33 C
Lahore
Wednesday, April 24, 2024

Book Store

ایشیائی والی بال چیمپین شپ ٹوکیو (جاپان)


بابِ اوّل

ایشیائی والی بال چیمپین شپ ٹوکیو (جاپان)

محمد توفیق

1۔ سفرکی لکیر

ہمارے ہاتھ میں سفر کی لکیر پھر کھجلائی اور بولی” چل چلیے دنیا دی اس نکرے“ ہم نے کہا ، بسم اللہ ! لیکن بھاگوان اب کے کہاں؟ اے جان قیس تیرا ارادہ کدھر ہے آج ؟ بولی ٹوکیو!
پاکستان کی بیس رُکنی قومی والی بال ٹیم 21ویں مینز ایشین والی بال چیمپین شپ ، جو 12 سے 19 ستمبر 2021ء تک جاپان کے دارالحکومت ٹوکیومیں منعقد ہونی ہے،
میں شرکت کے لیے روانہ ہو رہی ہے۔ ایشیا میں پاکستان کی والی بال رینکنگ 7ویں جبکہ دنیا کے 220 ممالک میں 52ویں ہے۔
پاکستانی ٹیم کے تربیت کے لیے ایرانی کوچ رحمان محمدی راد کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، جو لاہور میں جون جولائی اگست کی شدید گرمی میں پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ہال میں مومیائی پگھلا دینے والے صبر آزما موسم میں ٹیم کی فزیکل فٹنس، سکل اور فنش کی صلاحیتوں کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔
فرسٹریشن بڑھنے لگے، پریشر ککر کی سیٹی بجنے لگے، ہاتھ میں سفر کی لکیر کھجلانے لگے تو بیگم، بیماری اور پی او ایف سے ہاتھ چھڑا کر راہِ فرار اختیار کرتے ہُوئے کسی اجنبی سرزمین پر یوں جا اترتا ہوں جیسے خلا نورد، خلا میں۔زندگی کا حق صرف اسی صورت ادا ہو سکتا ہے کہ اسے پرویزی محلات تعمیر کرنے کے بجائے فرہادی نہر کھودنے میں صرف کیا جائے۔
یوں بھی ایسے مستقبل کے بارے میں سوچنا، جس میں شاید آپ موجود ہی نہ ہوں، اول درجے کی حماقت ہے۔

نہیں عتابِ زمانہ خطاب کے لائق
ترا جواب یہی ہے کہ مسکرائے جا

2007ء مڈ کیرئر مینجمنٹ کورس پشاور میں مسافر کے انسٹرکٹر استادِ گرامی قدر اور عہدِ حاضر میں پاکستان میں نظم کے حوالے سے سب سے معتبر نام ڈاکٹر وحید احمد نے زندگی کو”دھاگہ بولتا ہے“ کے عنوان سے جو سندیسہ دیا ہے،و ہی میرے دل کے قریب ترین ہے:

”بہت تو نے گزارا ہے مجھے

اے زندگی!

سوئی کے ناکے سے

مگر اب میں

تجھے کون و مکاں کے پارچے کے نرم ریشوں سے گزاروں گا

مجھے تو نے

مسلسل کھینچ کر ہر رنگ کا دھاگا بنایا تھا

مگر میں پھر بھی زندہ ہوں

تجھے یہ علم ہونا چاہیے اے زندگی!

وہ مصر کے بازار میں جو سوت کی اٹی پڑی ہے

سانس لیتی ہے

میں تیری چشمِ سوزن میں

کسی رنگین کاجل کی طرح ،

بھرتا رہوں گا

میں بازارِ ہنر منداں میں ترا،

تھان کھولوں گا

میں ہر امکان کھولوں گا

 ترے ریشمی سینے پہ

اپنا نام کاڑھوں گا

کچھ ایسے نقش ابھریں گے

کہ ترا پارچہ بولے گا

’میرا سانس اکھڑتا ہے‘

میں تجھ میں ایسے اتروں گا

کہ جیسے آتشیں مے کے تپے تیزاب میں

جلتے ہُوئے زہراب میں

پانی اترتا ہے

میں ترا قرض اتاروں گا

بہت تو نے گزارا ہے مجھے اے زندگی!

لیکن
تجھے اب میں گزاروں گا“

٘یہاں تک تو راوی سب چین لکھتا ہے مگر اُلجھن تب پیدا ہوئی جب روانگی سے چند روز قبل تک سفری اخراجات کے معاملات پاکستان اسپورٹس بورڈ اور پاکستان والی بال فیڈریشن کے مابین مونڈھے نہ چڑھ پائے۔
ٹیم کی روانگی کے لیے ابتداً قطر ایئر لائن سے”Tentative”بکنگ کروائی گئی تھی جو منسوخ کروانی پڑی۔
خدا خدا کر کے پاکستان سپورٹس بورڈ نے 35 لاکھ کی رقم کی منظوری دی تو تب تک پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہ چکا تھا۔
بہرحال پاکستان میں معاملات آخری دم تک غیر یقینی کا شکا ر رہتے ہیں۔
سو یہ صورتحال ہمارے لیے کوئی اجنبی نہیں تھی۔
چوہدری محمدیعقوب نےتازہ تازہ گھر فروخت کرنے کا جو بیعانہ پکڑا تھا، وہی کام آیا۔
انہوں نے فیڈریشن کو اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے ادھار رقم دی تو ایتھوپین ایئر لائن سے لاہور، کراچی، دوبئی، عدیس ابابا، سیول سے ٹوکیو کے سفری انتظامات ممکن ہو پائے۔
فی کھلاڑی سفری اخراجات چار لاکھ سے بڑھ کر چھے لاکھ تک جا پہنچے۔ یہ کان اُلٹا پکڑنے والی بات ہے ” تم زمانے کی راہ سے آئے، ورنہ سیدھا تھا راستہ دل کا“ ۔
دراصل آج کل پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور قومی وزارت I.P.C کے مابین سرد جنگ جاری ہے۔ ٹوکیو اولمپکس میں ناقص کارکردگی کے بعد عوامی ردعمل کو مدنظر رکھتے ہُوئے حکومت پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے اکہتر سالہ صدر جنرل (ر) سید عارف حسن سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہے
جبکہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کا موقف یہ ہے کہ
وہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے چارٹر کے تحت تشکیل پاتی ہے اور حکومت کو اس میں مداخلت کا کوئی اختیار نہیں۔
پاکستان گزشتہ 30 سال سے اولمپک کے میدان سے خالی ہاتھ آ رہا ہے سو سٹیٹس کو، کو توڑ کے نئے چہرے اور تازہ افکار وقت کی ضرورت ہیں،
لیکن طاقتور مافیا اس کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور پاکستان سپورٹس بورڈ میں یہ جُوتم پیزار تو خیر جاری رہے گی ،لیکن اس کا شاخسانہ پاکستانی کھلاڑیوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے
جب پاکستان سپورٹس بورڈ، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور قومی فیڈریشنز متحارب گروپوں میں تقسیم ہو کر اپنی توانائیاں کھیل اور کھلاڑی کے بجائے ایک دوسرے کو پچھاڑنے اور نیچا دکھانے میں صرف کرتی ہیں۔

بے یقینی کی اس صورتحال کے باعث پاکستان والی بال فیڈریشن آخری وقت تک تذبذب کا شکار رہی، جس کا اثر کھلاڑیوں کے مورال پر بھی پڑا۔ بہرحال خرابی بسیار کے بعد اب ٹیم پاکستان 7 ستمبر کو 4 براعظموں پر محیط اس ورلڈ ٹور پر بہر کیف روانہ ہو رہی ہے۔
قصہ مختصر ٹیم پاکستان کے اس دورے پر مجموعی اخراجات ایک کروڑ بیس لاکھ کے ہیں،
جن میں ٹوکیومیں طعام و قیام کے لیے جاپان والی بال ایسوسی ایشن کی انتظامی کمیٹی کو ادا کیے جانے والے 42 ہزار ڈالرز بھی شامل ہیں۔
کرونا کی صورتحال دنیا بھر کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
ماہرین کے مطابق حضرت انسان کو بدلتی صورتحال میں پہلے جیسی آزادی میسر نہیں ہو گی۔  اسے آئندہ زندگی” نیو نارمل“ کے تحت بسر کرنا ہو گی۔
اس حوالے سے جاپانی میزبانوں نے نہایت کڑے ایس او پیز پر مشتمل گائیڈ لائن جاری کی ہے
جس کے مطابق تمام ٹیموں کو ٹوکیو کے ناریتا ایئر پورٹ پر آمد پر نہ صرف کٹھن جزئیاتی ٹیسٹ سے گزرنا پڑے گا
بلکہ ہر ٹیم کو 16 روزہ دورے کے دوران صرف ہوٹل اور جمنازیم کے مابین بائیو سیکیورببل میں قیام کرنا ہو گا۔
گویا کوئی کھلاڑی یا آفیشل ٹوکیو کی سیر تو کُجا اپنے ہوٹل سے باہر قدم بھی نہیں رکھ پائے گا۔
یہ بڑی حوصلہ شکن خبر تھی۔
بہرحال مرتے کیا نہ کرتے اور بھاگتے چور کے لنگوٹی ہی سہی، کے مصداق اب اذنِ سفر کے علاوہ کوئی راستہ بھی تو نہیں بچا۔
ایئر لائن کی ہدایت کے مطابق کرونا ٹیسٹ کے لیے دو لیبارٹریوں چغتائی لیب ، شوکت خانم سے ٹیسٹ ہی قابلِ قبول ہو گا۔
ٹیسٹ سفر شروع ہونے سے 72 گھنٹے کے اندر کروانا ہو گا۔
اس ضمن میں ”واہ“ میں موجود چغتائی لیب کے عملے سے رابطہ اور استفسار کیا گیا ، تو ان کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ کا نتیجہ آنے میں تو کم از کم آٹھ گھنٹے لگتے ہیں
مگر چونکہ آپ ”ڈائریکٹر صاحب“ ہیں توبے فکر رہیں، فوراً ہی منفی کا سرٹیفکیٹ عنایت کر دیا جائے گا۔
یہ جُگاڑ ہمارے ملک کے ہر ادارے میں پایا جاتا ہے۔
جس سے ہمارے تمام ادارے نہ صرف اپنا اعتبار کھو چکے، بلکہ دنیا میں مذاق بھی بن چکے ہیں۔
لاہور میں چوہدری محمد یعقوب سے ٹیلی فونک رابطہ ہُوا تو ان کا مشورہ تھا،
5 ستمبر کو ٹیم پاکستان اور آفیشلز اجتماعی ٹیسٹ کے لیے سہ پہر 3 بجے جوہر ٹاؤن میں واقع شوکت خانم ہسپتال جائیں گے۔
آپ اگر وہیں ٹیم کو جوائن کر لیں تو ایک ہی ادارےکی مستند رپورٹ بہتر رہے گی۔
مشورہ صائب ہے سو
ان شااللہ کل صبح لاہور کے لیے عازمِ سفر ہوں گے۔
اسی بہانے ٹیم سے ملاقات،
ان کی تربیت اور فٹنس کے حوالے سے تازہ ترین اَپ ڈیٹ کا حصول بھی ممکن ہو جائے گا۔
رات ”دی بحریہ مال“ میں واقع پی او ایف کے گیسٹ ہاؤس میں بسر ہو گی
اور اگر کرونا نے اجازت دی تو پرانی انارکلی میں واقع وارث نہاری بونگ،
مغز اور نلی سے بھی دو دو ہاتھ ہو جائیں گے۔

(4 ستمبر 2021ء)

محمد توفیق
محمد توفیق
مصنف کا تعارف نام: محمد توفیق سینئر نائب صدر پاکستان ٹینس فیڈریشن، چیئرمین ڈیویلپمنٹ کمیٹی پاکستان والی بال فیڈریشن قومی سلیکٹرپاکستان سکواش فیڈریشن ولدیت: میجر (ر) محمد طارق اعوان تاریخ و جائے پیدائش: 8 اکتوبر 1960ء ، شیرانوالہ گیٹ ہری پور ہزارہ تعلیم: ایم اے معاشیات، ایم اے سیاسیات، ایم بی اے ایگزیکٹو تعلیمی ادارے: برن ہال سکول، گورنمنٹ کالج ایبٹ آباد، ایچی سن کالج لاہور پاکستان کی نمائندگی: سیول اولمپکس، اٹلانٹا اولمپکس، بیجنگ ایشین گیمز، کلکتہ سیف گیمز،کامن ویلتھ گیمز آسٹریلیا، ڈیوس کپ ٹینس، ومبلڈن ٹینس،ٹور ڈی فرانس سائیکل ریس، ایشیائی والی بال چیمپئن شپ جاپان، ایشیائی سکواش چیمپئن شپ بھارت،انٹرنیشنل سیٹلائٹ ٹینس شام، والی بال منیجر قطر، ایران، دوبئی سپورٹس کمنٹری/اینکر پرسن: پی ٹی وی ایوارڈ یافتہ ،ورلڈ کپ فٹبال، ورلڈ اولمپکس سمیت 30 کھیلوں پر رواں تبصرہ عالمی سیاحت: امریکہ، فرانس، برطانیہ، ہالینڈ، بیلجیم، سپین، اٹلی، چین، آسٹریا، چیکو سلوواکیہ، سوئٹزرلینڈ، جاپان، ڈنمارک، ناروے، روس،جرمنی، جنوبی کوریا، سویڈن، سلوواکیہ، ہانگ کانگ، متحدہ عرب امارات،سعودی عرب، بنگلہ دیش، ایران، بھارت، نیپال، قطر، شام، ازبکستان، ایتھوپیا تصانیف: ٭ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں ٭ بمبئی براستہ مدراس ٭ تری خوشبو سفر میں ہے ٭ تیرا میرا سارا سفر ٭ کھیل کا ارتقائی سفر ٭ اولمپکس اور فٹبال ٭ کھیل اور کھلاڑی ٭ اردو سفر نامے کا گل خود رو ٭ واہ کی تہذیب اور فنون ِ لطیفہ ٭ شمشیر و سناں اوّل ٭ کھلاڑی جاپان میں(سفر نامچہ)

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles