42 C
Lahore
Monday, June 17, 2024

Book Store

کرشنا کماری

کرشنا کماری

قید سے ایوان ِبالا تک کا سفر
ارم ناز

Pakistan’s First Hindu Woman Senator Krishna Kumari Kohli

جھنڈا لگی بڑی سی گاڑی سڑک پر فراٹے بھررہی تھی. باوردی ڈرائیور اسے بڑی مہارت سے چلا جا رہا تھا۔ جہاں جہاں سے وہ گزرتی، لوگ رشک بھری نگاہوں سے چم چم کرتی گاڑی اور اس میں بیٹھی خاتون کو تکتے۔
شہر سے دورجب لہلہاتے کھیتوں کا سلسلہ شروع ہوا تو اچانک خاتون بولی’’ڈرائیور گاڑی روکنا‘‘۔ڈرائیور  نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے گاڑی کی رفتار آہستہ کر کےاسے روک دیا۔
خاتون گاڑی سے نکلی اور تاحدِ نگاہ پھیلی فصلوں کی جانب یوں بڑھنے لگی جیسے کوئی مقناطیس اسے اپنی جانب کھینچ رہا ہو۔
وہ بلا اختیار ان کی جانب بڑھتی چلی جا رہی تھی۔

۞۞۞۞

سورج اپنی پوری تمازت کے ساتھ جلوہ افروز تھا۔ اس چلچلاتی دھوپ میں چہار سو خاموشی کا راج تھا۔ انسان تو انسان جانور بھی آفتاب کی تیز کرنوں سے چھپ کر سایہ تلاش کرتے پھر رہے تھے۔ ایسے میں صرف سسکیوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔
’’بس کر جا دھی رانی اور کتنا روئے گی؟‘‘پسینے سے شرابور اماں نے اس کی مسلسل سسکیوں سے تنگ آکر کہا۔ آنسو بہاتی آٹھ ، نو سالہ بچی تیز تیز ہاتھ چلا رہی تھی ۔
وہ کپاس کو پودوں سے الگ کرکے کمر سے بندھے تھیلے میں ڈالتی جا رہی تھی۔ایسا کرتے ٹہنیوں سے کئی بار اس کے ننھے ہاتھ زخمی بھی ہو ئے مگر کام کی رفتار میں کمی آئی اور نہ ہی آنسوؤں میں۔
قریب ہی اس کے ماں باپ اور بہن بھائی اسی کام میں مصروف اس کے رونے کو دیکھ اور سن رہے تھے۔ شام کےسائے جب گہرے ہوئے اور پرندے اپنے آشیانوں کو لوٹنے لگے تو یہ خاندان بھی واپس اپنے جھونپڑے میں آ گیا۔
گرد سے اٹے بال، ہونٹوں پر جمی پیڑیاں اور زرد رنگت والی ننھی بچی ہاتھ منہ دھوئے بغیر جھونپڑے کے ایک کونے میں منہ بسور کر بیٹھ گئی۔
بابا نے اپنی لاڈلی کو یوں افسردہ دیکھا تو اس کے پاس چلے آئے اور بولےـ۔
’’میری بہادر دھی اداس کیوں ہے؟‘‘
بابا کا یہ کہنا تھا کہ ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے اور وہ پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے بولی:
’’بابا ہم واپس اپنے گوٹھ کب جائیں گے؟ یہاں وڈیرہ سائیں مجھے اسکول جانے دیتا اور نہ ہی کسی سے ملنے دیتا ہے۔ کھانے کو بھی چیزیں نہیں دیتا اور نہ ہی پیسے، مجھے یہاں نہیں رہنا، یہاں سے چلو۔‘‘۔
بابا نے اس کی باتیںسن کر ٹھنڈی آہ بھری اور کہا:
’’دھی جب ہمارا قرضہ اتر جائے گا تب ہی جائیں گے۔ ابھی تو ہم وڈیرے سائیں کے بندھی ہیں۔ کہیں نہیں جا سکتے۔ ورنہ وہ ہمیں چھوڑے گا نہیں‘‘۔
’’بابا کیا قرض اتنا زیادہ ہے کہ ہم ساری زندگی یوں ہی بندھی بن کر گزار دیں‘‘؟
’’دھی! قرضہ تو چند سو کا ہی تھا ، لیکن ہماری غربت نے اسے ہزاروں کا بنا دیا ہے۔ کسی طرح تم بہن بھائی پڑھ لکھ کر افسر بن جاؤ، تو ہم بھی بندھی نہیں رہیں گے‘‘۔
’’کیا واقعی بابا ہم پڑھ لکھ جائیں گے تو کبھی بندھی نہیں بنیں گے؟ کوئی زبردستی ہمیں قید نہیں کرے گا؟ ہماری مجبوریوں سے فائدہ نہیں اُٹھائے گا؟‘‘
بابا اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اس کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگے۔ اُیک امید تھی۔ خواب کے جگنو تھے، جو ان کی آنکھوں میں ٹمٹمانے لگے تھے۔
کیشو۔۔۔ اری او کیشو۔‘‘ یہ نام اسے واپس ماضی سے حال میں لے آیا۔ کرشنا کماری سحر زدہ انہی کھیتوں میں کھڑی تھی، جہاں اس نے اپنی خواہشات سے دستبردار ہو کر جبر و مشقت کے دو سال کام کرتے گزارے تھے ۔
گھاس پھوس سے بنے جھونپڑے آج بھی وہاں قائم تھے۔ جن کے گرد جھاڑیوں کی باڑھ لگی تھی اور گھر کا دروازہ اسی طرح لکڑی کا تھا۔۔
اسی دروازے میں کھڑی ایک عورت اسے پہچان کر پکار رہی تھی۔
’’تم کیشو ہو نہ؟ جگدیش کی بیٹی؟
کرشنا کماری نے مسکرا کر اسے نمستے کیا اور حال احوال پوچھ کر واپس گاڑی میں بیٹھ کر سوچنے لگی۔ پھر ایک اور خاندان ایک اور کیشو بائی بندھی ہو کر کام کر رہے۔ وقت بدل گیا۔ لوگ بدل گئے لیکن حالات نہیں بدلے۔ اس کے لیے ابھی بہت کام کرنا ہے اور دن رات کرنا ہے۔

۞۞۞۞

یہ کہانی ہے تھر کی ’’کرشنا کماری‘‘ کی جو اعلیٰ مقام پر پہنچنے کے بعد بھی ،ماضی کی تلخ یادوں کو کبھی بھی فراموش نہیں کر سکیں۔
اپنے لوگوں کا درد دل میں سمائے ان کی ترقی، سوچ اور حالات بدلنے کے لیے دن رات کوشاں ہے۔تاکہ کہیں کوئی اور کیشو اپنے خوابوں سے دستبردار نہ ہو جائے۔
ابتدائی حالات
کرشنا کوہلییکم فروری ۱۹۷۹ءکو رن کچھ اور تھر کے سنگم پر واقع ننگرپارکر، کے گوٹھ دھنا گام میں پیدا ہوئیں۔
ان کی والدہ نینوں کماری اور والد جگدیش کوہلی، کا تعلق ہندو دلت گھرانے سے تھا۔  پیشے کے اعتبار سے غریب ہاری تھے۔ اس لیے کرشنا نے آنکھ کھولتے ہی غربت کو گھر میں رقصاں پایا۔
مفلسی کا یہ عالم تھا کہ وہ ایک وقت کی روٹی کھاتے اور دوسرے وقت کا پتا نہیں ہوتا تھا، کئی مرتبہ تو نوبت فاقوں تک پہنچ جاتی تھی۔
تمام ضروریاتِ زندگی نہ ہونے کے برابر تھیں۔ ان کٹھن حالات سے نبرد آزما ہونے کے باوجود جگدیش کوہلی کی خواہش تھی کہ ان کے بچے بھی پڑھ لکھ کر اعلیٰ افسر بنیں اور ایک دن ان کے حالات بدل دیں۔
اسی خواب کو آنکھوں میں سجا کر، انہوں نے اپنے بچوں کو پڑھانے کا عزم کیا۔ تعلیمی اخراجات اور اشیائے ضروریہ ان کے اہم ہدف تھے، لیکن نگر پارکر جیسے علاقے میں رہ کر انھیں پورا کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔
نگرپارکر میں زندگی بہت دشوار ہے کیونکہ وہاں سالہا سال کھیت ویران اور زمین ابرِ رحمت کو ترستی رہتی ہے۔
اس لیے قحط کے ایام میں غریب تھری کام کی تلاش میں اپنے خاندانوں کے ساتھ دوسرے علاقوں کا رخ کرتے تھے، تاکہ فاقوں سے بچ سکیں۔
کرشنا کے والد بھی ہاری تھے، اس لیےکسبِ معاش کے لیے جگہ جگہ جاتے تھے۔جب وہ عمر کوٹ کام کرنے آئے تو وہاں انہوں نے اپنے بیٹے ویر جی کو اسکول میں داخل کروایا دیا۔
ویرجی کو اکیلے اسکول جاتے ڈر لگتا تھا ۔ وہ اپنے ساتھ کرشنا کو بھی لے جانے لگا۔ اسکول میں بھائی کے ساتھ بیٹھتے بیٹھتے جب کرشنا نے بہت کچھ سیکھنا شروع کر دیا ۔
ایک دن وہاں کی استانی نے جگدیش کو بلا کر کہا:
’’ تمہاری لڑکی تعلیم میں بہت ہوشیار ہے تو اس کو بھی پڑھاؤ اور اسکول میں داخل کراؤ‘‘۔
والد نے کہا:
’’اس کو بھی داخل کر لو‘‘۔
یوں کرشنا کے تعلیمی سلسلے کا آغاز ہو، جو اسے زمین کی پستی سے آسمان کی بلندیوں پر  لے گیا۔

کرشنا کماری یا کیشو بائی

والدین نے ان کا نام، بھگوان کرشن کے نام پر’’ کرشنا کماری‘‘ رکھا لیکن گھر میں سب پیار سے انہیں ’’کیشو بائی‘‘ کہتے تھے۔
کرشنا کو جب اسکول میں داخل کروایا گیا تو سیدھے سادے جگدیش نے ان کا نام کیشو بائی ہی اندراج کروا دیا۔
یوں کاغذات میں ان کا پیار کا نام کیشو بائی ہی ہر جگہ چلنے لگا لیکن انہیں کرشنا کوہلی ،کیشو بائی اور کرشنا کماری کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔
تعلیم
جگدیش کے مختلف جگہوں پر کام کرنے کے سبب کرشنا کبھی بھی ٹک کر کسی ایک اسکول سے تعلیم حاصل نہ کرسکی۔
ہر دفعہ نئے اسکول میںجا کر ان کو اپنے جماعتوں سے گھلنے ملنے میں دقت ہوتی تھی۔
ایک تو ان کا مذہبی طبقہ اور دوسرے معاشی حالات ہمیشہ آڑے آتے تھے۔ پہلی جماعت سے میٹرک تک انہوں نے کئی اسکول بدلے۔
عمر کوٹ کے ٹالی اسٹیشن کے قریب پرائمری اسکول سے پانچویں جماعت پاس کی۔ پھر ٹنڈوالہیار کے علاقے چمبڑ میں واقع گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول سے میٹرک کیا۔
جب وہ نویں جماعت میں تھیں تو شادی ہو کے حیدرآباد آ گئیں۔ پھر حیدرآباد کے علاقے قاسم آباد میں واقع گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج سے انٹر کا امتحان پاس کیا۔
مزید برآں گریجوایشن مکمل کرنے کے بعد ۲۰۱۳ء میں سندھ یونیورسٹی جامشورو سے سوشیالوجی میں ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کی۔
جبری مشقت و قید
کرشنا جب دوسری جماعت میں پڑھتی تھیں تو عمرکوٹ کی تحصیل کُنری کے ایک بااثر زمیندار نےان کے والد اور سارے خاندان کو قرضہ ادا نہ کرنے کے الزام میں مزدوری و جبری مشّقت کے سلسلے میں قید کر لیا۔
کرشنا کے مطابق ،دو سال جو قید میں گزارے وہ بہت سخت تھے۔ وہ چاہ کر بھی ان گزرے ہوئے ماہ و سال کو نہیں بھلا سکتیں۔
وہ خود، ان کی تین بہنیں اور دو بھائی سارا سارا دن اپنے ماں باپ کے ساتھ کھیتوں کھلیانوں میں کام کرتے۔
اسکول جانا زبردستی ختم کر دیا گیا، لیکن پھر بھی وہ رات کے اندھیرے میں دیا جلا کر پڑھتیں۔ اس دوران وہ کسی رشتہ دار کے پاس جا سکتے تھے اور نہ ہی کسی سے بات کرسکتے تھے ـ
بس وڈیرے کے کہنے پر کام کرتے تھے اور اسی کے حکم پر واپس قید میں چلے جاتے تھے۔
قید و بند کی کالی رات کا خاتمہ تب ہوا، جب ان کے چچا نے زمیندار کی جانب سے بنائے گئے حساب کتاب کے مطابق اس نام نہاد قرضے کی ادائی کی۔
یوں کرشنا اور ان کے خاندان کو اس جبری مشقت سےآزادی ملی۔
شادی اور ازدواجی زندگی
پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں قوانین کے خلاف نوعمری میں ہی بچیوں کی شادی کر دی جاتی ہے۔ اسی طرح کرشنا کماری بھی سولہ سال کی عمر میں شادی کے بندھن میں بندھ گئیں۔
اس وقت انہوں نے آٹھویں جماعت پاس ہی کی تھی۔
ان کے شوہر لال چند نے ابھی یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا۔ اس کم عمری میں ابھی ان دونوں کو شادی کے معنی بھی نہیں آتے تھے لیکن ان پر یہ بھاری ذمہ داری ڈال دی گئی، جس کو دونوں نے خوش اسلوبی سے نبھایا۔
خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ لال چند کا پورا گھرانا ہی تعلیم دوست اور مثبت سوچ رکھنے والا تھا۔
اس لیے شادی کے بعد ان کے سسر اور شوہر  نے تعلیمی سفر کو جاری رکھنےمیں بہت تعاون کیا۔ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس وقت ہندو دلت کمیونٹی میں تعلیم خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم نہ ہونے کے برابر تھی۔
اسی حوصلہ افزائی کی بنا پر کرشنا کماری ماسٹرز کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ لال چند خود بھی محکمہ زراعت سندھ میں افسر ہیں اور کرشنا کماری کی کامیابی سے خوش اور مطمٔن بھی۔ ان کے چار بچے ہیں اور وہ ان کے اچھے مستقبل کے لیے پراُمید ہیں۔


سماجی خدمات
دلت کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی کرشنا کماری  نے کم سنی میں ہی قید و بند کی صعوبتیں کاٹیں اور سہولیات کے فقدان کے باوجود جدوجہد کر کے تعلیم حاصل کی ۔
اس لیے وہ اس کرب سے آشنا ہیں جو انہوں نے سہا۔ وہ تکلیف ان جیسے مفلس و بدحال تھری باسیوں کو نہ برداشت کرنی پڑے، اس مقصد کے حصول کے لیے وہ زمانہ طالب علمی سے ہی سماجی فلاح و بہبود کے کام کر رہی ہیں۔
ان کے شوہر کا کہنا ہے کہ جب ۲۰۰۵ء کشمیر میں زلزلہ آیا تو وہاں کا دکھ محسوس کر کے اتنی بے چین ہوئیں کہ گھر کا سارا سامان کیمپ میں عطیہ کر آئی تھیں۔
یہ ان کے حساس دل کی نشانی ہے، جس میں ہر خاص و عام کا درد سمایا ہوا ہے۔
۲۰۰۷ء اسلام آباد میں منعقد ہونے والی تیسرے مہر گڑھ ہیومن رائٹس یوتھ لیڈرشپ ٹرینگ کیمپ میں، انہوں نے باقاعدہ تربیت بھی حاصل کی اور مختلف امور کے متعلق سیکھا۔
انسانی حقوق سے متعلق دیگر ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد کرشنا کماری نے یوتھ سول ایکشن پروگرام کے لیے کام کیا۔
انہوں نے تعلیم بالخصوص خواتین کی تعلیم، جبری مشقت اور اس کا شکار ہونے والی خواتین، ملازمت کی جگہ پر جنسی ہراسگی ،بچوں کی صحت، کم عمری میں شادی کی روک تھام جیسے مسائل پر کام کرتے ہوئے عوام اور اربابِ اختیار کی توجہ اس جانب مبذول کروائی۔
نیز تھرپارکر میں غربت و افلاس، صحت و پانی کی ناکافی سہولیات کے حوالے سے کام کرتے ہوئے ورکشاپس اور سیمینار منعقد کیے ۔
مزید برآں خاتون ہونے کے ناطے جو امتیازی سلوک ان کو برداشت کرنا پڑا، اس کے خاتمے کے لیے بھی کام کیا۔
ویسے تو ہر جگہ پر ہی خواتین کو نظرانداز کیا جاتا ہے لیکن کوہلی کمیونٹی کو نچلہ طبقہ گردانتے ہوئے ہر حوالے سے بہت پیچھے رکھا جاتا ہے۔
کرشنا نے کوشش کی کہ خواتین بالخصوص اقلیتی خواتین میں تعلیم عام کی جائے تاکہ برابری کا تصور پیدا ہو۔
اس مد میں ایک سماجی تنظیم’’ آشا‘‘ سے بھی منسلک رہیں۔ ان کی جدوجہد کو دیکھتے ہوئے حیدرآباد میں آشا کی لیگل سینٹر کی انچارج بھی مقرر کیا گیا۔
۲۰۱۳ء میں کرشنا کوہلی اور ان کے بھائی ویرجی نے مل کر اپنی سماجی تنظیم ’’دامن‘‘ قائم کی، جس کے تحت وہ خواتین اور بچوں کے حقوق اور ان کی صحت وتعلیم کے حوالے سے برسرپیکار رہتی ہیں۔
حقوقِ نسواں کے لیے آواز اٹھانے کے سبب ان کے پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی و سماجی شخصیات سے رابطے استوار ہوئے۔
سیاست میں شمولیت
کرشنا کوہلی کےبھائی ویرجی، جنہوں نے ایل ایل بی کیا، وہ بھی کرشنا کے ساتھ قدم سے قدم ملاتے ہوئے تھری باشندوں خصوصاً دلت کمیونٹی کے لیے کام کرتے رہتے تھے۔
۲۰۱۵ء میں جب بلدیاتی انتخابات ہوئے تو ویرجی کوہلی نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے ننگرپارکر کے علاقے سے یونین کونسل بیرانو کا الیکشن لڑا اور چیئرمین منتخب ہوئے۔
بعدازاں وہ پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے تو کرشنا بھی اپنے بھائی کے نقشِ قدم پر چلتی ہوئی پیپلز پارٹی سے وابستہ ہو گئیں، یوں انہوں نے سیاست کے پُرپیچ سفر کی ابتدا کی۔
سینیٹ کا انتخاب اور بلند عزائم
فروری ۲۰۱۸ء میں جب سینیٹ کے الیکشن کا انتخابی شیڈول جاری ہوا، تو پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے جہاں بہت سے پرانے چہروں کو ٹکٹیں دی گئیں۔ وہیں پر اقلیتوں کے کوٹہ پر تھر کی کرشنا کوہلی کو سندھ سے جنرل نشست کا امیدوار بھی نامزد کیا گیا۔
ٹکٹ دینے کے فیصلے کی تائید خود بلاول بھٹو زرداری اورفریال تالپور نے کی ۔
مارچ ۲۰۱۸ء میں ۵۵ ووٹ لے کر جب وہسینیٹر بنیں تو ان کو پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں کوریج دی گئی کیونکہ تھر سے تعلق رکھنے والی وہ پہلی دلت ہندو ہیں۔
واضح رہے کہ ان سے پہلے ایک ہندو خاتون رتنا بھگوان داس چاولہ بھی پاکستان میں سینیٹر بن چکی ہیں۔
سینیٹ کی تقریبِ حلف برداری میں کرشنا اپنے روایتی لباس گھاگھرا چولی اور چوڑیوں بھری بازوؤں کے ساتھ ایوان میں آئیں تو سب نے انہیں خوب سراہا۔
ان کے ساتھ والدین ،بھائی ویرجی اور شوہر لال چند بھی اپنے مخصوص ثقافتی لباس میں نظر آئے۔
سینیٹر منتخب ہونے کے بعد، کرشنا کماری نے اپنے جذبات و تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا؛

’’ مجھے اتنی خوشی ہو رہی ہے کہ اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ سب کچھ خواب سا لگ رہا ہے۔
میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ تھر کی کیشو بائی سینیٹر بن جائے گی۔ مجھے ابھی تک یقین نہیں آ رہا کہ پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ تھر کی دلت خاتون کو نمائندگی ملی ہے۔
میرے منتخب ہونے پر والدین بھی بہت خوش ہیں۔
انہیں میرے سینیٹر بننے کا اس وقت پتا چلا ،جب خبر میڈیا پر چلی اور لوگوں نے جا کر انہیں مبارکباد دی۔
جس پر انہیں لگا کہ کرشنا کو کوئی بڑی نوکری مل گئی ہے۔ اب وہ افسر بن گئی ہے اور اسلام آباد چلی جائے گی۔ کیونکہ انہیں یہ معلوم ہی نہیں کہ سینیٹر ہوتا کیا ہے؟
میری تمام کمیونٹی بھی بہت فخر محسوس کر رہی ہے۔
میں اپنی دلت کمیونٹی کوہر پلیٹ فارم پر آگے لانے کی پوری کوشش کروں گی۔
اپنے اہداف کا ذکر کرتے ہوئے کہا:
’’اس مقام پر پہنچنے کے بعد اپنی تمام تر توجہ خواتین کی تعلیم و صحت پر دوں گی ۔ کیونکہ سینیٹ ایک بڑا پلیٹ فارم ہے اور اس کا مؤثر طریقے سے استعمال کر کے خواتین کی تعلیم اور صحت کے مسائل کو اجاگر کر،ان کے حل کے لیےبہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔
آج بھی سندھ کے دور افتادہ علاقوں میں بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانا ایک انہونی اور ذلت بھری بات سمجھی جاتی ہے۔ میرے والد کو بھی لوگوں نے بہت طعنے دیے تھے کہ تم لڑکی کو کیوں پڑھا رہے ہو ۔
ان علاقوں میں ایک تو غربت اور دوسرا کم علمی کے باعث اتنا شعور ہی نہیں ہوتا کہ وہ بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے شہروں میں بھیج سکیں۔ـ
مزید بتایا کے اس وقت نگر پارکر میں صرف ایک اسکول ہے، جس میں ایک یا دو استانیاں ہیں جو بچیوں کو تعلیم دینے کے لیے رکھی گئی ہیں۔
اس لیے تعلیم ہی تمام سماجی و معاشرتی مسائل کا حل ہے اور اسی پر سب کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
اس وقت سب سے زیادہ ضرورت رواداری کی ہے۔
مجھے اس بات کا پوری طرح ادراک ہے کہ سینیٹر کا کام قانون سازی تک محدود ہوتا ہے۔
اس لیے ہم جبری مشقت کے لیے قید کیے جانے والے مزدورں، کم عمری میں شادی جیسے مسائل کے حوالے سے قانون سازی کریں گے اور جو قوانین بنے ہوئے ہیں
ان میں جہاں ضرورت ہو گی ترمیم کر کے لاگو کرنے کی کوشش کریں گے۔
۱۰۰ بااثر خواتین میں شمولیت
برٹش براڈ کاسٹ کارپوریشن (بی بی سی) گزشتہ چند برسوں سے ۱۰۰ بااثر خواتین کی فہرست مرتب کرتا ہے۔
اس قسم کی فہرست کے اجرا کا مقصد ان باہمت اور متاثر کن خواتین کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے۔
جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہوں
یا پھر صنفِ نازک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کی یا جدوجہد کی ہو۔
فہرست کو مرتب کرنے کے لیے دنیا کے۶۰ ممالک کا سروے کیا گیا
اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ۱۰۰ خواتین کو منتخب کیا۔
جن کی عمریں ۱۵ سے ۹۴سال کے درمیان اور ان کا کام قابلِ تعریف و تحسین تھا۔
سال ۲۰۱۸ء کی فہرست میں شامل واحد پاکستانی خاتون کرشنا کماری کوہلی ہیں،
جنہوں نے دلت برادری اور تھر کے لوگوں کے لیے بہت کام کیا اور کر بھی رہی ہیں۔
فہرست میں ان کا نام اڑتالیسویں نمبر پر تھا۔

سینیٹ اجلاس کی صدارت
مارچ ۲۰۱۹ء سینیٹ اجلاس میں خواتین کے عالمی دن کے موقع پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے پیغام دیا:
’’پاکستانی خواتین نے ثابت کر دیا ہے کہ
وہ زندگی کے کسی بھی شعبے میں مردوں سے کسی طور پیچھے نہیں۔
میں ملک و قوم کی ترقی میں ان گراں قدر خدمات کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔‘‘
یہ کہہ کر انہوں نےاجلاس کی صدارت سینیٹر کرشنا کماری کے حوالے کی۔
تھرپارکر سے تعلق رکھنے والی پیپلز پارٹی کی سینیٹر کرشنا کماری کو پہلی مرتبہ پریذائیڈنگ آفیسر بننے کا موقع ملا ۔ وہ اس پر خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھیں۔
سینیٹر کرشنا کماری نے کہا:
’’میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ آج اس سیٹ پر بیٹھی ہوں۔
میں بہت فخر محسوس کر رہی ہوں۔ یہ سب پاکستان کی وجہ سے ہے۔
میں صرف اور صرف پاکستانی ہوں‘‘۔
کرشنا کوہلی اپنی برادری کے لوگوں اور خاص طور پر خواتین کے لیے کچھ کرنے کے عزم سے سرشار ہیں۔
ان جیسی پرعزم خواتین اپنی ہمت و حوصلےکے باعث نہ صرف علاقائی ،
بلکہ حکومتی سطح پر بھی ستائش کی حقدار ہیں،
کیونکہ دور دراز علاقے سے کسی خاتون بالخصوص
دلت کا قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کر کے ایوان بالا تک پہنچنا،
اپنے خوابوں کو حقیقت کا رنگ دے کر دوسروں کے لیے مشعلِ راہ بننا باعثِ توقیر و توصیف ہے ۔

https://newsin.asia/pakistans-first-dalit-woman-senator-vows-to-end-honor-killings-and-child-marriages/

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles