33 C
Lahore
Wednesday, April 24, 2024

Book Store

 مایا  تیرے تین نام| maaya tere teen naam

احساس کے انداز

مایا  تیرے تین نام۔۔۔
پرسو، پرسا، پرس رام

تحریر ؛۔ جاوید ایاز خان

یہ مشہور ہندی کہاوت ہے. انسان مایا (یعنی دولت ) کی پرستش کرتا ہے۔ کسی شخص کو دولت مل جائے تو معاشرے میں اس کا مقام اور حیثیت بدل جاتے ہیں۔
جو شخص “پرسو  “کے حقیر نام سے مشہور تھا، اب” پرسا “کہلانے لگتا ہے اور بڑھتے بڑھتے ” پرس رام ” ہو جاتا ہے ۔مایا تو ہندی میں روپے ،پیسے اور دولت وغیرہ کو کہتے ہیں ۔
سب لوگ دنیا کی دولت کو مایا کہتے اور مثال دیتے ہیں کہ ” سب مایا ہے “( یعنی اسے دھوکا قرار دیتے ہیں )۔ خود  عملا” گردن تک دنیا کی محبت میں ڈوبے رہتے ہیں۔ دولت کی بہتی گنگا  میں ہاتھ دھوتے نظر آتے ہیں ۔
اپنی عاقبت اور آخرت سے بے نیاز  دولت کی ہوس میں ایک لامحدود اور طویل راستے پر دوڑتے چلے جاتے ہیں۔
یہ دولت وہ اپنی جھوٹی شان وشوکت بڑھانے اور اپنے نام کو معاشرے اور دنیا کی نظروں میں بلند کرنے کے لیے  جمع کرتے ہیں۔
وہ ” پرسو  “سے”پرسا” اور پھر “پرس رام” بننے کے غرور کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سمجھتے ہیں کہ شاید ان کی جمع شدہ دولت ہی ان کا نام بدل کر انہیں عزت دے سکتی ہے؟
کیا واقعی نام میں ہی انسان کی عزت ہوتی ہے ؟اور آخر یہ   مایہ اور دولت ہوتی کیا ہے ؟ مشہور شاعرابن انشاء کہتے ہیں “سب مایا ہے ،سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے  ،سب مایا ہے “یعنی سراسر دھوکا ہے ؟

کہتے ہیں انسان کو  مٹی سے مٹی تک کے سفر کے درمیان جو وقت ملتا ہے, وہی خدا کی عطا کردہ مختصر سی مہلت ہے۔ جسے ہم زندگی کا نام دیتے ہیں۔
ذرا سوچیں! اس ذرا سے وقفے میں ہم کتنی دولت اور نام کما سکتے ہیں؟ بہت جلد ہم سب ماضی کا حصہ ہو ں گے اور اسی مٹی کو اوڑھ کر جب زمین کی گہرائی میں سو رہے ہوں گے،تو لوگ ہمارے نام کی تختی بھی پڑھنا گوارا نہ کریں گے۔
کیونکہ انسان کی مال دولت کی نہ ختم ہونے والی ہوس اور بھوک کا خاتمہ بس قبر میں جا کر ہی ہو گا۔ دولت کیا ہے؟ ذرا غور کریں۔
ضروری نہیں کہ دولت روپیہ پیسہ اور مال ومتاع ہی کا نام ہو۔ دنیا میں  ہر ایک شخص کے لیے دولت کے اپنے اپنے معیار ہوتے ہیں ۔
کہتے ہیں جس کے پاس جو نہیں ہوتا وہ اسے ہی دولت سمجھتا ہے۔ اسی کے پیچھے بھاگتا دکھائی دیتا ہے۔
اللہ کی عطا کردہ دوسری نعمتوں کو بھول جاتا ہے۔ جس طرح دولت انسان کا نام بدلتی جاتی ہے، اسی طرح انسان کی ضرورت اور خواہش دولت کا نام اور معیار بدلتی رہتی ہے ۔
غریب کے لیے پیسہ بڑی دولت ہے!
بے اولاد کے لیے اولاد بڑی دولت ہے!
بےسکون کی دولت اس کا سکون  ہے!
بیمار کے نزدیک سب سے بڑی دولت اس کی  صحت ہے !
یتیم کےلیے باپ بڑی دولت ہے !
ایک خاوند کی سب سے بڑی دولت نیک اور پارسا بیوی ہے !
مظلوم کے لیے انصاف دولت ہے !
کسی دکھی کے لیے تسلی کا ایک لفظ بھی دولت سے کم نہیں ہوتا!
جب کہ ایک شرابی کے لیے شراب ہی دولت ہے!
دولت کے معنی ہماری ضرورت اور خواہش  کے ساتھ ساتھ بدلتے ہیں۔
دولت کے یہ بدلتے معیار اور ان سب کے حصول کے لیے ہم کیا کچھ نہیں کرتے؟
جائز وناجائز کی سوچ کہیں دُور چلی جاتی ہے۔
ایک دولت حاصل کر لیتے ہیں تو دوسری کے پیچھے دوڑتے ہیں۔ حالانکہ یہ سب” مایا “ہے۔دھوکا ہے۔
آخر کار اس دولت کا آخری نام “وراثت “ہوتا ہے۔ جس میں آپ کا  اپنا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔
شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں، “بخیل آدمی کی دولت اس وقت زمین سے باہر آتی ہے جب وہ خود زمین کے نیچے چلا جاتا ہے ”  ۔
اللہ تعالیٰ نے سورۃ التکاثر میں ارشاد فرمایا:
“کثرت کی خواہش نے تمہیں برباد کر ڈالا یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں۔ ”
پھر ایک اور آیت میں فرمایا:
” اے ایمان  لانے والو!  خبردار تمہارے اموال اور تمہاری اولاد تمہیں یاد خدا سے غافل نہ بنا دے۔ ”
بے شک دولت کی دوڑ میں ہمیں وقت گزرنے کا احساس  تک نہیں۔  ہماری زندگی ختم ہو جاتی ہے اور ہم خالی ہاتھ قبروں میں جا سوتے ہیں ۔
اسلام میں حصول مال نہ صرف یہ کہ مذموم نہیں بلکہ بعض جگہوں پر تو  رزق کا حصول واجب ہے۔ جس چیز کی مذمت کی گئی ہے وہ خدا پرستی کے مقابل مال پرستی ہے۔
سورۃ العادیات میں اللہ تعالیٰ انسان کے بارے میں فرماتا ہے:
” بے شک وہ مال کی محبت میں بہت شدید ( پکا ) ہے تو کیا وہ نہیں جانتا جب وہ اُٹھائے جائیں گے جو قبروں میں ہیں اور جو سینوں میں ہے وہ کھول دی جائے گی بےشک ان کا رب اس دن ان کی یقیناً خوب خبر رکھنے والا ہے ”
دین اسلام میں مال آخروی سعادت تک پہنچنے اور قرب  خدا وندی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے نہ کہ خود ہدف اور مقصد  بننا۔
اس لیے دولت کو فتنہ اور آزمائش بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں نفع اور نقصان دونوں پہلو پائے جاتے ہیں۔ دولت ہمیں ایسے دوراہے پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں سے ایک راستہ فلاح اور دوسرا تباہی کی جانب جاتا ہے ۔
یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم کون سا راستہ اپنے لیے اختیار کرتے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ سورۃ تغابن میں فرماتا ہے:
“تمہارےاموال اور اولاد بس تمہارے لیے ایک آزمائش کی چیز ہے ۔(آیۃ: ۱۶ )

ہمارے پیارے نبی ؐ نے بقدر کفایت روزی کو پسند فرمایا ہے۔ ایسی دولت جو انسان کو شرعی ذمہ داریوں سے غافل کر دے وہ کسی مصیبت سے کم نہیں ہوتی۔
آپؐ کا ارشاد  گرامی ہے:
” وہ شخص کامیاب ہو گیا جو اسلام میں داخل ہو گیا اور ضرورت کے مطابق رزق دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے اس رزق پر قناعت کرنے والا بنا دیا “(مسلم )
اب یہاں ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں رزق چاہیے یا دولت چاہیے ؟
حضور ؐ نے فرمایا:
” ہر امت کے لیے کوئی خاص آزما ئش ہوتی ہے اور میری امت کی خاص آزمائش مال ہے ”
(معارف الحدیث :۲۔۵۶)
یہ سوچ کا مقام ہے آپ یقیناً دولت نہیں فتنہ کما رہے ہیں۔ جب آپ دکانداری میں ایمانداری اور تجارت میں امانت ایسے اوصاف کا خیال نہیں رکھتے اور ملاوٹ ،جھوٹ اور دھوکے کو فنکاری اور کاروباری مہارت  سمجھتے ہیں۔

https://shanurdu.com/khwahishat-ka-hathi/
ہمارا معاشرہ تیزی سے اس فتنے کا شکار ہوتا چلا جارہا ہے۔ اسے روکنے کے لیے ہمیں اپنی ضرورت اور لالچ و ہوس کے درمیان لکیر تلاش کرنی ہے۔ ہمیں فرض اور فتنے کے بیچ پگڈنڈی پر آنا ہوگا۔
ہمیں دولت کی دھن اور ہوس میں سرمست ہونے کے بجائے شریعت کی منشا اپنانا ہو گی۔ تبھی ہم صراط المستقیم پر چلنے کی کوشش کر سکتے ہیں ۔
آئے دن ہماری زندگی میں بے شمار واقعات و حادثات ہمارے لیے درس اور سبق ہوتے ہیں۔ دن رات دولت کے پیچھے بھاگنا دنیا کی اندھی محبت اور ہوس میں مبتلا رہنا اور اس کے حصول  کے لیے جائز ناجائز ذرائع  اختیار کرنا خدا کی بتائی گئی عبادات اور معاملات سے دوری، بیوی بچوں کو مناسب وقت نہ دینا، ان کی نگرانی سے غفلت برتنا ، قریبی رشتہ داروں کے حقوق بھول جانا۔
جب اس طرح کی قباحتیں اور غلطیاں انسان سے سرزد ہوتی ہیں تو شاید وہ انسان خدا کی عطا کردہ  بے شمار نعمتوں  اور رحمتوں سے محروم ہو جاتا ہے ۔
حدیث مبارک ہے :
” مال انسان کا اچھا ساتھی ہے بشرطیکہ وہ اس میں سے اللہ کا اور اس کے بندوں کا حق ادا کرے اور اگر حق ادا نہیں کرتا تو یہی مال اس کے لیے وبال جان ہے ۔” (بحوالہ تفسیر العرفان :۴ ۔۳۷۶)
کمائی میں قناعت اپنائیے۔ ہمارا اللہ یہ چاہتا ہے دنیا اور دولت کی محبت سے دل کو پاک اور صاف رکھیں۔
یہی ہمارے پیارے نبیؐ کا حکم ہے کیونکہ ہماری نجات اور اللہ کی خوشنودی کا  یہی راستہ ہے ۔
بقراط کہتا ہے:
“ہم دولت سے نرم بستر حاصل کر سکتے ہیں مگر نیند  حاصل نہیں کر سکتے “۔
مشہور عوامی شاعر نظیرآکبر آبادی فرماتے ہیں ۔

کچھ کام نہ آوے گا تیرے یہ ،لعل ،زمرد ، یہ سیم وزر

جب پونجی بات میں بکھرے گی ،پھر آن بنےگی جان اوپر

دھی ، پوت ، جنوائی ،  بیٹا  کیا ،بنجارن   پاس  نہ آوے  گی

سب   ٹھاٹھ  پڑا  رہ جاوے  گا  جب  لاد  چلے   گا  بنجارا

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles