37.1 C
Lahore
Tuesday, June 25, 2024

Book Store

آخری وارننگ

آخری وارننگ

حبیبہ شیراز

دنیاوی آلائشوں میں گھِرے انسان کی کہانی، جسے گناہوں کا کفّارہ ادا کرنے کا احساس بروقت ہو گیا

عدالتِ اعظم کا وقت شروع ہو چکا تھا۔ باہر جا نے اور اندر آ نے کے تما م دروازے بند ہو چکے تھے۔ منصف اعلیٰ اپنی انصاف کی مسند پر تھے۔ وہ ہمیشہ وہیں ہوتے ہیں۔ یہ جگہ کچھ عجیب تھی۔ میں نے ایسی عدالت پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ کوئی ٹائپ رائٹر، کرسی میز اور نہ منصف اعلیٰ کے سامنے کوئی ریکارڈ تھا۔
منصف اعلیٰ سامنے تھے پر کچھ ٹھیک سے نظر نہیں آ رہے تھے۔ صرف روشنی سی تھی۔ میرے اردگرد اور لوگ بھی تھے پر مجھے وہ کیوں نظر نہیں آ ر ہے تھے؟
آج سب کے فیصلے ہونے تھے۔ میں پریشان تھا۔ میر ے بس میں ہوتا تو کبھی اس عدالت میں پیش نہ ہوتا مگر مجھے ہونا پڑا۔ بالکل ویسے ہی جیسے سب تھے۔ پیروں تلے زمین جلتی محسوس ہو رہی تھی جیسے کسی گرم تانبے پر کھڑے ہوں۔ میں پاؤں ہٹانا چاہتا تھا پر وہ ہل نہیں رہے تھے۔ مجھے اس جلن کو ہر حال میں سہنا تھا۔
میرےنام کی پکار پڑی تو دل جیسے کانوں میں دھڑکنا شروع ہو گیا۔
میں لرز رہا تھا۔ سامنے فضا میں ایک بہت بڑی اسکرین رو شن ہو گئی۔ میں جانتا تھا کہ ہر پل میری نگرانی ہوتی رہی ہے۔ کچھ خفیہ کیمرے مجھ پر نظر رکھے ہوئے تھے، پھر بھی میں نے ہمیشہ انھیں نظر انداز کیا۔ اب کیا ہو سکتا تھا؟ اسکرین پر بہت سے مناظر گزرے۔ میری پیدائش کا منظر، بچپن، جوانی … اور پھر ہر منظر اسکرین پر ٹھہر ٹھہر کر چلنے لگا۔

٭٭٭

ایک کچرے کے ڈھیر پر، گندگی سے لتھڑی کسی بےگناہ کی لاش جو کسی کے ظلم کا شکار ہوا تھا۔ وہ لاش میں  نے اپنے قبضے میں کی۔ اگلے منظر میں اس کے گھر والے میت وصول کرنے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اس کا وجود غلاظتوں سے صاف اور خوشبوئوں سے آراستہ کر کے آخری سفر پر روانہ کرنے سے پہلے اس کا آخری دیدار کرنا چاہتے تھے۔ میرے لیے یہ ’لاش‘ بہت قیمتی تھی۔
ایک لاکھ سے کم پر بات نہیں بنے گی۔ لواحقین نے تڑپ کر مجھے د یکھا۔ یہ آنکھیں میرے لیےنئی نہیں تھیں۔ ایسی آنسوؤں سے لبریز، درد بھری آنکھیں میں روز ہی دیکھتا تھا۔
وقت کم ہے۔ لاش کی حالت مزید خراب ہو جائے گی۔ پیسوں کا انتظام جلد کر لو۔‘‘ میرے کہے الفاظ آج کمرأ

عدالت میں گونج رہے تھے۔ وقت واقعی کم تھا۔ میرے بچے کی انڑنیشنل اسکول کی فیس کی تاریخ سر پر تھی۔ شام کو انھوں  نے مجھے پیسے دیتے وقت نہایت بےبسی سے دیکھا۔ کیمرا اب ان کی آنکھوں پر جا رُکا تھا۔ اُن کا دکھ، بے بسی، درد آج مجھے چاروں طرف نظر آ رہے تھے۔ میں کچھ بولنا چاہتا تھا مگر زباں پر تالے پڑے تھے۔ مجھے اپنی صفائی میں بس اتنا کہنا تھا کہ اُس وقت میں کیا کرتا؟ بہت مجبور تھا۔ بچوں کی اتنی مہنگی فیسیں کہاں سے ادا کرتا؟ قلیل تنخواہ سے ضرورتیں کہاں پوری ہوتی ہیں؟ مگر میں یہ سب کہہ نہیں پا رہا تھا۔

٭٭٭

اگلے منظر میں دو بچے دوڑ کر ایک کو نے میں کھڑے ہو رہے تھے۔ ان کی آنکھوں کے سامنے خون میں لت پت باپ تھا، جو صرف ان کے تحفظ کے لیے فکر مند تھا۔ بچوں کی آنکھوں میں خوف تھا۔ باپ کی اذیت پر کرب نمی بن کر ان کی آنکھوں میں تیر رہا تھا۔ میں گاڑی میں بیٹھا سب دیکھ رہا تھا۔ یہ معمول کی واردات تھی۔ ایک آدمی کو بچانے کے لیے میں اپنی جان خطرے میں کیسے ڈالتا؟ یہ سب میں منصف اعلیٰ سے کہنا چا ہتا تھا مگر کمبخت زبان تالو سے چپکی جاتی تھی

٭٭٭

اس سے اگلے منظر میں، میرا بیٹا میرٹ سے رہ گیا تھا۔ ایک مزدور کا بیٹا میرٹ پر تھا۔
میر ی بیو ی بولی، تم ا پنے بیٹے کو داخلہ نہ دلوا سکو تو ایسے عہدے کا کیا فائدہ؟وہ ٹھیک ہی تو کہہ ر ہی تھی۔ مزدور کی اولاد تکلیفیں سہنے کی عادی ہوتی ہے مگر میرے بیٹے کو تو ہل کر پانی پینے کی بھی عادت نہیں تھی۔ میرے ایک فون نے مسئلہ حل کر دیا۔ بیو ی خوش ہو گئی اور بیٹا بھی۔

منظر ختم ہو چکا تھا۔ میں نے اپنی بیوی اور بیٹے کی طرف سفارشی نظروں سے دیکھا کہ میری تو زبان ساتھ نہیں دے رہی شاید وہی میر ے حق میں کچھ کہہ دیں۔ آخر وہ سب میں نے انھی کے لیے تو کیا تھا مگر ا نھوں نے یوں آنکھیں چُرا لیں جیسے وہ کچھ جانتے ہی نہ ہوں۔ جن کے لیے وہ سب کچھ کیا، وہ اجنبی بنے کھڑے تھے اور سوال و جواب کے پھندے میں گردن آج میری پھنسی تھی۔
اگلے منظر میں بیوی اور بیٹی کے فیس بک اکاؤنٹ سامنے آ رہے تھے۔ جسم کے سا تھ چپکے چست لباس، مختلف انداز کی تصاویر پر میر ے ا پنے لکھے تعریفی کلمات، لوگوں کے تاثرات پر خو شی و فخرکا اظہار۔ میں حیران تھا کہ میری ان حرکات کی بھی نگرانی ہو رہی تھی جو اُس وقت میری نظر میں بہت معمولی تھیں۔ اسکرین آگے بڑھی۔

٭٭٭

اب میں بیمار تھا۔ سارا پیسہ میرے علاج پر لگ چکا تھا اور گھر والے میرے مرنے کا انتظار کر رہے تھے۔
فلم ختم ہو گئی۔ میرے مساموں سے پسینہ پانی کی طرح پھوٹ پڑا تھا۔
منصف اعلیٰ نے میرے ہر خود ساختہ جواز کا جواب دیا۔
جو تمہارے نصیب میں رزق لکھ دیا گیا تھا، وہ پانے کے لیے تمہیں کوشش کرنے کو کہا گیا تھا۔ اسے تم اپنی تدبیر سے بڑھا نہیں سکتے تھے مگر محنت و ایمانداری سے اس پر قناعت کر نے کی ترغیب کیا نہیں دی گئی تھی؟
وہ بندہ تو بچ گیا تھا… میں نے سو چا۔ ا گر میں مدد کے لیے جاتا تو مجھے بھی گولی لگ سکتی تھی۔ یہ سب میں کہہ نہیں پا رہا تھا۔ کاش زبان ساتھ دیتی تو میں اپنے بودے جواز بیان کرتا۔

ہاں وہ بچ گیا تھا۔ رب ذوالجلال یونس کو مچھلی کے پیٹ میں زندہ رکھ سکتا ہے۔ ا س کے جسم میں لگی گولی کو بھی حکم ہوا تھا کہ نقصان پہنچائے بغیر جسم سے نکل جا۔ وہ کن فیکون ہے۔ اپنے کسی فیصلے کے لیے جوابدہ نہیں، مگر تم پر ا پنے بھائی کی مدد فرض تھی۔ کیا تم آدم اور حوا کی اولاد میں سے نہ تھے؟ کیا تمہارا اور اس کا رب ایک نہ تھا؟ کیا تم دونوں کو اخوت کے رشتے میں نہ باندھا گیا تھا؟
بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اور وہ مزدور کا بیٹا… تم نے اسے اس کے جائز حق سے محروم کیا تو اس پر ترقی کے اور راستے کھو ل دیے گئے۔ تمہارا بیٹا جہاں سے چلا تھا، وہیں کا وہیں رہ گیا مگر تمہارا نامۂ اعمال سیاہ کر گیا۔
تم میں سے ہر ایک نگہبا ن ہے اور ہر ایک سے ا س کی رعیت کے بارے میں سو ال ہو گا۔ کیا تمہیں یہ تعلیم نہیں دی گئی تھی؟ تم نے انھیں شتر بے مہار چھوڑ دیا۔

منصفِ اعلیٰ نے میرے ہر اعتراض کو جا ن لیا تھا اور جواب بھی دے دیا۔
میر ا فیصلہ سنا دیا گیا۔ مجھے ایک دروازے کی طرف ہانکا جانے لگا۔ میرے پاؤں میں بہت وزنی بیڑی تھی۔ اس میں پتھر بندھے ہوئے تھے۔ میں اس کے ساتھ نہیں چل سکتا تھا۔ میرے پاؤں زخمی تھے۔ رُکتا تو پیچھے سے چابک لگتا جو میری کھال اُدھیڑتا میری ہڈیوں میں کھب جاتا۔ اسی تکلیف میں ہم دروازے تک پہنچ گئے۔ اندر سے میرے بارے میں پوچھا گیا۔ مجھے لے جانے والوں نے میری چارج شیٹ پڑھ کر سنائی۔

دروازہ کھلا اور مجھے اندر دھکیل دیا گیا۔ درد سے میں چیخا مگر اندر جا کر میری آواز ختم ہو چکی تھی۔ اتنا اندھیرا کہ کہیں روشنی کی ایک کرن تک نہ تھی۔ اتنا خوف کہ دل پھٹ جائے، گرمی اس قدر کہ مجھے محسوس ہوا جیسے دھیرے دھیرے میرا ماس ہڈیاں چھوڑ رہا ہو۔ ہاں میرا جسم پگھل رہا تھا اور گرم پلاسٹک کی طرح میری ہڈیوں کو جھلسا رہا تھا۔

میں نے زور سے چلّانے اور بھاگنے کی پوری کوشش کی مگر کچھ نہ کر سکا۔ اچانک میرے سامنے ایک پلیٹ لائی گئی۔ یہ میرا کھانا تھا۔ پر یہ کیا؟ کھانے کی جگہ کانٹے تھے۔ سالن کی جگہ پیپ بھری تھی۔ کراہیت سے میرا دل باہر آنے لگا۔ کسی  نے زبردستی میری گردن پکڑ کر کانٹوں کے ساتھ پیپ لگا کر نوالہ میرے منہ میں ڈال دیا۔ میں چیخا… بہت زور سے چیخا اور پھر چیختا ہی چلا گیا۔

٭٭٭

میں ا پنے بستر پر تھا۔ سر سے پیر تک پسینے سے بھیگا ہوا۔ میری بیو ی بچوں کو  لے کر میکے گئی ہوئی تھی۔ میں چیختے چیختے خود ہی خاموش ہو گیا۔ سامنے گھڑی نے بارہ بجائے۔ تاریخ بدلی۔ اُسے بدلنا ہی ہوتا ہے۔ اس نئی تاریخ کے ساتھ میں بھی بدل چکا تھا۔
وہ خواب نہیں میری اب تک کی زندگی کا حاصل تھا۔ ایک آخری وارننگ تھی میرے سیاہ ہوتے دل و دماغ کے لیے… ایک دستک تھی میرے ضمیر پر، ایک آخری موقع تھا اس سے پہلے جب…
اس دن نہ کسی انسان سے اس کے گناہوں کے بارے میں پرسش کی جائے گی‘ اور نہ کسی جن سے۔‘‘ (سو ر ہ رحمٰن)
ہاں ایک موقع اور قدرت مجھے دے رہی تھی اپنے گناہوں کے کفارے کا، اس تاریکی سے بچنے کا، جس میں خوف سے میرا دل بند ہو رہا تھا۔ اس حرام کے مرغ پلاؤ سے جس کےبدلے میں کانٹے اور پیپ ہمیشہ کے لیے میرے نصیب میں لکھ دیے جاتے۔
ہاں! یہ ایک اور موقع تھا اس غلاظت سے باہر آنے کا جس میں جسم و روح لتھڑ چکے تھے… شا ید آخری موقع۔

٭٭٭

Previous article
Next article

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles