32 C
Lahore
Thursday, July 18, 2024

Book Store

این جی او

این جی او

تحسین گُل

بدگمانی کا زہر زندگی میں گھول دینے والی ایک مفاد پرست عورت کی عبرت اثر داستان

بات شروع ہوئی تھی ایک ٹوٹے ہوئے وائپر سے اور جا رُکی شمائلہ کی این جی او تک۔ رُکیے آپ کو بات سمجھانے کے لیے مجھے ایک برس پیچھے جانا پڑے گا۔ میرے گھر چند برسوں سے نو دس برس کی ایک بچی مانگنے آتی تھی۔ میں کبھی اسے پیسے دے دیتی، کبھی پھل یا سالن۔ بہرحال یہ روزانہ کا معمول تھا۔
ایک رات اچانک میری طبیعت خراب ہوئی۔ پیٹ کے ایک طرف درد کی لہر اُٹھی۔ درد اچانک اتنا تیز ہوا کہ مجھ سے برداشت نہ ہو سکا۔ گھر والے مجھے ہسپتال لے کر گئے۔ پتا چلا کہ اپنڈکس کی تکلیف ہے۔ آپریشن ہو گا۔ فوری طور پر آپریشن ہوا۔ دو دن بعد میری گھر واپسی ہوئی۔ دسمبر کی چھٹیاں تھیں لہٰذا بچے گھر پر تھے۔ کام کاج کا کوئی مسئلہ نہ تھا مگر دس دن بعد بچے کالج جانا شروع ہو گئے۔
میرے گھر میں کام کاج کے لیے کوئی ماسی نہ تھی۔ میں سارا کام خود کرتی ہوں۔ اب میرے بچے پریشان تھے کہ ماما گھر کا کام کیسے کریں گی۔ اچانک مانگنے والی بچی آ گئی۔ میں نے اپنی بیٹی سے کہا:
’’فاطمہ! اس بچی کو اندر بلائو۔‘‘
وہ اس کو اندر لے آئی۔ میں نے اس سے پوچھا، ’’بیٹا میرے گھر صفائی کا کام کرو گی؟‘‘
وہ بولی: ’’جی باجی! میں اس گلی میں ایک اور گھر میں بھی کام کرتی ہوں۔ وہ باجی مجھے ڈیڑھ سو روپیہ دیتی ہے۔ میں آپ کا کام بھی کر دیا کروں گی۔ کتنے بجے آنا ہو گا؟‘‘
میں نے اس سے کام کے اوقات طے کیے اور کہا، ’’کیا آج تم کام کر دو گی؟‘‘
’’جی باجی کر دوں گی۔‘‘ وہ فوراً بولی۔
’’فاطمہ بیٹا، اس سے ذرا کام کروا لو اور ذرا طریقہ بھی سمجھا دو کہ کس طرح کام کرنا ہے۔‘‘
’’جی ماما ٹھیک ہے۔‘‘ میری بیٹی بولی اور اس کو لے کر کمرے میں چلی گئی۔ وہ کام کاج کرنے کے بعد چلی گئی تو میری بیٹی آئی اور بولی، ’’ماما بچی ذہین ہے، کام جلدی سیکھ گئی ہے۔ ایک بار ہی بتانا پڑا۔ اب مجھے آپ کی طرف سے بے فکری ہو گئی ہے۔‘‘
’’چلو بیٹا شکر ہے کہ اللہ نے سبب بنا دیا۔‘‘
اگلے دن بچوں کے جانے کے بعد وہ قریباً گیارہ بجے وہ بچی چلی آئی۔ اب میری حالت اتنی سنبھل گئی تھی کہ میں چل پھر اور ہلکا پھلکا کام کر سکتی تھی۔ بچی کا نام عابدہ تھا۔ کام تو وہ بہت اچھا کرتی مگر بولتی بہت تھی۔ بہرحال مجھے اس کے آنے سے بہت آرام ہو گیا۔
شمائلہ کون ہے؟ اب اس کا تعارف بھی ہو جائے۔ وہ میری ایک پرانی اور قریبی دوست ہے۔ ہماری دور پار کی رشتہ دار بھی ہے۔ اتفاق کی بات میرے گھر کی ایک گلی چھوڑ کر اس کا گھر ہے۔ لہٰذا ہفتے میں ایک دو دن بعد میری اور اس کی ملاقات ضرور ہو جایا کرتی۔ شمائلہ عورتوں کے حقوق کی ایک این جی او کی نائب چیئرمین ہے اور بہت سرگرم رکن ہے۔ جہاں عورتوں کے حقوق کی بات ہو وہاں سرفروشانہ انداز میں مقابلہ کرتی ہے۔ یہ بات الگ کہ گھر میں شوہر اس کے سرفروش کردار کی تاب نہ لا کر اکثر زیرِدام آتا اور عورتوں کے حقوق کے لیے رضاکارانہ طور پر اپنے حقوق سے دستبردار ہو جاتا ہے۔
ایک صبح شمائلہ کی میرے گھر آمد ہوئی تو عابدہ لائونج میں پوچا لگا رہی تھی۔ بچی کوکام کرتے دیکھ اس کی چیخ نکل گئی۔ میرے ہاتھ سے اخبار چھوٹ گیا۔ گھبرا کر بولی : ’’شمائلہ کیا ہوا؟‘‘
مجھے دیکھ کر وہ بولی، ’’ماجدہ تم اتنی ظالم ہو، اتنی سی بچی سے صفائی کروا رہی ہو۔ یہ معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی ہے۔‘‘
میں نے گہرا سانس لیا اور بولی، ’’شمائلہ اس معصوم بچی کے نو بہن بھائی ہیں۔ باپ بیمار ہے۔ بڑی بہن کی شادی ہونے والی ہے۔ اس کو پیسوں کی اشد ضرورت ہے جو بغیر کام کے نہیں ملتے۔ دوسری بات یہ کہ اس کو یہاں صرف ایک گھنٹہ کام کرنا پڑتا ہے۔ اچھا کھانا ملتا ہے۔ چائے ملتی ہے۔ میں فارغ ہونے کے بعد اس کو سکول کا سبق پڑھاتی ہوں۔ قرآن پاک پڑھا دیتی ہوں۔ جبکہ گھر پر یہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو سنبھالتی ہے۔ ابا ، اماں کی جھڑکیاں کھاتی ہے اور پڑھائی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لہٰذا یہاں وہ جو وقت گزارتی ہے وہ بہت بہتر ہے بہ نسبت اس سے جو وہ اپنے گھر گزارتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ وہ یہاں عارضی کام کر رہی ہے۔ جب میں تندرست ہو جائوں گی تو اس سے کام نہیں کروائوں گی۔ البتہ قرآن اور پڑھائی جاری رہے گی۔‘‘
یہ باتیں سن کر شمائلہ ہونٹ سکیڑ کر بیٹھ گئی اور بولی، ’’ذرا اچھی سی چائے تو پلوائو۔‘‘
میں اس کی بات سن کر ہنس پڑی اور بولی: ’’کیا عابدہ سے منگوا لوں؟‘‘
شمائلہ زور سے ہنس پڑی اور میں چائے بنانے چل دی۔ عابدہ کی ایک بری عادت تھی وہ وائپر چلاتے ہوئے اس کو بہت زور سے دبا کر فرش پر پھیرتی تھی۔ میں نے اسے کئی بار ٹوکا ’’ اس طرح وائپر پر زور مت ڈالا کرو۔ یہ جلدی ٹوٹ جائے گا۔‘‘ مگر وہ ہمیشہ سنی ان سنی کر دیتی۔
آخرکار ایک دن وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ وائپر ٹوٹ گیا۔ میں نے اسے گھُرکا، ’’دیکھا میں کہتی تھی کہ اس کو زور سے مت دبائو۔ اب دوسرے وائپر سے کام چلائو۔ میں اس کو ٹھیک کروا لوں گی۔‘‘
عابدہ بولی، ’’باجی آپ کی گلی کے اگلے موڑ پر ایک ویلڈنگ والا ہے۔ میں اس سےٹھیک کروا لوں گی۔‘‘
’’نہیں نہیں۔‘‘ میں فوراً بولی، ’’تم مت جانا، میں اپنے بیٹے کو دوں گی وہ ٹھیک کروا لے گا۔‘‘
اگلے دن میں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ وہ وائپر ٹھیک کروا لائے۔ وہ وائپر اُٹھا کر چلا گیا۔ پانچ منٹ بعد واپس آیا تو بولا: ’’ماما وہ وائپر ٹھیک نہیں کر رہا ۔کہتا ہے کہ اسے پھینک دیں۔ یہ اگر جُڑ بھی گیا تو دوبارہ جلد ٹوٹ جائے گا۔‘‘ میں نے اپنی بیٹی سے کہا کہ وائپر کو باہر رکھ دے۔ صبح عابدہ آئے گی تو باہر کوڑے کے ڈرم میں پھینک دے گی۔
میری بیٹی نے وائپر اٹھا کر باہر پورچ میں رکھ دیا۔ دن کو شمائلہ آئی۔ بازار جانے کا ارادہ تھا۔ مجھے بھی ساتھ لے گئی۔ قریباً تین گھنٹوں کے بعد ہماری واپسی ہوئی۔ میں اندر لائونج میں آئی تو سیڑھیوں پر وائپر دھرا تھا۔ میں نے کوفت سے اپنی بیٹی کو دیکھا اور بولی، ’’گڑیا میں نے آپ سے کہا تھا کہ اسےعابدہ کو دے دینا۔ وہ کوڑے کے ڈرم میں ڈال آئے گی۔ تم نے پھر اس گند کو سجا کر رکھ دیا۔‘‘
بیٹی بولی، ’’عابدہ وائپر ٹھیک کروا لائی ہے۔‘‘
’’کیسے؟‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا۔ ’’تمہارے بھائی کو تو اس نے انکار کر دیا تھا۔‘‘
میری بات سن کر شمائلہ ایک دم چونک کر بولی، ’’کیا کہا تم نے؟ اس نے علی کو انکار کر دیا تھا اور تمہاری کام والی بچی کو ٹھیک کرکے دے دیا۔‘‘
میں ہڑبڑا گئی۔ مجھے یقین ہو گیا کہ شمائلہ کی این جی او والی روح جاگ اٹھی ہے۔ میں ایک دم بولی، ’’ارے نہیں ایسی بات نہیں۔ اس نے بچی سمجھ کر ٹھیک کر دیا ہو گا۔‘‘
’’اوہوں نہیں۔‘‘ شمائلہ نے شکار گھیرنے والی نظریں اُوپر نیچے گھماتے ہوئے کہا، ’’بی بی! ہوش میں آئو۔ آج کل یہی تو ہو رہا ہے۔ ہم ایسے ہی تو نہیں شور مچا رہے۔ جہاں لڑکی دیکھی، چاہے وہ معصوم بچی ہی کیوں نہ ہو، یہ درندے تاک میں بیٹھے ہیں۔ تم عابدہ کو بلائو میں ابھی اس سے پوچھتی ہوں۔ پھر یہ خبر اپنی این جی او کو دیتی ہوں۔ ہمیں ایسی بچیوں کی حفاظت کرنی چاہیے۔ اگر کوئی ایسی ویسی بات ہو گئی تو تم بھی رگڑے میں آئو گی۔‘‘
’’شمائلہ خدا کے لیے بس کرو۔‘‘ میں کراہی۔
’’عابدہ…عابدہ….‘‘ شمائلہ نے زور سے عابدہ کو آواز دی۔
’’جی باجی۔‘‘ عابدہ اس کے سامنے آ کر بولی۔ ’’آپ نے مجھے بلایا۔‘‘
’’ہاں۔‘‘ شمائلہ بولی۔ ’’آدھر آئو میرے پاس بیٹھو اور میری بات کا جواب ذرا اچھی طرح سے سوچ اور صحیح طرح سے یاد کرکے بتانا۔‘‘
عابدہ نے گھبرا کے میری طرف دیکھا، میں نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ ’’یا اللہ میری مدد کرنا۔‘‘ میں دل ہی دل میں کراہی۔
’’عابدہ! یہ وائپر آپ نے ٹھیک کروایا ہے؟‘‘ شمائلہ نے عابدہ سے سوال کیا۔
’’جی باجی!‘‘
’’کہاں سے؟‘‘
’’گلی کے اگلے موڑ پر ویلڈنگ والا ہے، اس سے۔‘‘
’’تمہیں پتا ہے کہ علی بھائی بھی وائپر لے کر گیا تھا۔ اسے تو اس نے انکار کر دیا تھا مگر تمہیں ٹھیک کر دیا۔ کیا وجہ ہے؟‘‘
عابدہ ٹکر ٹکر اس کا منہ دیکھنے لگی۔
’’اچھا بتائو۔‘‘ شمائلہ نے اگلا سوال کیا، ’’کیا کبھی اس نے تمہیں اپنے پاس بیٹھنے کو کہا؟‘‘
’’کس نے باجی؟‘‘ عابدہ نے سوال کیا۔
’’ویلڈنگ والے نے۔‘‘
’’جی باجی۔‘‘
شمائلہ نے معنی خیز نظروں سے میری طرف دیکھا اور پھر بولی ۔ ’’کیا کبھی اس نے تمہیں الگ جگہ پر بیٹھنے کو کہا؟‘‘
’’جی باجی، وہ کہتا ہے کہ ادھر مردوں سے ذرا دور ہو کر بیٹھا کرو۔‘‘
شمائلہ کی آنکھوں میں اپنا شکار پکڑ لینے کی چمک لہرائی اور میری گردن دھیرے دھیرے جھکتی گئی۔
’’کیا کبھی اس نے تمہیں پیسے دیے؟‘‘
’’اکثر دیتا ہے۔‘‘
شمائلہ نے میری طرف دیکھا تو یوں لگا جیسے کہہ رہی ہو دیکھا میں نہ کہتی تھی۔
میں نے اپنی نظریں نیچے کر لیں۔ دل چاہتا تھا کہ کہیں منہ چھپا کر بیٹھ جائوں۔
شمائلہ نے اس سے اگلا سوال کیا، ’’کیا کہتا ہے جب پیسے دیتا ہے؟‘‘
’’کچھ نہیں، کبھی کہتا ہے کوئی چیز لے لینا اور کبھی کہتا ہے اماں کو دے دینا۔‘‘
’’اماں…! کیا مطلب؟‘‘ شمائلہ نے حیرت سے پوچھا۔
’’اماں کو کیوں کس لیے؟ کیا تمہاری اماں بھی اس سے ملتی ہے؟‘‘ شمائلہ نے تیزی سے پےدر پے سوالات کیے۔
یااللہ میں کس گرداب میں پھنس گئی۔ میرا دل ڈوبا جا رہا تھا۔
’’ہاں…‘‘ اماں کو۔
’’کیوں…کیوں…‘‘ شمائلہ تڑپ کر بولی، ’’تمہاری اماں اس کی کیا لگتی ہے؟‘‘
’’اماں اس کی اماں لگتی ہے۔‘‘
’’کیا مطلب…؟‘‘ شمائلہ نے الجھن بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
’’اماں اس کی اماں ہی لگتی ہے۔ وہ میرا بڑا بھائی ہے۔‘‘
اس کی بات سن کر شمائلہ کی حالت ایسی ہو گئی جیسے شکاری کے ہاتھ سے شکار نکل جائے اور میرا دل کر رہا تھا کہ اسی وائپر سے شمائلہ کا سر پھوڑ دوں…بڑی آئی این جی او والی۔
٭٭٭

Previous article
Next article

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles