33 C
Lahore
Tuesday, June 18, 2024

Book Store

استحقاق

استحقاق

منزہ نصیر

پھولی سانسوں کے ساتھ ہانپتی کانپتی چھیمو شام سمے آپا جان کے سامنے اچانک آن کھڑی ہوئی۔

قران پڑھنے والے بچے ابھی ابھی اپنے گھروں کو سدھارے تھے۔ آپا جان، جو سعدیہ کو گھر کی ترتیب درست کرنے کا کہتی ہوئی نمازِ مغرب کی تیاری کر رہی تھیں، چھیمو کو دیکھ کر ہکا بکا رہ گیئں۔ ابھی دو گھنٹے قبل تو وہ اپنا کام ختم کر  کے گئی تھی۔
“۔الٰہی خیر کرنا۔” آپا جان دہل ہی تو گئیں
چھیمو نے فریج کھولا اور غٹاغٹ دو گلاس پانی چڑھا گئی۔ اس کی سانولی جلد کے نیچے انار چھوٹ رھے تھے۔
چھیمو، تمہیں کتنی دفعہ سمجھایا ہے کہ پانی تین سانس میں اور بیٹھ کر پیتے ہیں،” پریشانی کے عالم میں بھی وہ ٹوکے بغیر نہ رہ سکیں۔
آپا جان مجھے مبارکباد دیجیۓ۔”۔ وہ ان کی ڈانٹ کو قطعی نظر اندازکرتے ہوئے بولی۔
کیا ہوا چھیمو؟ کس بات کی مبارکباد؟ میں تو پریشان ہی ہو گئی تھی تمھاری پھولی سانسوں کو دیکھ کر۔۔
میں عمرے پر جاؤں گی جی۔ اللہ سوہنے کے گھر سے منظوری آ گئی۔ اللہ سوہنے کے گھر کے گرد پھیرے لگاؤں گی۔ نبی ﷺ سوہنے کا روضہ مبارک دیکھوں گی۔ اللہ پاک کا کرم ہو گیا جی مجھ ماڑی گریبڑی پر۔” اس کا لہجہ جیسے رقص کرتا تھا اور خوشی اور عقیدت کے مارے آنکھوں سے آنسو بہتے تھے۔
آپا جان پر حیرت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ۔ چند سیکنڈ تک تو بنا پلک جھپکے یوں دیکھا کیں گویا چھیمو کے پر نکل آۓ ہوں اور وہ بھی سونے کے ۔۔۔۔۔ پھر خود کو سنبھالتے ھوئے چھیمو کو گلے لگا لیا ۔
“مبارک ہو چھیمو! اللہ نے تمھاری سن لی۔ لیکن یہ ہوا کیسے؟”
جی ،وہ شائستہ باجی ہیں نا، جن کے شوہر کی کپڑے کی مل ہے۔ وہ سارے خاندان سمیت عمرے پر جا رہی ہیں آپ کو تو پتا ہے کہ ان کی ساس بوڑھی ہیں، تو وہ اپنی ساس کی دیکھ ریکھ کے لیے مجھے ساتھ لے جانا چاہتی ہیں۔”چھیمو کا سانس قابو میں نہ آتا تھا۔ جوش سے ابلی پڑتی تھی۔
چلو یہ تو اللہ نے اچھا سبب بنا دیا۔ اللہ ان کو بھی جزاۓ خیر عطا فرماۓ۔ اور ہاں! اپنے بچوں کو کس کے پاس چھوڑ کر جاؤ گی؟
نشئی سے کہہ دوں گی (شوہر کا نام نہ لیتی تھی بلکہ نفرت بھرے لہجے میں نشئی پکارتی تھی )کہ گاؤں چلا جاۓ اور میرے آنے تک وہیں رہے۔ آپا حنیفاں کا ترلا کر لوں گی۔ آخربہن ہے میری۔ کچھ دن تو میرے بچوں کے پاس رہ لے گی۔
وہ مان بھرے لہجےمیں بولی۔ گویا کہ اس نےساری منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔
“میں کل چھٹی کروں گی آپا جان۔ شائستہ باجی کے ساتھ “پاس پورٹ” کے دفترجانا ہے۔” اس نے پاسپورٹ کے “ر” اور ” ٹ” پر خصوصی زور دیا۔ اس کا لہجہ اس لجاجت اور منۤت بھرے انداز سے خالی تھا جو چُھٹّی مانگتے وقت اس کا خاصہ تھا۔ بلکہ لہجے میں ایک عجیب سی تمکنت در آئی تھی ۔۔۔
آپا جان سوچ بھری آنکھوں سے دیکھ کر رہ گیئں۔۔۔۔۔
ہاں بھئی، بڑے کے گھر جو جا رہی ہے۔ اب تو چھل بل نیاری ہی ہو گی۔۔۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

یہ آپا جان کی بردبار شخصیت کا ہی کمال تھا کہ چھیمو جیسی ہٹیلی اور زبان دراز عورت پچھلے پانچ سال سے ان کے ہاں ملازمت پر ٹکی ہوئی تھی۔  اب تو ان کے سمجھانے بجھانے اور تربیت سے وہ کچھ سنبھل بھی گئی تھی ۔ورنہ یہی عورت تھی کہ چھے ماہ سے زیادہ کہیں کام نہ کر پاتی۔ ذرا سا کسی نے ٹوکا نہیں اور چھیمو بی کی زبان چلنا شروع۔۔۔۔
ایسے تو تڑاخ سے جواب دیتی کہ بیگمات حساب تھما کر چلتا کر دیتیں۔ پھر جب شوہر نشہ نہ ملنے پر ہڈیاں توڑتا، بچے بھوک سے بلکنے لگتے، مالک مکان گھر سے نکالنے کی دھمکیاں دینے لگتا تو بکتی جھکتی پھر سے کام کی تلاش میں نکل کھڑی ہوتی۔
یونہی پٹی پٹائی اور روتی دھوتی ایک دن وہ آپا جان کے پاس پہنچی تھی۔ ایک ہمدرد پڑوسن اس کو سفارشی بن کر ساتھ لائی تھی۔
آپا جان اس کو کام پہ رکھ لیں۔ آپ کو تو آج کل ضرورت بھی ہے ۔۔۔۔ یہ شُہدی بھی بڑی ضرورت مند ہے۔ ایماندار عورت ہے جی، چوری ووری بالکل نہیں کرتی۔
چھیمو کی پڑوسن اسے کام پر رکھوا، اور ایمانداری کی سچی گواہی دے کر چلتی بنی مگر آپا جان پر اصل جوہر کھلنے میں بس تین دن ہی لگے، کیونکہ اس نے برتن دھونے کے لیکویڈ کی بوتل ختم کرنے میں بھی اتنے ہی دن لگاۓ تھے۔ آپا جان کے استفسار پر منہ بگاڑ کر بولی۔
ختم تو ہونا ہی تھا جی۔ برتن بھی تو تھوڑے نہیں ہوتے آپ کے گھر۔ اب میں پی تو نہیں جاتی۔
آپا جان پیشے کے اعتبار سے معلّمہ تھیں۔ ہزاروں کو سدھار چکی تھیں۔ انہوں  نے چھیمو کو نکالنے کے بجاۓ اپنا ہنر آزمانے کا صبر آزما فیصلہ کر لیا۔ صبر آزما اس لیے کہ چھیمو کوئی کچی عمر کی نادان طالبہ نہ تھی، موٹے دماغ کی پنتیس سالہ عورت تھی، جو تین بچوں کی ماں بھی تھی۔
چھیمو، بہت افسوس ہوا تمہاری بات سن کر۔ میں تم سے کم از کم دس سال بڑی ہوں۔ کیا تمہیں مجھ سے ایسے بات کرنی چاہیے؟ وہ نرم لہجے میں گویا ہوئیں۔
چھیمو کے چہرے پر شرمندگی کا ہلکا سا عکس تو لہرایا مگر جب بولی تو انداز میں وہی پھوہڑ پن تھا۔
” تو آپ ہی بتا دیں وہ طریقہ، کہ بوتل پورا مہینہ چلے۔ میں تو ایسے ہی کام کرتی ہوں۔”
اگر آپا جان اپنے مزاج پر قابو پانے والی نہ ہوتیں تو چھیمو بی اپنی تین دن کی تنخواہ مٹھی میں دباۓ گھر کی دہلیز پار کر رہی ہوتی مگر انہوں  نے اس معاملے سے چابکدستی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا اور الماری سے دوسری بوتل نکال کر سنک پر رکھتے ہوۓ بولیں
میں تمہیں طریقہ ہی بتانے والی ہوں۔ اس بوتل کو کھولو اور ایک چمچ لیکوئڈ اس پیالی میں ڈالو، پھر آدھی پیالی پانی سے بھر لو۔۔۔۔ ہاں شاباش۔۔۔۔۔ اب سپنچ کو مٹھی میں دبا کر پانی نکال دو اور ہلکا سا پیالی میں ڈبو کر نکال لو۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت اچھے۔۔
اب اس کو پلیٹوں اور گلاسوں پر ملتی جاؤ۔۔۔۔۔ واہ۔۔۔ دیکھو تو کتنے زیادہ برتن صاف ہو گئے۔۔۔۔!!” وہ اپنے مخصوص دھیمے انداز میں ہدایات دیتی رہیں۔
اور یہ چھیمو کو دیا گیا پہلا سبق تھا۔ پھر تو یہ روز کا معمول ہو گیا۔۔
آپا جان اسلامیات کی اسسٹنٹ پروفیسر تھیں۔ ان کی ساس جب تک حیات رہیں، ملازمت کوئی مسئلہ نہ بنی مگر ساس کے انتقال کے بعد گھریلو ذمہ داریوں کو اولیّت دیتے ہوۓ قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی۔ تعلیم ان کے نزدیک پیشہ نہ تھی بلکہ مشن کا درجہ رکھتی تھی، چنانچہ سوسائیٹی کی بچیوں کو گھر پر ناظرہ قران پاک اور ترجمہ و تفسیر کی تعلیم دینے لگیں۔
وہ قران و سنت کی روشنی میں بچیوں کی سماجی اورمعاشرتی تربیت بھی کرتی تھیں۔ ان کے نرم مزاج اور دلنشین انداز تعلیم نے اہل علاقہ کو ان کا گرویدہ کر دیا تھا۔ اسکول اور کالج جانے والی بچیاں شام کو آپا جان کی کلاس میں دو گھنٹے لیے حاضری ضرور دیتیں۔ چھوٹے بچوں کی ناظرہ کلاس اس کے علاوہ تھی۔
چھیمو کا شوہر رکشا چلاتا تھا۔ کسی ہم پیشہ  نے نشے پر لگا دیا۔ رکشا بیچ کر رقم نشے میں اڑا دی۔ آٹھ سالہ بیٹی کے بازو کی ہڈی فریکچر ہوئی تو گاؤں کے اناڑی عطائیوں کے ہاتھوں غلط جڑ گئی ۔ سرکاری ہسپتال والوں  نے آپریشن کا خرچہ ایک لاکھ روپے بتایا تھا۔
چھیمو پہلے ہی کام میں پھوہڑ، زبان کی تیز اور عقل کی موٹی تھی۔ کچھ حالات کی تلخی نے جلتی پر تیل ڈالا اور اس طرح یہ تباہ و برباد عورت شومئی قسمت، آپا جان تک کیا پہنچی، اس کے دن بدلنے لگے. زبان کی تیزی اور پھوہڑپن میں کمی آئی تو کام بھی ملنے لگا۔
سوکھے دھانوں پانی کیا پڑا، آرزوؤں کی نئی نئی کونپلوں نے سر اٹھانا شروع کر دیا۔ چھیمو کی عمرہ پر جانے کی آرزو  نے تو آپا جان کو حیران ہی کر ڈالا۔۔۔۔
اری یہ بیٹھے بٹھاۓ عمرے کا شوق کیونکر پال لیا؟ چار پیسے ہاتھ آئیں تو لڑکی کا علاج کرواؤ۔
“علاج بھی ہو جاۓ گا آپا جان۔ پہلے عمرہ تو کر لوں ۔ میری نند زینت کے منہ پر جوتا تو پڑ جاۓ۔”
ارے چھیمو، یہ کیا کہ رہی ہو؟ عمرہ اللہ کی رضا کے لیے کیا جاتا ہے یا کسی کو نیچا دکھانے کے لیے؟ توبہ کرو اللہ سے۔
چھیمو کی جہالت سے وہ کوئی خاص حسنِ ظن نہ رکھتی تھیں مگر وہ اس حد تک جا سکتی ہے، یہ ان کے گمان سے باہر تھا۔
چھیمو کے نتھنے پھڑکنے لگے، ہونٹوں کے زاویے بدلے اور آنکھوں سے آنسو بہ نکلے۔ پھر منہ پر ڈوپٹا ڈال کر جو روئی تو ایک آپا جان ہی کیا، گھر کا گھر پریشان ہو اُٹھا۔
رو دھو کر دل کا غبار ہلکا ہوا تو سوں سوں کرتے ہوۓ سوال پوچھنے لگی۔” اللہ نے آپ کو علم دیا ہے آپا جان ۔۔ ایک بات مجھے بھی بتا دیں ۔ کیا اللہ صرف مردوں کا ہے؟ عورتیں کیا کریں اور کہاں جائیں؟
زینت کہتی ہے کہ اللہ نے اس کو اس لیے بلایا ہے کہ وہ اپنے شوہر کی خدمت کرتی ہے اور شوہر کی خدمت کرنے والیاں نیک بیبیاں ہوتی ہیں ۔ جس کا شوہر خوش اس سے اللہ بھی خوش۔۔۔ اور میں اپنے شوہر سے زبان درازی کرتی ہوں۔ اس کو برا بھلا کہتی ہوں۔
گاؤں کے مولوی صاحب کہتے ہیں کہ ایسی عورتیں جہنم میں جائیں گی۔ اللہ پاک ایسی دوزخی عورتوں کو بھلا اپنے گھر کیوں بلاۓ گاَ؟ آپا جان میں اس مرن جوگے(شوہر کا نام لینا عرصہ پہلے چھوڑ چکی تھی۔ ایسے القابات سے ہی بلاتی تھی) کی روٹی پانی کا خیال رکھتی ہوں، گھر کا کرایہ دیتی ہوں۔ بجلی کا بل بھرتی ہوں تاکہ پنکھا چلتا رہے اور وہ ہوا لیتا رہے۔ اور کیا خدمت کروں اس نشئی کی؟
جو کچھ زینت نے کہا غلط کہا چھیمو! اللہ  نے مرد عورت کو ساتھی بنایا ہے اور دونوں کی حدود مقرر کی ہیں، اور جہاں حدود کا خیال نہ رکھا جا سکے، وہاں علیحدگی کا حکم ہے۔ اگر یہ صحیح اسلامی معاشرہ ہوتا تو تم اس کو کھلانے پلانے کی پابند نہ تھیں اور بڑی آسانی سے اس کو چھوڑ سکتی تھیں۔
مگریہ ہندو روایات سے متاثر معاشرہ ہے۔ جہاں پتی پرمیشور ہوتا ہے اور عورت اس کی باندی۔۔۔
تم بالکل فکر نہ کرو، تم جیسی محنت مزدوری کر کے حلال روزی کمانے والی عورت بھلا کیسے جہنمی ہو سکتی ہے۔ بس اب نہ رو میری بہن ۔۔۔ اللہ سے دعا کرو۔ وہ تمہاری جائز خواہشوں کو پورا کرنے والا ہے ۔ اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں۔” چھیمو کو گلے لگا کر اس کی پیٹھ تھپکتے ہوۓ انہوں نے صدقِ دل سےدعا کی کہ مالک! اپنی مجبور بے کس بندی کا بھرم رکھ لے۔

*****************************************

کچھ چھیمو کی لگن اور کچھ آپا جان کی خلوصِ دل سے مانگی گئی دعا کا اعجاز تھا شاید۔۔۔ رحمتِ خداوندی  نے جوش مارا اور چھیمو کی درخواست پر منظوری کی مہر ثبت ہو گئی۔
جاتی گرمیوں کی اس خوشگوار شام میں خوشی سے لال و لال چہرہ لیے وہ آپا جان کو خوشخبری سنا رہی تھی۔ بس پھر کیا تھا۔ دو ماہ کے اندر اندر ویزہ ،پاسپورٹ اور ٹکٹ وغیرہ کے مراحل طے ہو گئے اور چھیمو عمرے کی سعادت حاصل کر کے واپس لوٹ آئی۔
انہی دنوں میں ایک نئی قسم کی بیماری کی خبریں پھیلنے لگیں۔ کورونا نامی یہ بیماری دنیا کو تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی۔ تمام تر احتیاطی تدابیر کے باوجود وطنِ عزیز میں بھی در آئی۔ لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ۔ کاروبارِ زندگی جیسے رک سا گیا۔ گھروں میں ملازماؤں کے آنے پرپابندی لگا دی گئی۔ ایسے میں دیہاڑی داروں کی زندگی اور مشکل ہو گئی۔
آپا جان نے بھی چھیمو کو منع کر دیا مگرتنخواہ نہیں روکی۔ حکومت نے غریب طبقے کے لیے بارہ ہزار فی خاندان امدادی رقم کا اعلان کیا تھا۔ چھیمو تنخواہ لینے آئی تو اپنا موبائل اور شناختی کارڈ آپا جان کے آگے رکھتے ہوئے بولی۔ آپا جان ذرا میسج کر دیں۔ وہی جس پر بارہ ہزار روپے ملتے ہیں۔
آپا جان  نے شناختی کارڈ کا نمبر ٹائپ کر کے سینڈ کر دیا اور چھیمو بارہ ہزار روپے پانے کا خواب آنکھوں میں سجاۓ گھر چلی گئی۔
ہفتہ بھر ہی گزرا ہو گا کہ لال چہرہ لیے ساتھ پھولی سانسوں کے ساتھ وہ پھر چلی آئی۔
میسج آ گیا ہے آپا جان۔۔ مجھ نمانی کو پڑھنا نہیں آتا ۔ ذرا پڑھ تو دیں۔
آپا جان نے موبائل سکرین پر نظر ڈالی۔
ہماری معلومات کے مطابق آپ نے کچھ عرصہ قبل عمرہ ادا کیا ہے۔ اس لیے آپ مستحق نہیں ہیں۔
اب وہ خاموش کھڑی سوچ رہی تھیں کہ یہ دلخراش خبر چھیمو کو کیونکر سنائیں۔

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles