33 C
Lahore
Wednesday, April 24, 2024

Book Store

رندھاوا ہاؤس(بلال صاحب)

سلسلے وار ناول

بلال صاحب

دوسری قسط

رندھاوا ہاؤس

شکیل احمد چوہان

سورج کے بیدار ہونے سے پہلے فجر کے وقت جب چاند اپنے بستر پر جا کر لیٹ چکا تھا۔ سردیوں کی دھند سورج سے دست و گریباں ہونے کے لیے تیار بیٹھی تھی۔ کمرے میں بڑی پرسکون خاموشی تھی۔ وال کلاک دن کے جاگتے ہی اور رات کے سوتے ہی اپنی آواز سے محروم ہو گیا تھا۔
پرانی وضع کا ایک سنگل بیڈ اور اس کے سامنے دیوار کے ساتھ ایک دیوان اس کا ہم عمر پڑا تھا۔ دیوان کے پڑوس میں رائٹنگ ٹیبل اپنی ساتھی کرسی کے ساتھ جلوہ افروز تھی۔
بیڈ کے بائیں جانب دیوار کے ساتھ لاثانی اور لکڑی کی بنی ہوئی ایک وارڈروب تھی اور اس سے پہلے بیڈ کے ساتھ کتابوں کا ایک خوبصورت آشیانہ تھا، جہاں مختلف موضوعات کی سینکڑوں کتابیں محفوظ زندگی گزار رہی تھیں۔
ان کتابوں کو دیکھ کر قاری کی نفاست اور ذوق کا اندازہ ہوتا تھا۔ کمرے کا داخلی دروازہ مغرب کی طرف تھا۔ دائیں ہاتھ اٹیچ باتھ روم تھا، جس کا دروازہ داخلی دروازے کے ساتھ تھا۔ بائیں ہاتھ ایک دیوار تھی. جس کی اندر والی سائیڈ میں سنک لگا تھا۔
چھوٹے سے کاریڈور سے گزرتے ہوئے بائیں ہاتھ پر اوپن کچن تھا۔ اس کچن کی جنتا کم تھی۔ ایک چھوٹا سا فریج، سینڈوچ میکر، الیکٹرک کیٹل، چند چینی کی پلیٹس، کرسٹل کے گلاس، ایک جگ، چار بڑے خوبصورت مگ اور کچھ چمچ تھے۔ اوون اور چولہے کو کیسے بھول سکتے ہیں۔
دیوان کے ساتھ جائے نماز پر بندہ اپنے اللہ کے سامنے فجر کا آخری سجدہ ادا کر رہا تھا۔ دروازہ کھلا اور گل شیر خان کی نظر سجدے سے اٹھتے ہوئے جاذبِ نظر چہرے پر پڑی۔ وہ رائٹنگ ٹیبل والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ سلام پھیرتے ہی گل شیر خان بول اٹھا :
’’ماشاء اللہ۔ ‘‘
’’السلام علیکم! خان صاحب…!‘‘
نمازی نے جائے نماز لپیٹتے ہوئے کہا اور اسے دیوان کے بازو پر رکھ دیا۔ گل شیر خان یکایک بولا:
’’وعلیکم السلام! میری جان کیسے ہو بلال بیٹا۔۔۔!‘‘
’’ اللہ کا شکر ہے۔‘‘
بلال احمد نے جواب دیا جو نماز سے فارغ ہو چکا تھا۔
’’آپ کے لیے چائے بناؤں۔‘‘ بلال نے پوچھا۔
’’توبہ توبہ تمہاری چائے تم ہی پی سکتے ہو۔ ہم دودھ والا چائے پیتا ہے۔‘‘
گل شیر نے جواب دیا۔
بلال کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
’’آپ کیسے تشریف لائے؟ کچھ کام تھا ؟‘‘ بلال نے شائستگی سے سوال کیا۔
’’بڑے صاحب آ گئے ہیں۔ میں بتانے کے لیے آیا تھا۔ ‘‘گل شیر خان نے جواب دیا۔
’’ٹھیک 9 بجے ناشتا ہے۔‘‘ جاتے ہوئے کہا۔
’’جی ٹھیک ہے۔ ‘‘بلال نے ہولے سے جواب دیا۔
گل شیر خان کے جانے کے بعد بلال کسی گہری سوچ میں گم ہو گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ سوچوں کے سفر سے واپس لوٹا تو اس کی نظر وال کلاک پر پڑی، جو اب خاموشی سے اپنا کام کر رہا تھا۔
’’دیر ہو گئی۔ ‘‘
اس نے خود سے کہا اور جلدی سے ٹریک سوٹ پہنا اور ململ کا کرتا، لٹھے کا پاجاما اتار کر واشنگ مشین میں ڈال دیا جو بڑے سے باتھ روم کے ایک کونے میں پڑی تھی اور خود جاگنگ کے لیے چلا گیا۔
کمرے میں گیس ہیٹر کی وجہ سے اچھی خاصی حرارت موجود تھی۔ جہاں آرا بیگم ہاتھ میں تسبیح لیے توبہ استغفار میں مصروف تھیں ۔ اُسی لمحے دروازہ کھلا۔
’’ماں جی آداب۔۔۔!‘‘
اندر آتے ہوئے جمال رندھاوا  نے کہا۔ جہاں آرا بیگم کی آنکھیں روشن ہو گئیں۔ اُنہوں نے اپنی موونگ چیئر سے اٹھنا چاہا۔
’’آپ تشریف رکھیں ماں جی۔‘‘
جمال رندھاوا خود ہی جلدی سے اپنی ماں کے گلے ملا، پھر ماں کے قدموں میں کارپٹ پر کُشن کے اوپر بیٹھ گیا۔
’’میرا بچہ۔ ‘‘ہولے ہولے بالوں اور منہ پر پیار کرتے ہوئے جہاں آرا بیگم نے پوچھا:
’’کب آئے؟ ‘‘
جمال رندھاوا  نے ہاتھ چومتے ہوئے جواب دیا:
’’تھوڑی دیر پہلے، آپ کی طبیعت کیسی ہے؟‘‘
’’اللہ کا شکر ہے بیٹا۔ کافی دن لگا دیے اس بار …؟‘‘ جہاں آرا  نے پوچھا ۔
’’بس کام کچھ زیادہ تھا ماں جی … خیر آپ سنائیں، کیا چل رہا ہے آج کل…؟‘‘
جمال نے بتانے کے بعد پوچھا۔
’’میں گھر میں پڑی رہتی ہوں۔ تمہارا بیٹا اور بیوی اپنی فیکٹری کے کاموں میں مصروف رہتے ہیں ۔ نوشی اور توشی، وہ کیا کہتے ہیں اسے۔۔۔؟ ‘‘
’’بوتیک۔‘‘ جمال نے لقمہ دیا۔
’’ہاں بوتیک میں مصروف رہتی ہیں۔‘‘
’’اور بلال۔‘‘ جمال نے آنکھوں سے سوال کیا۔
’’وہ عشاء کے بعد آ کر میری خدمت گزاری کرتا ہے اور صبح جانے سے پہلے سلام کرنے آتا ہے۔
جہاں آرا بیگم  نے تفصیل سے اپنے بیٹے جمال رندھاوا کو جواب دیا۔
بلال جاگنگ کر کے اپنے کمرے میں واپس لوٹا تب تک سورج کی کرنیں دُھند کو کھا گئی تھیں۔ وہ کمرے کے پردے ہٹاتا ہے، تو کرنیں اس کا چہرہ چوم لیتی ہیں۔ سامنے ٹیرس کا شیشے والا دروازہ کھول کر وہ گملوں میں لگے ہوئے پودوں رات کی رانی، سرخ گلاب، موتیا اور دن کا راجہ سے ملتا ہے جو مسکرا کر اس کا استقبال کرتے ہیں۔
رات کی رانی کی خوشبو اب بھی فضا میں موجود ہے۔ تمام پودوں کے پھولوں کا بازارِ حسن سجا ہوا ہے۔
پھولوں کے چہروں پر ہلکا ہلکا تبسم ہے۔ جن کو دیکھ کر پیام حیات کا احساس ہوتا ہے۔
اب باری چھت پر جانے کی ہے۔ وہ کمرے سے باہر آ کر داخلی دروازے کے ساتھ اوپر جاتی سیڑھیوں پر چلتا ہوا اپنے کمرے کی چھت پر پہنچ جاتا ہے۔
جہاں جمالیات کی ایک الگ دنیا آباد ہے۔ ایک طرف پودوں کا گرین ہاؤس اور دوسری طرف پرندوں کا ایئر پورٹ ہے۔ چھت کے مشرقی حصے پر بڑے بڑے گملوں کا قبضہ ہے۔ جن کے اندر پودینہ، ہری مرچ، دھنیا کے پودوں کا جم غفیر ہے۔ یہ سارے پودے بلال کی محنت کا ثمر ہیں۔ یہ گرین ہاؤس ہے بلال کا گرین ہاؤس ہے۔
چھت کے مغربی حصے پر پرندوں کا مسافر خانہ ہے۔ پرندوں کی خاطر مدارت کے لیے مختلف اقسام کا دانہ اور پانی میسر ہے جوکہ چھوٹی بڑی مٹی کی کنالیوں میں رکھا گیا ہے۔ اکثر مسافر پرندے اس دستر خوان سے پانی پینا اور دانہ چننا عین سعادت سمجھتے ہیں، کیونکہ یہ بلال کا دستر خوان ہے۔ بلال کا یہ معمول تقریباً 14 سال سے ہے۔ وہ ہر روز ان کنالیوں میں دانہ اور پانی ڈالتا ہے اور ہفتے میں ایک بار ان کی صفائی بھی کرتا ہے۔
یہ دو کنال کا خوبصورت بنگلہ ڈیفنس میں واقع ہے جو اب جمال رندھاوا کی ملکیت ہے۔ چوہدری ارشاد رندھاوا  نے کئی سال پہلے اپنے دونوں بچوں جمال اور جمیلہ کے لیے دو پلاٹ خریدے جن پر باہمی مشاورت سے یہ خوبصورت بنگلہ تعمیر کیا گیا۔
جمال کے پلاٹ پر یہ بنگلہ بنایا گیا اور ساتھ دوسرے پلاٹ پر ایک خوبصورت چھوٹا سا ڈبل یونٹ تعمیر کیا گیا جس کو ڈیزائن خود جمیلہ رندھاوا نے کیا تھا۔
اب یہ ایک ہی گھر کا حصہ ہیں۔ بنگلہ کے سامنے گھر کا خوبصورت لان ہے اور پچھلی سائیڈ پر سرونٹ کوارٹرز ہیں۔ ڈبل یونٹ کے سامنے اب گاڑیوں کا پورچ ہے۔ اس سے پہلے گھر کا مین گیٹ ہے ۔ مین گیٹ کے ساتھ بائیں جانب سکیورٹی گارڈ کا روم ہے۔
یہ بنگلہ جدید فنِ تعمیر کا ایک دلکش نمونہ ہے۔ بنگلے کے بیرونی حصے پر سرخ گھٹکا لگا ہوا ہے جیسے کوئی دلہن سرخ عروسی لباس پہن کر بیٹھی ہو۔
یہ رندھاوا ہاؤس ہے۔

(باقی اگلی قسط میں پڑھیں)

۞۞۞۞

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles