32 C
Lahore
Thursday, July 18, 2024

Book Store

zinda murda| زندہ مردہ|Maqbool jahangir

ایک زندہ….. ایک مردہ

مقبول جہانگیر

مجھے وہ بھیانک سماں اب بھی اچھی طرح یاد ہے کہ کس افراتفری کے عالم میں وہاں سے بھاگنا پڑا تھا۔
خدا دُشمن پر بھی ایسا وقت نہ لائے۔ موت کا فرشتہ ہمارے دائیں بائیں اور آگے پیچھے، ہر لمحے ہمیں دبوچ لینے کے لیے حرکت کر رہا تھا۔
ہم گھنی خاردار جھاڑیوں میں سے راستہ بنا کر گزر رَہے تھے اور سروں پر سے گولیاں شائیں شائیں کرتی ہوئی نکل رہی تھیں۔ فائرنگ اتنی تیز تھی کہ ہمارے لیے یہ جاننا دشوار ہو گیا کہ گولیاں کس طرف سے برس رہی ہیں۔ ہمارے سامنے درختوں کا ایک بڑا جھنڈ تھا۔ کوئی ڈیڑھ سو فٹ دور۔
اُسی جُھنڈ میں سے سرخ سرخ، مچلتے ہوئے شعلے ہماری جانب لپکتے، لیکن نزدیک آن کر اپنی موت آپ مر جاتے۔ جھاڑیوں میں سے گزرتے ہوئے ہمارے جسم لہولہان ہو چکے تھے۔
اِتنی مہلت بھی نہ تھی کہ ہم اپنے بازوؤں اور پشت پر چبھے ہوئے کانٹے بھی نکال سکتے۔

دفعتاً میرا ایک ساتھی دبی دبی چیخ مار کر زمین پر گرا۔ اُس کے منہ سے خون جاری تھا۔
اِس سے پیشتر کہ ہم اُس کی کوئی مدد کرتے، وہ دُوسری دنیا کو جا چکا تھا۔
اُس کی بےنور اَدھ کھلی آنکھوں میں خوف کے بجائے حیرت تھی ….. ہم نے اُس کی لاش یونہی پڑی رہنے دی اور آگے بڑھ گئے۔

یکایک مَیں نے درختوں کے اُس عظیم جُھنڈ میں اُسے دیکھ لیا….. وہ ایک لمبا تڑنگا ترک تھا….. اور گھنی جھاڑیوں میں چھپنے کی کوشش کر رہا تھا۔
شدید زخمی ہونے کے باوجود مَیں اپنا جوش دبا نہ سکا اور اُس کی طرف لپکا۔ اچانک ایک گولی میرا دَایاں کان زخمی کرتی ہوئی نکل گئی۔
اُس نے مجھ پر فائر کیا تھا، لیکن مَیں کوئی پروا کیے بغیر اُس کی طرف بڑھتا گیا۔
اب مَیں نے دیکھ لیا تھا کہ وہ اَپنی جان بچانے کے لیے دیوانہ وار اِدھر سے اُدھر بھاگ رہا ہے، مگر جھاڑیاں اُسے کہیں نکلنے کا راستہ نہیں دیتیں۔ مَیں اُس کے نہایت قریب پہنچ گیا۔
وہ بری طرح چیخ رہا تھا۔ شاید موت کے خوف نے اُسے بدحواس کر دیا تھا۔ اُسے اتنا ہوش بھی نہیں تھا کہ وہ جھاڑیوں کو آسانی سے پھلانگ کر دوسری طرف جا سکتا ہے۔

مَیں نے ایک ہی ہلّے میں اُسے نیچے گرا دِیا اور اُس کی رائفل چھین کر پرے پھینک دی۔
پھر میری چمکتی ہوئی سنگین اُس کے سینے میں پوری اتر گئی۔
ترک سپاہی کے حلق سے ایک لرزہ خیز آواز نکلی اور وُہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔

فائرنگ اور تیز ہو گئی ہے۔ مَیں اندھادھند آگے بھاگ رہا ہوں۔ ایک کھلی جگہ پہنچ کر مَیں نے بھی فائر کیے ہیں۔ اچانک نعروں کی آوازیں فضا میں پھیلتی ہیں۔ مَیں اپنے ساتھیوں سے بہت پیچھے رہ گیا ہوں۔
اب میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا ہے۔ کچھ سجھائی نہیں دیتا …..
مَیں ایک جگہ رک کر اپنی آنکھیں زور زور سے مَلتا ہوں۔
نظروں کے سامنے پتنگے سے اڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اِس کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔
اُوپر دیکھتا ہوں،تو نیلا نیلا آسمان اور اُس پر بادلوں کے سفید سفید آوارہ ٹکڑے ضرور نظر آتے ہیں، مگر یہ منظر چند لمحوں کے لیے ہے۔ اِس کے بعد مَیں گہری تاریکی میں ڈوبتا چلا جاتا ہوں۔

خدا بہتر جانتا ہے، کتنی دیر سے یہاں پڑا ہوں اور مجھے کب ہوش آیا ہے۔ مَیں پیٹ کے بَل نرم نرم گھاس پر پڑا ہوں۔ گردن اٹھا کر اردگرد کا جائزہ لیتا ہوں۔
یہ کون سی جگہ ہے؟ مَیں یہاں کیونکر پہنچا؟ کچھ یاد نہیں آتا۔ ایک طرف کئی فٹ لمبی چمکیلی گھاس ہوا کی لہروں پر جھوم رہی ہے۔ گھاس کے ایک تنکے پر چیونٹی رینگ رہی ہے۔
اُس کے قریب ہی گلے سڑے پتّوں کا بڑا سا ڈھیر ہے۔ ….. چند گڑھے ….. جن میں بدبُودار پانی بھرا ہوا ہے۔
مَیں یہ تمام چیزیں ایک آنکھ سے دیکھتا ہوں۔ میری دوسری آنکھ بند ہے۔
بہت سُوجی ہوئی ہے اور اُس میں شدید تکلیف محسوس کر رہا ہوں ….. میرا جسم بالکل شل ہے۔
ہاتھ پیر ہلانے کی کوشش کرتا ہوں، تو دماغ پر جھٹکے سے لگتے ہیں۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میرے جسم میں ہزاروں سوئیاں چبھی ہوئی ہیں۔

وقت چیونٹی کی رفتار سے گزر رَہا ہے۔ دفعتاً میرے سر پر سے چند حسین چڑیاں چہچہاتی ہوئی نکل جاتی ہیں ….. پھر شہد کی ایک مکھّی بھنبھناتی ہوئی میرے نزدیک آتی ہے۔
چند لمحے تک میرے گرد چکّر کاٹنے کے بعد شہد کی مکھّی کسی اور طرف چلی جاتی ہے۔
مَیں بڑی مشکل سے اپنے دائیں بازو کو حرکت دیتا ہوں۔
اُسے زمین پر ٹکا کر اُٹھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ عین اُسی لمحے ایک برقی رو میرے جسم میں دوڑتی ہے …..
مَیں پھر گر پڑتا ہوں ….. سر گھوم رہا ہے۔ آنکھوں کے آگے پھر وہی اندھیرا ….. گھپ اندھیرا …..

جب مَیں دوبارہ ہوش میں آتا ہوں، تو ایک نیا منظر سامنے ہے۔ آسمان ستاروں سے روشن ہے …..
ہزاروں ستارے ہیں جو چمک چمک کر مجھے حیرت سے دیکھ رہے ہیں۔
میرا ذہن اِس وقت بھی ماؤف ہے ….. کچھ یاد نہیں آتا، کہ مَیں یہاں کیوں پڑا ہوں …..
میرا خیمہ کہاں ہے ….. میرے ساتھی کدھر ہیں …..
مَیں اُنھیں پکارنے کی کوشش کرتا ہوں ….. مگر حلق سے آواز نہیں نکلتی …..
مَیں حرکت کرنا چاہتا ہوں، لیکن جسم کے ایک ایک رگ پٹھے سے ناقابلِ برداشت درد کی ٹیسیں اٹھتی ہیں …..
مَیں بری طرح ہانپنے لگتا ہوں ….. پھر آہستہ آہستہ میری یادداشت واپس آنے لگتی ہے۔

آہ ….. مَیں جنگ کرتے ہوئے زخمی ہو گیا ہوں۔ مَیں نے ایک ترک سپاہی کو موت کے گھاٹ اتارا ہے …..
جھاڑیوں میں رینگ رینگ کر میرا جسم خون میں لت پت ہے …..
وردی تار تار ہو چکی ہے اور میری رائفل ….. نہ جانے کہاں ہے …..
مَیں اپنی ٹانگوں کو ہاتھ لگاتا ہوں …..
اُف ….. دونوں ٹانگوں پر خون کے لوتھڑے سے جمے ہوئے ہیں اور شاید اِن زخموں پر چیونٹیاں سی رینگ رہی ہیں۔
میرا جسم تھرتھر کانپنے لگتا ہے …..
کانوں میں سائیں سائیں کی تیز آواز آ رہی ہے۔
یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے میرا جسم بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو کر فضا میں بکھر جائے گا۔

حافظے کی چند گرہیں اور کھلتی ہیں۔ یاد آتا ہے کہ مَیں پہاڑ کی چوٹی ہی پر زخمی ہو کر گر پڑا تھا۔ ہمارے بٹالین کمانڈر نے مسرّت سے چیختے ہوئے کہا تھا:

’’بہادر سپاہیو! ہم وہاں ضرور پہنچیں گے ….. ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔‘‘

کمانڈر کا کہنا صحیح نکلا۔ ہم زبردست جانی قربانی دے کر وہاں پہنچ گئے تھے …..
ہم نے دشمن سے وہ چوکی چھین لی تھی۔ ہمیں شکست ہرگز نہیں ہوئی ….. پھر ….. یہ سب کیا ہے؟
میرے ساتھی میری خبر کیوں نہیں لیتے۔ کیا وہ سب کے سب مارے تو نہیں گئے؟

رات سخت سرد ہے ….. مشرق کی جانب سے چاند آہستہ آہستہ آسمان پر اُٹھ رہا ہے۔ اُس کی سوگوار زرد رَوشنی میرے اردگرد پھیل گئی ہے اور منظر زیادہ وَاضح ہو گیا ہے۔
میرے جسم میں اب کچھ کچھ راحت آ رہی ہے ….. مَیں ہمت کر کے بیٹھ جاتا ہوں، لیکن درد کی شدت اتنی ہے کہ مَیں اپنی چیخیں روک نہیں سکتا۔ میری آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئی ہیں۔
میرے چاروں طرف لمبی لمبی کالی جھاڑیاں سر اُٹھائے کھڑی ہیں۔ بھوتوں کی مانند ….. دہشت سے میرے رونگٹے کھڑے ہو رہے ہیں۔
مَیں اُن جھاڑیوں کے قریب کیسے پہنچ گیا۔ ممکن ہے مجھے یہاں کوئی اور شخص اُٹھا لایا ہو۔
اتنا یاد ہے کہ مَیں میدانِ جنگ میں زخمی ہوا تھا۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مَیں خود گھسٹتا ہوا یہاں تک آ گیا ہوں، لیکن اب ….. اب تو مَیں جنبش کرتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں۔ یقیناً میرا جسم گولیوں سے چھلنی ہو چکا ہے۔

مَیں چپ چاپ پیٹھ کے بَل پڑا آسمان پر چمکتے ہوئے اَن گنت ستاروں کو دیکھ رہا ہوں۔
آہستہ آہستہ اُن کی چمک ماند پڑ رہی ہے۔ منظر دھندلانے لگا ہے۔
مَیں اب چاند کی طرف نظریں جما دیتا ہوں ….. اُف ….. اگر مَیں اپنے گھر میں آرام کرسی پر لیٹ کر چاند کو دیکھتا، تو یہ کتنا پیارا نظر آتا۔

دفعتاً میرے کانوں میں کچھ غیرمانوس سی آوازیں آتی ہیں۔ مَیں اپنے کان اُن آوازوں پر لگا دیتا ہوں …..
ہاں ….. اب معلوم ہوا ….. کوئی اور شخص قریب ہی پڑا ہوا دَرد سے کراہ رَہا ہے۔
وہ بھی میری طرح زخمی ہے۔ شاید اُس کی ٹانگوں پر بھی خون کے لوتھڑے جمع ہوں یا شاید اُس کے پیٹ میں گولیاں لگی ہوں۔
وہ مسلسل چلّا رہا ہے، جیسے جان کنی کے عالم میں ہو۔ اُس کی ہر آواز پر میرا کلیجہ بیٹھنے لگتا ہے …..
مَیں خوب غور سے اپنے اردگرد دَیکھتا ہوں، مگر یہاں تو میرے سوا اَور کوئی نہیں ہے۔
آہ …..! کیا یہ میری اپنی آواز تو نہیں؟
مگر مجھے اِس وقت کوئی تکلیف محسوس نہیں ہو رہی ….. البتہ سر چکرا رَہا ہے۔
اب کیا کروں؟ ہمیشہ کی نیند سو جاؤں۔ ہاں یہی بہتر ہے۔

مَیں اپنے آپ کو موت کے حوالے کر دینا اور ٹانگیں پھیلا کر سکون سے مرنا چاہتا ہوں۔
یکایک مجھ سے چند فٹ کے فاصلے پر ایک بڑی کالی سی شے نظر آتی ہے۔
اُس کے اوپر چند چمک دار چیزیں دھری ہیں۔ غالباً یہ چمک دار چیزیں وردی کے بٹن ہیں۔
پھر مَیں غور سے اُس بڑی کالی شے کو گھورتا ہوں۔ یقیناً میری طرح کوئی آدمی زخمی ہے یا مردہ …..
اور مَیں اِس بھیانک کیفیت میں ڈوب جاتا ہوں کہ دوسرا شخص کون ہے، دوست یا دشمن۔
مجھے سونا نہیں چاہیے۔ ممکن ہے وہ دُشمن ہو اَور بےہوش پڑا ہو۔
جب وہ ہوش میں آئے، تو مجھے مار ڈالے۔ نہیں ہر گز نہیں ….. مَیں دشمن کے ہاتھوں مرنا نہیں چاہتا۔
مجھے اپنے ساتھیوں کا خیال آتا ہے۔
شاید مَیں حد درجہ بڑھی ہوئی نقاہت کے باعث اُن کی آوازیں نہیں سن سکتا۔ وہ سب یہیں ہوں گے۔

’’مدد ….. مدد …..‘‘

میرے حلق سے بھرّائی ہوئی چیخیں برآمد ہوتی ہیں اور فضا کے بےکراں سناٹے میں گم ہو کر رہ جاتی ہیں۔
میری مدد کو کوئی نہ آئے گا۔ ہاں، جھینگروں نے یکایک بولنا شروع کر دیا ہے۔
دھندلا دھندلا چاند اب بالکل میرے سر پر آ گیا ہے اور محبت کی نظروں سے میری طرف دیکھ رہا ہے۔

مَیں پھر اپنے قریب پڑے ہوئے شخص کو دیکھتا ہوں جو نہ جانے کون ہے؟ یہ ضرور کوئی لاش ہے۔
اگر یہ زخمی ہوتا، تو میرے چیخنے چلّانے سے ضرور ہوش میں آ جاتا۔ مجھے اِس احساس سے ایک عجیب سکون مل رہا ہے۔
میری آنکھیں آپ ہی آپ بند ہوئی جاتی ہیں۔ مَیں سوچ رہا ہوں کہ کل ہی تو مَیں زخمی ہوا ہوں۔
ایک دن اور ایک رات۔ پھر ایک دن اور ایک رات اور گزرے گی۔ اُس کے بعد …..
شاید مَیں مر جاؤں گا۔
مگر مجھے ایسی بےہودہ باتیں نہیں سوچنا چاہئیں۔ پھر اخباروں میں کچھ ایسی خبریں چھپیں گی:
’’ہمارا نقصان زیادہ نہیں ہوا۔ چند سپاہی بہادری سے لڑتے ہوئے زخمی ہوئے اور ایک سپاہی جو دراصل رضاکار تھا، ہلاک ہو گیا۔اُس بہادر رَضاکار کا نام آئی واناف تھا۔‘‘
مَیں خود ہی ہنس پڑتا ہوں۔ کیا وہ میرا نام بھی اخباروں میں چھپوا دَیں گے؟
شاید اتنا ہی لکھ دیں کہ ایک رضاکار مارا گیا۔ بالکل اُسی طرح جیسے کوئی معمولی کتا مر جاتا ہے۔

اب مَیں سب کچھ آسانی سے سمجھ رہا ہوں۔ پچھلی باتیں یاد آ رہی ہیں۔
مَیں اُس وقت اپنے شہر کے ایک محلے سے گزر رَہا تھا کہ لوگوں کا ایک بڑا ہجوم نظر آیا۔ مَیں بھی اُس ہجوم میں گھس جاتا ہوں، لوگوں کے درمیان ایک چھوٹے سے کتے کی لاش پڑی ہے۔
بےچارہ کتا ….. ایک تیزرفتار ٹرام کے نیچے آ کر بری طرح کچلا گیا ہے۔ اُس کا جسم قیمہ بن گیا ہے۔
سب لوگ افسوس کی نظروں سے کتے کو دیکھ رہے ہیں۔
اتنے میں ایک شخص آگے بڑھ کر کتے کی گردن پکڑ لیتا ہے اور نہ جانے کہاں لے جاتا ہے۔ پھر لوگ ایک ایک کر کے منتشر ہو جاتے ہیں۔

میری حالت بھی اُسی کتے کی سی ہے، لیکن کیا مجھے بھی کوئی آدمی اٹھا کر لے جائے گا؟
نہیں ….. میری قسمت میں یہی لکھا ہے کہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاؤں۔

ستارے غائب ہو رہے ہیں۔ چاند بھی مغرب میں جھک کر اوجھل ہو گیا ہے۔
مشرق کی جانب آسمان پر ہلکی ہلکی روشنی ہو رہی ہے۔ تھوڑی دیر بعد چمکتا دمکتا سورج نکل آئے گا …..
سورج جو زمین کو زندگی اور مسرّت کا انمول خزانہ بخشتا ہے۔
اُف ….. مسرّت کے گزرے ہوئے لمحوں کی یادیں کتنی تکلیف دہ ہوتی ہیں۔
کاش! مَیں یہ سب باتیں بھول سکتا۔

مَیں وہیں پڑا ہوں۔ سورج آسمان سے آگ برسا رہا ہے۔ میرا جسم تپ کر گرم ہو گیا ہے۔
میرے اردگرد وَہیں بھیانک جھاڑیاں اور گھاس پھوس کے ڈھیر ہیں۔
اب مَیں اُس شخص کو پہچان لیتا ہوں جس کی لاش مجھ سے چند قدم کے فاصلے پر پڑی ہے۔
خدا رَحم کرے۔ یہ تو وہی ترک سپاہی ہے جسے مَیں نے سنگین مار کر ہلاک کیا تھا۔
کتنا قوی ہیکل اور لمبا تڑنگا جوان ہے، مَیں نے اُسے قتل کیا ہے۔

یہ بدنصیب جوان بھلا یہاں کس لیے آیا تھا؟ اور نہ معلوم یہ ہے کون؟ کس ماں کا لال ہے؟
شاید میری ماں کی طرح اُس کی بھی کوئی بوڑھی ماں ہو جو شام ہوتے ہی اپنی جھونپڑی کے دروازے پر آن کر بیٹھ جاتی ہو اور اَپنے بیٹے کی راہ تکتی ہو۔
اپنے پیارے، جان سے زیادہ عزیز بیٹے کی راہ ….. جو ماں کی آرزوؤں اور اُمیدوں کا سہارا ہے۔
کاش! مَیں اِس ترک سپاہی کے ہاتھوں مارا جاتا ….. وہ کتنا خوش نصیب ہے ….. دنیا و مافیہا سے بےخبر۔
اُس کے زخم بھی اب اُسے تکلیف نہیں دے رہے ہیں۔
نہ وہ میری طرح اِس ذہنی عذاب میں مبتلا ہے۔
اُسے بھوک ستاتی ہے نہ پیاس ….. آہنی سنگین اُس کے دل میں یوں اتر گئی ہے جیسے کسی نرم تربوز میں لمبا چاقو اُترا ہو۔
اُس کی وردی میں ایک بڑا سا سوراخ ہے ….. یہ سوراخ کس نے کیا؟ مَیں نے …..

مَیں بےاختیار رَو پڑتا ہوں۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مَیں نے اپنے سگے بھائی کو قتل کر دیا ہے …..
لیکن مَیں ایسا کرنا نہیں چاہتا تھا …..
مجھے تو جنگ کے بھڑکتے ہوئے شعلوں میں زبردستی دھکیل دیا گیا تھا۔
مجھے تو کسی سے عداوت نہ تھی ….. کوئی میرا دشمن نہ تھا۔

جب مَیں وردی پہن کر اَور ہتھیار سنبھال کر میدانِ جنگ میں آیا، تو مَیں نے سوچا تھا کہ بہادری کی موت مروں گا۔ گولیوں کی بارش میں سینہ تان کر کھڑا ہو جاؤں گا۔ کوئی زخم میری پیٹھ پر نہیں لگے گا۔
چنانچہ مَیں آیا اور مَیں نے اپنا سینہ گولیوں کے سامنے تان دیا۔ اُس کا نتیجہ کیا نکلا؟ اور یہ بیچارہ ترک سپاہی ….. یہ بھی میری طرح بالکل بےقصور ہے۔
بھلا اُس کی اور میری کیا دشمنی تھی؟ اُسے تو میرا نام بھی معلوم نہ تھا۔
میرا خیال ہے اُسے بھی دوسرے سپاہیوں کی طرح جہاز میں ٹھونس کر میدانِ جنگ میں دھکیل دیا ہو گا۔
بےچارے نے شاید قسطنطنیہ پہنچنے سے پہلے روس یا بلغاریہ کے بارے میں ایک لفظ بھی نہ سنا ہو گا۔
اُسے حکم دیا گیا ہو گا اور اُس نے گردن جھکا دی ہو گی۔
اگر وہ جنگ میں حصّہ لینے سے انکار کرتا، تب بھی زندہ نہ بچتا۔ شاید اُس کی فوج کا کوئی افسر اُس کی کھوپڑی میں سیسے کی گولی اتار دَیتا۔ وہ ایک لمبے سفر کے بعد ….. تھکا ماندہ یہاں آیا تھا۔
ہم نے اُسے چَین نہ لینے دیا ….. وہ تو اَپنا دفاع کر رہا تھا ….. چونکہ ہم جارحانہ انداز میں آگے بڑھ رہے تھے، اِس لیے وہ گھبرا گیا …..
اُس نے بھاگنے کے بجائے مردانہ وار موت کا مقابلہ کیا۔ شاید وہ مجھے مار دَیتا۔
یہ بات اُس کے لیے بہت آسان تھی۔ مَیں تو اُس کے ایک گھونسے کی ضَرب بھی برداشت نہ کر سکتا تھا۔
نہ جانے میری سنگین اُس کے سینے میں کیونکر اتر گئی۔
اگرچہ مَیں نے اُسے قتل کیا ہے، لیکن میرا اِس میں کچھ زیادہ قصور نہیں ہے۔

سوچتے سوچتے مَیں پاگل ہوا جا رہا ہوں۔ حلق میں کانٹے پڑ رہے ہیں ….. پیاس ….. شدید …..
آج معلوم ہوا کہ پیاس کسے کہتے ہیں۔
کاش! کوئی اِدھر آ نکلے اور مجھے ایک گھونٹ پانی پلا دے۔

ارے! ترک کی لاش کے قریب پانی کی چھاگل پڑی ہے۔
اُس میں ضرور پانی ہو گا۔ مَیں یہ چھاگل اٹھا لوں گا، مگر یہ چند قدم کا فاصلہ کیونکر طے ہو گا …..
مَیں تو ایک انچ بھی سرک نہیں سکتا۔ خیر کچھ بھی ہو …..
مجھے یہ چھاگل حاصل کرنی ہو گی، ہر قیمت پر …..

مَیں رینگ رہا ہوں ….. لیکن میرے کمزور بازو اَور زخمی ٹانگیں حرکت نہیں کرتیں۔
ترک کی لاش مجھ سے صرف چند فٹ کے فاصلے پر ہے، مگر مجھے تو یوں محسوس ہو رہا ہے، جیسے کوسوں میل دور ہو۔
مَیں بری طرح ہانپ رہا ہوں ….. بس کوئی دم میں دم نکلنے والا ہے۔ آگے بڑھنے کی سکت نہیں …..
پانی میرے سامنے ہے، لیکن مَیں پیاسا ہی مروں گا۔
مَیں بری طرح چیختا ہوں ….. چلّاتا ہوں ….. مگر کوئی میری فریاد نہیں سنتا۔
ہمت کر کے پھر آگے سرکتا ہوں۔
پانچ فٹ کا فاصلہ طے کرنے میں پورا دِن نکل گیا ہے۔ میری جان لبوں پر ہے …..
اب میری انگلیاں پانی کی چھاگل کو چھو رہی ہیں۔
آہ ….. اِس میں پانی بھرا ہوا ہے ….. آدھی سے زیاد چھاگل پانی سے بھری ہوئی ہے۔
اب مَیں اطمینان سے مر سکوں گا۔

مَیں کہنیوں کے سہارے زمین سے اٹھا ہوا چھاگل کھولنے کی کوشش کر رہا ہوں۔
دفعتاً میرا سر لاش سے ٹکراتا ہے۔ اُس میں سے تعفّن اٹھ رہا ہے، مگر مجھے اِس کی پروا نہیں ہے۔
مَیں نے چھاگل منہ سے لگا کر کئی گھونٹ پانی پیا ہے۔ اب مَیں چند دن اور زِندہ رَہ سکوں گا۔

مجھے کچھ اور یاد آتا ہے۔ کسی کتاب میں پڑھا تھا کہ انسان غذا کے بغیر ایک ہفتے سے زیادہ زندہ رَہ سکتا ہے بشرطیکہ اُس کے پاس پانی موجود ہو، مگر  ….. اِس سے فائدہ؟ مرنا تو ہر صورت میں ہے۔
میرے ساتھی یہاں سے جا چکے ہیں۔ غالباً کوئی سڑک بھی قریب نہیں ہے۔
کسی کو پتا نہیں کہ یہاں ایک زندہ اَور ایک مردہ پڑا ہے۔
اب یہ ہو گا کہ مجھے مزید کچھ دن کے لیے جان کنی کی تکلیف برداشت کرنی پڑے گی۔
کیا یہ بہتر نہیں کہ مَیں ابھی اپنی زندگی کا خاتمہ کر لوں۔
ترک سپاہی کی رائفل میرے پاس پڑی ہے۔ مجھے صرف ایک انگلی ہلانی پڑے گی، پھر دھماکا ہو گا
اور …..

رائفل کو ہاتھ لگاتے ہی میری انگلیوں میں برقی لہر سی دوڑ جاتی ہے۔
نہیں ….. ہرگز نہیں ….. مَیں ہمت نہیں ہاروں گا ….. آخر وقت تک بچنے کی کوشش کروں گا۔
یقیناً مجھے بچا لیا جائے گا۔ یہ بھی تو ممکن ہے کہ میری ہڈیوں پر ضرب نہ آئی ہو ۔
مَیں چند روز اسپتال میں آرام کر کے گھر چلا جاؤں۔
پھر مَیں اپنا وطن، اپنی پیاری ماں اور حسین بیوی کو دوبارہ دیکھ سکوں گا …..
اُن کا خیال آتے ہی میرے اندر جوش اور وَلولے کی ایک نئی لہر جنم لیتی ہے۔ مَیں زندہ رَہنا چاہتا ہوں۔

میرا سر گھوم رہا ہے ….. اِس کی وجہ شاید وہ بدبُو ہے جو ترک سپاہی کی لاش سے مسلسل اُٹھ رہی ہے۔
اُس کا جسم کالا پڑ گیا ہے۔ کل اُس کی سڑاند اور بڑھ جائے گی …..
اور پرسوں؟ مَیں یہاں صرف اِس لیے پڑا ہوں کہ مجھ میں اپنے جسم کو گھسیٹنے کی طاقت نہیں ہے۔

میرے زخموں میں سے پھر خون رِسنے لگا ہے اور ٹیسیں اٹھ رہی ہیں …..
مگر مجھ میں اب کراہنے کی قوت بھی باقی نہیں۔ دھوپ میرے چہرے کو بری طرح جھلسا رہی ہے۔
کہیں پناہ لینے کی جگہ نہیں ….. سورج نہ جانے کب غروب ہو گا ….. مَیں پھر بےہوش ہو رہا ہوں۔

ایک بار پھر میری آنکھ کھلتی ہے۔ کچھ سکون محسوس کرتا ہوں۔ آسمان پر شوخ تارے چمک رہے ہیں۔
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے۔
مَیں چھاگل میں سے ایک گھونٹ پانی پی کر اپنا حلق تر کرتا ہوں۔ ترک کی لاش میں سے بدبُو برابر اُٹھ رہی ہے۔ مَیں سوچتا ہوں کیا مَیں سردی میں ٹھٹھرتا اور گرمی میں جھلستا ہوا یہاں صرف اِسی لیے آیا تھا کہ اِس بدنصیب ترک کو زندگی کی مسرّتوں سے ہمیشہ کے لیے محروم کر دوں؟
اِسے قتل کر دوں ….. مَیں قاتل ہوں ….. مجھے سزا ملنی چاہیے۔

مَیں نے جب میدانِ جنگ میں جانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا، تو میری بیوی اور میری ماں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھیں۔ اُن کے چہرے زرد پڑ گئے تھے اور ہونٹ لرز رَہے تھے۔
پھر اُن کی خوبصورت آنکھوں سے آنسوؤں کے موتی ٹوٹ کر زمین پر بکھرنے لگے۔
اُنھوں نے ایک لفظ بھی تو نہ کہا۔ کاش! وہ مجھے روک لیتیں ….. محاذ پر نہ جانے دیتیں …..
اُس وقت مجھے بالکل احساس نہ تھا کہ میرے اِس ارادے سے اُن بےگناہ عورتوں پر کیا گزر جائے گی۔
(ہاں! اب یہ احساس بخوبی کر سکتا ہوں۔)

مَیں چپکے چپکے آنسو بہا رہا ہوں۔ ہوا اَور تیز ہو گئی ہے۔ جھاڑیاں زور زور سے ہل رہی ہیں اور گھاس کے ریشے جھوم رہے ہیں ….. ایک پرندہ اَچانک بولنے لگتا ہے …..
میرے علاوہ ایک ذی روح اور اِس جگہ موجود ہے ….. لیکن وہ میرے حال سے بےخبر ہے۔
تاروں کی روشنی پھر ماند پڑتی جا رہی ہے۔
آسمان پر سفید بادلوں کی فوج امڈی چلی آ رہی ہے۔
شاید بارش ہو ….. مگر نہیں ….. تھوڑی دیر بعد بادلوں کی یہ فوج کسی اور طرف نکل جاتی ہے۔
اِکّا دُکّا تارے پھر مجھے گھورنے لگتے ہیں۔ دن کی آمد آمد سے میرا کلیجہ کانپ رہا ہے۔
ایک بار پھر مجھے دھوپ میں تپنے کے لیے تیار رَہنا چاہیے۔

تیسرا دِن بھی شروع ہو گیا ہے ….. نہ جانے ایسے کتنے دن اور ہیں …..
میری کمزوری انتہا کو پہنچ گئی ہے۔
مَیں ترک سپاہی کی سڑتی ہوئی لاش سے دور ہٹنا چاہتا ہوں، مگر حرکت نہیں کر سکتا۔
میرا خیال ہے کہ مجھے ایک سڑی ہوئی لاش بننے میں کچھ زیادہ دَیر نہ لگے گی۔
مَیں سورج کی طرف دیکھتا ہوں۔ میری آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔
یقیناً آج گزشتہ دو دِنوں سے زیادہ گرمی پڑے گی۔
میرے ترک دوست، تمہارا کیا حشر ہو گا؟ تم تو اَب بھی نہایت بھیانک نظر آتے ہو۔
تمہارے بال جھڑ چکے ہیں۔ جلد کا رنگ گہرا سیاہ پڑ گیا ہے۔
سُوجا ہوا چہرہ، کھال جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی …..
زخموں میں کیڑے رینگ رہے ہیں …..
تمہارے جوتوں کے سوراخوں میں سے گوشت اور کھال کے بڑے بڑے ریشے جھانک رہے ہیں۔
کسی ڈوبے ہوئے جانور کو جب دریا سے نکالا جائے، تو اُس کی لاش پھول جاتی ہے۔
یہی حال تمہارا ہے۔ بہرحال تمہارا اِس حالت میں میرے قریب رہنا سخت عذاب ہے۔
مجھے ہر صورت میں یہاں سے پرے ہٹ جانا ہو گا۔
خواہ مَیں ایک گھنٹے میں ایک فٹ کا فاصلہ ہی کیوں نہ طے کروں۔

آسمان سے آگ برس رہی ہے، لیکن مَیں اِس لاش سے دور ہٹنے کی جدوجہد کر رہا ہوں۔

مَیں نے تمام دن وہاں سے پرے ہو جانے کی کوشش میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے جسم کے روئیں روئیں میں سے جان نکل رہی ہے۔
تاہم مَیں آگے بڑھ رہا ہوں۔ چیختا، چلّاتا اور کراہتا ہوا مسلسل آگے رینگ رہا ہوں۔
آخر دن ڈھلے مَیں پانچ فٹ کا فاصلہ طے کر کے اُس مقام پر پہنچ جاتا ہوں جہاں پہلے پہل بےہوش ہو کر گرا تھا۔ مگر اب وہاں بھی زیادہ دَیر تک پڑے رہنا ممکن نہیں رہا۔
ہوا نے رُخ بدل لیا ہے اور بدبُو کے مارے دماغ بیٹھا جاتا ہے۔ خدا رَحم کرے …..
یہ مَیں کس گناہ کی سزا بھگت رہا ہوں۔ پھر خود بخود میری آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی ہے۔

یک لخت میرے اعصاب جاگ اٹھتے ہیں ….. مَیں کچھ آوازیں سن رہا ہوں …..
گھوڑوں کے دوڑنے اور چند آدمیوں کے باتیں کرنے کی آوازیں ….. مَیں چند لمحے غور سے سنتا رہتا ہوں۔
میرے دل کی دھڑکن رفتہ رفتہ تیز ہو رہی ہے۔ یہ تو میرے ساتھیوں کی آوازیں ہیں ….. ہاں ہاں …..
مَیں اِن آوازوں کو خوب پہچانتا ہوں ….. مگر یہ بھی تو ممکن ہے کہ وہاں کوئی نہ ہو۔ صرف میرا وَہم …..

آوازیں کچھ اور قریب آ جاتی ہیں۔ مَیں خوشی سے بےقابو ہو کر چیخنا چاہتا ہوں، لیکن پھر خیال آتا ہے کہ اگر یہ لوگ ترک سپاہی ہوئے، تو کیا مَیں زندہ بچوں گا۔
وہ اَیسے سنگدل تو نہیں ہو سکتے کہ مجھے اِس حالت میں دیکھ کر بھی مار ڈالیں ….. اونہہ …..
دیکھا جائے گا ….. اِس عذاب سے تو ہر صورت میں نجات ملے گی ….. زندگی ….. یا موت …..
کوئی تو آئے گی۔

آوازیں تھم گئی ہیں۔ آہ ….. اب مَیں اُنھیں دیکھ لیتا ہوں۔
وہ سب کے سب روسی سپاہی ہیں ….. اُن کا آدھا دستہ ہے …..
آگے آگے ایک قوی ہیکل سیاہ گھوڑے پر سوار کالی ڈاڑھی والا کوئی افسر ہے …..
وہ نہ جانے کدھر جا رہے ہیں …..

’’رک جاؤ ….. رک جاؤ ….. مدد ….. مدد …..‘‘ مَیں اپنے پھیپھڑوں کی پوری قوت سے چلّاتا ہوں۔
لیکن ….. آہ ….. گھوڑوں کی ٹاپوں اور سپاہیوں کے قہقہوں کے شور میں میری کمزور چیخیں گم ہو جاتی ہیں۔ مجھ میں دوبارہ چیخنے کی ہمت باقی نہیں رہی۔
مَیں اپنا سر زمین پر مارتا ہوں اور سسکیاں لے لے کر رونے لگتا ہوں۔

اِس حرکت سے پانی کی چھاگل الٹ گئی ہے۔ اُس کا ڈھکنا کھل گیا ہے ….. اور پانی جو میری زندگی ہے ….. زندگی کی آس ہے ….. بہ گیا ہے …..
زمین اُسے چوس گئی ہے ….. مَیں جلدی سے چھاگل کو سیدھا کرتا ہوں …..
ابھی ایک آدھ گھونٹ پانی بچ رہا ہے۔

میرا پیٹ اب دھونکنی کی مانند حرکت کر رہا ہے۔ میری آنکھ اَدھ کھلی ہے …..
جسم میں کوئی جنبش نہیں ….. کوئی حرکت نہیں ….. ہوا مسلسل رخ بدل رہی ہے۔
کبھی شام کی تازہ اَور ٹھنڈی ہوا کے جھونکے آتے ہیں اور مجھ سے سرگوشیاں کرتے ہوئے نکل جاتے ہیں اور کبھی بدبُو سے سانس رکنے لگتا ہے۔
ترک سپاہی کی لاش مزید خوفناک ہو گئی ہے۔ اُس کے چہرے کا گوشت ہڈیوں سے الگ ہو چکا ہے۔
اُس کے سفید سفید دانت مجھے صاف دکھائی دے رہے ہیں ….. جیسے کوئی بھوت قہقہے لگا رہا ہو۔
میرے بدن پر کپکپی سی طاری ہو رَہی ہے۔
’’یہ ہے جنگ!‘‘ ….. مَیں بڑبڑاتا ہوں ’’اور یہ ہے اُس کا نتیجہ۔‘‘

چوتھا دن شروع ہو چکا ہے اور سورج کی وہی بےرحم دھوپ جھلسا رہی ہے۔
مَیں پانی کا آخری قطرہ بھی چھاگل میں سے چوس چکا ہوں …..
ہر طرف غیرمعمولی سنّاٹا ہے ….. شاید اب اِدھر سے کوئی نہ گزرے گا …..
ہاں موت کا فرشتہ دبے پاؤں آئے گا اور مجھے دبوچ کر لے جائے گا۔

تب مجھے اپنی ماں یاد آتی ہے ….. ماں ….. جس نے مجھے پالا، پروان چڑھایا اور جو مجھے دیکھ دیکھ کر جیتی ہے۔
جب اُسے پتا چلے گا کہ اُس کا بیٹا جنگ کے بھیانک شعلوں میں جل کر راکھ ہو گیا ہے، تو اُس پر کیا بِیتے گی۔ وہ اَپنے سفید بال نوچے گی اور دِیواروں سے سر ٹکرائے گی۔
رو رَو کر اپنی آنکھیں سُجا لے گی اور شاید اُس دن کو کوسے، جس دن اُس نے مجھے جنا تھا۔
وہ اُن تمام لوگوں کو کوسے گی جنہیں جنگ پسند ہے۔
خدا تمہارا نگہبان ہو میری پیاری امّاں ….. تم میری اِس تکلیف کے بارے میں کچھ نہ جان سکو گی۔

مَیں سورج کی غضب ناک شعاؤں کے گھیرے میں ہوں ….. میرے ہونٹ جل رہے ہیں …..
میرے نزدیک ہی ایک متعفّن لاش پڑی ہے جس کا گوشت آہستہ آہستہ ہڈیوں سے جدا ہو رَہا ہے۔
ہزاروں، لاکھوں، مردہ خور چیونٹیاں اُس سے چمٹی ہوئی ہیں …..
اُن کے لیے یہ لاش بڑی نعمت ہے۔ وہ اَپنا پیٹ بھر رہی ہیں۔ پھر ….. پھر میری باری آئے گی ….. یہی چیونٹیاں مجھے بھی چَٹ کریں گی۔

دن گزر گیا ہے ….. رات بھی کٹ گئی ….. لیکن ہر شے اپنی جگہ پر ہے ….. وہی یکسانیت ….. اُس سے اگلا دِن بھی گزر جاتا ہے …..
اب میرے کانوں میں مسلسل یہی آواز گونج رہی ہے ….. تم مر جاؤ گے، تم مرنے والے ہو …..
روسی سپاہی دور چلے گئے ہیں …..
وہ کبھی لَوٹ کر نہ آئیں گے ….. مَیں گھبرا کر چیخنا چاہتا ہوں۔
عین اُسی لمحے جھاڑیوں میں جنبش ہوتی ہے اور پھر ہمارے کارپول یا کوفلیف کی نیلی آنکھیں مجھے گھورتی ہوئی نظر آتی ہیں۔
وہ منہ پھیر کر نہ جانے کس سے کہتا ہے:

’’ایک گڑھا اِدھر بھی کھود لو ….. یہاں دو لاشیں پڑی ہیں ….. ایک اپنا آدمی ہے اور دُوسرا کوئی ترک!

مَیں بڑی مشکل سے کراہتا ہوں ….. کارپول دوڑتا ہوا میرے نزدیک آتا ہے۔

’’ارے ….. یہ تو زندہ ہے، جلدی سے ڈاکٹر کو بلاؤ۔‘‘

چند لمحوں بعد وہ میرے ہونٹ پانی سے تر کرتے ہیں اور پھر ہر شے نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔
مَیں شاید سٹریچر پر لیٹا ہوا ہوں۔ وہ مجھے جھولا جھلاتے ہوئے لیے جا رہے ہیں۔
مَیں کچھ جاگتا ہوں، کچھ سوتا ….. میرے زخموں میں اب درد کی لہریں نہیں اٹھ رہیں۔

’’رک جاؤ ….. اسٹریچر اوپر اٹھاؤ ….. بس بس ….. میرے ساتھ آؤ۔‘‘

یہ غالباً ڈاکٹر کی آواز ہے۔ وہ لمبا تڑنگا اور نہایت ہمدرد آدمی ہے۔
مَیں مسلسل اُس کا چہرہ دیکھے جا رہا ہوں۔ جس پر کرب کے آثار اُبھر رہے ہیں، وہ مجھے جلد سے جلد ٹھیک کر دینے کے لیے بےچَین ہے۔

’’ڈاکٹر! کیا مَیں مر جاؤں گا؟‘‘ مَیں مدھم آواز میں رُک رُک کر اُس سے پوچھتا ہوں۔

’’نہیں پیارے دوست! تم زندہ رہو گے۔‘‘ وہ محبت سے جواب دیتا ہے۔
’’تم بڑے خوش نصیب ہو کہ تمہاری ہڈیاں محفوظ ہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ تم زبردست قوتِ ارادی کے مالک ہو۔ تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا، تو …..‘‘

یہ سنتے ہی مجھ پر غشی طاری ہو جاتی ہے۔

فوجی اسپتال میں میری آنکھ کھلتی ہے۔ کئی ڈاکٹر اور نرسیں میرے اردگرد کھڑی ہیں۔
مَیں پروفیسر پیٹر برگ کو پہچان لیتا ہوں۔ وہ مجھ پر جھکا ہوا ہے۔ اُس کی انگلیاں خون میں لت پت ہیں۔ وہ مجھے دیکھ کر مسکراتا ہے۔

’’نوجوان! تم بڑے خوش قسمت ہو کہ بچ گئے …..
افسوس صرف اِس بات کا ہے کہ مجھے تمہاری ایک ٹانگ کاٹنی پڑی ہے، لیکن یہ معمولی بات ہے ….. ہے نا؟ کیا اب تم کچھ کہنے کے قابل ہو؟‘‘

مجھ میں بولنے کی قوت دوبارہ آ گئی ہے۔
مَیں اُنھیں تفصیل سے سب کچھ بتا رہا ہوں جو مَیں نے یہاں تک لکھا ہے۔

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles