33 C
Lahore
Tuesday, June 18, 2024

Book Store

سَراب

“سَراب”

ازقلم
فوزیہ ملک

قیوم صاحب اور ان کی فیملی عرصہ دس سال سے اٹلی میں مقیم تھے. وہ وہاں ایک فیکٹری میں ملازم تھے. معقول تنخواہ اور بنیادی سہولیات ضرورت زندگی کے ساتھ ساتھ رہنے کے لئے ایک اچھا ماحول بھی میسر تھا۔ وہ ماحول اور وہ بنیادی ضروریات زندگی جو ان کو پاکستان میں میسر نہیں تھیں۔ پردیس میں تنہائی  تھی اور اپنوں سے دوری بھی مگر معیار زندگی وہاں کی نسبت یہاں پردیس میں بہت بہتر تھا، لہذا اپنوں کی جدائی برداشت کر رہے تھے۔
قیوم صاحب آج فیکٹری سے واپس آئے تو بہت خوش تھے۔ انہوں نے جلد ہی یہ خوشخبری اپنی بیگم اور سولہ سالہ بیٹی زنیب کو بھی سنائی کہ حج کی درخواست منظور ہو گئی ہے ۔ فیکٹری والوں نے بھی ان کی چھٹی منظور کر لی ہے ۔
وہ دونوں میاں بیوی کئی سالوں سے حج پر جانے کے خواہش مند تھے ۔ اب کی بار ان کی درخواست بھی منظور ہو گئی تھی ،لہذا انہوں نے  سعودی عرب روانگی سے قبل زینب کو پاکستان بھجوانے کا فیصلہ کر لیا۔ کاغذات بنوانے کے چکر میں وہ لوگ  دس سال سے پاکستان نہیں جا سکے تھے۔
زینب چھے سال کی تھی جب وہ لوگ اٹلی شفٹ ہوئے تھے۔ زینب کے والدین پردیس میں ہونے کی وجہ سے اپنے مذہب اور اپنی معاشرتی روایات کے بہت قریب ہو گئے تھے اور اپنی اکلوتی بیٹی کو بھی وہ سب کچھ سکھانے کی کوشش کرتے تھے جو وہ اپنے مذہب اور قوم کے بارے میں جانتے تھے۔
زینب آج بہت خوش تھی وہ دس سال کے بعد پاکستان جا رہی تھی جہاں اس کے سب محبت کرنے والے رشتے دار اور پیارے پیارے کزن رہتے تھے۔ جن سے وہ واٹس ایپ اور اسکائپ پر اکثر بات کرتی تھی مگر حقیقی زندگی میں کبھی ان سے ملی نہیں تھی۔ اس کے امی ابو حج کرنے سعودی عرب جا رہے تھے اور اس کو چالیس دن کے لئے پاکستان بھجوا رہے تھے۔ زینب اپنے والدین کے ساتھ گزشتہ دس سال سے اٹلی میں مقیم تھی ۔
اپنے عزیز رشتہ داروں اور پیارے وطن سے دوری نے اس کے والدین کو بہت محتاط بنا دیا تھا۔
پاکستان میں دادا ابو ،چاچو، چاچی اور ان کے بچوں نے ائیر پورٹ پر اس کا استقبال کیا۔ وہ سب سے مل کر بہت خوش ہوئی ۔
چا چو کا گھر ائیر پورٹ سے تقریباً آدھے گھنٹے کا فاصلے پر تھا ۔وہ سب بہت خو شگوار موڈ میں گپ شپ لگاتے ہوئے سفر کر رہے تھے ۔ گاڑی ایک بہت معروف چوک پر آ کر اشارے کے آگے رک گئی۔ ایک گاڑی ان سے آگے تھی اور باقی دائیں بائیں آ کر دوسری قطاروں میں رکنے لگیں۔ ایک دم سے بہت حیرت انگیز اور غیر متوقع واقع پیش آیا ۔
دو موٹر سائیکلیں نہایت تیزی کے ساتھ پیچھے سے آئیں اور آ کر اگلی گاڑی کے دائیں اور بائیں رک گئیں ۔  دو نقاب پوش لڑکے ان موٹر سائیکلوں پر سوار تھے۔ ان کے ہاتھ میں پستولیں تھیں۔ اگلی گاڑی کے دونوں آگے والے شیشے کھلے ہوئے تھے۔ ایک لڑکے نےہاتھ بڑھا کر ڈرائیوار کو گردن سے دبوچ لیا اور پستول اس کی کن پٹی پر کھ دیا اور جلدی جلدی اس سے پرس اور موبائل مانگنے لگا۔
اگلی گاڑی والے اس غیر متوقع اور اچانک آنے والے حملے سے سخت گھبرا گئے ۔ فوراً ہی کسی ربورٹ کی طرح ان کا حکم مانتے ہوئے موبائل اور پرس ان کے حوالے کر دیا۔
اشارے کی بتی اب سبز ہو چکی تھی ۔ زینب کے چچا  نے اگلی گاڑی کو دو تین ہارن دیئے مگر شائد ان کے حواس ابھی تک بحال نہ ہوئے تھے۔  وہ گاڑی نہ چلا سکے تو چاچو کو گاڑی اور ٹیک کر کے نکالنی پڑی۔ چاچو چاچی زینب اور سب بچے اس خوفناک حادثے پر سخت افسوس کر رہے تھے ۔
زینب نے یہ بات بہت نوٹ کی کہ نہ تو چاچو  نے گاڑی روک کر اگلی گاڑی والوں کو کوئی مدد فراہم کی اور نہ ہی کوئی اور گاڑی رکی ۔
یہ بات زینب کے لیے اس حادثے سے بھی زیادہ تکلیف دے تھی۔ زینب اس ملک سے آئی تھی، جہاں اگر جانور بھی سڑک پر سڑک کو عبور کر رہا ہو تو سارے گاڑیوں والے رک کر اس کو گزرنے کی جگہ دیتے ہیں۔
زینب سے رہا نہ گیا۔ اس نے اپنے چاچو سے پوچھا۔ چاچو ایک فیملی اس طرح عین سڑک کے درمیان ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں لٹ گئی ہے مگر کسی نے بھی ان کی مدد نہیں کی۔ کسی نے اپنی گاڑی نہیں روکی اور نہ ہی کسی نے ان کے پاس جا کر سڑک سے گاڑی ایک سائیڈ پر  لے جانے میں ان کی مدد کی ہے کس نے افسوس نہیں کیا۔ کسی نے تسلی نہیں دی ۔
زینب نے پیچھے مڑ کر دیکھا حادثے کا شکار ہونے والی گاڑی اب سڑک کے درمیان میں نہیں تھی بلکہ ڈرائیور گاڑی چلا کر اس کو سڑک کے کنارے پر  لے کر جا چکا تھا اور وہاں جا کر گاڑی کچھ دیر کے لئے پھر رکھ گئی تھی کیونکہ ڈرائیور کے حواس ابھی تک بحال نہ ہوئے تھے۔  وہ دوبارہ گاڑی چلانے کے قابل نہ ہوا تھا۔ زینب کے چاچو  نے بھی پیچھے مڑ کر حادثے والی گاڑی کی طرف دیکھا اور زینب سے بولے ۔
بیٹے اس شہر میں تو یہ ایک معمولی حادثہ ہے ۔ یہاں تو ہر روز اس طرح کے حادثے ہوتے رہے ہیں۔  گاڑی روک کر ان کی مدد کرنے کا مطلب ہے اپنی شامت  خود بلانا۔ تم دیکھنا وہ موٹر سائیکل والے بد معاش اور غنڈے ابھی پھر واپس آئیں گے، اگر کوئی حادثے والی گاڑی کو مدد فراہم کرنے کے لے رکا ہو گا تو اس کو بھی لوٹ کر اس کا موبائل اور پرس چھین کر لے جائیں گے ۔اگر کوئی ان کو روکنے یا پکڑنے کی کوششیں کرے گا تو اس کو سیدھا گولی مار دیں گے
چاچو نے یہ جواب دیتے ہوئے گاڑی آگے بڑھا دی ۔ اسی لمحے زینب کو ایسے لگا کہ پردیس میں اپنے وطن سے دور اس کی ماں ساری زندگی اپنے دیس کے لوگوں کی اچھا ئی ،شرافت اور اچھے اخلاق کا جوبت اس کے سامنے بناتی رہی تھی وہ دھڑام سے آکر زمین پر گر گیا اور اس کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں میں سے ایک آ کر اسکے دل میں پیوست ہو گیا ہو۔
خیر چاچو کے گھر آ کر وہ دن بہت مزے کا اور اچھا گزر گیا ۔ لمبےسفر کی تھکاوٹ بھی تھی۔ ویسے بھی وہ رات کو جلدی سونے کی عادی تھی، لہذا رات کے گیارہ بجے وہ سونے چلی گئی ، مگر باقی گھر والوں میں ابھی سونے کے کوئی آثار نہ تھے ۔ بچوں نے کھانے سے فارغ ہو کر اپنے ٹیب پر گیمز لگا لیں اور چاچو اور چاچی ٹی وی کے آگے بیٹھ کر خبریں سننے لگے ۔
اسے انداز ہ ہو گیا تھا کہ یہاں پر تو سب ہی رات دیر تک جاگنے کے عادی ہیں ۔ یقیناً صبح دیر تک سوتے ہوں گے ۔
زیب کو یاد آیا کہ اس کی امی نے اسکو ہمیشہ صبح جلدی اٹھا دیتی تھیں۔ حتٰی کہ چھٹی کے دن بھی اور ہر روز وہ یہ جملہ دہراتی تھیں
زینب اب اٹھ بھی جاؤ ۔ ادھر پاکستان میں تمہارے نانا ابو ، نانو اور تمہارے سب کزن اٹھ چکے ہوں گے ۔ صرف تم سو رہی ہو ۔
زینب لمبے سفر کی تھکی ہوئی تھی۔ اگلی صبح دیر تک سوتی رہی۔ دن کے گیارہ بج چکے تھے۔ زینب کی آنکھ اپنے کزنز کی ہنسنے، کھیلنے اورشور مچا نے کی آوازیں سن کر کھلی ۔اس کی نظر گھڑی پر پڑی تو یہ سوچ کر شرمندہ ہو گئی کہ آج دن کا کتنا لمبا حصہ اس نے سو کر ضائع کر دیا۔
منہ ہاتھ دھو کر وہ باہر لان میں آئی ۔ شور چچا نے کی آواز یں ادھر ہی سے آ رہی تھیں ۔
جیسے ہی زینب باہر آئی تو اس کے چچا کے دونوں بیٹوں اور بیٹی نے اسے دیکھ کر بہت خوشی کا اظہار کیا۔ عمر بولا
زینب باجی آ جائیں۔ آپ بھی ہمارے ساتھ نہا ئیں۔ بہت مزہ آ رہا ہے۔ آپ کے ساتھ تو اور بھی مزہ آئے گا۔
لان کا جو منظر زینب نے یہاں دیکھا وہ اس نے کبھی اٹلی میں نہیں دیکھا تھا۔
ایک بڑا اور موٹا پائپ جس میں پانی بہت تیزی کے ساتھ آ رہا تھا ، وہ عمر کے ہاتھ میں تھا ۔ وہ کبھی اپنے اوپر پانی ڈالتا کبھی اپنے بہن بھائی پر۔ سارے لان اور گیراج میں ڈھیر سارا پانی جمع ہو چکا تھا۔ نوکرانی جھاڑو لگا لگا کر ڈھیر سارےپانی کو ضائع کرتے ہوئے گیراج دھو رہی تھی۔ عمر تیزی سے بہتے ہوئے پانی والے پائپ کارخ کبھی لان میں لگے ہوئے پودوں کی طرف کر دیتا ، جیسے پودوں کو پانی دے رہا ہو ، کبھی گیراج میں کھڑی چاچو کی گاڑی کی طرف کر دیتا، جیسے گاڑی دھو رہا ہو ،کبھی نوکرانی کے آگے آگے پانی ڈالتا ،جیسے گیراج دھونے میں اسکی مدد کر رہا ہو
زینب نے دیکھا کہ بے تحاشا پانی بہہ بہہ کر باہر سڑک پر جارہا تھا ۔ جو یقیناً وہاں سے گزرنے والے راہ گیروں کے لئے تکلیف کا باعث بن سکتا تھا۔ زینب صاف اور میٹھے ، پینے والے پانی کو اس طرح سے ضائع کرنے پر دل ہی دل میں افسوس کر نے لگی ۔ زینب کے جاگنے کا پتہ چلنے پر چاچو اور چاچی بھی پاس آ کر بیٹھ گئے۔ وہ دونوں بھی بچوں کو نہاتا کھیلتا دیکھ کر بہت خوش ہو رہے تھے۔
زینب کا خیال تھا کہ یقیناً وہ دونوں صاف اور میٹھے پینے والے پانی کے اس طرح سے ضائع کرنے پر اپنے بچوں کو ڈانٹیں اور منع کریں گے مگر شائد ان کو اور ان کے بچوں کو اپنی اس سنگین غلطی کا احساس ہی نہیں تھا۔
زینب کو چچا کے پاس رہتے ہوئے ایک ہفتہ گزر چکا تھا۔  آج اس کے ماموں اور نانو اسے لینے کے لئے آنے والے تھے۔ اب ننھیال والے رشتے داروں سے ملنے کی باری تھی زینب کی ماں لاہور سے بہت دور دراز ایک چھوٹے شہر کی رہنے والی تھیں نانو اور ماموں سے ملکر وہ بہت خوش ہوئی ان میں سے کسی کو بھی یہ احساس نہیں ہوا تھا کہ وہ دس سالوں کے بعد مل رہے ہیں چھوٹی سی بچی جو پاکستان سے گئی تھی اب ایک جوان اور خوبصورت لڑکی کے روپ میں انکے سامنے کھڑی تھی مہمانوں کی خوب خاطر تواضع کی گئی اور کھانے کے بعد انہوں نے اپنے واپسی کا سفر کے آغاز کیا ۔
تقریباً ساڑھے سات گھنٹے کے تھکا دینے والے لمبے سفر کے بعد زینب اپنی ماں اور نانو کے شہر میں داخل ہو رہی تھی ۔
گاڑی اب ایک تنگ سڑک پر چل رہی تھی سڑک پر ٹریفک کا بہت رش تھا لہذا گاڑی رک رک کر چلنے لگی زینب نے نوٹ کیا کہ سڑک کے دونوں جانب چھوٹی چھوٹی ریڑھیوں اور ٹھیکے والوں کی بہتات تھی جنہوں نے سڑک کے کناروں اور کچے راستے دونوں کو پوری طرح گھیر رکھا تھا ان ٹھیلے والوں کے پاس خریداروں کا بھی رش تھا ان ریڑھیوں اور ٹھیلے والوں کی غیر قانونی پارکنگ کی وجہ سے سڑکیں اور پیدل چلنے والے راستے بہت تنگ ہو گئے تھے جسکی وجہ سے ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہورہی تھی اور گاڑیاں موٹر سائیکل سوار اور سائیکلوں والے بہت بے ترتیبی کے ساتھ ٹریفک میں سے اپنا راستہ بنا کر جلدی جانے کے چکر میں دوسرے بہت سے لوگوں کے لئے مسائل پیدا کر رہے تھے اور اس بے ہنگم ٹریفک میں پھنسے ہوئے بہت سے لوگ یقیناً اپنے مزدوری کاموں سے لیٹ ہو رہے تھے۔
زینب نے نوٹ کیا کہ یہ سارے ٹھیلے اور ریڑھیاں سبزی ، فروٹ ، اور کھانے پینے کی چیزوں کے تھے ڈھیروں ڈھیر مکھیاں ان پر بھن بھن کر رہی تھی جنکوں اڑانے کی ناکام کوشیش میں دوکان دار کبھی کبھار ہاتھ میں پکڑے ہوئے گندے ترین کپڑے سے انکو بھگانے کی کوشش کرتے ۔ زینب اٹلی کے جش شہر میں رہتی تھی اسکی گلیاں اور بازار بہت صاف ستھرے تھے یہ ایک صاف ستھرا پر امن اور کم آبادی والا شہر تھا زینب کو پچھلے سال کا واقعہ یا د آگیا جب اسکی ایک دوست جو وہاں کی مقامی قوم سے تھی اور اسکی والدہ ایک پارک کے قریب برگر کا ایک اسٹال لگاتی تھیں ایک گاہک نے برگر خریدتے ہوئے دوکان کے فرش پر پھرتا ہوا کاکروچ دیکھ لیا تھا اس گاہک نے فوراً اس برگر پوائنٹ کے خلاف کمپلینٹ درج کروادی اور دوسرے ہی دن اسکی سہیلی کی ماں کو نہ صرف اپنی دوکان بند کرنا پڑی بلکہ جرمانہ بھی دینا پڑا۔
زینب کی گاڑی ایک چوک پر آکر رک گئی تو اسکی نانو نے اسے اپنے شہر کی مشہور چاٹ کھانے کی دعوت دی جسکی دوکان کے بالکل آگے انکی گاڑی آکر کھڑی ہو گئی تھی ۔ زینب نے دیکھا کہ انتہائی گندے کپڑوں میں ملبوس ایک لڑکا دوکان کے اندر سے ڈھیر ساری چاٹ والی گندی پلیٹیں اٹھا کرلایا اور لوہے کی ایک زمین پر رکھی گئی بالٹی میں ڈال دی غالباً اس میں تھوڑا پانی بھی ہوگا لڑکے نے اس گندے پانی والی بالٹی کے گندے پانی سے پلیٹیں دھو دھو کر باہر نکال کر لوہے کی ایک اسٹینڈ پر رکھنی شروع کر دیں ۔
گویا کہ یہ اب صاف تھیں اور دوبارہ استعمال کے قابل ہو گئیں تھیں دوسرے ہی لمحے ایک آدمی جلدی میں آیا اور چھ ساتھ پلیٹیں اٹھا کر لے گیا وہ غالباً دکان کا مالک تھا اس کے پھر ان پلیٹوں کو نئی چاٹ کے ساتھ بھرنا شروع کر دیا اور ایک اور لڑکے کو بلایا کہ کا کے جلدی آ اور یہ چاٹ میز نمبرچار پر دے آؤ۔
زینب کے لئے یہ سب کچھ ناقابل برداشت اور انتہائی دل خراب کرنے والا منظر تھا چاٹ کے سارے برتنوں پر مکھیوں کی بہتات تھی گندے کپڑوں میں ملبوس دوکان دار گندے برتنوں اور گندے پانی سے دھلے ہوئے صاف برتن اور پھر اس گندے ماحول میں چاٹ کھانے والوں کا رش۔
نانو کی چاٹ کھانے کی آفر کا جواب دینے سے پہلے ہی اسکا دل بتلانے لگا اور تیزی سے اسکے منہ سے نکل گیا “نو، نو، ناٹ ایٹ آل ”
نانو اور ماموں اسکے غیر متوقع جواب اور چہرے کے تاثرات کو دیکھ کر ہنسنے لگے ۔
اشارے کی بتی سبز ہو چکی تھی اب گاڑی اگے چلنے لگی اور ایک چھوٹی سڑک پر مڑ گئی اب گاڑی یہاں بہت آہستہ رفتار سے چل رہی تھی کیونکہ ٹھیلے والوں اور دوسری ٹریفک کا اچھا خاصا رش تھا اور گزرنے کی جگہ بہت کم تھی اس پوری سڑک پر دونوں اطراف میں دوکانوں کی لمبی لمبی قطاریں تھیں سڑک کے ایک طرف دوکانوں اور سڑک کے درمیان سیوریج کی بہت لمبی نالی تھی جسکو اوپر سے بند کرنے کا کوئی انتظام نہیں تھا سڑک سے کسی بھی دکان تک جانے کے لئے اس بڑی نالی کو عبور کرنا پڑتا تھا جسکے لئے تمام دکانوں والوں نے اپنے طور پر گزرنے کے لئے سیمنٹ کے بڑے بڑے بلاکس رکھے ہوئے تھے سیوریج کی یہ بڑی نالی جگہ جگہ سے بند پڑی تھی گندے شاپرز اور ریپرز کے ڈھیروں نے اس کوجگہ جگہ سے بند کیا ہوا تھا جسکی وجہ سے نالے کا گند اور گندہ پانی باہر سڑک پر پھیلا ہوا تھا پیدل چلنے والوں کے ساتھ سخت مشکلات تھیں گندی نالی سے اٹھنے والے تفعن اور بد بو نے پورے ماحول کو بد بو بنا رکھا تھا مگر شائد یہاں کے سب لوکل لوگ اس گندے اور بد بو دار ماحول میں رہنے کے عادی ہو چکے تھے زینب کے علاوہ کسی نے بھی اپنے ناک پر بد بو سے بچنے کے لئے رومال نہیں رکھا ہو ا تھا گاڑی ایک بڑے کیچڑ اور گندگی سے بھرے ہوئے گڈھے کو عبور کرنے کے لئے رکی تو سامنے کا منظر زینب کے لئے نا قابل برداشت تھا ۔
انتہائی گندے اور بد بو دار نالے کے اوپر ایک لڑکے نے لکڑی کا ایک گندہ سا پھٹا رکھا ہوا تھا جسکے اوپر مردہ مچھلیوں کا ایک ڈھیر پڑا ہو ا تھا ان باسی مچھلیوں پر مکھیوں کی بہتات تھی دو گاہک اس گندگی اور بد بو ڈھیر پر کھڑے دریائی (تازہ اور لا جواب) مچھلی خرید رہے تھے دوکاندار لڑکے کے پیروں میں مچھلی کے اوپر اور اندر سے اتارے جانے والے گند کا ڈھیر تھا ۔
زینب کا دل اور طبیعت اور زیادہ خراب ہونے لگی اسے لگا کہ گاڑی میں ہی قے کر دی گی لہذا قے سے بچنے کے لئے اس نے اپنی آنکھیں بند کر کے سر پیچھے سیٹ کے ساتھ ٹیک دیا اب مزید کچھ باہر دیکھنا اس کے لئے ممکن نہیں تھا
زینب سوچنے لگی امی نے پاکستان کے شہروں کی یہ تصویر تو اسے کبھی نہیں دکھائی وہ تو ہمیشہ یہ کہتی تھیں کہ انکا ملک بہت خوبصورت ہے لوگ بہت اچھے ہیں ویسا ملک تو دنیا میں کہیں نہیں۔
مگر زینب کے خیالات یکسر بدل چکے تھے
زینب اب اپنی نانو اور ماموں کے گھر پہنچ چکی تھی گھر میں موجودبڑے اور بچے سب رشتہ داروں نے پر تباک خیر مقدم کیا۔
زینب کی نانو ہارٹ پیشنٹ تھیں وہ زینب کو بھی ساتھ لیکر گئیں کہ چلو اسی بہانے یہاں کی کچھ اور جگہیں بھی دیکھ لےگی ۔
ہسپتال پہنچے تو یہاں کا منظر بھی زینب کے لئے بھی بالکل نیا تھا نہ قطار نہ اپنی باری آنے کا انتظار اور مریضوں کا بے تحاشارش ،ڈاکٹر کے کمرے کے باہر مریض اور انکے لواحقین کا رش تھا گرمی اور حبس کے ستائے ہوئے مریض اور انکے رشتہ دار کوئی بھی اپنی باری کا انتظار کرنے کے حق میں نہیں تھا ہر شخص دوسرے سے پہلے اپنے مریض کو چیک کروانا چاہتا تھا ۔ ایک عجیب سی بد نظمی اور افراتفری سی پورے ماحول میں نظر آرہی تھی زینب کا دل گھبرانے لگا گرمی حبس اور پیاس اس رش میں سب کو محسوس ہو رہی تھی ماموں بولے آجا ؤ زینب باہر سے جوس اور کچھ کھانے پینے کو لے آتے ہیں زینب ماموں کے ساتھ باہر کی طرف چل دی ۔
ہسپتال سے باہر نکل کر وہ مین سڑک پر آگئے ہسپتال کی دیوار کے ساتھ ساتھ بنا ہوا طویل سیوریج کا گندہ بڑا سا نالا تھا جو کہ اوپر سے مکمل طور پر کھلا ہوا تھا جسکے کناروں پر جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر تھے اس نالے کے بالکل ساتھ ساتھ کناروں پر جگہ جگہ گندگی کے ڈھیروں کے درمیان کھانے پینے کی بے تحاشا ریڑھیاں لائن میں لگی ہوئی تھیں ان ریڑھیوں پر فروٹ کٹی ہوئی گنڈھیریاں ،سموسے ، پکوڑے، چنے چاول، اور مختلف قسم کے شربتوں کے سٹال تھے ۔
بے حساب مکھیوں کے ڈھیر تھے جو کھانے پینے کی ان کھلی رکھی گئی چیزوں پر بیٹھی ہوئی تھیں سب ریڑھیوں پر گاہگوں کا رش تھا اور لوگ مکھیاں گندگی اور بد بو کی پروا کئے بغیر ہر چیز خرید رہے تھے ۔
زینب کے لئے یہ سارے مناظر شدید پریشان کن اور ناقابل برداشت تھے ۔
زینب کے ماموں اسکے ان سارے تاثرات سے بے خبر تھےا نہوں نے بڑی محبت سے پوچھا زینب بیٹا کیا کیا کھاناپسند کرو گی ۔
ماموں کا یہ سوال سن کر زینب کے پورے وجود میں شدید جُھرجُھری سی پیدا ہو گئی اور اس نے کانپتے ہوئے کہا “نو، نو، ناٹ ایٹ آل”ماموں کچھ نہیں سمجھے بولے بیٹا کچھ تو لے لو یہ سارے چیزیں بہت مزے کی ہیں زینب کھلے منہ اور کھلی آنکھوں کے ساتھ ماموں کو دیکھنے لگی مگر کچھ بول نہ سکی۔
خیر ماموں نے اپنی پسند سے اس کے لئے فروٹ اور جوس خریدا اور واپس ہسپتال کے اندر آگئے زینب کے چہرے پر جو پریشان اور پسینہ تھاوہ نانو سے چھپ نہ سکا۔
نانونے پوچھا۔ کیا ہوا زینب کیوں پریشان لگ رہی ہو۔
کچھ نہیں نانو! باہر بہت گرمی تھی اس لئے ۔زینب کو فوراً اپنی ماں یاد آگئی اور اپنی ماں کے بولے ہوئے جھوٹوں پر سخت غصہ آنے لگا وہ دل میں سوچنے لگی !کیا یہ ہے وہ طن جسکی تعریفیں ہر وقت ماں کرتی تھی ۔ زینب اداس اور پریشان ہسپتال سے واپس آئی دوپہر کا کھانا کھایا اور سو گئی۔
شام کو اٹھی تو سب لوگ ٹی وی لاونچ میں جمع تھے چھ سالہ بچی زینب کے اغوا اور قتل کیس کی بریکنگ نیوز چل رہی تھی سب گھر والے اداس اور پریشان تھے مگر اٹلی سے آئی ہوئی زینب کے لئے بے حد تکلیف دے اور خوف ذدہ کر دینے والی خبر تھی وہ دس منٹ تک ششدرسی ہو کر خبریں سنتی رہی اور اسکےبعداونچی اونچی آواز میں رونے لگی نانو اور ماموں پریشان ہو گئے انہوں نے وجہ پوچھی تو زینب صرف اتنا کہہ سکی کچھ نہیں نانو مجھے امی ابو بہت یاد آرہے ہیں میں جلد از جلد اپنے ملک واپس جانا چاہتی ہوں گویا زینب نے پاکستان کو اپنا ملک ماننے سے انکار کر دیا تھا میں یہاں مزید نہیں رہ سکتی اسکے ساتھ ہی اس کے ہاتھ دعا کے لئے اٹھائے اور اپنےا می ابو کے لئے سلامتی کے ساتھ واپس آنے کی دعا مانگنے لگی ۔

تعارف
مصنفہ وقار النساہ گرلز کالج راولپنڈی کی گریجوٹ ہیں وہ ہسٹری اور ایجوکیشن میں ماسٹرز ڈگری رکھتی ہیں ادب کے ساتھ گہرا لگاوُرکھتی ہیں اور زندگی میں رونما ہونے والے واقعات کو بہت دلچسپ طریقے سے پیش کرنے کا ہنر رکھتی ہیں۔ایک گھریلوخاتون ہیں

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles