33 C
Lahore
Tuesday, June 18, 2024

Book Store

ڈاکٹر رتھ فاؤ

دکھی انسانیت کی مسیحا
پاکستان میں جذام کے خلاف صف آرا ہونے والی دلیر جرمن معالج کا ناقابلِ فراموش قصۂ حیات،جنہوں نے عالم بے سروسامانی میں بھی کام کرتے ہوئے اس خوفناک مرض کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور اپنی زندگی کے قیمتی ماہ و سال آسائشوں کی پروا نہ کرتے ہوئے خدمتِ انسانیت پر صرف کر دیے
 
عافیہ مقبول جہانگیر
’’مجھ سے شادی کرو گی؟‘‘نوجوان نے بڑی آس اور محبت کی قندیلیں آنکھوں میں روشن کیے لڑکی سے پوچھا تھا۔ چمکتی چاندنی بھری رات میں وہ دونوں ہاتھوں میں ہاتھ تھامے ماربرگ کے عالیشان لینڈ گریوز کاسل کی دیوار پر خاموشی سے بیٹھے نیچے اندھیری وادی کو تک رہے تھے۔اُن دونوں کی محبت اور دوستی کے چرچے پورے ٹاؤن میں پھیلے ہوئے تھے ۔وہ اکثر پہاڑوں پر واقع دلکش مناظر سے لطف اندوز ہوتے اور گھوما کرتے۔ایک دوسرے کے سنگ قدم سے قدم ملا کر چلتے ہوئے راستوں سے ڈیزی کے پھول چننا اور ڈھیروں گفتگو کرنا۔گوئنتھر روتھ سے شادی کے خواب دیکھ رہا تھا۔دوسری طرف روتھ کو بھی بے چینی سے اُس لمحے کاانتظار تھا جب گوئنتھر اُس سے شادی کی بات کرتا اور وہ بے تابی سے ’’ہاں‘‘ کرتی۔آخر کار ایک دن وہ لمحہ آن پہنچا جب گوئنتھر نے اُسے شادی کی پیشکش کی ،مگر روتھ حیران رہ گئی جب اُس نے خود کو ’ہاں‘کی جگہ معذرت کرتے ہوئے پایا۔وہ کہہ رہی تھی’’مجھے افسوس ہے گوئنتھر،میں ہاں نہیں کہہ سکتی۔میری زندگی کسی اور مقصد کے لیے وقف ہے‘‘۔
گوئنتھر صدمے سے گنگ رہ گیالیکن روتھ کے دل سے جیسے یک دم کوئی بوجھ ہٹ گیا تھا۔وہ ہلکی پھلکی ہو گئی تھی۔اس کے اندر کئی مہینوں سے جاری کشمکش اور بے چینی کو قرار آ گیا ۔
گویا اسے اپنے اس سوال کا جواب مل گیا تھا جو اکثر جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں کے دوران اور جنگ ختم ہونے کے بعد بھی اُس کے دماغ میں ہلچل مچائے رکھتا تھا’’میں آخر زندہ کیوں بچ گئی؟‘‘اس کی بے معنی زندگی کو گویا پر لگ گئے۔سارترکے اس نظریے ’’ ہر شے بے معنی ہے‘‘ کو درست سمجھنے والی روتھ کو انجان صدائیں سنائی دینے لگی تھیں،اُس منزل کی جو اسے بلا رہی تھی۔اُسے اب بھٹکنا نہیں تھا بلکہ اپنے اس سوال کی کھوج کرنی تھی کہ آخر اتنی ہولناک جنگ کا سامنا کرنے والی بدحالی اور بدامنی کی فضاؤں میں دبک کر سہمی سہمی وہ دس سالہ روتھ اتنی تباہ کاریوں کے باوجود زندہ کیوں بچ گئی تھی۔
ننھی روتھ فاؤ نے ۹ ستمبر ۱۹۲۹ء کو جب اس دنیا میں آنکھ کھولی تو بیسویں صدی کے بدترین معاشی ابتلا کی شروعات ہو چکی تھی۔نیویارک کے اسٹاک ایکسچینج کریش نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا۔جرمنی میں تمام صنعتی سرگرمیاںتھم سی گئی تھیں لیکن پریوں کا حسن رکھنے والی ننھی روتھ ان تمام معاملات سے بے خبر اپنے وسیع خاندانی باغات میں سیبوں کے درختوں پر چڑھتے،تازہ چیریوں کے ذائقے سے لطف اندوز ہونے،ننھے پالتو خرگوشوں کے ساتھ کھیلنے اور اپنے لاڈلے طوطے کے ناز نخرے اُٹھانے میں مصروف اپنی بڑی بہنوں کے ساتھ نہایت پیار بھرے ماحول میں پروان چڑھ رہی تھی۔اس کے والدین بھی جان چکے تھے کہ ان کی یہ گہرے گھنگھریالے بالوں اور چمکیلی نیلی آنکھوں والی بیٹی ایک خاص اور پُرعزم دماغ کی مالک ہے۔
دوسری عالمی جنگ شروع ہو چکی تھی۔بنی نوع انسان کی تاریخ کی عظیم ترین جنگ،ہر رات فضائی حملے ہوتے اور ڈری سہمی روتھ خوف سے کانپتے ہوئے اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ تہہ خانے میں پناہ لیا کرتی۔ہر رات انہیں لگتا کہ یہ زندگی کی آخری رات ہے اور ہر صبح اُنہیں ایک دوسرے کو زندہ دیکھ کر تعجب ہوتا۔جنگ کے کربناک سال ختم ہوئے تو کھانے پینے اور دوسری اشیا کی شدید قلت ہو گئی۔روز مرّہ کا راشن اور ادویہ اتنی ناپید ہوئیں کہ حالات نے روتھ سے ان کا نومولود بھائی بھی چھین لیا اور روتھ زندگی بھر اس صدمے کو نہ بھول پائیں۔طب کے شعبے کا چُناؤ بھی انہوں نے اپنے کمسن بھائی کی موت،زخمی سپاہیوں اور بے گھر پناہ گزینوں کی مدد کے تجربے میں دلچسپی کی بِنا پر کیا۔ایک نو عمر لڑکی کے طور پر وہ لائپزگ میں جنگ کے دوران اور بعد میں ،بوڑھے اور بیمار شہریوں کی دیکھ بھال کر چکی تھیں۔ذہین ہونے کی وجہ سے انہیں مینز یونیورسٹی کے شعبۂ طب میں داخلہ بآسانی مل گیا۔
مگر…!یہ سوال اب بھی باقی تھا کہ اتنی بے اعتبار زندگی،تباہی،ہلاکت خیز حالات کے باوجود وہ کیسے اور کیوں بچ گئیں۔اس سوال کا جواب پانے کے لیے انہوں نے ادبی محافل میں شرکت شروع کر دی۔دانشوروں سے بحث و مباحث میں حصہ لیا،مگر کوئی بھی راستہ انہیں مطمئن نہ کر سکا۔آخر کار وہ کیتھولک آرڈر میںبطور نن شامل ہونے کے بارے میںسنجیدگی سے سوچنے لگیں۔والد ان کے اس فیصلے پر معترض ہوئے مگر والدہ نے ان کا ساتھ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس کی طلب یہی ہے تو اسے اِس پر عمل کرنا چاہیے۔آخر کار روتھ پیرس میں’’ڈاٹرز آف دی ہارٹ آف میری‘‘ کی کمیونٹی میں شامل ہو گئیں۔اس تنظیم کی بنیاد میری ایڈیلیڈ نے رکھی تھی اور اس کا مشن دنیا میں کسی بھی جگہ انسانی مصائب کے خلاف کام کرنا تھا۔تنہائی کی زندگی گزارنا یا روایتی ننوں والا لباس پہننا شرائط و ضوابط میں شامل نہ تھا۔
میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہیں بھارت کی طرف سے پیشکش ہوئی کہ وہ وہاں جا کر دکھی انسانیت کی خدمت کریں۔روتھ فاؤ ایشیا کے عوام کی غربت،کسمپرسی اور بے چارگی سے واقف تھیں،لہٰذا انہوں نے بھارت جانے کا ارادہ باندھا اور درخواست دے دی۔اسی دوران ان کے والد کا انتقال ہو گیا تو وہ اپنی والدہ کے ساتھ وقت گزارنے لگیں۔انہیں بھارت کا ویزہ نہ مل سکا۔طے یہ پایا کہ اب وہ بذریعہ پاکستان،بھارت جائیں گی کیونکہ اُن دنوں پاکستان سے بھارت جانا نسبتاً آسان تھا اور ویزہ نرم شرائط پر مل جایا کرتا تھا۔بھارت جانے کے خواب دیکھتی روتھ فاؤ اسی اُمید پر کراچی آئیں اور یہاں فارماسسٹ برنیس وارگس کی مہمان بنیں۔برنیس وارگس پہلے ہی اپنی تنظیم کے تحت یہاں خدمتِ خلق میں جتی ہوئی تھیں۔
نوزائیدہ پاکستان اُن دنوں بہت سے مسائل سے نبرد آزما تھا۔غربت،افلاس کے مارے پناہ گزین متعدد بیماریوں کا شکار تھے۔انڈیا کا ویزہ لگنے کے دن گنتی روتھ فاؤ ایک دن برنیس کے ساتھ کراچی کی میکلوڈ روڈ پر واقع ایک بستی میں گئیں جہاں جذام کے مریضوں کی مرہم پٹی اور ان کے علاج کے لیے ایک عارضی ڈسپنسری قائم تھی جو پیکنگ کے ڈبوںسے بنی ہوئی تھی۔یہی وہ تاریخی دن تھا جب پاکستان کو ان کی مدر ٹریسا ملی اور جذام کے مریضوں نے اپنی ماں کو پایا۔ہندوستان جانے کی منصوبہ بندی کرتی،مدر ٹریسا کے ساتھ کام کرنے کی خواہش رکھنے والی روتھ فاؤ نے جو قدم بستی کی طرف بڑھائے تو پھر یہ باہمت قدم بڑھتے ہی چلے گئے اور ۵۹ سال بغیر تھکے،رُکے یا دَم لیے،ان قدموں نے پاکستان کے ہر صوبے،شہر کو تسخیر کیا اور پاکستان کے غریب و نادار 
،مفلس و بے حال مریضوں کو اپنی مامتا کی چادر میں سموتی چلی گئیں۔
ڈسپنسری کی شروعات:
ڈاکٹر روتھ فاؤ کو اس بستی سے متعارف کروانے والی میکسیکو کی نوجوان فارماسسٹ برنیس نے اس وقت کے آرچ بشپ آف کراچی، موں سینیور فان ملٹن برگ کی درخواست پر ۱۶؍اگست ۱۹۵۵ء کو پہلی بار اس بستی کا دورہ کیا تھا۔جس وقت برنیس نے اس بستی میں قدم رکھا تو سڑاند و تعفن سے برنیس کا سر چکرا گیا۔اس ٹوٹی پھوٹی بستی میں بے یارومددگار ،جانوروں سے بدتر کیڑوں کی مانند رینگتے جذام کے مریض کسی ایسے مسیحا کے انتظار میں تھے جو انہیں اس جہنم نمازندگی سے چھٹکارا دلا سکے۔’’کوڑھ‘‘ ایک ایسی بیماری تھی جس کا کوئی باقاعدہ علاج تب دریافت نہ ہوا تھا۔
یہ بیماری مریض کو ہلاک نہیں کرتی تھی مگر اُسے موت سے بھی بدتر زندگی جینے پر مجبور کر دیتی۔یہ ایسا بھیانک مرض تھا جس میں مریض ہاتھوں پیروں کے بدہیئت ہو جانے اور ٹوٹ پھوٹ جانے کے باعث بھیانک ترین شکل اختیار کر لیتے تھے۔
چھوت کی بیماری ہونے کے باعث انہیں شہر کے باہر پھینکوا دیا جاتا جہاں کوئی ان کا پرسانِ حال نہ ہوتا۔ان کے پاس دو ہی راستے ہوتے،یا تو سسک سسک تڑپ تڑپ کر موت کا انتظار کریں،اپنے جسم کو گلتا سڑتا اور جانوروں کی خوراک بنتا دیکھیں،یا خودکشی کر لیں۔
لوگ انہیں رہائشی علاقوں سے دور غاروں یا جنگلوں میں چھپا دیتے اور دور سے ہی ان کو کھانا وغیرہ پھینک دیا جاتا۔یہ مریض جانوروں کی طرح مٹی سے لتھڑے اس کھانے کو کھانے پر مجبور تھے۔ان کے بدہئیت جسموں سے اٹھتی ناقابلِ برداشت سڑاند،زخموں پر رینگتے کیڑے،ٹوٹتے لٹکتے گوشت کو چوہوں کی خوراک بنتے دیکھنا عام انسان کے بس کی بات نہ تھی۔برنیس بھی ایسی ہی کیفیت کا شکار رہیں اور انہوں نے اس بستی میں جانے سے انکار کرتے ہوئے کہا ’’یہ میرے بس کی بات نہیں‘‘۔لیکن پھر مریضوں کے دیے ہوئے واسطوں اور آہ و گریہ نے برنیس کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دیا اور انہوں نے اُن کی مدد کرنے کا تہیہ کر لیا۔
اس مقصد کے لیے سب سے پہلی امداد بھیجنے والے برنیس کے والدین ہی تھے جنہوں نے دوائیاں اور پٹیاں بھیج کر اس عظیم کارخیر میں پہلا حصہ ڈالا۔اس کے بعد دوستوں،گداگروں اور خودجذام کے مریضوں سے تین سو کی رقم اکٹھی کی گئی۔یونیسیف،ریڈکراس اور کچھ سفارت خانوں کی مدد سے جنم لینے والی یہ پہلی باقاعدہ ڈسپنسری لکڑی کے کھوکھوں،کارڈبورڈ اور خالی ٹن کے ڈبوں کی دیواروں پر مشتمل تھی۔برنیس وارگاس،مدر فیبر اور سسٹر براؤن پیدل یا کراچی کی کھٹارا بسوں پر سوار ہو کر جذام کے مریضوں کے پاس پہنچتیں جو ڈسپنسری کے باہربے تابی سے انتظار کر رہے ہوتے۔اس ڈسپنسری کا نام ان کے کیتھولک آرڈر کی فرانسیسی بانی میری ایڈیلیڈ کے نام پر رکھا گیا۔
۱۹۵۸ء میں جلدی امراض کی ایک پاکستانی نوجوان ڈاکٹر زرینہ فضل بھائی نے بھی اس ڈسپنسری میں شمولیت اختیار کرلی۔اس دوران مدر میری ڈائل اور ہیلن لیوِٹ نے مدر فیبر اور سسٹر براؤن کی جگہ لے لی تھی۔جس وقت روتھ فاؤ کراچی ائیرپورٹ سے گرومندر والے ہاسٹل جا رہی تھیں تب وہ پہلی بار مدر ڈائل ،ہیلن اور برنیس سے ملیں ۔برنیس نے انہیں جذامیوں کی بستی میں چلنے کی 
دعوت دی اور ڈاکتر روتھ فاؤ نے اس مصیبت زدہ بستی میں قدم رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔
پاکستان میں بسنے کا تقدیر ساز لمحہ:
ڈاکٹر روتھ فاؤ نے اپنی طبی زندگی میں کبھی کوئی جذام کا مریض نہیں دیکھاتھا۔ وہ تصور بھی نہیں کر سکتی تھیںکہ کسی بیکٹیریا کا پیدا کردہ انفیکشن،اتنے ہیبت ناک اثرات بھی رکھتا ہو گا۔وہ تو صرف جنگِ عظیم دوم میں زخمی سپاہیوں کے جسموں سے بہتے خون اور مسخ شدہ لاشوں سے ہی واقف تھیں لیکن پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور دارالحکومت کراچی کے مرکز کے عقب میں واقع جذامیوں کی اس بستی میں انہیں ناقابلِ یقین مناظر دیکھنے کو ملے۔
مردوعورتوں کی مسخ شدہ شکلیں،گلے ہوئے ہاتھ پاؤں،پیپ اور سڑاند سے بھرے زخم اور ان پر بھنبھناتی مکھیاں،جسموں پر چلتے کیڑے اور سڑے ہوئے گوشت کو بھنبھوڑتے چوہے۔
تیس سالہ ڈاکٹر روتھ فاؤ اپنی زندگی کے مقصدتک پہنچ چکی تھی۔کانونٹ کی وہ شاگردہ،جس نے ناداری،پاکیزگی اور اطاعت کی قسم کھائی تھی اور اپنی زندگی انسانی مصائب کے خلاف جدوجہد کے لیے وقف کرنے کا عہد کیا تھا،اپنی اس منزل تک آ چکی تھی جس کی بازگشت جرمنی میں دوانِ تعلیم،گوئنتھر کے ساتھ محبت کے عہد وپیماں باندھتے اور جنگِ عظیم دوم کے دوران اور بعد میں بارہا اُس کے کانوں میں گونجی تھی کہ وہ کیوں زندہ ہے اور اس کی زندگی کا کیا مقصد ہے۔یہی وہ مقصد تھا جس کی وجہ سے انہوں نے خود کو گوئنتھر سے ہاں کی بجائے معذرت کرتے پایا تھا ۔تقدیر نے ان سے وہ تاریخ ساز فیصلہ لمحوں میں کروا لیا جس کو پھر انہوں نے اپنی آخری سانس تک کچھ اس طرح نبھایاکہ دنیا دنگ رہ گئی۔
یہ پاکستان کی خوش قسمتی تھی کہ ایک ایسی نوجوان ڈاکٹر جو ہندوستان میں مدر ٹریسا کے ساتھ کام کرنے کا سوچ کر پاکستان آئی تھی،اسے قسمت نے پاکستان کے غریب و لاچار مریضوں کی مسیحا اور ماں کے روپ میں بھیج دیا اور وہ دن رات کا فرق مٹا کر پورے دل و جان سے پاکستان کو اس موزی مرض سے پاک کرنے میں ایسی جُتی کہ پھر اپنا ملک اور سگے رشتوں کو بھی بہت پیچھے چھوڑ دیا۔
 
ایک نئے سفر کا آغاز اور مصائب و آلام:
پاکستان میں ان کی جدوجہد کا باقاعدہ آغاز ۱۹۶۰ء میں ہوا۔برنیس نے ڈسپنسری قائم کرنے کے لیے بلاشبہ سخت محنت کی مگر وہ ڈاکٹر نہیں تھیں۔ڈاکٹر روتھ فاؤ نے جذام کے موضوع لکھی جانے والی ہر مستند کتاب کا مطالعہ کیا۔انہوں نے امریکی معالجِ جذام ڈاکٹر پال برانڈ کو خط لکھا جو بھارت کے شہر ویلّور میں ایک کرسچین میڈیکل کالج کے پرنسپل تھے۔ڈاکٹر برانڈ نے انہیں ویلّور آ کر تربیتی کورس کرنے کی دعوت دی۔وہاں ڈاکٹر روتھ نے جذام کی تشخیص اور علاج کے بارے میں نئی معلومات اور مہارت حاصل کی۔
چھ مہینے کی سخت تربیت مکمل کرنے کے بعد وہ واپس پاکستان چلی آئیںاور ایک نئے ولولے اور جوش کے ساتھ دوبارہ سے تنظیم مرتب کی۔وہ گھنٹوں جھونپڑی نما میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر میں  گندے فرش پر گھٹنوں کے بل جھکی مریضوں کے آپریشن کیا کرتیں۔نازونعم میں پلی روتھ فاؤ،جرمنی کی جدید یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ ڈاکٹر،پاکستان کے گلے سڑے ناقابلِ برداشت اور معاشرے کے ٹھکرائے ہوئے مریضوں کو گلے لگاتی،ان کے بدبودار جسموں پر رینگتے کیڑے ہاتھوں سے اتارتی ،ان کے علاج کے لیے جگہ جگہ بھاگ دوڑ کرتی۔اکتیس بتیس سالہ روتھ فاؤ انسانیت کے درجے کی اعلیٰ ترین چوٹی پرجا پہنچی تھی۔
جذام کے مریضوں کو قابلِ نفرت سمجھا جاتا تھا ۔کوئی اسپتال یا ڈاکٹر انہیں جگہ دینے یا ان کا علاج کرنے پر تیار نہ ہوتا تھا۔ایسے میں ڈاکٹر روتھ کی بے بسی انتہا پر ہوتی مگر وہ پھر بھی ہمت نہ ہارتیں اور انہوں نے میونسپل اسپتال کے مردہ خانے میں ہی مریضوں کا آپریشن کرنا شروع کر دیا۔اتنے خراب حالات اور عدم تعاون کی بدولت یہ بھی غنیمت تھا۔
بارشوں کے موسم میں حالات اور بھی قابلِ رحم ہو جاتے۔چھتوں سے پانی برستا اور پوری بستی میں کمر تک پانی کھڑا ہو جاتا۔اس پانی میں شہر بھر کی غلاظت اور گٹروں کا پانی بھی شامل ہو جاتامگر وہ ڈسپنسری کی میز پر کھڑے ہو کر یا گھٹنوں تک پانی میں ڈوبی ہونے کے باوجود علاج کرنے میں مصروف رہتیں ۔مریض بھی اپنے پیپ والے زخموں کے ساتھ اسی پانی میں سے گزرتے لیکن ڈاکٹر روتھ کبھی اس خوف میں مبتلا نہیں ہوئیں کہ کہیں یہ چھوت کی بیماری انہیں نہ لگ جائے۔
۸ضرب ۸ کی اس ڈسپنسری میں مریضوں کی تعداد ۱۹۶۲ء میں قریباً۹۰۰ تک جا پہنچی تھی۔تب ڈاکٹر روتھ نے ایک نئی جگہ حاصل کرنے کی تگ و دو شروع کر دی۔اردو زبان سے کچھ کچھ واقفیت بھی ہو چلی تھی لہٰذا اب وہ اپنے مریضوں سے تبادلۂ خیال بہتر طور پر کر سکتی تھیں۔۱۹۶۳ء میں معجزاتی طور پر انہیں کراچی کے مرکز میں ایک جدید عمارت مل گئی۔
اس عمارت کی قیمت جرمنی نے ادا کی ۔مریضوں کو منتقل کرنے کا مرحلہ بہت دشوار گزار تھا کیونکہ عین رہائشی علاقے میں جذام کے مریضوں کا آنا جانا اور رہنا وہاں کے لوگوں کو ہرگز منظور نہ تھا۔چناں چہ مریضوں کی منتقلی کا کام آدھی رات کو کیا گیا۔
حسبِ توقع لوگوں نے اسپتال کی عمارت پر پتھراؤ کیا اور کھڑکیوں پر پتھر،گندے انڈے،سڑے ہوئے ٹماٹر وغیرہ پھینکے گئے۔اس کے ساتھ ساتھ مخالفین نے مقدمے بھی دائر کر دیے۔ڈاکٹر روتھ فاؤ دلجمعی اورخندہ پیشانی سے ہر برے سلوک کو برداشت کرتی رہیں اور ان نامساعد حالات کو بھی اپنی لگن اور جذبے کے آڑے نہ آنے دیا۔کوئی لالچ کوئی دھمکی انہیں اپنے مقصد سے ایک انچ نہ ہٹا سکی بلکہ ان کا جذبۂ خدمت روز بہ روز زور پکڑتا گیا اور وہ اپنی راہ میں حائل ہر رکاوٹ کو پُرخلوص ساتھیوں کے تعاون سے پار کرتی چلی گئیں۔ 
۱۹۶۵ء میں انہوں نے ڈاکٹر زرینہ فضل بھائی کے ساتھ مل کر پیرا میڈیکل ورکرز کے لیے تربیتی پروگرام شروع کیا اور نیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ آف لیپروسی پاکستان کی بنیاد رکھی گئی۔جذام کا مرض پاکستان کے بہت سے علاقوں میں موجود تھا اور مریضوں کی تعداد میں اضافے جبکہ طبی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے حکومت نے اس انسٹیٹیوٹ کو تسلیم کر لیا اور اسی سال پہلے تربیتی گروپ نے ادارے سے نکل کر پاکستان کے دیہی علاقوں میں کام کا آغاز کیا۔
پاکستان کے شمالی علاقۂ جات کا دورہ :
ٹریننگ سینٹر کے قیام کے بعد جب مریضوں کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جانے لگا تب یہ بات خاص طور پر سامنے آئی کہ زیادہ تر مریض ایک ہی طرح کے علاقوں سے آتے ہیں۔ان  میں بلوچستان،شمال مغربی سرحدی صوبہ،آزاد کشمیر اور شمالی علاقۂ جات شامل تھے۔۱۹۶۵ء میں پہلی مرتبہ ڈاکٹر روتھ فاؤ شمالی علاقوں کے دورے پر نکلیں۔وہاں جا کر ان پر یہ حقیقت کھلی کہ جو مریض ان علاقوں سے بغرض علاج ان کے پاس آیا کرتے تھے،ان مردوں کی خواتین اور بچے بھی اسے مرض میں مبتلا ہیں مگر غربت و ٖافلاس اور حالات کے مارے یہ لوگ گھروں سے نکل کر اپنا علاج کروانے نہیں آ سکتے تھے۔اس کے لیے ضروری تھا کہ خود ان تک پہنچا جائے۔
اسی ضرورت کے پیش نظر تربیتی پروگرام میں تیزی لائی گئی اور ڈاکٹرروتھ کی انتھک کوشش اور محنت کے نتیجے میں ۱۹۷۲ء میں پاکستان کے تقریباًسبھی علاقوں میں جذام کے علاج کے لیے مراکز قائم ہو چکے تھے۔
اپنے دورۂ دِیر میں ڈاکٹر روتھ پیدل کئی کئی دن کا سفر کر کے مریض کے گھر جاتیں اور علاج کرتیں۔وہاں کا حال یہ تھا کہ ایک ہی کمرے میں مویشی بھی ہوتے،ایک طرف مریض ہوتا اور اسی کمرے میں وہ بھی ہوتیں۔بعض اوقات وہ اپنی ٹیم کے ساتھ مسجد میں بھی قیام کرتیں۔جذام کے مریضوں کی تلاش میں انہوں نے پاکستان کا چپہ چپہ چھان مارا۔
۱۹۷۱ء میں انہیں پتا چلا کہ مکران کے صحرائی علاقے میں بھی جذام کا مرض پایا جاتا ہے۔انہوں نے فوراً صحرا کے لیے رختِ سفر باندھا اور ٹیم کے ہمراہ نکل کھڑی ہوئیں۔ان کے اور ان کی ٹیم کے لیے صحرا کا یہ پہلا سفر تھا۔کوئی بھی راستوں سے واقف نہ تھا۔جیوانی جاتے ہوئے سخت صحرائی طوفان نے انہیں گھیر لیا اور وہ بھٹک گئے۔دور دور تک منزل کا نام ونشان تک نہ تھا۔
بالآخر ایک ٹرک نظر آیا اور اس کے ڈرائیور نے راہنمائی کی۔یوں وہ جیوانی پہنچیں۔وہاں انہیں جذام کے ۵۶ مریض ملے جن کا علاج شروع ہوا اور وہاں کے مقامی افراد کو بھی تربیت دی گئی۔
ایک ایسی خاتون جو پاکستان کے پس ماندہ علاقوں کے دورے پر ہو،راستوں سے ،ان کی زبان سے ناواقف ہو،سہولیات کا فقدان ہو ،زمانے کے سرد گرم سے انجان ہو،وہ یوں بے خوف و خطر انجانی منزلوں کی طرف بغیر رکے بڑھتی چلی گئی اور کامیابی سے ہمکنار ہوتی چلی گئی تو یقیناً وہ غیب سے فیض پا رہی تھی۔
جیوانی میں جذام کے مریضوں کا کوئی پُرسانِ حال نہ تھا۔انہیں صحرا میں بے یارومددگار چھوڑ دیا جاتا اور وہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتے تھے۔ڈاکٹر روتھ فاؤ نے انہیں نئی زندگی سے روشناس کروایا اور انہیں معاشرے میں پھر سے رہنے کے قابل بنایا۔کوئی رکاوٹ کوئی پریشانی ڈاکٹر روتھ کے حوصلے پست نہ کر سکی پھر چاہے وہ گلگت کی تنگ و پُرپیچ پگڈنڈیاں ہوں یا پری شینگ وادی کی خوفناک راتوں میں پہاڑی پر چڑھنے کا سفرہو۔
خانگرول کا سفر چھ گھنٹے مسلسل تاریکی میں چل کر ہو یا پھر موسلادھار بارش میں تین میل چل کر مشکن میں جذام کا مریض ڈھونڈنا ہو،ان کے لیے کوئی راہ کٹھن ہو کر بھی نہ تھی۔
وزارتِ صحت کی وفاقی مشیر کا عہدہ:
۱۹۷۹ء میںصدر پاکستان جنرل ضیاء الحق نے انہیں وزارتِ صحت کا وفاقی مشیر برائے لیپروسی مقرر کر دیا۔اس عہدے پر فائز ہونے کے بعد انہوں نے لیپروسی کارکنان کے سر کامیابی کا سہرا باندھتے ہوئے ان کی ترقی کے لیے مزید اقدامات کیے اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔اسی سال افغانستان پر سوویت یونین کے حملے کے بعد پناہ گزینوں کی بڑی تعداد نے پاکستان کا رُخ کیا۔ان میں بہت سے لوگ جذام کے مریض تھے۔یہ اس بات کا کھلا ثبوت تھا کہ افغانستان میں جذام بُری طرح پھیلا ہوا تھا۔
لہٰذا صدر پاکستان ضیاء الحق کی اجازت سے انہوں نے سرحد پار کی اور وسطی افغانستان میں داخل ہو گئیں۔وہاں انہوں نے جنرل ہیلتھ سروس قائم کی اور بہت سے مر دو خواتین کو اس موزی مرض سے چھٹکارا دلوا کر معاشرے میں نیا مقام دلوایا۔افغانستان میں انہوں نے دس سال تک خدمات سرانجام دیں۔
ٹی بی اور اندھے پن کے علاج کا اجراء:
۱۹۸۳ء میں ڈاکٹر روتھ فاؤ نے جب دیکھا کہ اب جذام کے مریض نئے طریقۂ علاج ایم ڈی ٹی(MDT ) کے ذریعے زیادہ تیزی سے صحتیاب ہو رہے ہیں تو انہوں نے اپنے دائرہ کار کو مزید وسعت دیتے ہوئے اپنی خدمت کو ایک نیا موڑ دیا اور ٹی بی اور آنکھوں کی بیماریوں و اندھے پن کو روکنے کے لیے پروگرام کا اجراء کیا۔
ڈاکٹر روتھ فاؤ اور مشہور ماہر امراضِ چشم پروفیسر ڈاکٹر محمد داؤد خاں کی مشترکہ کوششوں سے ملک میں جذام اور امراضِ چشم کا پروگرام متعارف کروایا گیا اور جذام سے صحتیاب ہوکر تربیتی کورس کرنے والے کارکنان کو آنکھوں کی بیماریوں سے متعلق بھی تربیت دی جانے لگی۔
ڈاکٹر فاؤ نے پاکستان کے دور دراز علاقوں میں آئی سرجیکل کیمپوں کے انعقاد کے لیے مالی اخراجات کا انتظام کیا اور تکنیکی معاونت پروفیسر محمد داؤد خان اور پروفیسر شاد محمد نے فراہم کی۔اس کیمپ میں وہ غریب عوام جو علاج کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے،مستفید ہوتے اور یہاں ڈیڑھ سے دو سو تک مفت آپریشن کیے جاتے ۔اب تک ہزاروں آپریشن کیے جا چکے ہیں جو یقیناً مستحق افراد کی ایک بہت بڑی خدمت ہے۔
پاکستان جذام پر قابو پانے والا پہلا ملک :
داکٹر روتھ فاؤ کی انتھک اور بے مثال کوششوں کی بدولت ۱۹۹۶ء میں پاکستان میں جذام کے مرض پر قابو پا لیا گیا۔عالمی ادارۂ صحت WHOنے پاکستان میں اس مرض کو کنٹرول کرنے کے لیے ۲۰۰۰ء تک کا ہدف دیا تھا لیکن ڈاکٹر روتھ فاؤکی دن رات کی لگن و جذبے کے ساتھ ساتھ بے انتہا محبت  نے مطلوبہ ہدف کو مقررہ مدت سے بھی چار سال پہلے حاصل کر لیا۔پاکستان خطے کا پہلا ملک تھا جس نے یہ ہدف حاصل کیا اور یہ بہت بڑی کامیابی تھی۔ڈاکٹر روتھ فاؤ نے پورے ملک میں تقریباً ۱۵۷ مراکز قائم کیے جن میں ۵۰ ہزار سے زائد جذام کے مریضوں کا اندراج ہوا۔
اس عظیم و شاندار کامیابی کے بعد بھی داکٹر روتھ مطمئن نہ تھیں۔شمالی علاقوں اور آزاد کشمیر میں ٹی بی پر قابو پانے اور سندھ،بلوچستان اور شمال مغربی سرحدی صوبے میں نابینا پن کو روکنے کے پروگراموں کی ابتدا کرنے کے بعد بھی انہوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
 زلزلہ ۲۰۰۵ اور ڈاکٹر روتھ کی خدمات
۸ اکتوبر۲۰۰۵ء کو جب قیامت خیز زلزلے نے اسلام آباد،آزاد کشمیر اور دوسرے علاقوں میں تباہی مچائی تو ڈاکٹر روتھ اپنی ٹیم کے ہمراہ فوراً متاثرہ علاقوں کی طرف روانہ ہو گئیںاور تباہ حال لوگوں کو فوری امداد مہیا کی۔ان کے لیے خوراک،ادویات،بستر اور خیموں وغیرہ کا انتظام کیا اور پھر دوسرے مرحلے میں ان کی بحالی اور آبادکاری کے امور انجام دیے۔زلزلے کی وجہ سے ان علاقوں میں قائم کردہ جذام،ٹی بی اور آنکھوں کی بیماریوں کے لیے قائم کردہ مراکز بھی تباہ ہو چکے تھے۔ڈاکٹر روتھ وہاں رہائش کا کوئی انتظام نہ ہونے کی وجہ سے گاڑی ہی میں آرام کرتیں ۔جو ملتا وہ کھا لیتیں اور بعض اوقات تو اپنے حصے کا کھانا بھی ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیا کرتیں۔خود بھوکی رہ کر امدادی کاموں میں مصروف رہتیں۔
ڈاکٹر روتھ فاؤ کے آخری ایام اور مریضوں کے تاثرات:
ڈاکٹر روتھ فاؤ نے ۸۶ سال کی عمر پائی ۔اپنے آخری دنوں میں بھی علالت کے باوجود ان کا سارا دھیان اپنے مریضوں اور اپنے سینٹرMALC میں ہی رہتا تھا۔وہ وہیل چیئر پر بھی سینٹر آتیں اور اپنے مریضوں کے ساتھ وقت گزارا کرتی تھیں۔اُن کے مریض انہیں اپنی ماں کہتے تھے۔سینٹر میں علاج کروانے کی غرض سے آنے والے تمام مریضوں کے لیے وہ سینٹر ایک گھر کی حیثیت رکھتا تھااور اس گھر کو چلانے والی،ان کا خیال رکھنے والی ،اپنی آغوش میں سلانے والی ان کی ماں ڈاکٹر روتھ فاؤ کے بغیر ان کے مریض اپنے آپ کو یتیم کہنے اور خود کو بے سہارا سمجھنے لگے ہیں۔حالانکہ سینٹر میں موجود ہر ڈاکٹر اور کارکن ،ان کی ٹیم کا ہر ممبر ڈاکٹر روتھ فاؤ کے زیر سایہ رہنے کے باعث انہی کے جیسے دردمند دل اور خیالات کا مالک ہے۔ڈاکٹر روتھ فاؤ نے نہ صرف اپنی ٹیم کو باقاعدہ ٹریننگ دی بلکہ ان کو اپنا ہی پرتو بنا دیا۔آپ MALCسینٹر جائیں اور وہاں کے کسی بھی ممبر سے مل لیں ۔آپ کو یہی لگے گا کہ آپ ڈاکٹر روتھ فاؤ کے عکس سے مل رہے ہیں۔وہ ایک ایسی شمع تھیں جس نے اپنی روشنی سے ڈھیروں چراغ جلائے اور پاکستان کے چپے چپے میں اپنے ان مٹ نقوش چھوڑ دیے۔
MALCکی خدمات کا ایک مختصر جائزہ:
میری ایڈیلیڈلیپروسی سینٹر(MALC) جذام،ٹی بی اور آنکھوں کی بیماریوں کے خلاف جدوجہد کرنے والا واحد ادارہ ہے جہاں علاج کے ساتھ ساتھ ٹریننگ بھی دی جاتی ہے۔اس ادارے کی کوششوں کی بدولت جذام کا مرض خاتمے کے قریب ہے۔یہاں ٹی بی،آنکھوں کی بیماریوں کے خلاف بھی کام ہو رہا ہے۔MALCکی منصوبہ بندیوں میں HIV ایڈز پر کنٹرول،خاندان کی صحت،نشے کے عادی افراد کا علاج،ماں اور بچے کی صحت اور ہیپاٹائٹس جیسے امراض کی روک تھام شامل ہیں۔ان تمام خدمات کے علاوہ  انھوں نے اپنی کوششوں کو نیا رنگ دیتے ہوئے ان خاندانوں،کسانوں،مزدوروں کے مصائب و آلام دور کرنے کی جدوجہد بھی شروع کی جو ظالم جاگیرداروں کی قید سے بھاگ جاتے تھے۔اس کے علاوہ وہ لوگ جو محنت سے جی چراتے اور بھیک مانگنے کو آسان کام سمجھتے ہیں،انہیں روزگار،تعلیم اور صحت کی ضروریات کو پورا کرنے جیسے پروگرام بھی اس ادارے کی خدمات میں شامل ہیں۔
ڈاکٹر روتھ فاؤ کے روزوشب کی ایک جھلک،ارکان کی نظر میں:
۱۵ ؍اگست کی صبح میں لاہور سے کراچی پہنچی اور ائیرپورٹ سے سیدھی میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر کا سفر بہت بے صبری سے طے کیا۔میں اُس ماں کے گھر کو دیکھنے کے لیے بے تاب تھی جس نے اپنی تمام زندگی وہاں وقف کر دی اور جسے وہ اپنا گھر کہتی تھیں۔
سینٹر کے باہر کھڑے گارڈ نے جھک کر نہایت خوش اخلاقی سے مجھے سلام کیا اور اندر جانے کے لیے راستہ دیا۔یہ گارڈ بھی اُن کا مریض رہ چکا تھا اور اب مکمل صحتیاب ہونے کے بعد اسی سینٹر کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے وہاں اپنی خدمات پیش کر رہا تھا۔سینٹر کے اندر MALCکے میڈیا مینجر جناب نثار ملک اورمینجر ریسورس موبلائزیشن سلویٰ زینب میرے منتظر تھے اور میں ڈاکٹر روتھ فاؤ کے بارے میں مزید سے مزید تر جاننے کو بے تاب تھی۔نثار صاحب نے گفتگو شروع کرتے ہوئے بتایا کہ اس سینٹر میں نہ صرف مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے بلکہ مریضوں کو دواؤں کے ساتھ ساتھ خوراک بھی فراہم کی جاتی ہے ،ان کے آپریشن مفت کیے جاتے ہیں نیز یہ ادارہ ان مریضوں کی سماجی اور معاشرتی بحالی کے لیے انہیں امداد بھی مہیا کرتا ہے جس میں ان کے بچوں کے تعلیمی اخراجات،تربیتی پروگرام،کاروبار چلانے اور گھر بنانے کے لیے رقم کی فراہمی شامل ہیں۔وہ مریض جنہیں صحتیاب ہو جانے کے بعد بھی معاشرہ قبول نہیں کرتا ان کے لیے منگھو پیر میں بلدیہ اسپتال کے ساتھ اتحاد منزل کے نام سے ایک گھر بھی قائم کیا گیا ہے جہاں انہیں رہائش،تعلیم،ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔
کیا ڈاکٹر روتھ فاؤ کو کبھی یہ خوف لاحق نہیں ہوا کہ جذام چھوت کی بیماری ہے اور کبھی بھی انہیں یا کسی ممبر کو لگ سکتی ہے؟کیا وہ اس بارے میں کوئی احتیاطی تدابیر اختیار کرتی تھیں؟اس سوال کے جواب میں سلویٰ زینب نے بتایا کہ ڈاکٹر روتھ فاؤ نے کبھی ڈاکٹرز کے مخصوص پروٹوکول کو اہمیت نہیں دی۔وہ مریضوں کو دستانوں کے بغیر چھوتی کھلاتی پلاتی اور چیک کیا کرتی تھیں۔یہ اُن پر اللہ کا خاص کرم تھا کہ آج تک کبھی ایک بھی ایسا کارکن نہیں جسے یہ بیماری لگی ہو۔یہاں کے ماحول میں نا جانے ایسی کیا خاص بات ہے کہ سینٹر کے اندر آنے والا ہر انسان جیسے اللہ کی حفاظت میں آ جاتا ہے اور اسے یہ بیماری لگنے کا کوئی خوف نہیں رہتا۔یہاں جتنے بھی کارکن،ڈاکٹرز یا ممبرز ہیں وہ سب بے خوف و خطر مریضوں کے ساتھ گھلے ملے ہوئے ہیں اور یہاں کسی قسم کا طبقاتی فرق ڈاکٹر روتھ نے کبھی نہیں رکھا۔چاہے صفائی کرنے والا عملہ ہو یا ڈاکٹر،کھانا پکانے والی ٹیم ہو یا گارڈز،سب ایک ساتھ ایک میز پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔ڈاکٹر روتھ کی سختی سے ہدایت ہوتی تھی کہ کبھی اونچے یا نچلے طبقے کا فرق نہ رکھا جائے اور نہ ہی ذات پات یا مذہب کو وہ اہمیت دیتی تھیں۔ان کا ایک ہی مذہب تھا اور وہ تھا انسانیت۔
 مالک کے سی۔ ای۔ او مسٹر ماروین لوبونے جو گزشتہ ۲۷ سال سے ڈاکٹر روتھ کے ساتھ ہیں، ڈاکٹر روتھ کی ذاتی زندگی اور روزو شب کے معمولات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ روزانہ سینٹر سے صبح ۶ بجے پیدل چرچ جایا کرتی تھیں جو تقریباً ایک کلو میٹر کی دوری پر ہے۔وہ کبھی سینٹر کی گاڑی استعمال نہیں کرتی تھیں ۔اُن کا کہنا تھا کہ گاڑی میں موجود پیٹرول فنڈز کی بدولت ہے اور یہ فنڈز اور گاڑیاں مریضوں کے لیے ہیں، انہی کی امانت ہیں جبکہ چرچ جانا اور عبادت کرنا میری ذاتی ذندگی کے معمولات میں سے ہے لہٰذا میں گاڑی کی بجائے پیدل جانا پسند کرتی ہوں۔مسٹر لوبو نے بتایا کہ وہ جب بھی جرمنی جاتی تھیں اکثر میں اُن کے ہمراہ ہوتا تھا اور وہ وہاں جا کر پاکستان کو بہت یاد کرتی تھیں ۔اُن کی کوشش ہوتی تھی کہ جلد سے جلد واپس آ جائیں۔وہ کہا کرتی تھیں کہ مجھے گھر جانا ہے۔’’گھر‘‘ سے ان کا مطلب پاکستان اور یہ سینٹر ہوتا تھا۔وہ اپنے آبائی وطن جا کر بھی پاکستان کو مِس کرتیں اور یہاں کے کھانے یاد کیا کرتی تھیں۔انہیں غصہ آتا تھا اُن لوگوں پر جو پاکستان سے باہر جا کراپنے وطنکی بُرائی کرتے تھے۔
ڈاکٹر روتھ مریضوں کے بارے میں اس قدر حساس دل رکھتی تھیں کہ سینٹر کے ہر ممبر کو ان کی خاص ہدایت تھی کہ جب بھی کوئی مریض آئے تو چاہے آپ کو کھڑے ہونا پڑے ، مریض کو بٹھائیں۔مریض انہیں ’’اماں‘‘ کہا کرتے تھے۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ میری پیدائش جرمنی کی ہے لیکن میرے دل کا ملک پاکستان ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں اکیلی یہاں کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی اگر یہاں کے لوگ میرا ساتھ نہ دیتے۔سینٹر کے سٹاف میں کئی ممبران وہ ہیں جن کے والدین میں سے کوئی جذام کا مریض تھا اور ان کے بچوں نے اسی سینٹر میں پرورش پائی اور بہترین تعلیم حاصل کر کے آج اسی سینٹر میں کوئی آئی ٹی کے شعبے سے منسلک ہے اور کوئی کسی شعبے سے۔ڈاکٹر روتھ اپنی ٹیم کے ممبران سے خفا ہو جایا کرتی تھیں اگر کوئی ٹائی سوٹ پہن لیتا تھا۔ڈاکٹرروتھ فاؤ کا ماننا تھا کہ اگر ٹیم کے ارکان خوش لباس اور پروٹوکول پر اتنی توجہ دیں گے تو وہ ظاہری اور باطنی طور پر مریضوں سے دور ہو جائیں گے اور مریض کو ان میں اپنائیت محسوس نہیں ہو گی۔وہ سادگی کو پسند کرتی تھیںتاکہ مریض کو جھجک محسوس نہ ہو اور وہ خود کو سب کے برابر اور ماحول کا حصہ ہی سمجھے۔
ڈاکٹر روتھ فاؤ نے ہمیشہ اپنی ٹیم کو یہی سکھایا کہ کبھی مریض کو شرمندہ نہ کرو۔وہ کہا کرتی تھیں کہ ہمارے مذہب میں کسی کو شرمندہ کرنا گنا ہ سمجھا جاتا ہے۔مسٹر لوبو نے مزید بتایا کہ ایک بار ہماری ٹیم کسی دورے پر گئی تو وہاں ہمارے ڈرائیورز کو کہا گیا کہ آپ باہر کھڑے رہیں۔ڈاکٹر روتھ نے وہاں کھانا کھانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر میری ٹیم باہر کھڑی ہے تو میں بھی نہیں بیٹھوں گی۔کیونکہ جنرل ورکرز سے لے کر ڈائریکٹر کے لیول تک سبھی لوگ ایک ساتھ ایک میز پر کھانا کھایا کرتے تھے۔اسی طرح ایک واقعے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ہم اکثر جی ٹی روڈ کے ذریعے بسوں پر سفر کیا کرتے تھے ۔تب اُن دنوں بسوں میں انڈین فلمیں دکھائی جاتی تھیں یا گانے لگائے جاتے تھے۔ڈاکٹر روتھ فاؤ بہت بُرا مانتیں اور کہتی تھیں کہ یہ ہمارے بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں۔وہ اسے بند کرنے پر اصرار کیا کرتیں ۔
 جرمنی سے ڈاکٹر روتھ فاؤ کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے آئی ہوئی اُن کی قریبی دوست اور ساتھی ڈاکٹر کلاؤڈیا نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے ایک مختصر واقعہ سنایاکہ ایک دفعہ وہ ایک مریض کو دیکھ رہی تھیں،مریض کومہ میں تھا اور اس کے چیک اپ میںدن کا خاصا حصہ صرف ہوچکا تھا۔شام کو جب ڈاکٹر روتھ فاؤ نے پوچھا کہ آج آپ نے کتنے مریضوں کا چیک اپ کیا تو میں نے کہا ’ایک‘۔جس پر وہ ناراض ہوتے ہوئے کہنے لگیں کہ پورے دن میں بس ایک مریض؟تم کچھ نہیں کر سکتیں۔ڈاکٹر کلاؤڈیا نے پرانے دنوں کی یادوں میں کھوتے ہوئے کہا کہ وہ جب بھی ہمیں ملنے جرمنی آتی تھیں تو وہ جسمانی طور پر تو ہمارے ساتھ ہوتی تھیں لیکن اُن کا ذہن اور دل پاکستان میں ہی ہوتا تھا اور زیادہ سے زیادہ وہ تین یا چار دن آرام سے رہتی تھیں پھر ایک ہی رٹ لگا لیتی تھیں کہ مجھے واپس جانا ہے۔میرا دل نہیں لگ رہا میرے بچے وہاں پاکستان میں ہیں جوبھوکے ہوں گے اور میرا انتظار کرتے ہوں گے۔
ڈاکٹر کلاؤڈیا اور مسٹر لوبو سے ملاقات کے بعد میں مریضوں کے وارڈ میں پہنچیجہاں مریض آرام کر رہے تھے۔اُن کی آنکھوں میں اداسی تھی۔ایک خاتون مریضہ نے روتے ہوئے کہا کہ ہم بے گھر اب ہوئے ہیں۔حالانکہ اس سینٹر میں ہمیں بے حد آرام مہیا کیا جاتا ہے مگر ہماری ماں کے جانے کے بعد ہمیں یوں محسوس ہو رہا ہے کہ ہم یتیم ہو گئے ہوں۔وہاں کے بیشتر مریض اردو زبان سے ناواقف تھے۔ڈاکٹر مطہر ضیا اور ڈاکٹر بوٹا سنگھ کے چہروں پر تمام دن نرم سی مسکراہٹ چھائی رہتی ہے اور وہ سارا دن بغیر تھکے مسلسل مریضوں کی خدمت میں لگے رہتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس سینٹر میں آنے کا ٹائم تو فکس ہے مگر جانے کا کوئی وقتنہیں اور نہ ہی کبھی ایسا محسوس ہوا کہ ہم تھک گئے ہیں اور اب ہمیں آرام کرنا چاہیے۔ایک جوش،جذبہ اور محبت بھری لگن وہاں کے ہر ممبر کا خاصہ تھی۔اور یہ شائد ڈاکٹر روتھ فاؤ کی صحبت اور جذبے کی ہی دین تھی۔
پاکستان سے محبت کا اظہار:
پاکستان سے محبت کا اظہار ڈاکٹر روتھ کچھ اس طرح سے کیا کرتی تھیں۔’’مجھے اس ملک کے لوگوں سے محبت ہے۔وہ،جن کے ساتھ میں کام کرتی ہوں۔میری ٹیم،میرے کارکن اور وہ تمام لوگ جنہوں نے جذام کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔مجھے اپنے مریضوں سے بھی بہت لگاؤ ہے۔انہیں میری ضرورت ہے اور مجھے اُن کی۔پاکستان میرا ملک ہے،یہ متنوع سرزمین ہے۔مجھے پاکستان سے محبت ہے۔میں اپنے دل کی ہر دھڑکن کے ساتھ اس سے پیار کرتی ہوں۔اس کے ساتھ ساتھ جب میں سماجی ناانصافی اور اس پر معاشرے کی بے حسی اور لاتعلقی دیکھتی ہوں تو اپنے اندر بے چارگی اور کڑھن بھی محسوس کرتی ہوں۔اگرچہ یہ کہا جاتا ہے کہ میں غیر ملکی ہوں اور غیر ملکی رہوں گی۔اس کے باوجود یہاں میرا آنا اپنے گھر آنے کی طرح ہے کیونکہ یہ ملک ایک طویل عرصہ گزارنے کی وجہ سے اب میرا گھر بن چکا ہے‘‘۔
وطنِ عزیز کو ترقی یافتہ دیکھنے کی خواہش:
ڈاکٹر روتھ فاؤ پاکستان کو ایک ترقی یافتہ ملک دیکھنا چاہتی تھیں۔ان کا خیال تھا کہ پاکستان ترقی کی منازل اس تیزی سے طے نہیں کر رہا جس طرح کرنا چاہیے۔اس کی وجہ اُن کے نزدیک کچھ یہ تھی’’پاکستان میں ترقی کا عمل سست ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کے عوام تاحال پاکستانی نہیں۔وہ ابھی بھی سندھی،بلوچی،پٹھان اور دیگر قومیتوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ان کی سوچ،فکر اور عمل پاکستان کے لیے نہیں بلکہ اپنی اپنی قومیتوں تک محدود ہے۔جب وہ پاکستانی بن کر سوچیں گے اور کام کریں گے تو وہ ترقی کی منازل بھی تیزی سے طے کر لیں گے۔دوسری وجہ تعلیم پر حکومت کی توجہ کم ہے۔تیسری اور اہم وجہ حکومت کی ناقص پالیسیاں ہیں جو غربت ختم کرنے کی بجائے اس میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں‘‘۔
ڈاکٹر روتھ کی تصانیف:
پاکستان میں کم ہی لوگ اس بات سے واقف ہوں گے کہ ڈاکٹر صاحبہ پانچ کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔سب جرمن زبان میں ہیں البتہ اُن کی ایک کتاب کا انگریزی ترجمہ ۱۹۸۷ء میں to light a candleکے عنوان سے ہو چکا ہے۔اپنی اس کتاب میں انہوں نے ایک سوال اٹھایا ہے ’’کیا دو ایسے مذہبوں کے لیے جن میں سے ہر ایک کو ابدی سچائی پا لینے کا دعویٰ ہو،ایک دوسرے سے بامعنی مکالمہ کرنا ممکن ہے؟اس سوال کا میرے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔میں صرف اپنی زندگی کے تجربات بیان کر سکتی ہوں‘‘۔اس کے بعد لاہور کی بادشاہی مسجد کے دورے کا حال بیان کرتے ہوئے وہ لکھتی ہیں’’میں ایک مسلمان دوست کے ساتھ وہاں گئی تھی۔خاموش،خنک برآمدوں میں چپ چاپ چلتے اور دیواروں پر نازک نقاشی کی تحسین کرتے ہوئے میں اچانک مرکزی صحن میں آ نکلی۔وسیع خالی صحن۔لامحدودیت کا احساس اور تین گنبد،محراب کے اُوپر موتیوں کے ڈھیروں جیسے،بہت دور معلوم ہوتے ہوئے۔اس ناقابلِ تصور،واحد ہستی نے،جس کی شان میں یہ مسجد بنوائی گئی تھی،اچانک میرے وجود پر غلبہ پا لیا،مجھے سحر زدہ کر دیا۔وہ ناقابلِ فہم ہستی فانی انسان کو اسی صورت میں اپنا جلوہ دکھا سکتی تھی۔میں نے اپنی مغربی پرورش سے پیدا ہونے والی تمام تر قوتِ ارادی سے کام لے کر خود کو گھٹنوں کے بَل جھک کر رو پڑنے سے باز رکھا۔یہ وہ روحانی واردات تھی جو مجھ پر اپنے مسلمان دوست کے سامنے طاری ہوئی اور جس نے میری روحانی زندگی پر گہرا نقش چھوڑا‘‘۔
ڈاکٹر روتھ کا پیغام،نوجوانوں کے نام:
’’آپ لوگ اپنی زندگیوں کا آغاز کر رہے ہیں۔یاد رکھیں کہ زندگی خدا کی ایک خوبصورت نعمت ہے۔اس سے لطف اندوز ہوں۔کسی کو یہ حق نہ دیں کہ وہ آپ کو بیوقوف بنائے۔ہمیشہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔حلال کو حلال سمجھیں اور حرام کو حرام جانیں۔یاد رکھیں کہ خوشی مادی چیزوں کے حصول کا نام نہیں،بلکہ حقیقی اور پائیدار خوشی تو رشتے نبھانے ،دوستی کا حق ادا کرنے اور دوسروںسے محبت کرنے سے ملتی ہے۔آپس میں تحائف کا لین دین کریں خواہ وہ ایک مسکراہٹ ہی کیوں نہ ہو۔ایک دوسرے سے گرمجوشی سے ملیں۔لوگوں کی خوشیوں اور غموں میں شرکت کریں۔ان کے دکھ درد بانٹیں۔یہ تمام چیزیں ہی آپ کو سچی خوشی فراہم کریں گی اور آپ کے پھلنے پھولنے میں مددگار ثابت ہوں گی‘‘۔
ڈاکٹر روتھ فاؤ کے ایک خط کا مختصراقتباس:
اپنی سترویں سالگرہ کے موقع پر انہوں نے منگھو پیر نیوز لیٹر میں لکھا’’اسٹاف کے نمائندوں نے سب سے پہلے آ کر اپنا تحفہ دیا:شلوار قمیص،زرد رنگ کی،جو میرا پسندیدہ رنگ ہے۔ہم نے فیصلہ کیا کہ میں اسے پہلی بار ۲۵ ستمبر کو پہنوں گی۔وہ اپنے ساتھ سالگرہ کا کارڈ بھی لائے تھے ۔ ’ ماں ، تمہارے لیے ،محبت کے ساتھ۔ماں وہ ہے جو مانگنے سے پہلے مدد کو پہنچتی ہے،جو کسی صلے کی توقع کے بغیر اپنی محبت دیتی ہے،اور سب سے بڑھ کر،ماں وہ ہے جس کی محبت کی کوئی انتہا نہیں۔‘
’’یوحنا کی انجیل کا یہ جملہ مجھے ہمیشہ مسحور کرتا ہے،’’اور جب اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ ان سے محبت کرے گا،تو اس نے آخر تک ان سے محبت کی…آخر تک‘‘۔
’’میں نے جو زندگی گزاری ہے،اس سے بہتر زندگی کا میں خواب میں بھی تصور نہیں کر سکتی تھی‘‘۔
ڈاکٹر روتھ فاؤ کا سفر آخرت:
دس ۱۰ ؍اگست ۲۰۱۷ء کو ڈاکٹر روتھ فاؤ اپنے ’’دل کے ملک‘‘ کو سوگوار چھوڑ کر ایک نئے سفر پر گامزن ہو گئیں۔اُن کی تین آخری خواہشات تھیں جن کا اظہار انہوں نے اپنے علالت کے دنوں میں کیا تھا۔پہلی یہ کہ انہیں وینٹی لیٹر پر نہ رکھا جائے،دوسری اُن کا جسدِ خاکی اسپتال(MALC) لایا جائے اور تیسری خواہش لال جوڑے میں دفن ہونے کی تھی۔اُن کے آخری سفر کی تیاریاں کرتے ہوئے تینوں خواہشوں کا احترام کیا گیا۔۱۹؍اگست ۲۰۱۷ء کو انہیں آرمی چیف،ائیر چیف ،گورنر سندھ سمیت دیگر کئی اہم سیاسی و عسکری حکام کی طرف سے سلامی پیش کی گئی اور پورے اعزازکے ساتھ پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر انہیں اُن کی آخری آرام گاہ تک پہنچایا گیا۔ 
ڈاکٹر روتھ فاؤ نے انسانیت کی خدمت کا جو عہد کیا اسے آخری دم تک خوب نبھایا۔معاشرے کے دھتکارے ہوئے غریب و بے کس مریضوں کا نہ صرف علاج بلکہ انہیں سماج کا صحت مند اور کارآمد فرد بھی بنایا۔اُن کا وجود انسانیت کے لیے سراپا امن تھا۔ ڈاکٹر فاؤ نے یہ خدمت خلق کسی صلے،انعام یا ستائش کے لالچ میں نہیں کی بلکہ اُن کا مقصد صرف اور صرف اپنے خدا کی رضا تھی۔ان کا خلوص،جذبہ،لگن،انتھک محنت اور عزم و ہمت ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔اُن کی جلائی ہوئی شمع ہمیشہ روشن رہے گی۔جو زادِراہ وہ اپنے اس سفر کے آغاز میں ساتھ لائی تھیں وہی وقتِ رخصت بھی ان کے ہمراہ تھا۔
’’ناداری،پاکیزگی اور اطاعت‘‘۔

MALC Hospital has been providing comprehensive healthcare services from diagnosis to treatment of persons affected by Leprosy. We also offer treatment for Tuberculosis, Avoidable Blinding Conditions, Rehabilitation for Persons with Disabilities (PWDs) and Mother and Child Health Care (MCHC).

MALC provide Free of Charge services to people who have no access to quality health care. The services offered includes admission of patients in wards for ulcer care caused by leprosy, treatment of leprosy reaction, physiotherapy, laboratory procedures, major and minor eye surgeries, X-rays, dental, social rehabilitation, pharmacy and facilitate patients through networking for specialized care.

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles