28 C
Lahore
Monday, July 15, 2024

Book Store

تلخ حقیقت     

احساس کے انداز 

تلخ حقیقت     

تحریر: جاوید ایاز خان

ایک مشہور واقعہ بچپن میں  پڑھا تھا کہ ایک بہت بڑے اُستاد اپنے شاگردوں کے ہمراہ  بیٹھے ہوئے تھے۔
انہیں کچھ خیال آیا۔ پوچھا کہ کوئی بتا سکتا ہے کہ رات ،صبح میں کس وقت ڈھلتی ہے؟
شاگردوں  نے غور سے اُستاد محترم کی جانب حیرانی سے دیکھا اور بڑے ادب سے جواب دیا:
اُستاد محترم! جب اندھیرا ختم ہو اور اُجالا پھیل جائے تو صبح ہو جاتی ہے ۔

اُنھیں مطمئن نہ پا کر دوسرے شاگرد نے جواب دیا  ۔
حضور جب سفید اور سیاہ دھاگے میں فرق نظر آ نے لگے تو یہ صبح کی علامت ہے ۔
تیسرے نے ادب سے کہا، جب ستاروں کی روشنی مدھم پڑنے لگے تو یہ اعلان صبح ہے ۔
محترم  نے چوتھے شاگرد کی جانب غور سے دیکھا تو وہ بولا:
میرے خیال میں جب دُور سے درختوں کو دیکھ کر معلوم ہو جائے کہ یہ بیری کا درخت ہے یا شیشم کا، تو یہ صبح ہونے کی واضح دلیل ہے ۔
اُنھوں نے یہ جواب سن کر دیگر شاگردوں کی جانب نظر دوڑائی مگر شاید کسی اور کے پاس کہنے کو مزید کچھ نہ تھا۔
ارشاد فرمایا:
“جب اتنی روشنی ہو جائے کہ تم ضرورت مند کے چہرے پر اس کی ضرورت پڑھ سکو تو جان لو کہ رات ڈھل چکی اور صبح  طلوع ہو گئی ہے۔ ”
پھر فرمایا کہ ہماری بینائی کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے لوگوں  کو پہچانیں اور ان کی مدد کریں۔ جن کا چہرہ سوال اور زبان بے سوال ہوتی ہے، لیکن یہ تب ممکن ہے کہ جب ہماری  بےحسی  کی رات ڈھل جائے اور  شعور کی صبح  طلوع ہو جائے۔
مسلمان اور مومن وہ نہیں جو خود پیٹ بھر کر کھائے سوتا رہے اور اس کے پہلو میں اس کا پڑوسی بھوک سے نڈھال بے چینی سے جاگتا رہے اور  وہ اسے نظر نہ آئے۔
طلوع صبح اور دن کی روشنی صرف دیکھنے کے لیے نہیں ہوتی بلکہ لوگوں کے چہروں کا درد محسوس کرنے کے لیے بھی ہوتی ہے۔
ہمارے بہت محترم اُستاد شاہ محمد صاحب فرماتے تھے کہ انسانیت کی معراج یہ ہے کہ ہم کسی کے ماتھے کی لکیروں سے جان لیں کہ وہ کیا چاہتا ہے؟
اسے کچھ بتانے اور کہنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
ضروری نہیں کہ وہ مالی معاملات ہی ہوں وہ آپ سے ہمدردی کے دو لفظوں کا طلبگار بھی ہو سکتا ہے؟وہ  اپنے ذہنی سکون کے لیے آپ سے محبت بھرے چند لفظ سننا چاہتا ہے؟
اپنے دکھ میں شریک کرنا چاہتا ہے؟
مشورہ اور راہنمائی کا طلبگار ہے؟
شاید وہ آپ کو اپنی خوشیوں میں شریک کرنا چاہتا ہے؟
اپنے کسی راز میں شریک کرنا چاہتا ہے؟
کچھ بھی چاہتا ہو مگر اصل کمال فن تو یہ ہے کہ اظہار مدعا سے پہلے ہی اس کی ضرورت کو سمجھا جائے اور اس کی مدد کی جائے!

یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں  

ہمارے آج  کے معاشرے میں دن بدن  بے حسی، لاتعلقی، ایک دوسرے سے دوری کا رحجان بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔
ہمدردی، محبت اور ایک دوسرے کی مدد کرنا جیسی  ہماری اخلاقی روایات زوال پزیر ہیں ۔
ہر ایک کو اپنی پڑی ہوئی ہے۔ ہماری سوچ روز بہ روز اپنے آپ تک محدود ہو چکی ہیں
دوسروں کی تکلیف اور دُکھ کو محسوس کرنے کا جذبہ ماند پڑتا جا رہا ہے ۔
دوسروں  کے معاملات کی خبر رکھنا اب ایک برائی تصور کیا جاتا ہے۔
معاشرے میں بڑھتی ہوئی رازداری ہمیں ایک دوسرے سے دُور کرتی چلی جا رہی ہے۔
جہاں تک مالی معاملات کا تعلق ہے، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ہوشربا گرانی کی باعث ہمارا سفید پوش طبقہ بےحد مشکلات کا شکار ہو چکا۔
ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ ۴۰ فیصد تک جا پہنچا ہے، جبکہ آمدنی کے وسائل جوں کے توں ہیں ۔
ان حالات سے سب سے زیادہ وہ سفید پوش اور وضع دار لوگ متاثر ہوئے ہیں جو اپنی خودداری کا بھرم رکھنا چاہتے اور اپنی تکالیف بیان کرنے میں بھی شرم محسوس کرتے ہیں ۔
ایک روز میں  نے ہمسائے کو کچھ لوگوں سے بحث کرتے  دیکھا۔
یہ صاحب ایک میڈیسن کمپنی میں اچھے عہدے پر فائز تھے، مگر کرونا وبا کی وجہ سے ڈاون سائزنگ کا شکار ہوئے اور ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اپنی جمع پونجی سے گزر اوقات کر کے کرونا کے اختتام کے منتظر تھے۔
پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ واپڈا کے اہلکار ہیں۔
عدم ادائیگی کی وجہ سے اس کا میٹر کاٹنا چاہتے ہیں۔ وہ بےچارے چند دن کی مہلت مانگ رہے تھے ۔
معلوم یہ ہوا کہ اب واپڈا والوں کو احکامات آئے ہیں کہ
اگر بجلی کا ایک ماہ کا بل بھی ادا نہ ہو تو میٹر کا کنکشن منقطع کر دیا جائے۔
مجھے حیرت ہوئی کہ ایک طرف کرونا وبا، دوسری جانب بے روزگاری، مہنگائی اور غربت اور تیسری جانب یہ حکومتی سخت اقدامات؟
مجھے اب اپنی ہمسائیگی پر افسوس ہوا کہ اس قدر قریب رہنے اور صبح شام ملنے کے باوجود میں اس کے چہرے پر موجود لکیروں کو نہ پڑھ سکا۔
جو اتنا بڑا بل آنے پر اس کی پیشانی پر اُبھری ہوں گی۔
مجھے اپنے آپ میں بڑی شرم محسوس ہوئی۔
میں  نے بل ادا کر کے اس کی بجلی تو بچا لی مگر اس سے نظریں نہ ملا سکا۔
واپڈا والے  نے کہا خان صاحب کس کس کا بل ادا کریں  گے؟
یہاں تو عدم ادائیگی کی  ایک لمبی لسٹ ہمارے پاس ہے
اگر ہو سکے تو ارباب اختیار سے درخواست کریں کہ بل کی ادائیگی کے لیے کم ازکم تین ماہ کی رعایت برقرار رکھیں، تاکہ لوگوں کی سفید پوشی کا بھرم برقرار رہے۔
یہ صرف بجلی کے بل کی بات نہیں، ضروری ادویات کی خرید عام آدمی کے اختیار سے باہر ہو چکی۔
وضع دار لوگوں کو گوشت کی دکان سے ایک ایک پاؤ گوشت اور سبزی کی دکان سے ایک  پاؤ  یا آدھا کلو آلو وغیرہ خریدتے دیکھ کر دل میں ایک ٹیس سی اُٹھتی ہے ۔
اچانک مرغی کے گوشت کی جگہ کلیجی پوٹے کی خریداری کیوں بڑھ رہی ہے؟
یہ کوئی اتفاق نہیں، مجبوری ہے۔
دوسری جانب اشرافیہ کی بے پناہ فضول خرچیاں اور غیر ضروری اخراجات بھی سوالیہ نشان ہیں!
دوبئی میں سب سے زیادہ پراپرٹی خریدنے والوں میں پاکستانی سرفہرست ہیں۔
مجھے میرے ایک صاحب حیثیت دوست نے اختیار دے رکھا ہے
کہ جہاں ایسا کوئی ضرورت مند نظر آئے، اس کی مدد ان کی جانب سے پوچھے بغیر جس طرح چاہے کر دیا کرو!
لیکن یہ ایک بہت مشکل اور ذمہ داری کا کام ہے ۔
ہمیں ایسے مخیر لوگوں اور اداروں کی اشد ضرورت ہے جو آگے بڑھ کر  یہ ذمہ داری نبھائیں۔
اپنے ارد گرد موجود  ان خوددار اور وضع دار لوگوں کی غیر محسوس مدد کا بیڑہ اُٹھائیں۔
اس کا آغاز ہمیں اپنے آپ سے کرنا ہے۔
ہمیں اندھیروں سے نکل کر اُجالوں میں ان کے چہروں پر نمایاں دکھوں اور مشکلات کو نہ صرف محسوس بلکہ غیر محسوس طریق پر مدد بھی کرنا ہے ۔
ہمارے گھروں اور ہوٹلوں میں ۳۰ فیصد کھانا بچ کر ضائع ہو جاتا ہے۔
ہمارے گھروں میں ۵۰ فیصد غیر استعمال شدہ ادویات پڑی ضائع ہو جاتی ہیں۔
سبزی منڈی میں سبزی اور پھل خراب ہو کر پھینک دیا جاتا ہے۔
کاش ایسا ہو کہ ان اشیاء کو مستحق لوگوں تک اس طرح پہنچایا جا سکے
کہ کسی کی عزت نفس بھی مجروح نہ ہونے پائے! مہنگائی سے لوگوں کی خاموش چیخیں سننے کی کوشش کریں۔
خدارا! اپنے اردگرد اور دائیں بائیں خیال رکھیں۔
دیکھیں کہ ہمسائے کا بچہ آج کل کیوں پڑھنے نہیں جا رہا ؟
اس کی پھٹی قمیص اور ٹوٹی جوتی پر نظر رکھیں؟
ایسا نہ ہو کہ ہماری بےاعتنائی ہمارے لیے کہیں  کوئی بڑا  پچھتاوا نہ بن جائے!
معاشرے کو آپس میں ہمدردی، اتحاد، یگانگت اور اجتماعیت کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے کبھی نہ تھی۔
آئیے! نیک نیتی سے اس کارخیر میں اپنا حصہ ڈالیں۔
ہمیں اس کے لیے مال ومتاع کی نہیں نیک اور پاک جذبوں  کے ساتھ ایک  مثبت سوچ کی  اشد ضرورت ہے!
یہی ہمارے مذہب اور پیارے نبیﷺ کی تعلیم ہے۔

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles