42 C
Lahore
Monday, June 17, 2024

Book Store

میں صرف پتی ہوں

میں صرف پتی ہوں

عابد معز

صبح سویرے بیگم اخبار پر جھکی نظر آئیں۔ محدب شیشہ کی مدد سے سطربہ سطر انگلی رکھے وہ کچھ تلاش کر رہی تھیں۔
چند لمحے میں خاموشی سے انتظار کرتا رہا کہ وہ اپنی مہم میں کامیاب ہو کر خوشخبری سنائیں گی لیکن مجھے ناکامی ہوئی۔ بیگم کی تلاش جاری رہی۔
آخر، اپنے تجسس کی تسکین کی خاطر مجھے پوچھنا پڑا۔ ’آپ کیا تلاش کر رہی ہیں؟‘
جواب آیا، ’’آپ کا نام!‘‘
میں چونک پڑا اور اخبار میں نام چھپنے کے امکانات پر غور کرنے لگا۔ میں نہ کوئی لیڈر ہوں اور نہ ہی کوئی منسٹر۔
اسمگلر ہوں اور نہ ہی نامی گرامی غنڈہ۔ کرکٹ کھلاڑی ہوں اور نہ ہی سٹہ باز۔ گلوکار ہوں اور نہ ہی شاعر۔ رپورٹر ہوں اور نہ ہی ایڈیٹر۔ فلمی ستارہ ہوں اور نہ ہی کوئی بزنس مین۔
بس گمنام سا ایک آدمی ہوں۔
وقت بے وقت میرا نام اخبار میں کیوں کر آئے گا؟ ہاں، اخبار میں نام شائع ہونے کی ایک آخری امید ہے جس کے لیے ابھی دیر ہے۔
کم از کم میں تو یہی چاہتا ہوں کہ دیر اور بہت دیر ہو۔ اب آگے اوپر والے کی مرضی!
لاٹری اور امتحان کے نتائج میں نام سے زیادہ نمبر کی اہمیت ہوتی ہے اور حالیہ عرصہ میں میرا ایسا کوئی نمبر بھی نہ تھا جو اخبار کی زینت بن سکتا ہو۔
اپنے آپ سے الجھنے کے بجائے میں نے استفسار کیا،
’’بیگم۔ آپ میرا نام کہاں ڈھونڈ رہی ہیں؟‘‘
’’فوربس میگزین نے ارب پتیوں کی فہرست جاری کی ہے۔ میں اس فہرست میں آپ کو تلاش کر رہی ہوں۔‘‘‘ بیگم نے جواب دیا۔
سمجھ میں نہیں آیا کہ بیگم کی اس حرکت کو میں کیا نام دوں؟
کیا یہ مزاح کے زمرے میں آتی ہے یا پھر مجھ پر کوئی طنز ہے؟
دونوں صورتوں کو مسکراتے اور ہنستے ہوئے برداشت کرنا ہے۔
یہی سوچ کر میں نے کہا، ’’میری ایسی قسمت کہاں! کیوں اپنا وقت برباد کر رہی ہیں۔ میں ارب پتی ہوں اور نہ ہی کروڑ پتی۔ میں صرف آپ کا پتی ہوں۔‘‘
’’کاش آپ میرے پتی ہونے کے ساتھ ارب پتی بھی ہوتے!‘‘ بیگم نے اپنی مہم کو خیر باد کہتے ہوئے ٹھنڈی آہ بھری۔
کچھ سجھائی نہ دیا تو میں نے بڑ ہانکی، ’’اور اگر میں چائے کی پتی ہوتا؟‘‘
بیگم نے مجھے گھور کر یوں دیکھا جیسے کہہ رہی ہوں کہ میں بے تکی بات کا جواب دینا نہیں چاہتی جبکہ میں بیگم کو حیرت سے دیکھنے لگا کہ یہ کیسا ’اعجوبہ‘ ہے!
ہر دم زیادہ اور زیادہ کا مطالبہ کرتی رہتی ہیں۔
میں کولہو کے بیل کی طرح صبح سے شام بلکہ صبح سے صبح تک موصوفہ کے مطالبات کی تکمیل میں جٹا رہتا ہوں۔
لکھ پتی اس لیے بھی نہ بن سکا کہ شاید بیگم ’’لکی‘‘ نہ تھیں اور میں ’’لَک‘‘ (LUCK ) پتی نہ تھا۔ اپنی اپنی قسمت ہوتی ہے۔
کوئی لکھ پتی، کروڑ پتی اور ارب پتی تک بن جاتے ہیں اور کوئی خالی پتی بھی نہیں بن پاتے۔ انھیں کوئی خاتون پتی بنانا گوارا نہیں کرتی! ویسے وہ بے چارے خوش قسمت ہوتے ہیں۔
میں ارادہ کر رہا تھا کہ بیگم کو قناعت اور شکر کا ایک لیکچر پلاؤں۔
بیگم نے حیرت اور تجسس کے ملے جلے احساسات کے ساتھ دریافت کیا،
’’ان ارب پتیوں کے پاس کتنی دولت ہوتی ہو گی؟‘‘
’’اربوں میں! بل گیٹس کے پاس جو دنیا کا دولت مند ترین شخص ہے۔ پچاس بلین ڈالر کا اثاثہ ہے۔ اپنے ملک کا امیر ترین شخص لکشمی نواس متل کے پاس تیئس اشاریہ پانچ ارب ڈالر کا سرمایہ ہے۔‘‘ میں نے معلومات سے بیگم کو مالا مال کیا۔
’’یہ ارب اور بلین کیا ایک ہی ہیں یا الگ الگ ہیں؟‘‘ بیگم نے سوال کیا۔
بیگم کے سوال پر مجھے حیرت ہوئی کہ انھیں گنتی نہیں آتی اور خواب ارب پتی بننے اور بنانے کے دیکھتی ہیں۔ میں نے بتایا۔
’’جی دونوں ایک ہی ہیں۔ ہم ارب کہتے ہیں اور فرنگی بلین۔‘‘
’’ایک کے بعد پورے نو صفر ہوتے ہیں۔‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’ایک کے بعد نو صفر!‘‘ بیگم نے دہرا کر کہا۔ ’’اب بھی ایک ارب میری سمجھ میں نہیں آیا۔ ذرا اِسے آسان کیجیے، پلیز۔‘‘
مجھے بیگم پر غصہ آنے لگا۔ بڑی نادان ہیں۔ لوگوں کے پاس موجود دولت کا اندازہ تک کرنا نہیں آتا۔ چونکہ انھوں نے پلیز کہا تھا تو مجھے بتانا ہی پڑا۔
’’ایک ارب میں سو کروڑ ہوتے ہیں اور ایک کروڑ میں سو لاکھ…‘‘
’’لاکھ کو میں جانتی ہوں۔‘‘
بیگم نے مجھے بیچ میں روک کر کہا۔ ’’اس میں ایک سو ہزار ہوتے ہیں۔‘‘
’’جی خدا کا شکر ادا کیجیے کہ آپ ایک لاکھ کا اندازہ کر سکتی ہیں۔‘‘
’’اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسم با مسمی لکشمی متل کے پاس دو ہزار تین سو پچاس کروڑ یعنی دو لاکھ پینتیس ہزار لاکھ ڈالر ہیں۔
اللہ رے! اتنی دولت۔ حساب کرنے اور سمجھنے کی کوشش سے ہی میری تو سانس پھولنے لگی۔‘‘ چند گہری سانسیں لے کر بیگم نے پھر سوال کیا، ’’
اتنے سارے ڈالر کے کتنے روپے بنتے ہیں؟‘‘
’’بیگم جب دولت زیادہ ہوتی ہے تو اس کا حساب ڈالر میں رکھا جاتا ہے۔
ڈالر کے مقابلہ میں روپیہ کیا چیز ہے۔ کبھی بھی لڑکھڑا سکتا ہے۔
یوں اگر آپ اندازہ کرنا چاہتی ہیں تو کچے حساب سے ایک ڈالر کو ساٹھ باسٹھ سے ضرب دیجیے۔‘‘
بیگم کیلکولیٹر لے آئیں اور کچھ دیر تک کیلکولیٹر سے الجھنے کے بعد کہا،
’’اس میں آٹھ سے زیادہ ہندسے نہیں آ رہے۔ ارب پتیوں کی دولت کا اندازہ کرنے سے کیلکولیٹر بھی قاصر ہے۔ شاید کمپیوٹر کی مدد لینا پڑے گا۔‘‘
’’بیگم اسی کیلکولیٹر پر صفروں کو ہٹا کر حساب کیجیے۔‘‘
میں نے بیگم کو بڑا اور پیچیدہ حساب کرنے کا گُر بتایا۔
’جناب تو جنیئس ہیں۔ معلوم نہیں کیوں لکھ پتی تک نہیں بن پائے! خیر۔‘‘
بیگم نے مجھ پر طنز کیا اور حساب کر کے بتایا۔
’’سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ اس آنکڑے کو کیسے بیان کیا جائے۔ یہی کوئی ایک کروڑ پندرہ بیس لاکھ، لاکھ روپے بنتے ہیں۔‘‘
’’یعنی؟‘‘ اس مرتبہ میں نے سوال کیا۔
’’ایک کروڑ بیس لاکھ مرتبہ لاکھ لاکھ روپے۔‘‘ بیگم نے سمجھانے کی کوشش کی۔
ہمیں لاکھ تک گنتی کا تجربہ ہے۔ اس سے آگے کا حساب بھی لاکھوں میں سجھائی دیتا ہے۔ اب کروڑوں میں لاکھوں ہیں تو عقل ساتھ نہیں دے رہی۔ بے زار ہوتے ہوئے میں نے کہا۔
’’اب اس حساب کو چھوڑیے۔ اندازہ ہوا کہ ارب پتیوں کے پاس بے حساب دولت ہے۔
وہ ہماری طرح جمع اور ضرب میں وقت نہیں گنواتے، ہر دم دولت بٹورنے میں مصروف رہتے ہیں۔ خواہ مخواہ کا حساب کرنے سے سر میں درد ہو رہا ہے۔
کیا اس غریب پتی کو ایک پیالی چائے مل سکتی ہے۔‘‘
’’ضرور۔ آپ بھی کیا یاد کریں گے، کس حاتم سے سابقہ پڑا ہے۔ میں ابھی چائے لے آئی۔‘‘
بیگم باورچی خانے میں چائے بنانے چلی گئیں ۔ میں کرسی پر نیم دراز ہو کر آنکھیں بند کیے سستانے لگا۔ بند آنکھوں نے مجھے جاگتے خواب دکھانا شروع کیا۔
دیکھا کہ میرا نام بھی امراء کی فہرست میں شامل ہے۔ میں اپنے عالی شان محل نما دفتر میں بیٹھا ہوں۔ ارب پتیوں کی فہرست میں نام شامل ہونے پر صحافی میرا انٹرویو کر رہے ہیں۔ فوٹوگرافر میری تصویر بنا رہے ہیں اور کیمرا مین مجھے شوٹ کر رہے ہیں۔ ایک صحافی نے سوال کیا
’’آپ دولت مند کیوں کر بنے؟‘‘
میں نے جواب دیا،
’’میری بیگم کی خواہش تھی کہ ان کے پتی کا شمار ارب پتیوں میں ہو۔ پس شادی ہوتے ہی میں پس اندازی اور بیگم کو سرخرو کرنے میں جٹ گیا ۔ اُٹھتے بیٹھتے میں دولت مند بننے کے خواب دیکھنے لگا۔ بس یہی ایک لگن تھی جس نے مجھے اس مقام پر پہنچایا۔‘‘
’’آپ اتنی دولت کا کیا کریں گے؟‘‘ صحافی نے دوسرا سوال کیا۔
’’اس دولت سے…‘‘
میں نے جواب دینا شروع کیا تھا کہ کپ پر چمچے سے دستک کی آواز سے میرا خواب چکنا چور ہوا۔ دیکھا تو بیگم چائے کی کپ پر چمچہ بجاتے کھڑی تھیں۔
مجھے محسوس ہوا کہ ارب پتیوں میں شامل ہونے کی راہ میں بیگم حائل ہو گئیں۔ صبر کرنے کے علاوہ میں کر بھی کیا سکتا تھا۔
سوچا کیوں نہ صحافی کا ادھورا سوال بیگم سے کیا جائے۔ میں نے بیگم سے پوچھا:۔
’’اگر آپ کو اتنی دولت مل جائے تو آپ کیا کریں گی؟‘‘
’’کتنی دولت؟‘‘ بیگم نے اُلٹا سوال کیا۔
’’کروڑوں لاکھوں میں۔‘‘ میں نے وضاحت کی۔
’’کروڑوں لاکھوں میں کیوں؟
جب یوں ہی خیال کرنا ہے تو پھر اربوں میں کیوں نہیں۔ تصور میں تو کنجوسی نہ کیجیے۔‘‘
عادت سے مجبور بیگم نے زیادہ رقم کا مطالبہ کیا۔
’’چلیے مان لیا۔ آپ کے پاس اربوں ڈالر ہیں۔ آپ کیا کریں گی؟‘‘
میں نے بیگم کو اربوں ڈالر رقم دے دی۔
’’میں خریداری کروں گی۔‘‘
’’وہ تو اب بھی کرتی ہیں۔‘‘ میں نے بیگم کو یاد دلایا۔
’’اب کیا خاک شاپنگ ہوتی ہے۔ کئی اشیا کے دام پوچھ کر رہ جاتی ہوں۔‘‘
بیگم نے شکایت کرنے بعد کہا، ’’میں وہ تمام چیزیں خریدوں گی جن کی اب تک صرف قیمت دریافت کر کے صبر کیا ہے۔‘‘
’’شاپنگ کے علاوہ بتائیے۔‘‘ میں نے سوال کیا۔
’’میں شاپنگ کے علاوہ بھی شاپنگ ہی کروں گی۔ میں ڈھیر سارے کپڑے خریدوں گی۔ زیور خریدوں گی۔ جوتے خریدوں گی…‘‘
میں نے بیگم کو شاپنگ کی فہرست مکمل کرنے نہیں دی۔
’یعنی آپ جیہ للیتا کا ریکارڈ توڑنا چاہتی ہیں جس کے پاس ہزاروں کی تعداد میں کپڑے اور کئی کلو زیور ہے۔
بہت زیادہ جوتے خرید کر آپ فلپائن کے سابق صدر کی بیوہ املڈا مارکوس کو مات دینے کا ارادہ رکھتی ہیں۔‘‘
’’مجھے نہیں معلوم کہ میں کس کس کا ریکارڈ توڑوں گی۔
آپ نے پوچھا تو میں نے بتایا۔
یوں بھی آپ نے کون سے حقیقی ڈالر دیے ہیں۔ صرف خواب ہی تو دکھا رہے ہیں۔‘‘
بیگم ناراض ہونے لگیں۔
’’اچھا اب میں کچھ نہیں کہوں گا۔ بتائیے آپ اور کیا کریں گی؟‘‘
’’میں شاندار کوٹھی بناؤں گی۔ ایک نہیں، دو تین چار۔ کبھی اس گھر میں تو کبھی اُس گھر میں رہوں گی۔
نئی کاریں لوں گی۔ ہر سال ایک نئی کار۔ چھٹیاں باہر مناؤں گی۔ ناشتا ایک ملک میں اور ڈنر دوسرے ملک میں۔ بچوں کو امریکا اور لندن میں پڑھاؤں گی۔
دھوم دھام سے ان کا بیاہ رچاؤں گی۔ سارے شہر کو دعوت دوں گی۔‘‘
بیگم نے اپنی خواہشات گنوائیں۔
’’اس کے باوجود بھی بہت ساری دولت بچ رہے گی۔ آپ اس کا کیا کریں گی؟‘‘
میں نے سوال کیا۔
’’میں بقیہ دولت آپ کو سونپ دوں گی۔ آپ کی مرضی جو چاہیں کریں۔
میں تو گھر اور بچوں میں مصروف رہوں گی۔
اب آپ بتائیے میری دی ہوئی دولت کا آپ کیا کریں گے؟‘‘ بیگم نے اپنی جان چھڑاتے ہوئے پوچھا۔
’’میں اتنی دولت کا کیا کروں گا؟‘‘
چند لمحے سوچنے کے بعد میں نے جواب دیا،
’’دیکھیے بیگم! شاپنگ اور فضول خرچی سے قارون کا خزانہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔
اس طرح تو میں ارب پتی سے کروڑ پتی، کروڑ پتی سے لکھ پتی اور لکھ پتی سے قلاش پتی بن جاؤں گا۔
اسی لیے میں آپ کو شاپنگ کی اجازت نہیں دوں گا۔
میں کچھ دولت باہر بینکوں میں رکھوں گا۔ سرمایہ کاری کروں گا۔ کچھ سے جائیداد بناؤں گا اور…‘‘
’’اور کیا؟‘‘ بیگم نے ٹوکا۔ ؔ
’’اپنی دولت کو اِدھر اُدھر پھنسا کر ایک عام آدمی کی طرح زندگی گزاروں گا!‘‘
’’کیا فرق پڑتا ہے؟ زندگی گزارنا مقصد ہے اور ہر کسی کی گزر ہو ہی جاتی ہے۔
چاہے وہ ارب پتی ہو یا قلاش پتی۔
اہم سوال ہے کہ زندگی کیسے گزاری؟ اس کا حساب تو بہت بعد میں ہوتا ہے۔‘‘
میں نے بیگم کے اعتراض کا ایک فلسفی بن کر جواب دیا۔
’ ’اصل میں ہمیں اس سوال کی تیاری کرنی ہے۔‘‘
میرا جواب سن کر بیگم نے ہاتھ جوڑے۔
’’مجھے معاف کریں۔ مجھ سے غلطی ہوئی جو میں نے آپ کا نام غلط فہرست میں تلاش کیا…‘‘ اور وہ چائے کے کپ سمیٹ کر چلی گئیں۔

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles