36 C
Lahore
Saturday, May 25, 2024

Book Store

wo kya bechta tha?| وہ کیا بیچتا تھا؟|Maqbool The seller

وہ کیا بیچتا تھا؟


مقبول جہانگیر

شیراویف پیشے کے اعتبار سے تو ڈاکٹر تھا، لیکن اُس کی چال ڈھال اور اَندازِ گفتگو سے کوئی شخص یہ اندازہ نہیں کر سکتا تھا کہ وہ کیا کام کرتا ہے?
جب وہ اَپنی لائبریری میں لمبی سیاہ میز کے پیچھے گھومنے والی کرسی پر بیٹھ کر مطالعہ کرتا، تو یوں نظر آتا جیسے کوئی بڑا مفکر یا محقق ہے۔
اُس کے مکان کے دوسرے کمروں میں طب سے متعلق اشیا اور تصاویر کچھ زیادہ نہ تھیں۔ البتہ دیواروں پر شیر، چیتوں اور بارہ سنگھوں کی کھوپڑیاں ضرور سجی ہوئی تھیں۔
قدیم طرز کے آتش دان پر کسی خونخوار بھیڑیے کا سر دھرا ہوا تھا۔ جابجا الماریوں میں چاندی کے بڑے بڑے انعامی کپ، ٹرافیاں اور تمغے رکھے ہوئے تھے۔

ڈاکٹر شیراویف کو روشنی کے بجائے تاریکی زیادہ پسند تھی۔ شاید اِسی لیے اُس نے اپنی لائبریری میں ایک معمولی قوت کا بلب لگا رکھا تھا جو پورے کمرے کو روشن کرنے میں بخل سے کام لے رہا تھا۔
اُس کی پیلی مدھم روشنی میں وہ کمرہ نہایت پُراسرار اور کسی قدر بھیانک نظر آتا تھا۔
اگر کوئی اجنبی وہاں آ جاتا، تو اُس کے لیے اُس کمرے کے پُراسرار اَور گھٹے گھٹے ماحول میں چند لمحے بیٹھنا بھی دشوار ہو جاتا؛
البتہ بیننگ کے لیے آنا اور زیادہ دَیر تک بیٹھنا کچھ خاص بات نہ تھی۔
وہ اَکثر یہاں آتا تھا۔ لیکن کرنل رومیرو چونکہ پہلی بار آیا تھا، اِس لیے بار بار مضطرب ہو کر پہلو بدلتا اور حیران نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھتا تھا۔

کرنل رومیرو نے کئی بار دُزدیدہ نگاہوں سے ڈاکٹر شیراویف کے سراپے کا جائزہ لیا اور ہر مرتبہ وہ اُسے ایک نیا اور عجیب آدمی محسوس ہوا۔
چوڑا چکلا چہرہ، رنگ زردی مائل سفید، رخساروں کی ہڈیاں نمایاں، ٹھوڑی پر چھوٹی لیکن گھنی ڈاڑھی، ہونٹوں پر نہایت معنی خیز مسکراہٹ، نیلی آنکھوں میں حد درجہ چمک اور گہرائی۔
کرنل رومیرو اُس سے آنکھیں چار کرتا ہوا گھبرا رَہا تھا۔ کئی مرتبہ اُس نے دل ہی دل میں اپنے آپ کو برا بھلا کہا کہ بیننگ کی ضد سے مجبور ہو کر یہاں آ گیا۔
نہ معلوم یہ شیراویف کس قسم کا آدمی ہے۔ ڈاکٹر تو یہ ہرگز نظر نہیں آتا، شاید کوئی جادوگر یا شعبدے باز ہے۔ ممکن ہے کوئی داستان گو ہو۔
کرنل رومیرو اِتنا جان چکا تھا کہ اِس شخص کو ہیبت ناک ماحول سے خاصی دلچسپی ہے۔ تبھی اُس نے اپنے مکان کو ’’ڈریکولا کا محل‘‘ بنانے کی کوشش کی ہے۔

ڈاکٹر شیراویف نے سگار کا ڈبا مہمانوں کی طرف بڑھایا۔
پھر خود بھی ایک سگار سلگا کر آرام کرسی میں دھنس گیا۔ تینوں آدمی چند لمحوں تک خاموشی سے کش لگاتے رہے۔ آخر شیراویف نے مدھم لہجے میں بیننگ سے کہا:

’’اگر اجازت دو، تو تمہیں ایک سچا واقعہ سناؤں۔‘‘

بیننگ نے اثبات میں گردن کو جنبش دے کر رضامندی کا اظہار کیا۔
کرنل رومیرو نے بےچینی سے پہلو بدلا اور سنبھل کر بیٹھ گیا۔

’’مجھے یقین ہے تم نے زوبرگن کے بارے میں کچھ نہ کچھ ضرور سنا ہو گا۔‘‘
شیراویف نے کہا۔ ’’یہ قصّہ وہیں ہوا تھا۔‘‘

’’ہاں، ہاں! مَیں نے تو سنا ہے۔‘‘ بیننگ نے فوراً جواب دیا۔
’’مگر اب بالکل یاد نہیں آتا کہ واقعہ کیا تھا۔‘‘

شیراویف مسکرایا اور طنز کرتے ہوئے بولا:

’’تمہارا حافظہ عجوبہ روزگار میں سے ہے۔ تم ہر وہ بات بھول جاتے ہو جو اَہم ہوتی ہے۔‘‘

بیننگ ہنسنے لگا، لیکن کرنل رومیرو اُسی طرح چپ چاپ بیٹھا رہا۔

’’گرمیوں کے دن تھے اور مَیں یہ سوچ کر زوبرگن گیا تھا کہ وہاں کچھ سکون ملے گا۔ تنہائی ملے گی۔ ذرا سیر و تفریح کروں گا اور اَپنے خیالات کی دنیا میں کھو جاؤں گا۔
وہاں کوئی شخص میرے معمولات میں دخل دینے کی کوشش نہ کرے گا۔ اُس علاقے میں جانے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہاں بےوقوف سیاحوں اور نااہل شکاریوں سے ملنے کا امکان قطعی نہ تھا۔
مجھے اِس قسم کے لوگوں سے سدا وَحشت رہی ہے۔ مگر آپ لوگ میرے خوف کا اندازہ نہیں کر سکتے کہ جب مَیں زوبرگن پہنچا، تو مَیں نے دیکھا کہ ایک جوڑا وَہاں آیا ہوا ہے۔
مرد اَنگریز تھا اور عورت امریکی۔ مرد میں کوئی خاص انفرادیت نہ تھی، جیسے اور انگریز ہوتے ہیں۔ ویسا ہی وہ بھی تھا۔
لیکن عورت ہزاروں، لاکھوں میں ایک تھی۔ نہایت حسین چہرہ، سڈول جسم، خوش اخلاق اور بےحد ہنس مکھ۔
اُس کی گہری سبز آنکھوں میں ذہانت کا خزانہ بند تھا۔
کبھی کبھی وہ نہایت سنجیدہ ہو جاتی اور گھنٹوں کسی سے بات نہ کرتی۔

’’ابتدا میں کئی روز تک ہماری بات چیت نہ ہوئی۔
مَیں خود بھی اُن کے قریب جاتا ہوا گھبراتا تھا اور غالباً وہ لوگ بھی مجھے سڑی سودائی سمجھتے تھے۔ لیکن یہ اجتناب زیادہ دَیر تک جاری نہ رہ سکا۔ آخر ہم کب تک زبانیں بند کیے رکھتے؟
ایک دن جب کہ مَیں اپنے قیام گاہ پر واپس آ رہا تھا، وہ مجھے راستے میں ملے اور گرم جوشی سے مزاج پرسی کرنے کے بعد کہنے لگے:

’’ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ بہت دلچسپ آدمی ہیں اور آپ کو سیر و سیاحت سے خاص لگاؤ ہے۔
یہی مرض ہم دونوں کو بھی ہے۔ کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ آج رات آپ ہماری قیام گاہ پرتشریف لائیں اور کھانا ہمارے ساتھ کھائیں۔‘‘

’’اُنھوں نے کھانے کی دعوت پورے خلوص سے دی تھی جسے رد کرنا میرے بس میں نہ تھا، چنانچہ مَیں وقت پر اُن کے ہاں جا پہنچا۔ وہ میرے منتظر تھے۔
کھانے پر خاص تکلف کیا گیا تھا۔ اِس دوران میں ہم آپس کی دلچسپی کی باتیں کرتے رہے۔ کھانے کے بعد ہم نے قہوے کے پیالے اٹھائے اور باہر لان میں جا بیٹھے۔
چاروں طرف گہرے سرمئی رنگ کے پہاڑ سر اُٹھائے کھڑے تھے۔ ایک ہیبت ناک سناٹے نے ماحول کو اَپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔ ہم دیر تک اُس ماحول میں جکڑے رہے۔
مجھے یوں محسوس ہونے لگا جیسے سرمئی رنگ کے یہ پہاڑ ہمارے قریب آ رہے ہیں۔
چند لمحے بعد ہمیں روندتے ہوئے گزر جائیں گے۔ میرے میزبان بھی چپ چپ سے تھے۔
یکایک واہین نے اُس تکلیف دہ سکوت کو درہم برہم کرتے ہوئے کہا:

’’مسٹر شیراویف! آپ کو معلوم ہے، آج کل یہ علاقہ خوف اور دَہشت کی لپیٹ میں ہے؟‘‘

’’مَیں نے چونک کر واہین کی طرف دیکھا اور جواب میں کہا:

’’مَیں سمجھا نہیں، آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟‘‘

’’واہین کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ قہوے کے دو گھونٹ لینے کے بعد اُس نے کہنا شروع کیا:

’’پچھلے ہفتے دو اَفراد اِن جنگلوں میں گم ہو گئے ہیں۔ اُن میں سے ایک آدمی دس میل کے فاصلے پر واقع کسی قصبے کا رہنے والا تھا۔
بتایا گیا ہے کہ سورج ڈھلنے کے بعد وہ شخص ایک پہاڑی سے اتر رہا تھا کہ کسی انجانے حادثے کے باعث غائب ہو گیا۔ کسی گدڑیے نے اُسے پہاڑی پر دیکھا تھا۔
دونوں میں کچھ باتیں بھی ہوئی تھیں، تاہم اُس کے بعد اُسے دوبارہ نہیں دیکھا گیا۔
غائب ہونے والا دوسرا شخص اُس کھوجی گروہ سے تعلق رکھتا تھا جو پہلے شخص کی تلاش میں نکلا تھا۔
اُسے اُس پہاڑی کے نزدیک نگرانی پر لگایا گیا تھا اور گروہ کے دوسرے کھوجی آگے نکل گئے تھے۔
جب کچھ دیر بعد وہ وَاپس آئے، تو اُن کا ساتھی وہاں سے غائب تھا۔ اُنھوں نے اُس کی تلاش میں سارا علاقہ چھان مارا، مگر کوئی پتا نہ چلا۔‘‘

’’یہ بہت دلچسپ اور حیران کن واقعہ ہے مسٹر واہین!‘‘
مَیں نے کہا۔ ’’کیا اِس سے بیشتر بھی ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں؟‘‘

’’جی نہیں! یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ لوگ اِس کے بارے میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں کر رہے ہیں۔ کوئی کہتا ہے اُنھیں بھیڑیے اٹھا لے گئے ہیں۔
اِس علاقے میں چونکہ بھیڑیوں کے شکار پر حکومت نے پابندی لگا رکھی ہے، اِس لیے اُن کی تعداد بےحد بڑھ گئی ہے۔ بہرحال چھان بین کے بعد ایسا کوئی سراغ نہیں ملا  کہ اُن بدقسمت آدمیوں کو بھیڑیوں نے پکڑ لیا ہو۔
خون کے داغ دھبے کہیں بھی دکھائی نہیں دیے اور نہ اُس قسم کے نشان ملے جن سے پتا چلے کہ اُن آدمیوں کو گھسیٹ کر لے جایا گیا ہے۔
بعض وہم پرست لوگوں کی رائے یہ ہے کہ اُن جنگلوں میں کسی آسیب یا بدروح نے ٹھکانا بنایا ہوا ہے اور وُہی اِن حادثوں کی ذمےدار ہے۔‘‘

’’خوب ….. خوب …..‘‘ مَیں نے جواب میں کہا۔
’’سائنس کے اِس دور میں بھی بعض لوگ بھوت پریت اور بدروحوں پر اعتقاد رَکھتے ہیں۔‘‘

’’مَیں خود اِن چیزوں کو لغو خیال کرتا ہوں۔‘‘
واہین کہنے لگا۔ ’’تاہم میرا قیاس یہ ہے کہ وہ دونوں آدمی خود ہی کہیں غائب ہوئے ہیں اور اَب غالباً ارجنٹائن میں مزے کر رہے ہوں گے۔‘‘

’’واہین کی بیوی کیرا نے پہلی مرتبہ نظریں اٹھا کر اَپنے شوہر کو دیکھا۔
اُس کے چہرے پر حیرت کے ساتھ ساتھ ناگوار اَثرات نمایاں تھے۔ اُس نے منہ بنا کر اپنے شوہر سے کہا:

’’واہین! تم نہایت سنگ دل آدمی ہو۔ کبھی کوئی شخص یوں بھی غائب ہوا کرتا ہے۔‘‘

’’ہاں، ہاں! کبھی ایسا ہو جاتا ہے۔‘‘ واہین نے سخت لہجے میں کہا۔
’’اگر اُنھیں مار دِیا جاتا یا بھیڑیے اٹھا کر لے جاتے، تو اُس کا کوئی ثبوت تو ملتا۔‘‘

’’یہ سن کر کیرا خاموش ہو گئی اور اُس نے مزید بحث نہ کی۔
البتہ مجھے اُس کی گہری سبز آنکھوں میں ایک نرالی چمک دکھائی دی۔
دفعتاً ایک نیا خیال میرے ذہن میں آیا۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ کیرا اُن آدمیوں کی گمشدگی کے راز سے آگاہ ہو ….. ضرور یہی بات ہے …..
بہرحال مَیں نے اُس وقت جرح کرنا مناسب نہ سمجھا اور تھوڑی دیر بعد اپنے مسکن پر چلا آیا۔

’’گھر واپس آ کر مَیں دیر تک اِس عجیب حادثے پر غور کرتا رہا۔
بالآخر مَیں نے فیصلہ کیا کہ مجھے گرد و پیش کے حالات سے باخبر رہنا چاہیے۔ ممکن ہے کچھ اور عُقدے وا ہو جائیں۔ مَیں اُس وقت زوبرگن کی پرانی سرائے میں ٹھہرا ہوا تھا۔
یہاں ہر طرح کے افراد کثرت سے آتے جاتے تھے اور خوب گپ چلتی۔ اب مَیں بھی گاہے گاہے اُن میں جا کر بیٹھنے اٹھنے لگا اور خوب میل ملاپ بڑھا لیا۔
ضلعی مجسٹریٹ بھی یہاں مستقل آنے والوں میں سے ایک تھا۔ نہایت شریف اور نیک آدمی تھا۔ مَیں نے کبھی اُس کے منہ سے فضول بات نہ سنی اور نہ وہ کسی اور کو بیہودہ بات کرنے کی اجازت دیتا تھا۔
چند دن کے اندر اَندر میری اُس کی خاصی دوستی ہو گئی۔ وہ بڑا منطقی تھا۔ کسی دلیل یا ثبوت کے بغیر کوئی بات تسلیم نہ کرتا۔
اُن دو آدمیوں کی گمشدگی سے متعلق زوبرگن میں جتنی افواہیں گشت کر رہی تھیں، وہ سب کی سب سرائے میں بار بار دُہرائی گئیں، لیکن مجسٹریٹ نے ہر بار اُنھیں بکواس اور جھوٹ کہہ کر ٹال دیا۔
مَیں نے بار بار اُسے اُن افواہوں پر بحث کرنے کے لیے آمادہ کرنا چاہا، مگر وہ فوراً گفتگو کا رخ سیاست، اقتصادیات اور مذہب وغیرہ کی طرف پھیر دیتا۔
آخر مَیں نے اِس موضوع پر کلام کرنا ہی چھوڑ دیا۔ چونکہ زوبرگن میں اُس مجسٹریٹ کی نہایت عزت تھی، اِس لیے گاؤں کے لوگ مجھے اُس کا قریبی دوست سمجھ کر احترام سے پیش آنے لگے۔

یکایک افواہ اُڑی کہ ایک اور آدمی نہایت پُراسرار طور پر گم ہو گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ گم ہونے والا شخص گاؤں کا ایک معمولی دکاندار ہے۔
یہ بدنصیب آدمی سورج غروب ہونے کے کچھ دیر بعد سامان لے کر گاؤں میں آ رہا تھا کہ جنگل کے قریب یک لخت غائب ہو گیا۔ اُس کے غائب ہو جانے کا پتا یوں چلا کہ اگلے روز جب اُس کی دکان خلافِ معمول نہ کھلی، تو لوگوں کو تشویش ہوئی۔
اُس کے گھر کچھ لوگ گئے۔ وہاں معلوم ہوا کہ دکاندار کچھ سامان خریدنے شہر گیا تھا اور اَبھی تک واپس نہیں آیا۔ مزید تفتیش کی گئی،
تو کچھ لوگ ایسے مل گئے جنہوں نے گزشتہ روز شام کے وقت دکاندار کو اُس جنگل میں چلتے دیکھا تھا۔
گاؤں کے ایک اور آدمی کا بیان تھا کہ اُس نے سورج غروب ہونے کے کچھ دیر بعد گولی چلنے کی آواز بھی سنی تھی۔

پولیس کے ہیڈکانسٹیبل اور گاؤں کے میئر کا خیال تھا کہ یہ سب قصّے کہانیاں ہیں۔ دکاندار شہر میں کہیں ٹھہر گیا ہو گا اور ایک آدھ دن بعد واپس آ جائے گا۔
مگر جب پورا ایک ہفتہ گزر گیا اور دُکاندار وَاپس نہ آیا، تو پولیس کو یقین ہو گیا کہ معاملہ خراب ہے۔ خود میرا اَندازہ یہی تھا کہ جنگل میں فائر کیا جانا بےمعنی نہیں ہو سکتا۔
اِس میں ضرور کوئی بھید ہے۔ گاؤں کا میئر اور ہیڈکانسٹیبل ایک روز مجھ سے ملنے آئے اور دُکاندار کو تلاش کرنے کی مہم میں شامل ہونے کی درخواست کی۔
بھلا مجھے کیا عذر ہو سکتا تھا۔ اُسی وقت ایک کھوجی پارٹی وجود میں آئی اور ہم دکاندار کی جستجو میں جنگل کی طرف روانہ ہوئے۔ مسٹر واہین بھی اُس پارٹی میں شامل تھے۔
جب سے ہم زوبرگن کے علاقے میں آئے تھے، ہم نے جنگل اور پہاڑوں کا چپّہ چپّہ چھان مارا تھا اور کوئی گوشہ ہماری نگاہوں سے بچا ہوا نہ تھا۔

مَیں اور مسٹر واہین سب سے آگے تھے اور ہمارے پیچھے دیہاتیوں کی ٹولی ڈری ڈری، سہمی سہمی آ رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد ہم اُس تنگ پگڈنڈی پر ہو لیے جو گاؤں کو شہر سے ملاتی اور جس کے نزدیک ہی وہ پہاڑی تھی جس پر پہلے دو آدمی غائب ہوئے تھے۔
مَیں نے واہین سے کہہ دیا تھا کہ آدمیوں کی گمشدگی کا راز بہرحال اِس پہاڑی کے اندر پوشیدہ ہے۔ اِس لیے ہمیں پوری توجہ اِسی پر دینی چاہیے۔

دفعتاً واہین کے حلق سے گھٹی گھٹی چیخ نکلی اور اُس کی انگلیاں میرے بازو میں پیوست ہو گئیں۔
مَیں رک گیا اور پوچھا کہ کیا بات ہے؟
تب واہین اُس پہاڑی کے دامن میں اگی ہوئی گھنی جھاڑیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا:

’’مَیں نے ابھی اِن جھاڑیوں میں کسی شے کو حرکت کرتے دیکھا ہے۔‘‘

’’کون تھا وہ ….. کوئی آدمی؟

’’ہاں! آدمی ہی تھا اور یقیناً وہ ہمیں اِدھر آتے دیکھ کر کہیں چھپ گیا ہے۔‘‘

مَیں نے اپنے پیچھے آنے والے دیہاتیوں کو رکنے کا اشارہ کیا۔ پھر مَیں واہین کو ساتھ لے کر جھاڑیوں کی طرف چلا۔ یہ جھاڑیاں کوئی چھے ساڑھے چھے فٹ اونچی اور نہایت گھنی تھیں۔
ا ُن میں سے کسی شخص کا راستہ بنا کر گزر جانا ممکن نہ تھا۔ یوں بھی اُن میں دو اِنچ لمبے نوکیلے کانٹے اگے ہوئے تھے۔ مَیں نے نہایت غور سے جھاڑیوں کا معائنہ کیا۔
ایک مقام پر محسوس ہوا جیسے یہاں سے جھاڑیاں روندی گئی ہیں۔ ہم نے جھانک کر دیکھا، تو ایک چھوٹا سا گڑھا نظر آیا۔

’’معلوم ہوتا ہے یہ کسی لومڑی کا بھٹ ہے۔‘‘
مَیں نے واہین سے کہا۔ ’’اور تم نے اِسی جانور کو دیکھا ہو گا۔‘‘

واہین نے رومال سے پیشانی پر نمودار ہونے والے پسینے کے قطرے پونچھے، پھر کہنے لگا:

’’ممکن ہے، وہ لومڑی ہی ہو ….. بہرحال معلوم ہوا جاتا ہے کہ کیا قصّہ ہے۔
ذرا پہاڑی کے اوپر تو چلو،اگر وہ کوئی آدمی تھا، تو زیادہ دُور نہ جا سکا ہو گا۔ ہر صورت میں دکھائی دے جائے گا۔‘‘

واہین کے اِس مشورے میں مجھے وزن محسوس ہوا، چنانچہ ہم سرعت سے پہاڑی پر چڑھنے لگے۔ چوٹی تک پہنچنے کے لیے ہمیں خاصی صعوبت برداشت کرنی پڑی۔
یہاں بھی جا بجا پہاڑیاں پھیلی ہوئی تھیں۔ اگرچہ اتنی گھنی نہ تھیں۔ ایک مقام پر نہایت اونچا درخت نظر آیا۔ واہین اُس کے تنے کا غور سے معائنہ کرنے لگا۔ پھر چیخ کر بولا:

’’جلدی سے یہاں آؤ …..‘‘

مَیں دوڑتا ہوا اُدھر گیا۔ مَیں نے دیکھا کہ تنے پر گولی کا نشان ہے۔ بلاشبہ رائفل کی گولی اُس تنے کو چھیدتی ہوئی نکل گئی تھی۔
مَیں نے اندازہ کیا کہ یہ نشان درخت کی جڑ سے تقریباً ایک فٹ اونچائی پر ہے۔
اِس کا مطلب یہ ہوا کہ جس کسی نے رائفل چلائی، لیٹ کر چلائی ہو گی۔
واہین ایک ماہر سراغ رساں کی طرح کبھی لیٹ کر اور کبھی گھٹنوں کے بَل جھک کر اُس نشان کا معائنہ کر رہا تھا۔ پھر وہ دَرخت کے پیچھے اِس انداز میں کھڑا ہوا کہ مجھے اُس کا صرف آدھا جسم نظر آ رہا تھا۔

’’لیجیے جناب! ایک اور چیز دیکھیے۔‘‘ اُس نے پکار کر کہا۔
مَیں جلدی سے اُدھر گیا، تو اُس نے درخت کی جڑ کے نزدیک ایک سیاہی مائل سرخ دھبا دکھاتے ہوئے کہا:

’’یہ خون کے سوا اَور کچھ نہیں ہے، مگر یہ کیا چیز ہے؟‘‘

جمے ہوئے خون کے اُس دھبے کے ساتھ ہی سفید سفید سی کوئی چیز جڑ سے چمٹی ہوئی تھی۔
مَیں نے انگلی سے چھوا، تو وہ چیز میری انگلی سے چمٹ گئی۔ مَیں نے سونگھا، تو عجیب سی بدبُو آئی۔ بےاختیار میرے منہ سے نکلا:

’’یہ تو بھیجے کی بُو ہے ….. لیکن یہاں اتنا ہی ٹکڑا کیوں چپکا رہ گیا۔ باقی کہاں ہے؟
اِس کے علاوہ یہ بات بھی حیران کُن ہے کہ اِس معمولی دھبے کے سوا کہیں خون کا نشان موجود نہیں۔
بہرحال یہ بات ثابت ہے کہ نہایت بھیانک جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔‘‘

واہین کی پیشانی پر گہرے غوروفکر کی لکیریں ابھری ہوئی تھیں۔
وہ پلک جھپکائے بغیر درخت کے تنے کو گھور رَہا تھا۔
پھر وہ شکاری کتے کی طرح کہیں کہیں سے زمین اور تنے کو سونگھنے لگا۔ آخر اُس نے نہایت سنجیدہ لہجے میں کہا:

’’تمہاری بات درست ہے ….. قتل کی واردات ہوئی ہے، لیکن لاش گھسیٹی نہیں گئی۔‘‘

’’مگر میرے دوست! سوال تو یہ ہے کہ اگر قتل ہوا ہے، تو خون کی بڑی مقدار یہاں موجود ہونی چاہیے۔
ایک ہی دھبا کیوں ہے۔‘‘

’’ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خون کے باقی دھبے مٹا دیے گئے ہیں۔‘‘

’’ہاں! یہ ممکن ہے۔‘‘ مَیں نے اعتراف کیا۔

اتنی دیر میں ہمارے ساتھی بھی وہاں آن پہنچے اور اُنھوں نے بھی اُس دھبے اور بھیجے کے ٹکڑے کو باری باری دیکھا۔
سب کے چہروں پر موت کی زردی پھیلی ہوئی تھی۔ گاؤں کا میئر اور ہیڈکانسٹیبل بھی دہشت زدہ تھے۔
پولیس والے نے اپنی ڈائری میں اِس واقعے کا اندراج کیا اور پھر ہم سب لوگ خاموشی سے گاؤں میں چلے آئے۔
واہین کہنے لگا:

’’پہلے میرا خیال تھا کہ وہ دو آدمی جو پہلے غائب ہوئے تھے، اپنی مرضی سے کہیں چلے گئے ہیں۔
لیکن اب مجھے یہ خیال بدلنا پڑے گا۔‘‘

اُسی روز شام کو جب سرائے میں مجسٹریٹ سے ملاقات ہوئی، تو مَیں نے ساری داستان سنائی۔
سب کچھ سن کر وہ کہنے لگا:

’’اِن حالات کو دیکھتے ہوئے میرے لیے یہ تسلیم کرنا مشکل ہے کہ یہ قتل کی واردات ہے۔
خون کا وہ دَھبا پرانا بھی ہو سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ خون بھی جانور کا ہو اَور بھیجا بھی۔ جب تک اُس کا تجزیہ نہ ہو جائے، کسی فیصلے پر نہ پہنچنا چاہیے۔‘‘

زوبرگن میں اِس نئی دریافت سے نہایت سنسنی پھیلی۔ ہر شخص کہہ رہا تھا کہ یہ ضرور کسی شیطانی بلا کا کام ہے۔ کوئی بدروح کسی چیتے یا بھیڑیے کے جسم میں حلول کر گئی ہے جو اِکا دُکا آدمیوں پر حملے کر کے اُنھیں مار ڈالتی ہے۔
لاشوں کو یوں غائب کر دیتی ہے کہ کوئی سراغ نہیں ملتا۔ اِس قسم کی باتیں کرنے میں سب سے زیادہ حصّہ نوجوان جوزف نے لیا۔ وہ جنگل کے چوکیدار کا لڑکا تھا اور پھیری پر ہرن کا گوشت بیچتا تھا۔
وہ جنگل سے ہرن شکار کر کے لاتا اور چونکہ اُس کا باپ جنگل کا محافظ تھا، اِس لیے جوزف کو شکار کے لیے کچھ زیادہ تگ و دَو نہ کرنا پڑتی۔

بہت جلد ایسا ہوا کہ اُس جنگل میں ہرنوں کی تعداد کم ہونے لگی۔
کسی شخص نے بڑے افسروں تک یہ حالات پہنچا دیے۔ وہاں سے حکم آیا کہ آئندہ کسی شخص کو جنگل میں ہرن کا شکار کھیلنے کی اجازت نہ دی جائے۔ یہ حکم سن کر جوزف بالکل پریشان نہ ہوا۔
وہ نہایت پھرتیلا اور مضبوط نوجوان تھا۔ روزانہ بیس تیس میل پیدل چلنا اُس کے لیے بچوں کا کھیل تھا۔
اب وہ زوبرگن کے اُس جنگل میں نہ جاتا، بلکہ آس پاس کے دوسرے جنگلوں میں پھرا کرتا۔
کبھی کبھار گاؤں میں دکھائی دیتا۔
مَیں نے اُس نوجوان کو کئی بار دَیکھا تھا اور سمجھا تھا کہ اُس کے مضبوط اور گھٹیلے جسم میں ایک وحشی روح چھپی ہوئی ہے۔

مسٹر واہین کو جوزف سے خواہ مخواہ نفرت تھی۔
وہ کہتا تھا کہ یہ نوجوان نہایت خطرناک ہے اور اِسے آدمیوں میں شمار کرنا حماقت ہے۔ جب آدمیوں کے غائب ہونے کی وارداتیں شروع ہوئیں، تو جوزف اُن دنوں زوبرگن میں آ گیا تھا۔
اُس نے طرح طرح کے من گھڑت قصّے سنا سنا کر لوگوں کو سراسیمہ کر دیا تھا۔
حتیٰ کہ کوئی شخص بھی سورج غروب ہونے کے بعد گھر سے باہر نہیں نکلتا تھا۔ البتہ گاؤں کا گڈریا ہی ایسا آدمی تھا جسے دنیا کی کوئی طاقت خوف زدہ نہیں کر سکتی تھی۔

وہ ہنس کر کہتا:

’’جو لوگ بدروحوں سے ڈرتے ہیں اور اُن سے دور بھاگتے ہیں، وہ اَزلی بزدل ہیں۔
بھلا یہ بھی کوئی ڈرنے کی چیزیں ہیں۔ اِن سے تو یاری گانٹھنی چاہیے۔
مَیں نے سنا ہے کہ بدروحیں جب کسی کی دوست بن جائیں، تو اُسے زمین میں چھپے ہوئے دفینے نکال کر دیتی ہیں۔‘‘

گاؤں کے میئر اور پولیس کانسٹیبل نے بھی کئی بار گڈریے کو سمجھایا کہ وہ جنگل اور پہاڑوں میں گھومنا پھرنا بند کر دے،
مگر وہ باز نہ آیا اور آخر ایک دن یہ خبر وحشت اثر سنائی دی کہ گڈریا بھی غائب ہے۔

گڈریے کا یوں گم ہونا معمولی بات نہ تھی۔ گاؤں میں ماتم بپا ہو گیا۔ ہر شخص اُس سے محبت کرتا تھا اور وَہاں کوئی بھی اُس کا دشمن نہ تھا۔
مجھے تو بےحد افسوس ہوا، کیونکہ وہ بےچارہ کبھی کبھی میرے پاس بھی آن کر بیٹھ جایا کرتا تھا اور عجیب عجیب باتیں کرتا جن میں مکّاری اور عیّاری کا کوئی شائبہ نہ ہوتا۔

اُس روز مَیں نے جی میں ٹھان لیا کہ اِن وارداتوں کا سراغ لگا کر رہوں گا خواہ میری جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔ مَیں نے واہین سے ذکر کیا، تو وہ بھی میرا ساتھ دینے کے لیے تیار ہو گیا۔
کیرا کو جب ہمارے ارادوں کا پتا چلا، تو وہ سخت پریشان ہوئی۔
اُس کا سرخ و سپید چہرہ ایک دم ہلدی کی مانند زرد پڑ گیا۔ ہونٹ کپکپانے لگے۔ اُس نے جلدی سے اپنے شوہر واہین کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولی:

’’کیا تم لوگ بھی دیوانے ہو گئے ہو۔ خواہ مخواہ اَپنی جان دینے کے در پے ہو۔‘‘

’’کیرا! تم زیادہ فکر نہ کرو۔ خدا نے چاہا، تو کوئی ہمارا بال بھی بیکا نہ کر سکے گا۔‘‘ واہین نے کہا۔

مَیں نے بھی کیرا کو سمجھایا کہ اِس وقت ہمارا فرض یہی ہے کہ اِن وارداتوں کے اصل مجرم کو گرفتار کرانے میں پولیس کی مدد کریں۔
بدروحیں نہ کسی کو قتل کرتی ہیں اور نہ لاشیں غائب کرتی ہیں۔ یہ ضرور کسی چالاک مجرم کا کام ہے۔
کیرا نے ہماری اِن باتوں کا کوئی جواب نہ دیا اور رُوٹھ کر ایک طرف چلی گئی۔
اُس وقت مجھے اُس کی آنکھوں میں پہلے سے زیادہ چمک نظر آئی۔ واہین بھی کسی فکر میں گم ہو گیا۔

اب ہم نے اِس خطرناک مہم کو سر کرنے کی تمام تیاریاں کر ڈالیں۔ اُن تیاریوں میں دو باتوں پر زیادہ زور دِیا گیا تھا۔
ایک یہ کہ اندھیرے میں صحیح نشانہ لگانے کی مشق پختہ ہو جائے اور دُوسری یہ کہ رات کو نیند ہرگز نہ آئے۔
اِس دوران میں واہین نے کہا کہ اگر ہم اکٹھے پہاڑی پر گئے، تو ممکن ہے ہم دونوں بیک وقت اُس پُراسرار قاتل کے ہتھے چڑھ جائیں۔ اِس لیے یہ زیادہ مناسب ہے کہ باری باری وہاں جائیں۔
طریقہ کار یہ رہے گا کہ ہم میں سے ایک شخص سورج چھپنے سے کوئی ڈیڑھ دو گھنٹے پہلے پہاڑی کے نزدیک کسی محفوظ مقام پر چھپ جائے۔
دُوسرا شخص چھپنے کے فوراً بعد پہاڑی پر نمودار ہو اَور خود کو چھپانے کی کوئی کوشش نہ کرے۔ وہ اِس طرح چلے پھرے جیسے تفریح کر رہا ہے۔
جب اندھیرا گہرا ہو جائے، تو وہ پہاڑی سے اترے اور اُس پگڈنڈی پر مزے سے چلنے لگے جو گاؤں کو جاتی ہے۔
اِس دوران میں پہلا شخص اپنے ساتھی کی برابر کڑی نگرانی رکھے اور جھاڑیوں پر بھی نظریں جمائے رہے۔
اُسے اتنا مستعد رہنا چاہیے کہ جونہی معمولی سی آہٹ پائے یا کسی کو دیکھے، فوراً فائر کر دے۔

مَیں نے واہین کی اِس تدبیر پر غور کیا، تو اُسے بہت عمدہ اَور قابلِ عمل پایا۔
تاہم مَیں نے اِس میں اتنا اضافہ اور کر دیا کہ اگر ہم میں سے کسی کو کوئی حادثہ پیش نہ آیا، تو مختلف راستوں سے گاؤں واپس آئیں گے۔
اِس کے علاوہ اَندھیری راتوں میں جانا ٹھیک نہ ہو گا بلکہ چاندنی راتوں کا انتظار کر لیا جائے۔

قصّہ مختصر، چاند کی چودھویں رات تھی کہ ہم نے اپنی مہم کا آغاز کر دیا۔ سورج غروب ہونے سے کچھ پہلے واہین پہاڑی کی طرف چلا۔
نگرانی کی باری اُس کی تھی اور مجھے اُس پُراسرار قاتل کا ’’شکار‘‘ بننا تھا۔ واہین جب سرائے سے نکلا، تو اُس کی بیوی کیرا کا جسم خوف سے تھرتھر کانپ رہا تھا اور آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگی ہوئی تھی۔
گزشتہ ایک ہفتے سے وہ مجھے اور وَاہین کو سمجھاتے سمجھاتے عاجز آ گئی تھی کہ اِس مہم پر جانے کا خیال ترک کر دیں، مگر ہمیں بھی ضد ہو گئی تھی۔
واہین نے اپنی بیوی کی یہ حالت دیکھی اور مسکرا کر صرف اتنا کہا:

’’دیکھو کیرا! تم ایک بہادر آدمی کی بیوی بنو۔ اِن آنسوؤں کو پی جاؤ۔
اگر میری موت کا وقت آ گیا ہے، تو دنیا کی کوئی طاقت مجھے بچا نہیں سکتی اور اَگر وقت نہیں آیا، تو کوئی مجھے مار نہیں سکتا۔‘‘

واہین کے اِن الفاظ نے عورت پر جادو اَثر کیا۔ وہ رَوتے روتے یک لخت کِھلکھلا کر ہنس پڑی۔

جب مَیں پہاڑی کے قریب پہنچا، تو سورج مغرب کے دامن میں اتر چکا تھا اور کوئی دم میں نظروں سے اوجھل ہونے والا تھا۔ مَیں سگار کے کش لگاتا اور چھڑی گھماتا ہوا چلا جا رہا تھا۔
پہاڑی پر چڑھتے ہوئے مَیں دُزدیدہ نگاہوں سے دائیں بائیں دیکھتا بھی جاتا تھا۔
میرے کوٹ کی جیب میں نو گولیوں سے بھرا ہوا رِیوالور موجود تھا اور مجھے یقین تھا کہ میرا نشانہ خالی نہ جائے گا۔

سورج غروب ہونے کے بعد کچھ دیر تک مَیں پہاڑی میں موجود رَہا۔
پھر نیا سگار جلا کر تیزی سے نیچے اترا اَور مدھم سُروں میں ایک مشہور گیت گاتا ہوا گاؤں کو جانے والی پگڈنڈی پر ہو لیا۔ جنگل میں پرندوں کی آوازوں سے ایک حشر برپا تھا۔
کہیں لومڑیاں چیخ رہی تھیں اور کہیں گیدڑ ہاؤ ہُو کر رہے تھے۔
ایک دو مرتبہ مَیں نے دور سے بھیڑیوں کو بھی دیکھا جو جھاڑیوں کو سونگھتے پھر رہے تھے۔

چند لمحے بعد مشرق کی جانب سے ایک چمکدار سنہری تھال اُبھرنا شروع ہوا۔ یہ چودھویں کا چاند تھا۔ مَیں نے اپنی رفتار سست کر دی اورچاندنی سے لطف اندوز ہونے لگا۔
مَیں جانتا تھا کہ واہین میرے عقب میں کچھ فاصلے پر موجود ہے اور خطرے کی صورت میں اُس کا نشانہ بھی خطا نہ ہو گا۔
ڈیڑھ گھنٹے کی سیر کے بعد مَیں آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا گاؤں میں پہنچ گیا اور کوئی غیرمعمولی واقعہ پیش نہ آیا۔

دوسرے روز جب مَیں ناشتا کر کے واہین کے کمرے میں گیا، تو وہ اَبھی تک بستر پر بےسدھ پڑا تھا۔ مَیں نے کیرا کو منع کر دیا کہ جگانے کی ضرورت نہیں۔
مَیں نے دیکھا کہ کیرا کی آنکھیں بھی سرخ ہیں۔ یقیناً یہ عورت رات بھر جاگی ہے۔
مَیں دیر تک بیٹھا کیرا سے باتیں کرتا رہا۔
واہین نے اِس دوران میں کروٹ تک نہ لی۔ جب مَیں رخصت ہونے لگا، تو کیرا نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور خوشامد سے کہنے لگی:

’’ڈاکٹر! میرا شوہر نہایت ضِدّی ہے، اِسے راہ پر لانا بےکار ہے۔
مَیں تم سے درخواست کرتی ہوں کہ اِس کا خیال رکھنا۔ اگر واہین دنیا میں نہ رہا، تو میرا جینا بھی محال ہو گا۔‘‘

مَیں نے کیرا کو اِطمینان دلایا کہ مَیں واہین کو آسانی سے مرنے نہ دوں گا۔

اُس رات ’’شکار‘‘ بننے کی باری واہین کی تھی۔ حسبِ قاعدہ مَیں سہ پہر کے فوراً بعد پہاڑی کے قریب پہنچ گیا۔ اتفاق سے میری نظر اُس درخت پر پڑی جس پر خون کا دھبا اور بھیجے کا ٹکڑا چپکا ہوا ملا تھا۔
اُس درخت کی شاخیں گھنی تھیں، مَیں جلدی سے درخت پر چڑھ گیا۔
یہاں سے دور تک کا منظر میرے سامنے تھا۔ مَیں اِس مرتبہ ریوالور کے علاوہ اِعشاریہ ۳۰۰ کی رائفل اور طاقتور برقی ٹارچ بھی لے کر آیا تھا۔

سورج غروب ہونے میں ابھی خاصی دیر تھی۔ جنگل اور پہاڑی پر ہیبت ناک سناٹا طاری تھا۔ کبھی کبھی تین چار اَفراد کی ٹولی تیز تیز قدم چلتی ہوئی اِدھر سے گزر جاتی۔
جب اندھیرا پھیلنے لگا اور دَرختوں کے سائے آہستہ آہستہ غائب ہونے لگے، تب مَیں نے واہین کو دیکھا کہ بےفکری سے جھومتا جھامتا چلا آ رہا ہے۔ وہ سیٹی پر کوئی دھن بجا رہا تھا۔
مَیں نے رائفل کے دستے پر انگلیاں گاڑ دیں اور وَاہین کو نگاہ کے دائرے میں قید کر لیا۔

چاند ابھی نہیں نکلا تھا، البتہ مشرقی اُفق پر روشنی کی تیز کرنیں پھوٹ رہی تھیں۔ دفعتاً دائیں ہاتھ درختوں کے ایک وسیع جھنڈ میں سے ایسی آواز بلند ہوئی کہ میرا کلیجا حلق میں آ گیا۔
یوں محسوس ہوا جیسے کوئی مصیبت زدہ عورت چلّائی ہو۔ واقعہ یہ ہے کہ مجھے درخت سے اترنے کی جرأت نہ ہوئی۔
چند لمحے بعد وہی آواز دوبارہ سنائی دی، تب مجھے یاد آیا کہ یہ تو اُس پرندے کی آواز ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ انسانی بھیجا ہڑپ کرنے کا بڑا شوقین ہے۔ لوگوں میں اِس کے بارے میں عجیب قسم کی داستانیں مشہور ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ارجنٹائن میں یہ پرندہ کثرت سے ہے۔
اِس کی چونچ نہایت تیز اور لوہے کی مانند سخت ہوتی ہے۔ اپنے شکار پر عقب سے زبردست حملہ کرتا ہے اور اِس طرح چونچ مارتا ہے کہ کھوپڑی میں گہرا سوراخ ہو جاتا ہے۔
انسان اُس زخم کی تاب نہیں لا سکتا اور وَہیں ڈھیر ہو جاتا ہے۔
اِس کے بعد یہ پرندہ مزے سے اُس کا بھیجا ہڑپ کرتا ہے اور اُڑ جاتا ہے۔
خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ اِس کہانی میں صداقت کہاں تک ہے، تاہم مجھے یہ کہنے میں شرم محسوس نہیں ہوتی کہ اُس آواز نے میرے اعصاب پر بہت برا اَثر ڈالا۔
یوں معلوم ہوا جیسے کوئی لمحہ جاتا ہے، میرا بھیجا بھی ندارد ہو گا۔

دوسری مرتبہ آواز سنتے ہی مَیں نے درختوں کے جُھنڈ کی طرف رائفل کی نال پھیر دی اور غور سے دیکھنے لگا۔ اُس وقت میرے دل کی دھڑکن بہت تیز ہو گئی تھی۔
کیا دیکھتا ہوں کہ اُس جھنڈ میں سفید سفید سی روشنی ہو رہی ہے جو کبھی نظر آتی ہے، کبھی اوجھل ہو جاتی ہے۔ کبھی آگے بڑھتی ہے، کبھی پیچھے ہٹ جاتی ہے۔

مَیں اُس وقت واہین کو قطعی فراموش کر چکا تھا۔ کچھ کہہ نہیں سکتا کہ یہ فریبِ نظر تھا یا واقعی وہاں کوئی چیز تھی۔
بہرحال میری آنکھوں نے ایک سفید انسانی ہیولے کو وہاں رقص کرتے دیکھا۔ یکایک روشنی غائب ہو گئی اور اِس کے ساتھ ہی وہ ہیولا بھی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
پھر مَیں نے واہین کے گانے کی آواز سنی۔ وہ پہاڑی چڑھ رہا تھا۔ پھر وہ بہت دیر تک سگار جلا کر کش لگاتا اور ٹہلتا رہا، مگر کوئی حادثہ پیش نہ آیا۔
آدھی رات کے لگ بھگ جب کہ چاند کی تیز روشنی میں دور دُور کا منظر دکھائی دے رہا تھا۔
اور ہوا کے سرد جھونکے چلنے لگے تھے، واہین پہاڑی سے اترا اَور گاؤں کو جانے والی پگڈنڈی پر ہو لیا۔ مَیں اُس کے پیچھے پیچھے گاؤں تک گیا۔

اگلے روز مَیں بستر میں لیٹا آرام کر رہا تھا کہ واہین میرے پاس آیا۔
تب مَیں نے آواز، روشنی اور ہیولے کا ذکر کیا۔ اُس نے زور سے قہقہہ لگایا اور کہنے لگا:

’’میرے بھولے بھالے دوست! یہ سب تمہارا وَہم ہے۔ وہاں ضرور جگنو چمک رہے ہوں گے ۔
جہاں تک آواز کا تعلق ہے،تو سمجھ لو کہ اِس جنگل میں بہت سے پرندے ایسے ہیں جن کی آوازیں ہم نے ابھی تک نہیں سنی ہوں گی۔‘‘

مَیں بھلا اُس سر پھرے شخص سے کیا بحث کرتا۔ خاموش ہو رہا۔

اُس رات شکار بننے کی باری میری تھی۔ پہاڑی کے قریب جا کر مَیں نے اُس جُھنڈ کی طرف دیکھا اور وَہیں رک گیا۔
یہ جگنوؤں کی چمک تو ہرگز نہ تھی۔ اب وہ اِنسانی ہیولا بھی صاف نظر آتا تھا۔
کوئی واضح اور پھولی ہوئی چیز تھی جو مسلسل آگے پیچھے حرکت کر رہی تھی۔
مَیں نے سیٹی بجا کر واہین کو اشارہ کیا۔
وہ فوراً جھاڑیوں میں سے نکلا اور تقریباً دوڑتا ہوا اُس جھنڈ کی طرف گیا۔
مَیں اُس کے تعاقب میں تھا۔ واہین کے ہاتھ میں رائفل تھی اور مَیں نے اپنا ریوالور تان رکھا تھا۔

جھنڈ کے نزدیک پہنچ کر مَیں ایک پتھر کے پیچھے چھپ گیا اور وَاہین ایک جھاڑی کی اوٹ میں کھڑا رَہا۔ پھر وہ میرے پاس آیا اور دَبے لہجے میں بولا:

’’مَیں نے اُسے اچھی طرح دیکھ لیا ہے۔ یہ ضرور کوئی انسان ہے …..
مگر سوال تو یہ ہے کہ اِس وقت یہ یہاں کیا کر رہا ہے۔ بہرحال ….. جب مَیں تین تک گنتی گنوں، تو تم ٹارچ روشن کر دینا، پھر مَیں فائر کر دوں گا۔‘‘

’’مگر …..!‘‘ مَیں نے کچھ کہنا چاہا، لیکن واہین نے مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
جھنڈ میں وہ اِنسانی ہیولا ابھی تک حرکت کر رہا تھا۔
اب مَیں نے بھی دیکھا کہ اُس کے بدن پر سفید لمبا لبادہ ہے جس کا دامن ہوا سے اُڑ رَہا ہے۔ اتنے میں واہین نے ایک ….. دو ….. تین کہا اور مَیں نے ٹارچ کا بٹن دبا دیا۔
روشنی کی ایک تیز لکیر جُھنڈ تک گئی اور وُہ پُراسرار ہیولا اپنے پورے خدوخال سمیت ہمارے سامنے تھا۔ کوشش کے باوجود مَیں اپنی چیخ نہ روک سکا۔ اُدھر واہین پھیپھڑوں کی پوری قوت سے چلّایا:

’’خدا کی پناہ ….. کیرا ….. تم یہاں کیا کر رہی ہو؟‘‘

کیرا نے قریب آ کر کہا:

’’مَیں تو ہر رات تمہارے پیچھے یہاں تک آتی ہوں۔‘‘ اُس کی آواز لرز رہی تھی۔

’’مادام! مَیں آپ کی جرأت اور حوصلے کی داد دَیتا ہوں۔‘‘ مَیں نے کہا۔
’’یقین کیجیے، اِس وقت خدا نے آپ کو بچایا ہے، ورنہ واہین آپ پر فائر کرنے ہی والا تھا۔‘‘

’’آؤ چلو ….. خبردار آئندہ ایسی حماقت نہ کرنا۔‘‘
واہین نے کرخت لہجے میں کہا اور کیرا کا بازو پکڑ کر گھسیٹتا ہوا پہاڑی سے اترنے لگا۔

قاعدے کے مطابق ہمیں الگ الگ راستوں سے گاؤں میں داخل ہونا چاہیے تھا، چنانچہ مَیں اُن دونوں کو چھوڑ کر پہاڑی کی طرف لَوٹا اور دوسری پگڈنڈی پر آیا ہی تھا کہ اپنے عقب میں کسی کے چلنے کی آہٹ سی سنی۔
مَیں نے فوراً مڑ کر دیکھا۔ صرف اتنا نظر آیا کہ کوئی پھرتیلا آدمی جھاڑیوں میں گھسا ہے۔
مَیں نے ریوالور سنبھالا اور دَبے پاؤں جھاڑیوں کی طرف بڑھا۔ ایک ایک کر کے تمام جھاڑیاں دیکھ ڈالیں ….. مگر وہاں کوئی نہ تھا۔
یہ موقع ایسا نہ تھا کہ مَیں اپنا وہم یا فریبِ نظر سمجھ کر ٹال جاتا۔ مَیں نے خود اَپنی آنکھ سے ایک لمبے تڑنگے آدمی کو چھلانگ لگا کر جھاڑیوں میں گھستے دیکھا تھا۔ مَیں نے للکار کر کہا:

’’جو شخص بھی جھاڑیوں میں چھپا ہے، فوراً باہر آ جائے، ورنہ مَیں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔‘‘

مَیں نے کئی مرتبہ یہ اعلان کیا، مگر بےسود۔ کسی نے جواب نہ دیا۔

جب واپس آ کر مَیں نے واہین کو یہ قصّہ سنایا، تو وہ آنکھیں بند کر کے سوچ میں گم ہو گیا۔ پھر کہنے لگاـ:

’’گزشتہ تین دنوں میں ہم نے گاؤں میں مشہور کر دیا ہے کہ ہم اُس پُراسرار بلا کو گرفتار کرنے کے در پے ہیں۔ اِس لیے ممکن ہے وہ ’’بلا‘‘ محتاط ہو گئی ہو ۔
اَب تمہاری اِس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں کوئی جانور نہیں تھا۔
بہرحال جو کوئی بھی ہے، ہم سے بچ کر کہاں جائے گا ….. ہم اُسے کل رات تک ضرور گرفتار کر لیں گے۔‘‘

جب مَیں سونے کے لیے بستر پر لیٹا، تو میرے دل میں طرح طرح کے وسوسے جنم لینے لگے۔
واہین کا یہ کہنا کہ ہم کل رات اُسے ضرور گرفتار کر لیں گے، یقیناً کوئی معنی رکھتا ہے۔
کیا اُسے اُس بلا کا پتا چل گیا ہے؟ ممکن ہے اُس کی بیوی کیرا بھی اِس بھید سے آگاہ ہو چکی ہو۔
کیسی بےوقوف عورت ہے کہ اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے درختوں کے جھنڈ تک پہنچ گئی۔
بھلا وہ وَہاں کیا کر رہی تھی۔ اِس قسم کے ہزاروں سوال میرے ذہن میں رقص کرنے لگے۔

اگلے روز صبح ناشتے کے بعد مَیں نے دیکھا کہ نوجوان جوزف سرائے کے ہال کمرے میں مجمع لگائے ہوئے ہے۔
گاؤں کے سبھی نوجوان، وہم پرست بڈھے اور بوڑھی عورتیں اُسے یوں گھیرے بیٹھے تھیں جیسے وہ اُن کے لیے نہایت قابلِ احترام ہستی ہو۔
جوزف نے مجھے دیکھا، تو اُس کے لبوں پر ایک تحقیر آمیز تبسّم نمودار ہوا۔
وہ مجھ سے کہنے لگا:

’’کیوں صاحب! آپ کچھ بیمار نظر آتے ہیں۔ نصیبِ دشمناں طبیعت کب سے علیل ہے؟‘‘

اُس کے یوں مضحکہ اڑانے پر مجھے تاؤ تو بہت آیا، مگر ہنگامہ کھڑا کرنے سے فائدہ کچھ نہ تھا۔
مَیں نے اُس کی بکوس کو نظرانداز کرتے ہوئے جواب دیا:

’’مَیں بیمار تو نہیں ہوں، کام کی زیادتی کے باعث تھک سا گیا ہوں۔‘‘

’’جناب، گستاخی معاف! جو کام آپ نے اپنے ذمے لیا ہے، وہ آپ کے بس کا نہیں۔
یہ بدروحیں کسی کے قابو میں نہیں آتیں۔ ایسا نہ ہو کہ آپ اپنی قیمتی جان گنوا دَیں۔‘‘

یہ سن کر کچھ نوجوان ہنسے۔ مَیں نے جھلّا کر کہا:

’’جوزف! تم حد سے بڑھ رہے ہو، مجھے یہ باتیں پسند نہیں۔‘‘

وہ شرمندہ ہو کر پلکیں جھپکانے لگا۔ پھر مَیں نے جاتے جاتے کہا:

’’تم نے اِن بھولے بھالے لوگوں کو بیکار قصّے کہانیاں سنا کر ڈرا رَکھا ہے۔
ابھی چند دن تک سب کو پتا چل جائے گا کہ بدروحیں کیا ہوتی ہیں اور اُنھیں کیونکر گرفتار کیا جاتا ہے۔‘‘

یہ کہہ کر مَیں وہاں سے چلا گیا۔ مَیں نے سنا کہ جوزف دھیمے لہجے میں کہہ رہا تھا:

’’یہ ڈاکٹر شیراویف اور وُہ اَنگریز ….. مسٹر واہین دونوں پاگل ہیں ….. بےوقوف کہیں کے …..
یہ دونوں آج کل راتوں کو جنگل میں جاتے ہیں۔‘‘ پھر اُس نے قہقہہ لگایا۔

’’سوال یہ ہے کہ اگر اُس انگریز کو کچھ ہو گیا، تو اُس کی امریکی بیوی کو کون سنبھالے گا؟‘‘
ایک اور نوجوان بولا۔ اِس جملے پر خوب قہقہے لگے۔

شام ہوتے ہی مَیں پہاڑی کی طرف روانہ ہو گیا۔
اُس روز ’’شکار‘‘ بننے کی باری واہین کی تھی۔ ابھی مَیں گاؤں سے باہر نکلا ہی تھا کہ جوزف سے مٹھ بھیڑ ہو گئی۔ اُس نے بدتمیزی سے سلام کیا اور بولا:

’’کہیے سرکار! کدھر کے ارادے ہیں؟‘‘

’’یوں ہی ذرا گھومنے جا رہا ہوں۔‘‘ مَیں نے تلخ لہجے میں جواب دیا اور آگے بڑھ گیا۔
مجھے اُس جوزف پر سخت طیش آ رہا تھا۔ نہایت نابکار اَور بدمعاش آدمی ہے۔
مَیں اپنے خیالوں میں گم جھاڑیوں کے قریب سے گزر رَہا تھا کہ پیچھے سے کسی نے میرے کندھے مضبوطی سے پکڑ لیے۔
میرے منہ سے چیخ نکلی اور مَیں نے اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کی۔
عین اُسی لمحے پہاڑی کی فضا فائر کے دھماکے سے گونج اٹھی۔ پھر کوئی چیز دھڑام سے نیچے گری۔ اتنے میں واہین کی آواز میرے کانوں میں آئی:

’’ڈاکٹر! کیا تم صحیح سلامت ہو؟‘‘

’’ہاں! مَیں ٹھیک ہوں ….. مجھ پر حملہ کس نے کیا تھا؟‘‘

’’کوئی آدمی تھا ….. مَیں نے اُسے بھاگتے دیکھ لیا ہے۔ میرے ساتھ آؤ۔‘‘

واہین اُس وقت وحشی درندہ بنا ہوا تھا۔ اُس کے منہ سے جھاگ اُڑ رہا تھا اور چہرے پر غیظ و غضب کے آثار تھے۔
وہ آپ ہی آپ بڑبڑا رَہا تھا:

’’بدمعاش بچ کر نکل گیا ….. مگر جائے گا کہاں ….. مَیں تو اُسے پاتال میں سے بھی کھینچ لاؤں گا ۔
خبیث روح ….. راتوں کی نیند حرام کر دی تھی اِس نے ….. اب چھپتا پھرتا ہے۔‘‘

واہین تازی کتے کی طرح جھاڑیوں کو سونگھتا پھر رہا تھا۔
اُس کے ہاتھ لہولہان ہو رہے تھے اور کپڑے تار تار، لیکن اُسے کچھ ہوش نہ تھا۔

’’واہین ….. ہوش میں آؤ ….. یہ کیا کر رہے ہو۔ پاگل تو نہیں ہو گئے۔‘‘

’’خاموش ….. خاموش …..‘‘ وہ میری طرف منہ کر کے دھاڑا۔
’’اِدھر آؤ، اِس گڑھے پر سے شاخیں اور مٹی ہٹاؤ۔‘‘

وہ جھاڑیوں کے اندر کشادہ جگہ پر بنے ہوئے گڑھے کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔
مَیں نے سُوکھی شاخیں اور مٹی ہٹانی شروع کی۔ وہ بھی اِس کام میں میری مدد کرنے لگا۔ جب ہم نے گڑھے کا منہ خاصا فراخ کر دیا، تب وہ میرا ہاتھ پکڑ کر اُس کے اندر کود گیا۔ مَیں نے اپنے آپ کو ایک تاریک غار میں پایا۔
ابھی مَیں ٹارچ روشن کرنے بھی نہ پایا تھا کہ غار میں فائر کی آواز گونجی۔
مَیں نے فوراً ٹارچ روشن کی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ واہین کے قریب ہی کوئی آدمی اوندھے منہ پڑا ہے۔
اُس آدمی کے دائیں ہاتھ میں ریوالور اَور بائیں ہاتھ میں سوراخ کرنے والے برمے کی طرح کا کوئی عجیب سا ہتھیار تھا۔

’’اِسے سیدھا کرو۔‘‘ واہین نے مجھ سے کہا اور جونہی مَیں نے اُسے سیدھا کیا اور اُس کے چہرے پر روشنی ڈالی، مَیں بےاختیار چیخ اٹھا:

’’جوزف …..!‘‘

وہ مر چکا تھا۔ واہین نے اُس کی کھوپڑی میں سوراخ کر دیا تھا۔ اب ہم نے غار کا معائنہ کیا۔ ایک جانب دیوار کے ساتھ ایک اور گڑھا نظر آیا۔
یہ دراصل ایک قسم کا تہ خانہ سا تھا۔ ہم اُس گڑھے میں اترے اور ٹارچ کی راہنمائی میں تقریباً پندرہ منٹ تک چلتے رہے۔ ہم ایک تنگ سرنگ میں سے گزر رَہے تھے۔
سرنگ ختم ہوئی، تو ہم نے اپنے آپ کو پتھر کے بنے ہوئے ایک کشادہ کمرے میں پایا، جس کی فضا نہایت گرم تھی۔ ایک گوشے میں پتھر کا چولہا بنا ہوا تھا جس میں موٹے موٹے کندے سلگ رہے تھے۔
قریب ہی ایک رائفل پڑی تھی۔ رائفل کے ساتھ ہی چوکور پتھر پر بہت سے کارتوس، تین چار لمبے لمبے شکاری چاقو، ہتھوڑے اور اِس قسم کے کئی اوزار پڑے تھے۔
کمرے کے بالکل بیچ میں لکڑی کی ایک بوسیدہ سی میز پڑی تھی۔
اُس میز پر دائیں جانب پکے گوشت کا ایک ڈھیر رکھا تھا جس کا رنگ سیاہ پڑ گیا تھا۔
اُس میں سے ہلکی ہلکی سی بدبُو اُٹھ رہی تھی۔ قریب ہی تیز کی ہوئی چھریاں دھری تھیں۔
پتھر کے ایک بڑے سے پیالے میں سفید سفید سی کوئی چیز نظر آئی۔
واہین نے چھری سے اُس چیز کو اُٹھایا اور غور سے دیکھا یہ انسانی بھیجے کا ذخیرہ تھا۔

میرے ذہن پر تاریکی چھانے لگی اور اگر واہین آگے بڑھ کر مجھے سنبھال نہ لیتا، تو مَیں زمین پر زور سے گرتا۔
تھوڑی دیر میں اوسان بحال ہوئے، تو ہم اُس منحوس تہ خانے سے باہر نکلے۔
تازہ ہوا کے جھونکوں نے ہمارے حواس درست کر دیے۔ پھر ہم دوڑتے ہوئے گاؤں کی طرف چلے۔

https://shanurdu.com/qatil-kon-tha/

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles