33 C
Lahore
Wednesday, April 24, 2024

Book Store

Rab Tera Shukria|رب تیرا شکریہ

رب تیرا شکریہ

مصنفہ : حمیرا تبسم شہر

 

کبھی یہ مت سوچنا کہ تم تنہا ہو ،میں ہر پل تمہارے ساتھ ہوں۔تمہارے نام سے منسوب تمام رشتے مجھے پیارے ہیں ۔اچھی شریک حیات خدا کی طرف سے نعمت ہوتی ہے،اور تم میرے لیے نعمت ہو،میرا فخر ہو۔تمہارا مان کبھی نہیں توڑوں گا۔مجھ پہ بھروسہ رکھو۔
ثقلین محبت بھرے مخمور لہجے میں بولتا ہوا اقراء کو یقین بخش رہا تھا۔
میری شرٹ کہا ں رکھ دی ،جاہل عورت، ڈھونڈ ڈھونڈ کے تنگ آ چکا ہوں۔۔۔۔۔۔۔
مریم انہماک سے افسانہ لکھ رہی تھی کہ سلمان کی ہتک آمیز آواز اسکی سماعت سے ٹکرائی تو روانی سے چلتا قلم رک گیا۔اب تخیل جو ٹوٹا تو الفاظ بھی ہوا ہو گئے۔اس نے صفحے پہ لکھی سطروں پہ آخری نگاہ ڈالی تو اور بے دلی سے قلم میز پہ پٹخ دیا۔وہ محبت لکھتی تھی،اسکی تحریروں میں احساس بولتا تھا،عزت و مان کے لفظ رقص کرتے تھے۔کرداروں میں نرمی گھلی ہوتی تھی۔
لیکن مریم کی اپنی ذاتی زندگی میں سکون برائے نام تھا۔شوہر نے تو اس کا تخلص ہی جاہل رکھ دیا تھا۔اسکی آنکھوں کے گوشے نم ہوئے تو وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔حساس دل سلمان کی لہجے پہ ابھی تک نالاں تھا اس لیے آنکھوں کی نمی باقاعدہ آنسوئوں میں تبدیل ہوئی اور پلکوں کی باڑ توڑے چند آنسو موتیوں کی صورت لڑھک کر اسکے گالوں پہ آ ٹکے،جن کو اس نے بڑی بے دردی سے ہتھیلی کی پشت سے مسل ڈالا اور اسٹڈی روم سے نکل کر کمرے میں داخل ہو گئی۔
سلمان الماری کھولے،تمام کپڑے گولے کی صورت بیڈ پہ ڈھیر کیے سپاٹ چہرے سے اسکی جانب دیکھ رہا تھا۔آنکھوں میں غصہ واضح تھا اس لیے مریم سہم سی گئی اور جلدی سے اسکی شرٹ ڈھونڈنے کے لیے بیڈ پہ موجود کپڑوں کو الگ الگ کرکے دیکھنے لگی۔
ہر وقت بس لکھتی ہی رہتی ہو،اپنی بے کار کہانیوں سے وقت ملے تو گھر کا کام بھی ڈھنگ سے کر لیا کرو،کونسی چیز کہاں رکھی ہے تمہیں زرا ہوش نہیں رہتا۔دماغ خراب کرکے رکھ دیا ہے میرا۔سلمان جب بھی بولتا تھا اسے احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ اسکے جملے سننے والے کے دل پہ کس قدر گراں گزرتے ہیں بس وہ بولتا ہی جاتا،اس وقت بھی وہ مریم پہ خفگی بھری نگاہ ڈالے کھڑا تھا ،جبکہ وہ سر جھکائے لب سیے جلدی سے شرٹ ڈھونڈنے میں مصروف تھی،اور مطلوبہ شرٹ ملی تو خوشی کے رنگوں نے اسکے چہرے کا احاطہ کر لیا۔
یہ لیں آپکی شرٹ مل گئی،آپ بھی تو دھیان سے نہیں دیکھتے ناں،،سلمان کی جانب شرٹ بڑھاتی مریم نے نرمی سے کہا ،جبکہ سلمان ہمیشہ کی طرح اس پہ سخت نگاہ ڈالے شرٹ جھپٹتے ہوئے واش روم گھس گیا لیکن جاتے جاتے بھی جملہ کسنے سے باز نہ آیا۔
دھیان رکھنا میرا کام نہیں ہے ،تمہارا ہے۔لیکن تمہیں فرصت کہاں ،اتنی اچھی ہوتی تو پہلے سے ہی میری شرٹ نکال کے رکھ چکی ہوتی۔۔۔۔۔
واش روم کا دروازہ کھٹ کی آواز سے بند ہوا تھا۔اپنی شان میں ایسے قصیدے سننے کی وہ عادی ہو چکی تھی۔اسے ڈھونڈنے سے بھی خود میں کوئی کمی دکھائی نہ دیتی تو اداس دل لیے سارا دن گھر میں بولائی بولائی سی پھرتی۔اتری صورت لیے وہ اداس پری دکھائی دیتی ۔شادی کو ایک ہی سال ہوا تھا ،ابھی بچے بھی نہ تھا ۔خود کو مصروف رکھنے کے لیے اس نے لکھنا شروع کر دیا اور اپنی تمام سوچیں ،تمام خواب صفحہ قرطاس پہ بکھیرنے لگی۔وہ نرم جذبات کی حامل خوبرو لڑکی تھی۔خوابوں کی دنیا میں رہ کر خوشگوار زندگی کے خواب دیکھنا اور انکی تعبیر پانے کی خواہش کرنا اسکی عادت تھی۔جسیے ہی بیاہ کے سلمان کی زندگی میں آئی اسی دن سے اداسی کی ایک دیوار سی تن گئی ۔سلمان تمام حقوق پورے کرتا تھا لیکن روایتی مرد ثابت ہوا تھا۔وہ شادی کا اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی سلمان کو ٹھیک سے سمجھ نہ پائی ۔کبھی تو وہ بہار کی مانند بن جاتا تو کبھی اسکا وجود خزاں کے وجود میں یوں ڈھلتا کہ مریم کے خوابوں اور عزت نفس،مان سب ایک ایک کرکے جھڑ جاتے ،اور وہ بس تماشا دیکھتی رہ جاتی،اسے یاد تھا تو بس اتنا کہ،،صبر ہی بہترین عمل ہے،دوبدو جواب دینے والی عورت اپنی زندگی کی خود دشمن ہوتی ہے،مرد کبھی اس عورت کو برداشت نہیں کرتا جو اس سے مقابلہ کرے،وہ کتنا بھی ظالم کیوں نہ ہو وعورت کی نرمی ہی چاہتا ہے،پھر ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب اسے یہ ماننا پڑتا ہے کہ عورت محبت کی مٹی سے گندھی ہے جس کی سرشت میں صرف وفا کرنا لکھا ہے۔
وہ بھی شدت سے اس دن کی منتظر تھی جب سلمان اسکو وہی عزت دے جو اسکا حق تھی۔اس لیے وہ چپ چاپ پتھر کی مورت بنی اسکی کڑوی کسیلی باتیں بنا ماتھے پہ شکن لائے سنتی رہتی اور ہونٹوں پہ شکوہ نہ لاتی۔لیکن بظاہر مظبوط بنی مریم تنہائی پاتے ہی اداسی کے گہرے کنوئیں میں اس قدر گر جاتی کہ اپنا آپ بے مایہ لگنے لگتا۔
باجی،آپ کی بہت یاد آئے گی،اتنا دور مت جائو،،لائبہ نے روونی صورت بنا کے کہا تھا ، تب ہی مایوں میں بیٹھی چہرے پہ خوش کن مسکان سجائے مریم کھلکھلا کے ہنس پڑی تھی،
پیاری سی،ننھی سی میری بہنا،،میں دور تھوڑی ناں جا رہی ہوں ،ہر ویک اینڈ پہ ملنے آیا کرونگی،اچھا اپنے دل پہ ہاتھ رکھو میں تمہارے دل میں ہوں اور رہوں گی۔مریم نے چھوٹی بہن کو سمجھانے کے بعد اپنے چہرے پہ در آنے والی اداسی کو چھپانا چاہا لیکن ناکام رہی۔
آپی،بتا دو ناں کہ آپ بھی اداس ہو،آپکی آنکھیں چہرے کا ساتھ نہیں دے رہیں ،اب لائبہ اسکے سر ہو چکی تھی ۔مریم نے بھی وضاحت دینا ضروری نہ سمجھی کیونکہ وہ کچھ بھی چھپا نہیں پاتی تھی۔
ظاہر ہے اداس تو ہونا ہے،پتا نہیں سلمان کیسے ہونگے،انکی نیچر کیسی ہوگی۔مجھے ملوانے بھی لے آیا کریں گے یا نہیں ،وہ فکر مندی سے بولتی ہوئی سر جھکا گئی کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اسکی آنکھوں کی نمی اپنے دیکھیں۔
سلمان اچھا بچہ ہے،اور ایک بات یاد رکھنا کبھی اسکے آگے اونچی آواز میں بات مت کرنا اور اگر وہ ڈانٹے بھی تو صبر کرنا،امی نہ جانے کب کمرے میں داخل ہوئیں تھیں اور اب اسکے سامنے بیڈ پہ بیٹھیں پیار سے اسے سمجھا رہی تھیں۔
امی جان ،باجی ویسے بھی آپکا کہنا مانتی ہیں،ایسا ہی کریں گی جیسا آپ نے کہا،لائبہ درمیان میں بول پڑی تو امی نے گھور کے اسے دیکھا جواباً وہ سر کھجاتے ہوئے جلدی سے کمرے سے نکل گئی۔
بس اسی دن سے ماں کی بات مریم نے پلو سے باندھ لی،جو مرضی ہو جائے سلمان کی عزت کرنی ہے،مثالی بیوی بننا ہے۔اور واقعی وہ اس پہ عمل بھی کر رہی تھی۔وہ خفا خفا سا رہتا،لڑائی کے بہانے ڈھونڈتا لیکن وہ خاموش رہتی ،شاید اسکی عادت ہی ایسی ہے دل کا برا تھوڑی ہے،یہ سوچ کے وہ مطمین ہوجاتی۔
٭٭٭
وہ کچن میں کھڑی برتن بھی دھو رہی تھی اور آنسو تھے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔اسکے صبیح چہرے پہ اداسی کی کرن طلوع ہونے سے مکمل وجود سوگوار تھا۔دل میں پنپتا کرب ایک ناسور بن کر اسکی روح کو کھوکھلا کر رہا تھا۔اسکی خواب،خواہشات،امیدیں سب مسخ زدہ لاش کی صورت ماتم کدہ تھے۔وہ صبر کرتی آئی تھی لیکن آج تو حد ہی ہو گئی تھی۔سلمان نے اسکی سر عام اچھالی تو وہ بلبلا اٹھی،عزت نفس نے انگڑائی لی اور باغی جذبے نے سر ابھارا،منہ میں زبان تھرتھرائی،دل چاہا روئے،چلائے اور سلمان کو جھنجوڑ جھنجوڑ کے کہے،بتائو میرا قصور کیا ہے،میرا خاموش رہنا میرا قصور ہے ؟ یا پھر صبر کرنا ،لیکن وہ یہ سب صرف سوچ ہی سکی۔وہ اپنا مان نہیں کھونا چاہتی تھی،وہ بری عورت نہیں بننا چاہتی تھی اس لیے خاموش رہی لیکن کچن میں آتے ہی صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور آنکھیں آنسوئوں سے دھندلا گئیں ۔
سلمان نے چند آفس کولیگز کو کھانے پہ مدعو کیا تھا،مریم کی طبعیت ٹھیک نہیں تھی پھر بھی دل لگا کے کھانا بنایا،اور تیار بھی ہوئی۔وہ رائتہ لیکر ٹیبل پہ رکھنے لگی تھی کہ اچانک پیر پھسلا ساتھ ہی رائتہ بھی فرش پہ گر گیا ،مریم نے بمشکل کرسی کا کونا پکڑ کے خود کو گرنے سے بچایا اور خفت زدہ چہرہ لیے سلمان کی جانب دیکھا جس کے چہرے پہ زمانے بھر کی اجنبیت تھی اور مسکراتے ہونٹ بھنچ چکے تھے،
کبھی کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کرتی ہو،ہمیشہ ہونک بنی رہتی ہو،نہ جانے سلیقہ کب سیکھو گی۔وہ مریم پہ چلاتے ہوئے کہیں سے بھی مہذب انسان نہیں لگ رہا تھا،مریم کی حالت غیر ہونے لگی اور مارے شرمندگی کے وہ سر جھکائے خاموش کھڑی رہی،
بات کرنے کا یہ کونسا طریقہ ہے سلمان،مریم بھابی بہت ہی اچھی ہیں کھانا بھی مزے کا بنایا ،الٹا آپ انکو ڈانٹ رہے ہیں جبکہ اس میں بھابی کا کیا قصور ؟ سلمان کی کولیگ نبیلہ نرم خو لڑکی تھی اس سے برداشت نہ ہوا تو بول ہی پڑی جبکہ باقی لوگ کندھے اچکا کہ رہ گئے جیسے کہہ رہے ہوں ہمارا کیا،میاں بیوی کے درمیان ہم کیوں آئیں۔مریم اتنی دکھی ہوئی کہ مہمانوں کے جانے کے بعد بھی کھانا نہیں کھایا اور اب کچن میں برتن دھوتے ہوئے پہلے سے بھی کافی آنسو بہا رہی تھی۔
اگر ٹسوے بہانے سے فرصت مل گئی ہو تو میرے لیے چائے بنا دو،سلمان کچن کے دروازے سے ٹیک لگائے اس پہ چبھتی ہوئی نگاہ ڈال کہ بولا تو وہ جھٹکا کھا کہ پلٹی،
ایک بات بتائیں مجھے،کیا آپکی زندگی میں میری کوئی اہمیت نہیں ؟ آپ مجھے بے جان وجود کیوں سمجھتے ہیں ، ؟ وہ دکھ کی تصویر بنی سراپا سوال تھی، وہ کبھی یہ سوال ناں کرتی اگر آج وہ بے حسی کی حد پار نہ کرتا،اسے رسوا نہ کرتا،۔
میرے نزدیک تم صرف میری بیوی ہو ،جسکا کام سر جھکا ئے شوہر کا ہر حکم ماننا ہے،خاموش رہنا ہے اور خدمت کرنا ہے۔میرا رتبہ تم سے بلند ہے ،اس لیے اپنی نگاہ نیچی رکھو۔ وہ سخت لہجے میں بولتا ہوا اسکا دل پاش پاش کر گیا۔
کیا مردوں کو اپنا رتبہ تب ہی یاد آتا ہے جب بیوی کو نیچا دکھانا ہو،اسکا مان توڑنا ہو،خواب توڑنے ہوں،یا پھر تب یاد آتا ہے جب وہ حق مانگے ؟ اس نے ایک ہی سانس میں بولتے ہوئے اسے احساس دلانے کی کوشش کی لیکن اگلے ہی پل سر جھٹک کے چائے کا پانی چولہے پہ رکھنے لگی کیونکہ سلمان جا چکا تھا۔ مریم دربدر ہوئے خوابوں کا ماتم مناتی آنسو بہاتی رہی،اسکے پاس کوئی چارہ نہیں تھا سوائے صبر کرنے کے۔
٭٭٭
وہ جیسے ہی چائے کی ٹرے کمرے میں لے کے جانے لگی سلمان کی آواز سن کے ٹھٹک سی گئی اور دروازے میں ہی رک گئی،سلمان موبائل کان سے لگائے کسی سے بات کر رہا تھا اور موڈ بھی خاصا خوشگوار تھا۔مریم کو تجسس سا ہوااس لیے وہ سانس روکے اسکی باتیں سننے لگی جبکہ وہ جانتی تھی یہ غیر اخلاقی حرکت ہے لیکن سلمان کا انداز ہی ایسا تھا کہ وہ سنے بغیر رہ نہیں سکی،وہ دروازے کی جانب پیٹھ کیے باتیں کرنے میں مگن تھا،
ہاں یار وعدہ کرتا ہوں اس بار جو کہو گی لے دونگا ،بس کبھی ساتھ مت چھوڑنا،تمہاری جلترنگ سی ہنسی میرے دل میں خوش کن احساس اجاگر کرتی ہے اور زندگی کا پھیکا پن خوبصورت خوابوں میں ڈھلے رنگوں کی صورت عیاں ہوتا ہے،وہ اتنا کھویا ہوا تھا کہ مریم کی آمد کا احساس ہی نہ کر پایا،اور مریم تو جیسے ڈھے سی گئی،اعتبار نے فریب کا روپ دھارا تو سب کچھ ہی مشکوک دکھائی دینے لگا،مان ٹوٹا تو وجود بھی ٹوٹ گیا،وہ بے جان گڑیا کی مانند دروازے سے ٹیک لگائے پتھر نگاہ سلمان پہ ڈالے کھڑی تھی،آنکھوں میں کرب کا سمندر تھا اور دل میں مری ہوئی امنگوں کا ڈھیر،وہ راکھ ہو چکی تھی،اسکا مزاجی خدا کسی نامحرم عورت سے خوش گپیوں میں نہ صرف مصروف تھا بلکہ جو محبت صرف اسکا حق تھی وہ بھی لفظوں کی صورت اس پہ اتار رہا تھا۔
مریم نے خود کو سنبھالا اور واپس جانے کے لیے مڑنے لگی تو چائے کے کپ آپس میں ٹکرائے جن کی آواز سنتے ہی سلمان کرنٹ کھا کے پلٹا اور کال جلد ہی کاٹ دی،اسکی نگاہ مریم پہ پڑ چکی تھی جو زرد چہرہ لیے نگاہ جھکائے کھڑی تھی،وہ مرد تھا ہار کیسے مانتا فوراً ہی آگے بڑھا،
کیا تم چھپ چھپ کے میری باتیں سنتی ہو ؟ آج واقعی مجھے یقین آ گیا کہ تم میری زندگی کی پہلی غلطی ہو جسکا خمیازہ میں آج تک بھگت رہا ہوں ،تم نے یہ حرکت کرکے میرے دل سے مزید اپنی جگہ کم کر دی،
وہ جلاد بنا اسی پہ چلانے لگا اور مریم لب سیے خاموش کھڑی رہی اب وہ بولتی ھی تو کیا،بولنے کے لیے رہ ہی کیا گیا تھا،اس نے چائے کی ٹرے سلمان کے ہاتھوں میں پکڑائی اور دل ہی دل میں مضبوط ارادہ کر لیا،
مجھے آپ کے ساتھ نہیں رہنا،آپکو میرا وجود ناگوار گزرتا ہے،میری وجہ سے آپکی زندگی تنگ ہے ،ٹھیک ہے میں امی کے ہاں واپس جا رہی ہوں ، وہ مضبوط لہجے میں بولتی ہوئی سلمان کو حیران کر گئی،اور جلدی سے کمرے میں آتے ہی الماری سے کپڑے نکالنے لگی،
شوق سے جائو ،لیکن ہمیشہ یہ بات یاد رکھنا اپنی مرضی سے جا رہی ہو ،لینے بھی نہیں آئونگا۔اور دیکھوں گا کہ بوڑھے ماں باپ کب تک تمہیں اپنے پاس رکھتے ہیں ،اس طرح تو تمہاری چھوٹی بہن کا رشتہ بھی نہیں آئے گا۔
وہ ٹھنڈی چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے اس طرح سے بولا کہ بیگ میں کپڑے پیک کرتی مریم کے ہاتھ رک گئے اور وہ بے بسی کی تصویر بنے بیڈ کے کنارے ٹک گئی،اسکی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں سلب ہو چکی تھیں ،اعصاب شکن رنج نے ساری توانائی مفقود کر دی تھی۔جب تم بے بس ہو جائو تو خدا کو یاد کرو اور صبر کرو،اسکے دل نے سمجھایا تو اسکا سر اثبات میں جھکا اور واپس جانے کا فیصلہ ملتوی کرتے ہی اس نے صبر کا دامن پکڑ لیا ۔سلمان اسکو خاموش بیٹھا دیکھ کے خالی کپ ٹیبل پہ رکھتے ہی کمرے سے نکل گیا لیکن اسکو سوچوں کے بھنور میں تنہا چھوڑ گیا۔
وہ ایسا کچھ نہیں کرنا چاہتی تھی جس سے بوڑھے والدین کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑے ۔
٭٭٭
اسکے سجدے طویل تر ہوتے گئے،ہاتھوں نے دعا کے لیے اٹھنا شروع کر دیا،آنسو خدا کی بارگاہ میں نکلے تو معتبر ٹھہرے۔ اب اگر سلمان ڈانٹ بھی دیتا تو وہ کچھ نہ کہتی بس صبر کیے خاموش رہتی۔دامن سے الجھی ساری پریشانیاں سکون میں بدلتی گئیں ،سلمان اب بھی فون پہ مصروف رہتا یا پھر رات گئے تک واپس لوٹتا وہ نہ تو کوئی سوال کرتی نہ جھڑپ۔سلمان اسکی خاموشی دیکھ کے بہت حیران ہوتا لیکن کچھ بول نہ پاتا۔
محبت سے دستبردار ہونا اسکو منظور نہ تھا ۔اس نے ایک فیصلہ کیا تھا،سلمان کی بے رخی کے جواب میں محبت نچھاور کرنے کا،۔وہ کسی بھی قیمت پہ سلمان کو کھونا نہیں چاہتی تھی۔
وہ کافی کا مگ لیے ٹیرس پہ آئی تو ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نے اسے تازہ دم کر دیا،منتشر سوچیں خوشگوار خیالات میں تبدیل ہونے لگیں۔اس نے کافی کا ایک گھونٹ بھرا اور آسمان کی جانب نگاہ دوڑائی۔آسمان کی وسعتوں میں اٹھکیلیاں کرتے نرم روئی کی مانند سفید بادل تیر رہے تھے ۔چند شرارتی کالے بادل اپنے دامن میں پانی بھرے زمین پہ برسانے کو تیار تھے،بس انہیں خدا کے حکم کی ضرورت تھی،
جب تک خدا کا حکم نہ ہو کچھ نہیں ہو سکتا،نہ ہم کچھ پا سکتے ہیں نہ ہی کھو سکتے ہیں ،بے شک خدا منصف ہے،اور ہم انسان تو ہیں ہی جلد باز،کس قدر گھبرا جاتے ہیں،حالات سے سمجھوتہ کرنے کی بجائے راہ فرار کا سوچتے ہیں ،
اس نے بادلوں کو دیکھتے ہوئے بے اختیار سوچا ،جو ابھی تک نہیں برسنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے بس حکم خداوندی کے منتظر تھے،ثابت قدم بادل جن کو نیلے آسمان نے آغوش میں چھپا رکھا تھا۔ہم سے زیادہ تو بادل صبر رکھتے ہیں ،برسنے کی قوت رکھنے کے باوجود بھی حدود نہیں توڑتے۔
وہ سوچوں کے جال میں جکڑی اپنی ہی سوچوں میں گم تھی کہ،حکم خداوندی ہوا اور بادلوں نے لبیک کہتے ہی برسنا شروع کر دیا،پیاسی زمین جیسے نکھر سی گئی،اسکا سینہ بارش کی بوندوں سے سیراب ہو رہا تھا اور اسکے دامن پہ جھومتے پیڑ اور پودے خوشی سے نہال سر ہلا ہلا کہ خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ مریم کافی کا خالی کپ ریلنگ پہ رکھے دونوں بازو سینے پہ باندھے مبہوت کھڑی قدرت کی کاریگری دیکھ رہی تھی۔برستی بارش کی چند بوندیں شرارتی انداز لیے اسکے چہرے سے ٹکرائیں تو وہ جھینپ سی گئی،اففف بارش بھی کتنی شرارتی ہے ناں،اس نے پیار سے سر جھٹکا اور اپنے دائیں ہاتھ سے بارش کے ننھے قطروں کو چھوا جو اسکے چہرے پہ موتیوں کی طرح بکھرے ہوئے تھے،
لان میں لگے شہتوت اور مالٹے کے درخت اپنی ٹہنیاں سنبھال نہیں پا رہے تھے جو کہ تیز ہوا اور بارش کے باعث کبھی دائیں تو کبھی بائیں جھک رہی تھیں ،کبھی اتنا جھک جاتیں کی یوں لگتا درخت ابھی جڑ سے اکھڑ جائیں گے ،چنبیلی کے چند پھول تیز ہوا کے باعث پودے سے بچھڑتے ہوئے لان میں بکھر رہے تھے،معطر سی خوشبو مریم کی سانسوں سے ٹکرائی تو اس نے ایک لمبی گہری سانس بھری،پورا وجود ہی خوشبو میں ڈھل گیا،تیز ہوتی بارش نے منظر کو دھندلا رکھا تھا۔اس نے سر اٹھا کہ ٹیرس پہ بنی چھت کو دیکھا اور سمجھ گئی کہ ابھی تک میں بھیگی کیوں نہیں ،بارش میں نہانا تو اسکا خوب مشغلہ تھا،۔
سلمان کہاں رہ گیا،کاش وہ بھی ہوتا تو موسم اور بھی دلکش لگتا،مریم نے اداسی بھری آنکھیں آسمان پہ ڈالیں اور کافی کا خالی مگ اٹھائے کمرے میں رکھی کرسی پہ آ بیٹھی،
کتنے دن ہو گئے،کچھ لکھا بھی نہیں میں نے،لیکن لکھوں بھی تو کیا،نہ چاہتے ہوئے قلم دکھ کے لفظوں پہ بکھرتا ہے،محبت تو کہیں دور جا سوئی ہے۔ نم آنکھوں میں حزن و ملال کے رنگ آن ٹھہرے تو وہ مایوسی کے گہرے سمندر میں پھر سے ڈوبنے لگی،عورت سب برداشت کر لیتی ہے لیکن اپنے شوہر کی بے راہ روی اور غیر عورت میں دلچسپی ہرگز برداشت نہیں کر سکتی،مریم بھی برداشت نہیں کر پا رہی تھی،جتنی کوشش کرتی کہ مظبوط بنوں اتنا ہی ٹوٹ جاتی۔ دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتی تو سکون سا دل پہ چھا جاتا لیکن جلد ہی وہ پہلے جیسی کیفیت میں لوٹ آتی،
باہر بارش کا شور تھا اور اسکے اندر ٹوٹے جذبات رو رہے تھے،
عمل کے ساتھ تمہاری سوچ کو بھی مضبوط ہونا چاہیے،جو بکھر کے بھی مسکرائے اسے کوئی توڑ نہیں سکتا،اور تم خود بکھرنے کی بجائے بکھرے ہوئے کو سمیٹنا سیکھو،احساس دلانا سیکھو کہ تم میرے لیے اہم ہو۔ دل نے سمجھایا تو وہ چونک سی گئی،آنکھوں میں بجلی سی کوندی اور سکڑے لبوں پہ مسکان مچلی،
میں اپنے شوہر کا دل جیتوں گی،اپنی محبت سے،خدمت سے اور توجہ سے،پہلے سے بھی زیادہ خیال رکھوں گی۔وہ دل سے مسکرائی،فضا میں عصر کی اذان بلند ہوئی تو اس نے کندھے پہ لٹکا دوپٹہ جھٹ سے سر پہ اوڑھا ،اور اذان کے ایک ایک لفظ کو دل میں اتارنے لگی،آئو فلاح کی طرف، اسکی سماعت کا جیسے حق ادا ہو گیا،برستی بارش اور اذان ساتھ ہی دل میں جاگتا سکون اور قرب الہی کی خواہش ،اسکو جیسے مکمل کر گئے
یکایک گیٹ کے پار گاڑی کا ہارن سنائی دیا تو اسکا دل بھی دھڑک اٹھا،شاید سلمان آ چکا تھا ۔
وہ بے اختیار ہی سیڑھیاں پھلانگتی ٹی وی لائونج کو عبور کرتی چلی گئی،جل تھل ہوتی بارش میں وہ بھی بھیگ چکی تھی۔وفا اور محبت کے رنگوں میں ڈھلی وہ لڑکی مجازی خدا کی محبت میں ڈوب چکی تھی۔
٭٭٭
سلمان کے چہرے پہ دکھ رقم تھا،آنکھوں میں رائگاں ہونے کا عنصر نمایاں تھا۔متورم آنکھیں اور بھنچے ہونٹ اسکی حالت بیان کر رہے تھے،وہ نگاہیں چرا رہا تھا۔مریم چائے کا کپ لیے اسکے سامنے کھڑی تھی اور سب سمجھ چکی تھی۔وہ کس کے دکھ میں مبتلا تھا وہ جانتی تھی،پھر بھی وہ آنکھوں میں محبت کے دیپ جلائے اس کی جانب یک ٹک دیکھ رہی تھی،
چائے پی لیں ،وہ خشک ہوتے لبوں پہ زبان پھیرتے ہوئے پیار سے بولی تو سر جھکائے بیٹھا سلمان اسکے لہجے کی نرمی پا کہ حیران سا ہوا،اس نے مریم کو اتنے عرصے بعد غور سے دیکھا جس کے چہرے پہ سادگی سجی تھی ،وہ محبت و وفا کا پیکر بنے اسکی جانب دیکھ رہی تھی،
تم نے پی لی چائے ؟ سلمان نے پہلی بار اس سے پوچھا تو وہ حیران ہو گئی،اسے چائے کا کپ تھماتے ہوئے سامنے رکھے صوفے پہ بیٹھ گئی ،اور دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں ڈالے کن انکھیوں سے اپنے محبوب شوہر کو دیکھنے لگی،جو چائے کا گھونٹ پیتے ہوئے اسکی جانب سوالیہ نگاہ ڈالے بیٹھا تھا،
مجھے چائے کی طلب نہیں ہے،اور آپ مجے کچھ پریشان دیکھائی دے رہے ہیں خیریت تو ہے، ؟ مریم نے خاموشی توڑی اور سلمان کی آنکھوں میں جھانکا،
بس تھکن بہت ہو رہی ہے ورنہ اور کوئی وجہ نہیں ،راست تھکا دیتے ہیں ،منزل دھوکا دے جاتی ہے، بات مکمل کرتے ہوئے وہ تلخی سے مسکرایا جبکہ آنکھیں نادیدہ غم سے نم ہو گئیں ،
اجنبی کا غم لیں گے تو منزل تو دھوکا دے گی نا،اکثر غم ایسے ہوتے ہیں جو ہم خود پیدا کرتے ہیں ،اپنا اصل بھول جاتے ہیں ،جان بوجھ کے اپنے قدم ان راستوں پہ ڈالتے ہیں جو ہمارے ہوتے ہی نہیں ، وہ تمام تر سچائی لہجے میں سموئے سلمان کو چونکا گئی، وہ نگاہیں چرا گیا،تو کیا مریم کو بھی میری سچائی معلوم ہے ؟ سلمان کے چہرے پہ شرمندگی کا سایہ لہرایا تو مریم نے بھی خود کو ملامت کی،وہ اپنے شوہر کو شرمندہ ہرگز نہیں کرنا چاہتی تھی،جو کچھ وہ چھپانا چاہا رہا تھا وہ جانتی تھی پھر بھی کرید رہی تھی،
محبت شرمندہ نہیں ہونے دیتی ،مجھے بھی تو سلمان سے محبت ہے نا،مریم نے دل میں سوچا اور گلاس ونڈو سے باہر لان کی جانب دیکھا جہاں بارش اب بھی برس رہی تھی،اتنے خوبصورت موسم میں وہ الجھن بھری سوچیں نہیں سوچنا چاہتی تھی اس لیے وہ ایک بھرپور نگاہ سلمان پہ ڈالے اٹھ کھڑی ہوئی،اسے نماز پڑھنی تھی اور رب سے مجازی خدا کے لیے سکون مانگنا تھا۔
مریم کو کمرے سے جاتا دیکھ کے سلمان نے سکھ کا سانس لیا اور سائیڈ ٹیبل پہ رکھا موبائل فون اٹھا کے دیکھا،نہ تو کوئی میسج آیا تھا نہ ہی کال،اس نے بے دلی سے موبائل واپس اپنی جگہ پہ رکھا اور چائے کا آخری گھونٹ بھرا ،برستی بارش کا شور بھی اسکی سوچوں کو توڑنے میں ناکام رہا،وہ شادی شدہ ہوتے ہوئے بھی ایک ایسی لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوا تھا جو تھی ہی خود غرض،جسے صرف دلوں سے کھیلنا آتا تھا، اگر وہ دلوں سے کھیلتی تھی تو وہ خود کونسا اچھا تھا،اپنی شریک حیات کو دھوکا دیتے ہوئے اسکا دل نہیں کانپا ،ایک بار بھی نہیں سوچا کہ وہ اسکے حقوق غصب کر رہا ہے،وہ شرمندگی کے زیر اثر سر جھکائے بیٹھا تھا،اور وہ لڑکی جس پہ اس نے وقت ،پیسہ محبت توجہ نچھاور کی وہ کسی تتلی کی مانند اڑ گئی اور معلوم بھی نہ ہو سکا ،
کیوں ہر وقت میرے پیچھے پڑے رہتے ہو،جب دیکھو کال پہ کال کرتے ہو،چند پیسے خرچ کرکے کوئی کسی کو خرید نہیں سکتا،ردا کے الفاظ ابھی تک اسکی سماعت پہ کوڑے کی طرح برس رہے تھے،وہ نرگٹ کی طرح بدلی تھی،شیریں اور میٹھا لہجہ اب کڑواہٹ نماں تھا ،
دو گھنٹے سے تمہارا نمبر بزی تھا ،کس سے بات کر رہی تھی،جوابا ً سلمان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو وہ پھٹ ہی پڑا،وہ جس پہ اعتماد کرتا تھا اوہ اسے دھوکا دے رہی تھی،یا پھر وہی دھوکا پلٹ کے اسکے سامنے آ رہا تھا جو وہ اپنی بیوی کو دیتا تھا۔
تم ہوتے کون ہو مجھ پہ رعب جھاڑنے والے،ایسا رعب اپنی بیوی پہ جا کہ جھاڑو،اور ہاں آج کے بعد روبطہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے،میرا رشتہ طے ہو چکا ہے۔
اس لڑکی نے کھری کھری سنانے کے بعد ٹھک سے فون بند کیا تھا،اور وہ اپنی اوقات میں لوٹ آیا تھا،سچ ہی تو کہا تھا صبا نے،وہ رعب صرف اپنی بیوی پہ ہی جھاڑ سکتا تھا،تکلیف صرف بیوی کو ہی دے سکتا تھا۔جو اسکی خاطر ماں باپ بہن بھائی چھوڑ کے آئی تھی وہ اسے ہی تنہا کر رہا تھا ۔سلمان نے دل میں اٹھتے درد کے زیر اثر آنکھیں میچیں اور اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا ۔
کاش میں مریم کو خوشی دے سکتا،اسکا مان نہ توڑتا،میں نے ہر قدم پہ اسے چوٹ پہنچائی،اور وہ اچھی بیویوں کی طرح تمام حقوق نبھاتی رہی زبان سے اف تک نہ کہا ۔سلمان کی سوچ شفاف ہوئی تو اپنی کوتاہیاں بھی دکھائی دینے لگیں ۔مریم کا صبر جیتنے لگا ۔
٭٭٭
وہ جائے نماز بچھائے بارگاہ الہی میں دونوں ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے بیٹھی تھی،بند آنکھوں سے بہتے آنسوئوں نے چہرہ تر کر رکھا تھا۔
وہ پاکیزگی کا روپ بنی مجازی خدا کا اعتماد او محبت مانگ رہی تھی،اسے یقین تھا کہ خدا دامن خالی نہیں لوٹاتا ،صرف خدا ہی تو ہے جو جانتا ہے،سمجھتا ہے،عطا کرتا ہے۔اس نے جتنی بھی اذیت برداشت کی تھی سب بیان کر ڈالی،اپنا دل بارگاہ الہی میں کھول کے رکھ دیا۔
وہ ہوش و خرد سے بے گانہ آنکھیں بند کیے عبادت میں مصروف تھی ، تبھی اسے سلمان کا کمرے میں داخل ہونا معلوم نہ ہوا۔
وہ سائیڈ پہ کھڑا مریم کو غور سے دیکھنے لگا۔وہ اسے آسمان سے اتری پری کی مانند دکھائی دی ،سادگی میں بھی وہ بے حد حسین دکھائی دے رہی تھی۔وہ اسکی آنکھوں سے نکلتے آنسو اور ہلتے لبوں کو بنا پلکیں جھپکائے دیکھنے لگا۔وہ جاننا چاہتا تھا کہ مریم کیا دعا مانگ رہی ہے،
مریم نے جیسے ہی دعا ختم کی سلمان کو اپنی جانب دیکھتا پا کہ نگاہ جھکا گئی اور جلدی سے اانسو صاف کیے۔
دعا میں کسے مانگ رہی تھی ؟ سلمان نے اس کے معصوم چہرے کو پیار بھری نگاہ سے دیکھتے ہوئے نرمی سے پوچھا تو مریم کا دل دھڑک اٹھا اپنی محبت کو ،وہ لب کاٹتے ہوئے آہستگی سے بولی ،
کون ہے تمہاری محبت ؟ سلمان نے آنکھوں میں حیرانگی سمیٹی اور سوالیہ نگاہ اس پہ ڈالی جو شرمیلی مسکراہٹ لبوں پہ سجائے اس کے سامنے کھڑی تھی،
اپنے مجازی خدا سے محبت ہے مجھے،اور میں نہیں چاہتی کہ میرا مجازی خدا کبھی مجھ سے دور ہو،میرا گھروندا ٹوٹے، مریم نے مضبوط لہجے میں اسے سچ بتایا تو وہ خود کو خوش قسمت سمجھنے لگا۔اس کی بیوی وفا شعار تھی یہ سوچ اسکے چہرے کو روشن کر گئی،دل میں ٹھنڈک سی اتر گئی لیکن اگلے ہی پل اسکا سانس بوجھل ہونے لگا،دم گھٹنے لگا ۔وہ اعتماد کے قابل ہی کہاں تھا ،دھوکے باز بے وفا انسان ،وہ تلخی سے مسکرایا ،
میرا سچ بولنا اچھا نہیں لگا ؟ یا میرے ساتھ زندگی گزارنا پسند نہیں ؟ وہ ہمت جمع کرتے ہوئے بمشکل بولی،
تم بہت اچھی ہو لیکن میں بہت برا ہوں ،تمہارے ساتھ کبھی اچھا نہیں کیا ،بلکہ میں تو کسی اور لڑکی۔۔۔۔۔ وہ بات مکمل ہی نہیں کر پایا کیونکہ مریم نے بات ہی کاٹ دی،،
بھول جائیں ساری باتیں ،ایسی یادیں جو تکلیف دیں انہیں یاد نہ رکھنا ہی بہتر ہوتا ہے،میرے لیے صرف آپ اہم ہیں ،اور ویسے بھی آپ مجھ پہ پورا حق رکھتے ہیں ،جتنی چاہے سزا دیں میں آپکو چھوڑ کے جانے والی نہیں ، وہ پر اعتماد طریقے سے بولتی ہوئی سلمان کو حیران کر گئی۔
اس کے دل سے ایک بہت بڑا بوجھ اتر گیا۔اچھی بیوی نعمت ہوتی ہے وہ جان گیا۔
تم بہت اچھی ہو ،اور آئندہ کبھی رونا مت ،میری طرف سے کبھی تکلیف نہیں ہوگی اور ہاں جلدی سے تیار ہو جائو آج ہم ڈنر باہر کریں گے ،وہ اسے اعتماد بخشتا ہوا مسکرا کے بولا تو مریم کا دل خدا کے آگے سجدہ شکر کرنے لگا۔
برستی بارش نے دلوں میں پنپتے شکوے بھی دھو دالے تھے،آج اگر باہر کا موسم اچھا تھا تو دل میں بھی بہار کے پھول کھلے ہوئے تھے۔اگر وہ لڑ جھگڑ کے میکے چلی جاتی تو آج خوشیاں اسکے دامن میں موجود نہ ہوتیں۔آج اس نے پھر سے کہانی لکھنی تھی،محبت کی کہانی،اعتماد کی کہانی،گلابوں جیسے رشتوں کی کہانی۔وہ سکون لکھنا چاہتی تھی ،وہ لکھنا چاہتی تھی کہ اگر لبوں پہ دعا اور دل میں محبت سجی رہے تو رشتے نہیں ٹوٹ سکتے۔اسکے چہرے پہ اطمینان بکھرا تھا۔
٭٭٭

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles