23 C
Lahore
Saturday, April 13, 2024

Book Store

 محبت کے پُل| muhabbat k pul

احساس کے انداز 

 محبت کے پُل

“بڑا بھائی جس کا کوئی بڑا بھائی نہیں ہوتا”  

تحریر ؛۔ جاویدایازخان

والدین کے بعد بہن بھائیوں کا رشتہ سب سے زیادہ قریبی سمجھا جاتا ہے. والدین کے دنیا سے جانے کے بعد عموماً ان کے درمیان وراثت، غلط فہمیاں، لالچ، اولاد، بیوی کی وجہ سے ناراضگی اور تعلقات خراب ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
ان ناراضگیوں کا دروازہ بند کرنے کے لیے والدین کے بعد جس شخص کے مقام و مرتبے کو اسلام نے شان وشوکت سے نوازا، جس کے ادب و احترام کا درس دیا، وہ “بڑا بھائی” ہے۔
حدیث مبارکہ ہے:
” بڑے بھائی کا حق اپنے چھوٹے بہن بھائیوں پر ایسا ہے جیسا باپ کا حق اپنے بیٹے پر۔ ”
یہ وہی بڑا بھائی ہوتا ہے جو آپ کے والدین کا پہلا سہارا بنتا ہے۔ ان کے ساتھ مل کر محنت مزدوری کر کے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی ضروریات اور خواہشیں پوری کرتا اور اپنی زندگی کا قیمتی ترین وقت اپنے بہن بھائیوں کے لیے قربان کر دیتا ہے۔
بڑا بھائی باپ، ماں، دوست اور گھر کی رونق اور قیمتی سرمایہ ہوتا ہے۔ جو ہر دُکھ اور امتحان میں ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔
ایسے بھائی کے سامنے شریک بن کر نہیں بلکہ اس کے ساتھ اس کا بازو بن کر کھڑے ہونا اس کی زندگی طویل کر دیتا ہے۔ کیونکہ وہ اپنی قربانی کا جذبہ دکھا چکا۔ اَب آپ نے اپنےجذبے کو دکھانا اور ثابت کرنا ہے۔
یاد رکھیں، “بڑے بھائی کا کوئی بڑا بھائی نہیں ہوتا۔ ” وہ خود اس نعمت سے محروم ہوتا ہے۔
اسلام بھائیوں کے مندرجہ ذیل پانچ حقوق پر زور دیتا ہے۔
بھائی کے ساتھ نیک سلوک اور معاملات میں نرمی،
اپنے بھائی کے لیے دعا کرنا،
بھائی کی غلطی پر چشم پوشی اور درگزر  کرنا،
باہمی رابطہ مضبوط رکھنا، تاکہ غلط فہمی نہ ہو،
آپس کے معاملات صاف رکھنا ۔
بھائیوں کے بچپن کے پیار کو آخر جائداد، پیسہ اور اولاد ہی توڑتی ہے۔ بھائیوں میں صلح کرانا بھی ایک عبادت ہے۔
ہماری بدقسمتی ہے کہ اب ہمارے معاشرے میں وہ کردار نظر نہیں آتے جو رشتوں کو جوڑنے اور آپس میں صلح کرانے میں پیش پیش ہوتے تھے ۔
اب نفرت کی دیواریں کھڑی کرنے والے بہت ہیں مگر محبت کے پل بنانے والے نظر نہیں آتے ۔کہتے ہیں جب دیوار میں دراڑ پڑ جائے تو دیوار ٹوٹ جاتی ہے لیکن جب دل میں دراڑ پڑ جائے تو دیوار بن جاتی ہے  ۔
فارسی کی ایک مشہور حکایت ہے کہ دو بھائیوں کو  باپ کی وراثت میں کچھ زمین ملی تھی اور وہ سالوں سے اُس پر اکٹھے کام کر رہے تھے۔
ایک دن کسی معمولی سی بات پر دونوں بھائیوں میں کچھ تکرار ہو گئی۔ بات بڑھتی چلی گئی۔ دونوں نے زمین کے بٹوارے کا فیصلہ کر لیا۔
ایک دن بڑے بھائی کے دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھولا تو ایک مزدور کھڑا تھا۔ کہنے لگا میں کئی دنوں سے کسی کام کی تلاش میں پھر رہا ہوں۔
آپ کا دروازہ اس اُمید پر کھٹکھٹایا کہ شاید آپ کے گھر یا کھیت میں کوئی ایسا کام ہو جو میں انجام دے سکوں ۔جس پر بڑا بھائی بولا کہ اتفاقاً مجھے بھی کسی کاریگر کی تلاش تھی۔
ہمارے کھیتوں کے بیچ میرے چھوٹے بھائی نے ایک نہر کھدوائی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تم ایسا کرو کہ ہماری زمینوں کے بیچ میں ایک ایسی دیوار بنا دو کہ میں آئندہ اُس بھائی کی شکل تک بھی نہ دیکھ سکوں۔
کاریگر نے کہا کہ جیسا آپ چاہیں۔ اُس نے پیمائش شروع کر دی۔
بڑا بھائی کہنے لگا؛ میں قریبی قصبے جا رہا ہوں ایک کام سے۔ تمہیں اگر کام کے لیے کسی چیز کی ضرورت ہو تو کہو تاکہ میں ساتھ لے آؤں۔
کاریگر نے کہا کہ اُس کے پاس ضرورت کی سب چیزیں ہیں اور کسی چیز کی حاجت نہیں ہے ۔
یہ ہدایت دے کر وہ اپنے گھر سے روانہ ہوا۔ شام کو جب وہ قصبے سے واپس آیا تو یہ دیکھ کر اُسے حیرت بھی ہوئی۔ غصّہ بھی بہت آیا کہ کاریگر  نے دیوار تعمیر کرنے کے بجائے کھیت کے بیچ بہتی نہر پر ایک چھوٹا سا پُل بنا دیا ہے ۔
میں نے تمہیں دیوار بنانے کا کہا تھا اور تم نے پُل بنا لیا؟
اس نے جواب دیا، میں محبت کے پل بناتا ہوں۔ نفرت کی دیوار کھڑی نہیں کرتا۔ اِسی اثنا میں اُس کا چھوٹا بھائی دُور سے آتا دکھائی دیا۔
نہر پر پُل کو دیکھ کر اُسے بہت خوشی ہوئی۔ وہ سمجھا کہ بڑے بھائی نے بنوائی ہو گی۔ پُل عبور کر کے اپنے بڑے بھائی کے قدموں پر گر پڑا اور نہر کھدوانے پر معذرت کرنے لگا۔
بے شک بہترین رشتہ وہ ہے جہاں ناراضگی کے بعد معمولی مسکراہٹ اور معذرت سے زندگی پہلے جیسی ہو جائے۔ اتنے میں کاریگر اپنے اوزار اِپنے کاندھے پر رکھ کر روانہ ہونے لگا تو بڑے بھائی نے اُس سے کہا:
میری بڑی خواہش ہے کہ تم چند راتیں ہمارے ہاں ٹھہرو تاکہ ہم تمہاری خاطر مدارت کر سکیں۔ تمہاری وجہ سے میرے اور چھوٹے بھائی کے اختلافات ختم ہوئے اور ہم پھر سے ایک ہوئے ہیں۔
کاریگر نے جواب دیا: “میری بھی بڑی خواہش ہے کہ آپ کا مہمان بنوں لیکن ابھی میں نے اور بہت سے ایسے پُل بنانے ہیں۔
یہ کہہ کر اس نے خداحافظ کہا اور اپنی اگلی منزل کی جانب چل پڑا۔
یہ محبت کے پل تعمیر کرنے والے نیکی کے فرشتے اب کہاں ملتے ہیں؟ بےشمار لوگ اور خاندان ایسے لوگوں کے منتظر ہیں؟
رفتہ رفتہ دنیا ایسے فرشتہ صفت لوگوں سے محروم ہوتی چلی جا رہی ہے، جو نفرت کے خاتمے کے لیے دوسرے کے لیے محبت کے پل تعمیر کرنا کسی عبادت سے کم نہیں سمجھتے تھے ۔
کہتے ہیں زندگی میں بہت سی چیزوں اور رشتوں کو اہمیت نہیں دی جاتی مگر جب وہ نہیں رہتے تو اس کی اہمیت اور کمی کا احساس زندگی بھر انسان کے ساتھ پچھتاوے کی طرح رہتا ہے۔
ہمارے موجودہ معاشرے میں ایسے صلح کن لوگوں کا فقدان ہو چکا۔

“اب انھیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر “

  کہتے ہیں وہ شخص بہت خوش نصیب ہوتا ہے جسے اپنے میسر ہوں۔ کیونکہ خونی اور سگے رشتے قدرت کا انتہائی خوبصورت اور لازوال عطیہ ہیں۔
ان کی قدر ہم پر لازم ہے۔ ایسے رشتوں میں ایک رشتہ”بڑا بھائی “ہوتا ہے ہماری زندگی انھی رشتوں سے بنتی ہے۔
ہماری زندگی میں یہ رشتے ناتے بہت انمول اور قیمتی ہوتے ہیں۔ ان کی حفاظت بھی کسی بیش قیمت سرمائے کے مانند کی جاتی ہے ۔
والدین کے بعد جو سب سے قریبی گہرا اپنائیت و خلوص سے لبریز منفرد خونی رشتہ ہے، وہ بڑے بھائی کا رشتہ ہی ہے۔
بڑے بھائی کا درجہ والد جیسا ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ شفقت ومحبت کے حوالے سے مثل والد ہوتا ہے جو ان کی چھوٹی تکالیف پر تڑپ اُٹھتا ہے۔
ان کا خیال رکھتا ہے اور ان کے اچھے مستقبل اور اچھی زندگی کے لیے ہمہ وقت دعاگو رہتا ہے ۔
بھائیوں بہنوں میں اختلاف اور جھگڑے بچپن سے ہی ہوتے رہتے ہیں۔
ان بچپن کی لڑائیوں کو بھی پیار و محبت کی علامت سے تعبیر کیا جاتا ہے، لیکن بڑے ہو کر یہ سگے رشتے بدگمانیوں اور غلط فہمیوں کی وجہ سے دوریاں پیدا کر لیتے ہیں۔
یہ بدگمانیاں نفرت سے گزر کر دشمنی تک جا پہنچتی ہیں۔ ایسے میں بڑا بھائی بدگمانی کی دیواریں کھڑی نہیں کرتا۔
محبت کے وہ پل تعمیر کرتا ہے جس سے گزر کر یہ ایک دوسرے کے پھر سے قریب آ جائیں۔
ہمارا معاشرہ اس وقت نہایت نفسانفسی، خلفشار، نفرت، عدم برداشت، لالچ و ہوس کے کانٹوں میں گھر چکا۔
رشتوں کا احترام اور محبت و خلوص کے خاتمے نے خونی رشتوں کو بھی دشمنی اور نفرت میں بدل دیا ہے۔
ایسے میں ان کانٹوں بھرے راستوں پر محبت کے پھول کھلانا بےحد ضروری ہے کیونکہ زندگی وہی جو اپنوں کے ساتھ گزرے۔
اپنوں کے بغیر جینے کو عمر کہہ سکتے ہیں زندگی نہیں! وہ زندگی جس کے لیے خاندان میں بڑے بھائی کا کردار ایک نعمت سے کم نہیں۔
انھیں اتنا احترام اور اہمیت دیں کہ وہ اس بات پر فخر محسوس کریں کہ وہ آپ کے بڑے بھائی اور بزرگ ہیں  ۔

کدھر کو جائیں گے اہل سفر نہیں معلوم
ہیں کتنے روز یہ بوڑھے شجر نہیں معلوم

https://shanurdu.com/naffaq-ya-ittefaq/

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles