33 C
Lahore
Wednesday, April 24, 2024

Book Store

سیلاب بلا

احساس کے انداز

سیلاب بلا

تحریر ؛۔ جاوید ایاز خان

میں شاید ان لوگوں میں سے ایک ہوں, جس نے صرف ۵ سال کی عمر میں سیلاب کی تباہ کاری اپنی آنکھوں سے دیکھی اور ذہن میں آج تک محفوط ہے۔
ہنہ پور چک جمال جہلم کا وہ سیلاب مجھے  کبھی نہیں بھولتا جب اچانک پانی چاروں طرف پھیل گیا تھا۔
ہماری ماں اور ہمسایوں  نے پانچ  چارپائیاں اُوپر نیچے رکھ کر ہم بچوں کو ان پر بیٹھا دیا تھا۔ جہاں سے ہم لوگوں کا بہتا ہوا سامان ،سانپ اور کیڑے اور انسان دیکھ رہےتھے۔
مرد و خواتین اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنے بچوں اور سامان کو بچانے کی جدوجہد میں اس سیلاب بلا سے لڑ رہے تھے۔
لیکن کہتے ہیں کے پانی اور طاقت کا راستہ روکا نہیں جا سکتا۔ یہ اپنا راستہ خود بنا لیتے ہیں ۔
پھر ۱۹۷۳ء کا سیلاب آیا تو  شہر کے شہر ڈوب گئے۔ تب تک میں جوان ہو چکا تھا۔
دوسرے رضاکاروں کے ہمراہ سیلاب زدگان کی مدد کے لیے ان کے کیمپو ں میں جا کر ان کی حالت زار کا اندازہ ہوا۔
پھر ۲۰۰۵ء کا المناک سیلاب دیکھا تو پتا چلا سیلاب قیامت صغریٰ ہوتا ہے۔ آسمان سے پانی برستا ہے۔ زمین پر پانی ہی پانی  نظر آتا ہے۔  گھروں میں پانی دیکھ کر آنکھوں میں بھی پانی بھر آتا ہے۔
لوگوں پر جو قیامت ٹوٹتی ہے اسکا  احساس میڈیا  پر دیکھنے  یا پڑھنے سے اندازہ لگانا مشکل ہے ہم  نے جان بچانے کے لیے  کئی کئی دن سے درختوں اور اونچے ٹیلوں پر مدد کے لیے بیٹھے لوگوں کو منتظر دیکھا۔
لوگوں کے درد کو تصاویر سے محسوس کرنا ممکن نہیں ہو سکتا.
پاکستان پچھلے ۷۵ سال سے اس قیامت سے گزر رہا ہے مگر اس کی روک تھام کے لیے کوئی  عملی انتظام دیکھنے میں نہیں آتا ہر دفعہ پہلے سے زیادہ نقصان ہو تا ہے.
ہر دفعہ پہلے سے زیادہ لوگ اللہ کو پیارے ہوتے ہیں یہ قدرتی آفات بھی عجیب ہوتی ہیں. یہ  صرف غریبوں کی جانیں ،مال اسباب کا نقصان کرتی ہیں اور اشرافیہ اپنے مضبوط قلعوں میں محفوظ رہتی ہے ۔
اس مرتبہ تو سیلاب نے ملک کی ساٹھ فیصد آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے پورے ملک اور خاص طور پر بلوچستان، سرحد ،سندھ اور جنوبی پنجاب کے قصبے اور گاؤں صفحۂ ہستی سے مٹ چکے ہیں تباہی و  بربادی کی ایسی مثال پہلے کبھی نہیں دیکھی۔
مالی نقصان  اور فصلوں کی تباہی ایک طرف یہاں تو ہزاروں انسان ،لاکھوں جانور مویشی اس کی بھینٹ چڑھ چکے۔
لوگ بےیار ومددگار بےبسی کی تصویر بنے آسمان کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ اپنی آنکھوں سے اپنے آشیانوں کو اُجرتا اور اپنی ساری زندگی کی کمائی تباہ ہوتا دیکھ رہے ہیں ۔جگہ جگہ بے کفن لاشے بکھرے ہوئے ہیں۔
ان کے پاس کفن کا کپڑا تک نہیں۔ لفافوں کو کفن بنا کر دفنانے کے لیے خشک زمین تک میسر نہیں ہو رہی ہے۔
گھروں کے ساتھ ساتھ قبرستان بھی ڈوب کر تباہ برباد ہو چکے ہیں۔ سیلاب سے قبل، دوران اور بعد میں لوگ کس کیفیت اور کرب سے گزرتے ہیں؟ لفظوں میں بیان کرنا بے حد مشکل ہے ۔
پہلے سیلاب کے خطرے کی اطلاعات خوف اور ڈیپریشن میں مبتلا کرتی ہیں۔ ڈرے ڈرے اور خوفزدہ لوگ اپنے ضروری کاغذات اور قیمتی اشیا سمیٹنا اور باندھنا شروع کر دیتے ہیں۔
اپنی تیار فصلوں کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں ۔ان کی  پوری زندگی میں ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔
اب بچیوں کے لیے پوری زندگی محنت سے بنائے جہیز کے سامان سے بھرا گھر چھوڑ کر کیسے جائیں؟ اور کہاں لے جائیں ؟نہ جانے سیلابی لہریں  دو چار دن بعد بہا کر کہاں سے کہاں لے جائیں گی ؟

میں یہ نہیں کہتا کہ آپ سیلاب زدگان کا دکھ نہیں سمجھتے۔ یقیناً آپ کے دل ان کے لیے دھڑک رہے ہیں۔ آپ درد محسوس کر رہے ہیں، مگر سننے اور سہنے میں فرق  صرف اتنا ہے کہ دیکھا، سنا اور پڑھا جا سکتا ہے مگر سہا نہیں جا سکتا ۔
لوگوں کو سامان باندھ کر گھر چھوڑنے کا کرب لفطوں میں بیان نہیں ہو سکتا۔ لوگوں کو تو  ہجرت کی یہ شرم ہی کھائے جاتی ہے، مگر  جب دینے والے ہاتھوں کو لینا پڑا، تو یہ لوگ کیسے ٹوٹ پھوٹ جائیں  گے۔
اپنے گھروں میں پناہ دینے والوں کو کہیں پناہ لینی یا ڈھونڈھنی پڑے تو ان پر کیا گزرتی ہے ؟موت اور یتیمی کے دکھوں کے ساتھ خیرات اور مدد کا انتظار کس قدر اذیت ناک ہوتا ہے؟
پردہ دار بہن اور بیٹیوں کا کھلے آسمان تلے،کھلے سر بیٹھنا کس قدر دردناک ہوتا ہے ؟
اپنی آنکھوں کے سامنے بےبسی سے بچوں کا ڈوبنا کس قدر المناک ہوتا ہے؟
اپنی زندگی بھر کی کمائی گنوا دینا کوئی آسان کام نہیں؟
یہ وہی جانتے ہیں جن پر گزر رہی ہے ۔ سیلاب بلا تو کچھ دن میں شاید ٹل جائے مگر یہ کمی تو پوری زندگی کا غم بن کر ساتھ رہے گی۔ اس کا مداوا کیسے ہو اور کون کر سکتا ہے؟
میری اپنی قوم سے اپیل ہے کہ آ گے بڑھیں ان لوگوں کا ہاتھ تھامیں ، سہارا دیں، انھیں حوصلہ دیں۔ ان کے ساتھ کھڑے ہوں۔
خدارا حکمرانوں اور اشرافیہ کا انتظار نہ کریں۔ یہ اپنے لیے تو اکٹھے ہو سکتے ہیں، مگر ڈیم بنا کر عوام کو تباہی اور بربادی سے بچانے  کے لیے کچھ کیا اور نہ کریں گے ۔
کاش اگر پچھلے پچھتر سالوں میں چند ڈیم بنا دیے جاتے تو شاید یہ تباہی نہ آتی۔
کاش سیلاب کی بروقت اطلاع کا ہی کوئی سسٹم بنا دیا جاتا کہ لوگوں کی جانیں بچائی جا سکتیں ۔
ملک  ڈوب رہا ہے۔ لوگ بڑی حسرت سے اپنی قوم کی جانب دیکھ رہے ہیں ۔
کمزور مالی حالات اور بڑے بڑے بجلی کے بلوں کے بوجھ سے دبے ہونے کے باوجود اپنے سیلاب زدہ بھائیوں کو خود سنبھالیں۔ ان کی مد د اپنا پیٹ کاٹ کر کریں۔ ایسے مشکل وقت قوموں پر انھیں متحداور یکجا کرنے کا باعث بنتے ہیں ۔
مدد کی انفرادی اور اجتماعی کوشش کا حصہ  بنیں ۔ان کا  اصل امتحان تو سیلا ب کے بعد شروع ہوتا ہے۔
بچھڑنے والوں کا دکھ ،غربت، خطرناک وبائی بیماریاں، بے سروسامانی، تباہ حال گھر، ٹوٹی سڑکیں ،تباہ شدہ سرکاری و غیر سرکاری املاک، فصلوں کی تباہی سے قحط جیسی صورتحال، ملک کی ساٹھ فیصد آبادی کی پھر سے بحالی کا چیلنج درپیش ہو گا ۔
جس کے لیے ملک میں سیاسی استحکام ،قومی یکجہتی اور اتحاد  کے ساتھ ساتھ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایثار و قربانی اور ہمدردی کے اس جذبے کو بیدار کیا جائے، جو دین متین کا امتیاز اور ہمارے قومی و ملی مزاج کی روح ہے ۔
آئیں ثابت کریں کہ ہم ایک زندہ اور پر عزم قوم ہیں۔ ہم اس ٓازمائش پر پورا اترنے کا جذبہ اور صلاحیت  رکھتے ہیں ۔
بڑی قومیں مشکل امتحانوں میں ہمیشہ پر عزم اور ثابت قدم رہ کر کامیاب ہوتی ہیں ۔
انشااللہ !

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles