28 C
Lahore
Wednesday, April 24, 2024

Book Store

 خواہشات کا ہاتھی| khwahishat ka hathi

احساس کےانداز

خواہشات کا ہاتھی  

تحریر ؛۔ جاویدایازخان

بلاشبہ نہایت کسمپرسی کے حالات میں عمرکوٹ سندھ میں جلاوطن اور شکست خوردہ مغل بادشاہ ہمایوں کے ہاں جنم لینے والے خوش بخت شہنشاہ جلال الدین اکبر نہ صرف عظیم فتوحات بلکہ نظم و نسق کے معیار اور علم و فن کی سرپرستی کے لحاظ سے دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں میں شمار ہوتے ہیں۔
صرف چودہ سال کی عمر میں اقتدار سنبھال کر پچاس سال تک بڑے شان و شوکت سے حکومت کی۔ ان پڑھ ہونے کے باوجود پڑھے لکھوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔
تاریخ  انھیں “اکبر اعظم “کے نام سے یاد کرتی ہے ۔
اس کی تمام تر کامیابیوں کے پیچھے اس کے اتالیق اور سرپرست بیرم خان کے ہاتھ کے ساتھ ساتھ اس کے نورتنوں کا بھی بڑا کردار تھا۔ جو ہر ایک اپنے اپنے شعبے میں نمائیاں صلاحیت اور قابلیت کے مالک تھے۔
یہ قابل ترین اشخاص پر مشتمل مجلس شوری ٰ تھی یہ اکبر بادشاہ کے مقرب ترین امراء تھے۔
جنہوں نے آئینی، علمی ،عملی ،ادبی اور جنگی خدمات کے ساتھ ساتھ اس کے دربار کی رونق بھی قائم رکھی۔
انھی میں سے دو مشہور کردار تاریخ میں آپس کی نوک جھوک کے حوالے بے حد مقبول عام ہوئے۔
انھوں  نے بادشاہ کے دل میں خصوصی مقام حاصل کر لیا ۔ان میں سے ایک ملا دوپیازہ ( ابوالحسن ) اور دوسرا بیربل (مہیش داس ) کے ناموں سے جانا جاتا ہے۔
دونوں خوش اخلاقی کے پیکر تھے ۔ملا دوپیازہ مسلمان اور بیربل ایک ہندو برہمن تھا۔ ان سے بے شمار لطیفے اور چٹکلے منسوب اور مشہور ہیں ۔
یہ اپنی خداداد لیاقت و ظرافت کے باعث اس قد ربے دھڑک ہو گئے تھے کہ خود بادشاہ سلامت سے مذاق کرنے کا کوئی موقع ضائع نہ کرتے۔
اکبر بھی کیونکہ خود زندہ دل اور خوش طبع تھا اس لیے شیشہ دل پر ملال نہ لاتا۔ بلکہ خود اس کا حصہ بن جاتا تھا ۔
کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ملا دوپیازہ دربار  شاہی میں کچھ تاخیر سے پہنچے تو بیربل  جسے پتہ تھا کہ ملا دوپیازہ آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر پگڑی باندھتا ہے بغیر آئینہ پگڑی نہیں باندھ سکتا۔
اس نےکہا ملا دوپیازہ کو  پگڑی بیوی باندھتی ہے لیکن آج پگڑی باندھنے کے لیے بیوی نے دیر کر دی کیونکہ یہ خود نہیں باندھ سکتے۔ اگر باندھ سکتے ہیں تو دربار میں کھول کر باندھ کر دکھائیں۔
بادشاہ  نے کہا، ملا جی پگڑی کھول کر پھر سے باندھو۔
ملا جی نے کوشش کی مگر ناکام ہوئے اور شرمندگی ہوئی۔
مجبوراً بتانا پڑا کہ میں آئینے کے بغیر پگڑی نہیں باندھ سکتا۔
بادشاہ نے کہا تو پھر تاخیر کیوں ہوئی؟
انھوں جواب دیا کہ گھر پر بچہ رو رہا تھا۔ عجیب فرمائش کرتے ہوئے رونے کے بہانے تلاش کر رہا تھا۔ اسے چپ کرانے میں دیر ہو گئی۔
بیربل نے کہا، بچے کو چپ کرانا کون سا مشکل ہے؟ اس کی خواہش پوری کر دو۔ وہ چپ ہو جاتا۔
ملا دوپیازہ بولے:
بچے کی ہر خواہش پوری نہیں ہو سکتی۔
دوپیازہ اور بادشاہ کا خیال تھا کہ بچے کی خواہش پوری کی جا سکتی ہے۔ بڑی بحث چھڑ گئی۔
ملا دوپیازہ نے کہا، بادشاہ سلامت میں! بچہ بن جاتا ہوں اور آپ باپ بن جائیں۔ دیکھیں کیا واقعی آپ بچے کی خواہش پوری کر کے اسے چپ کرا سکتے ہیں؟
بادشاہ نے کہا: ٹھیک ہے۔ یہ کیا مشکل کام ہے ۔
ملا دوپیازہ نے بچوں کی طرح رونا شروع کر دیا۔
بادشاہ نے کہا: کیا  کیوں روتے ہو؟ کیا چاہیے؟
دوپیازہ نے روتے ہوئے کہا: مجھے ہاتھی چاہیے۔
بادشاہ نے حکم دیا: ہاتھی لایا جائے۔
جب ہاتھی آ گیا تو پھر رونا شروع کر دیا کہ مجھے ایک لوٹا چاہیے۔
بادشاہ نے حکم دیا اور لوٹا لایا گیا مگر ملا دوپیازہ اور زور سے رونے لگا۔
بادشاہ نے کہا، اب کیا چاہیے؟
اس نے روتے ہوئے کہا: میں بچہ ہوں میری ضد ہے کہ اس ہاتھی کو اس لوٹے میں ڈال دو۔  پھر رونے لگے!
دربار میں ایک قہقہہ لگا۔
بادشاہ نے کہا ملا جی یہ کیسے ممکن ہے؟
ملا دوپیازہ  بولے:  لاڈلے بچوں کی ضدیں اور خواہشات تو ایسی ہی ہوتی ہیں جو پوری نہیں کی جا سکتیں۔
بادشاہ نے ملادوپیازہ کی بات مان لی اور بیربل کو شرمندگی اُٹھانا پڑی۔
ملا دوپیازہ نے کہا: بادشاہ سلامت! انسان کی خواہشات ہاتھی کی طرح ہوتی ہیں جنہیں پورا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ جبکہ بچے معصوم اور بھولے ہوتے ہیں۔ یہ بات سمجھ نہیں سکتے، اس لیے ضد کر بیٹھتے ہیں۔

اچھی، نیک خواہشات اور خوبصورت تمنا اور آرزو کا ہونا ہماری کامیابی کی کلید ہے کہ ہم اپنے رب سے اُمید رکھیں۔ مایوسی کے کفر سے بچیں، مگر انھیں حرص اور حسد کی آگ سے محفوظ رکھیں۔
یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم اپنی خواہشات اور وسائل میں توازن قائم کر لیں۔ غیر ضروری اور ناممکن خواہشات سے پر ہیز کریں ۔
جائز و ناجائز کی پروا کیے بغیر نفس کی ہر خواہش پوری کرنے میں لگ جانا درست عمل نہ ہے۔
یہ اتباع شہوات ( خواہشات کی پیروی ) کہلاتا ہے ۔
ارشاد نبویﷺ ہے،” تین چیزیں ہلاکت میں ڈال دیتی ہیں ۔
حرص و طمع میں گم رہنا ۔
نفسانی خواہشات کی پیروی کرنا۔
اپنے آپ پر  فخر کرنا “

ہمارے معاشرے اور ملک میں بھی ایسے بہت سے مرد و خواتین سماجی ،مذہبی ،سیاسی ،صحافتی ،تجارتی لاڈلے بچے ہیں۔
آئے دن ان کی نئی سے نئی حیران کن خواہشات اور ضدیں دیکھنے اور سننے میں آتی ہیں۔ اقتدار اور نمبر ون ہونے کی دوڑ میں وہ ہر نفع نقصان کی سوچ سے عاری اپنی خواہشات اور ضدوں پر ڈٹے نظر آتے ہیں۔
پریشانیوں، مشکلات اور جھگڑوں میں گھرتے چلے جا رہے ہیں۔ جس سے معاشرے میں بےسکونی اور بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے  ۔
انسانی خواہشات کی کوئی حد مقرر نہیں ہوتی۔ ان کے بڑھنے کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔
کہتے ہیں خواہشات کا حد سے بڑھ جانا بےسکونی اور بےچینی کو جنم دیتا ہے۔ خواہشات اور وسائل میں توازن نہ رہے تو زندگی غیرمتوازن اور تلخ ہونے لگتی ہے۔
خواہشات اور حاصل کا فرق انسان کو مضطرب اور ڈیپریشن کی جانب لے جاتا ہے۔
وہ ایک ضدی بچہ بن جاتا ہے، جو ہر صورت اپنی خواہش پوری کرنا چاہتا ہے۔ جب ان خواہشات کی شدت بہت بڑھ جائے تو یہ حرص بن جاتی ہے۔
حرص ہماری شخصیت کے ساتھ پورے معاشرے کی تباہی کا باعث بن جاتی ہے ۔
ہماری بےجا اور ناتمام خواہشات ایک جانب معاشرتی ناہمواری پیدا کر رہی ہیں تو دوسری جانب ان کی تکمیل اور  حب جاہ اور عزت و شہرت کے حصول کے لیے جائز و ناجائز ذرائع کا بڑھتا رجحان معاشرے میں اخلاقی اور مالی کرپشن کی وجہ بن رہا ہے ۔
کاش ہم ان لاڈلے بچوں کو سمجھا سکیں کہ”  خواہشات و حرص کے اس بڑے ہاتھی کو اس چھوٹی سی زندگی کے  لوٹے میں نہیں ڈالا جا سکتا. ”
اس کا علاج یہ ہے ہم اپنے  سے بڑوں اور اعلیٰ پر نظر نہ رکھیں بلکہ اپنے سے ادنیٰ کو دیکھ کر جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے، اس پر صبر وشکر کریں ۔
یہی ہمارے لیے سکون قلب کے حصول اور پریشانیوں اور مشکلات سے بچنے کا واحد طریقہ ہے جو ہمارے دل کو نیکی اور بھلائی کی جانب راغب کر دے گا ۔
امام جعفر صادق ؒ کا قول ہے کہ” اپنی خواہشات سے اسی طرح ڈرتے رہو جس طرح تم اپنے دشمنوں سے ڈرتے ہو کیونکہ انسان کے لیے خواہشات کی پیروی اور زبان کے نتائج سے بڑا کوئی دشمن نہیں۔ ”
جب مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مقرر ہوئے تو ان کا وظیفے کی مشاورت ہوئی۔ آپ نے فرمایا:
مدینہ شہر میں مزدور کی یومیہ اُجرت کیا ہے؟ وہی میری اجرت ہو گی۔
تو صحابہ نے کہا:
کہ آپ کا مزدور کی اُجرت میں گزر بسر کیسے ہوگی ؟
تو فرمایا: اگر میرا گھر اس اُجرت میں نہ چل سکا تو مزدور کی اُجرت بڑھاؤں گا، ورنہ میں روز حساب اپنے خدا کو کیا جواب دوں گا؟
ذرا سوچیں کہ آج ہمارے مسلمان حکمران قومی خزانے کو جس طرح خرچ کر رہے ہیں کیا وہ درست ہے ؟
کیا ہمارے مزدور کی یومیہ اجرت اور ان کے اخراجات ایک سے ہیں ؟
جواب نفی میں آئے گا کیونکہ ہماری خواہشات اب حرص میں بدل چکی ہیں اور حرص تباہی کا راستہ ہے ۔

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles