42.5 C
Lahore
Tuesday, June 25, 2024

Book Store

Laash|لاش|Maqbool Jahangir

لاش

مقبول جہانگیر

یہ واقعہ ۱۹۴۸ء میں پیش آیا تھا۔ کرسمس کی آخری رات اپنی تمام تر رعنائیوں اور سرمستیوں کے ساتھ رخصت ہو چکی تھی۔ برسٹل (کنکٹیکٹ) کی گلیاں اور بازار سنسان پڑے تھے۔
رات کے دو بج رہے تھے۔ برف باری اپنے عروج پر تھی۔ دفعتاً سٹی ہال پولیس ہیڈکوارٹرز میں فون کی

گھنٹی بجی اور ڈیوٹی پر حاضر محرّر نے فون ریسیور کان سے لگایا۔ اُس کے کان میں ایک عورت کی گھبرائی ہوئی آواز گونجی:

’’کیا آپ پولیس اسٹیشن سے بول رہے ہیں؟ ….. ذرا جلدی یہاں آئیے….. میرے مکان سے کچھ فاصلے پر برف میں ایک عورت کی لاش پڑی ہے….. جوزف اسٹریٹ کے سِرے پر میرا مکان ہے….. فوراً پہنچیں۔‘‘

یہ کہہ کر عورت نے فون بند کر دیا۔ محرّر نے فوراً چیف آفیسر مسٹر کرالے سے رابطہ قائم کیا اور اُسے معاملے کی رپورٹ پیش کی۔
چیف نے حکم دیا کہ سروجنٹ ولیم اور گشتی پولیس افسر جوزف کو فوراً موقعٔ واردات پر بھیجا جائے، چنانچہ اُن دونوں پولیس افسروں کو روانہ کر دیا گیا۔
اُن کے پیچھے پیچھے چیف کانسٹیبل کرالے بھی تیار ہو کر چل پڑا۔ جب وہ موقعٔ واردات پر پہنچا، تو اُس نے دیکھا کہ سروجنٹ ولیم اور جوزف گھٹنوں کے بل ایک عورت کی لاش پر جھکے ہوئے اُس کا بغور معائنہ کر رہے ہیں۔
لاش کمر کے بل برف پر پڑی تھی۔
اُس کے جسم پر فَر کا قیمتی کوٹ موجود تھا، لیکن سر پر پہننے کا زنانہ ہیٹ غائب تھا۔
اُس کی عمر اندازاً تیس برس، جسم درمیانہ اور بالوں کا رنگ گہرا براؤن تھا۔
چیف نے فوراً طبی معائنہ کار (میڈیکل ایگزامینر) کو طلب کرنے کا حکم دیا۔

 

لاش جس مقام پر پڑی تھی، وہ ایک تنگ سی پگڈنڈی تھی جو قریب ہی بنے ہوئے لکڑی کے ایک چھوٹے سے دو منزلہ مکان کے صدر دَروازے پر ختم ہوتی تھی۔
یہ مکان برسٹل کے نواحی علاقے میں تھا اور یہاں آبادی زیادہ نہ تھی۔
اِکّا دُکّا مکانات تھے اور وُہ بھی ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر۔ مکان میں برقی روشنی ہو رہی تھی، لیکن کھڑکیوں پر پردے کھینچ دیے گئے تھے۔

چیف آفیسر پگڈنڈی پر چلتا ہوا مکان کے دروازے تک گیا اور زور سے دستک دی۔ ایک ادھیڑ عمر کی عورت، اپنی ڈھلکی ہوئی چھاتیوں پر چادر اَوڑھے ہوئے دروازہ کھولنے آئی۔ اُس نے اپنا نام مسز نومی کوسٹلیگن بتایا۔

’’مسز نومی! آپ کو اِس وقت کیسے پتہ چلا کہ مکان سے باہر ایک عورت کی لاش پڑی ہے؟‘‘ پولیس افسر نے دریافت کیا۔

اِس سوال پر عورت کچھ پریشان سی نظر آئی، لیکن سنبھل کر بولی:

’’صاحب! بات دراصل یہ ہے کہ کرسمس کی آخری شب کو ہر سال میرے ہاں دوستوں کی ایک محفل منعقد ہوتی ہے جس میں سب لوگ رات گئے تک مبارک باد کے گیت گاتے ہیں.
میرے لیے اکثر تحفے تحائف بھی لاتے ہیں، چنانچہ مہمانوں کو رخصت کرنے کے بعد مَیں نے تحفوں کے بنڈل کھولے اور اُوپر کے کاغذ اور گتّے کے ڈبے باہر پھینکنے کے لیے جب مَیں مکان سے نکلی، تو میری نظر اُس لاش پر پڑی۔
پہلے تو مَیں سمجھی کہ کوئی عورت برف پر پھسل کر گر پڑی ہے اور یہ سوچ کر کہ مَیں اُس کی کچھ مدد کر سکوں، جب قریب پہنچی، تو دیکھا وہ مُردہ تھی۔ پھر مَیں نے واپس آ کر پولیس کو فون کر دیا۔‘‘

’’کیا آپ نے اُس کے چہرے کو اچھی طرح دیکھا تھا؟‘‘ پولیس افسر نے سوال کیا۔

’’جی ہاں! مَیں نے اُسے بغور دَیکھا تھا، مگر مَیں اُسے پہچان نہیں سکی کہ وہ کون ہے۔
بہرحال وہ ہمارے علاقے کی رہنے والی معلوم نہیں ہوتی، ورنہ مَیں اُسے پہلے کہیں نہ کہیں ضرور دَیکھ چکی ہوتی۔‘‘

’’کیا آپ نے شام کے وقت مکان سے باہر کسی کار کے رکنے کی آواز تو نہیں سنی تھی؟‘‘

’’جی نہیں! مَیں نے کسی کار کی آواز نہیں سنی۔ اگر کوئی کار قریب رکتی، تو یقین کیجیے مَیں اُس کی آواز ضرور سن لیتی۔
بات دراصل یہ ہے کہ اِس علاقے میں بہت کم لوگ کاریں لے کر آتے ہیں اور خاص طور پر اِس برف باری کے موسم میں تو کار کا لانا بڑا مشکل ہے۔
ویسے بھی سرِشام یہ علاقہ سنسان ہو جاتا ہے، اگر کوئی کار آتی، تو مجھے ضرور پتا چل جاتا۔‘‘

اِس اثناء میں طبی معائنہ کار موقعٔ واردات پر پہنچ گیا۔ چیف کانسٹیبل مسٹر کرالے نے مسز نومی کے مکان سے فون کر کے سراغ رساں وِلیم اور آرتھر کو طلب کیا۔
اُس کے بعد اُس نے ہارڈ فورڈ پولیس اسٹیشن سے سراغ رساں جان ریرڈن کو بھی وہاں آنے کی دعوت دی۔
اِس کام سے فارغ ہو کر وہ باہر نکلا اور لاش کے پاس گیا جہاں طبی معائنہ کار اُسے دیکھ رہا تھا۔

’’کہیے ڈاکٹر صاحب! کیا آپ کی رائے میں اِسے قتل کیا گیا ہے؟‘‘ چیف نے پوچھا۔

’’یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے؟‘‘ ڈاکٹر نے کہا۔
’’ہرچند مَیں نے لاش کا سرسری معائنہ کیا ہے، لیکن اِس کی ظاہری حالت، چہرے اور گلے پر خراشوں کے نشانات صاف بتا رہے ہیں کہ اِس کا گلا گھونٹا گیا ہے۔‘‘

اتنی دیر میں سرجنٹ جیکسن اور گشتی افسر گردونواح میں گھوم پھر کر واپس پلٹ آئے۔ اُنھوں نے بتایا کہ اِس حلیے کی عورت کو یہاں کوئی نہیں جانتا۔ چیف نے ڈاکٹر سے پوچھا:

’’آپ کی رائے میں عورت کو کس وقت ہلاک کیا گیا ہو گا؟‘‘

’’میرا خیال ہے کہ آدھی رات سے ذرا قبل ہی یہ واردات ہوئی ہے۔‘‘ ڈاکٹر نے کہا۔
دفعتاً اُس کے چہرے پر حیرت کے آثار نمودار ہوئے اور وُہ بولا ’’لیکن ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ یہ لباس جو عورت کے بدن پر ہے، وہ اس کے جسم پر فٹ نہیں بیٹھتا۔
یہ بہت چست ہے اور سستے کپڑے کا ہے، حالانکہ اس لباس کے اوپر پہنا ہوا فَر کا کوٹ خاصا قیمتی ہے۔‘‘

چیف کانسٹیبل نے بھی اِس عجیب صورت کو محسوس کیا اور کہا کہ بےشک یہ لباس اِس عورت کا نہیں ہو سکتا۔ لاش کے معائنے کے بعد میڈیکل افسر نے حکم دیا کہ اِسے اوبرن کے اسپتال میں بھیج دیا جائے جہاں وہ کارونر کے سامنے اِس کا پوسٹ مارٹم کرے گا۔
لاش جس مقام پر ملی تھی، اُس کے اردگرد کا ایک ایک چپّہ پولیس نے چھان مارا، لیکن کوئی سراغ نہ ملا اور نہ اُنھیں مقتولہ کا پرس ہی کہیں پڑا ملا جس کی اُنھیں خاص طور پر تلاش تھی۔
صبح تک کی چھان بین اور تحقیق کے باوجود مقتولہ کی شناخت نہیں ہو سکی۔
اُسی روز صبح آٹھ بجے جبکہ لاش کا پوسٹ مارٹم کیا جانے والا تھا، اسپتال کے ایک اٹینڈنٹ افسر مسٹر انتھونی نے لاش کو بغور دَیکھنے کے بعد کہا:

’’مجھے یقین ہے کہ اِس عورت کو مَیں پہلے کہیں دیکھ چکا ہوں۔‘‘

جب اُس سے مزید پوچھ گچھ کی گئی اور کہا گیا کہ وہ ذہن پر زور دَے کر یاد کرے کہ اُس نے مقتولہ کو کہاں دیکھا تھا، تو مسٹر انتھونی نے بتایا کہ مقتولہ اُسی علاقے کی رہنے والی معلوم ہوتی ہے جہاں سے وہ خود آیا ہے یعنی پلین ولی کے نزدیک ہی کہیں رہتی تھی،
کیونکہ انتھونی اُسے مین اسٹریٹ میں کئی بار خریداری کرتے ہوئے دیکھ چکا تھا۔ البتہ اُسے مقتولہ کا پتہ اور نام معلوم نہ تھا۔
مسٹر انتھونی کا بیان جب ہارڈ فورڈ پولیس افسروں تک پہنچا، تو اُنھوں نے چار سراغ رسانوں کو مقتولہ کی شناخت کرنے پر مقرر کیا۔ یہ لوگ اکٹھے ہو کر پلین ولی گئے اور وَہاں کے تھانےدار سے معلومات حاصل کرنے لگے۔

اُدھر برسٹل میں چیف کانسٹیبل مسٹر کرالے نے پولیس پیتھالوجسٹ مسٹر جوزف بوچ مین سے کیس پر گفتگو کی۔ مسٹر جوزف نے لاش کے پوسٹ مارٹم میں بھی شرکت کی تھی۔
اُس نے چیف کانسٹیبل کو بتایا کہ جس شخص نے عورت کا گلا گھونٹا، وہ غیرمعمولی طور پر طاقت ور تھا۔ مقتولہ نے اپنی زندگی بچانے کے لیے بڑی جدوجہد کی تھی، لیکن قاتل کی فولادی انگلیاں اُس کی جان لے کر رہیں۔
یہ عین ممکن ہے کہ قاتل کے چہرے اور بازوؤں پر عورت کے ناخنوں کی خراشیں موجود ہوں۔
ڈاکٹر نے کہا مجھے یقین ہے کہ عورت نے ایک سے زائد مرتبہ قاتل کے بازو پر دانتوں سے کاٹا بھی تھا۔
یہ تمام نشانات قاتل کو شناخت کرنے میں بڑی مدد دَے سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ ایک چیز اور ہے جو مقتولہ کی شناخت میں مدد دَے سکتی ہے اور وُہ یہ کہ مقتولہ آنکھوں پر عینک لگایا کرتی تھی۔

یہ سن کر مسٹر کرالے کو یاد آیا کہ جب لاش ملی تھی، تو اُس کے گرد کوئی عینک نہیں پائی گئی۔ ڈاکٹر نے کہا عینک ضرور تلاش کیجیے۔
وہ ضرور کش مکش کے دوران کہیں گری ہو گی۔ سمجھ لیجیے کہ جہاں عینک ملے، وہیں یہ واردات وقوع پذیر ہوئی ہے۔ اُس کے بعد گفتگو مقتولہ کے لباس پر منتقل ہو گئی۔
پولیس افسر نے کہا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ لباس کسی اور ہی عورت کا ہے اور مقتولہ کا اپنا لباس کہیں چھپا دیا گیا ہے۔

’’یہ بھی ممکن ہے کہ وہ لباس مقتولہ کا اپنا ہی ہو۔ بعض اوقات عورتیں جلدی میں اپنے پرانے کپڑے پہن لیتی ہیں۔‘‘ ایک سراغ رساں نے اپنی رائے ظاہر کی۔

’’جی نہیں! کرسمس کی تقریبات کے موقع پر کوئی عورت پرانا لباس ہرگز نہیں پہنا کرتی۔ غریب سے غریب عورت بھی یہ کوشش کرتی ہے کہ وہ کرسمس پر بہتر سے بہتر لباس پہنے۔‘‘
ڈاکٹر نے معقول جواب دیا۔ اتنے میں خبر آئی کہ جو پولیس افسران مسز کوسٹلیگن کے مکان کے اردگرد

 علاقے کی چھان بین کرنے گئے تھے، اُنھیں کچھ کامیابی ہوئی ہے۔ مکان کے پچھواڑے کچھ فاصلے پر جہاں چاروں طرف جنگل ہی جنگل ہے، ایک گیراج واقع ہے۔ گھاس کے ایک ڈھیر میں سے مقتولہ کی ٹوٹی ہوئی عینک دستیاب ہو گئی ہے۔
اندازہ یہ ہے کہ عورت کو جنگل میں ہلاک کیا گیا ہے اور بعدازاں لاش کو مسز کوسٹلیگن کے مکان کے قریب ڈال دیا گیا تھا۔

کار کا گیراج مسز کوسٹلیگن کے مکان کی پشت پر بنا تھا۔ پولیس والے جب گیراج کا دروازہ کھول کر اندر گئے، تو اُنھیں سیاہ رَنگ کی ایک پلے ملے کار نظر آئی۔
گاڑی کے دروازے معمولی طور پر بند کیے گئے تھے اور اُن میں قفل نہیں لگایا گیا تھا۔ پولیس افسروں نے کار کا دروازہ کھول کر اندر جھانکا، تو اُنھیں پچھلی نشست پر بیس ڈالر کا ایک بِل اور لپ اسٹک کی ڈبیا ملی۔
کار کی کھڑکی کے پاس اُنھیں بھورے رنگ کے چند لمبے لمبے بال بھی ملے اور ایک نظر دیکھتے ہی اُنھیں احساس ہوا کہ یہ بال مقتولہ کے بالوں سے کافی مشابہت رکھتے ہیں۔
کار کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے وہ ایک مرتبہ پھر مسز نومی کوسٹلیگن کے پاس پہنچے اور اُس سے پوچھا کہ کار کا مالک کون ہے؟ عورت نے کہا:

’’یہ کار میری نہیں ہے۔ لیکن مجھے معلوم ہے کہ یہ کس کی ملکیت ہے۔ میرے پڑوس میں ایک شخص آرتھر رہتا ہے۔ واردات سے ایک رات پیشتر اُس نے گیراج کرائے پر لے کر کار اُس میں کھڑی کی تھی۔‘‘

اِس بیان پر پولیس والے آرتھر کی تلاش میں نکلے۔ آرتھر نے کہا کہ جب سے کار گیراج میں رکھی گئی ہے، اُس وقت سے اِس لمحے تک مَیں نے اُسے استعمال نہیں کیا۔
اُس نے بھورے بالوں، لپ اسٹک کی ڈبیا، بیس ڈالر کے بِل اور ٹوٹی ہوئی عینک کے بارے میں قطعی لاعلمی کا اظہار کیا اور بتایا کہ گیراج کا دروازہ مقفّل نہیں ہوتا۔
لہٰذا کوئی بھی شخص گاڑی استعمال کر سکتا تھا۔ اُس کے بعد آرتھر نے گزشتہ روز اپنی مصروفیت کے بارے میں ایک ایک منٹ کا حساب پولیس والوں کو دیا۔
پولیس نے اُس کے بیان پر تحقیق کی، تو اُسے درست پایا۔ لہٰذا اِس واردات میں آرتھر کا ملّوث نہ ہونا ثابت ہو گیا، کیونکہ وہ وَاردات کے وقت برسٹل میں موجود ہی نہ تھا۔

اِس تفتیش سے فارغ ہو کر پولیس پھر مسز کوسٹلیگن کے پاس گئی اور اُس سے پوچھا:

’’کیا آپ کو کامل یقین ہے کہ مکان سے باہر دس بجے رات کے بعد کوئی کار نہیں ٹھہری تھی؟‘‘

عورت نے اپنا وہی بیان دہرایا جو وہ پہلے پویس کو دے چکی تھی اور کہا کہ اگر کوئی کار رُکتی، تو وہ اُسے ضرور دَیکھ لیتی۔ البتہ اُس نے کہا کہ چونکہ گیراج مکان کے پچھواڑے واقع ہے، اِس لیے اگر کوئی کار وَہاں رکتی، تو مَیں اُس کی آواز نہ سن سکتی تھی۔
وَہاں سے ہر شخص بآسانی کار لے جا سکتا ہے۔ پولیس والوں نے گیراج کے اردگرد ہر جگہ کو غور سے دیکھا۔ آخر کئی سو فٹ دور جنگل میں اُنھیں ایک مقام پر زنانہ پرس پڑا ملا۔
اُنھوں نے پرس کھولا، تو خالی تھا۔ ایک پولیس افسر نے مزاحیہ انداز میں کہا:

’’میری زندگی میں یہ پہلا موقع ہے کہ مَیں کسی عورت کا پرس خالی دیکھ رہا ہوں۔‘‘
پرس کے ایک خفیہ خانے سے کاغذ کی ایک لمبی سی سلپ بھی برآمد ہوئی جس پر ترتیب وار چند رقمیں درج تھیں۔ اُس فہرست کے اوپر ایک نام تحریر تھا جو بڑی کوشش کے بعد پڑھا گیا۔ وہ نام تھا ’’رچ‘‘۔

’’ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اِس کاغذ پر تنخواہوں وغیرہ کا حساب کتاب نوٹ کیا گیا ہے۔‘‘
ایک سراغ رساں نے رائے ظاہر کی….. اور دُوسروں نے اُس سے اتفاق کیا۔ اچانک ایک افسر کی نظریں قریب ہی کھدے ہوئے ایک گہرے گڑھے پر پڑیں جسے رات بھر گرنے والی برف نے ڈھانپنے کی ناکام کوشش کی تھی۔
اُنھوں نے قریب جا کر اُس ’’قبر‘‘ کا معائنہ کیا۔

’’آہ….. یوں معلوم ہوتا ہے کہ قاتل نے لاش کو دبانے کے لیے یہ گڑھا کھودا تھا، لیکن کسی خاص سبب کے باعث اُس نے لاش کو پھر گڑھے سے نکالا اور وُہ اُسے مکان کے قریب پھینک کر فرار ہو گیا۔‘‘

چیف کانسٹیبل نے کہا:

’’جناب! آپ بھول رہے ہیں۔ جب ہم نے مقتولہ کی لاش کا معائنہ کیا تھا، تو اُس وقت اُس کے کپڑے قطعی صاف ستھرے تھے۔ اُن پر خون یا مٹی کا کوئی داغ موجود نہ تھا۔
اگر وہ اِس گڑھے میں دفن کیے جانے کے بعد دوبارہ نکال کر وہاں ڈالی جاتی، تو اُس کے کپڑے مٹی میں لت پت ضرور ہوتے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔
اِس کا مطلب سوائے اِس کے اور کیا ہے کہ قاتل کو کسی وجہ سے لاش دبانے کا موقع ہی نہیں ملا۔‘‘

اُسی روز دوپہر کو تین بجے پولیس کو لاش کے پوسٹ مارٹم کی مکمل رپورٹ ملی۔ جس کا خلاصہ یہ تھا کہ

’’عورت سے جبراً بدفعلی کی گئی ہے اور بعدازاں اُس کا گلا گھونٹ دیا گیا اور مقتولہ جان کنی کے عالم میں دم توڑ گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک سے زیادہ اَفراد نے مقتولہ کے ساتھ جبراً اپنی نفسانی خواہش کو پورا کرنے کا ارتکاب کیا ہے۔‘‘

اُس سے اگلے روز پولیس کو سرجنٹ انتھونی نے پلین ولی قصبے سے اطلاع دی کہ مقتولہ کو شناخت کر لیا گیا ہے۔ اُس کا نام ’’رچ‘‘ تھا۔
وہ شادی شدہ تھی اور اُس کے والدین اپنی لڑکی کی ’’گم شدگی‘‘ پر بڑے پریشان ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ لڑکی کرسمس کے روز گھر سے گئی تھی اور اَب تک واپس نہیں آئی۔
اُنھوں نے اپنی لڑکی کا جو حلیہ بتایا، وہ مقتولہ سے کافی مشابہت رکھتا تھا۔
بہرحال مقتولہ کے والدین کو اُس کی موت کی اطلاع دے دی گئی ہے۔ مقتولہ کے والدین نے پولیس کو بتایا کہ لڑکی کا پورا نام للین جارج رچ تھا اور حال ہی میں اُس کی شادی ایک ۲۹ برس کے شخص ہیرلڈ بریکٹ سے ہوئی تھی، لیکن باہمی اختلافات پیدا ہونے کے باعث وہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گئے۔
للین اپنے والدین کے گھر رہنے لگی اور بعدازاں اُسے راک ویلز آرمر کمپنی میں ملازمت مل گئی۔ اُس کا خاوند اپنی والدہ کے ہمراہ سٹار فورڈ میں رہتا ہے۔

مقتولہ کے والدین سے جب دریافت کیا گیا کہ کیا اُنھیں معلوم ہے کہ لڑکی کرسمس کے روز کس شخص کے ساتھ باہر گئی تھی؟
تو اُنھوں نے کہا ہمیں بالکل معلوم نہیں کہ اُس کے ساتھ کون تھا اور وُہ کہاں کہاں گئی۔
یہاں سے فارغ ہو کر پولیس آرمر کمپنی کے مینیجر کے پاس پہنچی اور مقتولہ کے ہینڈ بیگ میں سے جو سلپ نکلی تھی، وہ اُسے دکھائی۔

اُس نے جواب دیا کہ بےشک اِس حلیے اور اِس نام کی ایک لڑکی ہماری کمپنی میں ملازم تھی ۔
اِس کاغذ پر اُس کی اُن تنخواہوں کا حساب تحریر ہے جو وہ کمپنی سے وصول کرتی رہی ہے۔
پولیس نے مینیجر سے جب دریافت کیا کہ کیا لڑکی کا رومان کمپنی میں کسی سے چل رہا تھا؟ تو اُس نے نفی میں جواب دیا۔

اب مقتولہ کے خاوند کی باری آئی۔ جب پولیس اُس کے گھر پہنچی، تو وہ وَہاں موجود نہ تھا۔ ہیرلڈ کی والدہ نے بتایا کہ وہ گزشتہ رات سے اب تک گھر واپس نہیں آیا ہے۔
ابھی بوڑھی عورت سے پوچھ گچھ جاری تھی کہ ایک شخص کمرے میں داخل ہوا۔ ہیرلڈ نے جب پولیس افسروں کو اپنے گھر میں پایا، تو اُسے سخت تعجب ہوا۔
اُسے للین کے قتل کی اطلاع دی گئی، تو وہ پولیس کے ساتھ مردہ خانے میں جا کر مقتولہ کو شناخت کرنے پر رضامند ہو گیا۔ لاش کو ایک نظر دیکھتے ہی وہ چلّا اُٹھا:

’’ہاں یہ وہی ہے….. میری بدنصیب بیوی۔‘‘

بعدازاں اُس نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہماری حال ہی میں شادی ہوئی تھی، لیکن بدقسمتی سے ہمارے مزاج نہیں مل سکے۔
اِس سے پیشتر کہ ہم دونوں کے تعلقات میں تلخی پیدا ہو، ہم ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گئے۔ بہرحال مَیں اُس کا دشمن نہ تھا اور نہ وہ مجھ سے نفرت کرتی تھی، اِس لیے مَیں اُسے قتل کیوں کرتا؟

اِس کے بعد ہیرالڈ نے اپنی گزشتہ روز کی سرگرمیوں اور مصروفیات کا ذکر کیا اور بتایا کہ وہ کہاں کہاں گیا۔
پولیس نے اُس کے بیان کی تحقیق کی، تو اُسے درست پایا، چنانچہ ہیرالڈ کو بھی اپنی بیوی کے قتل سے بری الذمہ قرار دَے دیا گیا۔ اب پولیس کے سامنے صرف یہی سوال تھا کہ کرسمس کی شب مقتولہ کن لوگوں کے ہمراہ باہر گئی تھی؟
اِس مقصد کے لیے پولیس نے پلین ولی کے تمام ریستورانوں اور کیفوں کو یکے بعد دیگرے چیک کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن اِس تفتیش کا بھی کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔

کرسمس کی تقریبات پر ہوٹل اور کیفے مرد عورتوں سے بھرے ہوتے ہیں اور بیروں اور ویٹروں کو اِتنی فرصت نہیں ہوتی کہ ہر گاہک کا حلیہ یاد کرتے رہیں۔
آخر پولیس اِس راہ پر مایوس ہو گئی، لیکن چند دنوں بعد ہی امید کی ایک ہلکی سی کرن دکھائی دی۔

ایک روز پولیس کے دو سپاہی وہسکی کے دو گھونٹ چڑھانے کے لیے پلین ولی کے ایک چھوٹے سے شراب خانے میں گئے۔ ایک نوجوان ویٹرس جب شراب کے گلاس لے کر اُن کی میز پر آئی، تو ایک سپاہی نے یونہی گفتگو چھیڑنے کی خاطر اُس سے پوچھا:

’’کیا تم للین بریکٹ نام کی کسی لڑکی کو جانتی ہو؟‘‘

’’ہاں! مَیں جانتی ہوں۔‘‘ ویٹرس نے جواب دیا۔

’’کیا وہ کرسمس کی رات کو یہاں آئی تھی؟‘‘

’’جی ہاں!‘‘

’’تنہا؟‘‘

’’جی نہیں! جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، اُس کے ساتھ دو نوجوان بھی تھے جنہیں مَیں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ اُس روز یہاں بھیڑ بہت تھی۔ اِس لیے اُن نوجوانوں کو غور سے دیکھنے اور بات کرنے کا مجھے موقع نہیں ملا۔
وہ تینوں نو بجے رات کو یہاں سے چلے گئے تھے۔‘‘

’’تمہاری رائے میں ہوٹل سے نکل کر وہ کہاں گئے ہوں گے؟‘‘ سپاہی نے پوچھا۔

شراب خانے کا مالک جو اُن دونوں کی گفتگو دلچسپی سے سن رہا تھا، فوراً آگے آیا اور کہنے لگا:

’’جناب! مَیں اُن نوجوانوں کو پہچانتا ہوں۔
بات دراصل یہ تھی کہ اُس روز دونوں نوجوان حد سے زیادہ پی گئے تھے اور اَپنے آپے میں نہ تھے اور ایک دوسرے سے فحش مذاق کر رہے تھے۔
مَیں نے اُن سے کہا کہ وہ باہر چلے جائیں اور یہاں ہنگامہ نہ کریں۔ ایک ٹیکسی ڈرائیور شراب خانے کے باہر موجود تھا۔ مَیں نے اُس سے کہا کہ اِن شرابیوں کو لے جا کر کہیں چھوڑ آؤ۔‘‘

’’آپ اُس ٹیکسی ڈرائیور کو کسی طریقے سے بلوا سکتے ہیں؟‘‘ سپاہیوں نے پوچھا۔

’’آپ ذرا ٹھہریے، مَیں دیکھتا ہوں۔ شاید وہ اَب بھی باہر موجود ہو۔‘‘
یہ کہہ کر وہ باہر نکلا اور چند لمحوں بعد ایک پستہ قد ٹیکسی ڈرائیور اَندر دَاخل ہوا۔ اُس نے سپاہیوں کے دریافت کرنے پر تسلیم کیا کہ بےشک وہ کرسمس کی رات کو اِس شراب خانے سے ایک لڑکی اور دو آدمیوں کو اَپنی ٹیکسی میں لے گیا تھا۔
دونوں آدمی شراب کے نشے میں دھت تھے اور لڑکی سے چھیڑچھاڑ کر رہے تھے۔ وہ بار بار اُن سے کہہ رہی تھی کہ ’’خدا کے لیے مجھے تنگ نہ کرو۔ مجھے میرے گھر چھوڑ آؤ۔‘‘

’’تم نے اُن تینوں کو کس جگہ ٹیکسی سے اتارا تھا؟‘‘

’’مَیں اُنھیں برسٹل لے گیا اور جوزف سٹریٹ کی نکڑ پر اُتار دِیا تھا۔‘‘

’’کیا لڑکی اُس وقت تک زندہ تھی؟ تمہیں خوب یاد ہے کہ اُنھوں نے اُسے کار میں سے بےہوشی کی حالت میں نہیں اتارا تھا؟‘‘

’’جناب! مَیں مسیح کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ لڑکی اُس وقت تک زندہ سلامت تھی۔ وہ خود ٹیکسی سے نکلی تھی۔‘‘

’’اچھا یہ بتاؤ کہ ٹیکسی سے اترنے کے بعد وہ تینوں کدھر گئے تھے؟‘‘

’’مَیں نے دیکھا کہ وہ ایک گلی کی طرف مڑ گئے اور پھر گلی سے نکل کر مَیں نے اُنھیں جنگل کی طرف جاتے دیکھا۔ عورت اُن کے ہمراہ تھی۔ پھر مَیں واپس چلا آیا۔ بس اتنی سی بات ہے۔‘‘

پولیس کے سپاہیوں نے ٹیکسی ڈرائیور کو اَپنے ساتھ لیا اور اُسے تھانے لے گئے۔ وہاں بھی اعلیٰ افسروں کے سامنے اُس نے وہی کہانی دہرائی جو وہ پہلے بیان کر چکا تھا ۔
اِتنا مزید اضافہ کیا کہ اگرچہ وہ اُن دونوں آدمیوں کو نہیں جانتا لیکن اُن میں سے ایک شخص اپنے حلیے اور چال ڈھال سے کوئی پیشہ ور بدمعاش معلوم ہوتا تھا۔

اِس انکشاف پر ڈرائیور کو ایک اور کمرے میں لے جایا گیا اور اُس کے سامنے بےشمار بدمعاشوں اور قاتلوںکی تصویروں کے البم ڈال دیے گئے اور اُس سے کہا گیا کہ وہ اِن تصویروں میں اُس ’’بدمعاش‘‘ کو شناخت کرے۔ بےچارہ ڈرائیور رات گئے تک اُن تصویروں کو دیکھتا رہا، لیکن اُن میں سے اُسے اُس بدمعاش کی تصویر نہ ملی جسے وہ اَپنی ٹیکسی میں لے گیا تھا۔
یہاں سے مایوس ہو کر پولیس نے اُسے برسٹل کے پولیس سٹیشن بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ پولیس کا خیال تھا کہ اگر وہ وَاقعی کوئی بدمعاش ہے، تو اُس کی تصویر ضرور برسٹل کے تھانے میں ہو گی۔

برسٹل کے تھانے میں بدمعاشوں کی تصویروں پر مشتمل پہلی البم دیکھتے ہی ڈرائیور چلّا اٹھا:

’’یہ ہے وہ بدمعاش جسے مَیں ایک نوجوان اور مقتولہ کے ساتھ اپنی ٹیکسی میں لے گیا تھا۔‘‘

اُس تصویر کی پشت پر اُس شخص کانام جوزف ولیم تھیرین، عمر ۲۲ برس اور پتا اُسی مکان کا درج تھا جہاں مسز نومی کوسٹلیگن رہتی تھی۔
جس نے سب سے پہلے مقتولہ کی لاش دیکھ کر پولیس کو فون پر اطلاع دی تھی۔ یہ انکشاف پولیس کے لیے کافی ہیجان خیز ثابت ہوا۔
اب پہلی مرتبہ پولیس کو اِحساس ہوا کہ مسز کوسٹلیگن اُن کے ساتھ فریب کرتی رہی ہے ۔
اُس نے شروع سے آخر تک پولیس کو مغالطے میں رکھنے کے لیے جھوٹ پر جھوٹ بولا ہے۔
چنانچہ پولیس افسران تلملاتے ہوئے ایک مرتبہ پھر اُسی مکان پر پہنچے اور مسز کوسٹلیگن سے صحیح صحیح بات بتانے کے لیے کہا۔

پہلے تو مسز کوسٹلیگن نے صاف انکار کیا اور کہا کہ مجھے جو کچھ معلوم تھا، وہ مَیں پہلے بتا چکی ہوں۔
اِس سے زیادہ مجھے کچھ پتا نہیں، لیکن جب پولیس والوں نے اُسے لال پیلی آنکھیں دکھائیں اور ’’تھرڈ ڈگری‘‘ استعمال کرنے کی دھمکی دی، تو مسز کوسٹلیگن کا چہرہ دُھلے ہوئے کپڑے کی طرح سفید پڑ گیا۔

اتنے میں پولیس چیف کانسٹیبل نے ایک ’’بم‘‘ اور پھینکا اور سپاہیوں کو حکم دیا
’’فوراً پورے مکان کی تلاشی لی جائے۔‘‘

مکان کی تلاشی شروع ہوئی۔ ایک سپاہی کو نچلی منزل کی کوٹھڑی میں سے ایک سوشل سکیورٹی کارڈ پڑا ملا جو للین رچ بریکٹ کے نام پر جاری کیا گیا تھا۔
تھوڑی سی تلاش کے بعد ایک اور کمرے سے ایک سُوٹ کیس دستیاب ہوا۔
اُسے جب کھولا گیا، تو اُس میں سے ایک زنانہ لباس مٹی میں لت پت پایا گیا۔
اُس لباس پر جابجا خون کے دھبے بھی موجود تھے۔

’’آہ….. یہ ہے وہ لباس جو بدنصیب لڑکی واردات کے وقت پہنے ہوئے تھی۔‘‘ ایک سارجنٹ نے کہا۔
’’اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ پہلے لاش کو اِسی لباس میں ’’قبر‘‘ کے اندر دَفن کیا گیا اور بعدازاں اُس کے کپڑے تبدیل کر کے اُسے باہر پھینک دیا گیا۔
بالکل یہی بات ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ دوسرا لباس کس کا تھا؟ اِس کا جواب تو مسز کوسٹلیگن ہی دیں گی۔ کیوں محترمہ! اب بھی آپ زبان کھولنے پر تیار ہیں یا ہم ہاتھ دکھائیں؟‘‘

’’مَیں سب کچھ بتانے کے لیے تیار ہوں۔‘‘ عورت نے خوف سے کانپتے ہوئے کہا۔
’’لیکن آپ میری کسی بات پر یقین نہیں کریں گے۔‘‘
’’آپ منہ سے کچھ بولیے تو سہی۔‘‘ چیف آفیسر نے ڈانٹ کر کہا۔

’’جوزف تھیرین گزشتہ تین سال سے میرے مکان میں رہائش پزیر تھا۔‘‘ عورت نے کہنا شروع کیا۔
’’کرسمس کی شب کو تقریباً نو بجے وہ جارج جیمز اور ایک اجنبی لڑکی کے ہمراہ مکان پر واپس آیا۔ دونوں لڑکے شراب کے نشے میں دُھت تھے۔
اُن کی حرکات و سکنات اتنی وحشیانہ تھیں کہ مَیں نے اُنھیں گھر سے چلے جانے کے لیے کہا۔
اُن کی ہمراہی لڑکی رو رَہی تھی اور وَاپس اپنے گھر جانے کے لیے ضد کر رہی تھی، لیکن لڑکے اُسے زبردستی روکے ہوئے تھے۔
میرے زور دَینے پر وہ پچھلے دروازے سے لڑکی کو لے کر باہر چلے گئے۔ پھر مَیں اپنے بستر پر لیٹ گئی…..‘‘

’’اور تم تو کہتی تھیں کہ اُس رات تمہارے ہاں مہمان آئے تھے؟‘‘ چیف نے طنزیہ انداز میں کہا۔

’’جی نہیں! مَیں نے غلط کہا تھا۔ یہاں کوئی نہیں آتا….. مَیں کہہ رہی تھی کہ مَیں اپنے بستر پر لیٹ گئی اور پھر میری آنکھ لگ گئی۔
خدا جانے مَیں کتنی دیر سوئی ہوں گی کہ جوزف تھیرین کی آواز سن کر میری آنکھ کھل گئی۔ وہ کہہ رہا تھا کہ’ ’کیا مَیں بتی روشن کر دوں؟ مَیں تم سے ایک بہت ضروری بات کہنا چاہتا ہوں۔‘‘

’’کیا یہ گفتگو تمہاری خواب گاہ میں ہوئی تھی؟‘‘ پولیس افسر نے پوچھا۔

’’جی ہاں! میرے پلنگ کے قریب ہی وہ ایک صوفے پر بیٹھ گیا۔ اُس وقت اُس کا سارا نشہ اتر چکا تھا۔
اُس نے مجھ سے کہا ’تمہیں معلوم ہے کہ جیمز اور مَیں ایک لڑکی کے ساتھ ٹیکسی میں بیٹھ کر یہاں آئے تھے۔
پھر ہم گیراج میں کھڑی ہوئی کار کے اندر اُسے لے گئے اور ہم نے زبردستی اُس سے اپنی خواہش پوری کی…..
اور اِسی دوران وہ مر گئی۔‘
مَیں نے پوچھا ’تم نے لاش کے ساتھ کیا سلوک کیا؟‘
اُس نے جواب دیا ’مَیں نے جنگل میں گڑھا کھود کر اُسے دبا دیا ہے۔‘
مَیں نے کہا ’خدا کی پناہ….. کیا پتا وہ لڑکی مری نہ ہو، صرف بےہوش ہو۔
جاؤ اُسے فوراً نکال لاؤ۔ مَیں اُسے دیکھنا چاہتی ہوں۔‘‘
اُس نے کہا ’مَیں اب اُسے چُھونا نہیں چاہتا، مجھے اُس سے خوف آتا ہے۔‘

’’مَیں بستر سے اٹھ کر نچلی منزل میں گئی، تو مَیں نے جارج جیمز کو ایک کرسی پر سوتے ہوئے پایا۔
مَیں نے اُسے جگایا اور لڑکی کی لاش لانے کے لیے کہا، لیکن وہ اِصرار کرتا تھا کہ جوزف بھی اُس کے ساتھ جائے، ورنہ وُہ اکیلا نہیں جائے گا۔
ابھی یہ بحث ہو رہی تھی کہ جوزف تھیرین اپنے بازوؤں پر مردہ لڑکی کو اٹھائے مکان میں داخل ہوا۔
لڑکی بالکل برہنہ تھی اور اُس کا تمام بدن کیچڑ میں لت پت ہو رہا تھا۔
ایک نظر دیکھتے ہی مجھے پتا چل گیا کہ لڑکی مر چکی ہے۔

’’بعدازاں جوزف لاش کو لیے ہوئے مکان کے غسل خانے میں گیا اور اُس پانی کے ٹب میں ڈال دیا۔ پھر اُس نے نل کھول دیا اور لڑکی کا جسم صاف کرنے لگا۔
لاش کو غسل دینے کے بعد اُس نے جسم خشک کرنے کے لیے مجھ سے کوئی کپڑا مانگا۔
مَیں نے اُسے ایک پرانا کمبل لا کر دیا۔
جوزف نے کمبل سے لاش کا جسم خشک کیا اور اُسے باورچی خانے میں لے گیا۔ پھر اُس نے مجھ سے کہا کہ اِسے پہنانے کے لیے کچھ کپڑے دو۔‘‘

’’اور تم نے اُسے اپنا ایک پرانا لباس لا کر دیا۔‘‘ پولیس افسر نے فوراً کہا۔

’’جی ہاں! میرا ایک پرانا لباس لاش کو پہنا کر جوزف نے اُسے پھر کندھے پر اٹھایا ،
پچھلے دروازے سے باہر نکل کر اُسے پگڈنڈی کے آخری سرے پر ڈال دیا۔
دراصل مَیں نے جوزف کو یہ ترکیب بتائی تھی اور اُسے کہا تھا کہ
مَیں پولیس کو لاش دیکھے جانے کی اطلاع دے دوں گی۔
چنانچہ آپ لوگ جب میرے اطلاع کرنے پر یہاں آئے،
تو اُس وقت بھی جوزف اور جارج یہاں چھپے ہوئے تھے اور پھر دن کے دو بجے وہ چپکے سے فرار ہو گئے۔
جانے سے پیشتر جوزف نے مجھے مقتولہ کے کپڑوں کا ایک بنڈل دیا
جو خاک و خون میں لت پت تھا۔ مَیں نے اُن کپڑوں کو اِس بکس میں بند کر دیا۔‘‘

’’تم نے اُنھیں بچانے کی کوشش کیوں کی؟‘‘ پولیس نے پوچھا۔

’’جوزف دراصل میری لڑکی سے منسوب تھا اور مَیں چاہتی تھی کہ وہ میری بیٹی سے شادی کرے۔‘‘

بعدازاں اُس نے پولیس کو وہ کوٹھڑی دکھائی جہاں دونوں مجرم چھپے رہے تھے۔
اُس جگہ سے دو بھری ہوئی رائفلیں بھی دستیاب ہوئیں
جو اُنھوں نے پولیس پر استعمال کرنے کے لیے تیار کی تھیں، لیکن اُنھیں چلانے کی ہمت نہ ہوئی۔
مسز کوسٹلیگن کو پولیس نے حراست میں لے لیا اور جوزف اور جارج اشتہاری مجرم قرار دِیے گئے۔

امریکا کے تمام اخبارات میں اِس کیس کا کئی روز تک چرچا رہا۔
پولیس کی جان توڑ جدوجہد کے بعد دونوں مجرم آخرکار پکڑے گئے۔
اُنھوں نے مسز کوسٹلیگن کے بیان کی حرف بہ حرف تصدیق کی اور بتایا کہ وہ مقتولہ کو بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ لے گئے تھے۔
مقدمہ چلا اور دونوںکو سیکنڈ ڈگری قتل کا مجرم قرار دِیا گیا اور اُنھیں عمرقید کی سزا سنائی گئی۔

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles