21 C
Lahore
Monday, April 15, 2024

Book Store

( مجروح ( قسط نمبر 35

 

( 35 مجروح ( قسط
شکیل احمد چوہان

۞۞۞

بازار میں سے گزرتے ہوئے ایک ماڈرن فیول نامی چائے خانے کے سامنے لمحہ بھر رُکتے ہوئے، سونو  نے چائے خانے کی وردی پہنے ہوئے ایک ویٹر کو وکٹری کا نشان بناتے ہوئے اشارہ کیا پھر چل دیا۔ چند منٹ بعد وہ اچھرہ بازار میں واقع ایک بڑی سی تین منزلہ دکان کے اندر تھے۔
دکان کے اندر سے ہی دوسری اور تیسری منزل کو سیڑھیاں اوپر جا رہی تھیں۔
دوسری منزل کا سارا ہال عورتوں کے سامان سے ہی بھرا پڑا تھا۔
ہال کی ایک دیوار پر چوڑیاں، کنگن، کڑے، بریسلٹ، چھوٹے بڑے ریکس کے اندر سجے ہوئے تھے۔ سونو ایک کاؤنٹر کھول کر اُس کے اندر چلا گیا اور امداد کو بھی اُس  نے اندر ہی بلا لیا۔ کاؤنٹر کے سامنے دو عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں۔
سنی صاحب ! ہم کب سے آپ کا انتظار کر رہی ہیں!  ایک عورت نے بڑی ادا کے ساتھ بتایا۔
جی کیا خدمت کروں آپ کی … ؟
سونو نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا۔ عورت نے سونو سے نظریں ملاتے ہوئے اپنی کلائی آگے کر دی۔ سونو نے اُس کی کلائی بڑی احتیاط سے پکڑتے ہوئے پوچھا
کیا پہناؤں… ؟ عورت نے امداد کی طرف نَٹ کھٹ انداز میں دیکھتے ہوئے پوچھا
’’ان کا تعارف نہیں کرایا آپ نے … ؟‘‘
’’میرے بچپن کے دوست ہیں۔‘‘
سنی کیوں مذاق کرتے ہو ! ‘‘ دوسری عورت نے بڑی بے تکلفی سے کہا۔ امداد نے سونو کے ساتھ سامنے لگے ہوئے آئینے میں خود کو دیکھا۔ امداد کو ایسا لگا، جیسے آئینہ بھی اُس کا مذاق اُڑا رہا ہو۔ وہ، سونو کا بڑا بھائی لگ رہا تھا۔ امداد نے دل ہی دل میں خود سے پوچھا
جوان بیٹیوں کے باپ جلدی کیوں بوڑھے ہو جاتے ہیں۔ اتنے میں چائے والا لڑکا آ گیا۔ سونو نے نظروں ہی سے لڑکے کو اُن عورتوں کے سامنے چائے رکھنے کا اشارہ کیا۔ سونو  نے کلائی چھوڑتے ہوئے بڑی اُلفت سے کہا
چائے لیجیے۔
ارے نہیں آپ نے اپنے دوست کے لیے منگوائی ہو گی۔ دوسری عورت نے بڑی نزاکت کے ساتھ کہا۔
یہ آپ کے لیے ہی منگوائی ہے … ہم ڈنر کے لیے جا رہے ہیں۔  امداد کو سونو کا یہ رویہ پسند نہیں آیا۔ وہ اپنی جگہ سے اُٹھ کر جانے لگا تو سونو جلدی سے بولا
امداد برا مت منانا … یہ میری بڑی خاص کسٹمرز ہیں۔
امداد اُٹھ کر کاؤنٹر سے باہر نکل آیا اور سونو کی طرف پشت کر کے کھڑا ہو گیا۔ اُس کے سامنے دنیا جہاں کی کاسمیٹکس ریکس میں سجی ہوئی تھی۔ اُسی لمحے امداد  نے خود سے سوال پوچھا
’’ ظاہری خوبصورتی کے لیے انسان نے اتنا کچھ بنا لیا ہے۔ باطنی خوبصورتی کے لیے کیا…؟‘‘
اُن عورتوں اور سونو کی گِٹ پِٹ سے امداد نے کان ہٹا لیے۔ اب اُس کی توجہ دُکان کے دوسرے سیلز مین اور خواتین کسٹمرز پر تھی۔
دو برقع پوش خواتین اُسے نظر آئیں
چار بڑی بڑی چادروں میں لپٹی ہوئی تھیں۔ دو کے سر پر صرف ڈوپٹا تھا۔ دو چھوٹی سی پیاری بچیوں نے سکارف سے اپنے سروں کو ڈھانپ رکھا تھا۔
سونو کی دونوں خاص کسٹمرز ننگے سر پینٹ شرٹ پہنے ہوئے امداد کو سیڑھیوں سے نیچے جاتی ہوئی دکھائی دیں۔ جب وہ بیٹھی ہوئی تھیں تو امداد نے اُن کے لباس پر غور نہیں کیا تھا۔ سونو امداد کی کمر سے لپٹتے ہوئے بولا
’’سوری۔۔۔ امداد۔۔۔  ‘‘
امداد نے پلٹ کر سونو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
ظاہر کے ساتھ ساتھ تمہارا باطن بھی بدل چکا ہے۔۔۔ تم چراغ والی کے سونو تو نہیں ہو ۔
یہاں چراغ تو ہے پر روشنی نہیں۔ سونو  نے کسی دانشور کی طرح بتایا۔ لمحہ بھر اُس کے جملے پر غور کرنے کے بعد امداد نے کہا
تب میں تمھاری عزت کی خاطر رک گیا تھا۔ اب چلتا ہوں۔
چلو کوئی تو ہے جو اس بھگوڑے کے لیے بھی رُک جاتا ہے۔‘‘ سو نو دکھی دل کے ساتھ بولا۔لمحہ بھر توقف کے بعد سونو  نے بڑے خلوص سے دعوت دی
’’کھانا کھا کر چلے جانا ‘‘
کھانا نہیں کھاؤں گا۔  امداد نے دو ٹوک بتا دیا۔
’’آج بھی حلال حرام کی تمیز رکھتے ہو … کھانا نہ کھاؤ … بیٹھ ہی جاؤ ‘‘
یہاں بیٹھ بھی نہیں سکتا۔  امداد نے صاف صاف بتا دیا۔
ٹھیک ہے ! تم نیچے آؤ۔  یہ بول کر سونو کسی لڑکے کی طرح بڑی پھرتی کے ساتھ نیچے چلا گیا۔ جب امداد نیچے پہنچا تو وہ کیش کاؤنٹر جہاں پر حاجی صاحب بیٹھے تھے۔ اُس طرف سے مسکراتا ہوا آ رہا تھا۔
’’چھٹی لے لی ہے میں نے!
سونو نے پاس آ کر امداد کو اطلاع دی۔ ساتھ ہی اُس نے پوچھ لیا
’’اب بتاؤ کہاں بیٹھنا ہے…؟‘‘
اُسی چھت پر۔۔۔ وہ دونوں دُکان سے باہر نکل کر گھر کی طرف چل دیے۔ ٹیپو اور اُس کے بندے بھی بازار میں پہنچ چکے تھے۔ بازار میں بے حساب گہماگہمی کی وجہ سے کسی کو کسی کا دھیان نہ تھا۔
ویسے بھی 12 دسمبر کے بعد سے سونو بے فکر ہو چکا تھا۔ وہ دونوں گھر کے اندر چلے گئے۔ ٹیپو اور اُس کے بندوں نے گھر کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔


(بقیہ اگلی قسط میں)

۞۞۞۞

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles