40 C
Lahore
Saturday, May 25, 2024

Book Store

saaye ka saaya| سائے کا سایہ|Maqbool jahangir

سائے کا سایہ

مقبول جہانگیر

میری بہن لزی شروع ہی سے میرے ساتھ رہ رہی تھی۔ جب مَیں اکیلا تھا،
تو وہ میرے چھوٹے سے مکان کی دیکھ بھال کیا کرتی۔
جب میری شادی ہو گئی، تب بھی وہ اَپنی ہنس مُکھ طبیعت اور خوشگوار عادتوں کے باعث سب کو پیاری لگتی رہی۔
میری بیوی اُسے بےحد چاہتی ہے اور میرے بچے اُس پر جان چھڑکتے ہیں۔
لزی کو اِس گھر میں ہر قسم کی خوشی اور ہر طرح کی نعمت میسّر ہے،
مگر پھر بھی اُس کے چہرے پر حسرتوں کے سائے منڈلاتے رہتے ہیں جنہیں دیکھ کر دل دُکھی ہو جاتا ہے۔

مایوسی کی اِن پرچھائیوں نے کب جنم لیا؟ مجھے اچھی طرح یاد ہے۔
لزی آج سے چند سال پیشتر اپنا منگیتر کھو بیٹھی تھی۔
اُس اندوہناک حادثے نے اُسے مایوسی اور ناامیدی کے دروازے پر لا کھڑا کیا ۔
وُہ آج تک اُس واقعے کو فراموش نہیں کر سکی۔ اُس کا منگیتر جارج میسن میری بیوی کے رشتےداروں میں سے تھا۔ جہاز راں کا بیٹا اور خود بھی نہایت اعلیٰ درجے کا جہاز راں تھا۔
اُس کے باپ نے بحری سفروں میں بڑی شہرت پائی تھی، خاص طور پر قطب جنوبی اور جنوب مغربی راستوں کی دریافت میں اُس کا بڑا حصّہ تھا۔
چنانچہ جن دنوں جارج نے اپنا نام اُس پارٹی میں شمولیت کے لیے لکھوایا، جو گم شدہ جہاز ’’جاگردار‘‘ اور اُس کے عملے کی تلاش میں روانہ ہو رہی تھی، تو مجھے ذرا بھی حیرت نہ ہوئی۔

لزی کو اُس سفر پر جارج کا جانا پسند نہ تھا۔
اُس نے اِس کا اظہار بھی کیا، مگر جارج نے اُسے یہ کہہ کر سمجھا دیا کہ اِس سفر میں بڑے تجربےکار لوگ جا رہے ہیں۔
وُہ بحرِ شمالی کے تمام راستوں اور مشکل مقامات سے بخوبی واقف ہیں، اِس لیے گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔
اَگر وہ اِس مہم سے کامیاب واپس آیا، تو اُسے اتنی ترقی مل جائے گی کہ عام حالت میں شاید دس بارہ برس بعد بھی نہ ملے۔
جارج کی اِن باتوں سے لزی مطمئن تو نہ ہوئی، مگر بحث و تکرار کرنے کی عادت اُس میں نہیں، اِس لیے وہ خاموش رہی، لیکن جب کبھی تنہا بیٹھی ہوتی، تو اُس کے چہرے پر تشویش اور خوف کے دائرے نمودار ہوتے رہتے۔

میرا چھوٹا بھائی ہیری اُن دنوں مصوّری کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔
اب تو وہ خاصا مشہور مصوّر بن گیا ہے۔
اُس کی تصاویر کافی قیمت پاتی ہیں، لیکن اُن دنوں اُسے کوئی نہیں جانتا تھا،
تاہم مصوّروں کے تمام اوصاف اُس میں اُس وقت بھی موجود تھے۔
مثال کے طور پر تصوّرات میں کھوئے رہنا اور خیالوں ہی خیالوں میں رنگین تصویریں مکمل کرنا اُس کی عادت تھی، مگر اُس کے ساتھ ساتھ وہ وَہمی بھی پرلے درجے کا تھا، لیکن صرف اپنے آرٹ کے بارے میں۔

ایک دن ہیری، جارج کے سر ہو گیا کہ وہ اُس کی تصویر بنائے گا۔ جارج نے پہلے تو رسیّاں تڑائیں، پھر ہیری کی ضد کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔
ہیری نے جارج کی تصویر پر اپنا سارا ہُنر صَرف کر دیا اور جب تصویر مکمل ہوئی، تو واقعی بہت خوبصورت تھی۔ جارج کے چہرے کے نقوش کی ہُو بہو نقل تو اُس وقت ہیری کی ناتجربےکاری اور غیرمشاقی کے باعث ممکن نہ تھی، تاہم مشابہت اچھی تھی اور صاف معلوم ہوتا تھا کہ یہ تصویر جارج ہی کی ہے۔
اِس کے علاوہ پس منظر اور جارج کی بحری وردی اتنے گہرے رنگوں کی تھی کہ اُس کے مقابلے میں جارج کا چہرہ خوب نکھرا ہوا لگتا تھا۔
مجموعی طور پر دُور سے دیکھا جائے، تو تصویر میں جارج کا صرف ایک ہاتھ دکھائی دے رہا تھا جو تلوار کے دستے پر ٹِکا ہوا تھا۔ وہ اِس تصویر کو دیکھ کر اکثر کہا کرتا:

’’مَیں تو کسی قدیم جہاز کا کمانڈر لگتا ہوں۔ جدید سامان تو کوئی نظر آتا نہیں جو آج کل کا لگوں۔‘‘

لزی نے بھی اُس تصویر کو بےحد پسند کیا، حالانکہ وہ اَیسی چیزوں کی طرف کم ہی دھیان دیا کرتی تھی۔
ہیری نے اپنا یہ کارنامہ ایک قیمتی فریم میں جڑوا کر ڈرائنگ روم میں آویزاں کر دیا۔

جارج کے سفر پر روانگی کے دن قریب آ رہے تھے اور ’’پائنر‘‘ کا عملہ ایک دوسرے سے متعارف ہو رہا تھا۔
ایک دن جارج بھی کسی کو ساتھ لے کر گھر آیا۔
معلوم ہوا کہ اِس شخص کا نام ونسنٹ ہے اور وُہ جہاز میں عملے کی صحت کا نگران ہے۔ جارج کہنے لگا:

’’کتنے افسوس کی بات ہے کہ اِس غریب کا بھری دنیا میں کوئی دوست نہیں ہے۔
مَیں نے سوچا چند دن مَیں ہی اِسے اپنے ساتھ رکھتا ہوں۔‘‘

ہم نے بھی ونسنٹ کو خوش آمدید کہا، مگر نہ معلوم کیا مجھے دلی طور پر اُس کی آمد اچھی نہیں لگی۔
اُس شخص میں دوسروں کو مرعوب و متاثر کرنے والی کوئی خصوصیت سِرے سے تھی ہی نہیں۔
وہ لمبے قد کا دبلا پتلا آدمی تھا۔
رنگت میں زردی سی گھلی تھی اور چُندھی چندھی آنکھوں کا رنگ سیاہی مائل نیلا تھا۔
مضبوط جبڑے اور چہرے پر ایک قسم کی درشتی سی برستی تھی۔
اِن باتوں کے علاوہ نہ جانے کون سا تاثر تھا کہ مجھے اُس شخص کی موجودگی سے خواہ مخواہ وَحشت ہونے لگی۔

اُس کی حرکتیں بھی نرالی تھیں۔ وہ سارا وَقت لزی کے قریب نہایت بےتکلفی سے بیٹھا رہا،
حالانکہ لزی اور جارج ایک دوسرے کے پاس بیٹھنا چاہ رَہے تھے، مگر اُس شخص نے اُنھیں آپس میں بات کرنے کا موقع ہی نہ دیا۔
عجب بھونڈے انداز میں باتیں کر رہا تھا، بےمقصد اور لایعنی۔

لزی دل ہی دل میں پیچ و تاب کھا رہی تھی اور جارج بھی کچھ بجھا بجھا سا تھا۔
ممکن تھا لزی کوئی سخت بات کہہ دیتی، لیکن وہ وِنسنٹ کو جارج کا دوست سمجھ کر خاموش تھی، تاہم اُس کے چہرے سے ناگواری کے اثرات بھانپ لینا کچھ مشکل نہ تھا۔
ونسنٹ دیر تک بےتُکی ہانکتا رہا۔ اُسے ذرا بھی احساس نہ تھا کہ جن لوگوں کے سامنے وہ بدتمیزی کا مظاہرہ کر رہا ہے، اُن سے اُس کی پہلی بار ہی ملاقات ہوئی ہے، آخر کچھ تو رکھ رکھاؤ سے کام لینا چاہیے۔
وہ بڑا خوش نظر آ رہا تھا۔
صرف ایک مرتبہ اُس نے بےزاری ظاہر کی اور وُہ اُس وقت جب اُس کی نظر جارج کی تصویر پر پڑی۔
تصویر دیکھ کر ایک لمحے کے لیے وہ چپ ہوا، پھر کچھ الفاظ بڑبڑائے جنہیں مَیں سمجھ نہیں سکا۔
مجھے احساس ہوا کہ وہ تصویر کی طرف دیکھنے سے کچھ گریز سا کر رہا ہے۔
اِس کے بعد جب ہم سب کھانا کھانے بیٹھے، تو اتفاق سے اُسے کرسی عین جارج کی تصویر کے مقابل ملی۔
وہ ذرا ہچکچایا، پھر بیٹھ گیا، لیکن فوراً ہی اٹھا اور ناراض ہو کر بولا:

’’بھئی کیا بےہودہ بات ہے۔ مَیں اِس تصویر کے سامنے نہیں بیٹھ سکتا، کوئی اور جگہ دیجیے۔‘‘

مَیں نے کہا ’’ہاں! تصویر اتنی عمدہ نہیں بن سکی۔
آرٹ کا ایسا اعلیٰ نمونہ نہیں ہے، اِس لیے فن کی باریکیوں کو جانچنے والی نگاہوں میں کھٹک سکتی ہے۔‘‘

’’آرٹ اور فن سے کون گدھا واقف ہے!‘‘ اُس نے کہا۔
’’مَیں تو یہ جانتا ہوں کہ یہ اُن تصویروں میں سے ہے جو ہر جگہ آپ کا تعاقب کرے گی،
خواہ کمرے کے کسی بھی گوشے میں چلے جائیے اور میرے دل میں ایسی تصویروں کی بڑی دہشت بیٹھی ہوئی ہے۔‘‘
چند لمحے چپ رہنے کے بعد وہ پھر گویا ہوا:

’’میری ماں نے میرے باپ سے شادی کی، تو اُس کا باپ ناراض ہو گیا تھا،
کیونکہ وہ اِس شادی کے حق میں نہیں تھا۔
چنانچہ جب مَیں پیدا ہوا، تو میری ماں اتنی بیمار ہو گئی کہ بچنے کی کوئی اُمید نہ رہی۔
ہلنا جلنا تو درکنار، بولنے کی بھی سکت نہ تھی۔
جب وہ ذرا بولنے کے قابل ہوئی، تو اُس نے سب سے پہلے جو بات کی،
وہ یہ تھی کہ کمرے سے نانا کی تصویر فوراً ہٹا دی جائے، کیونکہ وہ طرح طرح کے چہرے بنا کر خوف زدہ کرتی ہے۔
اگرچہ یہ باتیں عجیب سی ہیں، لیکن بہرحال مجھے ڈر لگتا ہے اِن سے۔‘‘

جارج نے سوچا تھا کہ ونسنٹ نے یہ بہانہ لزی کے قریب نشست حاصل کرنے کے لیے بنایا ہے،
مگر مجھے یقین ہے کہ یہ بات نہ تھی، کیونکہ ونسنٹ کے چہرے سے واقعی خوف جھلک رہا تھا۔
جب رات کو جارج اور وِنسنٹ واپس جانے لگے، تو مَیں نے یوں ہی مذاق میں جارج سے پوچھا کہ وہ اَپنے دوست کو ہم سے دوبارہ ملانے کب لائے گا۔
اُس کے جواب میں جارج نے کہا تھا کہ اِس بےوقوف کا دل وہیں زیادہ لگتا ہے،
جہاں حسین و جمیل عورتیں موجود ہوں۔
ظاہر ہے اِس گھر میں ایسی کوئی حسین عورت نہیں، لہٰذا یہاں دوبارہ نہ ہی آئے، تو اچھا ہے۔
بات مذاق میں ٹل گئی تھی اور بلاشبہ اُس شخص کو دوبارہ گھر میں لانے کا کوئی ارادہ جارج کے دل میں نہ تھا، مگر وہ بھی پکا ڈھیٹ ثابت ہوا۔

ہم سب سے تعارف تو ہو ہی چکا تھا۔ بعد میں تو یہ کیفیت ہو گئی کہ جارج کم آتا اور یہ حضرت روز ہمارے ہاں دھرے ہوئے ہیں۔
وجہ یہ تھی کہ جہاز بس ایک دو دِن میں روانہ ہونے والا تھا، اِس لیے جارج کو اَپنی ڈیوٹی پر رہنا پڑتا تھا۔
اِس کے برعکس ونسنٹ دواؤں کی خرید کے بہانے خوب آوارگی کرتا اور موقع نکال کر ایک چکّر ہمارے گھر کا ضرور لگاتا۔

لزی کو اُس شخص کا آنا بےحد ناگوار گزرتا تھا۔
جہاں تک ممکن ہوتا، وہ اُس سے دور رَہنے کی کوشش کرتی،
مگر ونسنٹ نے عجیب طریقہ اختیار کیا تھا۔ آتے ہی کہتا:

’’لزی کہاں ہے؟ جارج کی طرف سے ایک پیغام لایا ہوں اُس کے لیے۔‘‘

ہمیں پتا تھا کہ وہ یہ حرکت محض لزی سے ملنے کے لیے کرتا ہے،
مگر بعض اوقات تو وہ وَاقعی کوئی نہ کوئی پیغام لے ہی آتا تھا۔

ونسنٹ سے ہماری آخری ملاقات اُس دن ہوئی جس دن جہاز روانہ ہونے والا تھا۔
اُس کے آنے کے تھوڑی دیر بعد لزی غصّے سے کانپتی ہوئی میرے پاس آئی اور بتایا کہ ونسنٹ نے آخر کمینے پن کا اظہار کر ہی دیا۔
وہ کہتا ہے کہ ’’مَیں تم سے محبت کرتا ہوں۔‘‘
مَیں یہ سن کر حیرت میں رہ گیا، کیونکہ اُس بدمعاش ونسنٹ کو لزی اور جارج کی منگنی کا اچھی طرح علم تھا، لیکن اُس نے بڑے اطمینان سے لزی سے کہا تھا:

’’تمہاری منگنی سے میری محبت میں کوئی فرق نہیں پڑ سکتا نا؟ یہ تو دل کی بات ہے جب آتا ہے، تو یہ تھوڑی دیکھتا ہے کہ جس پر آیا ہے، اُس کی منگنی ہوئی ہے یا نہیں۔
پھر یہ تو سوچو کہ دنیا میں ہزاروں حادثے ہوتے ہیں۔
کیا پتا تمہاری اور جارج کی منگنی بھی کسی ایسے حادثے کا شکار ہو جائے۔
اِس صورت میں تمہیں تو یہ یاد رَہے گا نا کہ کہیں اور بھی کوئی چاہنے والا ہے۔‘‘

لزی یہ سن کر سیخ پا ہو گئی اور اُس نے ونسنٹ کو ڈانٹ کر گھر سے نکال دیا۔
آئندہ اِدھر کا رُخ کرنے سے منع کر دیا۔
اچھا ہوا کہ اُس نے ونسنٹ کی بدتمیزی کی خبر جارج کو نہیں دی، ورنہ وہ اُس کا بھیجا پھاڑ دیتا۔

اُسی شام جارج بھی ہم سے ملنے آیا۔ وہ رَات ہمارے پاس رہا۔
صبح جب جانے لگا، تو مَیں اُسے دروازے تک چھوڑنے گیا۔ واپس اپنے کمرے کی طرف آ رہا تھا، تو لزی پر نظر پڑی۔
وہ صوفے پر بیٹھی رو رَہی تھی۔
اچانک میری نظر غیرارادی طور پر جارج کی تصویر کی طرف اُٹھ گئی اور مَیں ٹھٹھک کر رہ گیا۔
تصویر میں جارج کا چہرہ ہلدی کی مانند زرد دِکھائی دے رہا تھا۔ مَیں نے اور قریب جا کر دیکھا، تو تصویر پر نمی سی تھی۔
مَیں سمجھا ممکن ہے لزی اِس پر جھکی روتی رہی ہو، اور زردی بھی اُسی نمی ہی کی وجہ سے دکھائی دے رہی ہو، لیکن یہ بہت عرصے بعد معلوم ہوا کہ تصویر پر جو نمی موجود تھی، وہ لزی کے آنسو نہیں تھے۔

ہوا یوں کہ ایک مرتبہ مَیں نے لزی کو چڑانے کے لیے ہیری سے کہا تھا کہ جب جارج گیا، تو لزی کس طرح تصویر سامنے رکھ کر روئی تھی۔
لزی نے بڑی حیرت سے میری بات سنی اور یقین دلایا کہ اُس نے تصویر کو جارج کے جانے کے بعد ایک بار بھی ہاتھ نہیں لگایا، مگر سوال یہ تھا کہ تصویر پر پھر نمی کہاں سے آئی؟

’’میرا خیال ہے وارنش پُھول رہی ہو گی۔‘‘
ہیری نے خیال ظاہر کیا۔ ’’آپ کو پتا نہیں چل سکا۔‘‘

بہرحال بات آئی گئی ہو گئی، کیونکہ مَیں خود ہی خاموش ہو گیا تھا۔
مَیں خوب جانتا تھا کہ پُھولی ہوئی وارنش اور نمی میں کتنا فرق ہوتا ہے۔

جارج کا جہاز جا چکا تھا۔ کچھ عرصے بعد لزی کے نام جارج کے دو خط آئے۔
جارج نے لکھا تھا کہ یہ خطوط گھر کی طرف جانے والے شکاریوں کے ہاتھ بھیجنے کا موقع مل گیا ہے۔
آئندہ شاید کوئی خط نہ بھیجا جا سکے، کیونکہ ہم بہت آگے گہرے سمندر میں جا رہے ہیں، جہاں عام جہاز نہیں جاتے۔ مہم پسند لوگ ہی اِدھر کا رُخ کرتے ہیں۔
موسم اچھا ہے، برف پگھلی ہوئی ہے، اِس لیے ہمیں آگے بڑھنے میں زیادہ دُشواری پیش نہیں آ رہی۔
ونسنٹ مزے کر رہا ہے، کیونکہ ابھی تک جہاز کے سبھی لوگ تندرست ہیں۔

ایک سال خاموشی سے رینگ گیا۔ اِس دوران میں جارج کی طرف سے کوئی خط نہ آیا۔
البتہ اخباروں کے ذریعے اتنا پتا چلا کہ جہاز کافی دور نکل گیا ہے۔
برف جمنے کی وجہ سے وہ لوگ جہاز کو چھوڑ کر اسکیمو لوگوں سے پھسلنے والی کشتیاں لے کر سفر کر رہے ہیں۔ اِس خبر سے سب کو اطمینان ہو گیا۔

سردیاں بھی گزر گئیں اور بہار کا خوش گوار موسم آن پہنچا۔ صبحیں بڑی چمکتی ہوتی تھیں اور شامیں بےحد سہانی۔ ایک شام ہم لوگ ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے۔
لزی کوئی کام کر رہی تھی۔ ہیری کھڑکی میں جھکا پُھولوں سے لدے ہوئے درختوں کو دیکھ رہا تھا۔
کمرے کی ساری کھڑکیاں کھلی تھیں، کیونکہ کچھ کچھ گھٹن بھی تھی اور گرمی کے دن آ رہے تھے۔
یکایک کمرے میں شدید ٹھنڈ کی لہر دوڑ گئی۔
یہ موسم کی ٹھنڈ قطعاً نہ تھی۔ ہوا کا جھونکا آتا، تو پردے بھی ہلتے۔
یہ چبھتی ہوئی ٹھنڈ جس کے باعث ہمارے جسم تھرتھر کانپنے لگے، صرف ایک منٹ رہی۔
لزی خوف زدہ لہجے میں بولی:

’’آپ نے محسوس کیا بھائی کہ کس قدر سردی ہو گئی تھی۔‘‘

’’ہاں! مَیں نے محسوس تو کی ہے۔ دراصل ہم اُس موسم کا مزا چکھ رہے ہیں جس سے غریب جارج کو واسطہ پڑ رہا ہو گا۔‘‘

مَیں نے جواب دیا اور اِس کے ساتھ ہی میری نگاہ جارج کی تصویر کی طرف اُٹھ گئی، لیکن مَیں نے جو کچھ دیکھا، وہ میرا خون جما دینے کے لیے کافی تھا۔
مَیں شاید یہ کہنا بھول گیا کہ اُس وقت کمرے میں لیمپ بھی روشن تھا، مگر روشنی تیز ہونے کے بجائے صرف اتنی تھی کہ مَیں آسانی سے کتاب پڑھ سکوں،
ورنہ ابھی سورج غروب ہونے میں کچھ دیر تھی اور دِن کی روشنی باہر باغیچے میں پھیلی ہوئی، اِس لیے اُسے واہمہ بھی نہیں کہا جا سکتا تھا۔

تصویر میں جارج کے سر کی جگہ گوشت پوست سے بےنیاز ایک بھیانک کھوپڑی دکھائی دے رہی تھی۔ خدایا! یہ تبدیلی کیوں کر ہو گئی۔
میری سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ ایسا کیوں ہوا۔ میرا دِل دہشت سے دھڑک رہا تھا اور آنکھیں تصویر پر یوں جمی ہوئی تھیں جیسے پتھرا گئی ہوں۔
مجھے جارج کے گرد موت کے سائے منڈلاتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔
مَیں بمشکل کرسی سے اٹھا اور تصویر کے پاس چلا گیا۔
مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرے اور تصویر کے درمیان دھند سی چھا گئی ہو، پھر یک لخت کھوپڑی غائب ہو گئی اور جارج کا چہرہ نظر آنے لگا۔ میرے منہ سے بےاختیار نکلا:
’’جارج خدا تمہارا نگہبان ہو۔‘‘

لزی نے چونک کر میری طرف دیکھا اور میرے چہرے کی اڑی ہوئی رنگت دیکھ کر بولی:

’’بھیا! کیا ہوا جارج کو؟ تم نے کسی سے کچھ سنا ہے۔ خدا کے لیے مجھے جلدی سے بتا دو کیا بات ہے؟‘‘

مَیں نے اُسے تسلی دیتے ہوئے کہا:

’’کوئی بات نہیں ہے لزی۔ ابھی ٹھنڈ کی لہر آئی تھی نا، مجھے جارج یاد آ گیا کہ بےچارہ کن کن مصیبتوں سے گزر رَہا ہو گا۔‘‘

’’ٹھنڈ کی لہر؟‘‘ ہیری حیران ہو کر بولا۔ ’’جناب کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟ اِس موسم میں ٹھنڈ کدھر سے لگ گئی آپ کو؟‘‘

’’ابھی ابھی مَیں نے اور لزی نے ایک منٹ کے لیے شدید سردی محسوس کی تھی۔ تمہیں پتا نہیں چلا؟‘‘

’’جی نہیں! حالانکہ مَیں کھڑکی سے آدھا باہر لٹکا ہوا تھا۔
اصولاً مجھے سب سے زیادہ ٹھنڈ لگنی چاہیے تھی۔‘‘ ہیری نے مسکرا کر کہا۔

’’ہیری! آج تاریخ کیا ہے؟‘‘ مَیں نے پوچھا۔

’’اگر اخبار پر لکھی ہوئی تاریخ کو آپ درست سمجھیں، تو جان لیجیے کہ آج فروری کے مہینے کی ۲۸ تاریخ اور منگل کا دن ہے۔‘‘ ہیری نے اخبار اُٹھا کر تمسخرانہ انداز میں جواب دیا۔
اُس وقت لزی کسی کام سے باہر چلی گئی تھی۔
مَیں نے ہیری کو تصویر میں تبدیلی کا واقعہ سنایا، تو وہ بھی ششدر رَہ گیا۔
مَیں نے اُسے ہدایت کی کہ اِس کا ذکر لزی سے ہرگز نہ کرے۔
مجھے یقین ہے کہ جارج پر ضرور کوئی مصیبت آئی ہے۔
اتنے میں میری بیوی نے بتایا کہ لزی کی طبیعت اچانک بگڑ گئی ہے۔
غالباً سردی کا اثر ہو گیا ہے اور اَب وہ بستر میں کمبل تلے دبی لیٹی ہے اور پھر بھی کانپ رہی ہے۔
مَیں نے بیوی کو بھی تصویر والا واقعہ سنایا، تو وہ اِتنی دہشت زدہ ہوئی کہ بیان سے باہر ہے۔

اگلے دن لزی کی طبیعت آپ ہی آپ ٹھیک ہو گئی اور سردی کا اثر جاتا رہا۔ کئی ماہ گزر گئے۔
ایک روز مَیں صبح اپنے کمرے میں بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا کہ ہیری نمودار ہوا۔
اُس کی رنگت اڑی ہوئی تھی۔ اُس نے آتے ہی پوچھا ’’لزی کہاں ہے؟‘‘

مَیں نے بتایا۔ وہ اُوپر اپنے کمرے میں ہے۔ ہیری نے اپنی جیب سے ایک کاغذ نکال کر میری طرف بڑھایا۔
’’یہ خط آیا ہے، لیکن خدا کے لیے لزی کو کچھ مت بتانا، ورنہ وہ صدمے کے مارے پاگل ہو جائے گی۔‘‘

ایک لحظے کے لیے مجھے اپنے دل کی دھڑکن بند ہوتی ہوئی محسوس ہوئی۔
مَیں نے لرزتے ہاتھ سے خط لیا اور اُسے دیکھا۔ لکھا تھا:

’’پائنر جہاز کے افسرِ اعلیٰ کو ایک اندوہناک حادثے کی خبر ملی ہے۔
پائنر جہاز والے گم شدہ جہاز کی مہم کے ارکان کو تلاش کرنے میں ناکام رہے۔
اگرچہ اُن کا سراغ لگا لیا تھا، مگر سامانِ خورد و نوش کی کمی کے باعث اور آگے نہ جا سکے۔
مہم کے ارکان واپس آنے کے لیے جہاز پر پہنچے تھے کہ ایک رکن لیفٹیننٹ جارج حادثے کا شکار ہو کر مر گیا۔
معلوم ہوا ہے کہ وہ جہاز کے سرجن ونسنٹ کے ساتھ برفانی ریچھ کا شکار کھیل رہا تھا کہ برف کے ایک عظیم تودے سے گر کر ہلاک ہو گیا۔
مرنے والا بہت خوش خلق اور ہر دِل عزیز انسان تھا۔
اُس کے ساتھی اپنے عزیز دوست کی کمی بری طرح محسوس کر رہے ہیں۔‘‘

الفاظ میری آنکھوں کے سامنے چنگاریاں بن کر اڑنے لگے اور پھر اندھیرا سا چھا گیا۔
ہیری کی رُندھی ہوئی آواز میرے کانوں میں آ رہی تھی:

’’بھیا! شکر ہے آج کے اخباروں میں یہ خبر شائع نہیں ہوئی، لیکن یہ کب تک چُھپی رہے گی۔
خیال رہے کہ کہیں لزی اخبار نہ پڑھ لے۔‘‘

’’مگر ….. یہ خبر چُھپانے سے فائدہ؟‘‘ مَیں نے کہا۔ ’’کبھی نہ کبھی تو لزی کو معلوم ہو ہی جائے گا۔‘‘

’’ٹھیک ہے، لیکن اُسے اچانک پتا نہیں چلنا چاہیے، ورنہ اُس کی حرکتِ قلب بند ہو جائے گی۔
رفتہ رفتہ اُسے بتا دیا جائے گا۔‘‘

مَیں نے اپنی بیوی کو یہ منحوس خبر سنا دی۔
اُس نے بہت ضبط سے کام لیا، لیکن آنسو بغاوت کر کے بہ نکلے۔

’’بےچاری لزی!‘‘ اُس نے سسکیاں بھرتے ہوئے کہا۔
’’وہ اِس خبر کو کیسے سُن سکے گی؟‘‘

اتنے میں دروازہ کھلا اور لزی اندر آ گئی۔ اُس کا چہرہ دُھلے ہوئے کپڑے کی مانند سفید تھا اور ہونٹ کپکپا رہے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اُس نے سب کچھ سُن لیا ہے۔
ہم لپک کر اُس کی طرف بڑھے، لیکن اُس نے ہاتھ کے اشارے سے روکا اور تیزی سے سیڑھیاں چڑھ کر اَپنے کمرے میں چلی گئی۔

ہم اُس کے پیچھے پیچھے گئے۔ دیکھا تو وہ اَپنے کمرے میں فرش پر بےہوش پڑی تھی۔
ہیری بھاگ کر ڈاکٹر کو بلا لایا۔ اُس نے کچھ دوا وَغیرہ دِی، تب ہوش میں آئی، مگر یوں نظر آتا تھا جیسے برسوں کی بیمار ہے۔
کئی ہفتے اُس کی یہی کیفیت رہی۔ نقاہت کے باعث دو قدم چلنا بھی دشوار تھا۔

اِس خبر کے اگلے ہی روز مَیں نے اخبار میں پائنر جہاز کے واپس آنے کی خبر پڑھی۔
اب اِس خبر میں ہماری دلچسپی کی کیا چیز رہ گئی تھی۔
مَیں نے تو لزی کو بھی اِس سے آگاہ کرنا مناسب نہ سمجھا۔
ایک دن دوپہر کو مَیں بیٹھا خط لکھ رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔
مَیں نے سر اٹھایااور غور سے آواز سننے لگا۔ دستک کی آواز مجھے مانوس سی لگی تھی۔
سوچ رہا تھا کہ یہ کون ہو سکتا ہے کہ اچانک میری نظریں جارج کی تصویر پر گئیں۔
مَیں پہلے بتا چکا تھا کہ تصویر میں جارج کا ایک ہاتھ تلوار کے دستے پر تھا، مگر اب جو  دیکھا، تو وہ ہاتھ اُٹھا ہوا تھا۔
شہادت کی انگلی یوں کھڑی تھی جیسے کسی کو خبردار کر رہی ہو۔

مَیں پلک جھپکائے بغیر غور سے دیکھ رہا تھا کہ اتنے میں اُس کے چہرے پر سرخ چمک دار خون کے دو قطرے نمودار ہوئے۔
مَیں اُٹھ کر تصویر کے قریب گیا کہ کہیں نظروں کا دھوکہ نہ ہو، مگر نہیں۔
جارج کی انگلی نہ صرف باقاعدہ اُٹھی ہوئی تھی، بلکہ کینوس پر ایک چھوٹی سی سفید مکڑی بھی چمٹی ہوئی تھی۔
قطرے البتہ خون کے نہیں تھے، کوئی اور مائع چیز تھی۔
تصویر کے لب ساکت تھے، مگر اُس میں بلا کی زندگی محسوس ہوتی تھی۔

پہلے تو مَیں بےحس و حرکت کھڑا رَہا۔
پھر مَیں نے پھرتی سے سفید مکڑی اُتاری اور اَنگیٹھی پر صراحی کے نیچے رکھ دی۔
یہ سب کچھ جیسے غیرارادی طور پر ایک لمحے میں ہو گیا۔
اتنے میں دروازہ کھلا اور نوکر نے کسی ملاقاتی کا کارڈ میرے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا:

’’یہ صاحب پوچھ رہے ہیں کہ آپ اُن سے ملاقات کریں گے یا نہیں؟‘‘
مَیں نے کارڈ پر نظر ڈالی اور غصّے سے خون کَھول اُٹھا۔ کارڈ پر لکھا تھا:

’’سرجن ونسنٹ آف پائنر!‘‘

جی میں آیا کہ اِس شخص کو دھکے دے کر نکلوا دُوں، مگر کچھ سوچ کر اُسے بلوا ہی لیا۔
اُس میں اب زمین و آسمان کا فرق پڑ چکا تھا۔ وہ دَہلیز پر ہی رک گیا اور کہنے لگا:

’’میرے اندر آنے سے پہلے اِس تصویر کو اَچھی طرح ڈھانپ دیجیے۔
آپ کو پتا ہے کہ اِس کا اثر مجھ پر کیسا بھیانک ہوتا ہے اور اَب جارج کی یاد سے یہ تاثر اور شدید ہو جائے گا۔‘‘

مَیں نے ایک تپائی پر سے کپڑا گھسیٹ کر اُس پر ڈال دیا۔ ونسنٹ اندر آ گیا۔
اب صحیح اندازہ ہوا کہ وہ کتنا کمزور ہو چکا ہے۔ اُس کی ہڈیاں نکلی ہوئی تھیں اور آنکھیں اندر کو دَھنس گئی تھیں ….. بےنور کمر خمیدہ اَور سر کے بال تقریباً سفید۔
وہ سہمے ہوئے ہرن کی مانند صوفے پر دبکا بیٹھا تھا اور بار بار خوف زدہ نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھتا تھا۔
مَیں نے اپنے غصّے پر قابو پاتے ہوئے نرم لہجے میں کہا:

’’مسٹر ونسنٹ! مَیں تمہیں دوبارہ صحیح سلامت دیکھ کر خوش تو ہوں، مگر مہربانی سے آئندہ گھر آنے کی کوشش نہ کرنا اور نہ لزی سے ملاقات کا موقع تلاش کرنا، کیونکہ اُس کا دل توڑنے میں تمہاری آخری ملاقات کا بڑا حصّہ ہے۔‘‘

اُس نے ایک سرد آہ بھری اور چپ چاپ بیٹھا رہا۔ پھر مَیں نے اُس سے کہا:
’’کیا مجھے جارج کی موت کے حالات تفصیل سے سنا سکو گے؟‘‘

’’مَیں اور جارج ایک سفید ریچھ کو ہلاک کرنے نکلے تھے۔‘‘
اُس نے ٹھہر ٹھہر کر کہنا شروع کیا۔
’’وہ رِیچھ ایک برفانی تودے پر کھڑا تھا جس پر عمودی ڈھلان کی وجہ سے چڑھنا بہت مشکل تھا۔ مَیں نے جارج کو منع بھی کیا، لیکن اُس نے ایک نہ سنی اور ڈھلان پر چڑھنے کی کوشش کرنے لگا۔
وہ سو فٹ کی بلندی پر پہنچ گیا، تو مَیں نے اُسے پھر واپس آنے کا اشارہ کیا، مگر اُس نے رائفل سے ریچھ پر فائر کیا اور اِس طرح اپنا توازن قائم نہ رکھ سکا اور ڈھلان سے نیچے آن گرا۔
اُس کی موت بڑی دردناک تھی، مگر آخری الفاظ اُس کے یہی تھے کہ لزی کو میرا سلام کہنا اور پھر …..‘‘

یک لخت ونسنٹ کے حلق سے ایک بھیانک چیخ نکلی۔
اُس کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا، صرف آنکھوں کی پتلیاں حرکت کر رہی تھیں۔
مَیں نے دیکھا کہ جارج کی تصویر پر سے کپڑا ہٹ گیا تھا۔
اُس کی آنکھیں کبوتر کے خون کی مانند سرخ تھیں۔
چہرے پر ایسے آثار جیسے وہ بےحد طیش کے عالم میں ہے۔
مَیں نے جلدی سے تصویر پر کپڑا ڈال دیا۔ ونسنٹ چند لمحے بعد ٹھیک ہو گیا۔ کہنے لگا:

’’افسوس کہ مَیں نے خواہ مخواہ آپ کو پریشان کیا۔ اب مَیں اجازت چاہتا ہوں۔‘‘

وہ اَنگیٹھی کا سہارا لے کر کھڑا ہوا۔
اتنے میں اُس کی نظر صراحی کے نیچے بند سفید مکڑی پر جا پڑی۔ بولا:
’’کیا میرے آنے سے پہلے پائنر جہاز کا کوئی اور شخص بھی آپ سے ملنے آیا تھا؟‘‘

’’نہیں! لیکن تم یہ کیوں پوچھتے ہو؟‘‘

’’اِس لیے کہ یہ سفید مکڑی جو یہاں موجود ہے، صرف قطب جنوبی ہی میں پائی جاتی ہے۔
آخر یہ کہاں سے آئی؟‘‘

’’مَیں نے اِسے یہیں کمرے میں سے پکڑا ہے۔‘‘

’’تعجب ہے۔‘‘ وہ بڑبڑایا۔
’’پھر تو چند دن تک خون کی بارش کی خبریں بھی آنے لگیں گی۔‘‘

’’کیا کہتے ہو؟‘‘ مَیں نے سراسیمہ ہو کر پوچھا۔

’’خون کی بارش؟‘‘

وہ پھیکی ہنسی ہنسا۔ ’’ہاں، خون کی بارش! …..
اِس مکڑی کی خاصیت یہ ہے کہ ایک خاص موسم میں اِس کے جسم کے اندر سے سرخ رنگ کے سیّال قطرے نکلتے ہیں۔
بعض اوقات یہ اتنی بڑی تعداد میں نکلتے ہیں جیسے خون کی بارش ہو رہی ہو۔
بہرحال اِس مکڑی کو حفاظت سے رکھنا۔‘‘

اُس کے جانے کے بعد مَیں نے دیکھا کہ جہاں مکڑی بند تھی، وہاں سنگِ مرمر پر سرخ رنگ کا قطرہ پڑا ہوا ہے۔
چنانچہ یہ بات تو سمجھ میں آ گئی کہ جارج کی تصویر پر خون کے جو قطرے نظر آئے تھے، وہ کیا چیز تھی؟ مگر سوال یہ تھا کہ قطب جنوبی کی مکڑی اِس کمرے میں آئی کیسے؟
اِس کے علاوہ ایک اور چیز بھی مَیں نے دیکھی۔
جب ونسنٹ چلا گیا، تو مَیں کھڑکی میں کھڑا اُسے جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا کہ اچانک ایک غیرمعمولی شے نظر آئی۔ مَیں نے جلدی سے ہیری کو بلا کر کہا:

’’ہیری! تم آرٹسٹ ہو۔ ذرا غور سے دیکھ کر بتاؤ، گلی میں جو آدمی جا رہا ہے، اُس میں کوئی غیرمعمولی بات نظر آتی ہے؟‘‘

’’خدا کی پناہ!‘‘ ہیری چلّا اٹھا۔
’’اُس آدمی کے تو دو سائے ہیں ….. دو سائے۔‘‘

مَیں مطمئن ہو گیا، کیونکہ مجھے بھی اُس کے دو ہی سائے دکھائی دیتے تھے۔
اب میری سمجھ میں آیا کہ ونسنٹ بیٹھے بیٹھے خوف زدہ نظروں سے اِدھر اُدھر کیوں تکتا رہتا ہے؟
وہ یہی کسی نادیدہ انسان کا سایہ ہے۔

یکایک ونسنٹ نے گھوم کر ہمیں کھڑکی میں کھڑے دیکھا اور جلدی سے سڑک کے سایہ دار حصّے کی طرف چلا گیا۔

دو دِن بعد مَیں ہیری کے اسٹوڈیو سے واپس آیا، تو دیکھا کہ گھر کا نقشہ ہی بدلا ہوا ہے۔
ہر شخص بدحواس اور پریشان نظر آتا ہے۔ لزی نے سُوجی ہوئی آنکھوں سے آنسو بہاتے ہوئے بتایا کہ وہ ڈرائنگ روم میں بیٹھی تھی کہ اچانک ونسنٹ دروازہ کھول کر اندر آ گیا۔
اُس نے دستک بھی نہیں دی۔ وہ سیدھا لزی کے قریب گیا اور تصویر سے نظر بچانے کی غرض سے اُس نے اُس صوفے کا انتخاب کیا جو تصویر کے عین نیچے رکھا تھا۔
پھر لزی کی خشمگیں نگاہوں کی پروا کیے بغیر اُس نے اپنی محبت کا قصّہ کہنا شروع کر دیا۔
اُس نے یہ بھی کہا کہ جارج نے مرتے وقت التجا کی تھی کہ وہ لزی کا خیال رکھے۔
اُس سے شادی کر کے جارج کی روح کو سکون بخش دے۔

’’مَیں نے مناسب جواب دینے کے لیے ابھی زبان کھولی نہ تھی کہ جارج کی تصویر ایک دھماکے سے ونسنٹ کے سر پر آن گری اور اُس کا سر پھٹ گیا۔‘‘ لزی نے کہا۔
’’وہ بےہوش ہو گیا۔ اب اُوپر کی منزل میں پڑا ہے اور ڈاکٹر اُس کی مرہم پٹی کر رہا ہے۔‘‘

مَیں اوپر پہنچا۔ ونسنٹ میرے بستر پر پڑا تھا اور ڈاکٹر قریب ہی کرسی پر بیٹھا تشویش آمیز نظروں سے ونسنٹ کو گھور رَہا تھا۔
ونسنٹ اُس وقت ہوش میں نہ تھا اور اُس کے منہ سے بےمعنی الفاظ اور جملے نکل رہے تھے۔

’’میرا خیال ہے، اِنھیں دماغی بخار ہو گیا ہے۔‘‘ ڈاکٹر نے کہا۔
’’لیکن سمجھ نہیں آتا کہ اِس معمولی چوٹ سے دماغی بخار کیونکر ہو سکتا ہے۔‘‘

مَیں نے ایک نرس کو ونسنٹ کی تیمارداری کے لیے بلوا لیا۔ وہ اُس کے سرہانے جا بیٹھی۔
ہم سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔
آدھی رات کو یکایک لرزہ چیخوں سے میری آنکھ کھل گئی۔
یہ چیخیں ونسنٹ کے کمرے سے آ رہی تھیں۔ مَیں بدحواس ہو کر اُوپر بھاگا۔
کیا دیکھتا ہوں کہ نرس اور لزی ایک دوسرے سے چمٹی کھڑی ہیں۔
ونسنٹ اپنے بستر پر بیٹھا دیوار کی طرف گھور رَہا ہے۔ چھت پر ہلکی روشنی کا بلب روشن تھا۔
مَیں نے دیوار کی طرف دیکھا اور کلیجا بھی اچھل کر حلق میں آ گیا۔
دیوار پر دو آدمیوں کا سایہ نمودار ہو رہا تھا۔ ایک ونسنٹ کا اور دُوسرا ….. دوسرا غالباً جارج کا …..
دفعتاً ونسنٹ چلّایا:

’’خدا کے لیے مجھے تنہا چھوڑ دو ….. مجھ پر رحم کرو …..
تم جانتے ہو کہ مَیں نے یہ جرم جان بوجھ کر نہیں کیا ….. مَیں جذبات کے باعث اندھا ہو گیا تھا ….. شیطان نے مجھے بہکایا …..
مَیں نے تمہیں دھکا دے کر برفانی تودے سے گرا دِیا …..
اُف ….. میرا خیال تھا کہ لزی مجھ سے شادی کر لے گی …..
لیکن وہ تو مجھ سے بےپناہ نفرت کرتی ہے ….. مجھے معاف کر دو جارج!‘‘

اور اِس سے پہلے کہ مَیں اُسے پکڑوں، وہ بستر سے اٹھا اور کھلی کھڑکی سے نیچے چھلانگ لگا دی۔
اتنی بلندی سے گر کر اُس کی کھوپڑی پھٹ گئی اور بھیجا باہر نکل آیا۔
جارج کی تصویر کے لبوں پر اب ایک پُرسکون مسکراہٹ طاری تھی۔
اُس دن کے بعد سے اُس تصویر میں ہم نے کوئی تبدیلی نہیں پائی۔

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles