33 C
Lahore
Tuesday, June 18, 2024

Book Store

پھکی کے ساتھ سیون اپ

پھکی کے ساتھ ۔۔۔
7up

شکیل احمد چوہان 

یہ 2004 کی بات ھے، میں شارجہ نیا نیا گیا تھا. بڑی عید پر میرے سارے کزن اور روم میٹ عید کرنے پاکستان چلے گئے۔
میں اور بابا تاجر فقط دو فرد ہی فلیٹ پر تھے۔ بابا تاجر نے ساری زندگی باہر گزار دی۔ وہ شراب کا رسیا تھا۔ اس کی شراب نوشی کی وجہ سے مجھے بڑی اذیت ہوتی۔
فلیٹ چھوڑ نہیں سکتا تھا وجہ چھے ماہ کا کرایہ ایڈوانس میں دے چکا تھا۔ حالات بھی سازگار نہ تھے کہ دوسری جگہ شفٹ ہو جاؤں۔ بابا تاجر چاند رات کو فجر تک پیتا رہا۔ میں فجر کے وقت اٹھ گیا اور وہ سو گیا۔ میں نے عید کی نماز پڑھی اور ایک دن پہلے بنائی ہوئی ٹھنڈی کھیر کھانے کے لیے فریج کھولا۔ اس میں ڈونگا تو تھا پر اس میں کھیر نہ تھی۔ بابا تاجر نے ساری کھیر چٹ کرنے کے بعد خالی ڈونگا فریج میں رکھ دیا۔
میں جلا بھنا بلڈنگ کے نیچے واقع ’’بقالہ‘‘ مطلب سپر سٹور پر چلا گیا۔ وہاں سے آئسں کریم لی اور اس سے منہ میٹھا کیا۔
بڑی عید پر خالی منہ میٹھا کرنے سے گزارہ نہیں ہوتا۔ اب میں گوشت کا انتظار کرنے لگا۔ عصر کی اذان ہو گئی۔ گوشت کہیں سے بھی نہ آیا۔
بابا تاجر مست سویا ہوا تھا۔ جاگتا بھی کیسے؟ کھیر کا پورا ڈونگا کھانے کے بعد بھلا کسی کی آنکھ کھلتی ہے کیا….؟
میں دوبارہ سے بقالہ پر گیا اور فریزر سے مرغی نکالی اور اسے واش بیسن کے اندر پانی میں رکھ دیا۔ مغرب تک وہ مرغی نرم ہوئی۔ تب تک میں نے مسالا تیار کر لیا تھا۔ مرغ کڑاھی تیار کر کے میں افغانی تندور سے خمیری روٹی لینے چلا گیا۔
روٹی لے کر لوٹا تو بابا تاجر ٹرے میں مرغی کو لٹائے ہوئے اس پر ہلہ بول چکا تھا۔ میں نے کڑاھی کا ڈھکنا اٹھایا تو اس میں مرغی کے پر اور مسالا میرا منہ چڑھا رھے تھے۔
میں نے وہ ’’پر‘‘ بھی بابا تاجر کی ٹرے میں ڈال دئیے اور مرغی کے مسالے سے خمیری روٹی کھائی اور کارنش پر گھومنے چلا گیا۔
رات دس بجے جب واپس لوٹا تو بابا تاجر پھر سے شراب پی رہا تھا۔
’’ حکیم کدھر چلے گئے تھے؟ مجھے تمہاری فکر ہو رہی تھی ۔‘‘
بابا تاجر کے منہ سے نکلے ہوئے جملے سے مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ میں نے حکمت سیکھ اور پڑھ رکھی ھے اس لیے شارجہ میں مجھے سب لوگ ’’ حکیم ‘‘ کے لقب سے ہی پکارتے تھے۔ میں نے بابا تاجر کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور اپنے بستر پر لیٹ گیا۔
صبح اٹھا تو بابا تاجر سویا ہوا تھا۔ عید کے دوسرے دن میں نے بریڈ اور چائے سے ناشتہ کیا۔ 2004میں سوشل میڈیا نہیں تھا۔ وقت گزاری کے لیے یا تو ٹی وی دیکھا جاتا یا پھر کتاب پڑھی جاتی تھی۔ بابا تاجر نے رات بھر جام بھر بھر کر پیے تھے۔ اس کی نیند نہ خراب ہو اس لیے میں نے ٹی وی نہیں لگایا۔
میں نے اپنے بیگ سے محترمہ بانو قدسیہ کا شاہکار ناول ’’راجہ گدھ‘‘ نکالا اور اسے پھر سے پڑھنے لگا۔
دن ساڑھے بارہ کے آس پاس میرا دل چاہا کہ فلم دیکھی جائے۔ جیب میں پیسے اتنے تھے کہ یا فلم دیکھ لی جائے یا پھر ٹیکسی کا کرایہ ادا کر دیا جائے۔ میں پیدل ہی سٹی سینٹر شارجہ کی طرف چل پڑا۔
پونے گھنٹے بعد میں شارجہ سٹی سینٹر پہنچ گیا۔ فلم کا ٹکٹ خریدا۔ ڈیڑھ بجے شو شروع ہونا تھا۔ میں پانچ منٹ پہلے ہی ہال کے اندر موجود تھا۔
فلم کے بعد پیدل ہی فلیٹ پر لوٹا۔ بھوک سے میرا برا حال تھا۔ جیب میں پیسے بھی نہ تھے جو بقالہ سے کچھ لے آتا۔
بابا تاجر بیدار ہو گیا۔ اس نے ابھی پینا شروع نہیں کی تھی اس نے میرے چہرے کا جائزہ لیا پھر بولا۔
’’ حکیم! پریشان لگ رہے ہو۔‘‘
بھوک ہی تو سب سے بڑی پریشانی ہے۔‘‘ میں نے چِڑتے ہوئے جواب دیا۔
بابا تاجر جھومتے ہوئے اپنے بیڈ سے اٹھا اور فلیٹ سے چلا گیا۔
بیوڑہ سالا‘‘ میں نے من ہی من میں کہا۔
تھوڑی دیر بعد بابا تاجر ہاتھوں میں ایک ہاٹ پاٹ اٹھائے فلیٹ پر لوٹا اور فخریہ انداز میں گویا ہوا
’’ یہ لے حکیم مزے کر، بکرے کا ہلدی اور کڑی پتا میں پکا ہوا گوشت ہے۔‘‘
میں نےہاٹ پاٹ تھامتے ہوئے پوچھا
’’ تمہیں کیسے پتا ۔‘‘
لاتے لاتے دو چار بوٹیاں میں نے بھی چکھی ہیں۔‘‘ بابا تاجر نے جواب دیا۔
میں خمیری روٹیاں لے آوں۔‘‘ میرے منہ سے نکلا ہی تھا فوراً ہی میں نے اپنا ارادہ بدل دیا، مجھے مرغی والا سین یاد آ گیا
جب تک میں روٹی لے کر لوٹوں گا بابا تاجر بکرے کو ٹھکانے لگا دے گا۔ ” میں نے بکرے کی بوٹیاں دو پلیٹوں میں نکالیں ایک بابا تاجر کو دی اور دوسری پر خود ٹوٹ پڑا۔
ہم دونوں نے وہ بھرا ہوا ہاٹ پاٹ ختم کر کے ہی دم لیا۔ بابا تاجر بولا
’’ میرے کھاتے سے ایک ڈیڑھ لیٹر سیون اپ لاؤ۔‘‘
میں سیون اپ لینے کی غرض سے نیچے گیا۔ بلڈنگ کے نیچے ایک ہجوم اکھٹا تھا۔ میں نے وجہ پوچھی تو موسی ملواری نے مجھے بتایا
حکیم بھائی میں  نے اپنی فیملی کے ساتھ پکنک پر جانے کا پروگرام بنایا تھا۔  گوشت کا ہاٹ پاٹ میں کار کی ڈگی میں رکھ کے اوپر دوسرا سامان لینے گیا۔ واپس آیا تو غائب تھا۔ پتا نہیں کون حرامی اٹھا کر لے گیا ہے۔ خدا کرئے ان حرامیوں کو وہ گوشت ہضم ہی نا ہو۔
مجھے اسی وقت ڈکار آئی اور میں بقالہ کی طرف چلا گیا۔
اپنی ہی بنائی ہوئی پھکی کے ساتھ سیون پی۔ تب جا کر وہ گوشت ہضم ہوا۔

Previous article
Next article

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles