28 C
Lahore
Wednesday, April 24, 2024

Book Store

اٹوٹ رشتہ

ہندی کہانی

اٹوٹ رشتہ

 

رام لعل

صبح پہلی گاڑی سے میں چندی گڑھ پہنچ گئی تھی۔ اُس وقت چھ بجے تھے لیکن سردیوں میں تب بھی شہر میں خاصا اندھیرا ہی ہوتا ہے۔ وہ صبح بھی خاصی کہر آلود تھی۔ دسمبر کی آخری صبح میں لمبے کوٹ کے نیچے ایک نیلا کارڈیگن بھی پہنے ہوئے تھی۔ سر پر ایک ریشمی پھولدار اسکارف باندھ رکھا تھا۔ آئینے میں اپنی صورت دیکھی تو حیران رہ گئی۔ میں تیس سے زیادہ کی نہیں لگتی! لیکن درحقیقت چالیس سے بہت آگے نکل آئی ہوں۔ لوگوں نے بڑے اشتیاق سے میری طرف دیکھا تو میں دل ہی دل میں خوش ہوئی۔ مردوں کی ایسی نظر ایک عورت کو خوشی اور خوداعتمادی کا احساس دیتی ہے لیکن اُس وقت میں قطعی دوسرے موڈ میں تھی۔
انتظار گاہ میں جا کر چائے منگائی۔ اُس وقت وہاں چائے پینے والی تنہا میں ہی تھی۔ وہاں ایک ہی جنرل ویٹنگ روم ہے جو مردوں سے بھرا ہوا تھا۔ اُجالا ہونے تک مجھے وہیں بیٹھنا تھا۔ سبھی مسافروں کو میری طرح دوسری بس سے شہرجانا تھا۔ وہاں ٹیکسیاں بہت مہنگی ہیں۔ ٹھیک ہے، بس کے روانہ ہونے تک دھوپ نکل آئے گی۔ ٹھٹھرن اور کہرہ بھی کم ہو جائے گا۔
لیکن میں وہاں ایک ہی گھنٹا بیٹھ کر بور ہو گئی۔ اٹیچی اُٹھا اسٹیشن کی عمارت سے باہر آ گئی۔ مجھے دیکھتے ہی کئی ٹیکسی ڈرائیور میرے گرد جمع ہو گئے۔ اُن سے پِنڈ چھڑانا مشکل ہو گیا۔ میں اس قدر سویرے سترہ نمبر سیکٹر میں جانے کو تیار نہیں تھی لیکن یونیورسٹی کے ایک طالبعلم نے جو انھی ڈرائیوروں میں گھِر گیا تھا، مجھے اسکوٹر رکشا میں پارٹنر بنانے کی پیشکش کی تو میں انکار نہ کر سکی۔ اس طرح میں صرف ایک ہی روپے میں اپنی بیٹی کے گھر سے تھوڑی ہی دور مین روڈ تک پہنچ گئی۔ اس وقت بھی کہرہ چھایا ہوا تھا۔ دھوپ نکلنے کی کوئی اُمید نہیں تھی کیونکہ آسمان پر بادل آگئے تھے۔
اچانک مجھے یاد آیا، وہ ناول تو میں ویٹنگ روم میں ہی چھوڑ آئی جسے میں نے بریلی اسٹیشن پر اسٹال سے خریدا تھا۔ ناول نے راستے بھر ایک اچھے دوست کی طرح ساتھ دیا تھا۔ ایک چوتھائی پڑھنا باقی رہ گیا تھا۔ اُسی نے مجھے افسردگی سے بھی دور رکھا تھا رات بھر۔
میں تو چندی گڑھ جانا ہی نہیں چاہتی تھی۔ بار بار بھیسن صاحب سے کہا تھا، آپ ہی جائیے نا! لیکن انھوں نے اپنے بزنس، انکم ٹیکس کی تاریخ اور نہ جانے کون کون سی مصروفیات کی پوری فہرست سنا دی لیکن میں خوب سمجھتی تھی، وہ اتنے سنجیدہ ماحول میں جانے کے لیے تیار ہی نہیں تھے۔ وہ ہیں بھی بے حساس! ایسا آدمی اس قسم کی صورتِ حال کا مقابلہ کیونکر کرے گا جس میں داماد نے اچانک ایک دوسری عورت کے ساتھ سمبندھ جوڑ لیا ہو! اور بیٹی نے اپنے ماں باپ کو ایک لمبے پتر میں سارا دکھڑا بھی لکھ بھیجا ہو! وہاں تو کسی سخت یا ذہین آدمی کی ضرورت تھی جو اس معاملے کو سلجھا بھی سکتا۔
میں بھیسن صاحب کے ساتھ اس بات پر پوری طرح متفق تھی کہ ہمارے پریوار میں اس قابلیت کا آدمی ایک بھی نہیں لیکن اتنے گھمبیر معاملے میں کسی دوسرے پر بھروسا کیا بھی کیسے جا سکتا تھا؟ رشتے دار یا بعض دوست کتنے بھی قریب کیوں نہ ہوں، کوئی بھی اپنے آپ کو پوری دیانتداری سے ایسے معاملے میں شامل نہیں کرتا۔ معاملے کو سنوارتا کم، بگاڑتا زیادہ ہے۔ اسی لیے میں نے اپنے خاوند کا یہ مشورہ قبول نہیں کیا کہ اشوک کو راہِ راست پر لے آنے کے لیے ہمارے فیملی ڈاکٹر سہگل یا پھوپھا جی کو وہاں بھیجا جائے۔ اُن سے بہتر تو میں خود ثابت ہو سکتی تھی جس کا روم روم بیٹی کے درد میں ڈوبا ہوا تھا۔ لڑکی کب تک رو رو کر ہلکان ہوتی رہے گی!
شادی کے پانچ برس بعد وہ اس مشکل میں پھنسی تھی۔ ایسی مشکل کے لیے اگرچہ کوئی وقت مقرر نہیں۔ مرد کسی بھی لمحے دھوکا دے سکتا ہے۔ مرد عام طور پر گھر سے باہر کہیں نہ کہیں جھک مار ہی آتا ہے لیکن ایسا تو کوئی کوئی ہی ہوگا جو خاصی حسین بیوی کی موجودگی میں بھی کسی دوسری عورت کو داشتہ بنا لے۔
اب میرا ہی آدمی دیکھنے میں تو بڑا سیدھا سادا ہے۔ دن رات اپنے ریڈیو کے دھندے میں مصروف رہتا ہے۔ اس نے تو میرے ساتھ بھی محبت دکھانے میں کبھی آزادی نہیں  دکھائی لیکن میں اس کے بارے میں بھی پورے وشواس سے کہہ سکتی ہوں کہ وہ سو فیصدی وفادار نہیں۔ اس بات کے لیے میں نے اُس کے ساتھ کبھی جھگڑا نہیں کیا۔ اس کی خوشنودی کے لیے اپنی جان تک لڑا دینے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹی۔ محض اس نیت سے کہ وہ مجھ سے کبھی دور نہ ہو۔ ایسا کر کے میں اپنے طور پر بے حد مطمئن بھی ہوتی رہی ہوں۔
اب اس کے مستقل طور پر ہاتھ سے نکل جانے کا کوئی خطرہ نہیں کیونکہ اس نے میرے ہی رہنے کے لیے اتنا خوبصورت و آرام دہ مکان بنوایا ہے۔ میرا ہر طرح سے خیال بھی رکھتا ہے۔ خود کو میں خوش قسمت ترین عورتوں میں شمار کیوں نہ کروں؟ پاکستان سے آ کر آخر کتنوں کو یہ عزت نصیب ہوئی! ریڈیو بزنس میں ہاتھ ڈالتے ہی روپیہ پانی کی طرح بہتا ہوا سا آیا ہے۔ روپے کے ساتھ ساتھ پہلے ایک پرانا مکان بھی ہاتھ لگا۔ کسٹوڈین کے ذریعے پھر اسی مکان کی نئی تعمیر بھی ہوئی۔ بچوں کو اعلیٰ درجے کی تعلیم و تربیت ملی اور ہم سب کو وہ ساری آسائشیں بھی جن کی متوسط طبقے میں کلپنا کی جا سکتی ہے۔ یہ الگ بات ہے بھیسن صاحب کبھی کبھی جذباتی ہو کر کہہ بیٹھتے ہیں، پتا نہیں کیوں یہ سب مجھے اپنا نہیں لگتا! جیسے یہ سب ایک سراب ہو! میرا نہ ہو! میرا سب جو پاکستان رہ گیا، وہی اب بھی میرے خوابوں میں آتا ہے۔ میں اب بھی کبھی کبھی اپنے بچپن کے دور میں جا پہنچتا ہوں۔ چھوٹی ہوئی گلیوں میں جا کر کھیلتا ہوں، بھاگتا ہوں، اور کبھی کبھی اپنی سورگیہ ماں کو دیکھ کر اُس کی گود میں سر رکھ دیتا ہوں۔
جو کچھ بھیسن صاحب کہتے ہیں، وہ نفسیاتی طور پر غلط تو نہیں۔ اور بھی کئی اسی طرح کی باتیں کیا کرتے ہیں لیکن میں نے کبھی محسوس نہیں کیا، شاید اس لیے کہ میں پاکستان صرف کچھ ہی سال رہ پائی تھی۔ میرے ماں باپ ویسے بھی ادھر کے تھے نا! جالندھر کے۔ اسی لیے میں اپنے خاوند کے ایسے جذباتی اُبال پر کبھی کبھی ہنس دیا کرتی ہوں۔ اُس نے یہاں جس زمین کو میرے سامنے اپنی گاڑھی کمائی سے خریدا، اس پر ڈبل اسٹوری عالی شان مکان بنوایا اور اس پر اپنی سنگ مرمر کی نیم پلیٹ بھی لگوا رکھی ہے، وہ جگہ بھلا اُس کی اپنی کیسے نہیں!
ہماری سروج جب کالج میں تھی تو وہ بھی اپنے باپ کے اس قسم کے جذباتی رویے سے ادب کر کہہ اٹھتی تھی ’’ڈیڈی‘‘ آپ بہت بور ہیں! اپنے پرانے شہر کا قصہ کیوں لے بیٹھے! مجھے تو کچھ بھی یاد نہیں۔ بھئی ہم نے تو یہیں آ کر ہوش سنبھالا ہے ہم تو اسی شہر کے ہیں۔‘‘
یہ سن کر بھیسن صاحب سروج اور میری طرف بڑی عجیب نظروں سے دیکھنے لگتے، اداس بھی ہو جاتے، سوچتے سے رہ جاتے کہ ہم ان کی باتوں کا مطلب ٹھیک طرح سے کیوں نہیں سمجھ پاتے؟ کبھی کبھی تو وہ ہمیں سچ مچ سمجھانے بیٹھ جاتے۔ اپنے سو بھائو کے مطابق دونوں ہاتھوں سے ہوا میں ہی کچھ بنانے لگتے۔
’’اس طرح کی ایک گلی تھی۔ اس کے آس پاس ایک بڑا گنجان محلہ تھا۔ اس سے ملا ہوا ایک بازار، اسکول، کالج، میدان کچہری، ڈاک خانہ اور ایک برادری نہیں، پورا سماج انھی کے بیچ میں اپنا ایک گھر تھا۔ اُس گھر میں سچ مچ بڑا سکون تھا۔ جیسا کسی مضبوط قلعے میں ہی حاصل ہو سکتا ہے۔ سیکورٹی کا احساس تو سمجھتے ہو۔ ہم کسی جنگل میں جا کر راتوں رات ایک چار دیواری بنا کر اُس کے اندر پورے اطمینان سے کبھی نہیں رہ سکتے۔ مجھے اپنا یہ گھر ایک جنگل کے اندر ہی بنایا ہوا سا لگتا ہے۔ تم لوگوں کو اس جنگل سے گھبراہٹ محسوس نہیں ہوتی کیونکہ تمہاری پرورش ہی اسی ماحول میں ہوئی ہے لیکن جس احساس کا شکار تمہارا باپ ہو رہا ہے، اُس سے اُس کی اولاد کب تک آزاد رہ سکتی ہے؟ مجھے یقین ہے تم بھی کبھی نہ کبھی ایسا ضرور محسوس کرو گے۔ ٹھیک میری طرح نہ سہی، کسی اور شکل میں بھی ایسا ہو سکتا ہے۔‘‘
سروج نے شادی ہوجانے کے بعد بڑے فخر سے ہمیں لکھا تھا، ہم نے چندی گڑھ میں سترہ نمبر سیکٹر میں اپنا مکان بنوانا شروع کر دیا ہے۔ سب لوگ باہر سے ہی آ آ کر بس رہے ہیں۔ پتا نہیں ہمارے پڑوس میں کون آ کر مکان بنواتا ہے۔ ابھی تک تو دونوں طرف پلاٹ خالی پڑے ہیں۔ ہم فی الحال تین ہی کمرے بنوا رہے ہیں۔ ایک کچن، ایک اسٹور اور ایک باتھ روم بھی۔ ایک چھوٹا گول برآمدہ بھی ہو گا۔ برآمدے کے لیے گڑھ مکیشور کے موڑھے بھجوانے کے انتظام ضرور کر دیجیے گا۔ ان کے کناروں پر چمڑا بھی مڑھوایے گا لیکن موڑھوں پر ہم پینٹ اپنی پسند کا ہی کرائیں گے۔
میں اُن کے مکان میں صرف ایک مرتبہ پہلے گئی تھی۔ دو سال پہلے جب اشول اور سروج کا مارشل پیدا ہوا تھا۔ اُن کے ساتھ دو مہینے رہی، ساتھ ان کی فرمائش کے مطابق چار موڑھے بھی لے گئی۔ برآمدے میں واقعی اچھے لگتے ہیں۔ صبح صبح وہاں بیٹھ کر اشوک چائے پیتا، اخبار پڑھتا، دوپہر میں دھوپ آ جانے پر سروج وہیں بیٹھ کر کپڑے سیا کرتی۔ وہیں میں بھی اپنے نواسے کو گھٹنوں پر لٹا کر اس کی مالش کرتی۔ شام ہونے لگتی اور شوک کے دفتر سے لوٹنے کا وقت ہو جاتا تو سروج پھاٹک پر کھڑی ہو کر اس کا انتظار کیا کرتی۔ سڑک پر گزرتی ہوئی عورتوں کی طرف بھی تکا کرتی۔ کسی کسی کے ساتھ اُس کی بات چیت بھی ہو جاتی تھی۔
اُن دو مہینوں میں وہاں رہ کر مجھے کئی باتیں پہلی بار معلوم ہوئی تھیں۔ سروج شادی کے بعد بہت لڑاکا ہو گئی تھی۔ بات بات پر اشوک کے ساتھ الجھ پڑتی۔ اُس پر جا بے جا حکم بھی چلاتی۔ اگرچہ وہ بے چارہ گھر کا بہت سا کام بِنا کہے بھی کر دیتا تھا۔ اُس پر بھی وہ اسے کام چور ہی سمجھتی۔ لیکن اشوک پلٹ کر اسے کبھی کچھ نہ کہتا۔ اُس کی ہر بات پر بس ہنس پڑتا۔ کبھی کبھی شکایت کر بھی دیتا تو اس انداز سے جیسے یہ بھی ایک گھریلو فرض نبھانے کی خاطر ہی کر رہا ہو۔ ورنہ وہ پوری طرح مطمئن ہے۔ اُسے اپنی خامیوں کا احساس ہے اور وہ واقعی کام چور بھی ہے۔ سروج جو کچھ کہتی ہے اُس میں ذرا بھی مبالغہ نہیں۔
اشوک کے رویے سے میں بھی پوری طرح مطمئن تھی۔ وہ واقعی ایک محبت کرنے والا خاوند تھا۔ اشوک کی ایسی بے پناہ محبت کے مقابلے میں سروج کی بدزبانی دیکھ کر میں نے اُسے کئی بار ٹوکا بھی تھا لیکن اشوک ہی اُسے کچھ کہنے سے مجھے منع کر دیتا اور میں اُس کی اپنی بیوی کے تئیں ایسی پرجوش عقیدت دیکھ کر وہاں سے خوش خوش لوٹ آئی تھی۔ دو سال پہلے مجھے وہ دن ابھی تک یاد ہے جب اشوک اور سروج اپنے ننھے مارشل کو ساتھ لیے ہوئے مجھے چھوڑنے اسٹیشن پر آئے تھے۔ اب دو برسوں میں کیا کچھ نہیں ہو چکا! اس بیچ میں سروج صرف ایک بار ہمارے پاس آئی تھی۔ اشوک کی بہت سی شکایتیں کر کے گئی۔ وقت پر گھر نہیں لوٹتا۔ اپنے رشتے داروں پر بہت جان چھڑکتا ہے۔ ان کی وقت بے وقت روپے پیسے سے مدد بھی کرتا رہتا ہے۔ دوستوں کو گھر پر زیادہ بلاتا ہے جن کی نازبرداریاں کرتے کرتے میں عاجز آ جاتی ہوں۔ میں کہتی ہوں ان کا ایک بھی دوست کام کا نہیں۔ سب غرض کے بندے ہیں! اس شہر میں کوئی بھی کسی کا نہیں۔
لیکن میں نے سروج کی کسی بات کو اہمیت نہیں دی تھی۔ اُس کی عادت سے واقف ہوں نا، بات بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اُسے خوب آتا ہے۔ اسی لیے اس کی ہمیشہ حوصلہ شکنی ہی کی ہے۔ اس نے واپس جا کر مجھے کئی خط لکھے۔ ہر خط میں اشوک کی وہی شکایتیں ہی لکھتی رہی لیکن پچھلے چند خطوں میں وہ سچ مچ بہت دکھی معلوم ہوئی۔ اس نے رو رو کر لکھا ہے، اب وہ میری بالکل پروا نہیں کرتے۔ کوئی عورت بھی رکھ لی ہے۔ اکثر اسی کے یہاں رہتے ہیں۔ یا تو آ کرمجھے لے جائیے یا مجھے اجازت دیجیے خودکو آگ لگا کر مرجائوں!
٭٭٭
میں اپنے خیالوں میں ڈوبی ڈوبی مارکیٹ کے سامنے گزری۔ وہ ابھی بند تھی۔ پوری مارکیٹ میں، مَیں ہی اکیلی چل رہی تھی۔ ابھی تک کوئی بھی اِدھر سے نہیں گزرا تھا۔ شام کے وقت یہاں چلتے ہوئے کندھے چھِلتے ہیں۔ میں اپنے ساتھ کچھ بھی نہیں لائی ہوں۔ مارشل، سروج، اشوک کسی کے لیے بھی نہیں۔ بہت جلدی میں نکلی نا! بڑی پریشانی میں۔ سوچا اگر سب ٹھیک ہوا، وہیں سے خرید کر لے دوں گی۔ اشوک کو اس بار گرم سوٹ ہی لے دوں گی اس کی پسند کا۔
میں نے رُک کر اِدھر اُدھر ایک دکان کو تلاش کیا۔ دو منزلہ فلیٹوں کے نیچے بڑی بڑی دکانوں کے بڑے پرکشش سائن بورڈ تھے۔ یہیں کہیں ایک بہت اچھی کپڑے کی دکان تھی۔ دو سال پہلے وہاں سے مارشل کے لیے کپڑے لیے تھے۔
میں آگے بڑھ گئی۔ نئی طرز کا سینما گھر اُس وقت محوِخواب تھا۔ یہاں ہم سب نے ایک انگریزی فلم دیکھی تھی ٹن کمانڈمنٹس! آگے پارک تھا۔ اُس پار کے رہائشی مکانوں تک پہنچنے کے لیے میں پارک کے بیچوں بیچ پگڈنڈی پر سے ہو کر گزرنے لگی۔ انھی مکانوں کے پیچھے ایک گلی میں ان کا مکان ہے۔ مکانوں اور پارکوں کے یہ سلسلے بہت خوبصورت ہیں۔ فرانسیسی انجینئر جیسے کسی دوسری ہی دنیا سے یہ نیا نگر اپنی ہتھیلی پر اُٹھائے اُٹھائے آ گیا۔
آڑے، ترچھے، بیضوی، تکونے، چوکور نقشے! ہر بلاک ایک جداگانہ رنگ کا۔ ہر گھر سے نکلتے ہی ایک سیرگاہ کا آغاز۔ شاید دنیا میں ایسا اور کہیں بھی نہیں ہوتا۔ چیری، زردمہر، یوکلپٹس کے پیڑوں کے طویل سلسلے، کچھ پیڑوں کے بدن پر لال لال انگاروں کے سے پیرہن ہیں۔ ان پیڑوں کے نیچے نیچے جانے والی سڑک پر بھی انگارے ہی بچھے ہیں۔ میں انگاروں پر بہت دھیرے دھیرے چلتی ہوئی گئی ہوں۔ اُف آج میں کتنی اُداس ہوں۔
چلتے چلتے میں نے اٹیچی دوسرے ہاتھ میں بدل لی۔ کوٹ کے اندر ہاتھ ڈال کارڈیگن کے اُوپر کے بٹن کھول دیے۔ دم گھٹتا ہوا سا لگ رہا تھا۔ میں نے بہت سی تازہ ہوا اپنے اندر بھر لی۔ دور اسٹیشن کی طرف سے ایک بس آتی ہوئی دکھائی دی۔ شاید یہ وہی بس تھی جس سے مجھے آنا تھا۔ اچانک گلی کے موڑ پر ایک اسکوٹر میرے بالکل پاس آ کر رک گئی۔ میں نے سر گھما کر دیکھا، وہ اشوک تھا۔ نائٹ کیپ لگائے۔ بدن پر چمڑے کی جیکٹ اور ڈرین پائپ، ذرا ذرا سی بڑھی ہوئی شیو، ہونٹوں کے درمیان ایک سگریٹ پھنسا ہوا۔
’’ممی آپ!‘‘
مجھے دیکھ کر وہ واقعی حیران نظر آیا۔
وہ اتنے سویرے سڑک پر کیوں گھوم رہا ہے؟ یقیناً اُسے میری آمد کی کوئی اطلاع نہیں ہو سکتی۔ اُس کا رخ بھی اپنے گھر کی طرف ہے، یعنی وہ اس عورت کے پاس سے لوٹ رہا ہے۔ میں سمجھ گئی جیسا سروج نے لکھا تھا۔
چند لمحوں تک تو میں نے کوئی جواب دینے سے خود کو روکے رکھا۔ اس کی طرف غور سے دیکھتی رہی۔ جب آدمی کسی بات کی شکایت کرنے کے لیے بالکل حق بجانب ہو تو وہ اپنے اندر اچانک کافی جرأت پیدا کر لیتا ہے۔ میں بھی پوری جرأت سے اُس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ میری بیٹی میں اگر کچھ خامیاں ہیں تو اُن کا بدلہ لینے کا یہ کون سا طریقہ ہے؟
’’کیا سروج نے آپ کو لکھا تھا؟‘‘ وہ ابھی تک میری اچانک آمد کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
میں فوراً یہ فیصلہ کر لینے میں کامیاب ہو گئی۔ مجھے اشوک کے ساتھ وہ روّیہ ہرگز نہیں اپنانا چاہیے جس سے سروج کی پوری حمایت ظاہر ہو۔ میں نے اس سے نظریں ہٹا کر اِدھر اُدھر دیکھا اور کہا:
’’میں تم سے کچھ کہنا چاہتی ہوں بیٹا لیکن گھر جانے سے پہلے ہی۔ یہاں کھڑے ہو کر بات کرنا تو مناسب نہیں۔ کہیں چائے کی دکان نہیں کھلی ہے۔ میں چائے بھی پینا چاہتی ہوں۔ بہت سردی ہے نا۔‘‘
اشوک نے میرے ہاتھ سے اٹیچی لے لیااور کہا، ’’اچھا تو ممی میرے پیچھے بیٹھ جائیے۔ ادھر بائیس میں ایک ریستوران بہت صبح کھل جاتا ہے۔ وہیں چلتے ہیں۔‘‘
بائیس سیکٹر میں ایک چھوٹا سا ریستوران واقعی کھلا تھا۔ مالک خود ہی انگیٹھی لگا رہا تھا۔ ہمیں دیکھ کر جلدی سے اندر چلا گیا۔ ایک جھاڑن سے میز اور کرسیاں پونچھ دیں۔ میں نے اسے چائے اور اُبلے ہوئے انڈے لے آنے کے لیے کہا۔ اشوک نے نئی سگریٹ سلگائی تو میں نے اس سے پوچھا:
’’تم سگریٹ کب سے پینے لگے؟‘‘
’’ معذرت ممی! تمہارے سامنےسگریٹ پی رہا ہوں۔ لیکن مجھے اجازت دے دو اب۔‘‘ وہ میز پر کہنیاں ٹیک کر مسکرایا، پھر سر سے ٹوپی اُتار کر میز پر رکھ دی۔ سر کے چپکے بال انگلیوں سے ٹھیک کرتے ہوئے بولا: ’’کہو نا ممی! تم کیا کہنا چاہتی تھیں؟‘‘
میں پس و پیش میں پڑ گئی۔ میں ستائیس سال کے اس نوجوان کے سامنے بیٹھی ہوں جو میرا داماد ہے۔ شاید شب بھر کسی دوسری عورت کے ساتھ رہا ہے۔ عورت مرد کا ایسا چہرہ تو ایک نظر میں پہچان جاتی ہے، جو صبح کی روشنی میں گزشتہ شب کا سارا قصہ کہہ ڈالتا ہے۔ یہ احساس کرکے مجھے صدمہ سا بھی محسوس ہوا لیکن وہ کسی قسم کی ندامت نہیں دکھا رہا تھا۔ میں نے بھی اُس پر سے اپنی نظریں ہٹائیں نہیں لیکن ایک شائستہ ضبط کے ساتھ اس سے کچھ کہنے کے لیے تیار ہو گئی، سچی سچی باتیں۔
’’بیٹا یہ تو مجھے معلوم ہے سروج بہت بدزبان ہے۔ تمہیں ہر وقت ٹوکتی رہتی ہے۔ میں نے اسے کئی بار پہلے بھی سمجھایا ہے۔ اب بھی ایسا کروں گی۔ تمہارے سامنے اس کے ساتھ وہ کروں گی کہ …لیکن پھر تم ہی میرا ہاتھ نہ روک لینا!‘‘
میں پگھل کر رہ گئی، اندر ہی اندر پہلے سے ہی کافی پگھلی ہوئی تھی۔ اشوک مسکراتا رہا۔ اُسی بیچ میں انڈے آ گئے۔ ایک پلیٹ میں اُس نے میرے سامنے سرکا دی اور کہا:
’’ممی، تم بہت بھولی ہو۔ میرا خیال ہے دنیا کی بیشتر عورتیں تمہاری ہی طرح بھولی ہوتی ہیں۔ میں نے تم سے اس بات کی شکایت کب کی کہ مجھے سروج کا زبان چلانا اچھا نہیں لگتا۔ وہ مجھ پر حکم بھی چلاتی ہے تو مجھے محسوس نہیں ہوتا بلکہ خوشی ہی ہوتی ہے کہ کوئی عورت اس لہجے میں مجھ سے مخاطب تو ہوتی ہے!‘‘
میں بھونچکا سی رہ گئی۔
’’پھر؟…پھر سروج نے وہ سب کیوں لکھا؟‘‘
وہ زور سے ہنس پڑا اور بولا: ’’میرا اور اُس کا جھگڑا بالکل دوسری بات پر ہے۔ جس سے نہ وہ واقف ہے نہ ہی تم سمجھ سکتی ہو ممی!‘‘
یہ کہہ کر اُس نے چھیلے ہوئے انڈوں کے کئی ٹکڑے کر ڈالے جن میں سے ہلکی ہلکی بھاپ نکلنے لگی۔ اُس نے اُن پر نمک اور کالی مرچیں چھڑکیں۔ پھر ایک ٹکڑے کو کانٹے میں پھنسا کر کہا: ’’عورت مرد کا ایک ضروری حصہ ہوتی ہے۔ یعنی اُس کی بہت بڑی ضرورت! لیکن وہ مرد کی متواتر چوبیس گھنٹوں کی ضرورت نہیں۔ ہرگز نہیں! مجھے اپنے دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا اس سے کہیں زیادہ اچھا لگتا ہے اور وہ اسی بات پر کڑھتی ہے۔ حالانکہ میں باہر کی نسبت گھر پر کہیں زیادہ وقت گزارنے پر مجبور ہوں۔ رات کے آٹھ دس گھنٹے! صبح و شام کے بھی چار پانچ گھنٹے! یعنی کل ملا کر چودہ پندرہ گھنٹے تو اُسی کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔‘‘
اُسی دوران میں نے پیالوں میں چائے انڈیل دی۔ ایک پیالی اُس نے خود ہی ہاتھ بڑھا کر اُٹھا لی اور کہا: ’’وہ میرے دوستوں کو پسند نہیں کرتی جن کے ساتھ میں قہقہے لگا کر بہت خوش ہوتا ہوں۔ ٹھیک ہے وہ سب کے سب خودغرض بھی ہو سکتے ہیں لیکن جو لمحے پھر بھی ہم ساتھ گزارتے ہیں وہ ہم مردوں کے لیے زندگی کے بہترین لمحے ہوتے ہیں۔ پھر ہمیں کب یہاں ہمیشہ رہنا ہے! یہاں جی نہیں لگے گا تو کہیں اور چلے جائیںگے۔ مکان تو ہر وقت بِک سکتا ہے۔ پہلے سے زیادہ… دونی چوگنی قیمت پر؛ جہاں جائیں گے ایک نیا مکان کھڑا کر لیں گے۔ روپیہ ہاتھ میں رہنا چاہیے۔ مجھے تو یہ بالکل مہم جیسا لگتا ہے۔ خالص مردوں کی مہم جوئی جس میں بے پناہ خوشی بھری ہوتی ہے!‘‘
میں منتظر تھی وہ اُس موضوع کی طرف کب آتا ہےجس کی وجہ سے مجھے یہاں آنا پڑا۔ اُس کے لیے ایک اور پیالی بنا کر میں نے پوچھا: ’’کیا تم رات گھر پر رہے؟‘‘
میرے اس سوال کے لیے وہ جیسے بالکل تیار تھا۔ ذرا بھی نہ گھبرایا۔ میں نے بھی یہ بات طنزاً نہیں پوچھی تھی بلکہ بہت ہی سادہ انداز میں۔ اُس نے اُسی بے تکلفی سے جواب دیا۔ ’’ممی یہ تو سچ ہے کہ اب میں کبھی کبھی رات کو گھر پر نہیں سوتا، لیکن اس کی وجہ وہی ہے جو میں نے کہی۔ آخر سروج مجھ پر اپنا پورا قبضہ کیوں جمانا چاہتی ہے؟‘‘
اس کے بعد وہ چپ ہو گیا اور چائے پینے لگا۔ میرے اندر بھی اچانک ایک طوفان اُٹھتے اُٹھتے تھم گیا۔ وہ اس قدر معصوم، سنجیدہ اور سچا نظر آیا کہ اس کے ساتھ سختی سے پیش آنا مجھے بالکل بے معنی سا لگا… بلکہ بے انصافی پر ہی مبنی!
میں نے مسکرا کر پوچھا: ’’جس کے پاس تم جاتے ہو وہ نہیں ٹوکتی تمہیں؟ یہ نہیں کہتی کہ تم اُسے چھوڑ کر کہیں اور مت جایا کرو؟‘‘
’’نہیں ممی! وہ ایسی کوئی بات نہیں کہتی یا یہ کہ میں دیر سے کیوں آتا ہوں، کبھی کبھی بالکل کیوں نہیں آتا، پھر کب آئوں گا، آئوں گا بھی یا نہیں؟ میرا جب جی چاہتا ہے وہاں چلا جاتا ہوں لیکن اُس نے جس دن مجھ پر پورا ادھیکار جمانے کی کوشش کی اُسی دن اسے چھوڑ دوں گا۔‘‘
یہ کہہ کر اس نے گھڑی پرنظر ڈالی اور کہا: ’’ممی، مجھے دفتر بھی جانا ہے۔ ٹھیک دس بجے صرف آدھا گھنٹا باقی ہے۔ اب گھر چلیں۔‘‘
سروج نے مجھے اشوک کی اسکوٹر پر سے اترتے دیکھا تو وہ چپ سی رہ گئی۔ کچھ سمجھ نہ سکی۔ بولی، ’’ان سے پوچھا نہیں وہ سب جو میں نے تمہیں لکھا تھا!‘‘
اشوک نے جلدی جلدی شیو کا سامان نکالا۔ خود ہی پلگ لگا کر پانی گرم کر لیا اور برآمدے میں لگے شیشے کے سامنے کھڑا ہو کر منہ پر صابن سے بھراہوا برش چٹ چٹ تھوپنے لگا۔ صابن کا جھاگ ادھر ادھر کئی جگہ اُڑ اُڑ کر گرا۔ کرسی پر، فرش پر اور اُس کے کپڑوں پر بھی۔ میں مارشل کو گود میں لے کر پیار کرتی رہی۔ کتنا بڑا ہو گیا ہے اب! شرارتی بھی۔ چاہتا ہے باپ اسے اُٹھا کر آئینہ دکھائے اور اس کی بھی شیو بنا دے۔
اشوک دفتر چلا گیا تو میرا پورا دن سخت بے چینی میں گزرا۔ سروج کی باتیں سن سن کر جی پھٹتا رہا۔ اُسے کوئی جواب بھی نہیں دے سکی۔ کچھ اڑوس پڑوس کی عورتیں بھی آئیں۔ وہ سروج سے ہمدردی رکھتی تھیں۔ انھوں نے بھی اسی قسم کی باتیں مجھ سے کہیں جیسی سروج کہتی تھی لیکن میں نے انھیں بھی پلٹ کر کوئی جواب نہ دیا تو وہ حیران سی ہو کر لوٹ گئیں۔ میری خاموشی سروج کو بھی ناگوار گزر رہی تھی۔ میں کچھ کہتی کیوں نہیں؟ مائیں تو بیٹیوں کی تکلیف پر رو پڑتی ہیں۔ اُس نے مجھے اسی لیے تو یہاں بلایا ہے۔
شام کو اشوک ٹھیک وقت پر آ گیا۔ اس نے آتے ہی چائے مانگی۔ سروج سے ہی مانگی اور اس کی طرف مسکرا کر بھی دیکھا لیکن سروج اپنے چہرے پر کسی قسم کی مسکراہٹ نہ لائی۔ اس نے دن میں جو چند کپڑے دھوئے تھے اور اب سوکھ چکے تھے، انھی کو تہ کرنے میں لگی رہی۔ اس نے چائے بنانے میں کچھ توقف دکھایا تو میں ہی مارشل کو گودی سے اُتار کر باورچی خانے چلی گئی۔ کچھ دیر بعد سروج بھی میرے پاس آ بیٹھی۔ ایک طرف چپ چاپ۔ مارشل کی قمیص کے ٹوٹے بٹن لگاتی رہی۔ مارشل اس کی گود میں لیٹا لیٹا دودھ پیتا رہا۔ اشوک نے موڑھے میں ڈوب کر سگریٹ سلگا لیا۔
وہ بار بار سگریٹ کی راکھ فرش پر گرا دیتا۔ اُس نے اپنا کوٹ جو آتے ہی پلنگ کی ٹیک پر پھینک دیا تھا، پھسل کر فرش پر گر گیا۔ اس نےکوٹ پھر سے اُسی طرح ٹیک پر پھینک دیا۔ سروج کچن میں بیٹھی بیٹھی اس کی طرف بڑی بے زاری سے دیکھ رہی تھی۔ میں اشوک کے لیے چائے کی پیالی لے کر گئی تو اس نے سگریٹ پائوں کے نیچے کچل دیا۔ سروج نے مجھ سے کہا: ’’دیکھ رہی ہو ممی! دن بھر کتنی محنت سے فرش رگڑ رگڑ کر چمکاتی ہوں اور یہ ہیں کہ سگریٹ، کاغذ، اخبار، جوتے، ہر چیز جہاں چاہتے پھینک دیتے ہیں۔‘‘
اشوک نے بڑے اطمینان سے چائے کے چند گھونٹ حلق سے نیچے اُتارے۔ ایک دو بار میری طرف بھی دیکھا۔ شاید میرا ردعمل جاننے کے لیے۔پھر بڑے ضبط سے کہا
’’سروج! میں پہلے بھی کئی بار کہہ چکا۔ یہ مکان ہم نے بنایا ہے، مکان نے ہمیں نہیں بنایا۔ ہم جس طرح چاہیں گے اسے استعمال کریں گے۔ مکان کو یہ حق کبھی نہیں دیں گے کہ وہ ہمیں استعمال کر سکے۔‘‘
پھر وہ میری طرف پلٹ کر بولا، ’’ممی تمہیں میرا رویّہ بہت ہی عجیب سا لگ رہا ہو گا لیکن میں کہتا ہوں ہم اپنے بنائے ہوئے مکان کے اندر پوری آزادی سے کیوں نہ رہیں؟‘‘
یہ سن کر میری تو ہنسی چھوٹ گئی۔ میں نے آگے بڑھ کر اُس کا کوٹ ہینگر پر لٹکا دیا۔ برش سے فرش پر بکھری راکھ اور سگریٹ کے ٹکڑے صاف کر دیے اور کہا، ’’اشوک، مجھے تو ایسا لگتا ہے تم اپنے ہی مکان کے ساتھ لڑ رہے ہو! جسے تم نے خود بنایا ہے۔‘‘
مجھے اپنے خاوند کی بھی باتیں یاد آ گئیں تو اور زیادہ ہنسی آئی۔ میں نے درمیان میں رک کر سروج سے کہا، ’’تجھے یاد ہے نا، تیرے ڈیڈی اپنے مکان کے بارے میں کبھی کبھی کیا کہنے لگتے تھے۔ اپنے ہی گھر میں خود کو اجنبی سمجھنے لگتے تھے۔ تو ان کے ساتھ الجھ بھی پڑتی تھی۔‘‘
میں نے سر گھما کر اشوک کو بتایا، ’’ہاں سچ! یہ لڑکی تو اپنے ڈیڈی کو ڈانٹ بھی دیتی تھی۔ عورتیں دراصل اپنے مکان سے بہت زیادہ اُنس رکھتی ہیں۔ انھیں اسی کی چاردیواری کے اندر ہی تو زندگی بِتانا ہوتی ہے۔‘‘
من ہی من میں، میَں نےسوچا، عورت اپنے ماں باپ کے گھر سے قدم نکالے تو اس کے سامنے مکان یا چاردیواری کا تصور بہت دھندلا سا ہوتا ہے۔ اسے یقین بھی نہیں ہوتا وہ جس مرد کے ساتھ جا رہی ہے وہ اُسے پوری حفاظت کا احساس بھی دے سکے گا یا نہیں، لیکن ایک بار جب وہ اس کے مکان کے اندر داخل ہو جائے پھر اُس مرد اور اس کے مکان پر مکمل اختیار بھی چاہنے لگتی ہے کیونکہ اپنا بہت کچھ دے کر ہی تو وہ انہیں حاصل کرتی ہے۔
میں نے سروج کی طرف دیکھا، وہ اپنی حدود کے اندر کس قدر صحیح ہے۔ لیکن اس کے اندر اعتماد کی کمی ہے۔ زبان پر بھی قابو نہیں۔ قابو نہ ہونے سے ہی اُس کا اصلی مطالبہ کمزور ہوجاتا ہے اور وہ اس وقت بھی منہ پھلائے انگیٹھی کے سامنے بیٹھی تھی۔ اس نے ایک بار بھی نظر اٹھا کر میری طرف نہ تکا۔ اشوک بھی ہونٹوں کے درمیان سگریٹ پھنسائے خاموش بیٹھا رہا۔ میں بھی چپ ہو گئی تو مجھے گہری خاموشی کا احساس ہوا اور میرا من ڈوبنے لگا۔ کبھی کبھی انھی لمحات سے گھبرا کر اشوک گھر سے نکل جاتا ہو گا لیکن وہ مجھے روٹھے بچے کی طرح لگا جسے ذرا سی خوشامد سے منایا جا سکتا ہو۔
اچانک اس نے ہاتھ اُٹھا کر سروج کو پکارا، ’’سروج دیکھو تو میری انگلی میں کوئی کھینچ گڑ گئی ہے۔ دن بھر بہت تکلیف دیتی رہی۔ ذرا سوئی سے نکال دو۔
’’اسی کے پاس کیوں نہیں چلے گئے کھینچ نکلوانے؟‘‘ سروج بڑبڑا اُٹھی اور مارشل کا رخ الٹ کر اُسے دوسری طرف سے دودھ پلانے لگی۔ اب میں ہی سوئی لے کر اُس کے پاس جا بیٹھی۔ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر پوچھا، ’’کیسے گڑ گئی؟‘‘ میں ڈر رہی تھی کہ ابھی جھگڑا نہ شروع ہو جائے۔
’’نہ جانے کہاں سے؟مجھے تو تبھی پتا لگا جب درد ہونے لگا۔‘‘ اس نے دھیرے سے جواب دیا۔
ذرا سی کوشش سے میں نے اسے نکال پھینکا۔ سوئی کو اس کی جگہ پر رکھنے کے لیے پلٹی تو اپنے اُوپر سروج کو کھڑا پایا۔ وہ غصے سے کانپ رہی تھی۔ مارشل کو بڑی سختی سے سینے کے ساتھ لگا رکھا تھا۔
میری سمجھ میں فوراً کچھ نہ آسکا کہ اس کی یہ کیفیت کیوں ہو گئی؟ حیران ہو کر پوچھا بھی، ’’کیا بات ہے سروج؟ کیا ہوا تجھے؟‘‘
’’یہ بات تم اپنے آپ سے ہی پوچھو ممی۔‘‘
میں ہکا بکا سی رہ گئی۔ اس لڑکی کا دماغ تو نہیں چل گیا!
’’میں اپنے آپ سے کیا پوچھوں بیٹا؟ تو اپنی زبان سے ہی کیوں نہیں کہہ دیتی؟‘‘ لیکن مجھے اپنی آواز حیرت ناک طور پر کمزور اور لرزتی ہوئی سی لگی۔
سروج پلٹ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔ جاتے جاتے کہتی گئی، ’’مجھے تمہاری مدد کی ضرورت نہیں؟ تم چاہو تو واپس چلی جائو، ابھی، اسی وقت۔‘‘
میرے قدموں کے نیچے سے زمین ہی نکل گئی۔ کھڑا رہنا مشکل ہو گیا۔ اشوک بھی چپ سا کھڑا رہ گیا۔ مجھے لگا میں کچھ ہی پل میں رو دوں گی۔ اپنے آپ پر سے میرا اختیار ٹوٹ رہا تھا۔ میں نے بے حد ندامت بھی محسوس کی۔ میری ہی کوکھ سے جنمی نے مجھے چپت دے ماری! اپنے آدمی کے سامنے! اب میں کیا کروں؟
کچھ لمحوں تک تو میں کوئی فیصلہ ہی نہ کر سکی۔ پھر میں نے سوچ لیا۔ جلدی جلدی اپنی چیزیں اٹیچی میں رکھیں اور باہر نکل آئی، سروج سے ملے بنا ہی۔ اب میں اُس سے ملنے کےلیے تیار نہیں تھی۔ اس نے میری توہین کی تھی۔ میری خودداری نے اجازت نہیں دی کہ میں اب اس کا منہ بھی دیکھوں۔ اسے خود ہی میرے پیچھے پیچھے آنا ہو گا! مجھ سے معافی مانگنی ہوگی۔
گلی میں چلتے چلتے میں نے خود کو پیر پٹختے ہوئے بھی محسوس کیا۔ اس نے تو بچپن میں بھی مجھے کئی بار کلپایا ہے۔ اس کے منہ پھٹ ہونے کی وجہ سے ہی تو کئی بار اسے پیٹ بھی ڈالتی تھی۔ اگرچہ ایسا کرکے مجھے دکھ بھی بہت ہوتا لیکن اب تو وہ بڑی ہو چکی، اپنے گھر بار والی بھی۔ اسے یہ گھربار مبارک ہو۔ اسے میری توہین کرنے کا کیا حق ہے؟
میں نیم روشن سڑک پر سیدھی بڑھتی گئی۔ اپنے قیاس کے مطابق اسٹیشن کی طرف ہی جا رہی تھی۔ کسی سے راستہ تک پوچھنے کی خواہش محسوس کی نہ کوئی سواری لینے کی۔ غصے کی کیفیت میں میلوں تک چل سکتی تھی۔ ادھر ادھر کسی بھی طرف دیکھے بغیر جگمگاتے ہوئے مکان، ہنستے ہوئے لوگ! میرے اندر اچانک ہی ہر چیز سے دلچسپی ختم ہو گئی۔
اچانک میں نے پیچھے پیچھے کسی کی چاپ سنی۔ جیسے کوئی بھاگتا آ رہا ہو۔ میں اور بھی تیز چلنے لگی لیکن وہ چاپ جلد ہی ختم ہو گئی۔ جیسے میں اس سے بہت آگے نکل گئی۔ میرا کوئی تھا ہی نہیں۔ یہ دیکھ کر میرا جی اور بھی دکھا لیکن میں نے خود کو رونے سے باز رکھا۔ اگرچہ میرا دل پاش پاش ہو چکا تھا۔
میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ یہ لڑکی میرے ساتھ ایسا سلوک بھی کر گزرے گی۔ اس کے باپ کو جا کر بتائوں گی۔ تیری لاڈلی نے میری کتنی بڑی ذلت کی ہے۔ اب میں اُس کا کبھی منہ تک نہیں دیکھوں گی۔
چند لمحے رک کر میں پھر چل پڑی لیکن اب میں بلا مقصد چلتے جانے کے لیے تیار نہیں تھی۔ اسٹیشن کا صحیح راستہ جان لینا چاہتی تھی۔ کوئی سواری مل جائے تو اسٹیشن پرپہنچ کر ہی دم لوں گی۔
اچانک سامنے سے روشنی دکھائی دی۔ لمحہ بہ لمحہ بڑھتی ہوئی۔ آٹو رکشا کے رکتے ہی میں اس کے اندر کود جائوں گی۔ کرایہ طے کیے بغیر۔ میرے اندر مزید انتظار کی تاب نہیں۔
اسکوٹر قریب آیا تو مجھے غلطی کا احساس ہوا۔ وہ رکشا نہیں کوئی اسکوٹر سوارتھا۔ وہ میرے پاس پہنچ کر رُک گیا اور بولا: ’’ممی اس وقت کہاں جائو گی؟‘‘
ایک لمحے کے لیے تو مجھے یقین ہی نہ آیا کہ وہ اشوک ہو سکتا ہے لیکن وہ اُتر کر میرے پاس کھڑا ہو گیا تھا۔ اُس نے ہاتھ بڑھا کر میرا اٹیچی تھام لیا۔
’’میں واپس نہیں جائوں گی بیٹا۔ یہ میرا فیصلہ ہے۔‘‘ اگرچہ میری آواز آنسوئوں سے آلود تھی لیکن سخت اور فیصلہ کن۔
اشوک چپ کھڑا رہا۔ اس نے پورے کپڑے بھی نہیں پہن رکھے تھے۔ اس قدر سردی میں صرف پینٹ اور سویٹر ہی پہنے چلا آیا تھا۔ میرے چلے آنے کے بعد یقیناً سروج ہی گڑگڑائی ہو گی لیکن کچھ بھی ہو، میں واپس جانے کے لیے تیار نہ تھی۔
اشوک نے کچھ سوچ کر کہا: ’’ٹھیک ہے ممی! تم جانا ہی چاہتی ہو تو ضرور جائو لیکن اس وقت تو کوئی بھی گاڑی نہیں جاتی۔ پہلی گاڑی صبح سات بجے جائے گی۔ تب تک کہاں رہو گی۔‘‘
’’اسٹیشن پر انتظار گاہ ہے، لیکن اب تم گھر جانے کے لیے مت کہنا۔‘‘
’’اس طرح بھی ہو سکتاہے ممی کہ تم گھر بھی نہ جائو اور اسٹیشن پر بھی نہیں۔ جہاں اس وقت ممی تم کھڑی ہو نا، اس کے ٹھیک سامنے میرے ایک جاننے والے رہتے ہیں۔ چلو وہیں رہ لو۔ صبح چھے بجے آ کر میں تمہیں لے جائوں گا۔ اسٹیشن چھوڑ آنے کے لیے۔‘‘
یہ تجویز میں نے رد نہ کی۔ رات بھر ان کے گھر کے قریب ہی رہوں گی! ہو سکتا ہے صبح تک سروج معافی مانگنے آ جائے۔ اگرچہ میں اُسے معاف کبھی نہیں کر سکوں گی لیکن ایک بار اسے پشیمان ضرور دیکھنا چاہتی ہوں۔
اشوک مجھے سامنے کے بلاک میں لے گیا۔ دستک دیتے ہی دروازہ کھل گیا۔ کوئی عورت اپنے بچوں کے ساتھ سوئی ہوئی تھی۔ اشوک نے اُسے بتایا کہ یہ میری ساس ہے۔ رات یہاں رہے گی۔
عورت نے جلدی سے میرے لیے اُسی کمرے میں ایک چارپارئی ڈال دی۔ ایک ہی کمرا تھا اُس کے پاس۔ اشوک فوراً واپس چلا گیا۔ اس عورت کے بارے میں مجھے کچھ بھی نہ بتایا لیکن میں اسے دیکھتے ہی سمجھ گئی کہ یہ وہی ہے۔ اسی کے پاس وہ آتا ہے۔ یہ میرے لیے ایک اور صدمہ تھا۔ میں پھنس کر رہ گئی۔
حالات نے مجھے اپنے شکنجے میں بالکل جکڑ سا لیا تھا۔ اس کے پاس رہنا مجھے عجیب سا لگا لیکن میں چارپائی پر پائوں لٹکا کر بیٹھی چکی تھی۔ اس نے بستر بھی بچھا دیا تھا۔ میرے لیے اُٹھنا مشکل ہو گیا۔
اس وقت وہ کمرے میں نہیں تھی۔ رسوئی میں چولہا جلا رہی تھی۔ اس کے ساتھ شاید میں کوئی بات تک نہیں کر سکوں گی۔ بالکل احمقوں کے مانند دیواروں پر لگے کیلنڈر اور تصویریں دیکھنے لگی۔ ایک تصویر کے فریم پر باسی ہار لٹک رہا تھا۔ میں سمجھ گئی اس کا آدمی زندہ نہیں۔ ایک کونے میں بڑے سلیقے سے چار پانچ ٹرنک اُوپر تلے رکھے تھے۔ ایک الماری میں بچوں کی کتابیں اور کاپیاں ترتیب سے لگی تھیں۔ میری نگاہ بچوں پر جا رُکی۔ آٹھ اور دس سال کی دو لڑکیاں گہری نیند میں تھیں۔
اچانک وہ عورت دُودھ سے بھرا ہوا گلاس لے کر آئی۔ میرے سامنے ہاتھ بڑھا کر کھڑی ہو گئی۔ اسے میں نے پہلی مرتبہ غور سے دیکھا۔ نازک نازک نین نقش کی پچیس چھبیس سال کی سانولی سی! میری بیٹی سے کچھ کم ہی جاذبِ نظر۔ ہر ہر لمحہ اپنے وجود کے اندر سکڑتی سمٹتی ہوئی سی۔
اس حقیقت کے احساس سے میری ہی طرح محجوب کہ ہمارے درمیان کبھی کوئی رشتہ قائم نہیں ہو سکتا۔
وہ ہاتھ میں گلاس لیے کھڑی ہی رہی۔ منہ سے کچھ نہ بولی۔ اس کی پیش کش کو قبول کر لینا یا ٹھکرا دینا، دونوں ہی کام میرے لیے مشکل ہو گئے۔ میں اُس کے ساتھ بولنا ہی نہیں چاہتی تھی لیکن مجھے مجبوراً زبان کھولنا پڑی۔ ’’مجھے نہیں چاہیے بیٹی۔‘‘
اسے بیٹی کہہ کر ہی میں کانپ گئی۔ اس کی ذرا سی ہمدردی نے مجھے نرم کر دیا تھا۔ بس ایک لمحے کے لیے میں بھول گئی کہ وہ میری بیٹی کی سوتن ہے۔ دوسرے لمحے اس کی طرف دیکھنا بھی دشوار ہو گیا۔
اس نے اصرار نہ کیا۔ گلاس میرے قریب ایک تپائی پر رکھ کر وہ اپنے پلنگ پر چلی گئی۔ اپنے بچوں کے پاس کچھ دیر بیٹھی رہی، پھر لیٹ گئی۔ رضائی میں پوری طرح چھپ کر۔ میں ابھی تک پائوں لٹکائے بیٹھی تھی۔
بجلی کا بلب روشن تھا۔ روشنی تکلیف دہ بنتی جا رہی تھی۔ اردگرد کی ہر چیز مجھے ہنستی ہوئی سی لگی۔ میں نے اُٹھ کر بتی بجھا دی۔ اندھیرا ہوتے ہی جیسے کئی چہرے غائب ہو گئے۔ زندہ اور متاثر کرنے والی چیزوں کے چہرے۔
اب میں تنہا تھی۔ اپنے اندر داخل ہو کر رات کے مہیب سناٹے سے بچنے کی کوشش کرنے لگی۔ آنکھیں بند کر لیں۔ بے اختیار دونوں ہاتھ بھی جوڑ دیے۔ ذہنی اذیت سے مکتی پانے کے لیے بھگوان کو یاد کیا۔ کیا بھگوان واقعی میری مدد کرے گا؟
میں اسی جگہ بیٹھے بیٹھے غائب ہو جانا چاہتی ہوں۔ یہ دھرتی پھٹ کیوں نہیں جاتی؟ پیشتر اس کے، کہ میں اس کمرے میں پھر سے روشنی دیکھوں۔ روشنی ہوتے ہی سارے مکروہ چہرے پھر سے سامنے آ جائیں گے۔ بھگوان کو اتنی دردمندی سے میں نے پہلے کبھی یاد نہیں کیا تھا۔ میں اس کی طاقت پر اعتماد نہیں رکھتی۔ میرا وشواس ہمیشہ انسان کی نفسیاتی کشمکش میں رہا۔ آدمی روشنی میں بھی سکون پاتا ہے، اندھیرے میں بھی۔ گھپ اندھیرا ہی میرے لیے ایک مقدس وجود بن گیا ہے۔ ہمدرد اور مہربان اور طاقتور وجود! میں اس کی گود میں سر ڈال کر رو بھی سکتی ہوں۔
اچانک میں نے خود کو روتے ہوئے سنا۔ بہت حیران ہوئی کہ میں سچ مچ رو رہی ہوں۔ دونوں ہاتھوں میں منہ ڈھانپے اونچی آواز میں رو رہی ہوں۔ دن بھر تو میں نے خود کو رونے سے روکے رکھا بلکہ کافی برسوں سے! میرے اختیار میں اب ضبط نہیں رہا۔ جب تک چاہوں رو سکتی ہوں۔ عام طور پر میں کسی عورت کو روتا ہوا نہیں دیکھ سکتی۔ مجھ سے دیکھا ہی نہیں جاتا۔ عورت اتنی کمزور کیوں ہے؟ وہ اتنی مجبور تو نہیں کہ بات بات پر آنسو بہانے بیٹھ جائے۔ لیکن اب مجھے احساس ہو رہا تھا کہ عورت واقعی کمزور ہے۔ میں یہاں کیوں آ گئی؟ یہاں میرا کیا کام؟ بیٹی کو ایک بار پھر اس کے مرد کے حوالے کر دیا۔ اسے قابو میں رکھنے کے لیے وہ لڑتی کیوں نہیں؟ جیسے اس نے اپنی ماں کے منہ پر تھپڑ مارا، اسی طرح اپنا حق چھیننے والے کے منہ پر بھی لگا سکتی ہے لیکن اس کی ماں اس کی سوت ہرگز نہیں۔ یہ اس کی بھول ہے۔
یہ سوچ کر مجھے کچھ تسکین سی ملی۔ سروج نے اپنے مرد کے لیے لڑنے کی خاطر پہلا تھپڑ اپنی ماں کے منہ پر مارا ہے۔ اسے یہی کرنا چاہیے تھا۔ مجھے اپنے اندر کا درد کچھ کچھ کم ہوتا محسوس ہوا۔ میرے آنسو بھی تھم گئے۔ میں نے سسکنا بند کر دیا۔ ڈوپٹے سے چہرہ پونچھ ڈالا۔ کئی گھنٹوں کے بعد آنکھیں کھول کر ادھر ادھر دیکھا۔ تھوڑی تھوڑی روشنی باہر سے آ رہی تھی۔ صبح ہو چکی تھی۔ میرے سامنے پلنگ پر وہ تینوں ایک ہی رضائی میں دبکی پڑی تھیں۔ اشوک ابھی تک کیوں نہیں آیا؟ اس عورت کو میں پھر نہیں دیکھنا چاہتی۔
میں نے وہاں سے چلے جانےکا فیصلہ کر لیا۔ چپکے سے چوروں کی طرح کوئی آہٹ کیے بغیر میں باہر آ گئی۔ باہر آ کر یوں لگا جیسے طویل قید سے رہائی ملی ہے۔ چھے بج چکے تھے۔ آج بھی کہرا چھایا ہوا تھا۔ اشوک نہیں آیا لیکن میں خود اسٹیشن پر پہنچ سکتی ہوں۔
میرے قدم اسٹیشن کے بجائے اُن کے گھر کی طرف اُٹھنے لگے۔ ایسا نہ چاہتے ہوئے بھی میں اسی سمت میں بڑھتی گئی۔ نیم ارادہ، نیم رضامند۔ بار بار یہی سوچ کر من کو ورغلاتی گئی کہ ان کے گھر کے سامنے سے ہو کر سیدھی نکل جاؤں گی۔ وہاں ہرگز نہیں رکوں گی۔ کوئی دکھائی دے گا تب بھی نہیں۔
مجھے یاد آیا سروج جب چار سال کی تھی، میرا کہنا نہیں مانتی تھی۔ بار بار فراک اُٹھا کر منہ میں ڈال لیتی۔ یہ بات مجھے بہت بری لگتی۔ اسے کتنا منع کیا، دھمکایا اورمارا بھی لیکن وہ بھی بہت ضدی تھی۔ ناچار اُس کے ساتھ میں نے بولنا چھوڑ دیا۔ اس سے روٹھ سی گئی۔ کتنی دیر تک اسی طرح روٹھی روٹھی پھرتی رہی۔ اس نے پہلے تو اس بات کو قطعاً محسوس نہ کیا لیکن پھر سمجھ گئی۔ اپنے ننھے ننھے قدموں سے میرے پیچھے پیچھے گھومنے لگی۔ لیکن یہ دیکھنے کے لیے کہ میں کب تک اس سے روٹھی رہوں گی؟ بیچاری کو منانے کا ڈھنگ نہیں آتا تھا۔ جب میں نے دیکھا کہ اُس نے دو تین گھنٹے سے منہ سے فراک نہیں پکڑا ہے تو مسکرا کر اسے گلے سے لگا لیا۔ اس سے آئندہ ایسا کبھی نہ کرنے کا وعدہ بھی لے لیا۔
گھر کے سامنے پہنچ کر جی چاہا ذرا سا اندر جھانک بھی لوں۔ اُن کے دروازے ابھی تک بند کیوں پڑے ہیں؟ صبح تو ہو چکی۔ اس وقت دونوں ہی بیڈ ٹی پینے کے عادی ہیں۔ کون چائے بنا رہا ہو گا۔ سروج یا اشوک؟
پھاٹک کو ہاتھ لگایا تو وہ کھلا تھا میں اندر چلی گئی۔ برآمدے میں بہت سی کراکری ٹوٹی پڑی تھی۔ کئی اور چیزیں بھی۔ یہ دیکھ کر میرا دل پھر ڈوبنے لگا۔ مکان میں گہری خاموشی تھی۔ جیسے اندر کوئی بھی نہ ہو۔ سب چھوڑ کر چل دیے ہوں۔ ان کی خوابگاہ تک پہنچنے تک میرے پاؤں کے نیچے کئی چیزیں آئیں۔ ایک کھڑکی کھلی تھی جس پر دبیز پردہ پڑا تھا۔
میں نے بڑی بے صبری سے ہاتھ بڑھا کر پردے کو ذرا سا ہٹا دیا۔ کمرے کے اندر بھی ہر چیز بکھری پڑی تھی۔ کپڑے، کرسیاں! لیکن وہ دونوں ایک ہی پلنگ پر گہرہاتھوں میں ہاتھ دیے گہری نیند سو رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں
https://shanurdu.com/haseena/
٭٭٭

Previous article
Next article

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles