33 C
Lahore
Tuesday, June 18, 2024

Book Store

خواہشِ مرگ

 

وہ کراچی کی سہانی شام تھی۔ سرسراتی ہوئی خنک ہوائوں میں تازگی سی گھلی ہوئی تھی۔
میں زیب النساء اسٹریٹ پر بے دلی کے ساتھ تھکا تھکا سا چلا جا رہا تھا۔ ان دنوں میرے جسم، میری روح، سوچوں پر سستی، بے کیفی اور بیزاری چھائی ہوئی تھی۔ میں بے حد اُکتا چکا تھا۔ چونیاں سے کراچی تک کا طویل سفر میں نے اس توقع پر کیا تھا کہ شاید ماحول کی تبدیلی میرے احساسات پر کچھ خوشگوار اثر ڈال سکے۔ سنا ہے آب و ہوا کی تبدیلی بعض اوقات صحت اور خیالات کی بہتری کا سبب بن جاتی ہے۔
زیب النساء اسٹریٹ پر بے مقصد گھومنے کے بعد میں چند گلیوں میں سے گزر کر ایک روشن اور بارونق بازار میں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ سامنے کچھ فاصلے پر نجمی سگریٹ کا دھواں اُڑاتا ایک ریستوران میں داخل ہو رہا ہے۔ ایک دم جیسے کسی نے میرے درِدل کو جھنجھوڑ ڈالا۔ میرے اندر ارتعاش سا پیدا ہوگیا جس میں مسرت کا احساس بھی شامل تھا جو اس ناآسودہ کیفیت میں نعمت سے کم نہ تھا۔
میں نے تو ایک جھلک میں ہی سب کچھ دیکھ لیا۔ سر سے پائوں تک وہ ذرا بھی تو نہ بدلا تھا۔ وہی دبلا پتلا جسم، وہی متوازن چال، سنجیدہ چہرے پر چاکلیٹ کلر فریم والی خوبصورت عینک، گہرے کتھئی رنگ کی پتلون، کریم کلر کی قمیص۔ ہمیشہ سے ہی یہ اس کے پسندیدہ رنگ تھے۔
کچھ یاد نہیں، غالباً میں نے اسے آٹھ نو برس بعد دیکھا تھا۔ جدائی کے اس طویل عرصے میں وہ مجھے کئی موقعوں پر یاد آتا رہا۔ میرا طویل عرصے تک اس سے خصوصی رابطہ جو رہا تھا لیکن میں اس کی سنجیدہ شخصیت کو پوری طرح سمجھنے سے قاصر تھا۔ میں نے بارہا اس کے اندر جھانکنے کی کوشش کی لیکن وہ بہت گہرا تھا۔ میں اس کی تہ تک کبھی نہ پہنچ سکا۔ میں بس اتنا جانتا تھا کہ وہ ایک بہترین انسان اور ایک پیارا دوست ہے۔
بعض لوگ پہلی نظر میں ہی بہت اچھے لگتے اور دل میں گھر کر لیتے ہیں۔ نجمی کے سلسلے میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ میں ان دنوں اپنے آبائی قصبے چونیاں سے نیا نیا لاہور آیا تھا اور وہاں ایک سرکاری دفتر میں ملازم تھا۔ اس کا تبادلہ ہوا اور وہ میری برانچ میں آ گیا۔ مجھ سے چند برس سینئر تھا۔ میری ملازمت نئی نئی تھی۔ میں ابھی وہاں کے اہلکاروں سے پوری طرح گھل مل بھی نہ سکا تھا لیکن نجمی میں کوئی کشش تھی کہ میں جلد ہی اس کی طرف کھینچتا چلا گیا۔ اس نے بھی میری دلجوئی کی اور دستِ تعاون بڑھایا۔ یوں ہم دونوں ایک دوسرے کے قریب تر ہوتے چلے گئے۔
میں ان دنوں کرائے پر رنگ محل کے ایک سہ منزلہ مکان کی تیسری منزل کے ایک پورشن میں رہتا تھا۔ میری شادی نہیں ہوئی تھی۔ میں وہاں اکیلا رہتا تھا۔ محلے میں ایک لڑکی سے میرا عشق چل رہا تھا۔ نجمی شادی شدہ تھا اور ایک بیٹے کا باپ… وہ عمر میں مجھ سے دس بارہ برس بڑا تھا۔ ہمیشہ کھویا کھویا رہنا اس کی عادت تھی۔ جیسے وہ کسی کشمکش میں مبتلا ہو۔ پتا نہیں وہ ہر وقت کیا سوچتا رہتا۔ چھٹی کے دن وہ اکثر میری رہائش گاہ پر آتا۔ میں اس کو اپنے ہاتھ سے چائے بنا کر پلاتا۔ کبھی موڈ ہوتا تو پریشر کوکر میں گوشت بھون کر اس کے سامنے رکھ دیتا۔
وہ میرے ہاتھ کے پکے کھانے کی بڑی تعریف کرتا اور بڑی رغبت و اپنائیت سے مزے لے کر کھاتا اور میرے عشق کے قصے بڑی دلچسپی سے سُنا کرتا۔ ویسے بھی ہماری دلچسپیاں مشترک تھیں۔ میں موسیقی کا رسیا اور افسانوی اور شعری ادب کا دلدادہ تھا۔ وہ بھی اس معاملے میں میرا ہم ذوق بلکہ مجھ سے ایک دو قدم آگے ہی تھا۔ ان موضوعات پر ہماری دیر تک گفتگو رہتی۔ فلمیں وہ بھی دیکھتا تھا اور میں بھی لیکن ہم دونوں نے کبھی ایک ساتھ فلم نہیں دیکھی۔ وجہ یہ تھی کہ وہ اپنی بیوی کے بغیر فلم دیکھنا پسند نہیں کرتا تھا۔ عجیب و غریب طبیعت کا مالک تھا…بعض اوقات تو وہ مجھے انتہائی پُراسرار شخصیت معلوم ہوتا۔
ایک چھٹی کے دن وہ مجھے ریلوے اسٹیشن لے گیا۔ وہاں ہم کافی دیر پلیٹ فارم پر ٹہلتے رہے۔ جب ریل گاڑیوں کی آمدورفت کا سلسلہ ختم ہوگیا تو وہ مجھے پٹڑیوں پر لے گیا۔ ہم دونوں چلتے چلتے دور نکل گئے۔
اس نے کہا ’’دراصل مجھے یہ ماحول، یہاں کا سب کچھ بڑا اچھا لگتا ہے۔ یہ ریل کے ڈبے، یہ چنگھاڑتا دوڑتا ہوا انجن، یہ پٹڑیوں کا دور تک پھیلا ہوا جال، یہ مسافروں کی ریل پیل… بتا نہیں سکتا مجھے یہاں آ کر کیا ہو جاتا ہے…کیوں ہو جاتا ہے؟‘‘
’’یہ سب کچھ تو مجھے بھی اچھا لگتا ہے‘‘۔
’’شاید ہماری دوستی کی ایک وجہ یہ بھی ہو‘‘۔
’’شاید‘‘۔
پھر اس نے ایک دم موضوع بدل دیا۔ ’’یار ستار! میری ایک بات غور سے سنو‘‘۔
’’کیا‘‘؟
’’معاملہ بس عشق تک محدود رہنا چاہیے۔‘‘
’’جی؟‘‘ میں اس کی بات کا مطلب نہیں سمجھ سکا۔
’’میرا مطلب ہے شادی کے جھنجھٹ میں مت پڑنا‘‘۔
’’کیوں؟‘‘ میں حیران تھا۔
’’انسان بندھ کر رہ جاتا ہے، آزادی سلب ہو جاتی ہے…چین اور بے فکری سے جی سکتا اور نہ مر سکتا ہے‘‘۔
’’میں سمجھ نہیں سکا۔ آخر کہنا کیا چاہتے ہو تم‘‘۔
’’تم شاید سمجھ نہیں سکو گے یار… بات ہی کچھ ایسی ہے‘‘۔
میری پیشانی شکن آلود ہو گئی۔ اس نے میرے چہرے کو پڑھنے کی کوشش کی، وہ سمجھا میں خفا ہوگیا ہوں۔ بولا ’’اب دیکھو نا! بعض اوقات اچانک یوں لگتا ہے کہ یہ زندگی، یہ کائنات، یہ سب کچھ جو تمہارے اور میرے سامنے ہے، بے کار ہے، بالکل بے کار، بے مصرف، بے مقصد… زندگی کا کوئی جواز ہی نہیں ملتا سرے سے۔‘‘
میں نے گہرا سانس لیا اور بولا ’’ہاں یار… ایسا ہو تو جاتا ہے کبھی کبھار۔‘‘
’’تو ایسے میں ہی تو انسان کا مرنے کو جی چاہنے لگتا ہے۔ یہی تو وہ سنہرا موقع ہے جب زندگی کی قید سے رہائی حاصل کی جا سکتی ہے اور اس عمل کے لیے ریل کی پٹڑیوں سے اچھی جگہ اور کیا ہے؟ تم بور تو نہیں ہو رہے میری باتوں سے؟‘‘
’’نہیں بھئی… ایسی بات نہیں مگر… نجمی، میرے یار، تمہیں ریل گاڑی اور اس کی پٹڑیاں اس وجہ سے اچھی لگتی ہیں۔ میں تو سمجھا تھا کہ ایسا اس لیے ہے کہ جب تمہاری بیوی میکے چلی جاتی ہے تو تم ریل کے ڈبے میں بیٹھ کر انھی پٹڑیوں سے گزر کر اسے لینے جاتے ہو، لیکن مجھے کیوں اچھا لگتا ہے ہے یہ سب کچھ؟ میں کیوں بچوں کی طرح خوش ہونے لگتا ہوں یہاں آ کر؟ …پتا نہیں کیا وجہ ہے اس کی…تو کیا میں بھی تمہاری طرح خواہشِ مرگ میں مبتلا ہوں؟ ہو سکتا ہے اس آرزو کی چنگاڑی میرے تحت الشعور کی راکھ میں کہیں دبی ہوئی ہو…نہیں نہیں، ایسا نہیں ہے شاید… ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا…‘‘ میں اُلجھ کر رہ گیا۔
’’آئو اب واپس چلتے ہیں یار… بہت گھوم پھر لیے۔‘‘ اسے جیسے کوئی ضروری کام یاد آ گیا۔ وہ بعض اوقات میرے گھر سے بھی ایک دم اُٹھ کر چلا جاتا تھا۔ بات کو ادھورا اور موضوع تشنہ چھوڑ کر۔ وہ خود بھی شاید ایک تشنہ، ایک ادھورا انسان تھا ان دنوں۔
’’چلو۔‘‘ میں نے جواب دیا اور اس نے تیز تیز قدموں سے اسٹیشن کی طرف چلنا شروع کر دیا۔
ایک بار جب وہ اپنی بیوی کو کراچی لینے گیا ہوا تھا، میری محبوبہ مجھ سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئی۔ اچانک اس کی شادی ہوئی اور وہ پشاور سدھار گئی۔ میں چند دن مغموم اور دل برداشتہ رہا، آخر جلد ہی خود کو سمجھا بجھا لیا۔ جب وہ کراچی سے واپس آیا تو دفتر جانے سے ایک دن قبل شام کو میرے پاس پہنچا۔ دفتر میں ہماری بات چیت کم ہی ہوا کرتی۔ ہم اپنے اپنے کاموں میں مصروف رہتے۔ ’’ملاقات‘‘ کے لیے وہ فرصت اور خاص ماحول کا قائل تھا۔ دفتر اس ’’خاص ماحول‘‘ کے زمرے سے خارج تھا۔
وہ میرے لیے کراچی سے سوہن حلوہ لایا تھا۔ اس نے بڑی محبت کے ساتھ حلوے کا ڈبا مجھے دیا۔ میں نے خوش ہو کر اس کا شکریہ ادا کیا۔ وہ بھی مسکرا دیا۔ پھر سفر، کراچی اور بعد میں دفتر کی باتیں ہوتی رہیں۔ جب میں نے اپنی محبوبہ کی شادی کا ذکر چھیڑا تو وہ نہ جانے کیوں مسکرا دیا۔ پھر کچھ سوچ کر بولا: ’’کوئی بات نہیں، میرا خیال ہے تم خاصے بہادر اور حقیقت پسند واقع ہوئے ہو۔ تم نے اچھا کیا جو اس بات کا اثر نہیں لیا۔‘‘ پھر اس نے اپنی عادت کے مطابق اس موضوع کا سلسلہ اچانک منقطع کر دیا۔ بولا: چائے نہیں پلائو گے؟‘‘
میں نے بجلی کے ہیٹر پر پانی کی کیتلی رکھ دی۔
اس نے پاس ہی رکھا ہوا ٹیپ ریکارڈر آن کر دیا۔ رفیع بڑی درد بھری آواز میں گا رہا تھا:
رہا گردشوں میں اکثر مرے عشق کا ستارا
کبھی ڈگمگائی کشتی کبھی کھو گیا کنارا
یہ گانا اسے بے حد پسند تھا۔ وہ آنکھیں موندے ڈوب کر سنتا رہا۔ پھر جب رفیع کی آواز کا سوز اس شعر میں ڈھلا:
پڑے جب غموں سے پالے رہے مٹ کے مٹنے والے
جسے موت نے نہ پوچھا اسے زندگی نے مارا
تو اس نے آنکھیں کھول کر کئی لمبے لمبے سانس لیے۔ پھر کیسٹ کئی بار ریوائنڈ کر کے یہی شعر سنا۔ یہ اس کی خاص ادا تھی۔ بعض اوقات وہ اپنے پسندیدہ گانے ریوائنڈ کر کے دس دس بار سنتا۔ میں ٹٹولتی ہوئی نظروں سے اسے دیکھتا رہا۔ گانے کے بول ختم ہوئے تو اس نے ٹیپ ریکارڈر بند کر دیا۔ میں نے چائے کی پیالی بڑھا دی۔ اس نے چائے کے ایک دو گھونٹ پی کر پیالی میز پر رکھ دی اور بولا: ’’اب کی بار کراچی میں جی نہیں لگا یار۔‘‘
’’کیوں، تمہیں تو وہاں کی راتیں بڑی پسند تھیں۔ جگمگاتی ہوئی پُرکیف حسین راتیں۔‘‘
’’دراصل یار! جب تک انسان خود کو کسی نہ کسی طرح بہلائے اور فریب دیے رکھتا ہے، اسے سوچنے کی فرصت نہیں ملتی۔ جب آنکھوں کے سامنے سے پردے ہٹ جائیں اور وہ خود کو دھوکا دینے کے قابل نہیں رہتا تو زندگی کا سارا نشہ اُتر جاتا ہے۔ پھر وہ خود کو بالکل تنہا پاتا ہے۔ دل بُری طرح گھبرانے لگتا اور ریل کی پٹڑیاں اسے اپنی طرف بلانے لگتی ہیں…یہ ریل کی پٹڑیاں بھی کس قدر مفید ہیں یار۔‘‘
میں نے کبھی اسے جان بوجھ کر قائل نہیں کیا تاکہ جو کچھ اس کے دل میں ہے، کھل کر بیان کر سکے۔ میں بس چپ چاپ غور سے اس کی باتیں سنتا رہتا حالانکہ میں جانتا تھا کہ میرے رویے سے اسے پختہ یقین ہوتا جا رہا تھا کہ میں بھی اس کے ان خیالات اور تاثرات پر ’’صاد‘‘ کرنے لگا ہوں۔
وہ ادب، موسیقی، فلم اور کبھی کبھار زندگی پر فلسفیانہ گفتگو تو کھل کر کر لیتا لیکن اس نے اپنے ذاتی حالات پر بات کرنے سے ہمیشہ گریز کیا۔ میں جب بھی اشارے کنایے سے اسے کریدنے کی کوشش کرتا، وہ بڑی خوبصورتی کے ساتھ ٹال جاتا۔ وہ کہیں راج گڑھ کے علاقے میں رہتا تھا اتنا مجھے معلوم تھا لیکن میں نے اس کا گھر نہیں دیکھا تھا۔ اس نے دکھایا ہی نہیں۔ کبھی مجھے وہاں لے کر نہیں گیا۔ حالانکہ میری ہمیشہ آرزو ہی رہی کہ اس ماحول کو دیکھوں جہاں وہ رہتا ہے۔
ہماری ملاقاتیں بڑے تسلسل سے برسوں جاری رہیں۔ ہم ریلوے اسٹیشن جاتے رہے۔ شام کے وقت انارکلی میں بھی گھومتے۔ گھوم پھر کر جب ہم تھک جاتے تو کبھی ٹولنٹن مارکیٹ کے ایک پُرسکون ریستوران میں چلے جاتے جہاں چائے یا کافی پیتے ہوئے دیر تک بیٹھے رہتے۔
کبھی خاموش تو کبھی بولتے ہوئے۔ کبھی رات کے وقت مال روڈ پر ٹہلتے دُور تک نکل جاتے۔ چلتے چلتے وہ بلارادہ ہال روڈ، بیڈن روڈ یا ٹیمپل روڈ کی طرف مڑ جاتا۔ ہمارے پروگراموں میں بھی کوئی نظم و ضبط نہیں تھا۔ کوئی سلیقہ، کوئی اُصول نہیں تھا جس کی بیشتر ذمہ داری نجمی پر عائد ہوتی تھی۔ اس کے بارے میں، میں کیا کوئی بھی صحیح اندازہ نہیں کر سکتا تھا۔ اس کی بیشتر باتوں میں غیر معمولی پن کا دخل ہوتا۔
ایک چھٹی کے دن صبح ہی سے کالی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں۔ بارشوں کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ شہر کی بہت سی گلیوں اور سڑکوں پر پانی بھر گیا تھا۔ سہ پہر کو بارش تھم گئی۔ اس کے تھوڑی دیر بعد وہ مسکراتا ہوا میرے کمرے میں داخل ہوا۔
’’یار صبح سے بور ہو گیا تھا گھر میں پڑے پڑے۔‘‘
بعض اوقات میں نے محسوس کیا وہ جسے ’’چین‘‘ کہتے ہیں اسے کسی جگہ بھی نہیں ملتا۔ وہ ایک بے قرار روح ہے جو اِدھر اُدھر بھٹکتی پھر رہی ہے۔
ایک دن اس لڑکی پر اظہار رائے کیا جس نے شاہی مسجد کے مینار سے گر کر خودکشی کر لی تھی۔ کہنے لگا: ’’یہ خودکشی کا بڑا مشکل اور بھیانک انداز ہے۔ پسند نہیں آیا مجھے۔‘‘ پھر چند لمحے خاموش رہ کر بولا: ’’ریل کی پٹڑیوں پر نہیں جا سکتی تھی تو کہیں سے پوٹاشیم سائی نائیٹ ہی حاصل کر لیتی۔‘‘
پوٹاشیم سائی نائیٹ کے بارے میں اسے تب پتا چلا جب ہمارے دفتر کے ایک افسر کا نوجوان بیٹا جو میڈیکل کا طالبعلم تھا، اس زہر کے استعمال سے اپنے کنبے کو داغ مفارقت دے گیا۔
جب نجمی کو پتا چلا کہ یہ ایک ایسا زہر ہے جس کے ذائقے کے بارے میں آج تک کوئی نہ بتا سکا۔ تو کہنے لگا، ’’اچھی چیز ہے۔‘‘ اس نے مرنے والوں پر کبھی افسوس نہیں کیا تھا۔ وہ تو بس خودکشی کے طریقوں پر سوچتا اور اظہار رائے کیا کرتا۔ وہ شاید جنم جنم کا روگی تھا…خواہشِ مرگ بھی تو ایک روگ ہی ہے۔
میں اب اس کے بارے میں کچھ اور بھی جان چکا تھا۔ مثلاً موت کے بارے میں اس کا رویہ خاصا رومانوی تھا۔ وہ اذیت پسند تھا۔ ہر وقت اُداس اور غمزدہ رہنا مرغوب تھا۔ میں نے اسے کبھی خوش نہیں دیکھا۔ ایک بارکراچی سے آنے کے بعد اس نے مسکرا کر مجھ سے کہا (وہ اس قسم کی بیشتر باتیں کرتے ہوئے اپنے چہرے پر تبسم کا ملمع چڑھا لیتا تھا)
’’یار اس بار ایک عجیب بات ہوئی…بڑا لطف آیا۔‘‘
’’اچھا۔‘‘
’’ہاں… گاڑی ایک جنگل کے پاس سے گزر رہی تھی کہ مجھے اپنا گھر یاد آ گیا۔‘‘
’’پھر؟‘‘
’’پھر فوراً ہی غالب کا شعر میرے اندر گونجنے لگا:
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا‘‘
لیکن جیسا کہ پہلے بھی بیان کر چکا ہوں، میں اس کی تہ تک نہ پہنچ پایا۔ اس نے اپنے ذاتی حالات کو مجھ سے سربستہ راز کی صورت پوشیدہ رکھا ہوا تھا۔ میں اس معاملے میں واضح انداز میں گفتگو کرنے کی جراٴت نہ کر سکا۔ نہ جانے اتنی قربت کے باوجود ہمارے درمیان فاصلہ کیوں تھا؟
پھر میری زندگی میں ایک انقلاب آیا۔ لاہور کی تحصیل قصور کو جب ضلع کا درجہ دے دیا گیا تو چونیاں تحصیل قصور ضلع میں آ گئی۔ وہاں نئے انتظام کے تحت عملے کی ضرورت پڑی تو میں نے اپنا تبادلہ چونیاں کرا لیا، جہاں جلد ہی میری شادی ہو گئی۔
میں لاہور اور نجمی سے رفتہ رفتہ دور ہوتا چلا گیا۔ میں نے اسے خط لکھا نہ اس نے مجھے۔ یوں برسوں ہمیں ایک دوسرے کے بارے میں علم نہ ہو سکا کہ کون کس حال میں ہے؟
دو برس قبل جب میں لاہور کے دفتر میں اس سے ملنے گیا تو پتا چلا کہ اس نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی اور کراچی جا چکا۔ اس غیر متوقع اطلاع پر مجھے خاص تعجب نہیں ہوا۔
اس کے تو کئی اقدام ڈرامائی ہوا کرتے تھے۔ بڑے عجیب، چونکا دینے والے لیکن میں نے یہ سوچا کہ اس بار وہ یقیناً کسی غیر معمولی دبائو کی زد میں آ گیا ہو گا ورنہ وہ لاہور ہرگز نہ چھوڑ کر جاتا۔ لاہور اسے بے حد عزیز تھا۔ کتنی ہی بار وہ لاہور سے اپنی غیر معمولی وابستگی کا برملا اظہار کر چکا تھا۔
٭٭٭
بہرکیف اُس شام کراچی میں اُسے دیکھ کر مجھے ڈھارس کا سا احساس ہوا۔ میں بڑے تجسس کے ساتھ تیزی سے اس ریستوران کی طرف چل دیا جس میں ابھی کچھ دیر پہلے نجمی داخل ہوا تھا۔
اندر پہنچ کر میں نے دیکھا کہ وہ ایک خالی گوشے میں بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا۔ چائے کی پیالی سامنے رکھی تھی۔ وہ اپنے خیالوں میں اس قدر محو تھا کہ میں نزدیک پہنچ گیا تب بھی اس نے میری طرف نہیں دیکھا۔ اس کے چہرے پر افسردگی اور اُداسی کی رم جھم ہو رہی تھی۔ میں نے کھنکار کر اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔ وہ مجھے دیکھ کر حیران رہ گیا۔ ’’ارے یار ستار تم! یہاں کیسے؟‘‘
وہ ایک دم کھڑا ہوگیا۔ پھر اس نے انتہائی گرم جوشی سے مجھے اپنی بانہوں میں بھینچ لیا۔ جب ہم دونوں آمنے سامنے بیٹھ گئے تو میں نے عینک کے شیشوں کے پیچھے اس کی آنکھوں کو ڈبڈبایا ہوا سا دیکھا۔
اس نے رومال سے آنکھیں خشک کیں۔ تھوڑے سے توقف کے بعد بولا: ’’کچھ کھائو گے؟‘‘
’’نہیں یار صرف چائے پیوں گا۔‘‘ مجھے محسوس ہوا کہ جیسے میں ایک لمحے کے لیے بھی اس سے جدا نہیں ہوا اور اس وقت ٹولنٹن مارکیٹ کے ریستوران میں بیٹھا ہوا ہوں۔ میرا بے اختیار جی چاہا کہ ایک بار میں بھی اس سے لپٹ کر رو دوں۔
اس نے میرے لیے چائے منگوائی۔ چائے کے ایک دو گھونٹ پی کر اس نے پو چھا ’’وہیں چونیاں میں ہو؟‘‘
’’ہاں یار۔‘‘ میرے چہرے پر مسکراہٹ تھی لیکن میں اندر ہی اندر رو رہا تھا۔
’’کتنے بچے ہیں تمھارے؟‘‘
’’تین … ایک لڑکا دو لڑکیاں۔‘‘
’’خوش تو ہو؟‘‘ اس کی آواز میں دھیما پن تھا اور ایک سوز سا بھی۔
’’ہاں۔‘‘ میں نے جھوٹ بول دیا (ہائے کیسا پیارا دوست بچھڑ گیا مجھ سے)
’’کراچی کیسے آئے؟ کہاں ٹھہرے ہو؟ کتنے دنوں کا پروگرام ہے؟‘‘
’’بس سیر و تفریح، آب و ہوا کی تبدیلی… پرسوں حیدرآباد جا رہا ہوں۔ وہاں سے چند دن بعد لاہور جائوں گا…اپنے ایک دوست احمد پرویز کے گھر ڈرگ روڈ کے علاقے میں مقیم ہوں۔‘‘
’’اچھا… کہاں کہاں کی سیر کر ڈالی؟ کلفٹن گئے؟‘‘
’’ہاں… زندگی میں پہلی بار سمندر بھی دیکھ لیا۔‘‘
وہ سگریٹ کے ہلکے ہلکے کش لیتے ہوئے نہ جانے کیا سوچنے لگا۔
میں نے کہا ’’تم سنائو کیا حال چال ہیں؟‘‘
’’سب ٹھیک ہے۔‘‘
’’یہاں کیوں شفٹ ہوگئے؟ کیا کر رہے ہو؟ کیسی گزر رہی ہے؟‘‘
وہ کچھ دیر سوچتا رہا، پھر بولا ’’بس یار بعض اوقات انسان بے بس ہو جاتا ہے اور پھر ہزار احتیاط کے باوجود انسان سے غلطی سرزد ہو جاتی ہے۔ بس یوں سمجھ لو کہ کچھ مجبوریاں، کچھ بزدلی، کچھ غلطیاں مجھے کراچی لے آئیں…
خدا کا شکر ہے کہ مجھے یہاں ایک اچھے ادارے میں معقول ملازمت مل گئی۔ اب کچھ چھٹیاں جمع ہو گئی ہیں تو سوچ رہا ہوں چند دنوں کے لیے لاہور چلا جائوں… بے حد یاد آتا ہے۔‘‘
’’اس کا مطلب ہوا کہ تم ابھی تک خود کو یہاں سے وابستہ نہیں کر سکے۔‘‘ میں دراصل اسے اس موضوع کی طرف لا رہا تھا جس کے بارے میں جاننے کی مجھے کرید لگی ہوئی تھی۔
’’یہ کیسے جانا تم نے؟… لاہور کی یادیں تو ایک فطری جذبہ ہے۔‘‘ اس نے ڈپلومیسی سے کام لیتے ہوئے بات کو آگے نہ بڑھنے دیا۔
اتنے دنوں کے بعد ہم ملے مگر جلد باتوں کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ نہ جانے کیا ہو گیا تھا ہم دونوں کو۔ یوں ایک دوسرے کو چور نظروں سے دیکھ رہے تھے جیسے شرمندہ ہوں ایک دوسرے سے۔
کچھ دیر بعد اس نے امرتسر ٹی وی اسٹیشن سےدکھائی جانے والی فلموں کا ذکر چھیڑ دیا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ آج کل وہ افسانوں کے مطالعے کی بہ نسبت اشعار کے مطالعے کی طرف زیادہ مائل ہے۔ ٹیپ ریکارڈر پر پسندیدہ نغمے سننے کا محبوب مشغلہ اب کچھ زیادہ ہی محبوب ہوگیا ہے…پھر اس نے مجھے اپنا موجودہ پتا لکھ کر دیا۔ شاید اب وہ اُٹھنا چاہتا تھا لیکن مجھے ابھی اپنے دل کا بوجھ بھی تو ہلکا کرنا تھا۔
’’اور سنائو…‘‘ الفاظ میرا ساتھ نہ دے سکے۔
’’کیا سنائوں یار؟ کیا پوچھنا چاہ رہے ہو تم۔‘‘
’’میں…؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’میں پوچھنا چاہ رہا تھا کہ وہ جو ایک دیرینہ خواہش تھی تمہاری، اس کا کیا بنا؟‘‘
’’کون سی خواہش؟‘‘
’’بھئی وہی… خواہش مرگ۔‘‘
اس نے ایک بار میری آنکھوں میں جھانکا، پھر نگاہیں نیچی کر لیں۔ وہ نہ جانے کہاں ڈوب گیا تھا۔ پھر جب وہ اُبھرا تو بولا: ’’بڑی عجیب صورت حال ہے یار مجھے تو کبھی وہم و گمان بھی نہیں ہو سکتا تھا اس بات کا۔‘‘
’’خیریت تو ہے۔‘‘
’’خیریت ہی تو نہیں ہے یار۔‘‘ اس نے ایک آہ بھری۔
’’کچھ دن ہوئے میری اس خواہش نے دم توڑ دیا۔ اب تو مرنے کو بھی جی نہیں چاہتا۔‘‘ ایک زخمی مسکراہٹ اس کے چہرے پر تڑپنے لگی۔
میں نے سوال کیا: ’’آخر کیوں؟ کیسے ہوا یہ سب کچھ؟‘‘
وہ بولا ’’ستار! میرے کراچی آنے کا مقصد یہ بھی تھا کہ میں اپنی بیوی بیٹے کے مستقبل اور ان کے تحفظ کی فکر سے آزاد ہوسکوں۔ تم جانتے ہو یہاں میری سسرال ہے۔‘‘ تم سمجھ گئے میرا مطلب۔‘‘
میں نے اثبات میں سر ہلا دیا حالانکہ میں اس کی بات ذرا دیر سے ہی سمجھ سکا۔
وہ سگریٹ کا ایک طویل کش لے کر بولا: ’’لیکن یہاں ایک عرصہ گزار کر پتا چلا کہ یہ تو بڑی بے وفائی کا دور ہے۔ بڑا ہی نفسا نفسی کا زمانہ ہے۔ لوگ تو جیتے جی کسی کی پروا نہیں کرتے، مرجانے کے بعد کا تو کہنا ہی کیا…مرنے والوں کو تو بہت جلد بھول جاتے ہیں۔ یادوں کی لوح پر سے حرفِ غلط کی طرح مٹا دیا جاتا ہے… اب کوئی مرے بھی تو کس آس پر؟ سو جینے کا ایک بڑا سہارا بھی چھن گیا مجھ سے۔‘‘
میں سناٹے کے طلسم میں بندھا چپ چاپ بیٹھا تھا۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اب اس سے کیا بات کروں؟
کچھ دیر بعد وہ ہڑبڑا کر ایک دم کھڑا ہو گیا۔ اس کے چہرے پر وہی مخصوص پرانا اضطراب نمایاں تھا۔ کہنے لگا ’’آئو یار چلتے ہیں۔‘‘
اس نے بل ادا کیا اور ہم دونوں ریستوران سے باہر آگئے۔
بس اسٹاپ تک ہم نے کوئی بات نہیں کی۔ میں بس کی طرف بڑھا تو وہ مصافحہ کرکے بولا ’’اچھا یار لاہور کو میرا سلام کہنا۔‘‘
’’اچھی بات ہے۔‘‘
اور میں ’’خواہش مرگ‘‘ اور ’’جینے‘‘ کے تعلق کو کھوجتا ہوا بس میں سوار ہوگیا۔
٭٭٭
آج جب اس شگفتہ اور نکھری نکھری شام کو میں انارکلی کی گہما گہمی میں اکیلا گھوم رہا ہوں، مجھے چند دن قبل کی نجمی کے ساتھ گزری ہوئی کراچی کی وہ شام یاد آ رہی ہے۔ نگاہوں کے سامنے اس کا سراپا بار بار اُبھر رہا ہے۔ میں سوچ رہا ہوں کہ مدت تک خواہش مرگ کے سہارے جیتے رہنے والے اس پُراسرار شخص کا نیا اقدام پتا نہیں اب کیا ہو ؟

یہ بھی پڑھیں
https://shanurdu.com/priceless-worth/
٭٭٭

Previous article
Next article

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles