24 C
Lahore
Tuesday, April 16, 2024

Book Store

سچی توبہ اور مغفرت

اس سے پہلے کہ فرشتۂ اجل آ جائے اور آپ کے پاس مہلت نہ رہے…

تحریر: عافیہ مقبول جہانگیر

ہم سب جانتے ہیں کہ فریضۂ حج ادا کرنے سے ہمارے دانستہ و نادانستہ گناہ، غلطیاں مٹ جاتے ہیں۔
(بارگاہِ الٰہی میں قبولیت کا درجہ پانا شرط ہے)، لیکن ہماری نیت یہی ہو کہ اللہ اسے قبول فرمائے گا۔
ہمیں اس ذات اقدس کے بارے میں ہمیشہ رحم و کرم کا گمان رکھنا چاہیے۔ بے شک وہ رحیم و کریم ہے اور سچے دل سے کی گئی عبادت و توبہ کو پسند اور قبول فرماتا ہے۔
سچی توبہ ایک ایسی چیز ہے جو ہر قسم کے گناہ کو انسان کے نامۂ اعمال سے دھو ڈالتی ہے۔
قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ:’’اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔‘‘ (پ ۲۵، الشورٰی ۲۵)
سرورِ عالم رسولِ پاکﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہے کہ گویا اس نے کبھی کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو۔‘‘
(السنن الکبری،کتاب الشہادات، باب شہادۃ قاذف، رقم ۲۰۵۶۱ ج۱۰ ص۲۵۹)
حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ حضورِ پاکﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے
’’اے ابنِ آدم! تو نے جب بھی مجھے پکارا اور مجھ سے رجوع کیا، میں نے تیرے گناہوں کی بخشش کر دی
اور مجھے اس کی پروا نہیں اور
اے ابنِ آدم! اگر تیرے گناہ آسمان تک پہنچ جائیں، پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرے،
تو میں تیری بخشش کر دوں گا اور میری ذات بے نیاز ہے۔
اے ابنِ آدم! ا، اگر تیری مجھ سے ملاقات اس حالت میں ہو کہ تیرے گناہ پوری زمین کو گھیر لیں،
لیکن تو نے شرک کا ارتکاب نہ کیا ہو تو میں تیرے گناہوں کو بخش دوں گا۔‘‘
(جامع الترمذی، کتاب الدعوات، باب ماجا، فی فضل التوبہ والا استغفار، رقم ۳۵۵۱، ج۵، ص۲۱۸)
آج کے پُرفتنہ دور میں ارتکابِ گناہ بے حد آسان اور نیکی کرنا بے حد مشکل ہے۔
نفس و شیطان ہاتھ دھو کر انسان کے پیچھے پڑے ہیں اور ایسے حالات میں انسان کا گناہوں سے خود کو بچائے رکھنا بے حد مشکل ہے
لیکن ایک توبہ ہی ایسا راستہ ہے
جو نہ صرف انسان کے گناہوں سے معافی دلاتا بلکہ
کافی حد تک مسلسل توبہ استغفار کرتے رہنے کی عادت سے انسان آہستہ آہستہ گناہوں سے بچنے لگ جاتا اور اللہ کے قریب ہو جاتا ہے۔
تائب ہونے والے خوش نصیب کو گناہوں کی معافی کے ساتھ ساتھ کئی دیگر فضائل بھی عطا ہو جاتے ہیں۔
ان فضائل میں فلاح و کامرانی کا حصول،
توبہ کرنے والے کو اللہ کا قرب اور محبت کا مل جانا،
رحمتِ الہٰی کا مستحق بن جانا، اس کی برائیوں کا نیکیوں میں تبدیل ہو جانا
اور جنت کا انعام جیسی نعمتیں شامل ہیں۔


توبہ میں تاخیر
توبہ کی اہمیت سے بخوبی واقف ہونے کے باوجود کچھ بدنصیب اور ناعاقبت اندیش توبہ کرنے میں ٹال مٹول یا سستی سے کام لیتے ہیں۔
یوں وہ شیطان کے بہکاوے اور نرغے میں مزید پھنسنے لگتے ہیں۔ اس ٹال مٹول کی کئی وجوہ ہو سکتی ہیں۔
پہلی وجہ:
توبہ میں دیر کرنے کی پہلی وجہ اپنے گناہوں کے انجام سے ناواقفیت اور اس سے غافل ہونا ہے۔
شاید اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ انسان کو جس عذاب سے ڈرایا گیا ہے وہ فی الوقت اس کی نگاہوں سے اوجھل ہے اور جبکہ نفسانی خواہشات کا من پسند نتیجہ فوری طور پر سامنے آ جاتا ہے۔
یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ تاخیر سے وقوع پزیر ہونے والی چیز کی نسبت فوری طور پر حاصل ہونے والی چیز کی طرف زیادہ جلد مائل ہوتا ہے۔
مثلاً زنا کرنے والا اس سے فوری طور پر حاصل ہونے والی لذت کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔
اس کی اُخروی سزا کے بارے میں سوچنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتا۔
دوسری وجہ:
توبہ میں تاخیر کی دوسری وجہ انسان کے دل پر گناہوں کی لذت کا غلبہ ہونا ہے۔
شراب نوشی، بدنگاہی، نامحرم عورتوں سے ہنسی مذاق، فلم بینی، شہوت کے خیالات کا ہر وقت طاری رہنا اور زنا کی عادت جیسے گناہوں کو چھوڑ کر جینے کا تصور بھی ایسے انسان کے لیے سوہانِ روح ہوتا ہے۔
ان کے بغیر اسے اپنی زندگی ویران، بدمزہ اور خالی سی لگتی ہے
یوں وہ اللہ کی رحمت اور توبہ کی فضیلت سے محروم رہتا ہے۔
تیسری وجہ:
انسان کو یہ یقین رہتا ہے کہ شاید ابھی اس کی بہت عمر پڑی ہے اور جب بڑھاپا آئے گا تب دیکھیں گے۔ ابھی جوانی ہے اسے موج مستی میں گزار لیا جائے۔
یوں ایسا ’’عقل مند‘‘ انسان بھول جاتا ہے کہ زندگی اور موت کا عمر یا جوانی بڑھاپے سے کوئی تعلق نہیں۔
ہماری کتنی سانسیں باقی ہیں اور اگلا کون سا پل ہمیں ’ہے‘ سے ’تھا‘ بنا دے
یہ ماسوائے رب العزت کے، اور کوئی نہیں جانتا۔
اس کے باوجود توبہ کی اُمید عمر کے آخری حصے میں کرنا حماقت اور شیطانی چکر کی گمراہی کے سوا کچھ نہیں۔
چوتھی وجہ:
سب سے اہم اور سب سے زیادہ پائی جانے والی وجہ شاید یہی ہے کہ انسان اپنے گناہوں کی زیادتی کی وجہ سے اس واہمے کا شکار بھی ہو جاتا ہے کہ
وہ اتنے گناہ کر چکا ، تو شاید اللہ کبھی معاف نہ کرے گا،
لہٰذا جب اس دلدل میں قدم رکھ ہی دیے تو اب دیکھی جائے گی۔
یا دوسری غلط فہمی یہ ہو جاتی ہے کہ چونکہ اللہ بے حد غفور الرحیم ہے اور
اس کی رحمت کی کوئی حد نہیں، وہ معاف کرنے والا ہے اور ہمیں اس کی رحمت پر یقین ہے کہ
وہ عذاب نہیں دے گا۔
یہ سوچ انتہائی خطرناک اور زندگی اور آخرت برباد کرنے دینے والی ہے۔
توبہ کا خیال ذہن میں لائے بغیر یا اپنے گناہوں پر کسی احساسِ ندامت کا اظہار کیے بغیر اللہ سے معافی مل جانے کی امید رکھنا۔
ایسی سوچ کے حامل انسان کو راہِ راست پر لانا یا اس کا خود آنا بہت حد تک ناممکن ہو جاتا ہے
بشرطیکہ اللہ توفیق دے۔ کیونکہ ایسے لوگ توبہ کے نہ تو قائل ہوتے ہیں نا معافی کی طرف مائل۔


سرورِ دوعالم حضورِ پاکﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’سمجھدار شخص وہ ہے جو اپنا محاسبہ کرے اور آخرت کی بہتری کے لیے نیکیاں کرے اور احمق وہ ہے جو اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی کرے اور اللہ تعالیٰ سے انعامِ آخرت کی امید رکھے۔
( المسند احمد بن حنبل، حدیث شداد بن اوس، رقم ۱۷۱۲۳، ج۶، ص۷۸)
حقیقت یہ ہے کہ انسان سے چاہے کتنے ہی گناہ کیوں نہ ہو جائیں لیکن جب وہ نادم ہو کر توبہ کے لیے بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہو جائے اور
سچے دل سے معافی کا طلبگار ہو تو اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
توبہ کی اہمیت
حضرتِ سیدنا ابو سعید خُدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
’’تم سے پہلے ایک شخص نے نناوے قتل کیے تھے۔ جب اس نے اہلِ زمین میں سب سے بڑے عالم کے بارے میں پوچھا تو اسے ایک راہب کے بارے میں بتایا گیا۔
وہ اس کے پاس پہنچا اور اس سے کہا ’’میں نے نناوے قتل کیے ہیں۔ کیا میرے لیے توبہ کی کوئی صورت ہے؟‘‘ راہب نے کہا ’’نہیں۔‘‘
اس نے اسے بھی قتل کر دیا اور سو کا عدد پورا کر دیا۔ پھر اس نے اہلِ زمیں میں سب سے بڑے عالم کے بارے میں سوال کیا۔ اسے ایک عالم کے بارے میں بتایا گیا۔ تو اس نے اس عالم سے کہا،

’’ میں نے سو قتل کیے ہیں کیا میرے لیے توبہ کی کوئی صورت ہے؟‘‘
اس نے کہا،
’’ہاں! اللہ سبحان وتعالیٰ اور توبہ کے درمیان کیا چیز رکاوٹ بن سکتی ہے؟
فلاں فلاں علاقے کی طرف جاؤ۔ وہاں کچھ لوگ اللہ کی عبادت کیا کرتے ہیں۔
ان کے ساتھ مل کر اللہ کی عبادت کرو اور اپنے علاقے کی طرف واپس نہ آنا کیونکہ یہ برائی کی سرزمین ہے۔‘‘

وہ قاتل اس علاقہ کی طرف چل دیا۔ جب وہ آدھے راستے میں پہنچا تو اسے موت آ گئی۔
رحمت اور عذاب کے فرشتے اس کے بارے میں بحث کرنے لگے۔
رحمت کے فرشتے کہنے لگے، ’’یہ توبہ کے دلی ارادے سے اللہ کی طرف آیا تھا‘‘
اور عذاب کے فرشتے کہنے لگے کہ اس نے کبھی کوئی اچھا کام نہیں کیا۔‘‘
تو ان کے پاس ایک فرشتہ انسانی صورت میں آیا اور انھوں نے اسے اپنا ثالث مقرر کر لیا۔اس فرشتے نے ان سے کہا:

’’دونوں طرف کی زمینوں کو ناپ لو۔
یہ جس زمین کے قریب ہو گا اسی کا حقدار ہے۔‘‘ جب زمین ناپی گئی تو وہ اس زمین کے قریب تھا جس کے ارادے سے وہ اپنے شہر سے نکلا تھا تو رحمت کے فرشتے اسے لے گئے
۔
(کتاب التوابین، توبۃ من قتل مائۃ نفس، ص۸۵)
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کا توبہ کی طرف اٹھایا گیا آخری ایک قدم بھی ناکام نہیں ہوتا اور وہ اللہ کی رحمت سے فیض پا سکتا ہے۔


توبہ سے جھجکنا
بعض اوقات انسان توبہ کرنا چاہتا اور راہِ راست کا دامن تھامنا چاہتا ہے مگر وہ دنیا کی تمسخرانہ اور تنقیدی نظریں برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔
مثلاً ایک شخص دل سے تمام گناہ چھوڑنا چاہتا ہے اور سنتِ نبویﷺ کے مطابق اپنی باقی حیات گزارنا چاہتا ہے
مگر اسے یہ فکر ہے کہ اب اگر اس نے اپنی روش بدلی تو لوگ ہنسیں گے۔وہ سوچتا ہے کہ
اگر میں نے ڈاڑھی رکھ لی، یا مسجد جانے لگا تو کہیں مذاق نہ اڑایا جائے۔
لوگ عجیب نظروں سے نہ دیکھنے لگیں۔ یہ خوف اسے صحیح سمت کی طرف بڑھنے سے روکے رکھتا ہے۔
یہ بھی ایک شیطانی وسوسہ ہی ہے۔ ورنہ جب گناہ کرتے وقت نہیں سوچا کہ لوگ کیا کہیں گے، دنیا کیا سوچے گی؟
جب فلم دیکھنے کے لیے سنیما کا رخ کرتے ہوئے لوگوں کی پروا نہ کی تو مسجد کا رُخ کرتے ہوئے آخر اتنا سوچنا کیا؟ جبکہ یہ کام درست بھی ہے اور دین کا حکم بھی۔
اس کے باوجود ایسے خیالات میں گھرے رہنا محض شیطان کا بہکاوہ ہے کہ وہ انسان کو سدھرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔
سچی توبہ کیا ہے؟
ٹھنڈی آہیں بھرنا، اپنے کانوں کو ہاتھ لگانا، یا محض لفطوں کی گردان ،توبہ توبہ کرتے رہنے کا نام توبہ نہیں۔
سچی توبہ یہ ہے کہ انسان بارگاہِ الٰہی میں سچے دل سے اپنے گناہوں پر نادم اور پشیمان ہوتے ہوئے اس ذات اقدس سے معافی کا طلبگار ہو اور آئندہ کے لیے اس گناہ سے بچنے کا پختہ ارادہ اور وعدہ کرے نیز اس ہو جانے والے گناہ کا ازالہٰ کرنے کی کوشش کرے۔
مثلاً قضا نمازیں ادا کرنے کی کوشش کرے،
اگر چوری کی تھی یا رشوت لی تھی تو وہ مال اس کے اصل مالک کو لوٹانے کی کوشش کرے اور
اگر یہ ممکن نہ ہو سکے تو اس مال کو راہِ خدا میں اس شخص کی طرف سے صدقہ کر دے۔
توبہ کی شرائط
توبہ چونکہ گناہوں کو چھوڑنے اور ان پر نادم ہونے کا نام ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب ہمیں اس کی پہچان ہو۔
لہٰذا سب سے پہلے گناہوں کی معرفت کا ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ جب تک انسان گناہ کو سمجھے گا نہیں اسے چھوڑے گا کیسے؟
نیز توبہ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ کسی گناہ کو صرف اور صرف اس لیے چھوڑا جائے کہ یہ اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے منافی ہے۔
لہٰذا اگر کسی نے اپنے ذاتی نفع کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس گناہ سے کنارہ کشی کی تو یہ توبہ نہیں کہلاتی۔
مثلاً کسی نے ڈاکٹر کے کہنے پر شراب اس لیے چھوڑی کہ اگر وہ پیے گا تو اس کا جگر متاثر ہونے کا خدشہ ہے، یا وہ زنا اس لیے نہیں کر رہا کہ کہیں بدنام نہ ہو جائے یا کوئی انسان دیکھ نہ لے،
(اور اللہ کے دیکھنے کا ڈر نہ ہو) تو ایسا شخص تائب نہیں کہلائے گا۔
نہ ہی اسے توبہ کا ثواب اور فضائل حاصل ہوں گے اگرچہ گناہ کو چھوڑنا بھی ایک سعادت ہے۔


ندامتِ قلبی کیسے حاصل ہو؟
دل کا نادم ہونا اور شرمندگی کا احساس یقیناً قلبی واردات ہے۔
اس پر انسان کا بس نہیں لیکن اپنی زندگی کو اگر مخصوص نہج پر ڈھالنے کی کوشش کی جائے تو یقیناً ایک وقت ایسا آتا ہے کہ انسان کو سچی توبہ کی توفیق حاصل ہو جاتی ہے۔
انسان اپنا محاسبہ کرے اور خود احتسابی کے عمل سے روز اپنے آپ کو گزارے۔ غور کرے کہ اللہ نے اسے کتنی نعمتوں سے نوازا۔
اس کی ہزار نافرمانیوں کے باوجود وہ ذات اپنی رحمتوں کےدر بند نہیں کرتی۔ نماز نہ پڑھنے کے باوجود اس نے کبھی فوری سزا نہ دی۔
گناہ کرنے پر اس پاک ذات نے آکسیجن بند نہ کی۔ سانسیں نہ روکیں، ناشکری کرنے پر بھی رزق دیا، دولت دی، ظلم کرنے کے باوجود چلنے پھرنے کو ہاتھ پاؤں سلامت رکھے، زبان سے کسی کو تکلیف پہنچانے کے باوجود اسی وقت گونگا نہ کیا۔
تو کس لیے؟ شاید اس لیے کہ کبھی اس بندے کو اپنے گناہوں کا احساس ہو جائے گا ۔
وہ پھر جسم کے انھی اعضا کو نیک کاموں کے لیے بروئے کار لائے گا۔
یہ ہے اللہ کی بے پایاں رحمت اور اپنے بندوں سے محبت کا عالم۔ ورنہ وہ چاہتا تو کس بات پر قادر نہیں؟
وہ کیا نہیں کر سکتا؟
ایک لمحے کو انسان ان گناہوں کے انجام کے طور پر ملنے والے عذاب اور سزاؤں کے بارے میں ہی سوچ لے تو اس کی روح کانپ اٹھے۔
سرورِ عالمﷺ نے فرمایا:
دوزخیوں میں سب سے ہلکا عذاب جس کو ہو گا اسے آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے جن سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا۔‘‘
(صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب اھون اھل النار عذابا، رقم۴۶۷،ص۱۳۴)
تو پھر کیا رب کی نافرمانی اور حکم عدولی کی کوئی گنجائش نکلتی ہے؟
کیا ہمارا جسم جہنم کے ہولناک عذاب کو برداشت کرنے کی ہمت رکھتا ہے؟
جبکہ جہنم میں ملنے والی تکلیف اور عذاب کے نتیجے میں نہ تو انسان شدتِ درد سے بے ہوش ہو گا
نہ ہی اسے موت آئے گی۔
کس قدر بے بسی کا وقت ہو گا جس کے تصور سے ہی روح کانپ اُٹھتی ہے۔
انسان اگر یہ سب سوچے تو یقیناً اسے گناہوں سے وحشت محسوس ہونے لگے گی۔
اس کا دل خود بخود نیک اعمال کی طرف راغب ہونے لگے گا۔ اللہ کی محبت دل میں بڑھنے لگے گی۔
وہ سچی توبہ کی طرف مائل ہونے لگے گا۔


توبہ کرنے کا آسان طریقہ
توبہ کے لیے ندامت اور اللہ کے خوف سے بہایا گیا ایک آنسو بھی نجات کا سبب بن جاتا ہے۔
انسان کو چاہیے کہ وہ تنہائی میں دو رکعت صلاۃ التوبہ پڑھے
پھر اپنی نافرمانیوں اور رب تعالیٰ کے احسانات، اپنی ناتوانی اور جہنم کے عذابات کو یاد کر کے اللہ کے قہر سے خوف کھا کر آنسو بہائے،
اگر رونا نہ آتا ہو تو کم از کم رونے جیسی صورت ہی بنا لے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں صدقِ دل سے اپنے ان تمام گناہوں کی مغفرت طلب کرے جو اسے یاد ہیں۔
وہ بھی، جو اسے یاد نہیں۔
وہ گناہ جو دانستہ کیے گئے اور وہ بھی جو نادانستگی میں اس سے سرزد ہوئے ہوں گے اور جن کی اسے خبر نہ ہوئی۔
رب کے آگے سر بسجود ہو کر اس بات کا اقرار کرے کہ
اے اللہ! میں ہرگز ہرگز تیرے قہر اور عذاب کی تاب نہیں لا سکتا۔
مجھ میں ایک لمحہ کے لیے بھی جہنم کا عذاب سہنے کی طاقت ہے نہ حوصلہ۔ تو ستر ماؤں سے زیادہ شفیق اور مہربان ہے، تو میرے گناہوں کو اپنی رحمت کے صدقے بخش دے،
مجھے معاف فرما دے یا رب اور
مجھے توفیق عطا فرما کہ میں اپنی باقی ماندہ زندگی تیرے احکام اور تیرے محبوب رسولﷺ کی سنت کے مطابق بسر کر سکوں۔
اے میرے رب! مجھے سچی توبہ کی توفیق عطا فرما اور مجھے اس قابل کر دے کہ میں اب تک جتنی عبادات ادا کرنے سے قاصر رہا، ان کا ازالہٰ ہر ممکن کر سکوں
اگر نہ کر پایا تو آئندہ کسی قسم کی نافرمانی اور حکم عدولی کا مرتکب نہ ہوں۔
میں نے اب تک جتنے بھی حقوق العباد غصب کیے ہیں مجھے ان پر معاف فرما دے
توفیق دے کہ میں ان سے بھی معافی مانگ سکوں۔
مجھے استقامت عطا فرما، اپنی محبت عطا فرما ۔
مجھے صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ بے شک تُو رحیم و کریم ہے۔
دعا مانگنے کے بعد یہ یقین دل میں ہو کہ اللہ نے اس کی دعا اور توبہ قبول فرما لی ہے۔
اسی گمان کے ساتھ،نئے عزم سے ایک پاکیزہ زندگی شروع کرے ۔
جتنا ممکن ہو سکے حتی المقدور گناہوں کی تلافی کرنے میں مصروف ہو جائے۔


توبہ کی قبولیت
حضرت سیدنا امام محمد غزالی ؒ لکھتے ہیں کہ ایک عالم سے پوچھا گیا،
ایک آدمی توبہ کرے تو کیا اسے معلوم ہو سکتا ہے کہ اس کی توبہ قبول ہوئی یا نہیں؟ فرمایا؛
’’اس میں حکم تو نہیں دیا جا سکتا البتہ اس کی علامت ہے ،
اگر اپنے آپ کو آئندہ گناہ سے بچتا دیکھے اور
یہ دیکھے کہ دل خوشی سے خالی ہے اور
رب تعالیٰ کے سامنے نیک لوگوں سے قریب ہو، بُروں سے دور رہے،
تھوڑی دنیا کو بہت سمجھے اور آخرت کے بہت عمل کو تھوڑا جانے،
دل ہر وقت اللہ سبحان وتعالیٰ کے فرائض میں منہمک رہے،
زبان کی حفاظت کرے، ہر وقت غور و فکر کرے،
جو گناہ کر چکا ہے اس پر غم و غصہ اور شرمندگی محسوس کرے
(تو سمجھ لو کہ توبہ قبول ہو گئی)۔‘‘
(مکاشفۃ القلوب، الباب الثامن فی التوبۃ، ص۲۹)

توبہ کے بعد زندگی
توبہ کے بعد انسان ایک نئی زندگی کی شروعات کرے اور گناہوں کی معرفت حاصل کرنے کی کوشش سب سے پہلے کرے تاکہ آئندہ نادانستگی میں بھی اس سے گناہ سرزد ہونے کا کوئی امکان نہ رہے۔
گناہوں سے ہر ممکن پرہیز کرے۔ ہر اس کام سے بچنے کی کوشش کرے جو گناہ کی طرف لے جانے والا ہو۔
نیکیاں کثرت سے کرنے میں مشغول ہو جائے کہ نیکیوں کے نُور سے گناہوں کی تاریکی جاتی رہتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

ترجمہ:’’بے شک نیکیاں بُرائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔‘ (پ ۱۲، ھود ۱۱۴)

رسول اکرمﷺ نے بھی ارشاد فرمایا:
گناہ کے پیچھے نیکی لاؤ وہ اس کو مٹا دے گی۔‘‘
(المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث ابی زرالغفاری، رقم۲۱۴۶۰، ج۸، ص۹۲)
حضرت سیدنا عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’اس آدمی کی مثال جو پہلے برائیوں میں مشغول تھا پھر نیک اعمال کرنے لگا، اس شخص کی طرح ہے کہ جس کے بدن پر تنگ زِرّہ ہو جو اس کی گردن گھونٹ رہی ہو۔
پھر اس نے ایک نیک عمل کیا تو اس زِرّہ کا ایک حلقہ کھل گیا۔ پھر دوسرا نیک کام کیا تو دوسرا حلقہ کھل گیا (اور پھر نیک عمل کرتا چلا گیا) حتیٰ کہ وہ تنگ زِرّہ کھل کر زمین پر آ گری۔‘‘

(المعجم الکبیر، رقم۷۸۳، ج۱۷، ص۲۸۴)
غفلت میں ڈوبے ہوئے انسان کو چاہیے کہ آج ہی سے اپنے سفرِ آخرت کے لیے نیکیوں کا ذخیرہ اکٹھا کرنا شروع کر دے،
کیونکہ کون سی سانس آخری ہو، کون سا لمحہ ہمیں اس دنیا سے پلک جھپکنے میں اس دنیا تک پہنچا دے گا،
یہ ہم نہیں جانتے لہٰذا توبہ کے لیے کسی خاص موقع کا انتظار کرنا نادانی کے سوا کچھ نہیں۔
موقع حج کی بابرکت ساعتوں کا ہو یا فضائل کی راتوں کا،
ان کے علاوہ بھی ہمیں ہر وقت اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے توبہ استغفار کو اپنا معمول بنا لینا چاہیے۔
بالکل اسی طرح جیسے ہم اپنے روز مرّہ کے دنیوی کاموں میں کوتاہی نہیں کرتے۔
ہر لمحہ استغفار کو اپنی سانسوں کی طرح معمول بنا لیجیے۔
اس سے نہ صرف گناہوں سے بچنے کی توفیق حاصل ہو گی بلکہ دنیا کے معاملات بھی بہتر ہوں گے۔
اللہ عزو جل کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ ہمیں سچی توبہ کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین )
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles