30 C
Lahore
Saturday, May 18, 2024

Book Store

مادہ پرستی

 

امام مکاتیب
بیٹی کے نام خط ۲ ( میکے سے موصول ہوا  )
میری پیاری بیٹی !
بعد از سلام عرض ہے کہ تمھارا خط میری میز پہ پڑا ہے ۔ ایک ایک سطر واضح اور عیاں ۔ اور ستم یہ ہے کہ جس میز پہ یہ خط کھلا پڑا ہے اسی میز کی عقب میں کتابوں کی الماری موجود ہے ۔ جس میں اوپر سے نیچے تک کتابیں ہی کتابیں سجی ہیں ۔
میز کی دراز میں میری اور تمھارے ابا کی ایک واحد تصویر موجود ہے ۔
یہ تصویر اور یہ کتابیں تمھاری ماں کی کل کائنات ہیں ۔ تصویر سے جڑی بس ایک ہی کہانی ہے کہ جس روز لان کا ایک سادہ جوڑا زیب تن کیے میں تمھارے ابا کے گھر آئی تو میکہ چھوٹ چکا تھا اور میکے والے ہاتھ جھاڑ کے مجھ سے تعلق توڑنے کا اعلان کر چکے تھے ۔
نہیں ! یہ مت سمجھنا کہ تمھاری ماں کی شادی ان کی مرضی سے نہیں ہوئی تھی ۔ ان ہی کی مرضی سے ہوئی تھی لیکن شرط میری تھی کہ لڑکا دین دار ہو ۔
تمھارے ابا فقط دین دار ہی نکلے مال دار نہیں ۔ غربت اور امارت کا فرق آڑے آ گیا ۔ اپنے معیار سے کم پہ سمجھوتہ مادہ پرستوں کے لیے ممکن نہیں ہوتا ۔ بادشاہت سے فقر کا سفر آسان نہیں تھا ۔
سب سہارے چھوٹ چکے تھے ۔ رونے کی خاطر نہ تو کندھا تھا نہ ہی ماں ۔ جس کے آگے رویا جاتا کہ لو اماں ! تمھاری لاڈلی کے لاڈ نہیں اٹھتے ۔
روز اللہ میاں ایک پرچہ تھماتے روز پرچہ حل کر کے بمعہ جوابات اللہ میاں کو جمع کروانا ہوتا ۔ فرشتے رجسٹر میں نمبر لکھتے اور نتیجہ دل کے اطمینان اور دنیا سے بے نیازی کی صورت تھما دیتے ۔
محلوں میں رہنے والی جب جھونپڑی میں آباد ہو تو سوچتی ہے کہ اے کاش اس سخت زمین پہ سونے کے لیے کوئی ہلکا سا بچھونا تو ہوتا ۔ اس پہ بھی صبر کر لیتی لیکن دل یہی سوچ کر لرزتا رہتا کہ اگر کسی خون کے رشتے یا جان پہچان والے نے جھونپڑی میں دیکھ کے بھکاری سمجھ لیا اور چند سکے زمین پہ یہ سوچ کے پھینک گیا کہ برے دنوں میں کچھ تو سہارا ہو تو مردار کھانے سے پہلے موت بھی نہ آئی تو خودی کی موت پہ بھی بھلا کیونکر زندہ رہنا ممکن ہوگا ؟
کیسی عجیب بات ہے کہ بیٹی نے سسرال میں ناروا رویوں کا دکھ رویا ہے اور ماں کی مشکل باتیں اسے نہ تو کوئی حل دے رہی ہیں اور نہ ہی سہارا ۔
میری بچی !
یہ دنیا اور اس دنیا میں موجود ہر وہ شے جو تمھارے آس پاس موجود ہے یہ خاص طور پہ تمھاری آزمائش اور امتحان کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے ۔
دنیا میں مختلف قسم کے انسان ہوتے ہیں ۔ ایک وہ جو طفیلیے بن کے جیتے ہیں اور ہر ہر بات پہ رونے دھونے کے لیے دوسروں کا کاندھا ڈھونڈھتے ہیں ۔
اور ایک وہ جو مشکل حالات دیکھ کر رجوع الی اللہ کی پالیسی اپناتے ہیں اور زندگی کی مشکلات دیکھ کر کمر کس کے اللہ کے سہارے میدان میں اتر جاتے ہیں ۔ وہ ہر آزمائش اور ہر تکلیف پہ دعا کو اپنا ہتھیار بنا لیتے ہیں ۔ اور صبر کو اپنی ڈھال
اپنی شادی کے بعد جب مجھے اکیلے دنیا کے رویوں کا سامنا درپیش تھا اور اللہ سے تعلق بار بار ٹوٹتا رہتا تو ایک روز تمھارے ابا نے بڑی عجیب بات کی ۔
کہنے لگے ہاتھ اٹھا کے دعا کیجیے کہ اللہ آج فجر کی نماز پڑھنے کی توفیق دے دیں ۔ مجھے حیرت ہوئی کہ یہ کیسی دعا ہے ہم تو روز فجر کے لیے اٹھتے ہیں پھر آج یہ دعا کیوں ؟
میں نے سوال کیا ۔
تو کہنے لگا میں ہر نماز سے پہلے اللہ سے نماز پڑھنے کی توفیق مانگتا ہوں ۔
اس بات نے میرے دل پہ ایسا اثر کیا کہ میں نے اللہ سے ہر کام کرنے کی توفیق مانگنا شروع کر دی ۔
اللہ ! مجھے میرے سسرال والوں کے نہ سمجھ میں آنے والے رویوں کو حُسنِ اخلاق سے برتنے کی توفیق عطا فرما دے ۔
یا اللہ ! جب بھی مجھے میرے پیارے ابا یاد آئیں تو یاد میں آنسو بہانے کی بجائے مجھے ان کے لیے صدقہ جاریہ بننے والے کاموں کی توفیق عطا فرما دے ۔
یا اللہ ! مجھے مردار کھانے سے بچا لینا ۔ یا اللہ اپنے قوتِ بازو سے شکار کی توفیق عطا فرما دے ۔
کبھی کچھ دعائیں پوری ہو جاتیں اور کبھی نہیں بھی پوری ہوتیں ۔ نہ پوری ہونے والی دعاؤں پہ صبر کی بھلا کیا صورت ہوتی ؟
دل میں چبھنے والے ہر جملے پہ میں دائیں کاندھے پہ بیٹھے فرشتے سے کہنے لگی ۔ میرے آنسو دل کے اندر گرے ہیں ۔ میں نے اللہ کی خاطر صبر کیا ۔ میرے رجسٹر میں میرا اجر لکھ دو ۔
ہر روز رات کو اپنے رجسٹر میں جمع ہو جانے والے اجر گن کے سو جاتی ۔ اس امید کے ساتھ کہ روزِ محشر اللہ میرے رجسٹر کو اتنا بھاری ضرور کر دیں گے کہ دائیں ہاتھ میں ہی مل جائے گا ۔
تمھاری خالہ کہتی تھیں ۔ ہم انسان ہیں فرشتے نہیں ۔ ہمیں تکلیف ہوگی تو ہم چیخیں گے بھی چلائیں گے بھی اور آنسو بھی بہائیں گے ۔
لیکن میری پیاری بیٹی ! میں نے زندگی کے اس راز کو میز کے پیچھے موجود کتابیں پڑھ کر پایا تھا کہ انسان ہی اشرف المخلوقات ہے ۔ لیکن اس کا شرف تب ہی بحال ہو سکتا ہے جب وہ مسلسل سعی اور کوشش سے خود کو مسجودِ ملائک بنا ڈالے ۔
اپنے کردار اور اخلاق کو بہتر بنانے کی ہمہ وقت کوشش کرتے رہنا تمھیں مضبوطی عطا کرے گا ۔ اگر تم نے اپنی زندگی کے مقصد کو سیٹ کر لیا اور پھر اپنی پوری توانائی اس مقصد کے حصول پر لگاتی رہی تو یہ چھوٹی چھوٹی اور بے معنی باتیں پھر تمھیں پریشان نہیں کریں گی ۔
علامہ نے کیا خوب کہا ہے ۔
خاکی و نوری نہاد، بندۂ مولا صفات
ہر دو جہاں سے غنی اس کا دلِ بے نیاز
اس کی اُمیدیں قلیل، اس کے مقاصد جلیل
اس کی ادا دل فریب، اس کی نِگہ دل نواز
اس کی امیدیں قلیل اس کے مقاصد جلیل ۔ اس بات کو صبح شام کا وظیفہ بنا لینا میری بچی ۔
اور یاد رکھنا ! کہ شیطان کا کام دلوں میں وسوسے ڈالنا ہے ۔ وہ دل کی منڈیر پہ گھات لگا کے بیٹھا رہتا ہے کہ ذرا سی دیر کو دل غفلت میں پڑے اور وہ جھٹ سے وسوسے کا بیج بو ڈالے ۔ وہ جانتا ہے کہ اسے صرف بیج ہی بونا ہے باقی آبیاری انسان خود کر لے گا ۔
اگر تمھاری سسرال میں تمھیں ساس یا نندوں کے رویے تکلیف دیتے ہیں اور وہ جان بوجھ کر تمھیں تنگ کرنے کے لیے کچھ حرکتیں کرتی ہیں تو تم نے انکے لیول پر کھڑے ہو کے اپنا اور ان کا موازنہ نہیں کرنا ۔ تمھاری ماں نے تمھیں زندگی کے مقاصد سمجھاتے ہوئے بتایا تھا کہ دنیا اور اس کی ہر شے فانی ہے ۔ یہاں ہم سب نے محض اللہ کو راضی کرنے کی محنت کرنی ہے ۔ فلاح مشقت سے حاصل کی گئی کامیابی کا نام ہے ۔
دنیا کی زندگی ایک سفر ہے اس راہ میں کانٹے بھی ہیں اور پھول بھی ۔ سیدھی سڑک بھی اور ٹیڑھے میڑھے راستے بھی ۔ اگر کوئی کانٹا تمھارے دامن میں اٹک جاتا ہے تو بیٹھ کر رونا دھونا مچانے کی بجائے کانٹے سے دامن کو چھڑانے کی ترکیب کرو اور دامن چھڑا کر آگے بڑھ جاؤ ۔
اگر وہیں کھڑی آنسو بہاتی رہو گی تو بہت جلد باقی کانٹے بھی دامن سے لپٹ جائیں گے اور زندگی کا ایک بڑا حصہ تم ان ہی کانٹوں سے الجھی رہو گی ۔ آگے بڑھنے کی رفتار تھم جائے گی اور وقت ضائع ہو جائے گا ۔ نتیجہ خار خار دامن کی صورت تمھارا منہ چڑایا کرے گا ۔
لہذا طفیلیہ بن کر ہر وقت سہارے کی تلاش کی بجائے آج سے اپنے قوتِ بازو پہ بھروسہ سیکھو اور اپنے پر پھیلا کے ان سے اڑنے کا آغاز کرو ۔
بہت جلد تمھارے پر اس قدر مضبوط ہو جائیں گے کہ تمھاری اڑان بلندیوں تک ممکن ہو پائے گی ۔ لیکن اگر اپنے پر کھولنے کی بجائے دوسروں کی پیٹھ پہ سوار ہو کے اڑنا چاہو گی تو منہ کے بل گرو گی اور سب ہڈیاں پاش پاش ہو کر تمھیں ہمیشہ کے لیے معذور بنا دیں گی ۔
تمھاری اماں
سمیرا امام
۲ جنوری ۲۰۲۱

پیاری دوستو !
کچھ وقت ادھر ہم نے خطوط لکھنے کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا ۔
یہ خطوط ہمارے والدِ محترم کی ہم سے کی گئی ان کی تمام عمر کی نصیحتیں تھیں ۔ زندگی کے ہر مرحلے پہ جب ہم ہمت ہارنے لگتے ہیں ہمارے کانوں میں مرحوم والد کی آوازیں گونجتی ہیں ان کے ہمت بھرے جملے ہمارے کاندھے تھپتھپاتے ہیں ۔ اور ہم اپنے عزم اور حوصلے کو بلند کر کے دوبارہ اسی جوش اور جذبے سے جُت جاتے ہیں ۔
ہمارے والد کا شمار ان والدین میں سے تھا جو شاہین کی طرح اپنے بچے کو پہاڑ کی چٹان پر سے گرا کر انکو اپنے پر کھولنے کا حوصلہ دینے والوں میں سے ہوتے ہیں ۔
انکا لاڈ اور پیار فقط یہ تھا کہ خود اڑو ۔ وہ اڑنے کے لیے ہمیں حوصلہ دے سکتے تھے ۔ ہمت بندھا سکتے تھے لیکن اڑانے میں کوئی مدد نہ کرتے اس وقت وہ آنکھیں ماتھے پہ رکھ لیتے ۔
اور ہم غصے سے ایسی اڑان بھرتے کہ خود ہمیں بھی یقین نہ آتا ۔ کہ ہم اس قدر بلند پرواز بھر چکے ہیں ۔
بے جگری ، بے خوفی ، نڈر اور بے باکی سے زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا انھوں  نے سکھایا ۔
انکی زندگی میں ہم چیتے کا جگر رکھتے ۔ انکی موت سے لگا ہم کمزور ہو گئے ۔ لیکن انکی آواز کانوں میں گونجتی ۔
جھکنا مت ۔
ڈرنا نہیں ۔
اصولوں پہ ڈٹ جاؤ تو سر کٹوا لینا ۔
اپنا وعدہ نبھانا ۔
اپنی زبان سے کبھی مت پھرنا ۔
اور ہم اسی جوش اور جذبے سے آگے بڑھتے ۔
ان خطوط میں اگر کچھ اچھی باتیں ہیں تو وہ بابا کی کہی گئی ہیں ۔ اگر کچھ کمزوریاں ہیں تو وہ میری ذات کی ہیں ۔
اگر آپکو ان سے کوئی فائدہ ہوتا ہے تو میرے والد کی مغفرت کے لیے دعا کر دیجیے گا ۔
ان خطوط کو بہت سی بہنوں نے سراہا ۔ کئی بہنوں نے اپنی پیاری بچیوں کو جہیز کے تحفے کے طور پہ یہ خطوط دئیے ۔ کئی بہنوں نے ان کو پڑھ کر مجھ سے رابطہ کر کے اپنے دلوں کے حال سنائے ۔
ان خطوط نے بہت عزت دی حالانکہ یہ فقط اپنی یاد دہانی کے لیے لکھے گئے تھے ۔ مجھے لگتا میری اولاد کو کون بتائے گا کہ زندگی کیسے گزارنے کی ضرورت ہے ؟؟
انکے نانا دنیا سے جا چکے ۔ وہ نانا جو تب تک تحمل سے سمجھایا کرتے جب تک کسی بات کو عادت ثانیہ نہ بنا لیتے ۔
جزاک اللہ خیرا
سمیرا امام

 

Previous article
Next article

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles