29 C
Lahore
Thursday, July 18, 2024

Book Store

rooh ka waada|روح کا وعدہ|Maqbool Jahangir

روح کا وعدہ

مقبول جہانگیر

خلا کی تسخیر کے اِس عظیم دور میں شاید ہی کوئی اِس کہانی پر یقین کرے گا۔

مگر کہانی ہے بالکل سچ اور بیان ایسے شخص کا جس کی اپنے فن میں، عالمگیر شہرت اور سند مسلّم ہے۔ کون؟ کاؤنٹ لوئیس ہیمن …..
بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرِ نفسیات اور دَست شناس ….. آپ نہیں پہچانے ….. کاؤنٹ لوئیس ہیمن کو آپ کیا، کوئی بھی نہیں پہچانتا۔
البتہ ’’کیرو‘‘ کے نام سے بچہ بچہ آشنا ہے ….. ’’کیرو‘‘ اُسی کاؤنٹ لوئیس ہیمن کا قلمی نام یا تخلص تھا جسے روحانی علوم، فلکیات اور قدیم مصری سحر سے بڑا شغف رہا۔

موصوف نے مشرقی ممالک کی سیاحت میں اپنی زندگی کا بڑا حصّہ صَرف کیا اور بےشمار عجیب عجیب چیزیں اور نوادر جمع کر لیے۔
’’کیرو‘‘ دراصل یونانی لفظ ہے جس کے معنی ہیں انسانی ہاتھ ….. اور چونکہ کاؤنٹ ہیمن دست شناسی کے فن میں بھی ماہر تھا، اِس لیے ’’کیرو‘‘ کے نام سے شہرت پائی۔

پہلی جنگِ عظیم سے قبل کاؤنٹ ہیمن عرف کیرو نے لندن میں کچھ عرصہ قیام کیا۔ وہ اَیسے مکان کی تلاش میں تھا جو لندن جیسے پُرہنگام شہر کے شور و غل سے محفوظ، الگ تھلگ پُرسکون مقام پر ہو۔
چنانچہ مرکزی لندن میں ایک ایسا مکان بالآخر نظر آ ہی گیا۔

یہ درختوں سے گِھری ہوئی، سیاہ دِیواروں کی ایک عظیم اور نہایت قدیم عمارت تھی۔ قریباً دو سو سال پرانی جس کے گرد و پیش خاصا گہرا سناٹا پھیلا ہوا تھا۔
ایسا معلوم ہوتا مکان مدت سے خالی پڑا ہے۔ کاؤنٹ ہیمن کو یہ مکان پسند آیا، مگر سوال یہ تھا کہ اِسے کرائے پر کیونکر حاصل کیا جائے۔
چند لمحے جائزہ لینے کے بعد کاؤنٹ ہیمن نے جھاڑ جھنکار سے بھرا ہوا مختصر قطعۂ زمین طے کیا اور مکان کے صدر دَروازے پر لوہے کی وہ سال خوردہ زنجیر کھینچی جو صدیوں قبل ایسی ہی عمارتوں میں گھنٹی بجانے کے لیے لٹکائی جاتی تھی۔

مکان کے دور اُفتادہ گوشے میں گھنٹی بجنے کی ہلکی سی آواز کاؤنٹ ہیمن کے کانوں تک پہنچی۔ چند لمحوں بعد لکڑی کا دروازہ کھلا اور ایک کہن سال شخص کھڑا دکھائی دیا۔ اُس کے کپڑے خاصے پرانے اور بوسیدہ تھے۔
الجھی ہوئی سفید ڈاڑھی، چہرے پر لاتعداد جُھریاں، پوپلا منہ، آنکھیں زرد اَندر کو دھنسی ہوئیں۔ بڈھے نے گردن اٹھا کر خوب غور سے کاؤنٹ ہیمن کو دیکھا۔ پھر کرخت لہجے میں کہا:

’’کون ہو تم، یہاں کس لیے آئے ہو؟‘‘

کاؤنٹ نے بڑی مشکل سے سمجھایا کہ مکان خالی ہونے کا پتا چلا تھا، اِس لیے اِدھر چلا آیا۔ بڈھا سخت بہرا تھا۔ کاؤنٹ کو چیخ چیخ کر اَپنی بات اُس کے ذہن میں اتارنا پڑی۔ تب اُس نے نفی میں گردن ہلائی اور کہا مکان خالی نہیں اور نہ کرائے پر دیا جا سکتا ہے۔

کاؤنٹ ہیمن مایوس ہو کر واپس جانے کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ اَدھیڑ عمر کی ایک دبلی پتلی عورت نمودار ہوئی۔ معلوم ہوا مالک مکان کی بیوی ہے۔ اُس نے ایک عجیب داستان سنائی۔

’’آپ مکان کرائے پر لینے کو کہتے ہیں۔‘‘ عورت نے کاؤنٹ سے کہا۔
’’مگر یہاں رہنا آپ کے لیے ممکن نہ ہو گا۔ اِس میں آسیب کا دخل ہے۔ راتوں کو کسی کے چلنے پھرنے اور قہقہے لگانے کی آوازیں آتی ہیں۔
میرا خاوند بہرا ہے، اِسے تو کچھ سنائی نہیں دیتا۔ خوف سے کوئی نوکر نہیں ٹھہرتا۔ سب بھاگ گئے، مَیں نے بارہا اپنے شوہر سے کہا یہ مکان چھوڑ دو، بیچ دو، ہم کہیں اور رَہ لیں گے، مگر یہ مانتا نہیں۔
مجھے یقین ہے اگر مَیں اِس مکان میں کچھ عرصہ اور رَہنے پر مجبور کی گئی، تو یہاں سے میرا جنازہ ہی نکلے گا۔‘‘

کاؤنٹ ہیمن نے یہ باتیں دلچسپی سے سنیں، پھر عورت سے پوچھا:
’’آپ سے پہلے یہاں کون رہتا تھا؟‘‘

’’اجی وہی خبیث سنکی بڈھا! میرے شوہر کا چچا تھا رشتے میں۔ سو برس کا ہو کر مرا۔
اُس کے مرنے کے بعد ہی تو یہ مکان میرے شوہر کو ملا۔ مدت دراز تک وہ اَور اُس کا خانساماں اِس مکان میں رہے۔
سنا ہے پچھلے حصّے کے بہت سے کمرے ہمیشہ بند ہی رہتے۔ یہ دونوں آدمی اگلے حصّے کے دو کمروں میں رہا کرتے تھے۔‘‘

کاؤنٹ ہیمن نے تگ و دوکر کے مکان کرائے پر لے لیا اور چابی، بڈھے مالک مکان سے حاصل کر لی۔ اُس کا ارادہ مکان کو اَپنی مرضی کے مطابق آراستہ کرنا تھا۔
مشرقی ممالک، خصوصاً مصر سے جو نوادر اَپنے ساتھ لایا تھا، وہ سب ایک خاص ترتیب سے اِس مکان میں سجانے کا منصوبہ اُس نے بنایا۔

فلاں تابوت اِس جگہ رکھا جائے گا۔ فلاں شہزادی کی ممّی اِس کمرے میں اچھی رہے گی، فلاں بُت مشرقی راہداری کے سرے پر لگنا چاہیے اور فلاں مجسمہ دروازے کے قریب ٹھیک رہے گا وغیرہ وغیرہ۔ اب اُس نے پورے مکان کا گھوم پھر کر جائزہ لیا۔
بےشک عمارت بہت قدیم اور بڑی مضبوط تھی، گو سو برس کی کہن سالی کا اِس نے بظاہر کوئی اثر قبول نہ کیا تھا۔
بس دیواروں پر کہیں کہیں کائی کہ گہری تہیں جم گئی تھیں یا بلند و بالا کھڑکیوں کے اکثر شیشے چٹخ گئے تھے یا کسی دروازے کی چولیں ڈھیلی ہو گئی تھیں اور کھولتے بند کرتے وقت اُن میں عجیب طرح کی آوازیں نکلا کرتیں …..
یا جب مکان کی اونچی چمنیوں کے سوراخوں میں سے تیز ہوا نکلتی، تو سیٹیاں سی بجتیں۔ کاؤنٹ نے خیال کیا شاید یہی آوازیں ہیں جو مکان کے مکینوں کو آسیب اور بھوت بن کر ڈراتی ہیں۔

عمارت کی تمام راہداریاں، زینوں، برآمدوں، غلام گردشوں اور کمروں کا معائنہ کرنے کے بعد کاؤنٹ نے اپنے آپ کو ایک ایسے کمرے میں پایا جس کی فضا پورے مکان کی فضا سے مختلف سی محسوس ہوئی۔
چھوٹا سا یہ کمرہ مکان کی نچلی منزل کے سب سے بوسیدہ اَور پرانے حصّے میں تھا۔ کمرے کے فرش پر دھول کی کئی انچ موٹی تہ جمی تھی اور اُونچی تاریک چھت کے کونوں اور دِیمک زدہ کڑیوں پر مکڑیوں نے مہیب جالے تان دیے تھے۔
دیواروں کا رنگ بالکل سیاہ اور شمالی جانب، ہال کمرے کی طرف کھلنے والی کھڑکیوں کے لمبے بھاری سے پردوں میں جا بجا بڑے بڑے سوراخ دکھائی دیے۔
ایسا معلوم ہوتا اِن پردوں کو کیڑے تیز رفتاری سے ہڑپ کر رہے ہیں۔ کمرے میں کوئی فرنیچر نہ تھا۔ بجھے ہوئے آتش دان میں راکھ کا ڈھیر لگا ہوا تھا
۔ قریب ہی لوہے کی وہ سلاخ پڑی تھی جس سے کبھی انگارے بھڑکانے یا راکھ کریدنے کا کام لیا جاتا ہو گا۔

کاؤنٹ ہیمن کمرے میں داخل ہوا، تو یک لخت نامعلوم دہشت کی لہر اُس کے بدن میں ہلکورے لینے لگی۔ آہستہ آہستہ اُس کے جسم کا ایک ایک رُونگٹا کھڑا ہو گیا۔
اُسے احساس ہوا کوئی اِس کمرے کی فضا میں موجود ہے، مگر کون؟ وہ گھبرا کر جلدی سے باہر نکل آیا اور باہر نکلتے ہی دروازہ بند کر کے مقفل کر دیا۔

تھوڑی دیر تک کاؤنٹ ہیمن پر خوف کی یہ کیفیت طاری رہی۔ پھر اُسے ایک نفسیاتی اثر سمجھ کر نظرانداز کر دیا۔ پوری عمارت کی سجاوٹ اور مرمت کے لیے ایک مدت درکار تھی۔
کاؤنٹ نے رہنے کے لیے چند کمرے ٹھیک ٹھاک کرانے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ متعلقہ افراد کو بلا کر یہ کام سونپ دیا۔ چند دن کے اندر اَندر دو کمرے سامانِ آرائش و زیبائش سے تکمیل پا کر تیار ہو گئے
۔ کاؤنٹ ہیمن اپنے سیکرٹری کے ساتھ اُن کمروں میں منتقل ہو گیا۔
اُس نے طے کیا کہ اوپر کے کام کاج کے لیے کوئی نوکر نہ رکھا جائے۔ کھانے اور ناشتے کا انتظام کسی ہوٹل سے کر لیا جائے گا۔

کاؤنٹ کے سیکرٹری کا نام پرکنس تھا۔ وہ یارک شائر کا رہنے والا، نہایت مضبوط نڈر اَور توانا آدمی تھا۔ مختلف ملکوں میں اپنے آقا کے ساتھ سیاحت پر جا چکا تھا۔
آدمی ہر طرح سے قابلِ اعتماد اَور وَفادار۔ اُس کی موجودگی میں دراصل کسی اور ملازم کی ضرورت بھی نہ تھی۔ وقت پڑتا، تو پرکنس ناشتا اور کھانا پکانا بھی جانتا تھا۔

کاؤنٹ نے اِس قدیم عمارت میں منتقل ہونے کے بعد برقی روشنی کا اہتمام کیا۔ یہاں کے ماحول میں پھیلی ہوئی صدیوں پرانی تاریکی دور ہوئی۔
فضا کسی قدر صاف صاف اور بےخطر محسوس ہونے لگی۔ یہ الگ بات کہ برقی روشنی کے باعث بعض اشیا کے سائے مزید بھیانک دکھائی دینے لگے۔

پہلے روز کاؤنٹ اور اُس کا سیکرٹری، پرکنس رات دس بجے کھانے سے فارغ ہو کر مکان میں واپس آئے۔ کاؤنٹ کی ہدایت پر پرکنس نے ایک ایک دروازے اور ایک ایک کھڑی کا معائنہ کیا کہ کھلی تو نہیں رہ گئی۔ اِس طرف سے مطمئن ہونے کے بعد برقی روشنی بند کر دی اور شب باشی کے لیے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔

کاؤنٹ ہیمن سونے سے پہلے کچھ نہ کچھ پڑھنے کا عادی تھا۔ چنانچہ بستر پر لیٹ کر اُس نے برقی لیمپ روشن کیا اور علمِ فلکیات سے متعلق ایک قدیم مخطوطے کا مطالعہ کرنے لگا۔
گرد و پیش میں مکمل خاموشی طاری تھی۔ لندن کی ٹریفک کا شور اِس حصّے میں بمشکل پہنچ پاتا۔ کاؤنٹ کے تھکے ہوئے اعصاب کے لیے یہ خاموشی بہترین نعمت تھی۔ اُس نے عجیب طرح کی ٹھنڈک اپنے دل و دماغ میں محسوس کی، اِس احساس کے ساتھ ہی اُسے نیند آنے لگی۔
اُس نے برقی لیمپ بجھا دیا اور چِت لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں۔ ابھی وہ غنودگی کی انتہائی حدوں تک نہ پہنچا تھا اور صریحاً اپنے ہوش و حواس میں تھا کہ مکان کی اندرونی خاموشی کو چیرتی ہوئی ایک انوکھی آواز اُس کے کانوں میں آئی، وہ ہڑبڑا کر اُٹھا اور اُس آواز پر کان لگا دیے۔

چند لمحوں بعد یہ آواز دوبارہ آئی جیسے کسی نے کمرے کا دروازہ چپکے سے کھولا اور بند کر دیا ہو۔ یہ آواز نچلی منزل میں مکان کے دور اُفتادہ اَور سب سے قدیم حصّے کی جانب سے آئی تھی۔
کاؤنٹ کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔
وہ اِسی طرح بےحس و حرکت اپنے بستر پر بیٹھا رہا۔ دفعتاً اُس نے نچلی منزل کے فرش پر کسی کو چلتے ہوئے سنا۔ اُس کے نپے تلے قدموں کی آواز برابر کاؤنٹ کے کانوں میں آ رہی تھی۔

پھر یہ آواز اور قریب آئی ….. اور قریب ….. اِس کے بعد اُس نامعلوم ہستی نے سیڑھیوں پر قدم رکھا ….. آواز اور نمایاں ہو گئی ….. کوئی آہستہ آہستہ قدم دھرتا ہوا اُوپر آ رہا تھا۔
دوسری منزل میں ….. اِس طرف جدھر کاؤنٹ ہیمن اور اُس کے سیکرٹری پرکنس کی خواب گاہیں تھیں ….. دہشت سے کاؤنٹ کی پیشانی پر پسینے کے قطرے پھوٹنے لگے اورہاتھوں کی کپکپاہٹ ناقابلِ برداشت ہو گئی۔
اُس نے پرکنس کو آواز دینے کے لیے اپنے ہونٹوں کو جنبش دی، مگر حلق سے آواز ہی نہ نکلی ….. بڑی مشکل سے خود پر قابو پایا۔
برقی لیمپ روشن کرنے کے لیے سوئچ کی طرف ہاتھ بڑھایا، مگر یہ سوچ کر رک گیا کہ آنے والے کی توجہ روشنی کی طرف مبذول ہو جائے گی۔
وہ رَوشنی جو دروازے کی نچلی درز میں نظر آ سکتی ہے۔

قدموں کی پُراسرار آواز ٹھیک اُس کے کمرے کے دروازے پر یک لخت پہنچ کر تھم گئی۔ کاؤنٹ نے خیال کیا، بدروحیں یا آسیب اِس طرح نہیں آیا کرتے۔ یہ ضرور کوئی آدمی ہے …..
اِس دنیا کی مخلوق۔ یہ خیال آتے ہی وہ بستر سے اٹھا اور آتش دان کے قریب رکھی ہوئی لوہے کی وزنی سلاخ ہاتھ میں پکڑ لی۔
مگر یہ کیا؟ دروازہ ہلا، پہلے آہستہ سے، پھر بہت زور سے ….. جیسے زلزلہ آ یا ہو ….. اُس کے بعد گہری خاموشی ….. جس میں کاؤنٹ اپنے دل کے دھڑکنے کی صدا بخوبی سن سکتا تھا …..
پھر یک لخت دستک کی آواز ….. جیسے کوئی آہستہ آہستہ دروازے کو تھپتھپا رہا ہو ….. کاؤنٹ کے ہاتھوں میں جمی ہوئی لوہے کی وزنی سلاخ رعشے کے باعث چھوٹ کر قالین پر گر گئی۔

اب بڈھے مالک مکان کی بیوی سے سنی ہوئی باتیں اُسے یاد آئیں ….. کیا واقعی یہ کوئی آسیب ہے؟ اُس نے جلدی سے برقی لیمپ کا بٹن دبا دیا۔ کمرے میں تیز روشنی پھیل گئی …..
روشنی نے اُس کے قلب کو کسی قدر تقویت دی۔ اُس نے قالین پر گری ہوئی لوہے کی سلاخ دوبارہ اُٹھائی اور ایک عزم کے ساتھ دروازے کی طرف بڑھا۔
اُس کی زندگی میں بےشمار اَیسے واقعات آئے تھے بلکہ اِس سے بھی زیادہ حیرت انگیز، پُراسرار اَور ہیبت ناک اور وُہ اُن سب سے اچھی طرح نمٹ چکا تھا ….. چنانچہ کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ خوف کھاتا۔

دستک کی آواز ایک بار پھر بلند ہوئی۔ دوسرے ہی لمحے کاؤنٹ نے آگے بڑھ کر بائیں ہاتھ سے دروازے کی زنجیر ہٹا دی اور ایک جھٹکے سے دونوں کواڑ کھول دیے۔

برآمدہ ویران اور سنسان پڑا تھا۔ وہاں کوئی نہ تھا۔
کاؤنٹ نے دائیں بائیں خوب غور سے دیکھا، کسی ذی روح کے آثار نہ تھے۔ ہر طرف گہری خاموشی اور جان لیوا سناٹا مسلّط تھا۔
دہشت کی ایک نئی لہر اُس کے بدن میں دوڑ گئی۔ وہ پتھر کے بت کی مانند خاموش کھڑا دَروازے کو تک رہا تھا۔

یکایک اُس کے سر کے عین اوپر دَروازے کی چوکھٹ کے پاس ویسی ہی آواز پھر بلند ہوئی جیسے کوئی چوکھٹ کو کھٹکھٹا رہا ہو۔
یہ آواز اُس کے اِتنے قریب تھی کہ کاؤنٹ کے حلق سے خوف کے مارے ہلکی سی چیخ نکل گئی۔ اُس نے جھپٹ کر دروازہ دَھماکے سے بند کیا۔ ایسا دھماکا جس کی آواز سے پوری عمارت گونج اٹھی۔
دروازہ بند کر کے اُس نے زنجیر چڑھا دی اور اَپنے بستر پر آ کر بیٹھ گیا۔ اُس کا بدن پوری طرح کانپ رہا تھا۔

وہ ساری رات اِسی طرح بستر پر بیٹھا دروازے کو تکتا رہا، مگر پھر کوئی آواز نہ آئی۔ برقی لیمپ تمام رات جلتا رہا اور جب مشرقی افق کی روشنی کھڑکیوں کے روشن دانوں سے کھیلنے لگی، تو کاؤنٹ نے اپنی جیبی گھڑی پر وقت دیکھا۔
سورج نکلنے ہی والا تھا، پوری رات آنکھوں میں کٹ گئی تھی۔ اُس نے لیمپ بجھایا اور بستر پر آرام سے لیٹ گیا۔ اُس نے سوچا اگر واقعی اِس عمارت میں کوئی بدروح ہے، تو زندگی مزے سے گزرے گی۔

وہ چونکہ ماہرِ نفسیات تھا، اُس نے سوچا یہ بھی تو ممکن ہے کہ یہ سب میرے تصوّرات و خیالات کی شعبدہ گری ہو۔
ایسا ہونا بالکل ممکن ہے۔ ہم جن چیزوں کے بارے میں سنتے ہیں، خواہ وہ فرضی ہوں، مگر ہم اُنھیں دیکھ بھی سکتے ہیں۔
شعور اَور لاشعور کی دنیائیں بےانتہا وسیع ہیں ….. مگر جب ناشتے کے لیے وہ اَور اُس کا سیکرٹری شہر کے اندرونی حصّے میں واقع ایک ریستوران میں گئے اور میز پر بیٹھے، تو پرکنس نے چھوٹتے ہی کہا:

’’جنابِ والا! رات آپ نے وہ آوازیں سنی تھیں جیسے کوئی شخص مکان میں گھوم پھر رہا ہو ….. یا دروازوں پر دستک دے رہا ہو ….. یہ میرا وَہم ہرگز نہیں ہو سکتا اور نہ یہ کوئی خواب تھا۔
مَیں نے عین بےداری کے عالم میں آوازیں اپنے کانوں سے سنی ہیں۔ کہیے آپ کیا فرماتے ہیں؟‘‘

’’آہ ….. تو یہ وہم ہرگز نہیں تھا اور نہ انسانی شعور یا لاشعور کی شعبدہ گری۔‘‘
کاؤنٹ ہیمن نے سوچا۔ پرکنس نے بھی وہی آوازیں سنی ہیں جو میرے کانوں تک پہنچیں۔

’’بےشک ….. مَیں نے بھی ایسی آوازیں سنی تھیں۔‘‘
کاؤنٹ نے اقرار کیا۔ یہ سن کر پرکنس کا رنگ فق ہو گیا۔ اُس نے نوالہ واپس پلیٹ میں رکھتے ہوئے کہا:

’’جنابِ والا! مَیں اِن بھوتوں سے عاجز آ چکا ہوں۔ خدا کے لیے مجھے اجازت دیجیے، مَیں رات کہیں اور جا کر سو جایا کروں۔ اِس طرح زندگی حرام کرنے کا فائدہ؟‘‘

کاؤنٹ کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ اُس نے کہا:

’’پرکنس! تم بزدل ہوتے جا رہے ہو۔ بھلا بدروحیں ہمارا کیا بگاڑ سکتی ہیں؟
ہم اِس سے زیادہ خطرناک حالات سے دوچار رَہ چکے ہیں ….. وہ مکان تو ہم لے چکے اور اُس کی آرائش پر خاصی رقم بھی صَرف ہو چکی، اب وہاں سے بھاگنا بےوقوفی ہو گی۔
کیا یہ ممکن نہیں کہ اُس بدروح سے کسی طرح دوستی کر لی جائے۔ ہم بھی وہاں رہیں، وہ بھی رہے۔‘‘

پرکنس نے حیرت سے کاؤنٹ کو دیکھا اور بڑی مشکل سے غصّہ ضبط کرتے ہوئے بولا:

’’جنابِ والا! وہ مکان ہر گز رہنے کے قابل نہیں  ….. مالک مکان سے کہیے کہ وہ کرایہ واپس کرے اور ہم اپنا سامان وہاں سے اٹھائیں اور اَگر وُہ کرائے کی رقم واپس نہ کرے، تو قانون کا سہارا لیجیے۔
باقی رہا بدروح سے دوستی کرنے کا خیال، تو مَیں کیا عرض کروں۔
ایسا انوکھا خیال جناب ہی کے ذہنِ مبارک میں آ سکتا ہے۔ آج تک مَیں نے نہیں سنا کہ کسی انسان نے بہ ہوش و حواس بدروح سے دوستی پیدا کی ہو۔‘‘

’’مالک مکان سے کرایہ واپس نہیں لیا جا سکتا۔ کاؤنٹ نے کہا۔
’’اُس کی بیوی نے مجھے پہلے ہی بتا دیا تھا، مکان میں کچھ گڑبڑ ہے، لہٰذا اُن کا کوئی قصور نہیں اور نہ اُنھوں نے ہمیں دھوکے میں رکھا۔
مجھے بہرحال مکان پسند ہے اور مَیں وہاں سے جانا نہیں چاہتا۔ بلکہ یوں کہو کہ اُ س وقت تک جانا نہیں چاہتا جب تک اُس آسیب کا معما حل نہ کر لوں۔‘‘

’’خواہ یہ معما حل کرنے میں، خدانخواستہ ہم میں سے کسی ایک کی جان چلی جائے۔‘‘

اِس جملے پر کاؤنٹ ہنس پڑا اَور بولا:

’’اطمینان رکھو پرکنس! آج تک کسی آسیب نے انسان کو قتل نہیں کیا۔‘‘

پرکنس نے جب دیکھا کہ اُس کا آقا مکان چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتا، تو طوہاً و کرہاً اُسے بھی ساتھ دینا پڑا۔
رات ہوئی، تو وہ بھی اپنی خواب گاہ سے اٹھ کر کاؤنٹ ہی کے کمرے میں آ گیا۔
اُنھوں نے فیصلہ کیا کہ یہ رات آرام کرسیوں پر جاگ کر گزاری جائے۔ اُنھوں نے آتش دان میں آگ روشن کر دی اور ڈھیر ساری لکڑیاں جھونک دیں تاکہ آگ برابر جلتی رہے۔

اِس کے بعد اُنھوں نے تیل سے جلنے والا چولہا قریب ہی رکھ لیا۔ عمدہ قہوے کا ڈبہ اپنے تھیلے سے نکالا اور چولہا جلا کر پانی کی کیتلی چڑھا دی۔ نیند کو بھگانے کے لیے گرم اور خشک قہوے سے بہتر کوئی اور چیز نہیں …..
آسیب سے دو دو ہاتھ کرنے کے لیے اُنھوں نے اپنے دائیں بائیں آتش دان میں آگ کریدنے کی آہنی سلاخیں رکھ لی تھیں، اگرچہ کاؤنٹ کو یقین تھا کہ اِن سلاخوں سے کام لینے کی ضرورت نہ پڑے گی۔

اُن دونوں کو ایک دوسرے کی موجودگی سے خاصا اطمینان تھا۔ کمرے کے اندر برقی بلب روشن تھا اور دُوسرے حصّوں میں روشنی کے لیے جو بلب لگائے گئے تھے، اُنھیں جلانے کی ضرورت محسوس نہ کی گئی تھی۔
رات آہستہ آہستہ گزر رَہی تھی۔ مکان میں ہیبت ناک خاموشی اور تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ یہ دونوں بھی چپ چاپ بیٹھے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔

ٹھیک بارہ بجے نچلی منزل میں کسی دروازے کے کھلنے اور بند ہونے کی آواز سنائی دی۔ دونوں آدمیوں نے جلدی سے لوہے کی سلاخیں ہاتھوں میں تھام لیں اور سنبھل کر بیٹھ گئے۔
پھر اُنھوں نے سنا کہ کوئی آہستہ آہستہ سیڑھیوں پر قدم رکھتا ہوا اُوپر آیا۔ بلاشبہ یہ قدموں کی آواز تھی۔ یہ آواز کاؤنٹ ہیمن کے کمرے کے باہر آ کر رکی ….. پھر دروازہ جنبش میں آیا جیسے اُسے کوئی دھکا دے کر کھولنے کی کوشش کر رہا ہو۔
اُس کے بعد تین بار دَستک دی گئی۔ یہ دونوں دم سادھے بیٹھے رہے۔ پھر باہر برآمدے میں لگا ہوا بجلی کا سوئچ دبانے کی آواز آئی۔ یقیناً باہر کا بلب جلایا گیا تھا۔

’’جناب! مَیں شرط لگاتا ہوں، بھوت وُوت ہرگز نہیں ہے۔‘‘ پرکنس نے دبی آواز میں کہا۔
’’بھوت کبھی مکانوں میں لگے ہوئے برقی قمقموں کے سوئچ نہیں دبایا کرتے، وہ تو روشنی سے بھاگتے ہیں اور تاریکی کو محبوب رکھتے ہیں۔
یہ بھوت ہرگز نہیں، معلوم ہوتا ہے کوئی اچکا ہے۔ مَیں ابھی اُس بدمعاش کا سر توڑتا ہوں۔‘‘

یہ کہہ کر وہ اُٹھا اور دَروازہ کھول دیا۔ پھر اُس نے لوہے کی سلاخ اِس انداز میں اٹھائی جیسے متوقع حملے کا جواب دینا چاہتا ہے مگر ….. برآمدہ سنسان پڑا تھا …..
باہر کا قمقمہ روشن ہونے سے ہر طرف اجالا پھیل گیا تھا۔ سیڑھیاں صاف نظر آ رہی تھیں، لیکن وہاں کوئی نہ تھا ….. آس پاس کہیں ایسی جگہ نہ تھی۔
انسان تو ایک طرف، بلی کا بچہ نہ چھپ سکے ….. پھر یہ کیا اسرار ہے ….. پرکنس کی آنکھیں خوف سے ابلنے لگیں اور اُس کا وہ ہاتھ بری طرح لرز اُٹھا جس ہاتھ میں اُس نے آہنی سلاخ پکڑ رکھی تھی۔

’’خدا کی پناہ ….. یہاں تو کوئی نہیں ….. مگر دیکھیے ہال کمرے کی بتیاں بھی جل رہی ہیں، حالانکہ ہم نے یہ بتیاں ہرگز نہیں جلائیں …..
مَیں کہتا ہوں ضرور اِس منحوس مکان میں کوئی موجود ہے جو ہم سے یہ شعبدےبازی کر رہا ہے۔‘‘ پرکنس ہانپتے ہوئے بولا۔

’’آؤ نیچے چلیں۔‘‘ کاؤنٹ نے خوف دور کرنے کے لیے ذرا بلند آواز میں کہا۔

’’تعجب ہے اگر یہ کوئی بھوت ہے، تو اُسے برقی قمقمے روشن کرنے سے بھلا کیا ملے گا۔‘‘
پرکنس نے بڑبڑاتے ہوئے کہا۔ ’’بخدا مَیں نے کسی کے سیڑھیاں چڑھنے کی آواز سنی ہے۔ آخر وہ گیا کہاں؟ کیا یہاں کوئی چور رَاستہ ہے؟‘‘

جب وہ نچلی منزل کے ہال کمرے میں داخل ہوئے، تو اُنھوں نے دیکھا کہ وہاں لگے ہوئے دونوں برقی قمقمے روشن ہیں۔ ہال کمرے کی بائیں جانب ڈرائنگ روم تھا۔
وہ خود اُس کا دروازہ بند کر کے آئے تھے، مگر اب وہ دَروازہ پورا کھلا تھا اور کمرے کے اندر تاریکی تھی۔
اُس کمرے کے اندر بھی تین برقی بلب لگائے گئے تھے جن کے تین سوئچ دروازے کے قریب ہی لگے تھے۔
اُن دونوں کی آنکھوں کے عین سامنے یہ تینوں سوئچ یکے بعد دیگرے آپ ہی آپ اوپر سے نیچے ہو گئے، تینوں بلب روشن ہوئے اور کمرہ رَوشنی میں نہا گیا۔
اب اُنھوں نے خیال کیا کہ یہ ضرور کسی کی شرارت ہے اور یقیناً ڈرائنگ روم میں کوئی نہ کوئی چھپا بیٹھا ہے، مگر اُنھوں نے کمرے کا کونا کونا اور گوشہ گوشہ دیکھ ڈالا۔
وہاں کوئی نہ تھا اور نہ ایسے آثار نظر آئے جن سے پتا چلتا کہ کوئی شخص یہاں داخل ہوا ہے۔ اُن دونوں کے پیروں کے نشانات کے سوا فرش پر کوئی نشان نہ تھا۔

’’کہیں ایسا تو نہیں کہ جس کاریگر نے بجلی کے یہ قمقمے اور تار فٹ کیے، اُسی نے کوئی چالاکی کی ہو۔‘‘ پرکنس نے کہا۔ ابھی کاؤنٹ جواب میں کچھ کہنے بھی نہ پایا تھا کہ کمرے کی فضا میں ایک انسانی قہقہے کی آواز گونجی۔
یہ آواز اُن کے بالکل قریب سے آئی تھی۔ اُنھوں نے دہشت زدہ ہو کر اِدھر اُدھر دیکھا، مگر اُن کے علاوہ وَہاں تیسرا کوئی نہ تھا۔

ایک بار اُن کے بہت قریب سے ہنسنے کی آواز آئی۔ اب اُن کے اوسان خطا ہوئے۔ وہ چیختے ہوئے وہاں سے بھاگے اور پاگلوں کی طرح سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اپنے کمرے میں آن کر پناہ لی۔
جب اُنھوں نے دروازہ بند کر کے لوہے کی زنجیر چڑھائی، تو دونوں بری طرح ہانپ رہے تھے اور فرطِ خوف سے اُن کی گھگی بندھی ہوئی تھی۔

رات کا بقیہ حصّہ اُنھوں نے آتش دان کے پاس چپ چاپ بیٹھ کر کاٹ دیا۔

صبح ہوئی، تو وہ کمرے سے نکلے۔ ہال اور ڈرائنگ روم میں برقی بتیاں ابھی تک روشن تھیں۔
اُنھوں نے ڈرتے ڈرتے بتیاں بجھائیں اور سوچنے لگے اِس پُراسرار صورتِ حال سے کیسے نمٹا جائے۔ پہلے تو پرکنس کی بھی رائے یہ تھی کہ مکان چھوڑ کر چلے جانا چاہیے، مگر کاؤنٹ ہیمن ازحد سنجیدہ دِکھائی دے رہا تھا۔ اُس نے اعلان کیا خواہ کچھ بھی ہو، اِس راز سے پردہ اُٹھنا ہی چاہیے۔

دوپہر کو جب وہ کھانا کھانے گئے، تو اعلیٰ نسل کے کتے فروخت کرنے والی ایک دکان سے ٹیرئیر نسل کا ایک کتا بھی خرید کر ساتھ لے لائے۔
کاؤنٹ ہیمن کا کہنا تھا اگر اِس مکان میں آسیب یا بدروح ہے، تو کتے کو فوراً پتا چل جائے گا۔ کتے یا بلیاں اِس قسم کے احساسات رکھتے ہیں اور غیرمرئی مخلوق کی موجودگی کا اُنھیں علم ہو جاتا ہے۔

شام ہوتے ہی اُنھوں نے کتے کی زنجیر پکڑی اور اُسے مکان کے مختلف حصّوں میں گھمانے پھرانے لگے۔ وہ اُسے ہر کمرے، ہر برآمدے اور ہر راہ داری میں لے گئے۔ کتے نے کسی قسم کی تیزی، تندی، خوف یا دہشت کا مظاہرہ نہ کیا۔
آخرکار وُہ نچلی منزل کے ایک چھوٹے سے کمرے کے قریب رکے۔ دروازہ بند اور اُس پر لوہے کا بھاری قفل پڑا تھا۔

کاؤنٹ ہیمن نے جیب سے چابیوں کا گھچا نکالا اور باری باری ہر کنجی اُس پر آزمانے لگا۔ آخر تالا کھل گیا اور کاؤنٹ نے اندر قدم رکھا۔ اندر سخت اندھیرا تھا، کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ پرکنس نے ماچس کی تیلی جلائی اور خود بھی کمرے میں داخل ہو گیا۔
اُس نے کتے کی زنجیر کھینچی تاکہ وہ بھی کمرے میں آ جائے، لیکن کتا منہ سے عجیب و غریب آوازیں نکالتا ہوا زمین پر لیٹ گیا اور پرکنس کی حد درجہ کوشش کے باوجود کمرے میں داخل نہ ہوا۔

دیکھتے ہی دیکھتے اُس کی حالت میں اتنا عظیم تغیر رونما ہوا کہ وہ حیران رہ گئے۔ اُس کے جسم کا رُواں رواں کانپ رہا تھا۔ وہ خوف سے زمین پر لَوٹا جاتا تھا اور اُس کے حلق سے گھٹی گھٹی آوازیں نکل رہی تھیں۔ خود کاؤنٹ ہیمن کے بدن کے رونگٹے بھی کھڑے ہو رہے تھے اور دِل کی دھڑکن یک لخت تیز ہوتی جا رہی تھی۔
اُس نے پرکنس کو باہر نکلنے کا اشارہ کیا، خود بھی جلدی سے باہر آیا اور دَروازہ بند کر کے قفل لگا دیا۔ پھر وہ اَپنے مخصوص کمرے میں آ گئے۔ کتا اُن کے پیچھے پیچھے اب بھی دم ٹانگوں میں دبائے، خوف سے کانپتا اور گھگیاتا ہوا آ رہا تھا۔

’’بولو! اب کیا کہتے ہو؟‘‘ کاؤنٹ نے سیکرٹری سے پوچھا۔ ’’تم نے کتے کی حالت دیکھی؟‘‘

پرکنس نے کوئی جواب نہ دیا۔ اُس کے چہرے پر خوف، حیرت اور تشویش کے ملے جلے تاثرات پھیلے ہوئے تھے۔ اُس نے قہوے کے دو پیالے بنائے۔
ایک اپنے آقا کی طرف بڑھایا اور دُوسرا اَپنے سامنے رکھا۔ کتا اُس کے قدموں میں گردن نیہوڑائے خاموش بیٹھا تھا۔

’’اُس کمرے میں ضرور کچھ ہے۔‘‘ بالآخر پرکنس نے زبان کھولی۔ ’’کل دن کے وقت ایک بار پھر ہم کتے کو اُس کمرے میں لے جانے کی کوشش کریں گے۔‘‘

وہ رَات بھی اُنھوں نے آرام کرسیوں پر بیٹھے بیٹھے کاٹ دی۔ اُن کا خیال تھا آدھی رات کے بعد حسبِ معمول بدروح کی آمد ہو گی، مگر ایسا نہ ہوا۔
بھوت غالباً اُنھیں مکان میں اپنی موجودگی کا احساس دلانا چاہتا تھا اور اَب اُس نے سوچا ہو گا، بار بار اُنھیں کیوں پریشان کیا جائے۔

دن نکلا، تو پرکنس اور کاؤنٹ ہیمن نے ایک بار پھر کتے کو اُس کمرے میں لے جانے کی کوشش کی۔ پہلے تو وہ اُسے لیے مکان کے مختلف گوشوں میں گھومتے رہے اور کتا خوف کی کسی علامت کا اظہار کیے بغیر مزے سے اُن کے ساتھ چلتا رہا لیکن جونہی وہ نچلی منزل کے اُس چھوٹے سے کمرے کے قریب پہنچے، تو کتے کے بدن پر لرزہ طاری ہو گیا۔
اُس نے دم ٹانگوں میں دبا لی اور ٹیاؤں ٹیاؤں کرتا ہوا بڑی عاجزی سے زمین پر لیٹ گیا۔ جونہی پرکنس نے پٹا اُس کی زنجیر سے نکالا، کتا بندوق سے نکلی ہوئی گولی کی مانند وہاں سے بھاگا اور مکان سے باہر نکل گیا۔

دوپہر کو کھانے سے فارغ ہو کر جب مالک اور ملازم مکان میں واپس آئے، تو اِس مرتبہ اُن کے ساتھ ایک چتکبری بلی تھی۔ پرکنس نے اُسے گود میں اٹھا رکھا تھا۔ مکان کے مختلف حصّوں میں گھوم پھر کے جب وہ اُس مخصوص کمرے کے نزدیک پہنچے، تو بلی کے جسم کے بال یک لخت کھڑے ہو گئے اور وُہ پھول کر عام جسامت سے دگنی موٹی دکھائی دینے لگی۔
اُس کی مونچھوں کے بال بھی کھڑے تھے۔ لمبی دم آہستہ آہستہ حرکت کرنے لگی۔ کاؤنٹ ہیمن نے دروازے کا قفل کھولا اور پرکنس نے بلی کو کمرے کے اندر پھینک دیا۔
ایک ہولناک چیخ مار کر بلی کمرے سے باہر نکلی اور چشمِ زدن میں نظروں سے غائب ہو گئی۔

اِن تجربات سے واضح ہو گیا کہ کچھ نہ کچھ ہے ضرور۔ اگر کوئی انسانی شعبدے بازی ہوتی، تو کتے اور بلی کا یوں خوف زدہ ہو کر راہِ فرار اِختیار کرنا ممکن نہ تھا۔ پرکنس اب بہت خوف زدہ تھا اور بار بار کاؤنٹ سے یہی کہتا:

’’اب تو آپ نے خود دَیکھ لیا کہ مکان واقعی آسیب زدہ ہے، لہٰذا یہاں رہنے کا ارادہ ترک کیجیے۔ لندن میں خالی مکانوں کی کمی نہیں۔ کیا ضروری ہے ہم ایک آسیب کے ہاتھوں نقصان اٹھا کر یہاں سے نکلیں۔‘‘

پرکنس کے دلائل ایسے نہ تھے کہ اُنھیں رد کیا جا سکتا، لیکن کاؤنٹ ہیمن کی مہم جُو طبیعت سے بہت بعید تھا کہ ایک بدروح سے کھلے بندوں شکست کھا لی جائے۔
اُسی روز سہ پہر کے بعد کاؤنٹ کا ایک پرانا دوست ہنری ہملٹن ملاقات کے لیے آیا۔ یہ تھیٹر کا مشہور و معروف ڈراما نویس تھا۔ اُس نے چھوٹتے ہی کہا:

’’یہ مکان تو برسوں سے آسیب زدہ ہے اور یہاں کسی انسان کا بہ ہوش و حواس رہنا مشکل ہے۔ بہت دنوں کی بات ہے میرے ایک خبطی دوست نے چند روز کے لیے یہ مکان لیا تھا، مگر تین دن بعد ہی پاگل ہو کر بھاگ گیا۔
راتوں کو کوئی نامعلوم ہستی دروازوں پر دستک دیتی، سیڑھیاں چڑھنے اور اترنے کی آوازیں سنائی دیتیں، کبھی کبھی ہنسنے، گانے اور رَونے کی آوازیں بھی آیا کرتیں۔‘‘

’’کیا تم نے بھی کبھی یہ آوازیں سنی تھیں؟‘‘ کاؤنٹ نے پوچھا۔

’’کیوں نہیں؟ مجھے خود ایک رات اِس مکان میں کاٹنے کا اتفاق ہوا۔ شاید یہی کمرا تھا جس میں اِس وقت ہم لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ آدھی رات کے بعد کسی نے دروازے پر دستک کی۔ مَیں سمجھا شاید میرا وُہی دوست ہے جس نے مکان لیا تھا اور جو میرا میزبان تھا۔
مَیں نے اُٹھ کر دروازہ کھولا، تو وہاں کوئی نہ تھا۔ ابھی مَیں اِدھر اُدھر دیکھ ہی رہا تھا کہ دروازہ پھر کسی نے تھپتھپایا۔ اب تو میرے ہوش اڑے۔ دروازہ تھپتھپانےوالا نظر نہ آتا تھا، البتہ آواز رہ رَہ کر بدستور آ رہی تھی اور کواڑ بھی ہل رہا تھا۔
آخر مَیں نے ہمت کر کے کہا ’تم کون ہو؟ اور کیا چاہتے ہو؟‘ مجھے اِس سوال کا فوراً جواب ملا۔‘‘

’’کیا جواب تھا وہ؟‘‘ کاؤنٹ نے ازحد اشتیاق سے پوچھا۔

ہنری ہملٹن نے قلم، کاغذ اور لفافہ طلب کیا۔ تینوں چیزیں اُسے دے دی گئیں۔ اُس نے کاغذ پر کچھ لکھا اور لفافے میں بند کر کے کاؤنٹ کی طرف بڑھایا۔

’’وہ جواب مَیں نے اِس پرچے میں لکھ دیا ہے۔ تم خود بھی اُس روح سے اُس کے بارے میں معلوم کرنے کی کوشش کرو اور جو کچھ جواب وہ دَے، اُس کا مقابلہ میری تحریر سے کرو۔ میرا خیال ہے اُن دونوں جوابوں میں کوئی خاص فرق نہ ہو گا۔‘‘

کاؤنٹ ہیمن نے یہ طریقہ پسند کیا اور وَعدہ کیا کہ ایسا ہی کیا جائے گا۔

اُس کے بعد کئی ہفتے امن اور سکون سے گزر گئے۔ راتوں کو روح کا چلنا پھرنا اور دَروازے پر دستک دینا موقوف رہا۔ شاید اُس نے سمجھ لیا تھا کہ یہ لوگ اِس مکان سے جانے والے نہیں۔

ایک رات کاؤنٹ نے چند دوستوں کو رات کے کھانے پر بلایا۔ کھانے سے فارغ ہو کر سب لوگ ڈرائنگ روم میں آتش دان کے پاس آن بیٹھے اور قہوہ پیتے ہوئے اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے لگے۔ گفتگو زور و شور سے جاری تھی کہ یکایک میز پر رکھا ہوا شیشے کا ایک خوبصورت اور نہایت قیمتی پیالہ آپ ہی آپ کھنکنے لگا۔
گفتگو ایک دم رک گئی اور ہر شخص سہمی ہوئی نگاہوں سے پیالے کو بجتے ہوئے دیکھنے اور سننے لگا۔ یقیناً کوئی غیرمرئی ہستی اِس پیالے کے ذریعے اپنا پیغام دینا چاہتی تھی۔

کاؤنٹ ہیمن نے دوستوں سے کہا:

’’براہِ کرم سب لوگ کسی خوف کے بغیر اِسی طرح بیٹھے رہیں۔ یہ ہمارے ایک دوست کی روح ہے جو اِس مکان میں ہمارے ساتھ رہتی ہے اور غالباً کچھ کہنے کے موڈ میں ہے۔‘‘
یہ کہہ کر اُس نے جلدی سے کاغذ سامنے رکھا اور پنسل پکڑ لی۔ پھر نامعلوم ہستی کو خطاب کرتے ہوئے کہا:

’’ہم سب آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں اور جاننا چاہتے ہیں، آپ کی خواہش کیا ہے؟ اُس کا طریقہ یہ مناسب رہے گا کہ مَیں انگریزی زبان کے تمام حروفِ تہجی باری باری بولتا جاؤں اور آپ جن حرفوں کے ذریعے اپنا پیغام دینا پسند کریں، اُن حرفوں کا نام آتے ہی پیالے کو بجا دیں۔‘‘

جملہ ختم ہوا۔ کمرے میں چند لمحے خاموشی طاری رہی۔ پھر کاؤنٹ نے بلند آواز میں حروفِ تہجی کی تکرار شروع کی اور رُوح نے پیالے کو مختلف حرفوں کے نام پر بجانا شروع کر دیا۔ چند لمحوں کے اندر اَندر ایک واضح پیغام اُن کے سامنے تھا۔

’’میرا نام کارل کلنٹ ہے۔ مَیں اِس مکان میں گزشتہ ایک سو بیس برس سے رہ رَہا ہوں۔ اگر آپ لوگ نچلی منزل کے چھوٹے کمرے میں چلیں، تو مَیں اپنی بات زیادہ وَاضح انداز میں عرض کر سکوں گا۔‘‘

بعض لوگ چھوٹے کمرے میں جانے کے لیے فوراً آمادہ ہو گئے جبکہ بعض کا کہنا تھا، ایسا کرنا حماقت ہو گی۔
بھلا ایک سو بیس برس پرانی بدروح کا کیا اعتبار؟ ممکن ہے وہ کسی نوع کا نقصان ہی پہنچا دے، لیکن کاؤنٹ ہیمن کا اصرار تھا کہ ایسا نہ ہو گا۔ اگر روح کسی نوع کا ضرر پہنچانے پر قادر ہوتی، تو اب تک پہنچا بھی چکتی اور اِتنی مدت انتظار نہ کرتی۔
غرض یہ سب لوگ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے، تجسّس، خوف اور تعجب کے مراحل سے گزرتے ہوئے نچلی منزل کے اُس چھوٹے کمرے کے قریب پہنچے جہاں جانے سے کتے اور بلی نے خوف کھایا تھا۔

کاؤنٹ ہیمن نے قفل کھولا اور سب اندر دَاخل ہوئے۔ اِس کمرے کی فضا میں عجیب سی مرطوب بدبُو پھیلی ہوئی تھی۔ ایسی بدبُو جیسی کسی پرانی بوسیدہ قبر کی مٹی میں سے آیا کرتی ہے۔ اُنھوں نے کمرے کے اندر ایک چھوٹی میز بچھائی اور دائرے کی صورت میں کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ پرکنس نے چند مومی شمعیں جلانے کےلیے ساتھ لے لی تھیں، یہ شمعیں فوراً روشن کر دی گئیں۔ اُس کے بعد سب لوگ چپ چاپ روح کی آمد کا انتظار کرنے لگے۔

دفعتاً میز پر سے ایسی آواز اٹھی جیسے کسی نے آہستہ سے گھونسا مارا ہو۔ پھر یکے بعد دیگرے کئی آوازیں آئیں اور ہر آواز پہلی آواز سے زیادہ تیز تھی۔ لکڑی کی میز بری طرح کانپنے اور تھرتھرانے لگی۔ اُس کے فوراً بعد روح نے جو پیغام دیا وہ یہ تھا:

’’میرا نام کارل کلنٹ ہے۔ مَیں اِس مکان کا مالک ہوں۔ مَیں نے اپنے ایک دوست آرتھر لِڈل کو اِسی کمرے میں قتل کیا اور اُس کی لاش یہیں فرش کھود کر دبا دی تھی۔‘‘

کاؤنٹ نے لرزتی آواز میں کہا ’’ہم لوگ آپ کے لیے کیا کر سکتے ہیں کارل کلنٹ؟‘‘

جواب ملا ’’کچھ نہیں۔‘‘

’’ہم تمہاری بخشش اور نجات کے لیے خدا سے دعا تو کر سکتے ہیں؟‘‘

’’مجھے تمہاری دعاؤں کی ضرورت نہیں۔‘‘ جواب ملا۔ ’’ہاں! تم صرف یہ کر سکتے ہو کہ یہ مکان خالی کر کے چلے جاؤ اور مجھے یہاں رہنے دو۔‘‘

’’تم خود ہی یہاں سے کیوں نہیں چلے جاتے کارل کلنٹ؟‘‘ کاؤنٹ ہیمن نے کہا۔ یہ جملہ بمشکل اُس کی زبان سے ادا ہوا تھا کہ کمرے میں جیسے بھونچال آ گیا۔
میز الٹ گئی۔ دیواریں لرزنے لگیں۔ چوبی چھت سے چِر چر کی ایسی آواز آئی جیسے ابھی چھت آن پڑے گی اور فوراً ہی جلتی ہوئی شمع گُل ہو گئی۔ اُن لوگوں پر اتنی دہشت طاری ہوئی کہ سب بےتحاشا گرتے پڑتے وہاں سے بھاگے اور ڈرائنگ روم میں آ کر دم لیا۔

دوستوں کو رخصت کر دینے کے بعد کاؤنٹ ہیمن نے ہنری ہملٹن کا دیا ہوا لفافہ چاک کر کے کاغذ نکالا اور اُسے پڑھا۔ اُس پر جو الفاظ درج تھے، اُن میں اور رُوح کے موجودہ پیغام میں ایک حرف کا بھی فرق نہ تھا۔ کاؤنٹ ہیمن نے طے کیا کہ وہ اِس عمارت اور اُس کے مکینوں کی قدیم تاریخ کا سراغ لگا کر رہے گا تاکہ اِس معمے کی تہ تک پہنچا جا سکے، چنانچہ اگلے ہی روز اُس نے اپنی تحقیق و تفتیش کا آغاز کیا …..
مکانوں کی تعمیر کا ریکارڈ محفوظ رکھنے والے دفتر کا رخ کیا، متعلقہ مکان کے کاغذات نکلوائے۔ معلوم ہوا کسی زمانے میں یہ مکان ایک چھوٹا سا فارم ہاؤس تھا اور فارم ہاؤس میں وہ چھوٹا سا کمرہ بھی شامل تھا جس میں روح نے اُنھیں بلا کر پیغام دیا تھا۔

مزید تفتیش سے یہ بات بھی ریکارڈ کے ذریعے سامنے آ گئی کہ اِس فارم ہاؤس کا مالک کارل کلنٹ نام کا ایک جرمن شخص تھا جس کا قیام ۱۷۴۰ء اور ۱۸۰۰ء کے درمیانی عرصے میں اُس مکان میں رہا۔ کارل کلنٹ کا ایک انگریز دوست آرتھر لِڈل اکثر اُس مکان میں آ کر رہا کرتا تھا۔
اُن دونوں میں خاصی گہری دوستی اور بےتکلفی تھی۔ پھر اچانک ایک روز آرتھر غائب ہو گیا۔ پولیس اوردُوسرے لوگوں کی سرتوڑ کوشش کے باوجود آرتھر کا سراغ نہ ملا۔
کارل کلنٹ سے بھی پوچھ گچھ کی گئی، مگر اُس نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ اُسے تو خود اَپنے دوست کے گم ہو جانے کا شدید صدمہ تھا۔

آرتھر کی گمشدگی کے چند سال بعد کارل کلنٹ اِس مکان سے رخصت ہو گیا اور اُس نے ایک دوسرے مکان میں سکونت اختیار کر لی۔
اُس کے جانے کے بعد یہ مکان مختلف ہاتھوں میں آیا، بار بار بِکا اور خریدا گیا۔ ہر آنے والے نے اِس میں کچھ نہ کچھ اضافہ ہی کیا۔ حتیٰ کہ انیسویں صدی کے اختتام تک اِس مکان کے نواح میں جو کھیت واقع تھے، وہ سب غائب ہو گئے اور اُن کی جگہ مکان بنتے چلے گئے۔

کاؤنٹ ہیمن کو اَب سب کچھ معلوم ہو چکا تھا، لیکن اُس رات کے بعد سے کارل کلنٹ کی روح نے اُسے پریشان نہیں کیا۔ کاؤنٹ کا خیال تھا شاید اُس کی روح نے مایوس ہو کر مکان کا وہ کمرہ خالی کر دیا ہے۔ تاہم کاؤنٹ نے وہ کمرہ مقفل ہی رہنے دیا، لیکن ایک رات کاؤنٹ ہیمن آرام سے اپنے بستر میں لیٹا گہری نیند کے مزے لے رہا تھا کہ دروازے پر زور سے دستک دی گئی۔ کاؤنٹ ہیمن کی آنکھ کھل گئی اور اُس نے دستک کی آواز پھر کئی مرتبہ سنی اور جب اٹھ کر دروازہ کھولا، تو وہاں کوئی نہ تھا۔ اِس کا مطلب یہ تھا کہ روح ابھی تک مکان میں موجود ہے۔

اگلے روز اُس نے ایک نابینا، ماہرِ روحانیات کو اَپنے مکان میں بلایا جس کا نام سیسل ہسک تھا۔ یہ شخص نہ صرف روحوں کو طلب کرنے کا ماہر بلکہ خاص عمل کے ذریعے جس روح کو چاہتا مجسّم ہو کر حاضر ہونے کا حکم دے سکتا تھا۔ نابینا عامل نے پُراسرار رُوح کی طلبی کا عمل ڈرائنگ روم میں کرنے کا فیصلہ کیا۔ کاؤنٹ نے اپنے خاص خاص دوستوں کو بھی اُس عمل میں شرکت کے لیے بلوایا تھا۔

سب لوگ ایک گول میز کے گرد دَائرے کی صورت میں بیٹھ گئے۔ درمیان میں شیشے کا ایک لیمپ روشن کر کے رکھا تھا۔ لیمپ پر سرخ کاغذ کا شیڈ لگا دیا گیا۔ اُس لیمپ کی روشنی کے سوا مکان کی دوسری تمام برقی اور غیربرقی روشنیاں گُل تھیں۔ اب نابینا عامل نے زیرِ لب کوئی عمل پڑھنا شروع کیا۔ اِس دوران میں کسی کو بولنے یا حرکت کرنے کی اجازت نہ تھی۔

عمل شروع کیے پندرہ بیس منٹ گزرے ہوں گے کہ نچلی منزل کے ایک کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی، پھر قدموں کی چاپ ….. جو نزدیک آتی گئی ….. اُس کے بعد جیسے کوئی سیڑھیاں چڑھتا ہے ….. یہ آواز ڈرائنگ روم کے دروازے کے پاس پہنچ کر ایک ثانیے کےلیے رکی، پھر دروازہ آپ ہی آپ کھل گیا اور سرد ہوا کا ایک جھونکا سا اندر آیا۔

میز کے گرد بیٹھے ہوئے افراد کے بدن میں جیسے سوئیاں سی چبھنے لگیں۔ کمرے میں پھیلی ہوئی مدھم روشنی میں لوگوں نے دیکھا کہ دروازے کے قریب دھوئیں کا ایک ستون سا بن رہا تھا۔ دیکھتے دیکھتے یہ دھواں اور گہرا ہو گیا، پھر یہ دھواں سمٹ کر ایک انسانی ہیولے کے خد و خال بُننے لگا۔ پہلے سر دکھائی دیا، پھر کندھے، اُس کے بعد ہاتھ۔ آہستہ آہستہ ایک شکل نمایاں ہوتی چلی گئی، زرد رنگ کا ایک مردانہ چہرہ جس کی آنکھیں بےنور اَور حلقوں میں دھنسی ہوئی تھیں۔ ٹھوڑی پر گھنی ڈاڑھی، سر کے بال سرخ، ناک بڑی اور کسی قدر خم دار، ہونٹ پتلے اور بھنچے ہوئے۔ یہ ایک ایسے شخص کا چہرہ تھا جس کی عمر پینتالیس اور پچاس کے درمیان تھی۔

’’تم کون ہو؟‘‘ نابینا عامل کی آواز کمرے کے سناٹے میں گونجی۔

روح نے جو اَب انسانی شکل و صورت میں ظاہر ہو گئی تھی، جواب دینے کے لیے اپنے ہونٹوں کو جنبش دی، مگر کوئی آواز سنائی نہ دی۔ نابینا نے ایک بار پھر اپنا سول مزید بلند آواز میں دہرایا۔ روح کے چہرے پر کرب اور اَذیت کے آثار نمودار ہوئے جیسے جواب دیتے ہوئے اُسے سخت تکلیف پہنچ رہی ہو۔ اِس مرتبہ فضا میں تیرتی ہوئی سرگوشی کی مانند، ایک باریک آواز سب کے کانوں میں پہنچی۔

’’میرا نام کارل کلنٹ ہے …..‘‘ اور اِس کے ساتھ ہی آواز یک لخت بلند ہو گئی۔ ’’تم کون لوگ ہو اَور میرے مکان میں کس واسطے جمع ہوئے ہو؟‘‘

’’یہ سب میرے دوست ہیں اور مَیں اِس مکان کا کرائےدار ہوں۔‘‘ کاؤنٹ ہیمن نے جواب دیا۔

’’ہم سب تمہاری مدد کرنا چاہتے ہیں۔ کیا تم اپنے بارے میں ہمیں کچھ بتاؤ گے؟‘‘

کارل کلنٹ کی روح نے گھور کر کاؤنٹ ہیمن کو دیکھا اور پھر آواز آئی۔

’’مَیں تمہیں اپنا نام بتا چکا ہوں۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، مَیں اِس مکان میں گزشتہ ایک سو بیس برس سے رہ رَہا ہوں اور کبھی کسی نے مجھے پریشان نہیں کیا۔ مَیں نہیں جانتا کتنی طویل مدت تک یہاں رہوں گا۔ وقت تم لوگوں کے لیے کوئی اہمیت رکھتا ہو گا، میرے لیے ہرگز نہیں۔ وقت ہرگز نہیں بدلتا اور نہ ختم ہوتا ہے ….. البتہ انسان بدل جاتے ہیں اور اِنسان فانی بھی ہیں ….. تم لوگ یہ بتاؤ میرے مکان میں کس لیے آئے؟‘‘

’’دراصل مجھے ایک ایسے ہی مکان کی ضرورت تھی۔‘‘ کاؤنٹ نے جواب دیا۔ ’’اب میری کوشش ہے کہ کسی نہ کسی صورت میں تمہارے لیے کچھ کروں‘‘

’’کوئی شخص میرے لیے کچھ نہیں کر سکتا۔‘‘ روح نے جواب دیا۔

’’شاید تمہاری روح کو چَین نہیں مل سکا ….. اگر ایسا ہوتا، تو یوں نہ بھٹکتے پھرتے اور ہم لوگوں کے آرام و سکون میں خلل انداز نہ ہوتے۔‘‘

’’خواہ کچھ ہو، مَیں یہاں سے ہرگز نہیں جا سکتا۔ جس رات مرا ہوں، اُس رات سے لے کر اب تک اِسی مکان میں ہوں۔‘‘

’’اچھا! یہ بتاؤ تم نے اپنے دوست آرتھر لِڈل کو کیوں قتل کیا؟‘‘

’’جن دنوں مَیں زندہ تھا اور اِس مکان میں رہتا تھا، تو یہیں مجھے ایک عورت سے محبت ہو گئی۔ اُس کا نام کارلوٹی تھا۔ مَیں اُسے اپنی جان سے زیادہ چاہتا ….. ابھی ہماری شادی نہ ہو پائی تھی کہ میرا دوست آرتھر ہمارے درمیان آ کودا۔

’’وہ دوست تو میراتھا، لیکن آہستہ آہستہ اُس نے کارلوٹی پر ڈورے ڈالنے شروع کر دیے اور چونکہ آدمی مال دار تھا، اِس لیے اُس نے کارلوٹی کو رقم کا لالچ بھی دیا اور یہاں تک کہا کہ اگر وہ اُس کے ساتھ بھاگ چلے، تو وہ اَپنی تمام دولت اُسی کو دے دے گا۔

’’آرتھر کے مقابلے میں مَیں ایک غریب اور معمولی کسان تھا، لیکن کارلوٹی بھی مجھے چاہتی تھی، چنانچہ اُس نے سب باتیں مجھے بتا دیں۔ مَیں نے آرتھر سے تعلقات منقطع کر لیے۔
ایک رات وہ میری غیرحاضری میں اِس مکان پر آیا اور اُس نے کارلوٹی پر دست درازی کرنے کا ارادہ کیا۔ کارلوٹی نے بڑی مشکل سے اپنی عزت بچائی۔ اتنے میں مَیں بھی پہنچ گیا اور جب مجھے اُس کے کرتوت کا علم ہوا، تو غصّے میں پاگل ہو گیا۔ مَیں نے اپنی کلہاڑی اٹھائی اور اُس کا سر قلم کر دیا۔ پھر اِسی کمرے میں گڑھا کھود کر لاش خاصی گہرائی میں دبا دی۔ اُسے دفن کرنے سے پہلے مَیں نے گڑھے میں چونے کی خاصی بڑی مقدار بھی بھر دی تاکہ لاش جلد گل سڑ جائے اور ایسا ہی ہوا۔

’’کارلوٹی اُس حادثے کے بعد بھی میرے پاس رہی، مگر اُس کے ذہن نے اُس حادثے کا ناگوار اَثر قبول کیا۔ چنانچہ چند سال بعد وہ بیمار ہوئی اور مر گئی۔ اِس مکان کے قریب ہی جو قبرستان ہے، کارلوٹی کی قبر وہیں ہے۔‘‘

’’کارلوٹی کے مرنے کے بعد تم نے کیا کیا؟‘‘

’’پھر مَیں کیا کرتا۔ یہاں میری دلچسپی کا کوئی سامان نہ تھا، چنانچہ مَیں اپنے وطن جرمنی چلا گیا، مگر کارلوٹی کی یاد نے میری زندگی سے سکون اور آرام ختم کر دیا تھا، لہٰذا ایک رات مَیں نے خودکشی کر کے اپنی زندگی ختم کر ڈالی اور ایک روز اپنے آپ کو اِس مکان کی نچلی منزل کے چھوٹے کمرے میں پایا۔
اُس وقت سے لے کر اب تک مَیں یہیں ہوں۔ میری روح کو اِس مکان میں سکون ملتا ہے۔ لہٰذا میرے یہاں سے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہی ایک ایسی جگہ ہے جسے مَیں اپنا گھر کہہ سکتا ہوں۔ یہیں میری جان سے عزیز محبوبہ رہتی تھی۔ میرے لیے اب اور کوئی جگہ نہیں ….. مجھے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہیں رہنا ہے اور ہاں، کارلوٹی کی روح بھی میرے ساتھ رہے گی۔‘‘

’’کارل کلنٹ! چونکہ تم نے قتل کا بڑا گناہ کیا ہے، اِس لیے تمہاری روح پر یہ عذاب ہو رہا ہے۔ تمہیں سکون ….. ابدی سکون کی ضرورت ہے ….. بتاؤ ہم تمہارے لیے کیا کر سکتے ہیں؟‘‘

’’مَیں کہہ چکا ہوں تم لوگ میرے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔ اب سب راستے بند ہیں ….. ہاں، تم صرف یہ کر سکتے ہوں کہ جس کمرے میں میری اور کارلوٹی کی روحیں رہتی ہیں، اُسے ہمیشہ کے لیے مقفل رہنے دو۔ نہ وہاں خود جاؤ، نہ کسی اور کو جانے دو۔ ہو سکے، تو وہاں ایک میز اور دو کرسیاں ضرور رَکھوا دو، بس اور کچھ نہیں۔ مَیں پھر تنبیہ کرتا ہوں کہ سورج غروب ہونے کے بعد اُس کمرے میں کوئی شخص داخل ہونے کی جرأت نہ کرے۔ مَیں تمہاری خوشیوں میں حارج نہیں ہوں گا۔ باقی تمام مکان، اُس کمرے کے سوا تمہارا ہے۔‘‘

اور یوں یہ پُراسرار ڈراما ختم ہوا۔ کاؤنٹ نے وعدہ کیا کہ اُس کمرے میں کوئی نہ جائے گا۔ اُس نے اگلے ہی روز دو کرسیاں اور ایک میز وہاں رکھوا دِی اور دَروازہ ہمیشہ کے لیے مقفل کر دیا۔

وقت گزرتا چلا گیا۔ مہینے برسوں میں بدل گئے، پھر کارل کلنٹ کی روح نے کاؤنٹ ہیمن اور اُس کے گھر والوں کو تنگ نہ کیا۔ روح کے کمرے میں تاریکی اور خاموشی کے سوا کچھ نہ تھا۔ کئی برس بعد کاؤنٹ نے یہ مکان چھوڑ کر دوسری جگہ جانے کا فیصلہ کیا، مگر وہ چاہتا تھا کہ اپنے اِس فیصلے سے کارل کلنٹ کی روح کو ضرور آگاہ کرے۔ چنانچہ ایک رات اُس نے پھر نابینا عامل کے ذریعے روح کو مجسم شکل میں طلب کیا۔ جب دھوئیں نے انسانی ہیولے کی صورت اختیار کر لی، تو کاؤنٹ ہیمن نے کہا:

’’کارل کلنٹ! مَیں نے تمہیں یہ بتانے کے لیے یہاں آنے کی زحمت دی ہے کہ ہم لوگ عنقریب یہ مکان خالی کر رہے ہیں۔ اِس دوران میں تم نے اپنا وعدہ پورا کیا اور ہمیں تنگ نہ کیا، مَیں اُس کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ کاش! کوئی طریقہ ایسا ہوتا جس سے ہم تمہاری روح کو شادماں کر سکتے۔‘‘

کاؤنٹ ہیمن کا بیان ہے کہ یہ سن کر کارل کی روح چند لمحے خاموش رہی، پھر اُس نے آہستہ آہستہ کہنا شروع کیا:

’’تم یہاں سے جا رہے ہو؟ پہلے میری خواہش تھی کہ تم یہاں سے چلے جاؤ، مگر اب مَیں چاہتا ہوں تم یہیں رہو۔ تمہارے یہاں رہنے سے مجھے سکون ہے۔ تم چلے جاؤ گے اور تمہاری جگہ جو کوئی اور آئے گا، تو وہ مجھے تنگ کرے گا ….. نہیں، نہیں ….. تم نہ جاؤ …..

’’اچھا، جاؤ۔ کاش! مَیں بھی تمہارے ساتھ نئے مکان میں جا سکتا۔‘‘ کارل کی روح نے یہ الفاظ کہے، تو کاؤنٹ اور کمرے میں موجود سبھی لوگ بےحد حیران ہوئے۔

’’مگر مَیں نے تو دوسرا مکان لے بھی لیا ہے۔‘‘ کاؤنٹ نے کہا۔ ’’اب مَیں تم سے رخصت ہونے کی اجازت چاہتا ہوں۔‘‘

’’دیکھو، میرے کمرے میں شمالی دیوار کے پیچھے کارلوٹی کی ایک پرانی تصویر چھپی ہوئی ہے۔‘‘ روح نے کہا۔ ’’میری خواہش ہے تم وہ تصویر اپنے ساتھ لے جاؤ اور نئے مکان کے اُس کمرے میں لگاؤ جہاں تم رہنا پسند کرو۔‘‘

کاؤنٹ ہیمن نے ایک بار پھر روح کے کمرے کا تالا کھولا اور شمالی دیوار کو دیکھا بھالا، تو پردے کے پیچھے سے ایک پرانی قلمی تصویر برآمد ہوئی جس پر گرد کی دبیز تہ جمی ہوئی تھی۔ گرد صاف کی گئی، تو ایک خوبصورت جواں سال عورت کے خد و خال ابھر آئے۔ کاؤنٹ نے وہ تصویر بغل میں دبائی، کمرا مقفل کیا اور کارل کی روح کو الوداعی سلام کر کے اُس مکان سے رخصت ہو گیا۔

کاؤنٹ لوئیس ہیمن عرف کیرو کا حلفی بیان ہے کہ اِس داستان کا حرف حرف سچا اور حقیقت پر مبنی ہے۔ ابھی پہلی جنگِ عظیم تک اُس مکان کے آثار مرکزی لندن میں باقی تھے اور دَیکھے جا سکتے تھے، لیکن ایک رات جرمن طیاروں نے لندن پر ایسی شدید بمباری کی کہ بہت سے مکان گر گئے اور بعض مقامات پر ہولناک آگ لگی جس نے اُس مکان کا رہا سہا نشان بھی ہمیشہ کے لیے مٹا دیا۔

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles