31 C
Lahore
Monday, June 17, 2024

Book Store

شہزادہ

شہزادہ

سمیہ شاہد

کون کہتا ہے کہ احساسات صرف اشرف المخلوقات کی ملکیت ہوتے ہیں…وہ انسانوں کو جذبات سے عاری سمجھتا تھا

چھوٹا قد، بھرا بھرا جسم، پرکار سے بنایا گیا گول چہرہ، چھوٹی چھوٹی اندر کو دھنسی آنکھیں، مسکراتے لب اور درمیان سے مانگ نکالے بال، چھوٹے چھوٹے ہاتھ، ناخن بھی درمیانے مگر کالے اور تیز، ناک کے نتھنے پھولے اور پھیلے سے گلے میں پٹہ ڈالے جو بھی شاہزادے کو پہلی بار دیکھتا، اُسے ایک مرتبہ فلم ’’ٹارزن‘‘ ضرور یاد آتی۔
شاہزادے کا بچپن نہ جانے کیسے گزرا؟
چھوٹی عمر میں ہی لکڑہاروں کے ہاتھ لگ جانے کے باعث وہ دو تین ماہ میں بکتے بکتے بالآخر بڑے شہر میں ایک خانہ بدوش تک پہنچ گیا۔ جس کے بعد اس کی زندگی کا ایک اذیت ناک دور شروع ہو گیا۔
صبح سویرے اسے گلے میں رسی ڈال کر کام  پر  لے جانے کی تیاری شروع کر دی جاتی۔ کھانے کے نام پر روکھی سوکھی اور اکثر و بیشتر صرف سوکھی پر ہی گزارا کرنا پڑتا۔
بعض اوقات کبھی کہیں سے خیرات مل جاتی تو وارے نیارے بھی ہو جاتے۔ کبھی کبھی جبلّت کے ہاتھوں مجبور ہو کر کیڑے مکوڑے بھی کھا لیتا۔ رہنے کے لیے ایک چھوٹا سا کونا میسر تھا، اس پر رسّی کا عذاب الگ۔ رات گئے مالک کے ساتھ اِدھر سے اُدھر پھرنے کے باعث ٹھیک سے سو بھی نہ پاتا۔
شاہزادے کو اپنے مالک کے ڈنڈے سے بہت ڈر لگتا تھا۔ وہ صرف ڈنڈا ہی نہ تھا۔ اس پر لگی نوکدار چیز جب اس کے بدن میں گھستی تو اسے اپنا بدن ڈولتا اور روح ڈوبتی ہوئی محسوس ہوتی۔ وہ مالک کی ڈانٹ، تھپڑ، لاتیں، گھونسے، رسی، سخت پٹا، لوہے کا پنجرہ، سب برداشت کر سکتا تھا مگر اس چھڑی کو دیکھ کر اس کی روح کانپ جایا کرتی۔
اس چھڑی سے پہلا سابقہ اسے ایک پارک کے سامنے پیش آیا جب بھوک کے ہاتھوں نڈھال ہو کر اس  نے ناچنے سے انکار کر دیا۔ مالک نے پہلے تو پیار سے، پھر ذرا خفگی سے اور اس کے بعد ڈانٹ کر ناچنے کو کہا مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ اس پر مالک نے چھڑی اُٹھائی اور پہلی ضرب پر ہی شاہزادہ بلبلا اُٹھا اور آناََ فاناََ ناچنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد شاہزادے نے چھڑی اُٹھنے کا موقع نہ دیا۔
مالک جیسا بھی تھا اتنا نرم دل ضرور تھا کہ ایک دم چھڑی نہ مارتا۔ سب سے پہلے لات مارنے سے شروع ہوتا پھر رفتہ رفتہ گھونسے، تھپڑ اور آخر میں چھڑی اُٹھاتا جسے دیکھ کر ہی شاہزادہ تیر کی طرح سیدھا ہو جاتا۔ جب بھی ایسا موقع آتا، وہ سوچتا کہ انسان کس قدر کریہہ اور نفرت خیز ہے۔ ظالم، جابر، کرخت اور بے حس۔ اسے رفتہ رفتہ انسانوں سے نفرت ہونے لگی۔
جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا گیا، اس کی یہ نفرت شدید سے شدید تر ہوتی گئی۔ وہ سوچتا کہ یہ کیسی مخلوق ہے جو اپنی تفریح کی خاطر ہمیں اذیت زدہ زندگی گزارنے پر مجبور کر دیتی ہے؟ اس کے نزدیک تمام انسان تشدد، اذیت اور بے حسی کا مجموعہ بن چکے تھے۔ اس کا پالا جس قسم کے انسانوں سے پڑا، ان سب کے لیے یہ تمام القابات ہی موزوں تھے۔
سب سے پہلے تو وہ لکڑ ہارے جنہوں نے اسے اپنی ماں، اپنے پیارے خاندان سے جدا کیا اور زور زبردستی کرتے اپنے ہمراہ لے گئے۔ پھر پہلا مالک جو اسے روز بازار میں بیچنے کی غرض سے لا کھڑا کرتا۔ اب یہ موجودہ مالک جو نہ صرف اسے بلکہ اپنے گھر والوں کو بھی مار پیٹ کا نشانہ بناتا۔ اکژ اس کے دل میں بھاگنے کی خواہش پیدا ہوتی جسے وہ دبا دیا کرتا۔
شاہزادے کی زندگی میں نیا موڑ تب آیا جب اس نے اپنے پڑوس میں ایک بلی کو اپنے ۶ بچوں کے ہمراہ دیکھا۔ اس کو اپنی ماں یاد آئی۔ اس نے سوچا جانے میری ماں زندہ بھی ہو گی؟ اگر ہو ئی بھی تو جانے کہاں ہو گی؟ ایسے ہی سوچتے سوچتے اس کے دل میں وہاں سے بھاگنے اور اپنا گھر تلاش کرنے کی خواہش نے اس شدت سے سر اُٹھایا کہ اب کی بار وہ اسے دبانے میں ناکام رہا۔
٭٭٭
اس نے اپنی غیر فطری زندگی کو خیر باد کہنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے سوچا کہ سب سے پہلے میں اس شہر سے فرار ہو جائوں۔ وہ اس شہر کی حدود سے کوسوں دُور جانا چاہتا تھا۔ وہ جنگلی تھا اور واپس جنگل میں جانا چاہتا تھا۔ وہ جنگلی حیات کے ساتھ جینا چاہتا تھا۔
اس نے سوچا کہ یہ نام نہاد مہذب دنیا جس میں قتل و غارت، خون آشامی، بے حسی اور خود غرضی کی آمیزش ہے، چھوڑ کر جنگل کی پُر سکون فضا میں واپس جا کر اپنے قبیلے کو تلاش کرنا چاہیے اور اپنی فطرت کے مطابق رہنا چاہیے۔ اس نے رفتہ رفتہ فرار  کے منصوبے کو پختہ کر لیا۔
ایک دن جب مالک رسّی کھول کر اُسے لوہے کے پنجرے میں واپس بھیج رہا تھا… وہ موقع پا کر بھاگ نکلا۔ گھروں کی چھتیں پھلانگتے اپنی دانست میں مالک کی پہنچ سے دُور نکل گیا لیکن شومئی قسمت ایک راہگیر  نے اسے پکڑ لیا اور نعمت غیر مترقبہ سمجھتے ہوئے اپنے ہمراہ لے گیا۔ یہاں سے اُس کی زندگی  نے ایک الگ موڑ  لے لیا۔
وہ راہگیر اسے جانوروں کے بازار  لے گیا اور ایک دکان میں بیچ دیا۔ اگلے دن وہاں کچھ گاہک آئے جن میں ایک چڑیا گھر کا افسر بھی تھا۔ اُس نے شاہزادے کو د یکھتے ہی اُس کی اچھی نسل پہچان لی اور فوراََ اس کا سودا کر اسے اپنے ہمراہ چڑیا گھر  لے آیا۔
چڑیا گھر داخل ہوتے ہی اسے خوشگوار حیرت کا سامنا ہوا۔ آغاز ہی میں اسے بڑے اور کشادہ بندروں کے پنجرے نظر آئے۔ اس آدمی نے ایک ادھیڑ عمر شخص سے شاہزادے کا تعارف کرایا تو وہ مسکرا تے ہوئے اس کی پیٹھ سہلانے لگا۔ اتنے عرصے میں یہ پہلا مہربان لمس تھا جو شاہزادے نے محسوس کیا۔ اس آدمی نے پھر شاہزادے کو کچھ کیلے اور امرود دیے ساتھ ہی پانی بھی پلایا۔
جب شاہزادے نے کھا پی کر آسمان کی جانب نگاہ کی تو بے اختیار اس کی آنکھیں بہنے لگیں۔ وہ آدمی اسے لے کر ایک نسبتاََ زیادہ کشادہ پنجرے کی جانب آیا جہاں اسی کی نسل کے چند بندر موجود تھے۔ ان میں سے ایک بندریا کافی اُداس بیٹھی تھی جس نے چند روز قبل اپنا بچہ کھویا تھا۔ شاہزادے کو دیکھتے ہی وہ لپک کر اس کے پاس آئی۔
شاہزادہ بھی اس پیار کے لیے ترسا ہوا تھا۔ کچھ ہی دیر میں وہ باقی بندروں سے بھی مانوس ہو گیا اور خوشی سے خوخیانے لگا۔ جنگل جیسا ماحول، سونے جاگنے کی آزادی، اچھی خوراک اور سب سے بڑی خوشی کہ رسّی سے چھٹکارا۔ چند ہی دنوں میں وہ واقعی شاہزادہ لگنے لگا۔
ہفتے دو ہفتے تو اسی کھانے پینے اور کھیلنے کودنے کی خوشی میں گزر گئے۔ زندگی معمول پر آتی گئی۔ بے شک اب وہ ’’تکلیف‘‘ میں نہیں تھا لیکن اپنی سوچ میں منفرد تھا۔ اب وہ اکثر دن کے اوقات میں پنجرے کی سلاخیں تھامے حسرت بھری نظروں سے لوگوں کو دیکھ کر سوچا کرتا
کیا میں ہمیشہ یونہی سلاخوں کے اندر بند رہوں گا؟ ہاں!! مجھے کھانے پینے کی کوئی تنگی نہیں لیکن کیا کبھی وہ وقت بھی آئے گا کہ میں اپنی مرضی اور خوشی سے آزاد گھوموں پھروں؟ اس لمحے وہ بچپن کی پرچھائیوں میں کھو جاتا … بلند و بالا درختوں سے بھرا جنگل اور آزادی …
اُس وقت اگر کوئی اس کی آنکھوں میں جھانکتا تو درد کی لہریں صاف محسوس کر سکتا۔

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles