42.5 C
Lahore
Tuesday, June 25, 2024

Book Store

Insaani bhedia|انسانی بھیڑیا|Maqbool Jahangir

انسانی بھیڑیا

مقبول جہانگیر

وہ لرزہ خیز خون منجمد کر دینے والی ہولناک چیخ جنگل کے وسط سے اٹھی تھی۔

ڈان جیفرسن کے ہاتھ سے بندوق چھوٹ کر لمبی لمبی گھاس میں گر پڑی۔ ایک لحظے کے لیے اُسے یوں لگا جیسے چیخ کسی درندے کی آواز ہو، مگر ایسی آواز پہلے کبھی نہ سنی تھی۔
آواز ….. جو اُس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ بن کر اتر گئی اور اُس کے اعصاب شل کر گئی۔ پتھر کے بےجان بت کے مانند وہ نہ جانے کتنی دیر وہاں کھڑا رَہا۔

ڈان جیفرسن نے یکایک جھرجھری سی لی۔ اُسے احساس ہوا، وُہ آواز شاید خوفناک بھیڑیے کی ہے، مگر نہیں، بھیڑیے اِس طرح نہیں چلّایا کرتے۔
ہاں….. ممکن ہے کوئی آدمی کوشش کر کے بھیڑیے کی آواز حلق سے نکالے، تو شاید وہ آواز ایسی ہو گی جیسے ابھی چند لمحے بیشتر ابھری تھی۔ اللہ رحم کرے۔
اِس تصوّر کے ساتھ ہی اُس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے….. وہ ڈرنے والا آدمی ہرگز نہ تھا۔
دنیا کی کوئی طاقت، کوئی بھیانک سے بھیانک چیز اُسے خوف زدہ نہ کر سکتی تھی۔ اُس کے اعصاب فولادی تھے۔
اُس نے جب سے ہوش سنبھالا تھا، اپنے آپ کو جنگل میں پایا۔ سینکڑوں خطرے، ہزاروں حادثات، اَن گنت بلائیں اُس نے دیکھی تھیں۔
وُہ کبھی خوف زدہ نہ ہوا، لیکن آج اُسی جانے پہچانے جنگل میں ایک پُراسرار آواز سن کر اُس پر لرزہ طاری ہو گیا تھا۔
آخر اُس کی تمام حسیات یک لخت جاگ اٹھیں۔
اب وہ ہر قیمت پر جاننا چاہتا تھا کہ جنگل کے وسط میں سے اٹھنے والی نئی اور ہولناک آواز کس کی تھی۔

آسمان پر چودھویں کا چاند روشن تھا۔ اُس کی تیز دودھیا چمکیلی روشنی میں ڈان جیفرسن دور تک دیکھ سکتا تھا۔ یوں بھی اُسے جنگل کے چپے چپے کا اچھی طرح علم تھا۔
کون سا درخت کہاں اور کون سی جھاڑی کدھر ہے۔ جنگل کس طرف زیادہ گھنا اور کدھر آسانی سے راستہ نکالا جا سکتا ہے۔ جس حصّے میں وہ آدھی رات کے وقت تن تنہا موجود تھا، وہاں درخت کچھ زیادہ ہی ایک دوسرے کے قریب تھے۔
اتنے قریب قریب کہ شاخیں ایک دوسرے سے الجھی ہوئی اور جب تیز ہوا کا جھونکا آتا، تو سب درختوں کے پتے مل کر زور زور سے تالیاں بجاتے جیسے وہ ڈان جیفرسن کا مذاق اڑا رَہے ہوں۔

کوئی آدھ فرلانگ دور اِس سے زیادہ گھنا، اونچے اونچے درختوں کا جھنڈ تھا۔ اُس جھنڈ کے اوپر جیفرسن نے دیکھا بہت سی چمگادڑیں فضا میں خاموشی سے چکر کاٹ رہی ہیں۔
ایک ہی دائرے میں، بڑی بڑی چمگادڑیں ایک دو بار اُس کی طرف بھی آئیں لیکن ڈر کر آگے نکل گئیں۔ اُس نے چمگادڑوں کی آنکھیں بھی چاندنی میں چمکتی ہوئی دیکھیں۔
عجیب رنگ تھا اُن آنکھوں کا! کبھی سرخ، کبھی زرد جیسے ہیرے چمک رہے ہوں یا سرخ ننھی ننھی قندیلیں روشن ہوں۔ جیفرسن کو آج یہ سب کچھ نہایت عجیب لگ رہا تھا۔ ایسا کیوں تھا؟ یہ اُس کی سمجھ میں نہ آتا تھا۔ گرد و پیش ہیبت ناک سناٹا۔
ایسا معلوم ہوتا جیسے جنگل میں کوئی شے ہے ہی نہیں۔ یکایک اُس نے محسوس کیا، ہوا بھی تھم گئی ہے۔ درختوں کے وہ پتے جو چند لمحے پیشتر تیز ہوا کے جھونکوں میں تالیاں بجا رہے تھے، یک لخت گم صم ہو گئے۔

اُس نے اپنی بارہ بور کی بندوق جھک کر گھاس میں سے اٹھائی۔ ابھی سیدھا بھی نہ ہوا تھا کہ ایک بار پھر جنگل کی فضا اُسی بھیانک چیخ سے لرز اُٹھی۔
اُس کا لہو دہشت سے جمنے لگا۔ جھکی ہوئی کمر اور بندوق کی طرف بڑھا ہوا دَایاں ہاتھ جیسے پتھر کا ہو گیا تھا۔ اُس کی پیشانی پر پسینے کے ننھے ننھے قطرے پھوٹنے لگے۔ اِس مرتبہ آواز زیادہ گونج دار، واضح اور صاف تھی۔ جیسے….. جیسے بہت سے بھیڑیے بیک وقت چلّائے ہوں۔
جیفرسن نے یہ بھی محسوس کیا کہ آواز کچھ اور قریب آ گئی ہے یا ممکن ہے یہ اُس کا وہم ہی ہو۔ اُس نے پوری قوتِ ارادی سے کام لے کر بندوق مضبوطی سے تھام لی اور تن کر کھڑا ہو گیا۔
اُس کی نگاہوں کے سامنے درختوں کا وہی جھنڈ تھا جس کا ایک ایک درخت برسوں سے اُس کا جانا پہچانا تھا۔ وہ اَن گنت بار شکار کے لیے آیا تھا اور اُسے آج تک کوئی حادثہ پیش نہ آیا تھا۔
وہ نہایت قوی ہیکل اور بہادر تھا۔ کم از کم اِردگرد کی بستیوں کے لوگ اُس کے بارے میں یہی سوچتے تھے کہ اِس سے زیادہ طاقت ور اَور نڈر شخص کوئی اور نہیں۔
خطروں سے کھیلنا اُس کی عادت تھی، مگر اب یہ دو بھیانک آوازیں سن کر اُس کی جو حالت ہوئی، اِس پر اُسے خود شرم آنے لگی۔
پھر اُس نے اپنی بارہ بور کی انتہائی مضبوط، وفادار دو نالی بندوق پر نظریں جما دیں جس کا سیفٹی کیچ کھلا ہوا تھا۔ صرف لبلبی دبانے کی دیر تھی اور دو گولیاں…..

ڈان جیفرسن بےدھڑک درختوں کے اُس جھنڈ کی طرف بڑھا۔ اُس کا خیال تھا کوئی نہ کوئی….. آدمی….. یا….. درندہ اِنھی درختوں میں چھپا ہوا ہے اور پھر اُس نے اُسے دیکھ لیا۔

صنوبر کے بہت پرانے درخت کے قریب، جس کے اردگرد لمبی گھاس اگی تھی، سفید سفید سی کوئی چیز حرکت کر رہی تھی۔
ایک لمحے کے لیے اُسے اپنی آنکھوں پر دھوکا ہوا، مگر نہیں….. ضرور وَہاں کوئی موجود تھا اور تب اُسے خیال آیا اِس حصّے کے بارے میں عوام میں طرح طرح کی مضحکہ خیز کہانیاں مشور ہیں۔ سب کا مرکزی خیال یہی کہ صنوبر کا یہ درخت آسیب زدہ ہے۔
اِدھر سے کوئی گزرتا ہی نہ تھا۔ چاند کی تیز روشنی میں جیفرسن نے صنوبر کے اُس بوڑھے درخت کو دیکھا۔ اُس کا تنا خاصا بڑا اَور اُس میں سے دائیں بائیں نکلی ہوئی دو شاخیں تھیں، جیسے بازو کسی چیز کو پکڑنے کے لیے پھیلے ہوئے ہوں۔
اُن شاخوں کے اوپر تنے نے دیو کے سر کی شکل اختیار کر لی تھی۔
اُس نے پہلے کبھی اِس نظر سے درخت کو نہ جانچا تھا۔ اب احساس ہوا کہ گزشتہ پچاس برس کی گردشِ لیل و نہار نے صنوبر کے بوڑھے درخت کو آہستہ آہستہ ایک عجیب سی انسانی ہیئت میں لانے کی کوشش کی ہے۔

ممکن ہے وہ اُس درخت کے جائزے ہی میں محو رہتا کہ دفعتاً گھاس میں دو چمکتی ہوئی آنکھیں اُبھریں۔ عین اُسی لمحے بادل کے ایک آوارہ ٹکڑے نے چاند کا روشن چہرہ ڈھانپ دیا۔
جیفرسن اپنی جگہ بےحس و حرکت کھڑا تھا۔ وہ چمک دار آنکھیں جن کا رنگ گہرا زرد تھا، برابر اُسے گھور رَہی تھیں۔ پھر جیفرسن نے اُسے اچھی طرح دیکھ لیا۔ شاید یہ کوئی زبردست بھیڑیا تھا یا مکار چیتا یا جنگلی بِلا۔
وہ فیصلہ نہ کر سکا اُن میں سے کون سا درندہ ہے۔ گھاس میں دبکا ہوا اَور جیفرسن کو صرف اُس کا سر، پیشانی اور پیشانی کے نیچے دو زرد زرد بڑی بڑی آنکھیں نظر آئیں۔
بادل کا ٹکڑا چاند کے چہرے سے ہٹ گیا اور اَب جیفرسن نے خوب غور سے درخت کی طرف دیکھا۔ تھوڑی دیر پہلے جو دہشت اُس پر طاری تھی، وہ دُور ہو چکی تھی۔

وہ چند قدم اور آگے بڑھا۔ اُس درندے کا بقیہ جسم بھی بخوبی دیکھ سکتا تھا۔ اُدھر درندے نے بھی اپنی جگہ سے معمولی سی جنبش کی اور سِرک کر جیفرسن کے نزدیک آنے کی کوشش کی۔
اُس کے جسم پر لمبے لمبے بھورے بال تھے۔ اُس نے سوچا ممکن ہے، یہ ریچھ کی کوئی ایسی نسل ہو جو اُس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی، مگر اُس کا جسم، اُس کے ہاتھ پیر ریچھ یا بھیڑیے کے بجائے کسی آدمی سے ملتے جلتے تھے۔ یکایک اُس بلا نے اپنا منہ اوپر اٹھایا اور جیفرسن کے حلق سے چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی۔
خدا کی پناہ! اُس کا چہرہ اِنسانی چہرے سے کس قدر مشابہت رکھتا تھا۔ ویسی ہی پیشانی، ویسی ہی ناک، ویسے ہی رخسار۔
فرق صرف اتنا کہ منہ کی جگہ لمبی سی تھوتھنی تھی جیسے بھیڑیوں کی ہوتی ہے۔ اُس کی آنکھیں تو بالکل انسانوں کی سی، سوائے اِس کے کہ اُن میں بےپناہ چمک تھی۔ ایسا معلوم ہوتا یہ کوئی درندہ نما انسان ہے یا انسان نما درندہ۔

اِس کا مطلب یہ ہے کہ کارٹر کی بیان کردہ کہانی درست تھی، ڈان جیفرسن نے سوچا، مگر یہ کیونکر ممکن ہے کہ آدمی مرنے کے بعد بھیڑیا بن جائے؟
جیفرسن جیسا شخص جو بدروحوں یا آسیب پر کبھی یقین نہ رکھتا تھا، آخر کیسے مان لے کہ کارٹر کے بیان کردہ وَاقعات بالکل درست تھے؟
وہ اُس کی کہانی سن کر دل ہی دل میں بہت ہنسا تھا، لیکن اب….. اب آدھی رات کے اِس سمے….. جنگل کے اندر….. صنوبر کے پرانے اجڑے ہوئے درخت کے قریب جو کچھ وہ دَیکھ رہا تھا، اُس سے اندازہ ہوتا تھا کہ کارٹر سچ کہہ رہا تھا۔

یہ تمام خیالات، بجلی کی مانند ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصّے کے اندر اَندر جیفرسن کے ذہن میں آئے اور نکل گئے۔ دفعتاً وہ زرد چمکیلی آنکھیں ایک دم سرخ ہو گئیں جیسے آگ کے دو دَہکتے انگارے۔
ایک ہلکی سی غراہٹ کی آواز اُس کے کانوں تک پہنچی، مگر اب وہ پوری طرح مستعد تھا۔
اُس نے اطمینان سے بندوق کا کندا کندھے سے لگایا۔ اُس انسانی بھیڑیے کی دونوں آنکھوں کے درمیان پیشانی کا نشانہ لیا اور لبلبی دبا دی۔
بندوق کی دونوں نالوں سے بیک وقت دو شعلے سے نکلے اور جیفرسن کو محسوس ہوا، دونوں گولیاں نشانے پر بیٹھیں۔ بارہ بور کی یہ دو نالی بندوق نہایت طاقتور تھی۔
جیفرسن اُس میں لمبے لمبے نہایت وزنی، سیسے کے جو کارتوس استعمال کرتا تھا، وہ اَیسے تھے جو ہاتھی کا بھیجا بھی توڑ دیتے، یہ انسانی بھیڑیا تو بھلا کس کھیت کی مولی تھا؟

جیفرسن نے دیکھا، گولیاں کھا کر درندہ فضا میں اچھلا اور ایک ہولناک چیخ اُس کے منہ سے نکلی، مگر وہ دُوسرے ہی لمحے دوبارہ اُچھلا اور گھاس کو چیرتا ہوا جارحانہ انداز سے اُس کی طرف لپکا۔ اب اُس کے لمبے لمبے سفید نوکیلے دانت پوری طرح کھلے ہوئے، سرخ جبڑے سے جھانک رہے تھے۔
اُس نے اب بھی اپنے اوسان خطا نہ ہونے دیے۔ کئی قدم پیچھے ہٹ کر بندوق میں جلدی سے کارتوس پھر بھر کے اور دو فائر کیے۔
بلاشبہ دونوں گولیاں اِس مرتبہ بھی انسانی بھیڑیے کی کھوپڑی میں لگیں، مگر وہ نہ گرا، نہ ڈرا اَور نہ زخمی ہوا، بلکہ مزید غیظ و غضب میں بھر کر غراتا اور چلّاتا ہوا جیفرسن کی طرف لپکا۔
ایک لحظے کے لیے اُسے دل کی حرکت بند ہوتی محسوس ہوئی۔
کارٹر کی بیان کردہ کہانی صحیح ثابت ہو رہی تھی۔ یہ درندہ سیسے کی گولیوں سے مرنے والا نہ تھا۔
اِس سے پیشتر کہ وہ کچھ سوچ سکے، انسانی بھیڑیے نے دل ہلا دینے والی گرج کے ساتھ اُس پر جست کی اور دَائیں پنجے سے اُس کا منہ نوچنا چاہا، لیکن جیفرسن نے بندوق الٹی کر کے پوری قوت سے اُس کا کندا دَرندے کی کھوپڑی پر مارا۔
یہ ضرب اتنی شدید تھی کہ اگر شیر پر پڑتی، تو وہ بھی لڑھکنیاں کھا کر دور جا گرتا، مگر انسانی بھیڑیے پر اُس کا ذرہ برابر اثر نہ ہوا۔

جیفرسن نے ایک بار پھر بندوق درندے کے منہ پر ماری اور جب دیکھا یہ وار بھی بےکار گیا، تو پلٹ کر بےتحاشا بھاگا۔ اُس کے پیروں میں جیسے پَر لگ گئے۔
وہ اَدھیڑ عمر کا تھا، مگر اِس وقت وہ اَپنی جان بچانے کے لیے جس برق رفتاری سے بھاگا، اُس نے نوجوانوں کو بھی مات کر دیا۔ صرف ایک بار رُکا اور پلٹ کر دیکھا، انسانی بھیڑیا اچھلتا کودتا اُس کے تعاقب میں آ رہا تھا۔
جیفرسن پھر اندھادھند دوڑنے لگا۔ راستے کی ناہمواریوں اور اُونچی اُونچی جھاڑیوں کو پھلانگنے میں اُس کے کپڑے تار تار ہو گئے۔ بندوق وہیں پھینک آیا تھا۔
اُس کا جسم بھی زخمی ہو گیا اور چہرے پر بھی جھاڑیوں میں سے گزرنے کے باعث گہری خراشیں آئی تھیں، لیکن وہ رُکا نہیں، برابر بھاگتا رہا۔ خاصی دور جا کر ایک لمحے کے لیے رکا، لیکن پھر دوڑ پڑا۔
انسانی بھیڑیا اب بھی اُس کے پیچھے آ رہا تھا اور دَم بہ دم اُس کی رفتار بڑھتی جا رہی تھی۔
جیفرسن کو اَپنی موت بہت ہی قریب دکھائی دی۔ دوڑتے ہوئے اُس نے سوچا کارٹر کی بیان کردہ کہانی کا حرف حرف صحیح ہے ….. مگر اب جان بچانے کا مسئلہ تھا۔

تب اُسے یاد آیا دریا قریب ہی ہے اور اَگر قدیم داستانوں کے مطابق کوئی شخص انسانی بھیڑیے یا کسی آسیبی بلا سے جان بچانے کا خواہش مند ہو، تو اُسے بلاتامل پانی کے اندر کود پڑنا چاہیے۔
انسانی بھیڑیے، خون آشام چمگادڑیں یا بدروحیں، چلتا ہوا پانی عبور نہیں کر سکتیں۔
خوش قسمتی سے وہ دَریا کے رُخ پر ہی بھاگا تھا۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے اُسے بتایا دریا زیادہ دُور نہیں۔
اُس کا سانس بری طرح پھول گیا تھا، مگر وہ ہر قیمت پر اپنی جان بچانا چاہتا تھا۔
اُسے معلوم تھا اگر وہ اِنسانی بھیڑیے کے ہاتھوں مارا گیا، تو خود بھی انسانی بھیڑیا بن جائے گا اور یوں ایک لامتناہی سلسلہ چل نکلے گا۔

جیفرسن اِسی سوچ میں مسلسل بھاگ رہا تھا کہ دفعتاً انسانی بھیڑیے کا پنجہ اُس کے دائیں شانے پر پڑا اَور اُس کے شکاری کوٹ کا اتنا حصّہ ادھڑ گیا۔ خدا رَحم کرے! بلا کتنی نزدیک آ گئی تھی۔ اب وہ بہتے ہوئے پانی کا شور سن رہا تھا۔ دریا بیس پچیس گز دور تھا۔
جیفرسن نے اپنے جسم کی آخری قوت داؤ پر لگا دی اور دَھڑاپ سے یخ بستہ پانی میں کود گیا۔ ایک ثانیے کے لیے اُسے یوں لگا جیسے وہ برف سے بھرے ہوئے کسی گہرے اور تاریک کنوئیں میں گرتا چلا جا رہا ہو۔
پانی اتنا تیز تھا کہ اُسے بمشکل سنبھلنے کا موقع ملا۔ کسی زمانے میں وہ بہت عمدہ پیراک تھا اور اَگرچہ پیراکی کی مشق چھوڑے ہوئے خاصی مدت ہو چکی تھی، مگر بعض ضروری طریقے پیراکی کے وہ نہ بھولا تھا۔
ایک گہرا غوطہ کھانے کے بعد اُس نے اپنا چہرہ پانی کی سطح سے باہر نکالا اور پھیپھڑوں میں تازہ ہوا بھری۔
عین اُسی لمحے اُس کی نگاہیں غیرشعوری طور پر اُس کنارے کی طرف اٹھ گئیں جدھر سے اُس نے دریا میں چھلانگ لگائی تھی۔
اُس نے دیکھا انسانی بھیڑیا کنارے پر نہایت اضطراب اور غصّے سے چکر کاٹ رہا ہے۔ کبھی کبھی وہ اَپنی تھوتھنی اٹھا کر چاند کی طرف دیکھتا اور ہلکی آواز میں غراتا جیسے شکار کے نکل جانے کی شکایت کر رہا ہو۔

دفعتاً اُس نے بھی جیفرسن کو دیکھا اور آگے بڑھ کر اپنا دایاں پنجہ پانی میں ڈال دیا، مگر فوراً ہی اچھل کر یوں پیچھے ہٹا، گویا اُسے بجلی کا کرنٹ لگا ہو۔
پھر وہ بری طرح چیختا چلّاتا جدھر سے آیا تھا، اُدھر بھاگ نکلا۔ دیر تک جیفرسن کے کانوں میں انسانی بھیڑیے کے چیخنے کی آواز آتی رہی، پھر یہ آواز مدھم ہوتے ہوتے جنگل کی دوراُفتادہ پہنائیوں میں غائب ہو گئی۔

اُس کے ہوش و حواس اب بھی غائب تھے۔ وہ پانی کے بہاؤ پر تیزی سے آگے جا رہا تھا۔ لڑھکتا، بَل کھاتا، مڑتا، قلابازیاں اور ڈبکیاں کھاتا برابر آگے بہہ رہا تھا۔
اُس کے جسم میں مزاحمت کی بالکل ہمت نہ تھی۔ جُوں جوں وہ آگے بڑھ رہا تھا، پانی کا بہاؤ تیز سے تیز ہوتا جاتا اور پھر اُس نے آبشار کے گرنے کی آواز بھی سن لی۔ دہشت کی ایک نئی لہر اُس کی روح میں دوڑ گئی۔
یاد آیا کچھ فاصلے پر ستر فٹ کی گہرائی میں دریا کا پانی آبشار بناتا ہوا گرتا ہے اور اَگر وہ جلد سے جلد کنارے پر نہ پہنچا، تو دنیا کی کوئی طاقت اُسے آبشار میں گرنے اور چٹانی پتھروں سے ٹکرا کر پاش پاش ہونے سے نہیں بچا سکتی۔

پانی اِس قدر یخ بستہ اور تیزرفتار تھا کہ کنارے تک پہنچنا ممکن ہی نہ تھا۔
پیروں اور ہاتھوں میں حرکت کرنے کی سکت نہ تھی اور اَگر سکت ہوتی بھی، تو اِس بےپناہ بہاؤ کے سامنے اُس کی حیثیت ایک تنکے سے زیادہ نہ تھی۔

اُس نے دل ہی دل میں خدا کو یاد کیا اور دُوسرے کنارے پر پہنچنے کی جدوجہد شروع کر دی، لیکن اُس کی ہر کوشش بہاؤ کے سامنے بےکار ثابت ہوئی۔
آبشار کی گرج دار آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔ جیفرسن نے نگاہ اُٹھا کر سامنے کی طرف دیکھا۔ چاند کی روشنی میں اُسے آبشار کے دہانے کے پاس جھاگ سے بنی ہوئی دھند سی نظر آئی۔
اُس کے سامنے بچاؤ کا کوئی راستہ نہ تھا۔ کنارہ کم از کم چالیس فٹ دور تھا۔ کاش! کوئی سہارا ملتا۔

اپنی بیوی اور بچوں کو یاد کر کے اُس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ ایک ثانیے کے اندر اَندر اُس کی گزشتہ تمام زندگی سکرین پر چلنے والی فلم کی مانند تیزی سے گزر گئی۔
اُسے یاد آیا کہ زندگی میں کسی کو بھی کچھ نفع نہ پہنچایا، سارا وَقت کھیل تماشے اور سیر و شکار میں بسر کر دیا۔ اپنی پیاری بیوی اور دو خوبصورت پھول سی لڑکیوں کو کبھی ایک شوہر اور ایک باپ کی محبت نہ دی۔
پوری دنیا میں اُس کا کوئی دوست نہ تھا۔ پھر اُسے کارٹر کا خیال آیا ….. کارٹر ….. جو نہایت شریف آدمی تھا اور جس کا جوان بیٹا جنگل میں کسی حادثے کا شکار ہو کر مر چکا تھا۔
وہ کہتا تھا اُس کا بیٹا انسانی بھیڑیا بن گیا ہے اور یہ کہانی سن کر جیفرسن نے اُس کا کتنا مذاق اڑایا تھا۔ یہ سب باتیں اُسے یاد آئیں اور یہ احساس ہونے لگا کہ وہ کتنا سنگ دل اور ظالم شخص ہے۔
اب اُس کی سزا ہے کہ وہ آبشار میں گرے اور اُس کے جسم کا ایک ایک عضو الگ ہو جائے۔ اُس نے اپنے آپ کو لہروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔

انسانی بھیڑیے کی صورت اُس کی آنکھوں کے سامنے رقص کرنے لگی۔ اُس نے سوچا ممکن ہے اُس کی زندگی کے کچھ دن ابھی باقی ہوں اور شاید اِس لیے وہ اِنسانی بھیڑیے کا شکار ہونے سے بچ گیا ہے۔
ممکن ہے قدرت مجھ سے کوئی کام لینا چاہتی ہو۔ آبشار میں گرنے کے بعد بھی شاید مَیں زندہ رَہوں، اگرچہ اِس کا موقع سو میں سے ایک بھی نہیں۔
اُس نے بہتے بہتے پھر دوسرے کنارے کی طرف دیکھا اور مایوس ہو کر آنکھیں بند کر لیں۔

وہ بےحد تھک چکا تھا۔ اُس کے اعصاب جواب دے رہے تھے۔ یخ بستہ پانی اُس کی رگوں میں واقعی خون جما رہا تھا۔ اِس کے علاوہ پانی کا دباؤ جس کے سامنے بڑے سے بڑا بند باندھنا بھی ممکن نہ تھا، آبشار کے گرنے کی آواز اب کانوں کے پردے پھاڑے دے رہی تھی۔
یہاں دریا کا پاٹ اتنا تنگ تھا کہ جیفرسن اگر ہمت سے کام لیتا، تو شاید کسی ابھرے ہوئے پتھر کا سہارا لے کر جان بچائی جا سکتی تھی۔
اُس نے عالمِ مایوسی میں ایک پتھر کی اُبھری ہوئی نوک پکڑنا چاہی، مگر پتھر اِس قدر چکنا تھا اور اُس پر کائی کی اتنی گہری تہہ جمی ہوئی تھی کہ اُس کا ہاتھ فوراً پھسل گیا۔
ایک ثانیے کے اندر اَندر اُس نے اپنے آپ کو آبشار کے دہانے پر ایک کارک کی مانند اچھلتے، ڈوبتے، ابھرتے اور قلابازیاں کھاتے ہوئے پایا۔ دریا کا بَل کھاتا، بپھرتا ہوا پانی جیسے موت کا راگ الاپ رہا ہو۔
جیفرسن نے دل ہی دل میں خدا سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی۔ کنارے کو ایک مرتبہ حسرت کی نگاہ سے دیکھا اور مرنے کے لیے تیار ہو گیا۔

جب وہ آبشار کی لپیٹ میں آ کر پانی کی سفید شفاف چادر کے ساتھ ایک دم نیچے گرا، تو یوں لگا جیسے آسمان کی بلندیوں سے یک لخت اُسے زمین پر پھینک دیا گیا ہو۔
یہ اُس کی زندگی کا وہ لمحہ تھا جسے آخری بھی کہا جا سکتا تھا اور وُہ لمحہ بھی جو اِس سے پیشتر اُس کی زندگی میں کبھی نہ آیا تھا۔ یہ ایک عجیب، نرالا اور پُراسرار تجربہ تھا۔
جب وہ ستر فٹ نیچے جھاگ اڑاتے اور کھولتے ہوئے پانی میں ایک خرگوش کی طرح گرا، تو ایک دم دریا کی تہہ میں بیٹھتا چلا گیا۔ اُس کی ناک اور منہ کے راستے معدے میں خاصا پانی داخل ہو چکا تھا۔
اُسے صرف اتنا یاد تھا کہ تہہ میں جاتے ہی ایک انجانی طاقت نے اُسے اوپر اچھال دیا۔ پھر اُسے کچھ ہوش نہ رہا۔

نہ جانے وہ کتنی دیر بےہوش رہا، پھر اُس کی آنکھیں خود بخود کھل گئیں۔ اُس کے اِردگرد اَندھیرا تھا اور کانوں میں شائیں شائیں کی مسلسل آواز آ رہی تھی۔
وہ بےحس و حرکت اُسی طرح پڑا رَہا۔ اُس کا ذہن ماؤف۔ رفتہ رفتہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں بیدار ہونے لگیں۔ اُس نے خیال کیا وہ مر چکا ہے اور اَب ایک ایسے مقام پر ہے جہاں تاریکی، ٹھنڈ اور سناٹے کا راج ہے۔
اُس نے اپنے بدن کو حرکت دینے کی کوشش کی، مگر بےسود، یوں محسوس ہوا وَاقعی وہ مر چکا ہے، لیکن اگر اُس پر موت طاری ہو چکی ہے، تو پھر یہ عجیب قسم کا احساس کیوں؟
تاریکی، ٹھنڈ اور سناٹے کا احساس ….. کیا مرنے کے بعد بھی انسان کا دماغ کام کرتا رہتا ہے؟ پھر اُسے انسانی بھیڑیا یاد آیا اور وُہ سوچنے لگا کیا بدروحیں مرنے کے بعد بھی کسی کو پریشان کر سکتی ہیں؟
صدہا خیالات اُس کے ذہن میں آتے اور نکل جاتے۔ پھر اُسے کسی شاعر کے دو شعر یاد آئے جس میں اُس نے موت کا مضمون باندھا تھا ؎

موت کیا ہے ….. ایک گہری طویل نیند جس میں کوئی خواب نہیں

موت کیا ہے ….. انسان کے لیے عمدہ اَور خوشگوار نعمت جس کا جواب نہیں

موت کیا ہے ….. آرزوؤں، خواہشوں اور جذبوں کا ہمیشہ کے لیے اختتام

موت کیا ہے ….. ایک نئی زندگی کا دروازہ، ایک نئے سورج کی آمد کا پیام

یکایک جیفرسن کو زور سے چھینک آئی اور اُس کا پورا جسم حرکت میں آ گیا۔ بےپناہ مسرّت کا احساس اُس کے رگ و پے میں دوڑ گیا
’’تُو زندہ ہے ….. تُو زندہ ہے …..‘‘ جیسے کسی نے اُس کے کان میں کہا۔ اُس نے اپنا بازو ہلایا، پھر ٹانگ اٹھائی۔ ایسا کرنے میں درد کی گہری ٹیس محسوس ہوئی۔
پھر یاد آیا دریا میں کودنے کے بعد وہ آبشار کی لپیٹ میں آ گیا تھا۔ انسانی بھیڑیا اُس کے تعاقب میں تھا ….. انسانی بھیڑیا! ایک بدروح۔

جیفرسن کچھ زیادہ پڑھا لکھا نہ تھا۔ نیکی بدی کا فلسفہ اُس کی سمجھ سے بالاتر ….. دراصل اُس نے کبھی زندگی کے اِس پہلو کا مطالعہ کرنے کی تکلیف گوارا ہی نہ کی تھی۔
تاہم اِس بھیانک تجربے کے بعد یہ بات آسانی سے اُس کی سمجھ میں آ گئی کہ اگر کائنات میں خوں آشام چمگادڑیں، انسانی صورت کے بھیڑیے، آسیب، گندی روحیں اور شیطانی سلسلے موجود ہیں، تو ولیوں، فرشتوں، پیغمبروں اور نیک روحوں کی بھی کمی نہیں۔
یوں قدرت نے خیر و شر کے درمیان حیرت انگیز توازن قائم کر رکھا ہے۔ کبھی خیر شر پر غالب آ جاتا ہے اور کبھی شر خیر پر ….. لیکن آخر میں جیت خیر ہی کی ہوتی ہے۔
اِس تصوّر نے جیفرسن کے دل و دماغ کو ازحد تقویت پہنچائی۔ وہ سوچتا چلا گیا۔ ایک لوک کہانی اُسے یاد آئی۔ وہ خود بخود ہنس پڑا۔

کہانی یہ تھی کہ جو آدمی دریا میں ڈوب جائے یا ڈوبتے ہوئے بچ جائے، تو پھر اُسے عجیب عجیب خیالات ستاتے ہیں، یہ کہانی بھی مارک کارٹر نے سنائی تھی۔
جیفرسن کا دل شدت سے چاہنے لگا کہ وہ مارک کارٹر سے ملے۔ وہ اُسے بتانا چاہتا تھا کہ اُس کی کہانی کا ایک ایک حرف صحیح اور سچا ہے۔ پھر جیفرسن کو کارٹر کا وہ نوجوان بیٹا یاد آیا جو کچھ مدت پہلے اِسی جنگل میں یکایک غائب ہو گیا تھا۔
کارٹر کا بیٹا!
اِس تصوّر کے آتے ہی انسانی بھیڑیے کی صورت اُس کے سامنے آ کھڑی ہوئی اور اُس کا کلیجہ آپ ہی آپ بیٹھنے لگا۔ خدا رحم کرے! اب اُسے یاد آیا، انسانی بھیڑیے کے خدوخال کارٹر کے بیٹے سے کس قدر مشابہت رکھتے تھے۔

اُس کے اردگرد تاریکی خاصی کم ہو گئی تھی۔ جیفرسن نے اپنے آپ کو دریا کے کنارے ایک گڑھے میں پایا۔ حیران تھا یہاں کیسے آ گیا۔
آبشار میں گر کر بچنے کا تو سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا، پھر یہ کون سی طاقت تھی جس نے اُسے اٹھا کر کنارے بڑی حفاظت سے اِس گڑھے میں لا ڈالا؟
اِس سوال کا جواب اُس کے پاس نہ تھا۔ ہاں وہ یہ بخوبی سمجھ رہا تھا کوئی طاقت ایسی ضرور ہے جس نے اُسے بھیڑیے سے بچایا.
دریا میں کودنے کے بعد جبکہ وہ آبشار کی لپٹ میں آ کر زندگی سے مایوس ہو چکا تھا، اُس اَن دیکھی طاقت نے اُسے کنارے پر لا پھینکا۔ اِس طاقت کے حضور میں آپ ہی آپ اُس کا دل شکر سے لبریز ہو گیا۔

وہ ہمت کر کے وہاں سے اٹھا۔ اُس کی تمام ہڈیاں پسلیاں صحیح و سالم تھیں۔ البتہ کمر میں کہیں اندرونی چوٹ کے باعث کچھ تکلیف تھی، مگر ایسی بھی نہیں کہ اُسے حرکت کرنے میں دقت ہوتی۔
وہ گڑھے سے نکلا اور چند قدم چل کر لمبی لمبی گھاس میں گر گیا۔
اب صبح صادق کا اجالا چاروں طرف پھیلنے لگا تھا اور نسیمِ سحر کے جھونکے اُس کی روح و جاں میں ایک نئی قوت بھر رہے تھے۔
آسمان کا مشرقی اُفق گلابی سا تھا۔ ہوا کے ٹھنڈے جھونکوں نے اُسے تھپکیاں دے کر سلانا چاہا اور اُس نے بےاختیار آنکھیں بند کر لیں۔

دفعتاً اُسے قریب کسی ذی روح کی موجودگی کا احساس ہوا۔ اُس نے آنکھیں کھول کر دیکھا، ایک درندہ اُسے سونگھ رہا تھا۔ اُس کے جسم پر لمبے لمبے سیاہ بال تھے اور تھا خاصا قوی ہیکل۔
جیفرسن کو خیال آیا یہ ایک اور اِنسانی بھیڑیا ہے۔ اُس نے جلدی سے کمر میں چمڑے کی پیٹی سے بندھا ہوا شکاری چاقو نکالا اور دَرندے کی گردن میں پوری قوت سے گھونپ دیا۔
گاڑھے خون کی ایک گرم گرم دھار اُس کے چہرے پر پڑی اور اُسے رنگین کر گئی۔ درندے نے جو دراصل ریچھ تھا، ایک خوفناک چیخ ماری اور جیفرسن کے اوپر ڈھیر ہو گیا۔
بھاری وزن سے اُس کا دم گھٹنے لگا۔ اُس نے بمشکل تمام اپنے آپ کو قوی ہیکل ریچھ کے نیچے سے نکالا۔ وہ ابھی تک زندہ تھا۔
جیفرسن دیوانہ وار اُس کے جسم میں چاقو گھونپنے لگا اور رِیچھ کی گردن کٹ کر الگ ہو گئی۔
جیفرسن کا سارا بدن خون میں لت پت تھا اور وہُ بری طرح کانپ رہا تھا۔ انسانی بھیڑیے کا سارا غصّہ اُس نے اُس جنگلی ریچھ پر اتار دِیا۔

ایک بار پھر وہ گھاس پر بےدم ہو کر گر پڑا۔ سورج مشرقی اُفق پر نمودار ہو رہا تھا اور سنہری دھوپ ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ آبی پرندوں کا شور جیفرسن کے کانوں تک پہنچ رہا تھا۔
وہ دوبارہ اُٹھا اور سیدھا دریا کی طرف گیا۔ دیر تک وہاں نہاتا اور اَپنا بدن صاف کرتا رہا۔ پھر وہاں سے آہستہ آہستہ چلا۔
اُسے معلوم تھا کون سا راستہ اُس چھوٹے سے قصبے کی طرف جاتا ہے جہاں مارک کارٹر کا قیام تھا۔

مارک کارٹر کا جھونپڑا یا لکڑی کا بنا ہوا کیبن دور ہی سے دکھائی دے گیا۔ وہ قصبے اور جنگل کی حد پر بنا ہوا تھا۔ کیبن کی چمنی سے دھواں بَل کھاتا ہوا فضا میں اٹھ رہا تھا۔
بھنے ہوئے گوشت اور تلے ہوئے انڈوں کی خوشبو جیفرسن کے نتھنوں میں آئی، وہ بھوک سے بےقرار ہو گیا۔ گزشتہ سات آٹھ گھنٹوں میں اپنی مدافعت کے لیے جو قوت صَرف کرنا پڑی، اُس نے اُسے نڈھال کر دیا تھا۔
وہ لڑکھڑاتا ہوا کیبن کے دروازے تک پہنچا اور ایک جھٹکے سے ڈھیر ہو گیا۔ اُس کے گرنے کی آواز سن کر کیبن کا دروازہ کھلا اور اَدھیڑ عمر کا ایک شخص باہر آیا۔ یہ مارک کارٹر تھا۔ اُس نے حیرت سے جیفرسن کو دیکھا۔

’’خدا کے لیے مجھے بچاؤ مارک!‘‘ جیفرسن نے نقاہت سے کہا۔

مارک کارٹر اُسے سہارا دَے کر کیبن کے اندر لے گیا اور ایک گداز، آرام دہ بستر پر لٹا دیا۔ وہ حیران تھا جیفرسن کی یہ حالت کیونکر ہوئی۔
اُس نے سوالیہ انداز میں اپنی نگاہیں اُس کے چہرے پر گاڑ دیں۔ جیفرسن نے دیکھا مارک کارٹر تیزی سے بڑھاپے کی طرف بڑھ رہا ہے۔
پہلے سے زیادہ جھریاں اُس کے چہرے پر تھیں۔ آنکھوں کی چمک مدھم اور اُن کے نیچے گہرے سیاہ حلقے، بال بھی خاصے سفید ہو چکے تھے۔ اُسے کارٹر کی یہ حالت دیکھ کر بہت صدمہ پہنچا۔

وہ دونوں مدت سے ایک دوسرے کو جانتے پہچانتے تھے اور بارہا شکار کی کئی مہمیں اُنھوں نے مل کر سَر کی تھیں، لیکن جب سے کارٹر کا نوجوان خوبصورت لڑکا جنگل میں غائب ہوا تھا، اُس وقت سے کسی نے اُسے ہنستے نہ دیکھا۔ کارٹر کا کہنا تھا اُس کا لڑکا کسی انسانی بھیڑیے کا شکار ہوا ہے اور اَب تک وہ بھی ویسا ہی بھیڑیا بن چکا ہو گا۔ اُس نے یہ کہانی جیفرسن کو بھی سنائی تھی اور سنگدل جیفرسن نے اُس کا خاصا مذاق اڑایا تھا۔
یہ سب باتیں اُسے یاد آ رہی تھیں۔ کارٹر نہایت صبر اور سکون سے اپنے کام میں مصروف تھا۔ اُس نے بکرے کی بھنی ہوئی ران جیفرسن کی طرف بڑھا دی۔
جسےچند منٹ میں اُسے اپنے معدے میں اتار لیا۔ اُس کے بعد گرم گرم قہوے کے دو پیالے پیے اور جان میں جان آئی۔ اِس کام سے فارغ ہو کر جیفرسن نے کارٹر کے پاؤں پکڑتے ہوئے کہا:

’’مجھے معاف کر دینا مارک! تم نے جو داستان کچھ مدت پہلے مجھے سنائی تھی، وہ دُرست تھی اور اَب مجھے کوئی شبہ نہ رہا کہ تمہارے لڑک لیوک کو جس درندے نے ہلاک کیا، وہ اِنسانی بھیڑیا ہو گا۔‘‘

’’آہ! تو آخرکار تمہیں یقین آ گیا؟‘‘ کارٹر نے کہا۔ ’’مجھے پورا وَاقعہ سناؤ۔‘‘

جیفرسن نے شروع سے آخر تک سارا قصہ کہہ سنایا۔ کارٹر سانس روکے سنتا رہا۔ اُس کا چہرہ کبھی سرخ ہو جاتا، کبھی سفید، کبھی زرد۔ آخر اُس نے کانپتی ہوئی آواز میں جیفرسن سے پوچھا۔

’’کیا تم نے میرے بیٹے کو دیکھا؟ وہ اِنسانی بھیڑیے کے روپ میں تھا؟ اُس کے خال و خد پہچاننے میں کوئی غلطی تو نہیں کی؟‘‘

’’ہرگز نہیں!‘‘ جیفرسن نے جواب دیا۔ ’’مَیں قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ تمہارے بیٹے لیوک ہی کا چہرہ تھا، ویسی ہی پیشانی، ویسی ہی آنکھیں اور وَیسا ہی دہانہ۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اُس کے جسم پر لمبے لمبے بال، ہاتھ اور پاؤں بالکل بھیڑیے کے سے اور منہ کے اوپر لمبی سی تھوتھنی تھی۔ مَیں نے اُسے صرف آنکھوں کے ذریعے پہچانا، اگرچہ وہ پہلے زرد تھیں، پھر سرخ ہو گئیں۔ جب اُس نے مجھے دیکھا، اُن آنکھوں میں بےپناہ چمک تھی۔‘‘

کارٹر اُٹھ کر کھڑا ہو گیا اور بےچینی سے کیبن میں ٹہلنے لگا۔

’’تم کہتے ہو، تم نے دو مرتبہ گولی چلائی، دونوں مرتبہ گولیاں اُسے لگیں، مگر وہ نہیں مرا؟‘‘

’’ہاں! یہ عجیب بات ہے کارٹر۔ تم جانتے ہی ہو، میرا نشانہ کبھی خطا نہیں جاتا اور پھر بارہ بور کی یہ دو نالی کے طاقتور کارتوس ….. جو مَیں نے بہت قریب سے چلائے تھے۔ بخدا! اُس کی جگہ کوئی ہاتھی ہوتا، تو دوسرا سانس نہ لیتا، مگر اُس پر ذرہ برابر اثر نہ ہوا۔‘‘

کارٹر کے لبوں پر پُراسرار تبسم نمودار ہوا۔ اُس نے نفی میں گردن ہلائی۔

’’یہ سیسے کے کارتوس، تلوار یا خنجر اُسے ہلاک نہیں کر سکتے جیفرسن ….. ایسی بلاؤں کو چاندی کے کارتوسوں سے مارا جا سکتا ہے۔ اُس بلا کو جلد سے جلد فنا کر دینا ہمارا فرض ہے۔ جیفرسن، ورنہ جتنے انسان اُس کے پنجوں کا شکار ہوں گے، سب کے سب انسانی بھیڑیے بنتے چلے جائیں گے اور یوں یہ سلسلہ بہت طویل ہو جائے گا۔ پھر اُنھیں ختم کرنا ممکن نہ ہو گا۔ بولو، کیا تم اِس فرض کو پورا کرنے میں میرا ساتھ دو گے؟‘‘

جیفرسن نے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’ہم ہمیشہ ایسی مہموں میں ایک دوسرے کے ساتھی رہے ہیں کارٹر۔ مَیں ہر مرحلے پر تمہارے ساتھ ہوں۔‘‘

’’بہت خوب! مجھے تم سے یہی امید تھی۔ اب ہمیں اُس مہم پر جانے کے اپنے انتظامات کر لینے چاہئیں۔‘‘

ڈان جیفرسن کو بخار اَیسا چڑھا کہ تن بدن کا ہوش نہ رہا۔ اِس دوران میں بےچارہ کارٹر ہی اُس کی تیمارداری کرتا رہا۔ بخار کی حالت میں دیر تک ہذیانی کیفیت طاری رہتی۔ اوّل تو اُسے رات کو نیند نہ آتی، اگر چند منٹ کے لیے سوتا، تو فوراً چیخ مار کر بیدار ہو جاتا۔ پھر اُس کا جسم تھرتھرانے لگتا۔ خوف سے آنکھیں ابل آتیں اور وُہ بےدم ہو جاتا۔ کارٹر اِس صورتِ حال سے سخت پریشان تھا۔ وہ چاہتا تھا جتنی جلد ممکن ہو، جنگل میں جا کر اِنسانی بھیڑیے کو فنا کر دیا جائے۔

دو ہفتے بعد خدا خدا کر کے جیفرسن کا بخار اُترا، کارٹر نے اُسے مرغن غذائیں کھلائیں اور بہت جلد اُس کی صحت واپس آ گئی۔ ایک روز جیفرسن بستر پر لیٹا تھا اور کارٹر کسی بڑی کتاب کی ورق گردانی میں مصروف تھا کہ جیفرسن نے پوچھا:

’’کیا پڑھ رہے ہو؟‘‘

’’ایک پرانا قلمی روزنامچہ ہے۔ میری دادی کے ہاتھ کا لکھا ہوا۔‘‘ کارٹر نے جواب دیا۔

’’مجھے بھی تو سناؤ کیا لکھا ہے تمہاری دادی اماں نے؟ یہ تو خاصا پرانا ہو گا۔‘‘

’’ہاں! کم از کم سو سال تو اِسے ہو ہی گئے ہیں۔‘‘ کارٹر نے کہا۔ ’’اِس میں اُنھوں نے عجیب عجیب واقعات لکھے ہیں، مَیں ایک خاص واقعہ تلاش کر رہا ہوں۔‘‘

’’مَیں بھی سننا چاہتا ہوں۔‘‘ جیفرسن نے دلچسپی لیتے ہوئے کہا۔

’’لو سنو ….. دادی جان ایک جگہ لکھتی ہیں۔ کل رات چاند کی چودھویں تاریخ تھی۔ چچا ایڈم کارٹر سیر کے لیے جنگل میں گئے۔ وہاں صنوبر کے ایک اونچے درخت کے پاس …..‘‘

’’خدا کی پناہ …..‘‘ جیفرسن چلّایا۔ ’’یہ کس تاریخ کا واقعہ ہے کارٹر؟ مَیں نے تمہاری دادی کے چچا ایڈم کارٹر کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا ہے۔ وہ اَپنے عہد کے بہت بڑے شکاری اور بےحد دلیر آدمی تھے ….. ٹھیک ہے نا؟ کیا اُن کے زمانے میں بھی یہ جنگل ایسا ہی تھا اور صنوبر کا وہ دَرخت ….. خدا رَحم کرے، کیا اُنھوں نے بھی چاند کی چودھویں تاریخ کو اِنسانی بھیڑیا دیکھا تھا؟‘‘

‘‘ہاں! جیفرسن …..‘‘ کارٹر نے سرد آہ بھر کر کہا۔ ’’ہمارے خاندان پر یہ لعنت اُسی زمانے سے سوار ہے۔ ایڈم کارٹر دراصل میرے دادا کا چچا تھا۔ اِس لیے دادی اماں بھی اُسے چچا ہی کہتی تھیں۔ میری پیدائش سے بھی بہت پہلے اُس کا انتقال ہو گیا۔ مَیں نے سنا ہے وہ نہایت نڈر اَور تجربےکار شکاری تھا۔ اُس کے کارنامے آج گرد و نواح کے بڑے بوڑھوں کی زبان پر ہیں۔ جنوری کی سترہ تاریخ تھی اور چاند کی چودھویں جب وہ جنگل میں گیا اور سنہ تھا ۱۸۶۳ء۔‘‘

’’گویا آج سے ایک سو دس برس پہلے!‘‘ جیفرسن چلّایا۔

’’ہاں! ایک سو دس برس پہلے ….. اور اِتنی مدت گزر چکی کہ انسانی بھیڑیے کی شکل میں یہ بلا ہم پر مسلط ہے۔ اب تک ہمارے خاندان کے چار اَفراد اُس کے حملے کا شکار ہو کر اِنسانی بھیڑیے کا قالب اختیار کر چکے ہیں اور پانچواں میرا بیٹا …..‘‘
کارٹر کی آواز فرطِ رنج سے بھرا گئی۔ اُس نے رومال نکال کر آنکھوں پر رکھ لیا اور سِسکیاں لینے لگا۔ جیفرسن کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اُس نے اپنا ہاتھ کارٹر کے کندھے پر رکھ کر تھپکی دی۔

’’فکر مت کرو دوست، ہم دونوں جنگل میں چلیں گے اور اُس بلا کو ختم کر ڈالیںگے، اب مہربانی کر کے اپنی دادی کا روزنامچہ سناؤ، آگے کیا لکھا ہے۔‘‘

کارٹر نے آنسو پونچھے اور ایک بار پھر اُس سال خوردہ کتاب پر نگاہیں جما دیں۔ اُس کا ہاتھ بری طرح لرز رہا تھا۔ چند ثانیے چپ رہنے کے بعد اُس نے عبارت پڑھنی شروع کی:

’’چچا ایڈم نے اُسے صنوبر کے ایک اونچے اور بڑے درخت کے پاس لمبی گھاس میں دبکے ہوئے دیکھا۔ اُس کا چہرہ اِنسانوں کا اور جسم بھیڑیے کا سا تھا اور اگر میرے گلے میں جنگلی گلاب کے پھولوں کا ہار نہ پڑا ہوتا، تو وہ مجھے چیرپھاڑ کر رکھ دیتا اور پھر مَیں بھی اپنے پردادا کی مانند انسانی بھیڑیے کا روپ دھار لیتا …..
میرے پردادا نے بہت برس پہلے اِس جنگل میں ایک جادوگر ہلاک کیا تھا۔ وہ جادوگر کالے علم کا ماہر تھا۔
مرتے ہوئے میرے پردادا کو بددعا دی کہ تجھے بھیڑیا کھائے گا اور پھر تُو بھی بھیڑیا بن کر اَپنے ہی خاندان کے کسی آدمی کو مارے گا اور اِس طرح کئی نسلوں تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔
چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ہمیں ایک مذہبی آدمی نے اُس بلا سے بچنے کی کئی تدبیریں بتائی ہیں۔

ایک یہ کہ ہم جنگل میں جائیں، تو جنگلی گلاب یا لہسن کے پھول کا ہار گلے میں ڈال لیں۔ انسانی بھیڑیا جو ایک بدروح ہے، اُن سے بھاگتا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ کہ ایسے خنجر بنوائے جائیں جن کے دستے چاندی کے ہوں یا بندوق میں ایسے کارتوس بھریں جن کے خول چاندی کے ہوں۔
چاندی کے علاوہ کوئی اور دَھات انسانی بھیڑیے پر اثر نہیں کر سکتی۔ جب پورا چاند آسمان پر روشن ہو، تو جنگل میں نہ جائیں اور چودھویں کے بعد پندرھویں، سولہویں یا سترہویں تاریخ کو بھی اُدھر جانے کا قصد نہ کریں، اگر اِس دوران میں جانا پڑ جائے، تو جنگلی گلاب یا لہسن کے پھولوں کا ہار گلے میں ڈال کر جائیں۔
انسانی بھیڑیے کا پنجہ اُن پھولوں سے چھو جائے، تو وہ فوراً جل کر راکھ ہو جائے گا۔
اگر جنگلی پھول گلے میں ڈالنے یاد نہ رہیں اور اِنسانی بھیڑیا حملہ آور ہو، تو چاہیے کہ آدمی بہتے ہوئے پانی کی طرف دوڑے اور اُس میں چھلانگ لگا دے۔ انسانی بھیڑیے بہتے پانی کو عبور نہیں کر سکتے۔‘‘

’’اِس آخری ترکیب نے میری جان بچائی۔‘‘ جیفرسن نے کہا۔
’’یہ اور بات ہے کہ مجھے اِس کے بارے میں کچھ پتہ ہی نہ تھا۔ مَیں نے بہت عرصہ پہلے صرف سنا تھا کہ اگر ایسا ہو، تو دریا میں کود کر جان بچائی جا سکتی ہے۔‘‘

’’اچھا یہ بتاؤ تمہارے پاس چاندی کی کتنی مقدار ہے؟‘‘ کارٹر نے پوچھا۔

’’چاندی!‘‘ جیفرسن نے ندامت سے کہا۔ ’’بھلا میرے پاس چاندی کہاں سے آئی۔‘‘

’’بہرحال ہمیں کہیں نہ کہیں سے چاندی حاصل کرنا ہو گی۔‘‘
کارٹر نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔
’’تم نے سن لیا اُس بلا کو صرف چاندی کے کارتوسوں ہی سے فنا کے گھاٹ اتارا جا سکتا ہے۔‘‘

’’میرے پاس گھر میں بیس پچیس ڈالر کی رقم محفوظ پڑی ہو گی، کہو تو وہ لا دوں، اگر اُس رقم میں چاندی مل سکے، تو …..‘‘ جیفرسن نے کہا۔

’’بہت خوب! کوئی تیس ڈالر میرے پاس بھی ہیں۔ میرا خیال ہے پچاس ڈالر میں چاندی کی اتنی مقدار ہم خرید سکتے ہیں کہ اُس سے چار پانچ کارتوسوں پر خول چڑھائے جا سکیں۔‘‘

اگلے دو دِن اُنھوں نے چاندی خریدنے اور کارتوس بنانے میں لگا دیے۔ جیفرسن اپنی بارہ بور کی بندوق وہیں جنگل میں پھینک آیا تھا۔
خوش قسمتی سے کارٹر کے پاس ایک فالتو بندوق تھی، وہ اُس نے جیفرسن کو دے دی۔ اب اُنھیں چاند کی چودھویں تاریخ کا انتظار تھا۔
اُنھوں نے جنگلی گلاب اور لہسن کے پھولوں کے بہت سے ہار بھی تیار کر لیے تھے۔
فرصت کے اوقات میں وہ دونوں اپنی اپنی بندوقوں سے نشانے کی مشق کرتے۔ جیفرسن نے ایک روز اُداس ہو کر کہا:

’’مجھے اپنی اُس بارہ بور کی بندوق کا ہمیشہ افسوس رہے گا۔ ایک مدت سے وہ میرے قبضے میں تھی اور اُس نے بےشمار جانور ہلاک کیے تھے۔‘‘

’’فکر نہ کرو جیفرسن! تمہاری بندوق ضرور وَہیں کہیں جنگل میں پڑی مل جائے گی اور اَگر نہ ملی، تو مَیں وعدہ کرتا ہوں کہ تمہیں اُس سے بھی زیادہ عمدہ بندوق دلواؤں گا۔‘‘

کارٹر نے اُس کی طرف محبت سے دیکھتے ہوئے جواب دیا اور پھر منہ پھیر کر کیبن سے باہر نکل گیا۔ جیفرسن نے اُس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ لیے تھے۔
یکایک اُسے خیال آیا وہ کتنا کمینہ اور کم ظرف ہے اور اُس دو کوڑی کی بندوق کا صدمہ نہیں بھولتا اور اُدھر کارٹر اتنا شریف النفس کہ جس نے جوان بیٹے کی موت پر صبر کر لیا۔

چودھویں رات کا چاند مشرقی افق سے نکلا، تو دونوں اپنی اُس خطرناک مہم پر جانے کے لیے بالکل تیار تھے ….. دونوں نے ابھرتے ہوئے گول سنہری چاند کو ایک نظر دیکھا، بندوقیں کندھوں پر، جنگلی گلاب اور لہسن کے ہار اَپنے اپنے گلے میں ڈالے اور دَریا کی طرف روانہ ہو گئے۔
اب اُنھیں ایک جگہ سے دریا عبور کر کے دوسرے کنارے پر جانا تھا۔ بہاؤ کے اُلٹے رخ کوئی پانچ میل دور جا کر کارٹر نے گھاس میں چھپی ہوئی ایک چھوٹی سی کشتی اور دو چپو برآمد کیے۔
جب وہ کشتی میں سوار ہو کر دوسرے کنارے کی طرف بڑھ رہے تھے، تو اُن کے دل کی دھڑکنیں تیز سے تیز تر ہوتی گئیں۔ چاند اُن کے ساتھ ساتھ تھا اور اَب خاصی اونچائی پر آ گیا تھا۔
جنگل میں ہیبت ناک سناٹا طاری تھا۔ چاندنی میں دور تک کا منظر ایک خواب کی مانند اُن کی نگاہوں کے سامنے پھیلا ہوا تھا۔ بلاشبہ یہ نہایت حسین رات تھی۔ حُسن کا جادو جنگل کے چپّے چپے کو اَپنی گرفت میں لیے ہوئے ….. وہ دونوں خاموش تھے۔

دوسرے کنارے پر پہنچ کر کارٹر نے جیفرسن کی مدد سے کشتی گھسیٹ کر کنارے پر لگا دی اور لکڑی کی ایک لمبی سیخ کے ساتھ باندھ دی۔
اُس کے بعد دونوں آگے پیچھے جنگل کے اُس حصّے کی طرف بڑھے جہاں صنوبر کا وہ آسیبی درخت گزشتہ ایک سو سال، بلکہ اُس سے بھی پہلے کا سر اُٹھائے کھڑا تھا۔
کارٹر آگے تھا۔ جیفرسن پیچھے، جنگل میں کوئی ذی روح نہ تھا۔ پرندے تک خاموش۔ یہ ایسی ہوش رُبا خاموشی تھی جو اِنسان کے اعصاب بہت جلد شکستہ کر دیا کرتی ہے۔

یہ کائنات کتنی پُراسرار اَور اَنوکھی ہے! جیفرسن نے دل میں سوچا۔ ہم اِس کے راز کبھی نہیں پا سکتے۔ موت کیا ہے، زندگی کیا ہے، روح کیا ہے، شیطان کیا ہے، پھر مرنے کے بعد ایک انسان کا درندے کے قالب میں نمودار ہونا کتنا عجیب لگتا ہے۔ انتقام ….. جادو ….. آسیب ….. نیکی ….. خیر ….. یہ سب کیا ہے۔
وہ سوچتا چلا جا رہا تھا۔ وہ دونوں دریا کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔
کارٹر نے ایک مرتبہ بھی زبان نہ کھولی۔ شاید وہ بھی یہی کچھ سوچ رہا تھا جو جیفرسن کے دل میں تھا۔

دفعتاً آبشار کے گرنے سے جو شور پیدا ہوتا ہے، اُس کی آواز جیفرسن کے کانوں میں آئی اور مہینہ پہلے کا حادثہ پوری شدت سے اُس کے ذہن میں اتر آیا۔ اُس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہونے لگے۔
جُوں جوں وہ آگے بڑھ رہے تھے، آواز زیادہ تیز اور وَاضح ہوتی چلی جا رہی تھی۔ آخر وہ اُس مقام پر پہنچ گئے جہاں آبشار کے ستر اسّی فٹ گرنے سے فضا میں دھند کا ایک بادل بن گیا تھا۔
یہاں اتنا شور تھا کہ وہ ایک دوسرے سے اشاروں ہی میں باتیں کر سکتے تھے۔ دونوں پانچ سات منٹ تک وہاں گم صم کھڑے رہے۔
جیفرسن سوچ رہا تھا۔ اِس گہرائی میں اتنے تیز بہاؤ کے ساتھ گرنے والا کوئی آدمی زندہ بچ سکتا ہے؟ کبھی نہیں بچ سکتا، لیکن وہ تو بچ گیا تھا۔

پھر وہ وَہاں سے پلٹے اور جنگل کے اندرونی حصّے کی طرف بڑھے۔ چاندنی درختوں کی شاخوں اور پتوں میں سے چھن چھن کر آ رہی تھی۔
عجیب و غریب سائے اِدھر اُدھر بکھرے نظر آنے لگے۔ کارٹر بالکل خاموش تھا۔
جیفرسن کے ذہن میں یکایک ایک بھیانک خیال آیا اور دَہشت سے اُس کے دل کی حرکت بند ہونے لگی۔ اُس نے بڑی مشکل سے اپنے ذہن سے یہ خیال جھٹکا۔

وہ سوچ رہا تھا کہ کیا خبر یہ شخص کارٹر خود ہی انسانی بھیڑیا ہو جو مجھے فریب سے جنگل میں لے آیا ہے اور اَبھی اپنی ہیئت تبدیل کر کے بھیڑیا بن جائے گا۔ عین اُس لمحے کارٹر نے گھوم کر جیفرسن کی طرف دیکھا اور جیفرسن اچھل پڑا ….. اُس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔
پھر اُسے یاد آیا کہ اگر کارٹر انسانی بھیڑیا ہوتا، تو جنگلی گلاب اور لہسن کے پھولوں کا ہار کبھی نہیں پہن سکتا تھا اور نہ چاندی کے کارتوس اپنی جیب میں رکھتا اور نہ بہتے ہوئے پانی کو عبور کرنے کے قابل ہوتا۔
اپنے اُس وہم پر جیفرسن کو تھوڑی دیر بعد خود ہی ہنسی آ گئی۔ کارٹر نے اِس ہنسی کا سبب پوچھنے کے لیے پہلی بار زبان کھولی۔

’’کیا بات ہے جیفرسن! بہت خوش نظر آتے ہو؟‘‘ اُس نے عجیب انداز سے جیفرسن کو دیکھا۔ یہ ہنسی بالکل بےموقع اور بےمحل تھی۔

’’مَیں سوچ رہا تھا کہیں تم خود ہی انسانی بھیڑیے تو نہیں ہو۔‘‘

’’آہ ….. تو تم نے مجھے پہچان لیا۔‘‘ کارٹر نے سنجیدگی سے کہا اور اُسے گھورنے لگا۔

ایک لمحے کے لیے جیفرسن کو یوں لگا جیسے واقعی اُس کے دل کی حرکت تھم گئی ہو۔ دوسرے ہی لمحے کارٹر ہنسا اور بولا:

’’اِن واہیات باتوں کو چھوڑو، اب ہم واقعی انسانی بھیڑیے کے آس پاس پہنچ گئے ہیں۔ اپنی بندوق تیار رَکھو، کسی بھی وقت ہمارا اُس کا آمنا سامنا ہو سکتا ہے۔‘‘

اب وہ دَرختوں کے اُس جھنڈ کی طرف پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہوئے بڑھ رہے تھے جہاں جیفرسن نے انسانی بھیڑیے کو پہلے پہل دیکھا تھا۔ فاصلہ تھا کہ ختم ہی ہونے میں نہ آتا تھا، یوں بھی وہ آہٹ پیدا کیے بغیر چل رہے تھے۔
ٹھیک آدھی رات کا عمل تھا، جب اُنھوں نے دور سے صنوبر کے اُس ٹُنڈ مُنڈ درخت کو دیکھا جو ایک خوفناک دیو کی مانند گردن اٹھائے اور بازو پھیلائے اُس جھنڈ کے وسط میں کھڑا تھا۔
چاند اُن کے سروں پر آ گیا تھا اور حیرت سے اِس عجیب مہم کا نظارہ کر رہا تھا۔ جنگل کی حیوانی زندگی آہستہ آہستہ اپنی بیداری اور خبرداری کا احساس اُنھیں دلا رہی تھی۔
کبھی شاخوں میں چھپے ہوئے پرندے دبی زبان میں سرگوشیاں کرتے، کبھی کوئی چمگادڑ پھڑپھڑاتی ہوئی جھنڈ میں سے نکلتی اور فضا میں چکر کاٹ کر دوبارہ اُسی جھنڈ میں غائب ہو جاتی۔
دفعتاً ایک اُلو اَپنی بھیانک آواز میں چیخا ….. ہُو ہُو ہُو ….. پھر وہ فضا میں اڑا اَور نہ جانے کس طرف چلا گیا۔ وہ بہت احتیاط سے اُس جھنڈ میں داخل ہوئے۔
یہاں کسی قدر تاریکی تھی۔ پہلے پہل اُنھیں کچھ دکھائی نہ دیا۔ وہ دَم سادھے پاس پاس کھڑے رہے۔ اُنھوں نے اپنی اپنی بندوقیں کندھوں سے اتار کر ہاتھوں میں سنبھال لی تھیں۔
اُن کی انگلیاں لبلبی پر تھیں اور نگاہیں اپنے دشمن کو تلاش کرنے میں ….. ایک ہلکی سی آہٹ گھاس میں سے آتی ہوئی سنائی دی۔ وہ چوکنّے ہو گئے اور ایک دوسرے کی پشت سے پشت ملا کر کھڑے ہو گئے۔ اُن کے دل بری طرح دھڑک رہے تھے، انتظار کے یہ لمحات گویا صدیوں پر محیط تھے۔

معاً تاریکی کا سینہ چیرتی ہوئی ایک ہولناک آواز جنگل میں اٹھی۔ اِن دونوں کے دل لرز گئے۔ یہ انسانی بھیڑیے کی چیخ تھی، شاید اُس نے اُن کی بُو پا لی تھی۔
چند ثانیے بعد اُنھوں نے ایک حرکت کرتا ہوا جسم کوئی پچاس فٹ کے فاصلے پر دیکھا۔ یہ ایک جسیم اور قوی بھیڑیا تھا جو گھاس میں دبکا ہوا آہستہ آہستہ اُن کی طرف بڑھ رہا تھا۔
چاند کی مدھم روشنی میں اُس کا چہرہ اُنھیں صاف دکھائی دے رہا تھا۔ یہ ایک نوجوان لڑکے کا چہرہ تھا۔

’’لیوک ….. میرے بیٹے …..‘‘ کارٹر کے منہ سے بےاختیار یہ الفاظ نکل گئے۔

انسانی بھیڑیے نے ایک اور دِل دوز چیخ ماری، غراتا ہوا گھاس میں سے نکلا اور سیدھا کارٹر کی طرف آیا۔ اُس کا انداز جارحانہ تھا۔ جیفرسن نے جھرجھری لی۔
یہ وہی انسانی بھیڑیا تھا جو اُس کے تعاقب میں آیا تھا۔ کارٹر نے نہایت سکون سے بندوق سیدھی کی، نشانہ لیا اور لبلبی دبا دی۔ گولی بھیڑیے کی کھوپڑی پر لگی۔
وہ اُلٹ کر گرا، اُس کی چیخوں اور غراہٹوں سے شجر و حجر کانپنے لگے۔ فضا میں لاتعداد پرندے گھبر کر چکر کاٹ رہے تھے۔ کارٹر نے دوسرا فائر کیا۔
یہ گولی بھی نشانے پر لگی۔ بھیڑیا ماہیِ بےآب کی مانند گھاس میں تڑپ رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد وہ بےحِس و حرکت ہو گیا۔

کارٹر اور جیفرسن دونوں لاش کی طرف دوڑے۔ ابھی وہ جھک کر اُسے اچھی طرح دیکھنے بھی نہ پائے تھے کہ وہیں جھاڑیوں میں دبکا ہوا ایک اور دَرندہ اُن پر لپکا۔
یہ بھی انسانی بھیڑیا تھا۔ لیکن اِس کی شکل اور جسامت پہلے بھیڑیے سے کہیں زیادہ ڈراؤنی اور بڑی تھی۔

’’جیفرسن! فائر کرو۔‘‘ کارٹر چلّایا۔

انسانی بھیڑیا اُن سے صرف چند قدم کے فاصلے پر تھا۔
جونہی اُس نے جست کی، جیفرسن کی بندوق چلی اور گولی بھیڑیے کے دل میں لگی۔ وہ اُلٹ کر گرا اَور ایک ثانیے کے اندر اَندر ٹھنڈا ہو گیا۔

’’خدا کی پناہ ….. مجھے اِس کا خیال ہی نہ تھا۔‘‘ کارٹر نے کہا۔
’’یہی وہ خبیث تھا جس نے میرے پیارے بیٹے لیوک کو ہلاک کیا اور اُسے اپنی جنس میں شامل کر لیا۔‘‘

اُنھوں نے انسانی بھیڑیوں کی لاشوں کو گھسیٹا اور چاندنی میں لے گئے۔ یہ ایک عجیب دہشت انگیز منظر تھا۔

’’دیکھو، دیکھو یہ کیا ہو رہا ہے؟‘‘ جیفرسن خوف سے چیخا۔

اب بھیڑیوں کی لاشوں کے چہرے تبدیل ہو رہے تھے۔ پہلی لاش بھیڑیے کے بجائے نوجوان لیوک کارٹر کا مردہ جسم پڑا دکھائی دیا۔ وہ پوری انسانی لاش تھی اور اُس میں بھیڑیے کے کوئی آثار نظر نہ آتے تھے۔
کارٹر نے اپنے جوان بیٹے کی پیشانی پر جھک کر ایک بوسہ دیا۔
اُس کے دونوں رخساروں پر آنسوؤں کے قطرے ڈھلک رہے تھے۔ پھر اُس نے اپنے گلے سے جنگلی گلاب اور لہسن کے پھولوں کے ہار اُتارے اور مردہ بیٹے کے گلے میں ڈال دیے۔

بھیڑیے کی دوسری لاش بھی تھوڑی دیر بعد ایک انسانی لاش میں بدل گئی۔
یہ ایک بوڑھا اور کریہہ المنظر جنگلی شخص کا چہرہ سیاہ اَور جھریوں دار تھا۔ ہاتھ پیر سوکھے اور مڑے ہوئے …..

کارٹر نے کہا ’’شاید یہ وہی جادوگر ہے جس نے مرتے وقت ایڈم کارٹر کو یہ بددعا دی تھی۔‘‘
ابھی وہ اُس لاش پر نفرت کی نگاہیں ڈال ہی رہے تھے کہ وہ سیاہ رَاکھ کے ایک ڈھیر میں تبدیل ہو گئی۔

مارک کارٹر گھٹنوں کے بَل جھکا اور دَیر تک اپنے بیٹے کے لیے دعائیں کرتا رہا۔ جیفرسن کی گردن بھی ادب سے جھکی ہوئی تھی، پھر اُنھوں نے لیوک کی لاش اٹھائی اور جنگل سے چلے۔
جب وہ دَریا کے کنارے پہنچے اور کشتی پر سوار ہوئے، صبح صادق کا اُجالا مشرقی افق سے ایک نیا دن طلوع ہونے کی خوشخبری دے رہا تھا۔

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles