20 C
Lahore
Monday, March 4, 2024

Book Store

سیٹ اپ

جاسوسی ناولٹ

سیٹ اپ

جعلی پولیس مقابلوں کا سہارا لینے والے شاطر پولیس افسروں کی روداد

از۔ احمد نعمان شیخ

سر! پلیز میرے اس کیس کا کچھ کریں۔  انسپکٹر فیروز  نے ڈی ایس پی کامران کی طرف پریشان نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
وہ اس وقت ڈی ایس پی کامران کے کمرے میں موجود تھا۔ کامران  نے میز پر رکھا چائے کا کپ اٹھایا ، ایک لمبی چسکی لی۔ کپ میز پر واپس رکھا اور ایک لمبا سانس کھینچ کر بولا
دیکھو فیروز! تم اس بار بہت بری طرح پھنسے ہو۔ میں نے پہلے بھی کئی بار تمہیں سمجھایا تھا کہ یہ جعلی پولیس مقابلے بہت سوچ سمجھ کر کیے جاتے ہیں۔ لیکن تم ہمیشہ جوش میں آ کر مجرم پر گولی چلا کر مار ڈالتے ہو اور بعد میں میرے پاس آ جاتے ہو۔
سر! پلیز کچھ کریں، معاملے کو سنبھالیں۔  کامران نے فیروز کے سے انداز میں کہا۔
اور اس بار بھی آپ ہی سب سنبھالیں گے۔  فیروز نے پختہ یقین سے کہا اور میز پر پڑا اپنا کپ اٹھا کر چائے کا گھونٹ بھرا۔
فیروز میاں! اس بار تمہارے خلاف ثبوت بہت پکے ہیں۔ روزینہ کو گولی مارتے وقت اس رپورٹر کے گھر کے سی سی ٹی وی کیمرے  نے سارا واقعہ عکس بند کر لیا اور وہ فوٹیج اب ملک بھر کے نیوز چینل کے ہاتھ لگ چکی ہے۔
جانتا ہوں، اسی لیے تو آپ سے مدد مانگ رہا ہوں ۔ آپ ایس پی صاحب سے کہہ کر انکوائری رکوا دیں اور معاملے کو دبا دیں۔
انکوائری تو لازمی بیٹھے گی۔ میری ایس پی صاحب سے بات ہوئی تھی ۔ اگلے ہفتے ڈی آئی جی صاحب خود گجرات آئیں گے اور تمہارے خلاف فیصلہ سنائیں گے، تب تک تم چھٹی پر ہو۔ تمہیں ابھی تک معطل نہیں ہونے دیا۔ کیا یہ فیور کافی نہیں ؟  کامران نے فیروز کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا۔
مجھے اپنی نوکری پر بحال ہونا ہے۔ اگر میرے خلاف کارروائی ہوئی یا میں پکڑا گیا تو میں آپ کے بارے میں بھی سب سچ سچ بتا دوں گا۔  فیروز کی آنکھوں میں اب وحشت نے جگہ لے لی تھی۔
تو اب تم مجھے بلیک میل کرو گے ؟  کامران نے فیروز کی بات سن کر ہاتھ میں تھاما چائے کا اتنی زور سے میز پر مارا کہ تھوڑی سی چائے کپ سے باہر چھلک گئی۔
بلیک میل نہیں سر! میں صرف حقیقت بتا رہا ہوں۔ آج تک نجانے کتنے جعلی پولیس مقابلے کیے ، کتنے مجرموں کو مارا، آپ سب جانتے ہیں، آپ نے ہی یہ راستہ دکھایا کہ عدالت انصاف نہیں دیتی، مجرم بچ نکلتے ہیں ۔ اسی لیے عدالت لے جانے سے پہلے ہی مجرم کا کام تمام کر دو۔
میں مانتا ہوں کہ میرا یہی طریقہ ہے۔ ہمارا عدالتی نظام ہی ایسا ہے کہ گناہ گار کو سزا ملتی نہیں اور بے گناہ سار ی زندگی پابند سلاسل رہتا ہے۔ اسی لئے مجھے جو صحیح لگتا ہے میں ہوشیاری سے وہی کرتا ہوں۔
میں نے بھی تو وہی کیا۔
ہاں۔۔۔۔ لیکن تم جذبات میں بہہ کر جلد بازی کر جاتے ہو۔ کبھی کبھی ہمیں مجرم کے ساتھ کھیلنا پڑتا ہے۔ کسی مجرم کو پکڑنا پڑتا ہے تو کسی کے ساتھ ڈیل کر کے چھوڑنا بھی پڑتا ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی رشوت لینی پڑتی ہے۔ تمہیں ہمیشہ یہی سمجھایا کہ عقلمندی سے کام لو۔
میں کچھ نہیں جانتا، اگر مجھے عدالت میں کوئی بھی سزا سنائی گئی تو میں سب کو ساتھ لے کر ڈوبوں گا۔ کس کس مجرم سے ہم نے کتنی کتنی رشوت لی، کس کس کو ہم نے جعلی پولیس مقابلے میں مارا اور کس کس مجرم کو سیاسی وابستگی کی بنا پر چھوڑا، میں گواہی دے کر سب کو پھنسا دوں گا۔
فیروز کے لہجے سے ایسا لگ رہا تھا کہ یہ اس کا آخری داؤ ہے۔ اور اپنے پکڑے جانے پر وہ یہ داؤ ضرور کھیلے گا۔
تم اب گھر جاؤ ، آج جمعہ ہے دو دن آرام کرو اور پیر کی صبح میرے پاس آؤ ، پھر دیکھتے ہیں کہ کیا ہو سکتا ہے۔ فیروز کی دھمکی کام کر گئی تھی۔ کامران کے لہجے میں تبدیلی محسوس کی جا سکتی تھی۔
ٹھیک ہے میں چلتا ہوں۔  اتنا کہہ کر فیروز  نے چائے کا آخری گھونٹ بھرا اور ہاتھ ملا کر کمرے سے باہر نکل گیا۔
٭
اتوار کی شام فیروز اپنے بیڈ روم میں بیٹھا کرکٹ میچ دیکھ رہا تھا ۔ بھوک محسوس ہونے پر اس نے پیزا آرڈر کیا اور اپنی پچھلی زندگی کے بارے میں سوچنے لگا۔
دس سال پہلے فیروز پولیس میں بطور اے ایس آئی بھرتی ہوا تھا۔ شروع سے ہی اپنی بہادری اور ہوشیاری کی وجہ سے وہ اپنے محکمے میں خاصا مشہور ہو گیا۔
ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے وقت سے پہلے ہی انسپکٹر کا عہدہ سنبھال لیا۔ پانچ سال پہلے شادی ہوئی اور شادی کے ایک سال بعد ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ لیکن ایک ٹریفک حادثے میں اپنی بیوی اور بیٹی دونوں کھو دیں۔
عینی شاہدین کے مطابق جس گاڑی سے فیروز کی بیوی کی ٹکر ہوئی وہ گاڑی روزینہ چلا رہی تھی۔ روزینہ کے خلاف مقدمہ بھی کیا گیا۔ لیکن عدم ثبوت کی بناہ پر وہ رہا ہو گئی۔ تب سے ہی فیروز، روزینہ سے بدلہ لینے کے انتظار میں تھا۔
بیوی اور بیٹی کی وفات کے بعد فیروز اکیلا رہ گیا ۔ اس کے مزاج میں سختی آ گئی اور اسے یہ بات سمجھ آ گئی کہ اس ملک میں طاقتور پر ہاتھ ڈالنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ اسی دوران اس کی ترقی ہو گئی اور وہ سب انسپکٹر کے عہدے سے ترقی پا کر انسپکٹر بن گیا۔ انسپکٹر کا عہدہ پانے کے بعد اس کی ڈیوٹی ڈی ایس پی کامران کے ساتھ لگا دی گئی۔
انسپکٹر فیروز عباس اور ڈی ایس پی کامران احمد گجرات کے امیر ترین علاقے کے تھانے میں تعینات تھے۔ دو سال سے دونوں ایک ساتھ کام کر رہے تھے۔
کامران ایک موقع شناس پولیس آفیسر تھا۔ مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے علاوہ اکثر مجرموں سے دوستی بھی کر لیتا ، جبکہ فیروز کا ایک ہی اصول تھا، یا تو مجرم کو پکڑ کر سزا دلوا دو یا پولیس مقابلے میں مار دو۔
مجرم زندہ رہے گا، نہ ہی جرم ہو گا۔ روزینہ کی تلاش پولیس کو کئی سالوں سے تھی۔
کمسن بچیوں کو اغوا کروا کر انھیں غیر قانونی طریقوں سے دوسرے ممالک میں اسمگل کروانا اور ملک کے بڑے بڑے شہروں میں اسکاٹ سروسز مہیا کرنے جیسے گھناؤنے جرائم میں وہ پولیس کو مطلوب تھی۔کئی دفعہ پولیس نے اسے گرفتار بھی کیا لیکن سیاسی سرپرستی کی بنا پر چھوڑ دیا گیا۔
پچھلے چند ماہ سے انسپکٹر فیروز بہت خفیہ طریقہ سے اس کی نگرانی کروا رہا تھا ۔ کل رات فیروز کو اس کے مخبر نے اطلاع دی کہ روزینہ کے ایک خفیہ ٹھکانے کا پتا چلا ہے جہاں کچھ نا بالغ لڑکیوں کی ڈیل چل رہی ہے۔
فیروز  نے نفری تیار کی اور مطلوبہ گھر پر چھاپہ مار دیا۔ روزینہ کو جیسے پولیس کے آنے کی خبر ہوئی وہ پچھلے دروازے سے گھر سے بھاگ کھڑی ہوئی، لیکن پچھلے دروازے پر فیروز پہلے سے ہی گھات لگائے بیٹھا تھا۔ جیسے ہی روزینہ نے فیروز کو اپنے سامنے دیکھا، ہاتھ اٹھا کر خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔
وہ جانتی تھی کہ پہلے کی طرح اس بار بھی وہ جلد ہی جیل سے باہر آ جائے گی اور یہ بات فیروز بھی جانتا تھا ۔ اسی لئے اس نے موقع سے فائدہ اٹھانے کا سوچا اور روزینہ کے ماتھے پر گولی مار دی۔ ماتھے پر گولی لگنے سے چند ہی لمحوں میں روزینہ کی روح جسم کا ساتھ چھوڑ گئی۔ جس جگہ پر فیروز  نے روزینہ پر گولی چلائی وہاں قریبی ایک گھر کے بیرونی سی سی ٹی وی کیمرے میں سب محفوظ ہو گیا۔
گھر کے مالک کا نام شاہد خان تھا جو کہ ایک ٹی وی رپورٹر تھا۔ گولی چلنے کی آواز سے شاہد کی آنکھ کھل گئی۔ اس  نے باہر نکل کر دیکھا اور فوراً معاملہ سمجھ گیا۔ جلدی سے اس  نے سی سی ٹی وی کی فوٹیج نکالی اور اپنے چینل کو بھیج دی۔
انسپکٹر فیروز پر پہلے بھی کئی دفعہ جعلی پولیس مقابلوں میں مجرموں کو مارنے کے الزامات لگ چکے تھے ، اس ویڈیو کے وائرل ہونے پر اس کی مشکلات میں اور بھی اضافہ ہو گیا۔ سارا میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کے خلاف ہو گئیں اور انکوائری کا مطالبہ کرنے لگیں۔ اب فیروز اس کوشش میں تھا کہ کسی طرح اس کے سینئرز اس کا ساتھ دیں اور اسے اس معاملے سے باہر نکالیں۔
قریب آدھے گھنٹے بعد دروازے کی گھنٹی بجی ، وہ سمجھ گیا کہ ڈیلیوری بوائے آ گیا ہے۔ وہ جلدی سے بیڈ سے اٹھا، سلیپرز پہنے اور دروازہ کھولنے کے لئے مرکزی دروازے کی طرف بڑھا۔
٭
فیروز پیر کی صبح اپنے گھر میں بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ ناشتے سے فراغت کے بعد کچھ ضروری معاملات نمٹا کر وہ تھانے جائے گا۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ موبائل کی گھنٹی بجی۔ اس نے اسکرین پر نمبر دیکھا۔ ڈی ایس پی کامران کی کال تھی۔ اس نے فون اٹھایا۔ دوسری طرف سے عجلت میں کہا گیا۔
جتنا جلدی ہو سکتا ہے تم تھانے پہنچو۔
سر! خیر تو ہے؟ فیروز سمجھ گیا کہ اسی کے کیس کے سلسلے میں کوئی بات ہے۔
تم جلدی پہنچو، تفصیل یہا ں آؤ گے تو بتاؤں گا۔  اتنا کہہ کر کامران نے کال کاٹ دی۔ کامران کا ایسا انداز فیروز کو مزید پریشان کر گیا۔ جلدی جلدی ناشتہ ختم کیا، تیار ہوا اور گھر سے باہر نکل گیا۔
جی ڈی ایس پی صاحب! اب بتائیے کیا بات ہے؟ فیروز  نے کمرے میں داخل ہوتے ہی پوچھا۔
آرام سے بیٹھو ،بتاتا ہوں۔  کامران نے سامنے پڑی کرسی کی طرف اشارہ کیا ۔ فیروز بیٹھ گیا۔ فیروز کے بیٹھنے کے بعد پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کامران بولا
تم روزینہ کے ساتھی شاہنواز رانا کو جانتے ہو؟
جب ہم روزینہ کے بارے میں تفتیش کر رہے تھے تو اکثر یہ نام سننے میں آتا تھا۔ روزینہ اکثر روپوش ہونے کے لئے اسی کی مدد لیا کرتی تھی۔ لیکن ہم نے کبھی اس کو نہ تو دیکھا اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی ثبوت مل سکا۔ بس اتنا جانتے ہیں کہ شاہنواز ، پسِ پردہ رہ کر روزینہ کا ساتھ دیا کرتا تھا۔
ہاں۔۔۔۔ اتنا تو میں بھی جانتا ہوں۔ کامران  نے ایک سرد آہ بھر کر کہا۔
لیکن معاملہ کیا ہے؟ شاہنواز کا ذکر کہاں سے آ گیا؟ وہ تو کبھی بھی کسی جرم میں براہ راست شامل نہیں رہا۔  فیروز نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔
اچھا اب سنو! جبار شیخ اور ستار شیخ کو تو تم جانتے ہو نا؟
وہی شیخ برادرز  کے مالک جن کا پنکھے، کولر بنانے کا کاروبار ہے؟ گجرات کے امیر ترین لوگوں میں شامل ہوتے ہیں دونوں بھائی۔  فیروز نے اپنی معلومات پیش کی۔
ہاں وہی ۔۔۔۔۔ آج صبح دونوں کی بیٹیاں اسکول جا رہی تھیں کہ کسی نے ان کی گاڑی رکوا کر اغوا کر لیا۔ پھر اغوا کرنے والے  نے دونوں بھائیوں کو فون کیا اور کہا کہ دونوں کی بیٹیوں کو چھوڑنے کے بدلے پانچ کروڑ روپے تاوان تیار رکھیں، اغوا کرنے والا شاہنواز ہے۔ اس نے خود اپنا نام بتایا اور شیخ صاحب سے کہا کہ پولیس کو چیلنج ہے مجھے تلاش کر سکتے ہیں تو کر لیں۔
اوہ۔۔۔۔ تو اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ کیا ہم نے ٹریس کرنے کی کوشش کی؟
اس کی کال لوکیشن ٹریس نہیں کی جا سکی۔ سائبر سیکورٹی والے پچھلے دو گھنٹوں سے اس کی لوکیشن ٹریس کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کال کرنے کے لیے وہ کسی خاص سافٹ وئیر کا استعمال کر رہا ہے۔ جس جگہ سے لڑکیاں اغوا کی گئیں ، وہاں کوئی سی سی ٹی وی نہیں تھا ، ڈرائیور  نے بتایا کہ سفید کرولا وین  نے زبردستی ان کی گاڑی کو رکوایا۔
دو نقاب پوش باہر نکلے اور بچیوں کو گن پوائنٹ پر اغوا کیا۔ وین میں دھکیلا اور چلے گئے۔ یہ سب ایک منٹ سے بھی کم وقت میں ہوا، ڈرائیور کو تو سمجھ ہی نہیں لگ سکی کہ ہوا کیا ہے۔
لڑکیوں کی عمر کیا ہے؟
یہی کوئی گیارہ بارہ سال۔
اب شاہنواز کیا چاہتا ہے؟ پیسے کب دینے ہیں؟
اس نے کل صبح سات بجے تک کا وقت دیا ہے۔ کل سات بجے کال کر کے بتائے گا کہ پیسے کہاں لے کر آنے ہیں۔
تو کیا ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے۔ شاہنواز کو پکڑنے کے لیے کچھ نہیں کریں گے؟‘‘ فیروز حیران ہو گیا۔
نہیں ۔۔۔۔ایسی بات نہیں ہے ۔ہم اس کی کال کو ٹریس کرنے کی کوشش میں ہیں اور دوسرا یہ کہ پیسوں والے بیگ میں ہم جی پی ایس ٹریکر ڈال دیں گے۔ وہ پیسہ حاصل کرنے کے بعد جہاں بھی جائے گا، ہمیں پتا چل جائے گا اور ہم موقع پر ہی گرفتار کر لیں گے۔
کیا وہ دونوں پانچ کروڑ دینے کے لیے تیار ہیں؟
اپنی بیٹیوں کو بچانے کی خاطر وہ پیسہ دینے کو تیار ہیں۔ لیکن میں  نے انھیں یقین دہانی کروائی ہے کہ ہم مجرموں کو بھی پکڑ لیں گے اور آپ کا پیسہ بھی واپس دلوا دیں گے۔
اب آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟
تم شاہنواز کا پتا لگوانے کی کوشش کرو۔ جو جو تمہارے خبری ہیں ان سے ملو۔ دیکھو شاید کسی کے پاس کوئی انفارمیشن ہو ۔ میں دوسرے رخ سے تفتیش کرتا ہوں۔
اور میرے مسئلے کا کیا بنا؟  فیروز نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
وہ بعد میں دیکھیں گے۔ پہلے اس شاہنواز کو تو ڈھونڈو۔
ٹھیک ہے میں اپنی کوشش کرتا ہوں۔ لیکن امید نہیں کہ کوئی سراغ ملے گا۔  اتنا کہہ کر فیروز اپنی کرسی سے کھڑا ہوا، کامران سے ہاتھ ملایا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
٭
فیروز اور کامران اپنے اپنے طریقے سے شاہنواز کا سراغ لگانے کی کوشش کرتے رہے۔ اب تک شاہنواز  نے صرف ایک ہی بار کال کی تھی۔ سائبر سکیورٹی کال کا سراغ لگانے میں نا کام رہی۔ یقینا کال کرنے کے لئے اس نے کوئی ہائیلی سیکیورڈ سافٹ وئیر کا استعمال کیا تھا۔
فیروز کے خبری بھی شاہنواز کا کوئی سراغ نہ لگا سکے۔ پولیس کے لیے شاہنواز صرف ایک نام تھا۔ کسی نے بھی آج تک اسے نہیں دیکھا تھا۔ پورا دن ایسے ہی گزر گیا۔ دوسری طرف جبار اور ستار  نے شاہنواز کے مطالبے کے مطابق پانچ کروڑ کیش کا انتظام کر لیا۔ اگلے دن صبح سات بجے شاہنواز کی کال جبار شیخ کے موبائل پر آئی۔
پیسے تیار ہیں؟  شاہنواز کی آواز سنائی دی۔
ہاں تیار ہیں۔ ہماری بیٹیاں کیسی ہیں؟
وہ خیریت سے ہیں۔ تم پیسے لے کر کامران اور فیروز کے پاس تھانے لے جاؤ۔ اگلا فون میں پورے آٹھ بجے کروں گا۔   کوئی جواب سنے بغیر شاہنواز  نے فون بند کر دیا۔ جبار حیران ہو کر ستار کی طرف دیکھنے لگا۔ شاہنواز کی بات وہ بھی سن چکا تھا۔
پیسے ہم پولیس اسٹیشن میں کیوں  لے کر جائیں؟ بات سجھ نہیں آ رہی۔  ستار نے کہا۔
مجھے ڈی ایس پی کامران کو کال کرنی چائیے۔ دیکھتے ہیں وہ کیا کہتے ہیں۔  جبار، کامران کا نمبر ملانے لگا۔
جی جبار صاحب! ہم آپ کی گفتگو سن چکے ہیں اور ہمارا عملہ کال کو ٹریس کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
تو کیا میں پیسہ لے کر آپ کے پاس آ جاؤں؟
جی۔۔۔۔ پر آپ فکر نہ کریں ہم بیگ میں جی پی ایس ٹریکر چھپا دیں گے۔ وہ جہاں بھی بیگ لے کر جائے گا، ہم پکڑ لیں گے۔ آپ شاہنواز کی ہدایت کے مطابق پیسہ لے کر جلد یہاں پہنچ جائیں۔ اگلی بار میں خود اس سے بات کروں گا اور یہ جاننے کی کوشش کروں گا کہ اس نے ایسا کرنے کے لیے کیوں کہا۔
جی ۔۔۔۔ ہم بس نکل رہے ہیں۔  فون رکھنے کے بعد جبار نے پیسوں سے بھرے دو بیگز گاڑی کی پچھلی سیٹ پر رکھے اور ستار شیخ کے ساتھ پولیس اسٹیشن چلا گیا۔
پولیس اسٹیشن پہنچ کر وہ دونوں سیدھے کامران کے کمرے کی طرف بڑھنے لگے۔ فیروز بھی وہاں موجود تھا۔
میں پیسے  لے آیا ہوں۔ کال لوکیشن ٹریس ہوئی؟ جبار  نے کمرے میں داخل ہوتے ساتھ ہی پوچھا۔
کال ٹریس نہیں ہو سکی، پر آپ فکر نہ کریں آپ کی دونوں بیٹیاں اور پیسہ، آپ کو واپس دلوائیں گے۔
کامران نے خود اعتمادی کے سے انداز میں کہا۔
سر! ایک بات سمجھ نہیں آ رہی کہ شاہنواز  نے پیسہ  لے کر ہمارے پاس آنے کو کیوں کہا؟ فیروز نے پوچھا۔
یہ تو وہی بتائے گا۔ لگتا ہے اس کے دماغ میں کوئی اور ہی منصوبہ منڈلا رہا ہے۔ آٹھ بجنے والے ہیں۔
جلد ہی اس کی کال آئے گی اور پھر پتا چلے گا کہ اب وہ ہم سب سے کیا چاہتا ہے۔ شبیر، تم سائبر سیکیورٹی والوں کو ایکٹو رکھو ، اس بار لازمی کال ٹریس ہونی چایئے۔
کامران  نے سب انسپکٹر شبیر سے کہا۔ اس نے سر ہلا کر اشارہ کیا۔ جیسے ہی آٹھ بجے، جبار شیخ کے موبائل پر گھنٹی بجنے لگی۔ جبار  نے کال ریسو کی۔
جبار صاحب! فون لاؤڈ اسپیکر پر ڈال دیں، اب کھیل شروع کرنے کا وقت ہو گیا ہے۔  شاہنواز کی آواز سنائی دی۔
فون لاؤڈ اسپیکر پر ہی ہے۔ تم بات کرو کیا چاہتے ہو۔ میں ڈی ایس پی کامران احمد بات کر رہا ہوں۔
ڈی ایس پی صاحب! انسپکٹر فیروز بھی آپ کے ساتھ موجود ہے؟
ہاں موجود ہوں ۔۔۔۔ بولو کیا بات ہے؟  فیروز نے آگے بڑھ کر کہا۔
پیسہ تیار ہے؟
ہاں۔۔۔۔ جیسے تم  نے کہا تھا۔ دو بیگز میں اڑھائی اڑھائی کروڑ کے چھوٹے اور بغیر سیریل کے نوٹ رکھ دیئے ہیں۔  جبار شیخ کی آواز سنائی دی۔
تو اب اصل کھیل شروع کرتے ہیں۔ فیروز  نے پانچ دن پہلے میری ساتھی اور محبوبہ روزینہ کو قتل کیا۔ یہ اغوا میں نے فیروز سے بدلہ لینے کے لئے کیا ہے۔ پیسہ فیروز کو دے دو اور وہ بالکل اکیلا میری بتائی ہوئی جگہ پر بغیر کسی ہتھیار کے آئے گا۔
جیسے ہی مجھے پیسہ ملا میں اس جگہ کا پتا بتا دوں گا جہاں دونوں لڑکیاں قید ہیں۔ اور اگر تم لوگوں  نے کوئی ہوشیاری کی تو لڑکیوں کی لاشیں آج رات تک کسی چوک سے اٹھا لینا۔  آخری بات کرتے ہوئے شاہنواز کا لہجہ سخت ہو گیا تھا۔
نہیں نہیں۔۔۔۔ ہماری بیٹیوں کو کچھ نہیں ہونا چاہیے۔ تم جیسا کہو گے ہم ویسا ہی کریں گے۔  ستار شیخ  نے گھبرائی ہوئی آواز میں کہا۔
کیا چاہتے ہو تم؟ کھل کر بات کرو، سب تمہیں سن رہے ہیں۔ کامران نے پوچھا۔
کامران صاحب ! اب تک تو آپ یہ بات جان چکے ہوں گے کہ آپ کا عملہ میری کال ٹریس نہیں کر سکا، اور نہ ہی ٹریس کر سکے گا۔ اس لیے میرا پیچھا کرنا چھوڑ دیں۔ جیسا کہا ہے ویسا کریں۔ فیروز سے کہیں کہ گاڑی میں پیسوں سے بھرے بیگ رکھے اور جہاں میں کہوں وہاں پہنچ جائے۔
پیسہ ملنے کے بعد تم فیروز کا کیا کرو گے؟  کامران نے شاہنواز سے پوچھا۔
ظاہری سی بات ہے ، روزینہ کا بدلہ لوں گا۔ اب بدلہ کیسے لوں گا؟ وہ آپ کو وقت آنے پر پتا چل جائے گا۔
میں ٹھیک پندرہ منٹ بعد فیروز کے نمبر پر کال کروں گا۔ فیروز اس وقت اکیلا پیسوں کے ساتھ گاڑی میں بغیر کسی ہتھیار کے موجود ہونا چاہئے۔ میں اسے کال پر راستہ سمجھا دوں گا۔
اتنا کہہ کر شاہنواز نے فون بند کر دیا۔ وہ سب ایک دوسرے کی طرف ایسے دیکھنے لگے جیسے پوچھ رہے ہوں کہ اب کیا کرنا ہے۔
فی الحال ہمارے پاس شاہنواز کی بات ماننے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ فیروز! تم گاڑی میں پیسے لے کر جاؤ گے۔ تمہارے پاس دو موبائل ہیں۔ ایک پر شاہنواز تم سے بات کرے گا اور دوسرے پر ہم تمہارے ساتھ رابطے میں رہیں گے۔
شاہنواز کی کال تم اسپیکر پر رکھو گے ، دوسرے سیٹ سے ہم تم دونوں کی گفتگو سنتے رہیں گے۔
شبیر! تم چار کانسٹیبل لے کر فیروز کے پیچھے پیچھے رہو گے۔ میں سائبر سیل میں بیٹھ کر تم سب لوگوں کی لوکیشنز پر نظر رکھوں گا۔
جبار اور ستار صاحب! آپ دونوں گھر تشریف لے جا سکتے ہیں۔ ان شا ء اللہ آج لنچ آپ اپنی بیٹیوں کے ساتھ کریں گے۔  ڈی ایس پی کامران نے سبھی کو ہدایات دیتے ہوئے کہا۔
سر! شاہنواز، فیروز صاحب کے ساتھ کیا معاملہ کرے گا؟ شبیر کو اپنے سینئر کی فکر تھی۔
ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔ اس چیز کی نوبت نہیں آئے گی۔ ہم اسے موقع پر گرفتار کر لیں گے یا اس نے جو بھی ہمارے خلاف جال بچھایا ہو گا، اسے کاٹ ڈالیں گے۔ کوئی بھی مجرم پولیس کو چیلنج نہیں کر سکتا۔ کامران نے لہجے میں غصّہ دیکھا جا سکتا تھا۔
لیکن ابھی تک ہم اس کا سراغ نہیں لگا سکے۔ فیروز  نے دھیمے سے کہا۔ کامران  نے غصّے سے فیروز کو آنکھیں دکھائیں اور بولا۔
تم جانے کی تیاری کرو۔ تمہارے موبائل سے ہم رابطے میں رہیں گے۔ ۔ شبیر تم دونوں بیگز میں ٹریکرز ایسے انداز میں چھپاؤ کہ کسی کو نظر نہ آ سکیں۔
شبیر نے ٹریکرز نوٹوں کے بنڈوں کے درمیان ایسے چھپا دیئے کہ آسانی سے نظر نہ آ سکیں۔ ٹھیک آٹھ بج کر پندرہ منٹ پر فیروز کے فون پر شاہنواز کی کال آ گئی۔ فیروز تیار تھا اور گاڑی میں بیٹھ چکا تھا۔
ہاں بتاؤ کہاں آنا ہے؟  فیروز نے پوچھا۔
مین بازار کی طرف آؤ ، پانچ منٹ بعد پھر سے کال کروں گا۔  شاہنواز  نے فون بند کر دیا۔ فیروز  نے گاڑی کا رخ مین بازار کی طرف کر دیا۔ پانچ منٹ بعد پھر سے کال آئی۔
ریلوے روڈ کی طرف مڑ جاؤ۔  اگلی ہدایت تیار تھی۔ فیروز  نے گاڑی کا رخ ریلوے روڈ کی طرف کر دیا۔ پانچ منٹ بعد پھر سے کال آئی۔
کہاں تک پہنچے؟
ریلوے اسٹیشن کے پاس ہوں۔ اب کہاں جانا ہے؟
گاڑی اسٹیشن کی پارکنگ میں کھڑی کرو اور اسٹیشن کے اندر آ جاؤ۔  فون بند ہو گیا۔
فیروز! یہ شاید تم سے اسٹیشن کی بھیڑ میں بیگز حاصل کرنا چاہتا ہے۔
ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو۔ سر! اب میں اندر جاؤں؟
کوئی اور راستہ ہے تمہارے پاس؟
نن۔۔۔ نہیں، ٹھیک ہے۔ میں اندر جا رہا ہوں۔
فیروز نے بیگز اٹھائے اور گاڑی لاک کر کے باہر نکل آیا۔ موسم خوشگوار تھا۔ گجرات اسٹیشن میں ہر طرف ہل چل تھی۔ یوں تو گجرات کا اسٹیشن اتنا بڑا نہیں تھا ، لیکن پھر بھی لوگ کافی تعداد میں موجود تھے۔ جیسے ہی وہ اندرونی لابی میں پہنچا۔ فون پھر سے بجنے لگا۔
راولپنڈی کا ٹکٹ خرید لو اور لاہور سے آنے والی ٹرین میں بیٹھو۔ ٹرین دس منٹ تک پلیٹ فارم پر آنے والی ہے۔   اس سے پہلے کہ فیروز کوئی اور سوال پوچھتا، کال کاٹ دی گئی۔
سر! کیا کرنا ہے؟  فیروز نے پوچھا۔
لگتا ہے وہ تمہیں درمیان میں کسی اسٹیشن پر اترنے کا کہے گا۔
میں ٹکٹ خریدنے لگا ہوں۔دیکھتے ہیں وہ آگے کیا کہتا ہے ۔
فیروز ٹکٹ کاؤنٹر کی طرف بڑھنے لگا۔ ٹکٹ خرید کر وہ پلیٹ فار م پر جا کر کھڑا ہو گیا۔ کامران  نے ریلوے پولیس کو فون کر کے ہدایت دی کہ چند کانسٹیبل سادہ لباس میں فیروز کے ساتھ ساتھ رہیں گے۔ سادہ لباس والے غیر محسوس طور پر فیروز کے ارد گرد منڈلانے لگے۔ کچھ ہی دیر میں ٹرین آ گئی۔ فیروز ایک بوگی میں سوار ہو گیا۔ سادہ لباس والے بھی دوسرے دروازے سے بوگی میں سوار ہو گئے۔
ٹرین چل پڑی۔ ابھی تک شاہنواز کی طرف سے کوئی کال نہیں آئی تھی۔ گجرات سے اگلا اسٹاپ لالہ موسیٰ تھا۔ جیسے ہی ٹرین نے اپنی رفتار دھیمی کی، موبائل بج اٹھا۔
لالہ موسیٰ اتر جاؤ اور سیڑھیاں چڑھ کر دوسرے پلیٹ فارم پر چلے جاؤ۔ اور ہاں تمہارے ساتھ گجرات سے جو سادہ لباس میں پولیس والے سوار ہوئے تھے۔ ان سے کہو کہ اب کی بار ایسی غلطی نہ کریں۔ نہیں تو تم لوگوں کے حق میں اچھا نہیں ہو گا۔
ڈی ایس پی کامران صاحب! آپ میرے ساتھ کوئی چالاکی نہیں چل سکتے ۔ سن رہے ہیں نا؟  شاہنواز کو کامران کی حرکت کا اندازہ ہو گیا تھا۔
فیروز ! جیسے یہ کہہ رہا ہے ویسا ہی کرو۔ میں باقی سادہ لباس والوں کو ہدایت دے دیتا ہوں کہ وہ واپس گجرات چلے جائیں۔
پلیٹ فارم نمبر دو پر دس منٹ بعد پشاور جانے والی ایک دوسری ٹرین آئے گی۔ تم اس میں سوار ہو گے اور میرے اگلے فون کا انتظار کرو گے۔ اور یاد رہے اس بار تم صرف اکیلے ٹرین میں سوار ہو گے اور سب سے آخری بوگی میں بیٹھو گے۔  فون کاٹ دیا گیا۔
فیروز  نے دونوں بیگ اٹھائے اور سیڑھیاں چڑھ کر دوسری پلیٹ فارم پر جا کر اندازے سے اس مقام پر کھڑا ہو گیا جہاں گاڑی کی آخری بوگی ہو سکتی تھی۔
سر! یہ کیا کھیل کھیل رہا ہے؟ شبیر نے پوچھا۔ فیروز کے گاڑی میں سوار ہونے کے بعد شبیر اور باقی ماتحت واپس تھانے آ چکے تھے۔
بس الجھا رہا ہے۔ دیکھتے ہیں اس کا کھیل کس حد تک جاتا ہے۔
کچھ ہی دیر میں دوسری ٹرین آ گئی۔ فیروز نے دائیں اور بائیں دیکھا۔ اب اس کے ساتھی کہیں بھی نظر نہیں آ رہے تھے۔ یقیناً شاہنواز کی ہدایت کے مطابق کامران نے انھیں واپس بلا لیا تھا۔ وہ ٹرین میں سوار ہو گیا۔
ٹرین چل پڑی۔ اب اسے بے چینی سے شاہنواز کی کال کا انتظار تھا۔ ٹرین کھاریاں کی اسٹیشن پر رکی اور پھر آگے بڑھنے لگی لیکن شاہنواز کی دوبارہ کال نہیں آئی۔
فیروز  نے اس کا نمبر ملانے کی کوشش بھی کی لیکن نمبر بند تھا۔ لیکن اسے زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑا۔ جلد ہی شاہنواز کی کال آ گئی۔ اس نے دھڑکتے دل سے فون ریسیو کیا۔ دوسری طرف سے شاہنواز کی آواز سنائی دی۔
فیروز میاں ! تیار ہو جاؤ۔ کچھ دیر بعد جہلم کا اسٹیشن آئے گا۔ اسٹیشن سے پہلے دریائے جہلم آئے گا۔ تمہیں دریا آنے سے پہلے دونوں بیگز ٹرین سے باہر پھینک دینے ہیں اور ساتھ میں ایک اور بھی کام کرنا ہے۔
کک۔۔۔ کیسا کام ؟
چلتی ٹرین سے تم بیگز باہر پھینکنے کے ساتھ ساتھ خود بھی جمپ کر دو گے۔
کیا۔۔۔۔۔! فیروز نے علاوہ دوسرے فون پر کامران اور باقی کے عملے کی آواز ابھری۔
تمہیں کیا لگتا ہے، میں تمہیں ٹرین میں بیٹھا کر نانی کے گھر گرمی کی چھٹیاں گزارنے کے لیے بھیج رہا ہوں؟
میرا پہلے سے ہی یہ پلان تھا۔ تمہارے پاس وقت کم ہے۔
لیکن میں تو مر جاؤں گا۔ ٹرین تو پوری رفتار سے چل رہی ہے۔
تو تمہیں زندہ رکھنا بھی کون چاہتا ہے۔ میں تم سے روزینہ کا بدلہ لینا چاہتا ہوں۔ اس لیے تمہیں جمپ کرنی ہی ہو گی۔ اگر بچ گئے تو تمہاری قسمت، میں پھر تمہارے راستے میں نہیں آؤں گا۔ جیسے ہی تم پیسوں سمیت جمپ کرو گے، میں کامران کے موبائل پر لڑکیوں کی لوکیشن سینڈ کر دوں گا۔ پھر ہم کبھی دوبارہ نہیں ملیں گے۔
فیروز! اس کی بات نہ ماننا، تم چلتی ٹرین سے کودنے کے بعد کبھی بھی زندہ نہیں بچ سکو گے۔  کامران  نے چلا کر کہا۔
ڈی ایس پی صاحب! کل سے اب تک آپ مجھے پکڑ نہیں سکے اور نہ ہی بعد میں پکڑ سکیں گے۔ ایک بات بتا دوں، دونوں لڑکیاں جس جگہ قید ہیں، کل سے ان دونوں نے کچھ نہیں کھایا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ بھوکی پیاسی قید میں مر جائیں۔
ٹھیک ہے، میں جمپ کروں گا۔ بیوی اور بیٹی تو پہلے ہی دنیا سے چلی گئیں، روزینہ کے کیس کو  لے کر اب نوکری بھی چلی جائے گی۔ میں جی کر کیا کروں گا۔ کم از کم مرتے مرتے کسی کا بھلا کر دوں۔
شاہنواز ! تم بتاؤ کب جمپ کرنا ہے؟
نہیں فیروز! تم ایسا نہیں کر سکتے۔  کامران کی آواز سنائی دی۔
مجھے اب ایسا ہی کرنا ہے۔شاہنواز تم نے بتایا نہیں۔
تمہاری ٹرین اب میری نظر میں ہے۔ جیسے ہی میں بولوں، تم جمپ کر دوگے۔
میں تیار ہوں۔ دونوں بیگز میرے ہاتھ میں ہیں اور میں دروازے پر کھڑا ہوں۔
ایک دو تین۔۔۔۔۔۔ جمپ۔ شاہنواز کی آواز سنائی دی۔
اللہ حافظ سر، کچھ غلطی ہوئی ہو تو معاف کر دیں۔
اس کے بعد کامران کے موبائل سے تیز ہوا کی آواز سنائی دینے لگی اور پھر کال کٹ گئی۔
کامران ابھی سکتے کی حالت میں حالات کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس کے موبائل پر ایک میسج آیا۔
مکان نمبر پچیس، گلی نمبر بارہ، اسلامیہ پارک۔ کامران سمجھ گیا کہ اس پتے پر لڑکیاں بازیاب کروا لی جائیں گی۔ اور فیروز۔۔۔۔۔ فیروز کا کیا بنا؟
٭
ڈی ایس پی کامران کے کمرے میں موت کا سا سناٹا تھا۔ کچھ وقت ایسے ہی گزر گیا۔ پھر شبیر کی آواز سنائی دی۔
سر! کیا فیروز صاحب حقیقت میں چلتی ٹرین سے باہر کود گئے؟
پتا نہیں۔۔۔۔ ظفر! تم اس ایڈریس پر دو کانسٹیبل ساتھ لے کر جاؤ اور لڑکیاں بازیاب کروا کر باقی کی کارروائی مکمل کرو۔
بہت بہتر جناب۔ ظفر نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔
شبیر! تم جہلم پولیس کو واقعے کی اطلاع دو۔ ان سے کہو کہ دریا کے کنارے جلد از جلد پہنچیں۔ اب ہمیں بھی وہاں جانا ہو گا ۔ اس سے پہلے شبیر کچھ کہتا ، کامران تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔ شبیر نے اے ایس آئی کو جہلم پولیس کو اطلاع کرنے کی ہدایت دی اور خود کامران کے پیچھے پیچھے چل دیا۔
ان کی جیپ جہلم کی طرف آندھی اور طوفان کی طرح دوڑی چلی جا رہی تھی۔ اسی اثنا میں کامران کے موبائل پر سائبر سیل سے فون آیا۔
سر! ایک گڑ بڑ ہو گئی ہے۔
کیسی گڑبڑ؟  کامران نے حیران ہو کر پوچھا۔
لگتا ہے فیروز صاحب نے بیگز ٹرین سے باہر پھینکنے سے پہلے ٹریکرز نکال کر ٹرین میں ہی چھوڑ دیئے تھے۔ ٹریکرز کی لوکیشن بددستور حرکت میں ہے۔ جہلم کراس کر کے اب دینہ کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
مجھے پہلے ہی اس بات کا شک تھا۔
فیروز صاحب کے دونوں موبائل بھی بند ہیں۔
تم ایک کام کرو۔ جہلم ریلوے اسٹیشن کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرواور بتاؤ کچھ خاص نظر آتا ہے کیا۔  ہدایت دے کر کامران نے فون بند کر دیا۔ کچھ ہی دیر میں ظفر کی کال آئی۔
سر! دونوں لڑکیاں مل گئی ہیں۔
بہت خوب، کارروائی پوری کر کے دونوں لڑکیاں ان کے والدین کے حوالے کر دو۔ میں ذرا فیروز صاحب کاسراغ لگا لوں۔  اسی دوران جہلم پولیس کے ایس ایچ او منور علی کی کال آ گئی۔
سر! جس جگہ کا آپ نے بتایا ہے وہاں نہ تو کوئی بیگ ملا اور نہ ہی کوئی انسان ملا۔ بلکہ ایک اور خبر ہے میرے پاس۔ ایس ایچ او نے اطلاع دی۔
کیسی خبر؟
ہم  نے اس علاقے میں چند کسانوں سے بات کی ہے۔ عینی شاہدین کے بیان کے مطابق انھوں نے ٹرین کی آخری بوگی سے کسی کو دو بیگ پھینکتے ہوئے دیکھا۔ ایک کالی ہونڈا سیوک کار پہلے سے وہاں موجود تھی۔ جیسے ہی بیگ باہر پھینکے گئے، ایک آدمی جلدی سے گاڑی سے باہر نکلا اور دونوں بیگ اٹھا کر کہیں چلا گیا۔
یعنی میرا خیال صحیح نکلا ، یہ سارا فیروز کا بنایا ہوا پلان تھا۔
ایک اور بات ہمیں دو ٹوٹے ہوئے موبائل ملے ہیں۔
یہ بات بھی جانتا ہوں۔ بس میں آدھے گھنٹے میں آپ تک پہنچ رہا ہوں۔ آپ اسٹیشن کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کریں۔  کامران نے فون کاٹ کر شبیر کی طرف دیکھا۔
سر! یہ سب کیا ہو گیا؟
فیروز جانتا تھا کہ روزینہ کے کیس میں اس کے لیے بچنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ بیوی بچے اب تھے نہیں۔ اس لیے اس نے یہ سارا سیٹ اپ تیار کیا۔ پتا نہیں اغوا کرنے والا واقعی شاہنواز رانا ہی تھا یا اس کا صرف نام استعمال کیا گیا۔
کامران سر پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا۔ کچھ دیر بعد پھر سے فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف ظفر تھا۔
سر! جہلم اسٹیشن کی سی سی ٹی وی فوٹیج مل گئی ہے۔ فیروز صاحب جہلم اسٹیشن پر اترے اور بلیک سیوک میں بیٹھ کر چلے گئے۔ سیوک کا نمبر نوٹ کر لیا ہے۔ جہلم پولیس کو تلاش پر لگا دیا ہے۔
بہت خوب۔۔۔۔۔ میں بس جہلم پہنچنے والا ہوں۔ باقی سارا کیس اب میں خود لوکل پولیس کے ساتھ دیکھوں گا۔ کامران نے فون بند کر دیا۔
سر! یقین نہیں آ رہا کہ فیروز صاحب ایسا کر سکتے ہیں۔  شبیر نے کامران کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
میں اسی وقت ٹھٹھک گیا تھا جب شاہنواز نے کہا کہ فیروز کو اکیلے پیسوں کے ساتھ بھیجو۔ اسی لیے تم لوگوں کو پیچھا کرنے کا کہا تھا۔ لیکن مجھے اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ وہ فیروز کو ٹرین میں بٹھا دے گا۔ پھر میں  نے ریلوے پولیس کو بھی فیروز کے ساتھ رہنے کا کہا۔ لیکن انھوں نے ٹرین بدل لی۔
بہت چلاکی سے یہ سارا سیٹ اپ تیار کیا گیا ہے۔  کامران کو اپنی ناکامی پر افسوس ہو رہا تھا۔ کچھ دیر بعد وہ مطلوبہ تھانے میں بیٹھے مقامی ایس ایچ او منور علی سے کیس پر بات کر رہے تھے کہ منور علی کو اطلاع ملی۔
سر! سڑک کے کنارے ایک آدمی کی لاش ملی ہے۔ عینی شاہد کے بیان کے مطابق کالی ہونڈا سیوک سے لاش باہر پھینکی گئی ہے۔ اور گاڑی کا نمبر وہی ہے جس میں انسپکٹر فیروز فرار ہوا تھا۔
کیا۔۔۔۔۔!  کامران اور شبیر کے منہ سے ایک ساتھ نکلا۔
٭
اتوار کی شام فیروز کرکٹ میچ دیکھتے ہوئے بھوک محسوس کرنے لگا۔ اس نے پیزا آرڈر کیا۔ قریب آدھے گھنٹے بعد ڈور بیل کی آواز سنائی دی۔ وہ سمجھ گیا کہ ڈیلیوری بوائے آ گیا ہے۔ اس نے دروازہ کھولا لیکن ایک غیر مانوس چہرہ دیکھ کر اسے حیرانی ہوئی۔
جی کہیے۔۔۔۔ کس سے ملنا ہے آپ کو؟  فیروز نے آنے والے سے پوچھا۔
خاکسار کو شاہنواز رانا کہتے ہیں۔ نام تو سنا ہی ہو گا آپ نے۔  آنے والے نے اپنا نام بتایا۔
تم۔۔۔۔۔۔ یہاں؟ جانتے ہو میں تمہیں کتنے وقت سے ڈھونڈ رہا ہوں۔  فیروز کو اس کے گھر آنے پر حیرانی ہو رہی تھی۔اور وہ سوچ رہا تھا کہ کہیں وہ اس سے روزینہ کا بدلہ لینے تو نہیں آیا۔
گھبراؤ مت انسپکٹر صاحب!میں آپ سے کوئی بدلہ ودلہ لینے نہیں آیا۔ چاہو تو میری تلاشی لے لو۔ میرے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہے۔
شاہنواز  نے ہاتھ کے اشارے سے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ فیروز ایک طرف ہو گیا۔ وہ اندر داخل ہوا اور سامنے براؤن صوفے پر پر سکون انداز میں بیٹھ گیا۔ فیروز اس کے سامنے بیٹھ گیا اور بولنے لگا۔
اب بتاؤ ۔۔۔۔۔ تم یہاں کیوں آئے؟
میں جانتا ہوں کہ تم یہی سمجھ رہے ہو گے کہ میں روزینہ کا بدلہ لینے آیا ہوں۔ لیکن مجھے روزینہ کے مرنے پر کوئی افسوس نہیں۔ میرا کام پیسہ کمانا ہے۔ اب چاہے میں پیسہ روزینہ کے ذریعے کماؤں یا کسی اور کی مدد سے ،کیا فرق پرتا ہے۔ شاہنواز نے جیب سے سگریٹ کا پیکٹ نکال کر کہا۔
مجھ سے کیا چاہتے ہو؟
میں جانتا ہوں کہ روزینہ کی موت کی انکوائری ہو گی اور تمہیں معطل کر دیا جائے گا۔ ہو سکتا ہے جیل بھی جانا پڑے۔ اس سے پہلے بھی تم تین دفعہ جعلی پولیس مقابلوں میں شامل تفتیش رہ چکے ہو۔ وائرل ویڈیو کی وجہ سے اس بار بچ نکلنا بہت مشکل ہے۔ اسی لیے میرے پاس تمہارے لیے ایک اچھا منصوبہ ہے۔
شاہنواز نے جیب سے سگریٹ کا پیکٹ نکالا اور ایک سگریٹ نکال کر پیکٹ فیروز کی طرف بڑھایا۔
کیسا منصوبہ؟ فیروز نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا اور ایک سگریٹ نکال لیا۔
اڑھائی کروڑ کما کر رفو چکر ہو جانے کا منصوبہ۔ میں دو لڑکیوں کو اغوا کروں گا۔ان کے والدین سے بطور تاوان پانچ کروڑ مانگوں گا۔ پھر ان کے والدین سے کہوں گا کہ پیسہ انسپکٹر فیروز کے ہاتھ بھیجیں۔
مجھے فیروز سے روزینہ کا بدلہ لینا ہے۔ پیسہ لے کر فیروز کو مار دوں گا اور ان کی بیٹیاں چھوڑ دوں گا۔ سب پلان کے مطابق ہو گا۔ تمہارا ڈی ایس پی یہی سوچے گا کہ وہ مجھے پکڑ لیں گے۔ شاید پیسوں کے بیگ میں ٹریکر چھپا کر مجھ تک پہنچ کر گرفتار کر لیں گے۔
مجبوراً پیسہ وہ تمہارے حوالے کر کے تمہارا پیچھا کریں گے۔ لیکن کہانی میں موڑ تب آئے گا جب میں تمہیں ٹرین میں سوار کرواؤں گا۔ اور پھر جہلم کے قریب پہنچ کر تم سے کہوں گا کہ چلتی ٹرین سے بیگز سمیت کود جاؤ۔
لیکن میں کودوں گا نہیں، صرف پیسوں سے بھرے بیگ ٹریکر نکال کر پھینک دوں گا۔ اور اگلے اسٹیشن پر اتر کر تمہیں ملوں گا۔ اور پھر پیسہ  لے کر ہم غائب ہو جائیں گے۔ فیروز اس کا منصوبہ سمجھ گیا۔
صحیح سمجھے۔۔۔۔ پیسہ حاصل کرنے کے بعد تمہیں تمہارا حصہ مل جائے گا۔ پیسہ  لے کر تم اپنی نئی زندگی شروع کر سکتے ہو۔ نہیں تو کچھ ہی دنوںمیں جیل کی ہوا کھاؤ گے۔  شاہنواز نے کش لگاتے ہوئے کہا۔
لیکن میں تم پر کیسے بھروسا کر لوں؟ اور مجھ پر یہ مہربانی کیوں؟
میں  نے کہا نا، مجھے صرف پیسہ چاہیے۔ روزینہ کی موت کو ہم کیش کروا سکتے ہیں۔ سب یہی سمجھیں گے کہ اپنی محبوبہ کی موت کا بدلہ لینے کے لیے میں نے تمہیں ٹریپ کیا ہے۔ ڈی ایس پی کامران جلد دھوکے میں آ جائے گا۔
لیکن تمہاری لوکیشن اور کال ٹریس کر لی جائے گی، فوراً پکڑے جاؤ گے۔
تم اس بات کی فکر نہ کرو۔ میرے پاس ایسا سائبر سیکیورٹی سافٹ وئیر ہے کہ مجھے ٹریک کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ شاہنواز  نے پر اعتماد لہجے میں کہا۔
ٹھیک ہے، مجھے منظور ہے۔ اب یہ بتاؤ کہ کب اور کس کو اٹھانا ہے؟  اس کے بعد شاہنواز اپنے منصوبے کی تفصیلات فیروز کو بتانے لگا۔
پھر سب پلان کے مطابق ہوا۔ پیسوں سے بھرے دونوں بیگ ٹرین سے باہر پھینکنے سے پہلے فیروز  نے ٹریکرز نکال کر ٹرین میں ہی پھینک دیے اور اپنے دونوں موبائل بھی پھینک دیے۔
جیسے ہی ٹرین جہلم اسٹیشن پر رکی۔ وہ ٹرین سے اتر آیا اور اسٹیشن سے باہر نکل گیا۔ اسے یقین تھا کہ جلد ہی کامران کو اس کے سارے سیٹ اپ کی خبر ہو جائے گی اور پھر اس کی تلاش شروع ہو جائے گی۔
اسی لیے اسے جلد از جلد شہر سے فرار ہونا تھا۔ اس کا ارادہ تھا کہ پیسہ کسی محفوظ مقام پر چھپا کر اپنے لیے جعلی پاسپورٹ تیار کروا کر افغانستان اور پھر کسی یورپی ملک فرار ہو جائے گا اور واپس کبھی پاکستان نہیں آئے گا۔
اس کام  کے لئے اس کے کئی جاننے والے تھے جو اس کی مدد کر سکتے تھے۔ جیسے ہی وہ اسٹیشن سے باہر نکلا، شاہنواز کی کالی سیوک اس کے انتظار میں کھڑی نظر آئی۔ وہ مسکراتے ہوئے گاڑی کی طرف بڑھا اور دروازہ کھول کر بیٹھ گیا۔
تو پھر تمہارا پلان کامیاب ہو گیا، مان گیا تمہیں۔  فیروز نے گاڑی میں بیٹھتے ساتھ مسکرا کر کہا۔
کیوں نہ ہوتا، میں نے ہر پہلو پر نظر رکھی تھی۔
اب بس جلد از جلد شہر سے باہر نکل کر مجھے میرا حصّہ دے دو ۔ آج کے بعد ہم کبھی نہیں ملیں گے۔
ضرور ضرور۔۔۔۔۔ آج کے بعد ہم واقعی کبھی نہیں ملیں گے۔
شاہنواز  نے گاڑی کی رفتار بڑھا دی اور شہر سے باہر جانے والی سڑک پر گاڑی دوڑانے لگا۔ کچھ دور جا کر شاہنواز  نے اپنی جیب سے پستول نکالا۔ اس سے پہلے کہ فیروز کو کچھ سمجھنے کا موقع ملتا، شاہنواز  نے فیروز کے سر کا نشانہ لے کر ایک فائر کر دیا۔
لمحہ بھر میں فیروز کی زندگی کا چراغ گل ہو گیا۔ شاہنواز  نے ارد گرد دیکھا، سڑک سنسان تھی۔ اس  نے گاڑی سائیڈ پر لگائی، فیروز کی طرف کا دروازہ کھولا اور ایک دھکا مار کر فیروز کی لاش  سڑک کنارے پھینک کر فرار ہو گیا۔
خس کم جہاں پاک، یہ بیوقوف تو گیا۔ اور اب سارا پیسہ میرا۔  شاہنواز نے قہقہہ لگایا اور گاڑی اسٹارٹ کر کے اپنی منزل کی جانب بڑھنے لگا۔
٭
انسپکٹر فیروز کی لاش پوسٹ مارٹم کے لئے بھجوا دی گئی۔ ڈی ایس پی کامران اور ان کا باقی عملہ واپس گجرات چلا گیا۔ کامران نے کیس کی تفصیلات ایس پی آفس میں بھجوا دیں۔
شاہنواز کا کچھ بھی پتا نہیں چل سکا تھا۔ بلیک سیوک ،پولیس کو ہائی وے پر کھڑی مل گئی۔ گاڑی چوری کی تھی اور نمبر پلیٹ جعلی تھی۔ گاڑی اصل مالک تک پہنچا دی گئی۔ رات کے تقریباً نو بجے وہ اپنے گھر سے نکلا، گاڑی میں بیٹھا اور انجن اسٹارٹ کر دیا۔
کچھ ہی دیر بعد وہ مطلوبہ گھر کے سامنے کھڑا گھنٹی بجا رہا تھا۔ جیسے ہی اندر سے دروازہ کھلا، شاہنواز اس کے سامنے کھڑا تھا۔ شاہنواز  نے جیسے ہی کامران کو اپنے دروازے پر کھڑا دیکھا تو مسکرا دیا۔
تو فیروز کے ساتھ مل کر تم نے پانچ کروڑ کمانے کا منصوبہ بنایا۔ اور پھر پیسہ ملتے ہی فیروز کا قتل بھی کر دیا۔بہت خوب ۔۔۔۔۔۔ منصوبہ تو شاندار تھا۔  کامران نے کہا اور شاہنواز کو دھکیل کر گھر میں داخل ہو گیا۔
پیسہ کمانے کا منصوبہ جب خود پولیس ڈی ایس پی بنائے گا تو وہ کامیاب تو ہو گا ہی۔  شاہنواز  نے مسکراتے ہوئے کہا۔
مجرموں کی منصوبہ بندی دیکھ دیکھ کر پولیس والا اگر چاہے، تو مجرم سے اچھا منصوبہ بنا سکتا ہے۔ اور پکڑا بھی نہیں جائے گا۔
تم  نے فیروز کے خلاف اچھا سیٹ اپ تیار کیا۔ مجھے روزینہ کا ساتھی، شاہنواز بنا کر فیروز کے پاس بھیجا اور اسے منصوبے میں شامل ہونے کا کہا۔ فیروز لالچ میں آ گیا، اور پھر اس نے اپنی لالچ کا انجام دیکھ لیا۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آیا کہ وہ اتنی آسانی سے ہمارے ٹریپ میں کیسے آ گیا۔
سزا کے خوف اور پیسوں کی لالچ  نے اسے مروا دیا۔ خیر اسے چھوڑو، فرحان میاں! میرا حصّہ کہاں ہے؟
کامران  نے فرحان عرف شاہنواز کو اس کے اصل نام سے پکارا۔ فرحان کمرے میں گیا۔ کمرے میں دو بیگ موجود تھے۔ وہ ایک بیگ اٹھا کر واپس چلا آیا۔
حسبِ وعدہ تمہارا حصہ پورے دو کروڑ روپے اس بیگ میں ہیں۔  فرحان نے بیگ کامران کے سامنے میز پر رکھتے ہوئے کہا۔
یہ سودا سود مند ثابت ہوا۔ پیسہ بھی کما لیا اور فیروز سے جان بھی چھوٹ گئی۔ کمینہ مجھے بلیک میل کرنے چلا تھا۔
اگر مجھے عدالت میں کوئی بھی سزا سنائی گئی تو میں سب کو ساتھ لے کر ڈوبوں گا۔ کس کس مجرم سے ہم  نے کتنی کتنی رشوت لی، کس کس کو ہم  نے جعلی پولیس مقابلے میں مارا اور کس کس مجرم کو سیاسی وابستگی کی بنا پر چھوڑا، میں گواہی دے کر سب کو پھنسا دوں گا۔
کامران  نے فیروز کی نقل اتارتے ہوئے اسی کا جملہ دہرایا۔
بالکل صحیح کیا تم  نے، وہ اسی قابل تھا۔یہ بتاؤ چائے پیو گے؟  فرحان نے پوچھا۔
نہیں ۔۔۔۔ بس اب تمہارا خون کروں گا۔ وہ کیا ہے نا میں کوئی بھی ثبوت چھوڑنے کے حق میں نہیں ہوں۔
کامران  نے جیب سے پستول نکالا اور فرحان کے دل کا نشانہ  لے کر فائر کر دیا۔ گولی سیدھی فرحان کے دل میں لگی۔ وہ حیرانی سے کامران کی شکل دیکھتا رہا۔ اور فرش پر گر گیا۔
گرنے کے بعد وہ کامران کو دیکھتے ہوئے بولا
تم بھی بچ نہیں پاؤ گے۔ ایک نہ ایک دن ضرور پکڑے جاؤ گے۔  فرحان نے اپنی زندگی کے آخری الفاظ بامشکل ادا کیے۔  کامران اسے مرتا دیکھ کر مسکرایا اور کمرے میں جا کر دوسرا بیگ بھی اٹھا لایا۔ پھر دونوں بیگز کھول کر دیکھے، پیسہ موجود تھا۔
اتنا آسان نہیں ہے کامران کو ہرانا۔ جس کے نام کا مطلب ہی کامیابی ہو وہ اپنے منصوبوں میں کبھی بھی ناکام نہیں ہو سکتا۔
باہر نکلتے ہوئے اس  نے ڈور بیل کو اچھی طرح صاف کیا ۔ تاکہ اس کے فنگر پرنٹس صاف ہو جائیں۔ گھر میں داخل ہونے کے بعد اس نے اس بات کی احتیاط کی تھی کہ کسی بھی چیز کو ہاتھ نہ لگائے۔ دونوں بیگ گاڑی میں رکھے اور جلد ہی اندھیرے میں کھو گیا۔
٭
دونوں بیگ ہاتھ میں پکڑے جیسے ہی کامران اپنے گھر میں داخل ہوا، اس کے دونوں بیٹے بھاگے بھاگے اس کے قریب آئے۔ کامران کے ہاتھ میں بیگ دیکھ کر ایک  نے پوچھا۔
پاپا! آپ اس بیگ میں ہمارے لیے اچھے اچھے کپڑے لائے ہیں ؟
نہیں ۔۔۔۔ بیگ میں ہمارے کھلونے ہوں گے۔ دوسرے نے اپنا خیال بتایا۔
نہیں نہیں۔۔۔۔۔ اس میں میری کچھ کام کی چیزیں ہیں۔ آپ دونوں کھیلو، مجھے کچھ کام ہے۔  کامران  نے بیگ الماری میں رکھ کر تالا لگا دیا اور اپنی بیوی کو دھیمی سی آواز میں کہا۔
پانچ کروڑ ہاتھ لگا ہے۔ کل صبح تم اپنی امی کی طرف لے جا کر چھپا دینا۔  بیگم کامران کے لیے یہ نیا نہیں تھا۔ کامران ، اوپر کی کمائی وہ ہمیشہ اپنے سسرال میں چھپاتا تھا۔ کامران فریش ہو کر فیملی کے ساتھ باتیں کرنے لگا۔ ڈور بیل کی آواز سنائی دی۔
کامران نے دروازہ کھولا اور دوسری طرف کا منظر دیکھ کر اس کے حواس باختہ ہو گئے۔ اس کے سامنے میڈیا کے چند رپورٹر ، چند پولیس والے اور جبار شیخ کھڑے تھے۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا۔
ڈی ایس پی کامران احمد! میرا نام میجر دانیال ہے میں انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ سے ہوں۔ ہمیں اطلاع ملی ہے کہ جبار شیخ اور ستار شیخ کے بیٹیوں کی تاوان کی رقم آپ کے گھر میں موجود ہے۔ کچھ ہی دیر پہلے آ پ کو دو بیگوں کے ساتھ گھر میں داخل ہوتے دیکھا گیا ہے۔
نہیں نہیں۔۔۔۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ اور آپ کیسے میرے گھر میں گھسے چلے آ رہے ہیں؟ یہ ایک ڈی ایس پی کا گھر ہے۔ کیا آپ کے پاس سرچ وارنٹ ہے؟
پاپا! ابھی جو آپ دو بیگ  لے کر آئے تھے ۔ یہ انکل انھیں بیگز کی بات کر رہے ہیں کیا؟ کامران کا آٹھ سالہ بڑا بیٹا بول پڑا۔
انکل انکل! وہ بیگ تو پاپا نے الماری میں رکھے ہیں۔  اب کی بار چھوٹا بیٹا بولا۔ اس کے بعد کامران کے پاس بولنے کو کچھ نہیں بچا تھا۔ پولیس اور میڈیا گھر میں داخل ہو گئے اور جلد ہی پیسوں سے بھرے دونوں بیگ مل گئے۔
ڈی ایس پی کامران احمد صاحب! میں آپ کو جبار شیخ اور ستار شیخ کی بیٹیوں کو گرفتار کرنے اور اغوا کرنے والے فرحان کے قتل کے جرم میں گرفتار کرتا ہوں۔ میجر دانیال کی آواز اور میڈیا کے کیمروں کے کلک کی آواز کمرے میں گونجنے لگی۔
٭
جیسے ہی کامران دونوں بیگ اٹھائے فرحان کے گھر سے باہر نکلا، فرحان کا ساتھی فیصل گھر میں داخل ہوا۔ جس کی کرولا وین میں دونوں لڑکیوں کو اغوا کر کے  لے جایا گیا تھا۔
فیصل اس وین کا ڈرائیور تھا۔ فرحان نے صرف اتنے سے کام کے بدلے فیصل کو دس لاکھ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اب فیصل اپنا حصّہ لینے آیا تھا۔ وہ کامران کو دونوں بیگ ساتھ لے جاتے ہوئے دیکھ چکا تھا۔ وہ سمجھ گیا کہ معاملہ کچھ گڑ بڑ ہے۔ وہ جلدی سے اندر گیا۔ فرش پر خون میں لت پت فرحان کی لاش پڑی تھی۔
وہ سمجھ گیا کہ کامران نے دھوکا دیا ہے۔ فرحان کو مار کر پورے پانچ کروڑ  لے کر بھاگ گیا ہے۔ وہ کامران کا پیچھا کرنے کے لیے تیزی سے باہر اپنی گاڑی کی طرف بھاگا۔ جلد ہی اسے کامران کی نیلی ہونڈا سٹی نظر آ گئی۔ وہ کمال ہوشیاری سے پیچھا کرنے لگا۔ کچھ دیر بعد اس  نے دیکھا کہ کامران  نے گاڑی اپنے پورچ میں کھڑی کی ہے اور دونوں بیگ  لے کر اندر چلا گیا ہے۔
اس  نے اپنے موبائل سے ویڈیو بنا لی اور پھر سوچنے لگا کہ اب اسے کیا کرنا چاہیے۔ فیصل کے پاس اب ایک ہی راستہ تھا۔ وہ جان گیا تھا کہ پیسے کی لالچ کی خاطر فیروز اور فرحان اپنی زندگی کھو بیٹھے۔ اور وہ اپنی جان گنوانا نہیں چاہتا تھا۔ کچھ سوچتے ہوئے اس نے اپنی جیب سے موبائل نکالا اور ایک نمبر ملانے لگا۔
جبار شیخ! کیا آپ اپنا پانچ کروڑ واپس حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
ہاں۔۔۔ کیا آپ پولیس سے بات کر رہے ہیں؟ کیا مجرم پکڑے گئے؟
اس بات کو چھوڑیں میں کون ہوں۔ میں پندرہ منٹ میں آپ کے پانچ کروڑ روپے واپس دلوا سکتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ اس وقت پیسہ کس کے پاس ہے۔ آپ مجھے صرف دس لاکھ روپے دیں گے۔
ہم تو پانچ کروڑ روپے گنوا چکے تھے۔ اگر تم پیسہ واپس دلوا دو تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ تمہیں دس لاکھ دے دوں گا۔  جبار شیخ  نے خوش ہو کر کہا۔
ٹھیک ہے۔ آپ میڈیا کو ساتھ  لے کر ایک جگہ چلے جائیں۔ پیسہ اور آپ کا اصل مجرم آپ کو وہاں مل جائے گا۔ لیکن میں آپ کو ایڈریس نہیں بتاؤں گا ۔ کہیں مجرم کو کوئی مخبری نہ کر دے اور وہ پیسہ  لے کر فرار نہ ہو جائے۔
تو ہم مجرم تک کیسے پہنچیں گے؟
میں فون پر آپ کے ساتھ رہوں گا اور راستہ سمجھاتا رہوں گا۔ پیسہ مل جانے کے بعد میں آپ کو فون کر کے اپنا اکاؤنٹ نمبر دوں گا۔ آپ کل صبح میرا حصہ جمع کروا دینا۔
تم بے فکر رہو۔ میں تمہارے بارے میں کسی کو نہیں بتاؤں گا۔ تم تو میرے محسن ہو۔
فون کاٹنے کے بعد جبار شیخ  نے اپنے بھروسے کے چند رپورٹر  اور انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ کے ایک جاننے والے آفیسر کو کال کی، انھیں معاملہ بتایا اور رازداری رکھتے ہوئے وہ سب فیصل کی راہنمائی میں ڈی ایس پی کامران کے گھر تک پہنچ گئے۔
کامران معاملے سے بے خبر گھر میں موجود تھا۔ جیسے ہی کامران  نے دروازہ کھولا ، میڈیا کا طوفان اور اس ایریا کی لوکل پولیس نے دھاوا بول دیا۔ پانچ کروڑ روپے بر آمد کر لیے گئے۔ فیصل کی مخبری پر ہی فرحان کا قاتل بھی کامران کو ٹھہرایا گیا۔
پیسوں کی موجودگی کی وجہ سے اب کامران کے پاس اپنی صفائی میں پیش کرنے کے لیے کچھ نہ بچا تھا۔ اگلے دن حسبِ وعدہ فیصل کے اکاؤنٹ میں دس لاکھ روپے ٹرانسفر ہو گئے۔ جو پیسہ وہ فرحان کا ساتھ دے کر حرام طریقے سے کمانا چاہ رہا تھا، قدرت  نے اسے حلال طریقے سے دلوا دیا۔
٭٭٭
ختم شد

 

Previous article
Next article
احمد نعمان شیخ
احمد نعمان شیخ
قلمی نام: احمد نعمان شیخ والد کا نام: مقبول احمد قمر تاریخ پیدائش: ۲ جون ۱۹۸۲ (فیصل آباد) تعلیم: ڈگری ان ہوٹل مینجمنٹ ، شعبہ: کسٹمر سروس (ہوٹل استقبالیہ) حالیہ مصروفیت : دمام ، سعودی عرب میں ملازمت شائع شدہ کتب: نیلی یو ایس بی، فیک آئی ڈی، قتل کہانی مضامین ، کہانیوں، کتب کی تعداد: پندرہ کے قریب جاسوسی شارٹ اسٹوریز مختلف ڈائجسٹ میں شائع ہو چکی ہیں۔ مشہور کرداروں کے نام جو وجہ شہرت بنے : رانیہ ، عمیر اور انسپکٹر شہروز (نیلی یو ایس بی)۔ پسندیدہ مشاغل: جاسوسی ناولز اور جاسوسی فلمیں دیکھنا۔

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles

Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock