40 C
Lahore
Wednesday, May 22, 2024

Book Store

گندم کی فصل اور زخیرہ اندوزی

احساس کے انداز

گندم کی فصل کٹائی ،
ذخیرہ اندازی اور سموگ

تحریر :۔ جاوید ایاز خان

آج کل ایک طرف بہار کی آمد آمد ہے۔ خزاں رسیدہ پرانے اور زرد پتےجھڑ چکے۔
نئے پھولوں کلیوں اور باغوں کے سرسبز درختوں نے خوشبو اور رنگوں سے اس رومان پرور ماحول کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ایک جانب چڑیوں اور بلبلوں کی نغمہ سرائی موسم بہار کی آمد کا اعلان کرتی نظر ٓاتی ہے،
تو دوسری جانب موسم کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ معاشی تبدیلی کی اُمید بھی جاگ اُٹھی ہے۔
اپریل کی غیر معمولی بڑھتی ہوئی گرمی میں گندم کی فصل کٹائی کا آغاز ہو چکا ہے، جو کسانوں کو اپنی سال بھر کی محنت کا ثمر فراہم کرتا ہے۔
ان کی اُمیدوں اور خوشیوں کے میلے سجنے لگے ہیں۔ اس سال جاتی ہوئی سردی اور خزاں اپنے ساتھ جاتے ہوئے کرونا کی بے رحم وبا کے خوف کی بساط بھی لپیٹ کر لے جا چکی ہے۔
لوگ پابندیوں سے آزاد پرانے میل جول کی روایات کو پھر سے زندہ کر ر ہے ہیں۔
فاصلے ختم ہو رہے، دل مل رہے ہیں۔
محبتیں بڑھ رہیں اور ایک دفعہ پھر ڈھول شہنائی ،
رقص اور جھومر کے شور میں گندم کی فصل کٹائی کا خوبصورت منظر قابل دید ہے ۔
گندم کٹائی کے یہ دن کسان کے لیے خوشحالی کا پیغام لاتے ہیں۔
پورے سال کے خواب دیکھنے اور فصل کی دیکھ بھال
اور حفاظت کرنے کے بعد گندم کے سنہری خوشے دیکھ کر لوگوں کے چہرے کھل اُٹھے ہیں۔
یوں لگتا ہے اس فصل پر کسی نے سونے کا پانی چڑھا دیا ہے،
جو کسان کی آنکھوں میں خوشی کی چمک پیدا کر رہا ہے ۔
پھر گندم کی خرید کا اضافی حکومتی ہدف ،دانہ دانہ خریدنے کا عزم اور سرکاری ریٹ ۲۲۰۰ روپے فی من معاشی بہتری کی اُمید دلا رہا ہے۔
یہ حقیقت سب جانتے ہیں کہ گندم دنیا بھر میں بھوک کے خلاف فیصلہ کن ہتھیار رہا ہے۔
پھر ہمارے ملک میں تو گندم ایک کلیدی فصل ہے
جو ہماری زندگی میں خوراک اور دولت دونوں فراہم کرتی ہے۔
کسان اپنی سالانہ ضرورت کی گندم رکھ کر باقی فصل فروخت کر دیتا ہے
تاکہ اپنی ضروریات پوری کر سکے۔
یہ بھی ہماری روایت ہے کہ اس فصل میں تمام غربا و مساکین اور ضروت مندوں کا حصہ ہوتا ہے جو ان تک” لاگ “اور “عشر “کی صورت میں پہنچتا ہے ۔
اس فصل کی آمدنی سے میلوں اور بازاروں میں رونق بڑھے گی۔
لوگوں کے جانے کتنے ارمان پورے ہوں گے؟
کتنے ہاتھ مہندی سے پیلے ہوں گے؟
کتنی شہنائیاں گونجیں گی اور باراتیں اور دلہنیں سجیں گیں؟
کتنے بچوں کی فرمائشیں پوری کرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔
بیوی بچوں اور خا ندان سے وعدے پورے کرنے کے لمحات آ پہنچے ہیں ۔
پچھلے دو سال سے کرونا وبا سے ستائے لوگ سکھ کا سانس لیں گے۔
کتنے غریبوں کا روزگار کھلے گا۔ کتنے ہی مستحق لوگ اس نعمت کا فائدہ اُٹھائیں گے ۔
گندم کی ٖفصل،
انسانوں کے ساتھ ساتھ پرندوں اور حشرات کی سال بھر کی خوراک ہوتی ہے ۔
کھیتوں میں ان کی کثیر تعداد تلاش رزق میں جوق در جوق پہنچتی ہے۔
اپنے حصہ کا رزق حاصل کرتی ہے۔
کھیت سے منڈی اور پھر گودام تک کتنی ہی مخلوقات اس رزق سے اپنا حصہ حاصل کرتی ہیں۔
یہ سب اس قدرت کا عظیم انتظام ہے، جو انسانی عقل سے بالا ہے۔
خوشی کی یہ گھڑیاں اور رزق کی فراوانی اللہ کا ہم پر خاص انعام ہے،
لیکن دوسری جانب بے ضمیر اور با اثر ذخیرہ اندوز اپنے جال پھیلا چکے ہیں۔
کسان سے یہ فصل اونے پونے دام خرید کر اپنے گودام بھرنے کے چکر میں ہیں
جبکہ اسلام غلہ اور کھانے پینے کی اجناس کی ذخیرہ اندازی سے سخت منع کرتا ہے۔
ذخیرہ اندوزی کو ایک لعنت قرار دیتا ہے،
مگر یہ مافیا مارچ سے اگست تک جب گندم وافر ہوتی ہے۔
تھوڑی سی زائد قیمت دے کر غریب لوگوں سے خرید لیتے ہیں۔
اپنے گوداموں میں جمع کر کے دسمبر کے بعد جب گندم کمی کے باعث مہنگی ہو جاتی ہے۔
لوگوں کے گھروں میں موجود ذخائر ختم ہو جاتے ہیں تو مصنوعی بحران پیدا کرتے ہیں
پھر آہستہ آہستہ اس کو مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔
اس طرح غریب لوگوں کی مجبوری سے ناصرف فائدہ اُٹھاتے ہیں۔
بلکہ ناجائز منافع خوری سے مال کماتے ہیں ۔
یہ ذخیرہ اندوز ہمارے معاشرے کا وہ ناسور ہیں، جن کے سدباب اور بیخ کنی کے لیے سخت ترین قوانین اور حکومتی اقدامات کی ضرورت ہے،
تاکہ یہ لالچی مافیا چند روپوں کی خاطر اس ارض پاک کے غریبوں کو بھوکا نہ رکھ سکے۔
ہمارے ہاں ناجائز پیسہ کمانے کے لیے یہ سب کیا جاتا ہے،
جو اخلاقی پستی کی بھی انتہا ہے۔ مذہب اور قانون کے بھی خلاف ہے ۔
پہلے گندم کی فصل کی کٹائی لوگ درانتی سے خود کرتے تھے۔
جس کی وجہ سے وقت تو زیادہ لگتا تھا، مگر گندم کے ساتھ ساتھ بھوسے کی کثیر تعداد بھی حاصل ہوتی تھی۔
جو وہ پورے سال اپنے جانوروں کو چارے کے طور پر استعمال کراتے تھے، مگر اب سا ئنس نے ترقی کر لی ہے ۔ جدید مشینری نے کام بہت آسان کر دیا ہے۔
تھریشر اور ہارویسٹرز اب دنوں کا کام گھنٹوں میں کر رہے ہیں،
مگر گندم کے سیزن میں ان سے نکلنے والا گرد اور غبار پورے ماحول کو آلودہ کر دیتا ہے۔
جو فضائی آلودگی کو جنم دیتا ہے اور سانس لینا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
ہر جانب سموگ چھا جاتی ہے۔ جو ڈسٹ الرجی کے مریضوں کو متاثر کرتی ہے ۔
جس سے انسانی صحت پر کئی اور مضر اثرات بھی سامنے آتے ہیں۔ ہمارا ملک پہلے ہی آلودگی کے لحاظ سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے، جو ہمارے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔
گندم کی کٹائی کے بعد باقی بچ جانے والی با قیات کو آگ لگا دی جاتی ہے۔
حالانکہ اس پر بھی حکومتی پابندی ہے۔
اس کو آگ لگانے سے سموگ بڑھنے کے ساتھ ساتھ وہ انسان دوست لاکھوں کیڑے مکوڑے اور پرندے بھی جل جاتے ہیں،
جو رزق کی تلاش اور ہمارے ماحول کی قدرتی صفائی اور بہتری کے لیے وہاں موجود ہوتے ہیں ۔
پرندے تو شاید اُڑ جائیں مگر حشرات اور کیڑے مکوڑے اتنے تیز نہیں ہوتے کہ دوڑ کر اپنی جان بچا سکیں۔
اس طرح ایک طرف تو ہم ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کر دیتے ہیں،
جو انسانی جان کے لیے بڑا خطرہ بن جاتا ہے۔
سانس کی بیماری میں مبتلا لوگوں کی تکلیف میں اضافہ کرتا
تو دوسری جانب قدرت کے بنائے نظام میں مداخلت ہو جاتی ہے۔
ہمیں سوچنا ہے کہ ہم اپنا کام آسان کرنے کے چکر میں کہیں کسی ظلم کے مرتکب تو نہیں ہو رہے؟
کہیں ہم بے زبان مخلوق کا رزق آگ سے جلا کر ضائع تو نہیں کر رہے؟
تمام مخلوق خدا کا خیال رکھنا بھی سنت رسولﷺ ہے ۔
کرونا کے باعث عوام بیماری ،بے روزگاری اور غربت کا شکار ہیں۔
بہت سے سفید پوش لوگ اپنی شرم اور وضع داری کے باعث،
کسی کے سامنے دست دارز کرنا تو دور کی بات، اپنی ضرورت کا اظہار بھی نہیں کر پاتے ۔
اس خوشی کے موقع پر ہمیں ان ضرورت مندوں کو ڈھونڈ کر ان کی مدد کرنی چاہیے۔
اپنی خوشیوں میں شریک کرنا چاہیے ۔
اللہ نے ہمیں آج جس نعمت اور انعام سے نوازا ہے،
اس کا شکر ادا کرنے کا شاید یہ بہترین طریقہ اور فراخی رزق کا ذریعہ ہو گا ۔

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles