32 C
Lahore
Thursday, July 18, 2024

Book Store

خالی ہاتھ

خالی ہاتھ

ازقلم فوزیہ ملک


صبح کے دس بجے چکے تھے۔ میں حسب معمول اس وقت تک اپنے کام نمٹا چکی ہوتی۔ بچے اسکول چلے جاتے اور میاں صاحب اپنے دفتر۔ میاں اور بچوں کو رخصت کر نے بعد خود ناشتا کرتی، اپنے کمرے کے بستر اور چادریں سیٹ کرتی، بیٹی اور بچوں کے کمرے سیٹ کرتے کرتے دس بج جاتے۔ یہ وقت تھوڑی دیر آرام کا ہوتا۔ ٹی وی پر خبریں سنتی اور ساتھ ساتھ کسی دوست سے گپ شپ بھی لگا لیتی۔
مگر آج صبح ہی سے میرے سر میں درد ہو رہا تھا۔ میں خبریں سننے کے موڈ میں نہیں تھی۔ سر میں بڑھتے ہوئے درد کی وجہ سےمیں صوفے پر سر ٹکا کر لیٹ سی گئی۔
فون کی گھنٹی بج اُٹھی۔ دوسری طرف میری بہت عزیز دوست عظمی تھی۔ اس نے بتایا کہ اس  کے خاوند کی پوسٹنگ کلرکہار چھاؤنی میں ہو گئی ہے۔
اتنے چھوٹے اسٹیشن پر پوسٹنگ کی وجہ سے وہ پریشان تھی۔
میں  نے جب وادی کلرکہار کا نام سنا تو اسے ایسے لگا جیسے میرے سر کا درد ایک دم سے ختم ہو گیا ہو۔ خوشی اور سکون کی ایک لہر میرےپورے جسم میں دوڑنے لگی۔ کلرکہار سے جڑی یادوں نے میرا دل خوش کر دیا ۔
کچھ دیر عظمیٰ سے بات کرنے کے بعد میں نے فون بند کیا اور صو فے پر لیٹ کر خود کلامی کرنے لگی۔
شدید ٹینشن، اداسی اور تنہائی۔ آخر کیوں گھیر لیتی ہیں یہ بلائیں مجھے با ر بار؟
ایک ہفتہ بھی آرام سے نہیں گزرتا اور سر میں مسلسل درد رہتا ہے۔ سارا دن موڈ خر اب رہتاہے۔
“ہمارا خوبصورت اور خوشیوں بھرا بچپن اور ماضی، کیوں ہماری موجو دہ زندگی پر اثرانداز ہوتے ہیں؟
بچپن کی خوبصورت یادیں، ماں باپ کے گھر گزری ہوئی خوبصورت زندگی جس میں محبت، توجہ، پیار اور ستائش سب کچھ تو ملتا ہے۔
پھر وہ زندگی کیوں بدل جاتی ہے؟ سب کچھ خواب سا کیوں لگتا ہے؟
میں اپنی زندگی میں اپنے ابو اور ان کے وجود کی کمی شدت سے محسوس کرنے لگی ۔ پھر فورًا ایک خیال کے آتے ہی میں مطمئن ہو گئی ۔
میں ایک بار پھر کلرکہار جاؤں گی۔ وہ ساری جگہیں ایک بار پھر دیکھوں گی، جہاں ابوجی تھے، جہاں مور تھے جہاں جھیل تھی۔
یہ سب کچھ سوچ کر میں خوش ہو گئی اور جلد از جلد عظمیٰ کے کلرکہار شفٹ ہونے کا انتظار کرنے لگی ۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب ابو بطور ایس ایچ او تھانہ کلرکہار میں تعینات تھے۔ ہم سب بہن بھائی راولپنڈی میں امی کے ساتھ رہتے تھے۔ اسکول کی پڑھائی کی وجہ سے ہم ابو کے ساتھ ہر اسٹیشن پر نہیں رہ سکتے تھے۔ لہٰذا راولینڈی میں مستقل طور پر رہ رہے تھے۔
ابو اس نئی پوسٹنگ پر بہت خوش تھے۔ ان کے بقول یہ علاقہ بہت خوبصورت اور سرسبز وشاداب ہے۔ یہاں پر جھیل ہے۔ باغات ہیں، بہت پیارے مور ہیں اور تیتر بٹیرے۔
(ابو  نے پوری فیملی کو چند دنوں کے لئے اپنے پاس کلر کہار بلوا لیا)
راولپنڈی سے ڈیڑھ یا دو گھنٹے سفر کرنے کے بعد جب ہم بڑی سڑک کو چھوڑ کر کلرکہار والی چھوٹی سٹرک پر آئے تو سامنے ہی ایک بہت بڑی اور خوبصورت نیلی نیلی سی جھیل نے ہمارا استقبال کیا۔
جھیل کا وہ پہلا منظر اس قدر خوبصورت تھا کہ میں  نے اور میرے بہن بھائیوں  نے شور مچانا شروع کر دیا کہ گاڑی فوراً روکی جائے تاکہ ہم یہاں رک کر تسلی سے اس سارے منظر کو اور خوبصورت جھیل کو دیکھ سکیں۔
مجھے آج بھی یاد ہے کہ وہ جھیل بالکل گولائی میں تھی اور اسی گولائی میں ہی سٹرک بھی اس کے کنارے کنارے بنی ہوئی تھی۔
گویا پوری جھیل کے اردگرد بذریعہ سٹرک بھی ایک بڑا چکر لگایا جا سکتا تھا ۔ جھیل کناروں تک پانی سے بھری ہوئی تھی اور کناروں پر سٹرک کے ساتھ ساتھ سبزہ، کائی اور چھوٹے چھوٹے درخت بھی تھے۔ اس خوبصورت منظر کو دیکھ کر دل بہت خوش ہوا۔
امی جی کے کہنے پر ہم جلد ہی دوبارہ گاڑی میں بیٹھ گئے۔ کچھ دیر جھیل کے ساتھ ساتھ سفر کر نے کے بعد گاڑی ایک دوسری سٹرک پر مڑ گئی جہاں پر آگے بلند و بالا پہاڑ تھے۔ گویا یہ ایک چھوٹی سی سرسبز وادی تھی جس کے تین طرف خوبصورت پہاڑ تھے۔
چلتے چلتے گاڑی ایک چھوٹی سی پہاڑی پر چڑھنے لگی ۔ پھر ہم ایک چار دیواری میں داخل ہو گئے، جس کے باہر تھانہ کلرکہار کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ سامنے ہی والد صاحب کھڑے ہمارا انتظار کر رہے تھے۔
ہم سب بہن بھائی جلدی جلدی گاڑی سے نکلے اور ابوجی سے لپٹ گئے۔ انہوں  نے سب کو بہت پیار کیا ۔ بےاختیار میرے منہ سے نکلا واہ ابوجی آپ اتنی خوبصورت جگہ پر رہتے ہیں۔
کلرکہار کے مشہور لوکاٹ تو ہم پہلے بھی کھا چکے تھے، مگر آج لوکاٹ اپنے ہاتھوں سے توڑ کر کھانے کا مزہ ہی اور تھا۔
ابوجی کے ساتھ آج بہت دنو ں بعد دوپہر کا کھانا کھایا آج تو بیٹروں کا مزہ بھی لاجواب تھا۔ ( پتا نہیں وادی کلرکہار کی خوبصورتی کا اثر تھا یا اتنے دنوں کے بعد ابوجی سے ملنے کی خوشی )۔ہر چیز بہت اچھی لگ رہی تھی۔
شام ہو ئی تو ابو کے ساتھ وہاں کے مشہور دربار پر گئے۔ امی ابوجی مزار پر فاتحہ پڑھنے کے لئے اندر چلے گئے ۔ ہم بہن بھائی اردگرد گھومنے لگے۔
میں نے دیکھا کہ یہ مزار ایک بلند پہاڑی کے اوپر واقع ہے۔ مزار کے اطراف میں چھوٹی چھوٹی حفاظتی دیواریں بنی ہوئی تھیں تاکہ کوئی غلطی سے پہاڑ سے نیچے نہ گر جائے۔
پہاڑ کی بلندی پر سے نیچے وادی کا نظارہ بہت اچھا لگ رہا تھا۔ ساری وادی سر سبز و شاداب تھی۔ پھولوں اور پھلوں سے بھری ہوئی ۔
چلتے چلتے مزار کے پچھلے احاطے کی طرف آئی تو دیکھا دیوار سے تھوڑا نیچے باہر کی طرف ایک چھوٹا سا چشمہ بہ رہا تھا۔ میں  نے فوراً بہن بھائیوں کو بلایا اور ہم خوشی خوشی پہاڑ سے نیچے اترنے لگے۔ بےتابی سے چشمے تک گئے اور پانی میں ہاتھ ڈال دیئے۔
پانی صاف شفاف ٹھنڈا اور میٹھا تھا۔ سب بچوں نے خوشی سے جی بھر کر وہ پانی پیا۔ ابوجی فاتحہ خوانی کے بعد باہر آئے تو ہمیں ڈھونڈتے ہوئے وہ بھی نیچے چشمے کے پاس آ گئے۔
امی بھی آ گئیں تو وہ امی جی کو بتانے لگے کہ یہاں جو لوگ بھی منت مرادیں لے کر آتے ہیں وہ اس تبر ک کو لے کر جاتے ہیں۔
اچانک نیچے جھاڑیوں میں دو مور پھرتے ہوئے نظر آئے۔ زندگی میں پہلی بار موروں کو اپنے سامنے دیکھ کر سب نے شور مچایا اور تالیاں بجائیں۔ وہ نیلے رنگ کے بڑے بڑے خوبصورت مور تھے۔
مور ہماری تالیوں اور شور کی آواز سن کر ڈر گئے اور بھاگتے ہوئے مزید نیچے وادی میں اتر نے لگے ۔ ابو نے ہمیں ان کے پیچھے نہ جانے دیا اور میرا ہا تھ پکڑ کر واپس اوپر چڑھنے لگے۔
اب رات کا اندھیرا پھیل رہا تھا۔ لہٰذا ابوجی نے سب کو گاڑی میں بیٹھنے کا کہا۔ ہم سب میں سے کوئی بھی واپس جانا نہیں چاہ رہا تھا مگر گاڑی میں بیٹھنا ہی پڑا۔
کھانا کھانے کے بعد امی جی نے بتایا کہ ہم آج ہی واپس جا رہے ہیں کیونکہ کل تم لوگوں نے اسکول جانا ہے۔ ہم بہن بھائیوں میں سے کوئی بھی واپس جانے کے لئے تیار نہیں تھا۔
جب ابوجی نے یہ بتایا کہ میں بھی آپ سب کے ساتھ راولپنڈی جا رہا ہوں تاکہ آپ کو رات کے سفر میں مشکل پیش نہ آئے ۔تب ابو جی کے ساتھ جانے پر ہم سب واپس جانے پر راضی ہو گئے۔
ابو جی اب اس دنیا میں نہیں مگر ان کے وجو د سے وابستہ ایسی ہزاروں خوبصورت یادیں ہیں ۔ یہ یادیں زندگی میں ان کی کمی کے احسا س کو اور زیادہ شدید بنا دیتی ہیں ،
اللہ پاک میرے ابو کی مغفرت فرما اور ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ درجات عطا کرنا
( آمین ثم آمین )
یہ الفاظ کہتے ہوئے میں ایک دم خیالات کی دنیا سے واپس آ گئی اور اپنے دکھی دل کو بہلانے کے لئے ٹی وی کا سوئچ آن کر دیا ۔ کافی دن گزر چکے تھے۔ عظمیٰ کلرکہار شفٹ ہو چکی تھی۔ آج کافی دن بعد اس کا فون آیا تو اس  نے بھی اس خوبصورت جگہ کی تعریف کی اور کلرکہار آنے کی دعوت دی ۔ میں تو پہلے ہی منتظر تھی۔ فوراً اس کی دعوت قبول کر لی اور شام کا انتظار کر نے لگی تاکہ میاں دفتر سے گھر آئیں تو انھیں کلرکہار جانے کے لئے تیار کروں۔
عظمیٰ کے میاں میجر سے کرنل پرموٹ ہو چکے تھے۔ مبارکباد دینا تو بنتا تھا۔ وہ میاں صاحب کے بہت اچھے دوست بھی تھے۔ لہٰذا سب نے خوشی خوشی جانے کی تیاری کی اور اگلے ویک اینڈ پر کلرکہارجانے کا پروگرام بنا لیا۔
میں اس سفر سے بہت خوش اور جذباتی ہو رہی تھی۔ آج میں تیس سال بعد دوبارہ اس خوبصورت وادی میں جا رہی تھی۔ جہاں نیلی جھیل تھی۔ مور تھے سفید دربار تھا۔ ابو جی کے ساتھ گزارے ہوئے وقت کی خوبصورت یادیں تھیں۔ آج میں ان ساری یادوں کو تازہ کر نے جا رہی تھی۔
میں سوچ رہی تھی، تیس سال پہلے میں نے اپنے ابو، امی اور بہن بھائیوں کے ساتھ اس جگہ کو کتنا انجو ائے کیا تھا ۔ آج میرے بچے اپنے امی، ابو کے ساتھ جا رہے ہیں ۔ آج میں اپنے بچوں کو بچپن کی وہ ساری باتیں بتاؤں گی اور ساری یادگار جگہیں دکھاؤں گی ۔
میں  نے اپنا سر سیٹ کے پچھلے حصہ پر ٹکا دیا اور آنکھیں بند کر لیں۔ بچپن کا سارا سفر آنکھوں کے آگے پھرنے لگا۔ میں اپنے بچپن میں واپس جا چکی تھی۔ گاڑی چلتی رہی، فاصلے کم ہو تے رہے اور منزل آ گئی۔ مگر میں بے خبر سو رہی تھی۔ ہائی وے سے اُتر کر جب گاڑی مڑنے لگی تو میاں کی آواز  نے مجھےجگا دیا۔
بیگم اٹھ جاؤ، تمہارا کلرکہار آ گیا۔
چند منٹوں کے بعد گاڑی نیلی جھیل والی سٹرک پر آئی تو مجھےایک دم حیر ت کا جھٹکا لگا۔
جھیل جو اَب اپنی موجودہ شکل میں تھی، یہ تیس سال پہلے والی پانی سے بھری ہوئی اور شفاف جھیل نہ رہی تھی۔ جھیل کا پانی پہلے سے بہت کم ہو چکا تھا بلکہ ایک کنارے کی طرف اکٹھا ہو کر ایک بڑے اور گندے تالاب کا منظر پیش کر رہا تھا۔
جھیل کے کناروں پر درخت، پودے اور کائی اس حد تک جمع ہو چکی تھی کہ اس نے سٹرک سے نظر آنے والی ساری جھیل کو اپنے پیچھے چھپا دیا تھا۔ درخت بہت بڑے اور پر انے ہو چکے تھے اور ایک گھنے جنگل کا منظر پیش کر رہے تھے۔ جن کے نظارے میں کوئی حسن اور خوبی نہ تھی۔ میرا پریشان چہرہ اور حیران نظریں وہ پرانی جھیل ڈھونڈ رہی تھیں۔ آج میں  نے گاڑی رکوائی اور نہ ہی گاڑی سے باہر نکل کر سٹرک کے کنارے کھڑے ہو کر جھیل کا نظارہ کیا۔
گاڑی اب دوسری سٹرک پر مڑ گئی جہاں آگے تھانہ کلرکہار کی حدود تھی۔ چھوٹی پہاڑی پر چڑھتا ہوا تھانے تک جانے کا راستہ اور تھانے کی عمارت میں سے اب کچھ بھی نظر نہ آیا ۔ وقت کی دھول، نئی تعمیرات اور گھنے درختوں نے ہر چیز چھپا دی تھی۔
شاید ہر چیز اپنی جگہ پر موجود تو تھی مگر میں ہی پہچان نہیں پا رہی تھی۔ مجھے وہ راستہ ملا اور نہ وہ عمارت، جہاں میرے پیا رے ابو جی رہا کرتے تھے۔ مجھے اپنے ابو کی کمی بہت شدت سے محسوس ہوئی اور میرا دل بجھ کر رہ گیا ۔
پرانے راستے اور سٹرکیں اب تبدیل ہو چکی تھیں۔ سفید دربار کس سڑک پر تھا، مجھےکچھ بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔
گاڑی اب پہاڑوں پر چڑھنے لگی۔ 8 سے 10 منٹ سفر کر نے کے بعد ہم کینٹ کی حدود میں داخل ہوئے ۔ میرے دل پر اُداسی چھا چکی تھی۔ گاڑی اب عظمی ٰکے گھر داخل ہو چکی تھی۔ اس کے گھر والے استقبال کے لیے باہر موجود تھے۔
سب نے پرتپاک استقبال کیا۔ بچے اور بڑے سب ایک دوسرے سے مل کر بہت خوش ہو رہے تھے۔
کھانا کھایا، پارک میں گھو مے، چھوٹا سا کینٹ گھوم پھر کر دیکھا اور خوب باتیں کیں۔ باتیں کرتے کرتے پتا ہی نہ چلا۔ وقت بہت اچھا گزر گیا ۔اب رات بہت ہو چکی تھی۔ میزبان اور مہمان سب ہی تھک چکے تھے لہذا جلدی سونے کے لیے چلے گئے۔
میں بستر پر لیٹی تو دن کے واقعات ایک بار پھر آنکھوں کے سامنے پھرنے لگے۔ میری نیند اڑ چکی تھی۔ کافی دیر جاگنے کے بعد آخر میں نیند کی آغوش میں چلی گئی۔ مگر رات کروٹیں بدلتے ہی گزری۔ خلاف عادت صبح بہت جلد آنکھ کھل گئی۔ شاید نماز کے وقت سے بھی بہت پہلے۔
میرا دل اس بند کمرے اور اندھیرے میں گھبرانے لگا۔ اس بیڈروم میں ایک دروازہ باہر ٹیرس پر بھی کھل رہا تھا۔ میں اٹھی اور ٹیرس پر جا کر کھڑی ہو گئی ۔ باہر صبح کی ہلکی ہلکی روشنی ظاہر ہو رہی تھی۔ اسٹریٹ لائٹس بھی آن تھیں۔ یہ کمرا، جہاں میں باہر ٹیرس پر کھڑی تھی، ایک گیسٹ ہاؤس تھا۔ وہ پہاڑ کے اوپر بلندی پر تھا۔ کینٹ کا رہائشی علاقہ پہاڑ سے نیچے کھلے میدان میں تھا ۔ اس بالکنی سے پورے کینٹ کا نظارہ کیا جا سکتا تھا۔
میں بہت دیر تک کینٹ کی نظر آنے والی ہر چیز کا نظارہ کرتی رہی مگر مجھےکچھ بھی اچھا نہیں لگا۔ بلکہ دل میں یہ خیال آیا کہ ’’ یہاں تو پورے کا پورا کینٹ ہی ان بلند پہاڑوں کی قید میں ہے‘‘َ۔
میرا دل گھبرانے لگا اور میں  نے فوراً ہا تھ بڑھا کر گیلری کی بتی جلانے کی کوشش کی ۔ روشنی ٹیرس اور کمرے، دونوں کو روشن کر رہی تھی۔ میاں صاحب بھی لائٹ آن ہو نے پر اُٹھ چکے تھے۔
مجھے ٹیرس میں کھڑے دیکھ کر با ہر آ گئے اور جاگنے کی وجہ پوچھی۔ میں  نے رات کی بےسکونی کی شکایت کی اور وضو کے لئے باتھ روم میں گھس گئی۔ نماز فجر کے بعد ہم دونوں ٹیرس پر آن کھڑ ے ہوئے۔
میں اب بھی اداس، خاموش اور پریشان تھی۔ مجھےکچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔میں  نے اپنے میاں سے کہا “ہم آج ہی واپس چلے جائیں گے۔ بلکہ آج صبح ہی نا شتے کے فوراً بعد”۔
میاں  نے بڑی حیرت سے میری بات سنی اور بولے، “مگر تمہیں تو بہت شوق تھا اپنی دوست سے ملنے کا، کلرکہار دیکھنےکا۔ تم تو دو دن رہنا چاہتی تھیں۔

میں بولی، ہاں مگر اب نہیں۔ اب میر ا دل یہاں بہت گھبرا رہا ہے”۔
کل شام عظمیٰ اور خاور بھائی سے باتیں کر تے ہوئے انہیں پتا چلا تھا کہ یہاں کے تیتر اور بٹیر اب ختم ہو چکے۔ نایاب نسل کے نیلے مور بھی ختم ہو چکے۔ مجھے ان خوبصورت جنگلی پرندوں اور جانوروں کی نسل کُشی کا سن کر بہت دکھ ہوا۔
میں اپنے ماضی کی حسین یادیں تازہ کر نے یہاں آئی تھی مگر اب یہاں کچھ بھی موجود نہ تھا۔ وقت کی دھول میں ہر چیز چھپ چکی یا ختم ہو چکی تھی۔ اب میں خالی ہاتھ واپس جا رہی تھی۔ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
ناشتے کے بعد واپسی کا سفر کر تے ہوئے میں بالکل خامو ش تھی۔ خشک اور ویران جھیل کے پاس سے گزرتے ہو ئے میری بیٹی نے میری آنکھوں میں آنسو دیکھ لیے تھے۔ وہ بہت حیران ہو کر بولی
ماما! آپ رو کیوں رہی ہیں؟
میرے منہ سے بےاختیار نکلا: “کچھ نہیں بیٹا۔ شاید آپ کے نانا ابو سے ملنے آئی تھی مگر وہ نہیں ملے”۔ بیٹی کو ماں کا جواب سمجھ نہیں آیا۔ وہ حیرت سے ماں کا چہرہ دیکھنے لگی۔
میرے رُکے ہوئے آنسو آنکھوں سے بہنے لگے اور انھیں چھپانے کے لئے میں  نے اپنا منہ کھڑکی کی طرف کر لیا اور باہر دیکھنے لگی ۔

۞۞۞

Email: fouziamalik1971@gmail.com

مصنفہ وقار النساہ گرلز کالج راولپنڈی کی گریجوایٹ ہیں۔ وہ ہسٹری اور ایجوکیشن میں ماسٹرز ڈگری رکھتی ہیں۔ ادب کے ساتھ گہرا لگاؤ ہے اور زندگی میں رونما ہونے والے واقعات کو دلچسپ طریقے سے پیش کرنے کا ہنر جانتی ہیں۔ ایک گھریلو خاتون ہیں اور اپنی فیملی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں بہت احسن انداز سے انجام دے رہی ہیں۔

Previous article
Next article

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles