36 C
Lahore
Saturday, May 25, 2024

Book Store

bhatakti rooh| بھٹکتی روح|Maqbool jahangir

بھٹکتی روح

مقبول جہانگیر

یہ ۱۹۳۲ء کی ایک  صبح کا ذکر ہے۔ چھوٹی سی ڈاڑھی، خاموش کھوئی ہوئی آنکھیں اور چھریرے بدن والا ایک شخص مارٹن اسپتال کے منتظمِ اعلیٰ کے کمرے میں داخل ہوا۔
اُس نے ملازمت کی درخواست پیش کی جس کے ساتھ طب کی نو اعلیٰ ڈگریاں منسلک تھیں۔
اُس کا نام ڈاکٹر وان کوزل تھا۔
اُسے اسپتال میں ایکس رے سپیشلسٹ کے فرائض سونپ دیے گئے۔
آدمی محنتی تھا، جلد ہی اسپتال میں اُس نے اپنے لیے ایک مقام پیدا کر لیا۔
اسپتال کے ادنیٰ سے ادنی ملازموں سے لے کر افسرانِ بالا تک اُسے عزت کی نگاہ سے دیکھتے۔

اُسے اِس طرح کام کرتے ہوئے ایک سال گزر گیا، مگر آج تک کسی کو معلوم نہ ہو سکا تھا کہ وہ کہاں سے آیا ہے۔ وہ تنہا تھا اور اُس نے اسپتال سے کچھ فاصلے پر ایک خوبصورت سا مکان کرائے پر لے رکھا تھا۔ مکان دو حصّوں میں منقسم تھا۔ ایک میں اُس نے اپنی تجربہ گاہ بنا رکھی تھی اور دُوسرا حصّہ رہائش کے لیے مخصوص تھا۔ فارغ وقت میں اپنی تجربہ گاہ میں مختلف قسم کے تجربات کرنے میں گھنٹوں مصروف رہتا۔ بعض اوقات وہ رَات کو سونا بھی بھول جاتا۔ جب اسپتال میں بیکار بیٹھا ہوتا، تو اُس کی آنکھوں میں جھانکنے سے یوں محسوس ہوتا کہ کسی اہم مسئلے پر سوچ بچار کر رہا ہے۔

تنہا بیٹھے ہوئے اُسے کئی دفعہ لوگوں نے بڑبڑاتے ہوئے بھی سنا۔ بیٹھے بیٹھے وہ کبھی ہنسنے لگتا اور ہنستے ہنستے یکبارگی اُس کے چہرے پر غم کے گھنیرے سائے پھیل جاتے۔ لوگوں نے اکثر اوقات اُسے اِس حالت میں دیکھا، مگر جب بھی کوئی اُس کے متعلق دریافت کرتا، تو وہ ایک حسرت بھری مسکراہٹ سے گفتگو کا موضوع بدل دیتا۔

اگست ۱۹۳۲ء کا وہ دِن خاصا گرم تھا۔ صبح ہی سے فضا میں تپش تھی اور سورج دیوتا اپنے سنہری رتھ میں بیٹھا جُوں جُوں نیلے آکاش کی بیکراں وسعتوں میں محوِ خرام ہوا، تُوں تُوں لوگ گرمی کی شدت محسوس کرنے لگے۔ ڈاکٹر وان کوزل حسبِ معمول اپنے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا۔ وہی پُراسرار خاموشی تھی۔ وہ سائنس کے ایک میگزین کی ورق گردانی کر رہا تھا۔ اِسی اثناء میں کسی کے قدموں کی چاپ اُس کے دروازے کے قریب آ کر رک گئی۔ آنے والے نے دروازے کا پردہ اُٹھایا اور کمرے میں داخل ہو گیا۔

وہ ایک لڑکی تھی۔ دنیا و مافیہا سے بےخبر وہ لڑکی کچھ دیر تک ڈاکٹر کو دیکھتی رہی۔ ڈاکٹر بدستور گردن جھکائے رسالہ پڑھنے میں منہمک تھا۔ لڑکی اُس کی میز کے قریب آ کر رکی اور ہاتھ میں پکڑا ہوا کاغذ اُس کے سامنے رکھ دیا۔ ڈاکٹر نے رسالہ ایک طرف رکھتے ہوئے کاغذ پر اچپٹتی سی نظر ڈالی۔ ڈیوٹی پر حاضر ڈاکٹر نے لکھا تھا:

نام: ایلنا میسا

تشخیص: مثبت مرض

’’براہِ مہربانی مریضہ کے سینے کی ایکس رے رپورٹ پیش کی جائے۔‘‘

فارم پڑھنے کے بعد ڈاکٹر نے اپنی اداس آنکھیں اٹھائیں۔ سامنے نوجوان لڑکی کھڑی تھی جس کے چہرے پر بیماری کی وجہ سے زردی جھلک رہی تھی۔ اُس کے بالوں کی ایک شریر لِٹ اُس کی پیشانی کو چوم رہی تھی۔ ڈاکٹر ٹکٹکی باندھے اُسے دیکھتا رہا۔ اُس کی آنکھوں کی چمک بتا رہی تھی کہ جس کے لیے وہ آج تک سرگرداں رہا، وہ اُسے مل گئی ہے۔ بےساختہ اُس کے منہ سے نکلا:

’’تم!‘‘

اُس کی آواز پُراسرار سرگوشی کے سے انداز میں کمرے کی خاموش فضا میں ابھری۔

’’آخر تم واپس آ گئیں نا۔‘‘ ڈاکٹر آہستہ آہستہ اپنی کرسی سے اٹھا، وہ اَب بھی اُس کی طرف پلکیں جھپکائے بغیر دیکھ رہا تھا۔ ’’۱۹۰۹ء کا وہ موسمِ بہار تو تمہیں یاد ہو گا جب تم مجھے ’کمپوس سانٹوس‘ پارک کے اُس سنسان گوشے میں ملی تھیں اور پھر …..‘‘ ڈاکٹر کی آواز شدتِ جذبات سے بھّرا گئی ’’اور پھر ہم نے اکٹھے بیٹھ کر ٹھنڈا ٹھنڈا شربت پیا تھا۔ وہاں سے اُٹھ کر ہم اپنے کمرے …..‘‘

لڑکی اپنی گھبراہٹ کو چھپاتے ہوئے مسکرائی۔ ’’میرا خیال ہے آپ نے غلط اندازہ لگایا ہے ڈاکٹر!‘‘ اُس کی آواز میں جلترنگ کا سا نغمہ تھا۔ ’’۱۹۰۹ء میں مَیں آپ سے کس طرح مل سکتی تھی، اُس وقت تو مَیں پیدا بھی نہیں ہوئی تھی۔‘‘

ڈاکٹر کے ماتھے پر حیرانی اور غصّے کی ملی جُلی شکنیں ابھریں۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اُسے کسی حسین خواب سے جھنجھوڑ کر جگا دیا گیا ہے۔ ناک پر کھسکی ہوئی عینک کے شیشوں میں سے اُس نے لڑکی کو غور سے دیکھا۔ اپنے سر کو معنی خیز انداز میں جنبش دیتے ہوئے وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا۔ یکایک اُس کے ماتھے پر پھیلی ہوئی حیرت اور آنکھوں کی چمک غائب ہو گئی۔ اب اُس کے چہرے پر وہی وقار اَور متانت تھی۔ اُس نے معذرت آمیز لہجے میں کہا:

’’معاف کیجیے، مجھے دھوکا ہوا۔ تم بالکل اُس سے ملتی جلتی ہو۔‘‘ چند لمحوں کے لیے وہ خلا میں گھورتا رہا۔ پھر آہستہ سے بولا ’’عجیب حماقت ہے۔ یہ لڑکی کیا سوچتی ہو گی۔‘‘ اِس احساس نے اُسے جھنجھوڑا اَور اُس نے لڑکی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ’’آپ کپڑے اتار کر پردے کے سامنے آ جائیے۔ مَیں ابھی ایکس رے لیتا ہوں۔‘‘

گلاب کی پنکھڑی ایسے ہونٹوں پر پسینے کے ننھے قطرے موتیوں کی طرح چمکنے لگے۔ اُس کے عارض جن پر بیماری کی وجہ سے زردی کے آثار نمودار تھے، گہرے سرخ ہو گئے تھے۔ وہ بالکل بوکھلا گئی تھی۔ کن اکھیوں سے ڈاکٹر کی طرف دیکھتے ہوئے وہ بلاؤز کے بٹن کھولنے لگی۔ ڈاکٹر نے ایکس رے مشین کے پرزوں کو درست کرتے ہوئے پوچھا:

’’کیا آپ نے کپڑے اتار دِیے ہیں؟‘‘

’’جی ہاں!‘‘ لڑکی کی سہمی ہوئی آواز کمرے کی خاموش فضا میں کپکپائی۔

’’اچھا آپ پردے کے سامنے کھڑی ہو جائیں۔ کندھوں کو جھکا رہنے دیجیے۔ ٹھوڑی کو ذرا اُوپر کیجیے۔‘‘ لڑکی نے اپنے چہرے کو ذرا اُوپر اٹھایا۔ لاکھ چھپانے کے باوجود گھبراہٹ اب بھی اُس کی آنکھوں سے جھلک رہی تھی۔

’’گھبرائیے نہیں۔ اچھا اب ایک لمحے کے لیے سانس روکیے اور حرکت نہ کیجیے گا۔‘‘

دوسرے لمحے مشین کی تیز لہریں لڑکی کے جسم سے گزرتی ہوئی نکل گئیں۔

’’شکریہ!‘‘

ڈاکٹر نے حسبِ معمول کہا۔ لڑکی نے جلدی جلدی کپڑے پہنے اور تیزی سے باہر نکل گئی۔ قدموں کی آواز آہستہ آہستہ دھیمی ہوتی ہوئی بالکل خاموش ہو گئی۔ بڑے بوجھل انداز میں ڈاکٹر اپنی کرسی میں دھنس گیا۔ وہ سوچتا رہا ’’یہ لڑکی کون تھی۔ یقیناً یہ وہی لڑکی تھی جو مجھے ۱۹۰۹ء میں پارک میں ملی تھی۔‘‘ تھوڑی دیر بعد وہ اُٹھا اور اَیکس رے پلیٹ اندھیرے کمرے میں لے گیا۔

جب سکرین دھل کر تیار ہو گئی، تو اُس نے برقی قمقمے کی تیز روشنی میں دیکھا۔ لڑکی کا بایاں پھیپھڑا تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ گول گول چھوٹے بڑے زخموں کے نشان سکرین پر نمایاں دکھائی دے رہے تھے۔ ’’اِسے تپ دق ہے اور وُہ بھی اب تیسرے درجے میں داخل ہو چکی ہے۔ یہ تو مر جائے گی۔‘‘ ڈاکٹر اِس سے آگے کچھ نہ سوچ سکا۔

ڈاکٹر وان کوزل ایکس رے پلیٹ ڈاکٹر انچارج کے پاس خود لے کر گیا۔

’’آئیے، آئیے۔ آپ نے یہ کیوں تکلیف کی۔ چپراسی کے ہاتھ بھیج دی ہوتی۔‘‘ ڈاکٹر انچارج نےآج خلافِ معمول اُسے ایکس رے روم سے باہر دیکھ کر کہا۔

’’بس یونہی!‘‘ وان کوزل نے مسکراتے ہوئے کہا۔ وہ ڈاکٹر انچارج سے باتوں باتوں میں ایلنا کے متعلق پوچھنے لگا۔

ڈاکٹر انچارج نے ایک سرد آہ بھری اور کہنے لگا:

’’ڈاکٹر کوزل! یہ لڑکی بھی بہت بدنصیب ہے۔ مَیں اِس کے باپ کو اُس وقت سے جانتا ہوں جب یہ پیدا بھی نہیں ہوئی تھی۔ اِس کے حریص باپ نے دولت کی خاطر اِس کی شادی ایک بوڑھے اوباش سے کر دی اور اِس غریب نے اُف تک نہ کی۔ اندر ہی اندر کڑھتی رہی۔ شادی کے کچھ عرصے بعد اِس کے ہاں بچہ پیدا ہوا اَور پیدائش کے ایک ہفتے بعد وہ مر گیا۔ یہ بدنصیب لڑکی اپنے بچے کے غم میں ایسی بیمار ہوئی کہ اِسے تپ دق ہو گئی اور آج یہ حالت ہے کہ اِس کا ایک پھیپھڑا بالکل ختم ہو چکا ہے اور دُوسرے میں جراثیم اپنا گھر بنا رہے ہیں۔‘‘ ڈاکٹر نے ایکس رے پلیٹ کو دیکھتے ہوئے کہا۔

ڈاکٹر کوزل خاموشی سے اُٹھ کر اَپنے کمرے میں چلا آیا۔

ڈاکٹر کوزل اب اپنا فارغ وقت اپنی تجربہ گاہ کے بجائے اسپتال کی لائبریری میں گزارتا۔ تپ دق پر جتنی بھی کتابیں میسّر آ سکیں، اُس نے پڑھ ڈالیں اور جب اُن سے بھی اُس کی پیاس نہ بجھی، تو اُس نے قدیم طب کی چھان پھٹک شروع کر دی۔ اُس کی اِس غیرمتوقع تبدیلی کو دیکھ کر اَسپتال کے عملے میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔

ایلنا علاج کے لیے اکثر اسپتال آیا کرتی تھی۔ اُسے دیکھتے ہی کوزل کی ویران آنکھوں میں ایک خاص قسم کی چمک عود کر آتی۔ ایلنا موت سے قریب تر ہوتی جا رہی تھی اور کوزل اپنی پُراسرار محبت کے درد کے ہاتھوں نیم بسمل ہو چکا تھا۔ یہ سب کچھ بہت خاموشی سے ہو رہا تھا۔ کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ڈاکٹر کوزل اِس عمر میں بھی ایک مرنے والی لڑکی کی محبت میں گرفتار ہے۔

ایک دن ڈاکٹر انچارج ایلنا کے باپ سے کہہ رہا تھا ’’دیکھیے، زندگی اور موت تو خدا کے ہاتھ میں ہے، مگر مجھے یہ بتاتے ہوئے دکھ ہوتا ہے کہ ایلنا کو اَب کوئی دوا موت کے منہ سے نہیں بچا سکتی اور اَگر یہ بچ گئی، تو یہ ایک معجزے سے کم نہ ہو گا۔‘‘

وقت گزرتا گیا۔ ایلنا اب اتنی کمزور ہو چکی تھی کہ اُٹھ بھی نہ سکتی تھی۔ وہ ہر وقت کھانستی اور خون تھوکتی رہتی۔ اب اُس نے اسپتال آنا بھی چھوڑ دیا تھا۔

ستمبر کی ایک سرد رَات تھی، رات کے نو بجے تھے۔ ڈاکٹر وان کوزل نے ایلنا کے گھر کے دروازے پر دستک دی۔ لڑکی کے باپ نے دروازہ کھولا۔ وہ ڈاکٹر کوزل کو اِس وقت اپنے گھر کے دروازے پر دیکھ کر سخت حیران ہوا۔

’’آپ یہاں؟‘‘ اُس کے منہ سے بےساختہ نکل گیا۔ سفید سوٹ میں ملبوس، ہاتھ میں پھولوں کا گلدستہ لیے ہوئے ڈاکٹر مسکرا رَہا تھا۔ ایک طویل عرصے کے بعد آج اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی۔

’’میرا خیال ہے آپ ایلنا کے والد ہیں۔‘‘

’’جی ہاں، جی ہاں!‘‘ اُس نے حیرت پر قابو پاتے ہوئے کہا۔

’’مَیں ایلنا سے ملنے آیا ہوں۔ کیا وہ گھر پر ہے؟‘‘

’’ہاں! ایک دو دِن سے اُس کی طبیعت ذرا سنبھلی ہے۔ اب تو وہ چل پھر بھی سکتی ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اُس نے ایلنا کو آواز دی۔

وہ بال بکھرائے اور پیروں میں سلیپر اٹکائے ہوئے آ گئی۔ ’’کیا مَیں اندر آ سکتا ہوں؟‘‘ کوزل نے اُسے دیکھتے ہوئے اداس لہجے میں پوچھا۔

لڑکی نے باپ کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا۔ ’’ہاں، ہاں! ضرور آ سکتے ہیں ڈاکٹر صاحب۔‘‘ لڑکی کے بیمار چہرے پر معصوم مسکراہٹ ابھری۔ لڑکی تیز تیز قدم چلتی ہوئی اپنے کمرے میں گئی، اِدھر اُدھر بکھری ہوئی چیزوں کو جلد قرینے سے رکھا اور کرسیوں کو جھاڑا۔ اتنے میں ڈاکٹر اور اُس کا باپ کمرے میں آ چکے تھے۔

’’آئیے، بیٹھیے۔‘‘ لڑکی نے کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ لڑکی کا والد دَروازے میں کھڑا ہوا تھا۔ اُس کی آنکھوں سے بےچینی اور اِضطراب مترشح تھا۔

’’آپ ایلنا کے علاج کے لیے آئے ہیں ڈاکٹر صاحب؟‘‘ اُس نے پوچھا۔

ڈاکٹر نے اپنی سفید چھوٹی سی ڈاڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ’’نہیں! مَیں تو مزاج پرسی کے لیے آیا تھا۔‘‘

’’ڈاکٹر! شاید آپ کو علم نہیں کہ ایلنا شادی شدہ ہے۔‘‘ لڑکی کے باپ کی آواز میں غصّے کی جھلک تھی۔

کوزل نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا ’’مجھے معلوم ہے۔ مَیں ایلنا کے متعلق اِس سے بھی زیادہ جانتا ہوں۔‘‘ پھر ڈاکٹر نے ایلنا اور اُس کے والد کو تمام کہانی سنائی کہ کس طرح ماضی میں اُسے ایک لڑکی ملی تھی جس کی شکل ایلنا سے ملتی تھی۔ اچانک وہ لڑکی غائب ہو گئی تھی اور اُس کے انتظار میں اُس نے دنیا کی تمام خوشیوں اور مسرّتوں سے کنارہ کر لیا اور آج ایلنا اُس کا روپ دھارے اُس کے سامنے بیٹھی تھی۔

ایلنا اور اُس کا والد یہ سن کر بہت متاثر ہوئے۔ ڈاکٹر نے سسکیاں بھرتے ہوئے کہا ’’بچی! شائد تم محسوس نہ کر سکو کہ میری روح کس طرح اُس کی تلاش میں بھٹک رہی ہے۔‘‘

لڑکی کی آنکھیں نم آلود تھیں۔ اُس نے کہا ’’مَیں جانتی ہوں ڈاکٹر! مجھے احساس ہے۔‘‘

اِس مختصر سی ملاقات کے بعد ڈاکٹر چلا گیا اور پھر وہ روزانہ ایلنا کے علاج کے لیے آنے لگا۔ لڑکی کی صحت ٹھیک ہونے لگی۔ ڈاکٹر کی یاس بھری آنکھوں میں امید کے دیے جگمگا اٹھے، مگر کسی کو کیا معلوم تھا کہ بجھتی ہوئی شمع کی یہ آخری لَو ہے۔

نومبر کی ایک سرد رَات کو اُسے کھانسی کا شدید دورہ پڑا اَور وُہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سو گئی۔ ایلنا کے ماں باپ سر پِیٹ کر رہ گئے، مگر ڈاکٹر کوزل کا غم اُن سے زیادہ تھا۔ اُسے جس روح سے پیار تھا، وہ اُسے ایک دفعہ پھر تنہا چھوڑ کر عالمِ ارواح کی طرف جا چکی تھی۔

تجہیز و تکفین کے وقت وہ بھرے پنڈال میں اٹھ کھڑا ہوا۔ اُس نے سسکیاں بھرتے ہوئے ایک ایک سے فریاد کی کہ میت کی تجہیز و تکفین کا تمام انتظام وہ اَپنی گرہ سے اپنی زیرِ نگرانی کروائے گا۔ اُس کی حسرت بھری فریاد کو کوئی بھی نہ ٹھکرا سکا۔ ٹوٹے ہوئے دل کو تھامے ہوئے ڈاکٹر نے تمام کام اپنی زیرِ نگرانی کروایا اور سہ پہر کے قریب مقامی قبرستان میں صنوبر کے گھنیرے سائے تلے ڈاکٹر نے اپنی ڈبڈباتی آنکھوں اور کانپتے ہاتھوں سے تابوت قبر میں اتارا۔

اِس واقعے کو دو سال کا عرصہ گزر گیا۔ جو لوگ کوزل کو قریب سے جانتے تھے، اُنھوں نے محسوس کیا کہ دو سال کے اِس قلیل عرصے میں ڈاکٹر میں بہت زیادہ تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ وہ گھنٹوں اپنے محبوب کی قبر پر جا کر بیٹھا رہتا۔ عموماً لوگوں نے اُسے قبر سے باتیں کرتے ہوئے سنا۔

’’تم چلی گئیں نا مجھے چھوڑ کر۔‘‘

’’مجھے معلوم ہے تم مجھے تنگ کرنے کے لیے یہاں آ کر چھپ گئی ہو۔‘‘

’’مَیں جلد تمہاری روح کو موت کے پنجے سے چھین لوں گا۔ تم مطلق فکر نہ کرو۔ مَیں ایسی دوائی تیار کر رہا ہوں۔‘‘

قبر کے پاس بیٹھے بیٹھے کبھی وہ معصوم بچوں کی طرح مچلتا، روتا، سسکیاں بھرتا اور کبھی کبھی قہقہے مار کر ہنس پڑتا۔

اب وہ رَات گئے تک بڑے عجیب و غریب تجربات کرتا رہتا۔ اگر اُس کے ساتھی ڈاکٹر پوچھتے ’’حضرت! آج کل کس تھیوری پر تجربات کر رہے ہیں؟‘‘ تو اُس کی ویران آنکھوں میں سوچ کے بادل اور گہرے ہو جاتے۔

’’مَیں، مَیں ایک ایسا تجربہ کر رہا ہوں جو میری زندگی کا ایک عظیم کارنامہ ہو گا۔‘‘ یہ کہتے کہتے وہ دُور خلاؤں میں گھورنے لگتا۔ اُس کے ساتھی ڈاکٹر مسکرا کر چلے جاتے اور اُسے اُن کے جانے کی خبر نہ ہوتی۔

اِن مصروفیات کے باوجود وُہ اَپنے وقت کا ایک حصّہ ایلنا کے ماں باپ کے گھر گزارتا۔ ایک دن اُس نے آنجہانی ایلنا کے باپ سے کہا ’’اگر آپ برا نہ مانیں، تو ایک بات کہوں۔‘‘

’’کہیے!‘‘ ایلنا کے باپ نے اپنی کرسی اُس کے قریب لاتے ہوئے پُراشتیاق لہجے میں کہا۔

’’ایلنا اِس بےرحم آسمان کے سائے تلے سوئی ہوئی ہے۔ برف باری، بارش، دھوپ ہمیشہ اُسے پریشان کرتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر مَیں اُس کی قبر پر ایک حسین سا مقبرہ بنا سکوں، تو مرتے وقت مجھے اطمینان تو ہو گا کہ معصوم ایلنا میرے بعد دھوپ اور برف سے محفوظ رہے گی۔‘‘

ڈاکٹر نے یہ سب کچھ، کچھ اِس دکھ بھرے لہجے میں کہا کہ ایلنا کا باپ انکار نہ کر سکا۔

اور اَب ڈاکٹر کوزل، ڈاکٹر سے معمار بن گیا تھا۔ سب سے پہلے اُس نے قبرستان میں ایک عمدہ سی پُرسکون جگہ قیمتاً خریدی۔ سنگِ مرمر، شیشے اور دُوسرے لوازمات اکٹھے کیے اور اَپنی محبت کا تاج محل تعمیر کرنا شروع کر دیا۔ ایلنا کی تیسری برسی سے پہلے مقبرہ تیار ہو چکا تھا۔

برسی کے دن ایلنا کا پہلی قبر سے تابوت نکالا گیا اور مقبرے میں بنائی ہوئی قبر میں دفن کر دیا گیا۔ مقبرے کی چابی ڈاکٹر نے اپنے پاس رکھی اور ایلنا کے لواحقین نے اِس پر کوئی اعتراض نہ کیا۔

قبرستان کے نگہبان اُس سے کافی مانوس ہو چکے تھے۔ شام سے پہلے وہ آ جاتا۔ خاموشی سے مقبرے کا دروازہ کھول کر اندر چلا جاتا اور دَروازہ بند کر کے بیٹھ جاتا۔ جب رات گئے قبرستان کے نگہبان گشت کے لیے نکلتے، تو اُنھیں مقبرے سے وائلن کے درد بھرے نغمے سنائی دیتے اور اِس دردانگیز موسیقی کے ساتھ ساتھ قبرستان کی پُراسرار خاموشی اور بھیانک ہو جاتی۔

ایک روز پہرےدار رَات گئے قبرستان کے آخری گشت پر نکلا، تو اُسے مقبرے سے یکایک درد بھری موسیقی کی آواز سنائی دی۔ پہلے تو اُس نے خیال کیا کہ ڈاکٹر اندر ہو گا، مگر جب اُس نے دیکھا کہ دروازے پر قفل پڑا ہوا ہے، تو اُس کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ اُس نے ڈرتے ڈرتے دروازے کے سوراخوں میں سے جھانک کر دیکھا۔ اندر اَندھیرا تھا اور موسیقی کی آواز بدستور آ رہی تھی۔ وہ بھاگتا ہوا اَپنے ساتھیوں کے پاس گیا۔ اکھڑے اکھڑے سانس میں اُس نے پُراسرار موسیقی کے متعلق بتایا۔ دوسرے پہرےداروں نے بھی آ کر وہ موسیقی سنی، مگر لاکھ کوششوں کے باجود اُنھیں مقبرے کے اندر کوئی دکھائی نہ دیا۔ صبح ہوتے ہی وہ موسیقی تھم گئی۔ دوسرے دن ڈاکٹر مقبرے پر آیا، تو حیران پریشان پہرےداروں نے اُسے تمام قصّہ سنایا۔

’’ہاں! مَیں نے ایک ریڈیو یہاں لگا دیا ہے اور اُسے مَیں گھر پر بیٹھا ہوا کنٹرول کرتا ہوں۔ جب سوچتا ہوں کہ ایلنا تنہائی محسوس کر رہی ہو گی، تو اُسے درد بھری موسیقی سنا دیتا ہوں۔‘‘ ڈاکٹر نے بڑی بےپروائی سے کہا۔ پہرےداروں کے منہ حیرت سے کھلے کے کھلے رہ گئے۔ ’’تم اِس پر حیران ہو؟‘‘ اُس نے پہرےداروں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’مَیں نے تو ایک ٹیلی فون بھی یہاں لگا دیا ہے، جب اپنے محبوب سے باتیں کرنے کو دل چاہتا ہے، اُس سے باتیں کر لیتا ہوں۔‘‘ اُس نے حسبِ معمول دروازہ کھولا اور مقبرے میں داخل ہو کر پیچھے مڑ کر دیکھا۔ ’’اچھا، اب جاؤ۔ مجھے اُس سے ملنا ہے۔‘‘ اُس نے قبر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ پہرےدار اُلٹے قدموں واپس ہو گئے۔

’’پاگل ہو گیا ہے پاگل۔‘‘ ایک نے بڑے رازدارانہ لہجے میں کہا۔

’’مجھے تو کوئی جادوگر دکھائی دیتا ہے۔‘‘ دوسرے نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔

’’دل کے معاملے کچھ دل والے ہی جان سکتے ہیں یارو۔‘‘ تیسرے نے تان توڑی اور تینوں اپنی اپنی کوٹھڑیوں میں واپس آ گئے۔

۱۹۳۶ء میں موسمِ بہار کی ایک روپہلی صبح کو ’’کی ویسٹ‘‘ کے جنوبی ساحل پر آسمان کی بلندیوں میں ایک تیز روشنی نمودار ہوئی۔ لوگوں نے دیکھا کہ ایک چھوٹا سا پرائیویٹ جہاز نذرِ آتش ہو گیا اور نیچے گر پڑا۔ جہاز اِس بری طرح ٹوٹ پھوٹ چکا تھا کہ اُس کا بننا اب ناممکن تھا۔ جب ڈاکٹر کوزل کو اِس حادثے کی اطلاع ملی، تو وہ جائے حادثہ پر پہنچا اور ٹوٹے ہوئے جہاز کو دیکھ کر اُس کے دل میں ایک عجیب سی امنگ پیدا ہوئی۔ طیارہ خریدنے کی امنگ۔ اُس نے کمپنی سے وہ طیارہ سستے داموں خرید لیا اور اُسے ایک ٹرک کے ذریعے گھسٹواتا ہوا اَسپتال کے احاطے میں لا کھڑا کیا۔ اسپتال کے افسرانِ اعلیٰ نے اِس بات کی اجازت دے دی کہ وہ طیارے کو کچھ دنوں کے لیے احاطے میں کھڑا کر لے۔

نومبر کی ایک رات کو طیارہ غائب ہو گیا۔ ڈاکٹر رات کے وقت اُسے کسی مشین کے ذریعے کھینچتا ہوا اَپنے گھر کے قریب لے آیا تھا۔ اب ڈاکٹر زیادہ وَقت کے لیے طیارے کی مرمت میں مصروف رہتا۔ اُس نے اب قبرستان جانا بھی چھوڑ دیا تھا۔ جب اُس کے احباب کو اِس تبدیلی کی اطلاع ملی، تو اُنھوں نے سکون کا سانس لیا۔ وہ کہنے لگے ’’آخر مردے سے انسان کب تک پیار کر سکتا ہے۔‘‘

لوگ دھیرے دھیرے ماضی کے قصّے بھولنے لگے۔ سات سال کا عرصہ گزر گیا اور کسی کے ذہن میں خیال تک نہ آیا کہ ڈاکٹر کوزل انسانی جرائم کی تاریخ میں نہایت ہی بھیانک جرم کا مرتکب ہو رَہا ہے۔ کسی کو بھی یہ احساس نہ ہوا کہ ڈاکٹر کوزل آج کل اپنی تجربہ گاہ میں مافوق الفطرت قسم کے تجربات کر رہا ہے اور لوگوں کو معلوم بھی نہ ہوتا، اگر اتفاقیہ طور پر ایک گورکن اُس راز کو نہ پا لیتا۔

۵؍اکتوبر ۱۹۴۰ء کا ذکر ہے۔ ایلنا کے مقبرے سے کچھ فاصلے پر ایک قبر کھودی جا رہی تھی۔ ایک گورکن نے دیکھا کہ ایلنا کے سنسان مقبرے کی کھڑکی سے پرندے کبھی اندر جاتے ہیں اور کبھی باہر نکلتے ہیں۔ وہ ٹہلتا ٹہلتا کھڑکی کے پاس گیا اور سوراخ سے اندر جھانک کر دیکھا، تو اُسے عجیب منظر نظر آیا۔ قبر اُکھڑی ہوئی تھی۔ تابوت کا ڈھکنا ایک طرف پڑا ہوا تھا اور تابوت میں سے روشنی غائب تھی۔ جلد ہی قبرستان کی انتظامیہ کو مطلع کیا گیا۔

انتظامیہ کے افسر مسٹر ولیم نے ایلنا کی بڑی بہن مسز میڈینا کو تمام حقائق سے مطلع کیا۔ مسز میڈینا نے اسپتال کے دفتر سے ڈاکٹر کوزل کے گھر کا پتا دریافت کیا اور اُسی رات اُس کے گھر گئی۔ دھڑکتے دل سے اُس نے دروازے پر دستک دی، اندر سے کوئی آواز نہ آئی۔ مسز میڈینا نے دوسری بار دَستک دی، تھوڑی دیر بعد قدموں کی ہلکی سی آہٹ سنائی دی اور دُوسرے لمحے ڈاکٹر کوزل اُس کے سامنے تھا۔

’’ہاں؟‘‘ وان کوزل مکمل سوالیہ نشان بنتے ہوئے بولا۔

مسز میڈینا نے کہا ’’مَیں آپ سے ملنے آئی ہوں۔‘‘ لاکھ کوشش کے باوجود وُہ اَپنی کپکپاہٹ نہ چھپا سکی۔

’’اچھا، پھر؟‘‘ وان کوزل نے کھوئے ہوئے انداز میں پوچھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ کسی بہت اہم مسئلے پر غور کر رہا ہے اور اِس وقت دماغی طور پر حاضر نہیں۔

’’دروازے پر کھڑے کھڑے آپ پوچھ رہے ہیں۔‘‘ اب مسز میڈینا کافی حد تک اپنی گھبراہٹ پر قابو پا چکی تھی۔ اُس نے مسکراتے ہوئے کہا ’’کیا اندر نہ بلائیے گا؟‘‘

اداس آنکھوں میں چمک کی ایک ہلکی سی لہر اُبھری۔ ’’بھئی آ جائیے۔‘‘ اُس نے بوجھل انداز میں کہا اور دَروازے سے ہٹ کر کھڑا ہو گیا۔ مسز میڈینا نے دھڑکتے دل کے ساتھ دروازے کے اندر قدم رکھا، چھوٹا سا صحن عبور کر کے وہ ایک کمرے میں داخل ہوئے۔ یہ ڈاکٹر کی تجربہ گاہ تھی۔ دوائیوں کی عجیب قسم کی بُو نے اُن کا استقبال کیا۔ ڈاکٹر، مسز میڈینا کے آگے آگے سر جھکائے جا رہا تھا۔ تجربہ گاہ سے گزرتے وہ ایک چھوٹے سے تاریک کمرے میں داخل ہوئے۔ اُس کمرے کے دائیں طرف ایک بڑا سا ہال کمرا تھا۔ اُس میں بھی اندھیرا تھا۔ دونوں اُس میں داخل ہو گئے۔ ڈاکٹر نے ہاتھ بڑھا کر سوئچ دبایا۔ کمرہ نیلی روشنی میں عجیب سا دکھائی دینے لگا۔

’’مَیں آپ کے پاس آئی تھی کہ …..‘‘ یہ کہتے ہی مسز میڈینا کی نگاہ سامنے کی دیوار پر لگی ہوئی ایک تصویر پر پڑی۔ یہ ایلنا کی تصویر تھی۔ تصویر کے اردگرد فریم کے ساتھ ساتھ سیاہ بالوں کی لِٹیں لٹک رہی تھی۔ اُس کی زبان ایک دم رک گئی اور اُسے اپنے ہاتھ پیر ٹھنڈے ہوتے ہوئے محسوس ہوئے۔

’’ہاں! تو آپ کیا کہہ رہی تھیں؟‘‘ ڈاکٹر کی آواز گونجی۔

مسز میڈینا نے اپنے حواس پر قابو پاتے ہوئے کہا۔ ’’مَیں آپ کے پاس مقبرے کی چابی لینے آئی تھی۔‘‘

وان کوزل کے ہونٹ دھیرے دھیرے ہلے۔ ’’محترمہ! چابی میری ہے اور ایلنا سراپا میرے لیے تھی۔ اگر مَیں اُس کے مقبرے پر نہیں جاتا، تو اِس کا یہ مطلب نہیں کہ مَیں اُسے بھول گیا ہوں۔ مَیں نہیں چاہتا کہ اُس کے آرام میں خلل آئے۔‘‘

مسز میڈینا نے ہمت سے کام لیتے ہوئے کہا۔ ’’ڈاکٹر! وہ آخر میری بھی بہن تھی۔ مجھے بھی اُس سے کچھ کم پیار نہیں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اُس نے کمرے کا جائزہ لیا۔ اُس کی نظر کمرے کے ایک کونے میں رکھے ہوئے پلنگ پر مرکوز ہو کر رہ گئی۔ پلنگ پر بچھا ہوا بستر اُس نے ایک ہی نگاہ میں پہچان لیا۔ یہ ایلنا کا بستر تھا۔ آج سے نو سال پہلے وہ اِس بستر پر سویا کرتی تھی۔ مسز میڈینا پوری طرح بوکھلا چکی تھی۔ اُس کے ماتھے پر پسینے کے شفاف قطرے نمودار ہو گئے۔

’’ڈاکٹر! اگر تکلیف نہ ہو، تو ایک گلاس پانی لا دیجیے۔ میری طبیعت گھبرا رَہی ہے۔‘‘ اُس نے ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا۔

ڈاکٹر اٹھ کر کمرے سے باہر چلا گیا۔ مسز میڈینا فوراً کرسی سے اٹھی، بستر کے پاس گئی۔ پلنگ دو حصّوں میں منقسم تھا۔ ایک حصّے میں کوئی چادر تانے سو رہا تھا۔ مسز میڈینا نے ذرا سا کپڑا سرکا کر دیکھا اور اُس کے منہ سے بےاختیار چیخ نکل گئی۔ یہ ایلنا کی لاش تھی۔ وہ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر مڑی اور بےتحاشا بھاگنے لگی۔ کمرے کے دروازے پر اُسے ڈاکٹر ملا۔ اُس نے تیزی سے ڈاکٹر کو دھکا دیا۔ وہ لڑکھڑایا اور دِیوار کا سہارا لینے کے باوجود پانی کے گلاس سمیت فرش پر گر پڑا۔ وہ بھاگتی ہوئی سڑک پر آ گئی۔ اب اُس کا رُخ پولیس اسٹیشن کی طرف تھا۔

تھوڑی دیر بعد پولیس انسپکٹر گرفتاری کے وارنٹ لیے ڈاکٹر وان کوزل کے دروازے پر کھڑا تھا۔ پولیس نے تمام گھر کا محاصرہ کر لیا اور اِنسپکٹر کو دیکھتے ہی ڈاکٹر چیخ اٹھا:

’’نہیں! آپ اندر نہیں آ سکتے، آپ کو اندر نہیں آنا چاہیے۔‘‘

انسپکٹر اُسے دھکیلتے ہوئے مکان میں داخل ہو گیا۔ مسز میڈینا اور چند سپاہی اُس کے ساتھ تھے۔ وہ سیدھا ہال کمرے میں گئے۔ ڈاکٹر نے بڑھ کر ایلنا کے مردہ جسم پر سے چادر ہٹا دی۔ ایلنا نے ہلکے نیلے رنگ کا ریشمی گاؤن پہن رکھا تھا اور اُس کے نیچے خوبصورت پھولوں والا پیازی رنگ کا بلاؤز اور گہرے نیلے رنگ کا سکرٹ۔ انسپکٹر نے مڑ کر ڈاکٹر کی طرف دیکھتے ہوئے مخصوص پولیس والوں کے کرخت لہجے میں کہا:

’’یہ کیا شیطانی کھیل کھیلا جا رہا تھا ڈاکٹر؟‘‘

ڈاکٹر نے ایک سرد آہ بھری اور کہنا شروع کیا ’’اتنا شور کیوں مچاتے ہو۔ تم اِس کے آرام میں مخل نہ ہو۔ وہ مری نہیں ہے۔‘‘

’’بکو مت، صحیح صحیح بتاؤ۔‘‘

https://shanurdu.com/saaye-ka-saaya/

’’یہ سوئی ہوئی ہے جناب۔‘‘ ڈاکٹر نے اصرار کرتے ہوئے کہا۔ ’’ابھی ہم لوگوں کو کچھ عرصہ صبر کرنا پڑے گا۔ یہ جلد ہی جاگ اٹھے گی۔ بہ خوش و خرم جس طرح بیماری سے پہلے تھی۔ مَیں آپ سے پیار کی بھیک مانگتا ہوں کہ آپ اِس کی لاش یہاں سے نہ لے جائیے۔‘‘ ڈاکٹر نے شدتِ جذبات سے بےتاب ہو کر انسپکٹر کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔ ڈاکٹر کی التجاؤں کا کوئی اثر نہ ہوا۔ اُسے گرفتار کر کے پولیس سٹیشن بھیج دیا گیا اور لاش کو شناختی مردہ خانے۔

ڈاکٹر نے اپنے بیان میں بتایا کہ ’’غم کے ہاتھوں نڈھال ہو کر اُس نے ایسا طریقہ تلاش کیا کہ ایلنا ہمیشہ اُس کے گھر میں رہ سکے۔‘‘

’’تم نے لاش کس طرح گھر پہنچائی؟‘‘ انسپکٹر نے پوچھا۔

ڈاکٹر نے بتایا کہ ایک رات اُس نے قبر کھودی اور کفن سمیت لاش ایک ٹیکسی میں رکھی۔ ٹیکسی ڈرائیور نیند میں اونگھ رہا تھا۔ اُس نے کچھ بھی محسوس نہ کیا۔ وہ لاش اُس نے اسپتال میں پڑے ہوئے جہاز میں رکھی اور اُسے اُس ٹیکسی سے کھنچواتا ہوا اَپنے گھر لے گیا۔

اُس نے اپنے عجیب و غریب نظریے پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ موت دراصل ایک عارضی غنودگی کا نام ہے اور اِنسان اُس پر قابو پا سکتا ہے۔ اس لیے مَیں ایک ایسی دوا بنانے میں مصروف تھا جو موت کی اُس غنودگی کو دور کر کے انسان کو جگا دے۔

ڈاکٹر پر مقدمہ چلایا گیااور طبی معائنے کے بعد اُسے پاگل قرار دَے دیا گیا۔ معائنہ کرنے والے ڈاکٹر نے رپوٹ میں لکھا تھا کہ ملزم وان کوزل درحقیقت اُس نفسیاتی مرض میں مبتلا ہے جس میں مریض مردے سے پیار کرتا ہے۔

ڈاکٹر کو رہا کر دیا گیا۔ ایلنا کی حنوط شدہ لاش کو کسی نامعلوم قبر میں دفن کر دیا گیا۔ ڈاکٹر کی ویسٹ چھوڑ کر ’’ذیفائر ہلز (فلوریڈا)‘‘ میں سکونت پذیر ہو گیا اور گمنامی کی زندگی گزارتے ہوئے یکم جون ۱۹۵۲ء کو اَپنی محبوبہ کی روح سے جا ملا۔

https://www.telegraph.co.uk/gaming/features/16-scariest-horror-games-ever/

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles