گاؤں کے ایک کونے سے گندم پیسنے والی چکی کے بڑے سے انجن کی کوک کھیتوں تک آرہی تھی۔ جسے دیہی علاقوں میں گھگو بھی کہتے ہیں۔ انہی کھیتوں میں ایک دس سالہ چاند سے چہرے والا بچہ سرسوں کے ایک کھیت کی پگڈنڈی پر کھڑا ہوا دُور سے دو سفید گھوڑوں والی بگھی کو بڑی ملائم نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
اُس کی نظروں کا مرکز اور محور بگھی میں بیٹھے ہوئے تین بچے تھے۔ لڑکے کے ہاتھ میں پلاسٹک کی پستول تھی۔ ایک لڑکی کے ہاتھ میں سرسوں کے پھول اور تیسری پری چہرہ لڑکی کے ہاتھ میں دو مالٹے تھے۔
پگڈنڈی پر کھڑا وہ دس سالہ لڑکا بگھی میں بیٹھی آٹھ سالہ لڑکی کو دل ہی دل میں خود ہی ’’منّو‘‘ کے نام سے پکارتا تھا۔ گھوڑوں کی ٹاپوں سے کچے رستے پر اُٹھنے والی گیلی مٹی سرسوں کے پھولوں کی مہک سے مل کر ایک نئی خوشبو کی شکل اختیار کر رہی تھی۔ رات کے پچھلے پہر ہونے والی ہلکی سی بارش سے سب کچھ اُجلا اُجلا نظر آرہا تھا۔
بگھی قریب سے گزری تو تین بچوں میں سے صرف منّو  نے پگڈنڈی پر کھڑے ہوئے لڑکے کو ایک نظر دیکھا، پھر ایک مالٹا اپنے بہن بھائیوں کی نظروں سے بچتے بچاتے اُس لڑکے کے لیے راستے میں پھینک دیا۔ منّو اُس لڑکے کو نہ بھی دیکھتی تو کیا فرق پڑتا تھا۔ وہ گاؤں کے سردار کی بیٹی اور یہ ٹھہرا ایک کمی کا بیٹا۔
سونو۔۔۔ لڑکے کے کندھے پر کسی کا ہاتھ تھا۔ اُس نے پلٹ کر دیکھا۔ نقاب کیے ہوئے ایک چادر میں خود کو چھپائے ایک خاتون سرسوں کے کھیت سے ساگ توڑ کر باہر نکلی تھی۔

۞۞۞

’’ماں۔۔۔
یہ پکارتے ہوئے تقریباً چھتیس سالہ ’’سرمدنواب‘‘ اُٹھ کے بیٹھ گیا۔
اُس  نے تین چار لمبی لمبی سانسیں لیں، پھر اپنے کمرے کی کھڑکی کھول کر پنڈی کے راجہ بازار کا جائزہ لیا۔ دُور سے کہیں چوکی دار کی سیٹی کی صرف آواز آ رہی تھی۔ دُھند نہیں تھی، مگر سردی بہت تھی۔
اُس نے کھڑکی بند کر دی اور دیوار پر لگے ’’روپ سنگھار کاسمیٹکس2020ء‘‘ کے کیلنڈر کو دیکھنے لگا.
جس پر 11اور 12دسمبر کی تاریخوں کے گرد سرخ مارکر سے دائرہ لگایا گیا تھا اور 8دسمبر تک کی تاریخ کو نیلے پین سے کاٹا گیا تھا۔
اُس نے تکیے کے ساتھ پڑا ہوا اپنا چھوٹا عام سا موبائل اُٹھایا۔ اُس پر تاریخ دیکھی،جو 9دسمبر تھی، پھر اُس نے رومن اُردو میں ایک میسج ٹائپ کیا۔
’’میم۔۔۔! آپ سے ملنا ہے، ایک کام ہے۔‘‘
میسج لکھنے کے بعد اُس نے نیچے اپنا نام لکھا ’’سلمان‘‘ اور میسج بھیج دیا۔
اُس  نے اپنے کمرے پر سرسری سی نظر ڈالی۔ ایک کونے میں ڈبل بیڈ کے سامنے بڑی سی ایل سی ڈی والا ایک کمپیوٹر پڑا ہوا تھا۔ دوسری دیوار پر لگے ہینگر پر اُس کی پینٹیں اور شرٹیں لٹک رہی تھیں۔ اُن کے نیچے رمشا مزاری کا بارہ سال پُرانا کالے رنگ کاایک خستہ حال ہینڈ کیری پڑا تھا۔
اِن اشیاء کے علاوہ فقط ایک ٹین کا صندوق اُس کمرے کی جاگیر تھی۔ اُس نے صندوق کا تالا کھولا اور کپڑوں کے نیچے سے ڈاک کے چند لفافے نکالے۔
اُن ڈاک کے لفافوں کو دیکھتے ہی اُس کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ پھر اُس نے ایک موٹے کالے پلاسٹک کے بیگ میں اُن لفافوں کو رکھا اور دیوار پر لٹکی ہوئی اپنی ایک لائٹ بلیو جینز کی اگلی جیب میں ڈال دیا۔

۞۞۞

بزدل۔۔۔!! کس بل میں بارہ سال سے چھپے بیٹھے ہو؟
منشامزاری  نے دل ہی دل میں کہا۔ اُس کے کانوں پر  ائیر پروٹیکشن لگے ہوئے تھے۔ وہ اپنے بنگلے کے تہہ خانے میں ہاتھ میں پکڑے آدمی کی جسامت کے ایک  بورڈ، جس پر ’’سونو‘‘ لکھا ہوا تھا کو قہر برساتی نظروں سے دیکھے چلی جا رہی تھی۔
پھر اُس  نے نشانہ لگانے کے لیے پوزیشن سنبھالی اور سونو نامی لکڑی کے تختے پر دھڑادھڑ فائر کرنے لگی۔ اگر اُس کی گن کی گولیاں ختم نہ ہوتیں تو وہ کبھی نہ رُکتی۔ چار گولیاں ٹانگوں پر، دو بازوؤں پر، ساتویں گولی پیٹ میں اور آٹھویں اُس لکڑی کے فرضی سونو کے ماتھے پر ماری گئی تھی۔

۞۞۞

سرمد زمین پر بچھے ہوئے کارپٹ کے ٹکڑے پر آنکھیں بند کیے ’’یوگاآسن‘‘ کے انداز میں آلتی پالتی مار کر بیٹھا ہوا تھا۔ وہ کسی تجربہ کار یوگی کی طرح دُنیا سے دھیان ہٹا کر اپنی ہی دُھن میں مگن تھا۔ سورج کے طلوع ہونے کے بعد اُس نے آنکھیں کھولتے ہوئے دھیرے سے کہا۔
آ رہا ہوں میں۔۔۔

(بقیہ اگلی قسط میں)
۞۞۞۞

Previous article
Next article

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles