33 C
Lahore
Wednesday, April 24, 2024

Book Store

Pakistan Afghanistan conflict|پاکستان کی او آئی سی کے اجلاس کی میزبانی

پاکستان کی او آئی سی کے اجلاس کی میزبانی

اس اجلاس کا مقصد بین الاقوامی برادری کے لیے پابندیوں کے باوجود افغانستان کو امداد پہنچانے کا طریقہ کار وضع کرنا ہے۔

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کےارکان ممالک افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنے کا حل تلاش کرنے کے لیے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک خصوصی اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔
اس اجلاس کی خاص بات یہ ہے کہ اگست میں کابل میں امریکہ کی حمایت یافتہ حکومت کے خاتمے کے بعد ستاون 57اسلامی ممالک کے سفیروں اور مبصرین کے وفود اتوار کو افغانستان سے متعلق ہونے والی اب تک کی سب سے بڑی کانفرنس کے لیے جمع ہوئے۔
سبھی جانتے ہیں کہ طالبان کی قتدار میں واپسی کے بعد، عالمی برادری کی جانب سے اربوں ڈالر کی امداد اور اثاثے منجمد کر دیے گئے تھے۔
اس کے نتیجے میں 38 ملین کی قوم کو بھوک کے بدترین بحران میں ڈال دیا گیا۔ جب سے ریکارڈ شروع ہوا۔
پاکستانی حکام کے مطابق طالبان کے وزیر خارجہ ملا امیر خان متقی اور امریکا، چین، روس، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے وفود سمیت کُل ستر( (70 وفود حصہ لے رہے ہیں۔
اصل چیلنج یہ ہے کہ ان سفارت کاروں کو طالبان کی حمایت کیے بغیر، جن کی حکومت کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا، کا سہارا لیے بغیر، تباہ حال افغان معیشت کے لیے امداد پہنچانے کےمختلف سود مند طریقے وضع کرنے کی بھاری مگر اہم ذمہ داری اٹھانا ہو گی۔
اسلامی ترقیاتی بینک کے صدر، محمد سلیمان الجاسر
نیز اسلامی ترقیاتی بینک کے صدر، محمد سلیمان الجاسر نے ایسے ٹرسٹوں کا انتظام کرنے کی بھی پیشکش کی ہے جن کا استعمال افغانستان میں پیسہ منتقل کرنے، کاروبار شروع کرنے اور شدید مشکلات سے دوچار معیشت کو بچانے میں مدد کا کام کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔
اس اجلاس کی رُو سےکسی بھی امدادی وعدے کا اعلان گزشتہ اتوار کی شام ہونا تھا۔
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی
خصوصی اجلاس کے آغاز سے خطاب کرتے ہوئے، پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ گہرے ہوتے بحران سے نکلنے کا مطلب بڑے پیمانے پر بھوک اور پناہ گزینوں کا سیلاب ہو سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ “ہم مکمل معاشی بدحالی کے خطرے کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔”
نیز یہ بھی ان کا کہنا تھا کہ او آئی سی سے کہا جا رہا ہے کہ وہ افغانستان کی مدد کے لیے چھے نکاتی منصوبے پر غور کرے جو ان کے ملک پر دباؤ کم کرنے کے لیے طالبان حکام کے ساتھ بات چیت کرے گا۔
اس میں امداد کو مربوط کرنا، سرمایہ کاری میں اضافہ، افغان اداروں کی تعمیر نو میں مدد اور معیشت کو سنبھالنے کے لیے تکنیکی ماہرین کی فراہمی شامل ہے۔
وزیر اعظم عمران خان
دریں اثنا، پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے کلیدی خطاب میں امریکا پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں انسانی بحران اور افراتفری کو روکنے کے لیے طالبان حکومت کو افغان شہریوں سے “ڈی لنک” کرے۔
عمران خان نے مندوبین کو بتایا کہ امریکا کو چالیس ملین افغان شہریوں سے طالبان کی حکومت سے الگ کرنا چاہیے۔ چاہے وہ بیس سال سے طالبان کے ساتھ تنازعہ میں ہوں۔”
یاد رہے کہ ابھی تک کسی بھی ملک نے طالبان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔ پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات وہ تین ممالک تھے جنہوں نے 1996 سے 2001 تک طالبان کی سابقہ ​​حکومت کو تسلیم کیا تھا۔
متقی، طالبان کے قائم مقام وزیر خارجہ
متقی، طالبان کے قائم مقام وزیر خارجہ نے کہا کہ نئی حکومت نے امن و سلامتی کو بحال کیا ہے اور خواتین کے حقوق سمیت انسانی حقوق کے احترام کے ساتھ مزید جامع حکومت کے مطالبات کو حل کرنے کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔
اپنے نظریہکے ایک متن کے مطابق، انھوں نے کہا
سب کو تسلیم کرنا چاہیے کہ افغانستان کی سیاسی تنہائی کسی کے لیے بھی فائدہ مند نہیں ۔ اس لیے ضروری ہے کہ سبھی موجودہ استحکام کی حمایت کریں اور سیاسی اور معاشی طور پر اس کی حمایت کریں۔
الجزیرہ کے کمال حیدر کی اسلام آباد سے رپورٹنگ
الجزیرہ کے کمال حیدر نے، اسلام آباد سے رپورٹنگ کرتے ہوئے کہا کہ اب او آئی سی کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے، اس کے وعدوں پر عمل کرنے میں ناکامی پر پچھلی تنقیدوں کے بعد ،
سب کی نظریں کانفرنس پر ہوں گی۔
حیدر نے کہا کہ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا یہ ممالک، جو اقوام متحدہ کے بعد اقوام کا دوسرا بڑا گروپ ہے، افغانستان کے بحران میں مدد کے لیے کوئی ٹھوس حل نکال پائیں گے؟
امریکا کے خصوصی نمائندے ٹام ویسٹ
افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے ٹام ویسٹ، جو اس اجلاس میں شریک ہیں، نے ملک میں انسانی ہمدردی کے لیے کام کرنے والے گروپوں کے ساتھ کام کرنے اور امداد کی فراہمی کے لیے طریقہ کار تلاش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ۔
دراصل او آئی سی کے اجلاس سے طالبان کی نئی حکومت کو وہ باضابطہ بین الاقوامی شناخت دینے کی توقع نہیں تھی جس کی وہ شدت سے خواہشمند ہے۔
متذکرہ سیشن سے پہلے، شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ یہ میٹنگ “کسی مخصوص گروہ” کے بجائےافغانستان کے لیے”آواز اٹھائے گی۔
انھوں نے زور دیا کہ کابل میں نئے آرڈر کے ساتھ “تسلیم اور مشغولیت” میں فرق ہے اور کہا کہ ، “آئیے ہم انھیں قائل کرنے، ترغیبات کے ذریعے، صحیح سمت میں آگے بڑھنے کے لیے دھکیلیں۔زبردستی اور دھمکانے کی پالیسی کام نہیں کر سکتی۔ اگر ایسا ہوتا تو آج ہم اس حالت میں نہ ہوتے۔

After the Taliban’s lightning return to power, billions of dollars in aid and assets were frozen by the international community [File: Sardar Shafaq/Anadolu Agency via Getty Images]

https://www.aljazeera.com/news/2021/12/19/islamic-countries-hold-meeting-to-discuss-aid-to-afghanistan

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles