36 C
Lahore
Saturday, May 25, 2024

Book Store

مرنے کے بعد

مرنے کے بعد

مارک شوزر
مقبول جہانگیر

یہ پُراسرار اور عجیب واقعات جس انداز میں شروع ہوئے، وہ بجائے خود ایک معمہ ہے۔ لوگوں میں ان واقعات کے بارے میں جس قدر غلط فہمیاں اور افواہیں مشہور ہیں.
انھیں دیکھتے ہوئے میرے لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ سلسلے وار ان تمام باتوں کو صحیح صحیح پیش کر دوں تاکہ اس کہانی کی اصل تصویر سامنے آ سکے۔
سب سے پہلے میرے بارے میں چند باتیں سن لیجیے کہ آغاز سے انجام تک اس ڈرامائی اور آسیب زدہ کہانی کا تعلق مجھی سے ہے۔
میں تیس سال کا ایک صحت مند اور مضبوط اعصاب رکھنے والا آدمی ہوں۔ جب میں سات سال کا تھا، پہلے میرے والد اس دنیا سے رخصت ہوئے اور اس سے اگلے برس والدہ نے رختِ سفر باندھا۔
میں اپنی ایک خالہ کے پاس چلا گیا، جنہوں نے بڑے لاڈپیار سے مجھے پالا اور تعلیم دلوائی۔
میرے والد کا ایک چھوٹا بھائی بھی تھا جسے میں نے اپنی زندگی میں صرف دو مرتبہ دیکھا تھا، کیونکہ وہ خاندان سے الگ ہو کر عرصہ دراز سے ساک پیری کے ایک دور افتادہ قصبے میں مقیم تھا جو دریائے وسکونسن کے کنارے واقع ہے۔
میرے اس چچا کا نام ایس ولڈر تھا۔ مجھے خوب یاد ہے کہ جب بھی میرے والدین یا دوسرے رشتے دار اس کا ذکر کرتے، تو ان کے چہرے ازحد سنجیدہ ہو جاتے اور نفرت کے جذبات ابلنے لگے۔
وہ اس کے بارے میں عجیب عجیب باتیں کرتے جو میری سمجھ سے بالاتر تھیں،
تاہم اتنا میں جان گیا تھا کہ وہ میرے چچا کو منحوس جادوگر یا شیطان کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ میرے والد کی سخت ترین ہدایت تھی کہ خاندان کا کوئی فرد اس سے تعلقات نہ رکھے، کیونکہ ایسے بدکردار اور بدطینت شخص سے کسی وقت بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
چونکہ ابتدا ہی سے چچا کے بارے میں یہ باتیں میرے کان میں پڑتی رہی تھی، اس لیے مجھے شعوری طور پر اس سے نفرت ہو گئی۔
کبھی کبھی میں سوچا کرتا کہ آخر یہ شخص کیسا ہو گا؟ جس سے سبھی خوف زدہ اور ناراض ہیں۔ کاش میں اسے دیکھ سکتا!
مجھے گھر کے ایک پرانے نوکر کی زبانی پتا چلا کہ ایمس ولڈر کی ایک تصویر گھر کے کتب خانے میں موجود ہے، لیکن اس کے دروازے پر ہر وقت ایک موٹا سا زنگ آلود قفل پڑا رہتا تھا۔
میں نے ایک روز والد کے کوٹ کی جیب میں سے چابیوں کا گچھا چرایا، کتب خانے کا دروازہ کھولا اور اندر چلا گیا۔
بوسیدہ اور پرانی کتابوں کی بدبو کمرے میں چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی۔ دیواروں پر ہمارے خاندان کے بزرگوں کی بڑی بڑی تصویریں آویزاں تھیں جن پر گرد کی موٹی تہہ جم گئی تھی۔
ایک میز پر چڑھ کر میں نے ان تصویروں پر سے گرد جھاڑی اور سب کو غور سے دیکھنے لگا۔
ان میں میرے آنجہانی دادا، والدہ، خالہ اور دوسرے کئی افراد خاندان کی تصویروں کے نیچے نام تحریر تھے۔ جن سے انھیں شناخت کرنے میں کوئی دقت پیش نہ آئی۔
ان تصویروں کو دیکھتا ہوا جب میں کمرے کی مشرقی دیوار کے قریب پہنچا، تو سیاہ رنگ کی لکڑی کے ایک نہایت خوبصورت فریم میں لگی ہوئی ایس ولڈر کی تصویر دکھائی دی۔
مجھے ایک لمحے کے لیے یوں محسوس ہوا جیسے کسی نادیدہ قوت نے مجھے وہیں رک جانے پر مجبور کر دیا ہے۔
اس تصویر کو دیکھتے ہی میرے دل میں دہشت اور خوف کے ساتھ ساتھ انتہائی نفرت و کراہت کے جذبات پیدا ہوئے۔ تصویر میں جو شخص کرسی پر بیٹھا تھا، اس کی شکل و شباہت اور حلیے سے ظاہر ہوتا تھا کہ کوئی بہت ہی چالاک اور مکار آدمی ہے۔
اس کی چھوٹی چھوٹی آنکھیں، طوطے کی چونچ جیسی خم دار ناک، تنگ پیشانی، بڑے بڑے کان جن پر بال اگے ہوئے تھے، پتلے پتلے اور بھنچے ہوئے سرخ ہونٹ جن پر ایک مکروہ تبسم پھیلا ہوا تھا، ایس ولڈر کی پُراسرار شخصیت کو اجاگر کرنے کے لیے کافی تھے۔
میری عمر اس وقت چھ سال کی تھی اور مجھے خوب یاد ہے کہ اپنے چچا کی اس تصویر کے نقوش میرے دماغ پر اس طرح بیٹھ گئے کہ میں کئی دن تک خوف زدہ رہا۔
جب والد کو پتا چلا کہ میں نے لائبریری میں جا کر چچا کی تصویر دیکھ لی ہے، تو بے حد ناراض ہوئے اور انھوں نے اسی وقت تصویر کو فریم سے نکالا اور آتش دان کے دہکتے ہوئے کوئلوں میں پھینک دیا۔
اس حادثے کے ایک سال بعد جنوری کی ایک سوگوار صبح کو میرے والد انتقال کر گئے اور جب ان کا جنازہ قبرستان میں لے جایا جا رہا تھا، تو ہمارے گھر کے بڑے دروازے پر ایک گھوڑا گاڑی آن کر رکی۔ کوچبان نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور سرتاپا سیاہ لباس پہنے ہوئے ایک منحنی سا طویل القامت شخص نہایت وقار کے ساتھ نیچے اترا۔
اس کی شکل دیکھتے ہی سبھی لوگ اپنی اپنی جگہ رک گئے اور ایک عجیب سا سناٹا چھا گیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ میں نے اپنے چچا ایس ولڈر کو دیکھا۔
اس کی چھوٹی چھوٹی آنکھیں خوب چمک رہی تھیں اور ہر فرد اس سے آنکھ ملاتے ہوئے گھبرا رہا تھا۔ کسی سے کوئی لفظ کہے بغیر وہ والد کے تابوت کی جانب بڑھا، قریب کھڑے ہوئے پادری نے تابوت کا ڈھکنا اٹھایا۔
چچا نے والد کے چہرے پر ایک نظر ڈالی۔ پتلے ہونٹوں پر وہی مکروہ تبسم نمودار ہوا جو میں تصویر میں دیکھ چکا تھا۔ پھر وہ میری والدہ کی جانب مڑا اور دبے الفاظ میں اظہار تعزیت کیا۔
میں بوڑھے باورچی کے پیچھے سہما ہوا کھڑا تھا۔
اب اس نے مجھے دیکھا اور اپنے دونوں ہاتھ میری جانب بڑھا دیے۔ میں دہشت زدہ ہو کر پیچھے ہٹ گیا۔
یہ واقعہ مجھے ایک خواب کی مانند یاد ہے۔ اس کے بعد ایمس ولڈر اپنی گاڑی میں بیٹھ کر واپس چلا گیا۔
دن گزرتے گئے۔ میں اپنی پڑھائی اور دوسرے مشغلوں میں ایسا گم ہوا کہ چچا ایمس کو بھول گیا۔ صرف ایک موقعے پر اس کی یاد تازہ ہوئی جب میں نے اخبار میں پڑھا کہ ایک شخص ایمس ولڈر براعظم افریقہ کی طویل سیاحت کے بعد ساک پیری میں مقیم ہوا ہے ۔
اپنے ساتھ نوادر کا ایک بیش بہا ذخیرہ لایا ہے۔ یہ خبر پڑھتے ہی اپنے چچا کی بھولی بسری یاد میرے ذہن میں تازہ ہو گئی۔ میں نے اپنی خالہ سے ذکر کیا، تو انھوں نے کہا:
’’بیٹا، تم اپنے چچا کو بالکل بھول جاؤ۔ تمہارا اس سے کیا واسطہ؟ اس نے تمہارے باپ کے مرنے کے بعد بھول کر بھی تمہاری خبر نہ لی۔ وہ نہایت ظالم اور خبیث آدمی ہے اور اس پر بدروحوں کا سایہ ہے۔‘‘
بات ٹل گئی ۔۔۔۔۔ کئی سال بعد میں سینٹ لوئیس کے بازار میں سے بازار میںسے گزر رہا تھا، میں نے قریب سے گزرتے ہوئے ایک شخص کو دیکھا۔ وہی سیاہ لباس، طوطے کی چونچ جیسی مُڑی ہوئی ناک، تنگ پیشانی اور جھریاں پڑا ہوا چہرہ ۔۔۔۔۔ جو پہلے سے کہیں زیادہ زرد تھا اور آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھی۔
اس کی شناخت کا سب سے بڑا ذریعہ کانوں کے گرد اگے ہوئے وہ لمبے لمبے سیاہ بال تھے جنھوں نے اس کا چہرہ انتہائی بدنما اور مکروہ بنا دیا تھا۔ وہ تیزی سے چلتا ہوا ایک عمارت کے صدر دروازے میں داخل ہو گیا۔
پہلے میں نے سوچا کہ اپنے چچا سے ملاقات کروں، لیکن پھر خالہ کے الفاظ کانوں میں گونجنے لگے: ’’تمہارا اس سے کیا واسطہ؟ اس نے تمہارے باپ کے مرنے کے بعد بھول کر بھی تمہاری خبر نہ لی۔‘‘ میں نے نفرت سے زمین پر تھوکا اور چچا سے ملنے کا ارادہ ترک کر دیا۔
اس دوران میں میری خالہ بھی وفات پا گئیں۔ میں دربدر کی ٹھوکریں کھاتا رہا۔ مجھے مضمون نگاری اور افسانہ نویسی کا شوق تھا۔
نام پیدا کرنے کی دھن میں دن رات محنت کرتا۔ سینٹ لوئیس میں، میں  نے ایک چھوٹا سا مکان کرائے پر لے لیا تھا اور بڑی تنگی ترشی سے بسر اوقات کرتا تھا۔
آپ اس حیرت اور مسرت کا اندازہ نہیں کر سکتے جب ایک روز شام کی ڈاک سے ایک غیرمانوس تحریر میں لکھا ہوا ایک چھوٹا سا رقعہ لفافے میں سے برآمد ہوا جس میں لکھا تھا:
’’میرے بیٹے، یہ خط ملتے ہی فوراً ساک پیری روانہ ہو جاؤ۔ زندگی اور موت کا معاملہ درپیش ہے اور اس میں مجھے تمہاری مدد کی اشد ضرورت ہے۔ قصبے میں پہنچ کر جس سے بھی میرا مکان معلوم کرو گے، تمہیں بتا دے گا۔ امید ہے تم اپنے بوڑھے چچا کو نہ بھولے ہو گے۔
ایمس ولڈر‘‘

۞۞۞

ایک لمحے کے اندر اندر بچپن سے لے کر اب تک کے تمام واقعات میری نظروں کے سامنے سے گزر گئے اور ایمس ولڈر کی شکل حافظے کی لوح پر ابھر آئی۔
میں دیر تک اس چند سطری خط کو دیکھتا رہا جس کے ٹیڑھے میڑھے اور شکستہ حروف ظاہر کرتے تھے۔
لکھنے والے کے ہاتھ میں رعشہ ہے یا اس نے اتنی گھبراہٹ بدحواسی میں لکھا ہے کہ الفاظ جگہ جگہ سے ٹوٹ گئے ہیں۔
اس رات میں کوئی کام نہ کر سکا۔ باربار سوچتا رہا کہ مجھے جانا چاہیے یا نہیں۔ اپنے چچا کی جو ہیبت میرے دل و دماغ پر بچپن ہی سے بیٹھی ہوئی تھی، وہ مجھے وہاں جانے سے روکتی تھی، لیکن نوجوانی کی اور ؟؟؟؟ اور کچھ کرنے کا جذبہ مجبور کرتا تھا کہ ضرور جانا چاہیے۔

جب میں ساک پیری کے نواح میں پہنچا، شام کے دھندلی آہستہ آہستہ بستی کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے اور دریائے ؟؟؟؟ کی طرف سے آنے والی سرد ہوا کے جھونکوں میں شدت پیدا ہو چکی تھی یہ ایک چھوٹا سا قصبہ تھا جہاں بمشکل چند سو مکان تھے جن کی سرخ چھتیں دھند میں چھپی ہوئی تھیں۔
اکثر مکان ایک منزلہ تھے اور کوئی کوئی مکان دو منزلہ یا تین منزلہ نظر آتا تھا۔ گلی میں سے گزرتے ہوئے چند آوارہ کتوں نے بھونکنا شروع کر دیا۔ انھیں روکنے کے لیے ایک عمر رسیدہ آدمی ایک مکان کے دروازے میں سے نکلا۔
میں نے اس سے ولڈر ہاؤس کا پتا پوچھا، تو ایک ثانیے کے لیے اس شخص کے چہرے پر حیرت کے آثار نمودار ہوئے۔ اس نے سر سے پَیر تک میرا جائزہ لیا، پھر کہا:
’’آہ!۔۔۔۔۔ تم بڈھے ایمس سے ملنے آئے ہو؟ اس کا گھر آبادی کے آخری سرے پر ہے، بس سیدھے چلے جائو۔‘‘
یہ کہہ کر بڈھے نے اپنے مکان میں داخل ہو کر دروازہ کو بند کر لیا۔ آدھے گھنٹے بعد میں ولڈر ہاؤس کے سامنے کھڑا تھا۔ وسیع و عریض مکان بالکل ویران جگہ پر تھا۔ اس کے اردگرد اس بوسیدہ عمارتوں کے کھنڈر پھیلے ہوئے تھے۔
جن سے پتا چلتا تھا کہ کسی وقت یہاں بھی آبادی تھی، لیکن امتدادِ زمانہ کے باعث یہ کھنڈر ہو گئے اور ان کے مکین کسی اور طرف جا بسے۔
اس کے دوسری جانب جنگل واقع تھا اور شمالی جانب دریائے وسکونسن کے لہروں کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ دریا زیادہ دور نہیں۔ مکان کا صدر دروازہ بند تھا اور کھڑکیوں پر سیاہ رنگ کے پڑے پڑے تھے۔
روشنی کی کوئی کرن دکھائی نہ دیتی تھی۔ جنگل میں پرندوں کے بولنے کی آوازیں اس ہولناک سناٹے کو چیرتی ہوئی میرے کانوں تک آ رہی تھیں۔
میں نے اپنے جسم میں خوف کی کپکپی دوڑتی ہوئی محسوس کی۔ آن واحد میں صدہا پریشان کن خیالات میرے ذہن میں آئے اور گزر گئے۔
میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے فوراً لوٹ جانا چاہیے، لیکن کسی اندرونی جذبے کے تحت میرے قدم رک گئے ۔۔۔۔۔ جانے سے پیشتر چچا ایمس کو ایک نظر دیکھ تو لوں، اب تو اس کی شکل و شباہت میں عظیم تغیر رونما ہو چکا ہو گا۔
میں نے آگے بڑھ کر دروازے پر زور سے دستک دی اور انتظار کرنے لگا۔ چند لمحے بعد مکان کے اندر کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی جو آہستہ آہستہ دروازے کے قریب آ رہی تھی۔
میرا دل دھڑکنے لگا۔ دروازے کی آہنی زنجیر کھلنے کی آواز سنائی دی اور پھر شاہ بلوط کی لکڑی کا بنا ہوا انتہائی مضبوط اور سیاہ رنگ کا دروازہ ایک گڑگڑاہٹ کے ساتھ ذرا سا سرکا۔ مجھے ایک مدقوق صورت بڈھا کھڑا دکھائی دیا۔
اس کا جسم گردن سے لے کر ٹخنوں تک بغیر آستین کے سیاہ لبادے سے ڈھکا ہوا تھا۔
ایک ہاتھ میں مٹی کے تیل سے جلنے والا چھوٹا سا لیمپ تھا جس کو تیز ہوا کے جھونکوں سے بھڑک رہی تھی۔ زردرنگ کی اس روشنی میں بڈھے ایمس کو پہچان لینا کچھ مشکل نہ تھا۔
ایسا معلوم ہوتا تھا کہ میرے سامنے ایک لاش کھڑی ہے۔ میں دہشت سے ایک قدم پیچھے ہٹ گیا اور اس کی شکل بغور دیکھنے لگا۔
یہ میرا وہی مکروہ صورت چچا تھا جسے میرے گھر کے لوگ نفرت کے باعث شیطان کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ اس نے لیمپ اونچا کیا، اب میں نے دیکھا کہ اس کا ہاتھ برف کی مانند سپید تھا اور لمبی باریک انگلیاں نہایت سختی سے لیمپ پکڑے ہوئے تھیں۔
اس کی آنکھیوں میں چمک پیدا ہوئی۔ وہ دروازہ سے باہر آیا اور سیٹی کی مانند تیز آواز میں بولا:
’’اگر میں غلطی نہیں کرتا، تو یہ میرا عزیز بھتیجا ایلس ہے۔
خوش آمدید ۔۔۔۔۔ خوش آمدید ۔۔۔۔۔‘‘
میں نے اثبات میں گردن ہلائی اور دروازے میں داخل ہو گیا۔
بڈھے نے لیمپ فرش پر رکھا، دروازے کی زنجیر چڑھائی اور لیمپ دوبارہ ہاتھ میں اٹھا کر مجھے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔
’’بیٹا ایلس، تم نے بہت اچھا کیا کہ آ گئے۔ اب مجھے اطمینان ہو گیا ۔۔۔۔۔ تم تھک گئے ہو گے۔ اس لیے آرام کرو ۔۔۔۔۔ کل صبح باتیں کریں گے۔‘‘
ایک طویل راہداری، کئی برآمدوں اور زمینوں کو عبور کر کے بڈھا مجھے تیسری منزل کے ایک کشادہ اور سجے سجائے کمرے میں لے گیا۔ جہاں آتش دان کے اندر آگ کے نارنجی شعلے بھڑک رہے تھے۔
ایک جانب بڑی سی مسہری پر آرام دہ بستر بچھا ہوا تھا، جس کے اوپر بہت پرانی سی چھتری آویزاں تھی۔
قریب ہی رکھی ہوئی میز پر رات کا کھانا چنا ہوا تھا۔ میں حیرت سے یہ سامان دیکھ رہا تھا۔ بڈھا میری اس حیرت کو بھانپ کر مسکرایا اور بولا:
’’مجھے یقین تھا کہ تم آج رات تک میرے پاس ضرور پہنچ جاؤ گے ۔۔۔۔۔ میرا حساب کبھی غلط نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔ میں نے جیکب سے کہہ دیا تھا کہ کھانا تیار رکھے اور آتش دان میں آگ جلا دے۔ دریا قریب ہے، اس لیے یہاں سردی بہت ہوتی ہے۔ اچھا، شب بخیر!‘‘
اس نے جلتا ہوا لیمپ ایک جانب رکھ دیا اور دروازے کی طرف دبے پاؤں جا کر غور سے کچھ سننے کی کوشش کرنے لگا۔
چند سیکنڈ تک وہ دروازے سے کان لگائے سنتا رہا۔ اس کی اس حرکت پر میری حیرت دم بدم بڑھتی جاتی تھی۔ یکایک اس نے ہاتھ بڑھا کر دروازہ کھول دیا۔
باہر تاریک برآمدے میں کوئی نہ تھا۔ ہوا ایک تیز جھونکا آیا اور لیمپ بجھ گیا۔
بڈھے کی آواز میرے کانوں میں آئی:
’’طاقچے پر دیا سلائی موجود ہے، تم لیمپ جلا سکتے ہو۔‘‘
میں نے اندھیرے میں ٹٹول کر دیا سلائی کا بکس تلاش کیا اور جب لیمپ روشن کر کے دروازے کی طرف گیا، تو دروازہ باہر سے بند تھا۔
صبح جب میری آنکھ کھلی، تو باہر چمکیلی دھوپ پھیلی ہوئی تھی۔ میرے سرہانے ایک اور منحوس صورت بڈھا کھڑا تھا۔
معلوم ہوا کہ یہ جیکب کنی ہے اور باورچی ہونے کے ساتھ ساتھ عمارت کی چوکیداری بھی کرتا ہے۔ اس نے مؤدبانہ انداز میں سلام کیا اور ناشتے کی ٹرے میز پر رکھتے ہوئے بولا:
’’غسل خانہ آپ کے بائیں ہاتھ ہے۔ کوئی ضرورت ہو، تو یہ گھنٹی بجا دیجیے گا۔‘‘
یہ کہتے ہوئے اس نے لوہے کی بنی ہوئی ایک بڑی سی گھنٹی میز پر رکھ دی اور دبے پائوں کمرے سے باہر نکل گیا۔
حوائجِ ضروری سے فراغت کے بعد میں ناشتہ کرنے لگا۔ اس دوران میں کمرے کا دروازہ پھر آہستہ سے کھلا اور چچا ایمس ولڈر اندر آیا۔
اب میں نے اسے غور سے دیکھا۔ اس کے چہرے پر موت کی سی زردی چھائی ہوئی تھی۔ اس کے سپید ہاتھوں اور ننگے پیروں کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا، جیسے برص کا مرض اس کے تمام جسم پر پھیل چکا ہے۔
کل کی طرح اس نے آج بھی گردن سے لے کر ٹخنوں تک لمبا سیاہ لبادہ پہن رکھا تھا اور سر پر پرانی وضع کا سیاہ کنٹوپ تھا۔
دبلا پتلا ہونے کے باعث وہ پہلی نظر میں لمبا آدمی معلوم ہوتا، لیکن حقیقتاً اس کا قد پانچ فٹ سے زائد نہ تھا۔
اس کی عمر پچاس کے لگ بھگ ہوگی، لیکن حلیے سے یوں لگتا تھا کہ وہ ستر سال سے زائد عرصہ اس دنیا میں بسر کر چکا ہے۔
مجھے دیکھ کر وہ مسکرایا اور کہنے لگا:
’’ناشتہ تمہیں شاید پسند آیا ہو گا۔ جیکب پرانا آدمی ہے، اسے نئے طرز کا ناشتہ تیار کرنا نہیں آتا۔‘‘
’’نہیں چچا، ناشتہ تو خوب ہے۔‘‘
میں نے اعتراف کیا چند لمحے تک میری جانب پلک جھپکائے بغیر تکتا رہا اور مجھے یوں محسوس ہوا جیسے وہ میرا ذہن پڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس کی نظریں اتنی مقناطیسی تھیں کہ میں گھبرا کر دوسری طرف دیکھنے لگا۔ کئی منٹ تک کمرے میں خاموشی طاری رہی۔
میں جب ناشتے سے فارغ ہو چکا، تو ایمس نے گھنٹی بجائی اور ایک ثانیے بعد بڈھا جیکب کمرے میں داخل ہوا اور برتن اٹھا کر چپکے سے باہر چلا گیا۔
جیکب کے جانے کے بعد ایمس اٹھا اور اس نے پہلے کمرے کا دروازہ بند کیا، پھر کھڑکیاں بند کیں، ان پر سیاہ پردے کھینچے اور پوری طرح مطمئن ہونے کے بعد کہ آواز اب کمرے سے باہر سنی نہیں جا سکتی۔ وہ بالکل میرے قریب آن کھڑا ہوا۔
خون کی ایک ہلکی سی لہر جسم میں دوڑ گئی۔ خدا معلوم یہ خبیث بڈھا اب مجھ سے کیا بات کہنا چاہتا ہے۔
میں  نے رومال نکال کر پیشانی سے پسینے کے قطرے پونچھے۔ بڈھے نے مجھے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور کہنے لگا۔
’’بیٹا ایمس، میں نے بہت سوچ بچار کے بعد اس کام کے لیے تمہارا انتخاب کیا ہے اور یقین ہے کہ تم مجھے مایوس نہ کرو گے۔
بہت عرصہ گزرا، میں نے تمہیں اس وقت دیکھا تھا جب تم سات سال کے تھے اور میں نے اسی وقت فیصلہ کر لیا تھا کہ تمہیں اپنی کُل جائیداد کا وارث بناؤں گا۔‘‘
میرا دل یکبارگی دھڑکا، بڈھا اپنی بات کا انداز دیکھنے کے لیے تھوڑی دیر تک خاموش رہا۔ اس نے دوبارہ گفتگو کا آغاز کیا:
’’لیکن اس سلسلے میں تمہیں چند شرائط پوری کرنا پڑیں گی اور ۔۔۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ تم انکار نہیں کرو گے۔‘‘
اب میں ؟؟؟؟ ’’چچا ایمس، اگر آپ کی شرائط اس قابل ہوئیں جن کو میں پورا کر سکوں تو مجھے خوشی ہوگی۔‘‘
بڈھے کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا۔ اس نے اپنا استخوانی پنجہ میرے کندھے پر رکھا اور کہا:
’’میری شراط بہت آسان ہیں۔ اب غور سے سنو اور اس پر عمل کرنے کا وعدہ کرو۔
سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ تم مکمل طور پر میرے اس مکان میں رہو گے۔ مکان کے پچھواڑے ایک تہہ خانہ ہے۔ جس میں مرنے کے بعد میری لاش رکھی جائے گی اور تہہ خانے کا دروازہ سربمہر کیا جائے گا۔
اس تہہ خانے کی نگرانی تمہارے ذمے ہوگی اور تم ’’کسی‘‘ کو بھی اس تہہ خانے میں داخل نہ ہونے دو گے۔ اگر تم محسوس کرو کہ ’’کوئی‘‘ میرے مقبرے کے دروازے کی مہر توڑ کر اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہا ہے، تو بلاتاخیر میری لائبریری میں جانا اور میز کے خانے میں سے کاغذات نکال کر دیکھنا۔
ان پر جو ہدایات درج ہوں گی، ان پر عمل کرنا۔ اس سے پہلے ان کاغذات کو دیکھنے کی کوشش نہ کرنا۔ بس میری یہی شرائط ہیں۔‘‘
میرے دماغ میں ہل چل مچ گئی۔ میں حقیقتاً کچھ نہ سمجھ سکا کہ بڈھا ایمس کیا کہہ رہا ہے، تاہم میں نے اتنا اندازہ لگا لیا کہ کسی حادثے کے باعث اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔
اس لیے بہکی بہکی باتیں کر رہا ہے۔ میں  نے بحث کرنے کے بجائے اس سے کہا کہ ان تمام شرائط پر عمل کرنے میں مجھے کوئی انکار نہیں۔ ایمس ولڈر کی آنکھیں چمکنے لگیں۔
مکروہ تبسم اس کے پتلے ہونٹوں پر نمودار ہوا۔ اس نے آگے بڑھ کر پردے ہٹائے، ایک کھڑکی کھولی جو باغ کی جانب کھلتی تھی جہاں سوائے جھاڑ جھنکاڑ کے اور کچھ نہ تھا۔
کھڑکی کھلتے ہی بڈھا اپنی جگہ بے حس و حرکت کھڑا ہو گیا۔ اس کی نظریں جھاڑیوں کی طرف اٹھی ہوئی تھیں۔ یکایک وہ یوں بُڑبُڑایا جیسے کسی سے باتیں کر رہا ہو:
’’میں نے اب تک تمہیں قریب نہیں پھٹکنے دیا ۔۔۔۔۔ ایمس ولڈر تمہارے قابو میں آنے والا نہیں ۔۔۔۔۔ اینڈریو! کیا تم میری بات سنتے ہو؟‘‘
میں حیرت سے اس کی طرف دیکھنے لگا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟ دفعتاً وہ میری طرف مڑا اور کہنے لگا:
’’ایمس، اب تم جا سکتے ہو ۔۔۔۔۔ میں اب تمہیں دوبارہ نہیں مل سکوں گا۔‘‘
یہ کہا اور تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔ میں ابھی کچھ سوچنے سمجھنے بھی نہ پایا تھا کہ جیکب کِنّی کمرے میں داخل ہوا۔
وہ انتہائی بدحواس اور خوف زدہ تھا۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور تقریباً گھسیٹتا ہوا کمرے سے باہر لے گیا۔ اِدھراُدھر نظر بہ نظر احتیاط دیکھ کر اس نے سرگوشی کے لہجے میں مجھ سے کہا:
’’ماسٹر ایمس آپ سے کیا کہتے تھے؟‘‘
میں نے جیکب کی طرف گھور کر دیکھا اور ڈانٹ کر کہا:
’’بے وقوف بڈھے، کیا تو چھپ کر ہماری باتیں سن رہا تھا؟‘‘
وہ خوف سے لرز گیا اور منہ پھیر کر مزید کچھ کہے بغیر وہاں سے چلا گیا۔
میں اپنے کمرے میں لوٹ آیا۔ معاملہ لمحہ بہ لمحہ پُراسرار بنتا جا رہا تھا۔ ایمس ولڈر کے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے تھے ۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے میرے ذہن پر منوں بوجھ رکھ دیا گیا ہے۔
میں نے بستر پر لیٹ کر اس معمے کو غور و فکر کے ذریعے حل کرنا چاہا، لیکن واقعات اس قدر الجھے ہوئے اور بے ترتیب تھے کہ کچھ سمجھ میں نہ آتا تھا، تاہم ایک بات یقینی تھی کہ اگر بڈھا ایمس پاگل نہیں، تو اسے کسی شخص ۔۔۔۔۔ اینڈریو ۔۔۔۔۔ سے خطرہ ضرور ہے۔
اور پھر مقبرے والی بات ۔۔۔۔۔ میرا دماغ چکرانے لگا۔ آخر اس نے اس بات پر زور کیوں دیا کہ اس کے مقبرے کے اندر کوئی شخص داخل ہونے کی کوشش کرے گا۔
حالانکہ بڈھا ایمس تو ابھی زندہ ہے۔ مجھے جیکب کا خیال آیا۔ آخر وہ کیوں پوچھتا تھا کہ ماسٹر ایمس نے مجھ سے کیا باتیں کیں؟
میں دماغ پر جتنا زور دیتا، معاملہ اتنا ہی پُراسرار اور تکلیف دہ بنتا چلا جاتا۔ آخر میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے چند روز تک یہیں قیام کر کے اس گتھی کو سلجھانا ہو گا اور اپنے چچا کی گزشتہ زندگی کے حالات کریدکرید کر معلوم کرنے ہوں گے۔
دوپہر کو وہی بڈھا جیکب میرے لیے کھانا لے کر آیا اور کچھ کہے سنے بغیر واپس چلا گیا۔ میں نے بھی اسے منہ لگانا مناسب نہ سمجھا۔
کھانے سے نمٹ کر میں چہل قدمی کے ارادے سے باہر نکلا۔ چچا ایمس غالباً مکان میں نہ تھا، ورنہ میں اسے ضرور دیکھتا۔
پھر مجھے اس کے الفاظ یاد آئے کہ اب ہم نہ مل سکیں گے۔ میں سوچنے لگا کہ ان الفاظ کا کیا مقصد تھا؟
ساک پیری کے نواح میں سہ پہر تک گھومنے کے بعد جب میں تازہ دم ہو کر ورلڈ ہاؤس پہنچا، تو نچلی منزل کے بڑے کمرے میں ایک تیسرے بڈھے کو کرسی پر بیٹھے پایا۔
میں نے دل میں کہا:
بُرے پھنسے، یہ مکان تو بڈھوں کی آرام گاہ بنا ہوا ہے۔ خدا معلوم ابھی یہاں کتنے ایسے ہی زندہ درگور لوگ چھپے ہوئے ہیں؟
مجھے دیکھتے ہی بڈھا کرسی سے اٹھا اور استفہامیہ نظروں سے تکتے ہوئے کہنے لگا:
’’کیا آپ ہی کا نام ایلس ہے؟‘‘
میں نے اثبات میں گردن ہلائی، تب اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا:
’’مسٹر ایلس، میں نہایت رنج کے ساتھ یہ منحوس خبر آپ کو سنا رہا ہوں کہ تھوڑی دیر پہلے آپ کے چچا ایمس ولڈر اس دنیا سے چل بسے۔‘‘
ایک لمحے کے لیے مجھے یوں معلوم ہوا کہ جیسے کسی نے پوری قوت سے آہنی ہتھوڑا میرے سر پر دے مارا ہو۔
میں گم سم ہو کر بے وقوفوں کی طرح اس اجنبی بڈھے کی صورت دیکھنے لگا۔
حیرت اور رنج کی ایسی کیفیت مجھ پر زندگی میں پھر کبھی طاری نہیں ہوئی جیسی اس روز ایمس ولڈر کے مر جانے کی یکایک خبر سن کر ہوئی تھی۔
’’کیا کہتے ہو؟‘‘ میں نے بے قابو ہو کر تقریباً چیختے ہوئے کہا۔
’’چچا ایمس چل بسے؟ کیسے؟ کب؟‘‘
’’ابھی آدھ گھنٹہ قبل۔‘‘ بڈھے نے پُرسکون لہجے میں کہا۔
’’جن حالات میں وہ موت سے دوچار ہوئے، ان سے پتا چلتا ہے کہ انھوں نے خودکشی کی ہے۔ میرا نام تھامس ویدربی ہے اور میں بہت عرصے سے آنجہانی کا مشیرٍِقانون ہوں۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔‘‘
’’ذرا ٹھہریے۔‘‘ میں نے قطع کلام کیا۔ ’’میں تفصیل سے تمام واقعہ سننا چاہتا ہوں۔‘‘
وکیل نے کھنکار کر گلا صاف کیا اور یوں تقریر کے لیے کھڑا ہوا جیسے کسی عدالت میں کھڑا ہے:
’’صاحب، اصل قصہ یہ ہوا کہ اب سے کوئی آدھ گھنٹہ قبل حسب معمول چوکیدار جیکب اپنے آقا کو تلاش کرتا ہوا تیسری منزل کے آخری کمرے میں پہنچا،
تو اس آنجہانی کو ایک میز پر جھکی ہوئی حالت میں بیٹھے پایا جیسے وہ لکھتے لکھتے اونگھ گیا ہو،
کیونکہ اس کے ساتھ چند کاغذ پڑے تھے اور ہاتھ میں قلم تھا۔ کاغذ پر چند حروف، آپ کا نام یعنی مسٹر ایلس اور ۔۔۔۔۔ سینٹ لوئیس کا پتا ہی لکھ پایا تھا۔
زہر نے اپنا کام کیا اور پھر وہ اس سے آگے نہ لکھ سکا۔ اوؔل خیال ہوا کہ اس کی موت حرکت قلب بند ہو جانے سے واقع ہوئی ہے، لیکن جب ڈاکٹر نے معائنہ کیا، تو انکشاف ہوا کہ کوئی زہریلی چیز یا غلطی سے افیون زیادہ کھا جانے کے باعث یہ مہلک پیش آیا ہے۔
بہرحال یہ فیصلہ کرنا جیوری کا کام ہے جس کا اجلاس ابھی تھوڑی دیر بعد ہونے والا ہے ۔ اس اجلاس میں اصلی وصیت نامہ بھی کھولا جائے گا اور آپ کو میرے ہمراہ چلنا ہو گا۔
جیوری کے کل ارکان بارہ تھے۔ جنہوں نے پانچ منٹ میں فیصلہ دے دیا کہ ایمس ولڈر کی موت ناگہانی طور پر افیون زیادہ استعمال کرنے سے ہوئی ہے اور یہ اقدام خودکشی کا نہیں ہے۔
جیوری کے اس فیصلے سے قصبے کے پادری کو، جو آنجہانی کے دفنانے کی آخری رسوم ادا کرنے والا تھا، قطعاً اتفاق نہ تھا۔
وہ برملا کہہ رہا تھا کہ اس بڈھے نے خودکشی کی ہے اور میں ایسے شخص کے جنازے میں شریک ہونے کے لیے بھی تیار نہیں۔
وصیت کو کھولا گیا، تو اس میں چوکیدار اور گھر کی دیکھ بھال کرنے والی خاتون کو معقول رقم عطا کرنے کے علاوہ ساری جائیداد میرے نام کر دی گئی تھی، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ میں جب تک زندہ رہوں، ولڈر ہاؤس میں مقیم رہوں گا۔
یہ سارا واقعہ اس سرعت سے پیش آیا کہ غور کرنے اور اس کی تمام قوتیں سلب ہو گئیں۔ جائیداد ملنے کی اگرچہ مجھے دل سے خوشی بھی تھی، لیکن جب چچا ایمس کی عجیب و غریب شرائط سامنے آئیں، تو ذہن مفلوج ہو جاتا۔
دراصل مجھے یقین ہو گیا تھا کہ ایمس نے خودکشی کی ہے، تبھی وہ مجھ سے کہہ رہا تھا:
’’اب ہم دوبارہ نہ مل سکیں گے۔‘‘
سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے ایمس ولڈر کی لاش تابوت میں بند کر کے دفن کر دی گئی۔ جس کی اس نے ایک روز پہلے ہدایت کی تھی۔
تہہ خانے کا دروازہ میں نے اپنے سامنے سربمہر کرایا۔ ساک پیری کے وہ سب لوگ جو جنازے کی رسوم میں شریک ہوئے تھے، تعزیت کر کے رخصت ہو چکے تھے۔ میں اپنے کمرے میں آ کر بیٹھا ہی تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔
جیکب اندر آیا۔ اس کی آنکھیں ویران اور سرد تھیں۔ چہرے پر ایک عجیب قسم کی وحشت برس رہی تھی۔ وہ کہنے لگا:
’’جناب عالی، میں صرف یہ اطلاع دینے آیا ہوں کہ میں اب ایک لمحے کے لیے بھی اس منحوس مکان میں ٹھہرنا نہیں چاہتا۔ میں آپ سے کسی تنخواہ اور کسی معاوضہ کا مطالبہ نہیں کرتا۔ مجھے فوراً رخصت کر دیجیے۔‘‘
’’کیوں؟ تمہیں یہاں کیا تکلیف ہے؟‘‘ میں نے تعجب سے پوچھا۔
’’جناب تکلیف تو کوئی نہیں۔‘‘ جیکب نے رک رک کر پھر کمرے میں چاروں طرف پریشان نظروں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا:
’’صاحب، کیا عرض کروں، آنجہانی ماسٹر ایمس جب تک زندہ تھے، اس مکان میں بڑے بڑے پُراسرار اور ناقابل یقین تماشے میں نے دیکھے ہیں۔ اب ان کے مرنے کے بعد بھی ایسی ہی باتیں ظہور میں آئیں گی۔ میں اب اس آسیب زدہ مکان میں نہیں رہ سکتا۔‘‘
میں نے جیکب سے ان پُراسرار اور ناقابل یقین تماشاوں کی تفصیلات پوچھنے کی بڑی کوشش کی، لیکن اس کی حالت اتنی ابتر اور شکستہ تھی کہ وہ کچھ بتا نہ سکا اور جانے پر اصرار کرتا رہا۔
آخر میں نے اس سے کہا کہ چند دن مزید ٹھہرو، بعد میں چلے جانا۔ یہ سن کر اس نے مؤدبانہ انداز میں گردن جھکائی اور آنسو پونچھتا ہوا باہر چلا گیا۔
تھوڑی دیر بعد میں نے گھر کی دیکھ بھال کرنے والی خادمہ مسز سیلڈن کو طلب کیا اور جب اسے بتایا کہ جیکب فوراً رخصت ہونے کی اجازت طالب کر رہا تھا، تو بڑھیا کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔
اس کے مرجھائے ہوئے ہونٹ اور خشک ہو گئے اور وہ اپنی دھنسی ہوئی زرد آنکھوں سے مجھے تکنے لگی۔ میں نے دیکھا کہ خوف سے اس کے دونوں ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس نے جلد ہی اپنی اس کیفیت پر قابو پا لیا اور کہنے لگی:
’’سرکار، آپ اس بڈھے کو ہرگز نہ جانے دیجیے، وہ سٹھیا گیا ہے۔ غالباً اپنے آقا کی بے وقت موت کے صدمے سے اس کا دماغ ٹھکانے نہیں رہا۔ میں اسے سمجھا دوں گی۔‘‘
اب میں نے مسز سیلڈن سے بھی اس مکان اور اس کے آنجہانی مکین ایمس ولڈر کی گزشتہ زندگی کے بارے میں کچھ پوچھنا چاہا، تو اس نے نفی میں گردن ہلائی اور کہا:
’’سرکار، میں کچھ نہیں بتا سکتی، مجھے کچھ معلوم نہیں۔ میں تو ان کے کسی معاملے میں کبھی دخل نہیں دیتی تھی۔‘‘
ایمس ولڈر کی موت کے تین روز بعد کا ذکر ہے۔ میں رات کا کھانا کھا کر دیر تک ایک افسانہ لکھتا رہا اور جب سونے کے لیے بستر پر لیٹا، تو ایک بج رہا تھا۔
مکان کے چاروں طرف ایک بھیانک سناٹا اور تاریکی مسلط تھی اور دور جنگل میں کوئی اُلّو اپنی منحوس آواز میں چیخ رہا تھا۔
بستر پر لیٹتے ہی میں نیند کی آغوش میں پہنچ گیا۔ خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ چچا ایمس ولڈر میرے سامنے کھڑا ہے۔
اس نے وہی بغیر آستین کا سیاہ لبادہ پہن رکھا ہے اور اپنی چمکیلی آنکھوں سے مجھے گھور رہا ہے۔ یکایک اس کے لب کھلے اور اس نے تحکمانہ انداز میں مجھ سے کہا:
’’ایلس، تم بلاتاخیر میر لائبریری میں جاؤ اور ساتویں الماری کے دوسرے خانے میں کتابیں رکھی ہیں، انھیں بغور دیکھو۔ ان کتابوں کے اندر جو ہدایات ملیں، ان پر عمل کرو۔‘‘
یہ خواب دیکھتے ہی میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے اپنا دل بے تابی سے دھڑکتے ہوئے پایا۔
بڈھے ایمس کی صورت میری آنکھوں کے آگے گھوم رہی تھی اور خواب میں کہے گئے الفاظ کانوں میں مسلسل گونج رہے تھے۔ میں پھر ساری رات نہ سو سکا اور سورج کی پہلی کرن جونہی نمودار ہوئی، مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرا سارا ڈر دور ہو گیا ہے۔
پھر میں دیر تک ایک بچے کی نیند سوتا رہا۔
دوبارہ آنکھ کھلی، تو میں بالکل تازہ دم تھا۔ ناشتے سے فارغ ہو کر حسب معمول مقبرے کی جانب گیا اور دروازے کی مہر کا معائنہ کیا۔ اسے کسی نے نہ چھڑا تھا۔میں مطمئن ہو گیا۔
رات کو پھر جونہی میں بستر پر لیٹا، بڈھا ایمس خواب میں دکھائی دیا۔
اس مرتبہ اس کی حالت پہلے سے بھی ابتر تھی اور چہرہ بڑا بھیانک نظر آ رہا تھا۔ اس نے پھر وہی الفاظ دہرائے جو گزشتہ رات کہے تھے۔ میں پھر ساری رات مضطرب رہا۔
تیسری رات ایمس خواب میں میرے سامنے کھڑا تھا اور وہی الفاظ دہرا رہا تھا۔ اس مرتبہ اس کی نگاہوں سے شعلے برس رہے تھے اور لہجے میں حددرجے کی تلخی اور تحکم تھا۔
آنکھ کھلی تو میں نے اپنا جسم پسینے سے ترپایا۔ ایسی ذہنی اذیت سے مجھے کبھی واسطہ نہ پڑا تھا۔ میں نے اسی وقت لیمپ ہاتھ میں لیا اور دبے پاؤں چلتا ہوا لائبریری کی طرف گیا۔
اس کا قفل کھولا اور ساتویں الماری کے قریب پہنچا جس کے اوپر سیاہ رنگ کا پردہ پڑا ہوا تھا۔ جب میں نے اس پردے کو چھوا، تو میرے جسم میں سنسنی سی پھیل گئی جیسے میں نے کسی گندی شے کو ہاتھ لگا دیا ہو۔
لکڑی کی بنی ہوئی اس الماری کے چار خانے تھے جن میں صدیوں پرانی بوسیدہ کتابیں بھری تھیں۔ اس کے دوسرے خانے کی پہلی کتاب کو اٹھا کر جونہی میں نے پہلا صفحہ الٹا، تو میرے ہاتھ کانپ گئے اور کتاب فرش پر گر پڑی۔
کہہ نہیں سکتا کہ مجھ پر کتنی ہیبت اس کتاب کو دیکھ کر طاری ہوئی اور اس کتاب پر کیا منحصر کہ اس خانے میں جتنی کتابیں رکھی تھیں، ان سب کا موضوع ہی ایسا تھا جو دل میں خوف و دہشت کے ساتھ نفرت کے جذبات پیدا کرنے والا تھا۔ یعنی کالا جادو یا علم سفلی ان کتابوں کا موضوع تھا، یہ سب کی سب لاطینی زبان کی قلمی کتابیں تھیں۔
ان میں کہیں کہیں سرخ روشنائی سے مختلف عبارتوں کے نیچے نشان لگائے گئے تھے جن پر بڈھے ایمس کے دستخط اور تاریخ درج تھی۔ میں ان تمام نشان زدہ کتابوں کو اُٹھا کر اپنے کمرے میں آیا اور ان کی عبارتیں سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔
لاطینی زبان میں نے عرصہ پہلے ایک شخص سے پڑھی تھی، وہ اب کام آئی، لیکن جو اب اتنے پرانے اور شکستہ تھے کہ انھیں پڑھنا کارے دارد تھا۔
میں صبح تک ان عبارتوں میں سر کھپاتا رہا اور بالآخر ان میں سے ایک پیراگراف کا ترجمہ کرنے میں کامیاب ہو ہی گیا۔‘‘ یوں تھا:
’’اس کائنات کی بے کراں وسعتوں میں لاکھوں بدرو کیا آسیب اور شیطانی قوتیں کارفرما ہیں جو دن رات کے ہر پہر میں زمین کی طرف یلغار کرتیں اور جس روح کو کمزور دیکھتی ہوں اس پر قابو پانے کی کوشش کرتی ہیں۔
خصوصاً سورج غروب ہونے کے بعد اور صبح کاذب تک ان روحوں کی قوت بہت بڑھ جاتی ہے۔ یہ جہاں چاہے جا سکتی ہیں۔ پس ان کو روکنے کے لیے مختلف تدابیر پر عمل کیا جاتا ہے۔
مرنے کے بعد جب کوئی روح جسم سے نکل جاتی ہے، تو بدروحیں اسے اپنے ساتھ ملانے کے لیے بے تاب ہوتی ہیں۔
اگر اس وقت مرنے والے کی قبر اور جسم کی حفاظت کی جائے، تو وہ ہمیشہ کے لیے عذاب میں گرفتار ہو جاتا ہے۔‘‘
اس عبارت کے آگے حاشیے میں ایمس ولڈر نے کہا تھا:
’’بیٹا ایمس، جب میں مر جاؤں اور تم میری ہدایت کے مطابق مقبرے میں مجھے دفن کر کے دروازہ سربمہر کر دو، تو اس کے برعکس میرے مقبرے کو بلاؤں سے محفوظ رکھنے کے لیے قبرستان میں اور ایک پرانی کھوپڑی کو پیس کر اس کا سفوف بنا لینا۔
بعدازاں ایک کم سن بچے کے خون میں یہ سفوف حل کر کے چودھویں رات کو تہہ خانے کے دروازے پر کھوپڑی کی تصویر بنا دینا۔ یہ عمل تین مرتبہ چاند کی ہر چودھویں رات کو کرنا ضروری ہے۔‘‘
جب یہ عبارت میں نے پڑھی، تو دہشت سے میرا رواں رواں کانپنے اور میں نے دیوانگی کے عالم میں کتابیں اٹھا کر فرش پر پھینک دیں۔
خدا کی پناہ! ۔۔۔۔۔ اگر مجھے علم ہوتا کہ وہ منحوس بڈھا مرنے کے بعد مجھ سے ایسے بے ہودہ اور ناپاک کام لینا چاہتا ہے، تو میں کبھی اس سے وعدہ نہ کرتا۔
میں دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپ کر رونے لگا اور دیر تک اپنی حالت پر روتا رہا۔
کاش! میں یہاں نہ آتا اور اپنے آپ کو اس عذاب میں مبتلا نہ کرتا۔
ان کتابوں سے ظاہر ہو گیا تھا کہ میرا چچا نہ صرف کالے جادو پر یقین رکھتا تھا، بلکہ اس پر عمل پیرا بھی تھا اور خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ اس نے اپنی طویل زندگی میں اس جادو کے زور سے کیا کیا کارنامے انجام دیے ہوں گے ۔اب ،مرنے کے بعد بھی اسی شغلے میں الجھا ہوا ہے۔
اس روز میری بھوک پیاس سب اُڑ گئی۔ بار بار میری نگاہ اس مقبرے کی طرف جاتی جہاں اس جادوگر کی لاش تابوت میں رکھی تھی۔
ایک بار میرے جی میں آیا کہ دروازے کی مہر توڑ ڈالوں اور لاش کو تابوت سے نکال کر نذر آتش کر دوں، لیکن ایسا کرنا میرے بس میں نہ تھا۔
گاؤں بھر کے لوگ میرے اس فعل پر نفرین کرتے اور کہتے کہ چچا نے اپنی ساری جائیداد بھتیجے کو بخش دی، یہ اس کا صلہ دیا گیا ہے۔
جیکب اور مسز سیلڈن کا رویہ بھی میرے ساتھ عجیب تھا۔ اوؔل تو وہ میرے قریب ہی نہ پھٹکتے اور جب طوعاً کرہاً آتے، تو سہمے سہمے سے رہتے۔
رات کو میں ٹہلنے کے لیے دریا کی طرف نکل گیا۔ شام کا وقت بڑا سہانا تھا۔ پرندوں کی آوازوں سے جنگل گونج رہا تھا۔
تھوڑی دیر میں آسمان کے مشرقی کنارے سے چودھویں کے چاند نے جھانکا اور اپنی سنہری کرنیں دریا اور جنگل پر بکھیرتا ہوتا آہستہ آہستہ اوپر اٹھنے لگا۔
میں دور تک ٹہلتا چلا گیا اور اس معمے کو حل کرنے میں ایسا محو ہوا کہ وقت کا احساس ہی نہ رہا۔ جب میں واپس لوٹا، تو چاند پوری آب و تاب کے ساتھ آسمان کے عین درمیان میں روشن تھا اور ہر شے چاندنی میں نہائی تھی۔
تمام راستے مجھے کوئی آدمی نظر نہ آیا اور میں یہاں کے لوگوں کی بدذوقی اور فطرت کے حسن سے بے نیازی پر دل ہی دل میں کُڑھتا ہوا جب ولڈر ہاؤس کے اجڑے ہوئے باغ میں پہنچا،
تو ایک ثانیے کے لیے میری نگاہوں کے سامنے کچھ فاصلے پر کسی آدمی کا سایہ زمین پر پڑتا دکھائی دیا۔
میں نے غور سے دیکھا، تو یہ سایہ اس جانب بڑھ رہا تھا جدھر ولڈر ہاؤئوس کے مغربی گوشے میں لائبریری کا کمرا تھا۔
میں ایک درخت کی آڑ میں کھڑا ہو گیا۔ بلاشبہ یہ کوئی آدمی تھا جو مکان کے اندر جانا چاہتا تھا۔ چند لمحے بعد وہ جھاڑیوں کے اندر سے نکلا اور کھلی جگہ میں آ گیا۔
اب میں نے اس کا چہرہ دیکھا جو دودھ کی مانند سپید تھا اور اس کے سر کے بال بھی چاندی کے تاروں کی مانند چمک رہے تھے۔
اس کا قد چھے فٹ سے نکلتا ہوا اور سر سے پَیر تک سیاہ لبادے میں لپٹا ہوا تھا۔
مجھ سے اس کا فاصلہ اندازاً تیس گز تھا۔ تھوڑی دیر تک وہ مکان کی طرف دیکھتا رہا، پھر کچھ سوچ کر آہستہ آہستہ نپے تلے قدموں کے ساتھ مقبرے کی طرف بڑھنے لگا۔
اب میں نے دیکھا کہ وہ لنگڑا کر چلتا ہے اور اس کی کمر بھی جھکی ہوئی ہے۔
میں بھی اس کے تعاقب میں دبے پاؤں چل رہا تھا، کیونکہ میں دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ مقبرے کے پاس جا کر کیا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
مقبرے کے گرد اونچی گھاس اور جھاڑ جھنکاڑ کثرت سے تھا اور ناممکن تھا کہ کوئی شخص ادھر جائے اور اس کے پَیر میں کانٹا نہ چبھے،
لیکن یہ دیکھ کر مجھ پر خوف طاری ہونے لگا کہ یہ شخص جو ننگے پَیر تھا، اس اطمینان اور بے پروائی سے اس جھنکاڑ  کے اندر چل رہا تھا جیسے اس کے پَیروں تلے مخملیں فرش بچھا ہوا ہو۔
یکایک بادل کے ایک آوارہ ٹکڑے نے چاندنی کا راستہ روک لیا اور گھپ اندھیرا چھا گیا۔
میں نے اس موقعے سے فائدہ اٹھایا اور جلدی سے مقبرے کے قریب پہنچ گیا۔ میں چاہتا تھا کہ چپکے سے جا کر اس شخص کو پیچھے سے پکڑ لوں۔
اتنے میں چاند نے پھر بادل میں سے جھانکا اور میں نے دیکھا کہ یہ پُراسرار شخص گھٹنوں کے بل جھکا ہوا مقبرے کے دروازے کا معائنہ کر رہا ہے۔
غالباً وہ دیکھ رہا تھا کہ اسے کس طرح کھولا جا سکتا ہے۔ اتنے میں مغرب کی جانب سے ایک بہت بڑی چمگاڈر پرواز کرتی ہوئی اور اس کے پَیروں کا سایہ اس شخص پر پڑا۔ اس نے فوراً گردن اٹھا کر اوپر دیکھا اور مسکرایا۔
اس کے چمکتے ہوئے نکیلے دانت دیکھ کر مجھے بڑی دہشت ہوئی۔ دوسرے ہی لمحے وہ دروازے کے قریب لیٹ گیا اور اس وقت میری آنکھوں نے جو دہشت انگیز منظر دیکھا، وہ میں کبھی نہ بھول سکوں گا۔
کیا دیکھتا ہوں کہ یہ شخص آہستہ آہستہ سکڑنے لگا۔ پہلے مجھے اپنی آنکھوں پر اعتبار نہ آیا۔ میں چند قدم آگے بڑھا اور میری آہٹ پا کر سکڑتے ہوئے اس شخص نے جو یقینا کوئی بدروح تھی، میری جانب دیکھا اور اچھل کر کھڑا ہو گیا۔
خدا جانے اس وقت وہ کون سی طاقت تھی جس نے مجھے اس بدروح سے لپٹ جانے پر مجبور کر دیا تھا۔ ایک ہی جست میں مَیں اس پر جا پڑا۔
اس کا دایاں پنجہ میرے ہاتھ میں آ گیا۔ عین اسی وقت کسی نے پیچھے سے میرے سر پر کوئی وزنی شے دے ماری اور میں اس چوٹ کی تاب نہ لا کر بے ہوش ہو گیا۔
غالباً ایک گھنٹے بعد مجھے ہوش آیا، تو میں نے اپنے آپ کو مقبرے کے دروازے کے قریب پڑے پایا۔ میرا دماغ چکرا رہا تھا اور سر کے اس حصے میں جہاں نادیدہ دشمن نے ضرب لگائی تھی، شدید ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔
یہ حادثہ ایک خواب کی مانند مجھے یاد تھا اور یقینا میں اسے خواب ہی سمجھتا، اگر میرے بائیں ہاتھ کی مٹھی میں دبا ہوا وہ انسانی پنجہ نہ ہوتا جو ایمس ولڈر کے مقبرے کا دروازہ کھولنا چاہتا تھا۔
حواس بحال ہونے کے ساتھ ہی مجھے اس پنجے کی موجودگی کا احساس ہوا، بلاشبہ وہ میرے ہاتھ میں تھا۔ لمبی، سپید پانچ انگلیوں کا انسانی پنجہ، جس میں ہڈیاں تھیں اور ان پر صرف کھال منڈھی ہوئی تھی۔
چاند ایک مرتبہ پھر بادل کی اوٹ میں چھپ چکا تھا اور میرے چاروں طرف گہری تاریکی مسلط تھی۔ میں پہلے اس پنجے کو کسی پودے سے اکھڑی ہوئی شاخ سمجھا تھا، لیکن جب اسے اچھی طرح ٹٹول کر دیکھا، تو دہشت کی ایک نئی لہر میرے جسم میں دوڑ گئی۔ پچھلے پہر کی سردی کے باوجود میری پیشانی پسینے سے بھیگ گئی۔
گرتا پڑتا میں اپنے کمرے میں پہنچا۔ ٹیبل لیمپ روشن کیا۔ ایک بار پھر اس پنجے کا معائنہ کیا۔ یہ کسی لاش سے علیحدہ کیا ہوا پنجہ معلوم ہوتا تھا۔
کسی ایسے شخص کی لاش سے جسے مرے ہوئے ایک سال گزر چکا ہو۔ میں نے انتہائی کراہت محسوس کرتے ہوئے اس پنجے کو ایک کونے میں پھینک دیا اور بستر پر لپٹ کر اس واقعے پر ازسرِنوغور کرنے لگا۔
یہ بات تو یقینی تھی کہ وہ شخص جسے میں نے مقبرے کے قریب کھڑے دیکھا اور جس پر میں نے حملہ کیا، اس دنیا کی مخلوق ہرگز نہ تھی۔
وہ انسانی روپ میں ضرور کوئی بدروح تھی جو ایمس ولڈر کی لاش کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے آئی تھی۔
اس کے ساتھ ہی یہ خیال بھی میرے دماغ میں آیا کہ چونکہ خود بھی کالے جادو سے کام لیتا تھا، اس لیے اسے معلوم تھا کہ وہ اسے ہلاک کرنے کے درپے ہیں، لیکن اس نے خودکشی کیوں کی، اگر خودکشی نہیں کی، تو کیا اسے کسی بدروح نے ہلاک کیا ہے۔
سوالات تھے جن کا کوئی جواب میرے ذہن میں نہ آتا تھا۔ فوراً یاد آیا کہ ایمس ولڈر  نے ان کاغذات کا ذکر کیا تھا، جو اس کی میز کے دراز میں رکھے ہیں۔
شاید ان کاغذات کے مطالعے سے صحیح سراغ مل سکے اور میں ایمس ولڈر کی زندگی کے بارے میں کچھ نہ کر سکوں۔ میں نے اس کام کو صبح نمٹانے کا فیصلہ کر کے اپنے آپ کو نیند کے حوالے کر دیا۔
صبح اُٹھتے ہی میں نے سب سے پہلے جیکب کو اپنے کمرے میں بلوایا۔
گزشتہ کئی روز سے میرا اس کا آمناسامنا نہیں ہوا تھا۔ وہ میرے سائے سے بھی کتراتا تھا۔ وہ آیا، تو انتہائی بدحواس اور گھبرایا ہوا تھا۔
میں نے اسے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کر کے ایک گلاس پانی پیش کیا۔ وہ سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا۔ ایمس ولڈر کے بارے میں براہ راست کچھ پوچھنے کے بجائے میں نے ایک نئے انداز سے اسے کریدنا چاہا۔
میں نے اس سے کہا:
’’کل رات ایک پُراسرار اجنبی کو میں نے مقبرے کے گرد گھومتے دیکھا ہے۔ اس شخص کا قد بہت لمبا تھا۔ ایمس ولڈر کی طرح گردن سے لے کر ٹخنوں تک سیاہ لبادہ پہن رکھا تھا۔
سر کے بال بالکل سپید تھے اور ایک عجیب بات یہ تھی کہ وہ لنگڑا کر چل رہا تھا۔ جب وہ‘‘

ابھی میں اتنا ہی کہہ پایا تھا کہ جیکب کنی تھرتھر کانپنے لگا۔ اس کے چہرے کا رنگ پہلے سرخ ہوا، پھر زرد اور آخر میں دھلے کپڑے کی مانند سپید پڑ گیا۔
آنکھوں کے حلقے ساکن ہو گئے۔ گردن آگے کو ڈھک گئی اور وہ دھڑام سے فرش پر گر پڑا۔ میں نے اسے سنبھالتے ہوئے دل میں کہا:
یک نہ شددوشد، یہ بھی اپنے آقا کے ساتھ ہی چل بسا، لیکن نہیں۔ چند منٹ بعد جیکب نے آنکھیں کھول دیں۔ میری جانب ڈری ڈری نظروں سے دیکھا اور بھرائی ہوئی آواز میں بولا:
’’کیا کہا آپ نے؟ رات ایک لنگڑے آدمی کو مقبرے کے پاس دیکھا؟
اس نے سیاہ لبادہ پہن رکھا تھا؟ خدا رحم کرے۔ اینڈریو بیٹنلے واپس آ گیا۔‘‘
’’اینڈریو بیٹنلے کون ہے؟‘‘ میں نے اس سے پوچھا۔
جیکب نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ جلدی سے اٹھا، کمرے کا دروازہ کھولا اور بے تحاشا دوڑتا ہوا برآمدے میں گیا، سیڑھیاں طے کیں اور مکان سے باہر نکل گیا۔
میں اسے حیرت سے دیکھتا رہا۔
اس کے بعد میں نے دوبارہ اسے ساک پیری میں نہیں دیکھا۔ وہ اپنا سامان بھی نہیں لے جا سکا تھا۔
مسز سیلڈن نے اینڈریو کے بارے میں جو کہانی سنائی وہ یہ تھی۔
’’اینڈریو بیٹنلے آج سے پانچ سال قبل اس گاؤں میں آ کر آباد ہوا تھا۔ جلد ہی ایمس ولڈر سے اس کے دوستانہ تعلقات استوار ہو گئے۔ گاؤں والے ان دونوں سے بہت ڈرتے تھے، کیونکہ یہ دونوں شخص کالے جادو کے فن میں ماہر تھے۔
مشہور تھا کہ ان کے قبضے میں بدروحیں ہیں، ہمزاد ہیں جن کے ذریعے یہ جس کو چاہیں ہلاک کرا سکتے ہیں۔ ایک سال قبل ان دونوں میں کسی بات پر جھگڑا ہو گیا اور خاصی تُوتُو مَیں مَیں ہوئی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو جان سے مار ڈالنے کی دھمکیاں دیں۔
اس جھگڑے کے چند دن بعد ہی اینڈریو بیٹنلے پُراسرار طور پر غائب ہو گیا۔ پھر کسی نے اسے نہ دیکھا کہ کہاں گیا۔ لوگ دبی زبان سے کہنے لگے کہ ایمس ولڈر نے بیٹنلے کو مار ڈالا ہے، لیکن کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ پولیس کو اس کی اطلاع دیتا۔ گائوں کے وکیل تھامس بی ویدر کو اینڈریو کے بارے میں کچھ باتیں معلوم ہیں۔ اگر اسے مجبور کیا جائے، تو شاید بتا دے، کیونکہ اب ایمس ولڈر بھی اس دنیا میں موجود نہیں۔‘‘
مزید وقت ضائع کیے بغیر میں تھامس ویدربی کے دفتر پہنچا۔ مجھے بغیر اطلاع اور بے وقت آتے دیکھ کر اس کے سنجیدہ اور پرسکون چہرے پر پریشانی کے گہرے آثار نمودار ہوئے۔
اس نے اپنا کام چھوڑا اور میری طرف متوجہ ہو گیا۔ میں نے سب سے پہلے دروازے اور کھڑکیاں بند کیں اور یہ اطمینان کر لینے کے بعد کہ آواز باہر نہ جائے، اپنی کرسی وکیل کے نزدیک گھسیٹ لی اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آہستہ سے کہا:
’’مجھے اینڈریو بیٹنلے کے بارے میں معلومات درکار ہیں۔ کیا آپ کچھ بتا سکیں گے؟‘‘
میں وکیل کے چہرے کو بغور دیکھ رہا تھا۔
اس نے مضطرب ہو کر پہلو بدلا۔ دو منٹ تک وہ قطعی گم سم رہا۔ آخر اس نے زبان کھولی:
’’مسٹر ایلس ولڈر، میں جانتا ہوں کہ آپ گزشتہ چند روز سے پراسرار واقعات کے درمیان گھرے ہوئے ہیں۔ آپ نے اچھا کیا کہ میرے پاس چلے آئے۔
میں بے شک آپ کے آنجہانی چچا کا قانونی مشیر تھا، لیکن آپ برا نہ مانیں، تو کہوں کہ میں نے کبھی اس شخص کو پسند نہیں کیا۔
وہ افریقہ سے کالا جادو سیکھ کر آیا تھا اور اسے یہاں کے معصوم اور بے گناہ باشندوں پر آزمانا چاہتا تھا۔ میں نے اسے سمجھایا اور روکنے کی کوشش کی، مگر وہ نہ مانا۔
اسی دوران میں ایک دوسرا جادوگر اینڈریو بیٹنلے یہاں آ گیا اور آپ کے چچا نے اسے فوراً دوست بنا لیا، لیکن پانچ سال بعد ایک روز اچانک ان کی دوستی منقطع ہو گئی۔
خیال ہے کہ آپ کے آنجہانی چچا نے اسے مار ڈالا اور لاش کہیں غائب کر دی:
تاہم اینڈریو کی روح نے اس کا پیچھا نہ چھوڑا اور جیسا کہ آپ نے گزشتہ رات دیکھا. مقبرے کا دروازہ کھولنے والا وہی اینڈریو ۔۔۔۔۔ یا اس کی روح تھی۔‘‘
’’پناہ بخدا! ۔۔۔۔۔ آپ کو کیسے پتa چلا؟‘‘ میں نے حیرت سے آنکیھں پھاڑ کر پوچھا۔
’’آپ کا ملازم جیکب تھوڑی دیر پیشتر میرے پاس آیا تھا، وہ سب کہانی سنا گیا ہے۔‘‘
’’وکیل صاحب، تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود آپ کالے جادو پر یقین رکھتے ہیں؟‘‘
ویدربی نے اقرار کرتے ہوئے کہا:
’’ایک روح اینڈریو کی تابع ہے۔ اپنی زندگی میں بھی وہ اس سے کام لیتا رہا اور اب مرنے کے بعد بھی. جبکہ بیٹنلے خود ایک روح ہے، وہ اپنے موکل سے کام لے رہا ہے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بیٹنلے کا موجودہ جسم بے کار ہوتا جا رہا ہے، اس لیے وہ کسی تازہ لاش میں سمانا چاہتا ہے۔ تازہ لاش تمھارے چچا کے سوا اسے کہیں نہیں مل سکی، اس لیے وہ یہاں آ گیا ہے.
اس کی کوشش میں ہے کہ اس لاش پر قبضہ کر لیا جائے ۔۔۔۔۔ بیٹنلے کی ساتھی روح کے پاس بہت پرانا جسم تھا جو بے کار ہو چکا ہے۔ اب وہ دن میں دکھائی نہیں دے سکتا، لیکن رات کو ضرور نظر آتا ہے، البتہ بیٹنلے کو میں نے کئی بار دن میں بھی دیکھا ہے۔
ایمس ولڈر اس کی وجہ سے خائف تھا۔ اس نے بیٹنلے کی روح کو کرۂ ارض سے دور کرنے کی بڑی کوشش کی، مگر کامیاب نہ ہوا۔
ایمس جانتا تھا کہ ایک نہ ایک دن موت اسے نگل لے گی اور اس کے بعد بیٹنلے اس کے جسم پر قبضہ کر لے گا۔ اس نے اس سے نجات پانے کے لیے ایک تدبیر سوچی، تمoیں بلایا اور چند ہدایتیں دیں.
اس کے بعد افیون کھا کر خودکشی کر لی۔ ممکن ہے اس نے اپنی لاش کو ان روحوں سے بچانے کے لیے کوئی خاص انتظام بھی کیا ہو، لیکن جیسا کہ اس نے آپ کو خواب میں آن کر بتایا، روحیں اس کی لاش کو تہہ خانے سے نکالنے کے لیے بے چین ہیں۔
اب اس کی ایک ہی صورت ہے کہ ہم اپنی جان پر کھیل کر بیٹنلے اور اس کے ساتھی کی روح کو ارضی دنیا سے باہر نکال دیں۔
میں ایک عامل کو جانتا ہوں جو بدروحوں سے مقابلہ کر سکتا ہے۔ اسے میں اپنے ساتھ لائوں گا۔ اس کا نام رابرٹ ہے اور عمر ایک سو دس سال.
اب آپ ولڈر ہاؤس جائیں اور ایمس کے کاغذات کی چھان بین کریں ممکن ہے۔ ہمیں ان روحوں کے بارے میں کچھ اور باتیں معلوم ہوں۔‘‘
اس روز میں  نے ایمس ولڈر کی لائبریری میں رکھی۔ میز کی دراز میں سے ایک لمبا سربمہر لفافہ نکالا جس پر میرا نام لکھا تھا۔
جب میں نے اسے چاک کیا، تو ایمس ولڈر کے قلم سے لکھا ہوا رقعہ نکلا اور اسے پڑھ کر واقعات کی تمام گمشدہ کڑیاں میرے سامنے آ گئیں:
’’پیارے ایلس، جب تم میرا یہ خط پڑھو گے، میں اس دنیا سے رخصت ہو چکا ہوں گا۔ میں  نے تمہیں جو ہدایتیں دی ہیں۔
تم انھیں عمل میں لاؤ گے تاکہ بدروحیں میرے مقبرے میں داخل نہ ہو سکیں۔
اگر تم محسوس کرو کہ یہ روحیں تمہیں نقصان پہنچانے کے درپے ہیں، تو فوراً بیٹنلے کی لاش تلاش کر کے اسے جلا دینا۔
اس کی روح کو ولڈر ہاؤس کے نواح میں رات کے وقت دیکھ لیا ہوگا جیسا کہ میں نے بھی کئی مرتبہ اسے دیکھا ہے۔
اسے آج سے ٹھیک ایک سال پہلے میں نے پسلی میں خنجر گھونپ کر ہلاک کر دیا تھا۔ اگر میں ایسا نہ کرتا، تو وہ مجھے مار ڈالتا۔
وہ خنجر اب بھی بیٹنلے کی لاش کے ڈھانچے میں پیوست ہو گا۔ میں  نے جب بیٹنلے کو مارا، تو اس کی لاش اسی تہہ خانے میں رکھ دی تھی۔ جہاں اب میری لاش رکھی ہے، لیکن بیٹنلے کی تابع ایک روح نے دروازہ توڑ کر لاش نکال لی اور اسے کسی جگہ چھپا دیا۔
میں کوشش کے باوجود اسے تلاش نہیں کر پایا۔ یہی وجہ ہے کہ بیٹنلے کی روح مجھ سے انتقام لینے پر تُل گئی۔
میں جانتا تھا کہ اس سے بچنا محال ہے، پس میں نے اپنے آپ کو موت کے حوالے کر دینے کا فیصلہ کر لیا اور تمھاری مدد کی ضرورت پڑی کیونکہ میرے مرنے کے بعد تم ہی ان ہدایات پر عمل کر کے میری روح کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نہ صرف ابدی مسرت سے ہم کنار کر سکتے ہو، بلکہ بیٹنلے کی روح کو بھی ’’بھسم‘‘ کر سکتے ہو۔
مجھے امید ہے کہ تم خاندانی عداوت اور رنجش کو فراموش کر کے میرا یہ کام ضرور کر دو گے، اسی لیے میں  نے اپنی روح کو نجات دلانے کے لیے تمہارے سپرد یہ کام کیا ہے۔
ایک بات اور سمجھ لو کہ اگر بیٹنلے کی روح  نے میری لاش حاصل کر لی، تو بیٹنلے کی لاش کے ساتھ میری لاش کو بھی جلا کر راکھ کر ڈالنا، ورنہ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دوزخ کی آگ میں جلتا رہوں گا۔
تمھارا بدنصیب چچا
ایمس ولڈر‘‘
یہ خط لے کر میں وکیل کے پاس پہنچا۔ اس نے بھی اسے پڑھا اور بتایا کہ عامل رابرٹ ان بدروحوں کو بھگانے پر رضامند ہو گیا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ وہ رات کو کسی وقت آپ کے یہاں پہنچ جائے گا۔ بہرحال، اگر یہ روحیں یہاں سے دفع ہو گئیں، تو ایمس ولڈر کی لاش کو کوئی خطرہ نہیں۔
میرا خیال ہے کہ آج رات پھر بیٹنلے اور اس کے ساتھی کی روح مقبرے کا دروازہ توڑنے کی کوشش کریں گی، اس لیے انھیں آج ہی غارت کر دینا چاہیے۔ میں رابرٹ کو ساتھ لے کر رات کے بارہ بجے تک ولڈر ہاؤس پہنچ جاؤں گا۔‘‘
’’لیکن اس خط میں لکھا ہے کہ جب تک بیٹنلے کی لاش دستیاب نہ ہوگی، اس کی روح کو بھگانا محال ہے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’بے شک ہمیں اس کی لاش ڈھونڈنی پڑے گی۔ میرا خیال ہے کہ بیٹنلے کی لاش جو اب تک ایک ڈھانچے میں تبدیل ہو چکی ہو گی، ولڈر ہاؤس کے ویران باغ میں کہیں پوشیدہ ہے۔
ہم اس کا چپہ چپہ دیکھیں گے۔‘‘
وہ لرزہ خیز رات ایسی تھی کہ جب میں اس کا تصور کرتا ہوں، تو خوف سے دل بیٹھنے لگتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے وقت کی نبضیں تھم گئی ہیں۔
اس اجاڑ مکان کے اندر میں بالکل تنہا تھا۔ مسز سیلڈن تو سرِشام ہی رخصت ہو جاتی تھی اور بڈھا جیکب بھی فرار ہو چکا تھا۔ چاند پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔
میں نے اپنے کمرے کی کھڑکی میں لیمپ روشن کر کے رکھ دیا تھا ، تاکہ ویدربی اور رابرٹ کو پتہ چل جائے کہ میں اپنے کمرے میں ہوں۔
مجھے شدت سے ان کا انتظار تھا۔ باربار میری نگاہ گھڑی کی طرف جاتی ۔
پتا بھی کھڑکتا، تو میں چونک پڑتا۔ ایک بج گیا۔
ان دونوں حضرات کا کہیں پتہ نہ تھا۔ یکایک مقبرے کی جانب سے ہوا کے دوش پر چلتی ہوئی ایک عجیب سی آواز میرے کانوں میں آئی جیسے کوئی پرندہ پھڑپھڑا رہا ہو۔
میں نے کھڑکی میں سے دیکھا، تو ایک بڑی چمگاڈر مقبرے کے عین اوپر منڈلا رہی تھی۔ میرے دیکھتے دیکھتے یہ چمگاڈر باغ کی جانب اس مقام پر گئی جہاں ایک بہت پرانا درخت کھڑا تھا۔
جس کی عمر تین سو سال سے کم نہ ہوگی۔
یہ چمگاڈر اس درخت کے ایک کھوکھلے تنے میں داخل ہو کر غائب ہو گئی۔ چاند کی واضح اور صاف روشنی میں میں آنکھیں پھاڑے اس درخت کو دیکھ رہا تھا کہ مجھے اس کی جڑوں کے پاس ایک سایہ دکھائی دیا جو آہستہ آہستہ اینڈریو بیٹنلے کی شکل اختیار کر رہا تھا۔
دیکھتے دیکھتے یہ سایہ ایک منحنی سے قدرآور انسان کی صورت میں تبدیل ہو گیا۔ میں کھڑکی کے قریب کھڑا بے حس و حرکت دھڑکتے دل کے ساتھ یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ اتنے میں بیٹنلے کے قریب میں نے اس سے بھی لمبے ایک اور شخص کو کھڑے پایا۔
اس کا لباس بھی سیاہ تھا۔ وہ دونوں خاموشی سے کھڑے مقبرے کی جانب دیکھ رہے تھے۔ پھر وہ چند قدم آگے بڑھے۔ اب چاندنی میں ان کے خوف ناک سپید چہرے مجھے صاف دکھائی دے رہے تھے، لیکن اس موقعے پر ایک وحشت انگیز انکشاف ہوا۔
میرے جسم کا خون کھینچ کر کلیجے میں سمٹ آیا۔ ان دونوں کا سایہ نہ تھا، بلکہ وہ ایک شیشے کی مانند دکھائی دے رہے تھے، کیونکہ ان کے جسموں کے پار بھی آسانی سے دوسری طرف کا منظر نظر آتا تھا۔
بیٹنلے کی تابع صورت اب مجسم آدمی کی شکل میں میرے سامنے تھی۔ اس کی آنکھیں انگاروں کی طرح دہک رہی تھیں۔
جب وہ وہاں سے ہٹ کر آہستہ آہستہ مقبرے کی طرف چلے، تو میں نے دیکھا کہ اس درخت کے تنے میں ایک بڑا سا سوراخ ہے۔
تب دفعتاً مجھے خیال آیا کہ بیٹنلے کی لاش میں اس کھوکھلے تنے کے اندر پڑی ہو گی۔
میں  نے ویدربی اور رابرٹ کی آمد کا انتظار کیے بغیر لیمپ اٹھایا اور دروازہ کھول کر دبے پاؤں سیڑھیاں اترتا ہوا مکان سے باہر نکل آیا اور پیش آنے والے مہلک خطرے سے بے نیاز ہو کر سیدھا مقبرے کی طرف چلا،
کیونکہ وہ دونوں ناپاک روحیں وہاں دروازہ کھولنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ میں جب ان کے بالکل قریب جا پہنچا، تو انھوں نے پلٹ کر میری جانب دیکھا۔
مجھ سے ان کا فاصلہ دس بارہ فٹ سے زائد نہ تھا۔ اینڈریوبیٹنلے کی روح مجھے دیکھنے کے باوجود دروازہ کھولنے میں مصروف رہی۔
اس نے میری آمد کا کوئی نوٹس نہ لیا، البتہ اس کے ساتھی کی سرخ سرخ آنکھیں انگارے برسانے لگیں۔
وہ درندوں کی مانند منہ کھول کر میری طرف بڑھا اور اس وقت مجھے اپنی حماقت کا احساس ہوا۔
میرے پاس ان بدروحوں سے محفوظ رہنے کے لیے کوئی شے نہ تھی۔
میں نے لیمپ وہیں پٹخا اور بے تحاشا دریا کی جانب بھاگا۔ بیٹنلے کی تابع روح میرے تعاقب میں تھی۔
میں تمام رکاوٹوں اور مشکلوں کو پھلانگتا ہوا اندھا دھند دریا کی طرف بھاگ رہا تھا۔
مجھے اپنی جان خطرے میں نظر آ رہی تھی، کئی مرتبہ میں نے مڑ کر دیکھا، وہ شیطانی روح انسانی بھیس میں مسلسل تعاقب کر رہی تھی۔
دریا کی طرف میں اس لیے بھاگ رہا تھا کہ میں ایمس ولڈر کی جمع کردہ کالے جادو پر مبنی کتابوں میں پڑھا تھا کہ بدروح پانی کو عبور نہیں کر سکتیں, جب تک ان کو تابع کرنے والا ساتھ نہ ہو.
دریا کا یخ بستہ پانی چاندنی میں ایک سبک روندی کی مانند بہہ جاتا تھا۔
میں نے بے دھڑک اس میں چھلانگ لگا دی اور درمیان میں جا پہنچا ۔ جب پلٹ کر دیکھا، تو میری جان میں جان آئی، کیونکہ بدروح کے قدم دریا کے کنارے رک گئے تھے۔ وہ خونخوار نظروں سے گھورنے لگی۔
اب میں پانی کے بہائو پر تیزی سے تیرنے لگا۔ اس وقت میں یخ بستہ پانی کا قطعاً احساس نہ ہوا۔ کافی دور جا کر جب مجھے اطمینان ہوا کہ روح ادھر نہ آئے گی، تو میں دریا سے نکل کر کنارے پر آیا۔
اس وقت سچ پوچھیے تو مجھے اپنے تن بدن کا ہوش نہ تھا۔ بھیگے ہوئے کپڑے میرے بدن سے چمٹے ہوئے تھے۔ میں دیوانہ وار سڑک کی جانب دوڑ رہا تھا، جو گاؤں کی طرف جاتی تھی۔
یکایک میں نے دور سے آتی ہوئی ایک موٹر کی بتیاں دیکھیں اور میں سڑک کے عین درمیان میں کھڑا ہو کر اسے رکنے کا اشارہ کرنے لگا۔
میرے قریب آ کر رکی اور اس میں سے رابرٹ اور تھامس باہر نکلے۔ میں نے ہانپتے کانپتے انھیں سارا ماجرا سنایا۔
ویدربی چپ چاپ سارا قصہ سنتے رہے۔ پھر کوئی لفظ کہے بغیر اس نے مجھے موٹر میں بٹھایا اور گاڑی پوری رفتار سے دوڑنے لگی۔ کچھ منٹ میں ہم ولڈر ہاؤس کے باہر پہنچ چکے تھے۔
’’جلدی کرو۔‘‘ ویدربی نے مضطرب ہو کر کہا۔ اب تک مقبرے کا دروازہ توڑ دیا ہو گا۔‘‘
’’گھبراؤ نہیں، ابھی سب ٹھیک ہوا جاتا ہے۔‘‘  عامل نے اطمینان سے کہا اور جیب سے ایک لمبی مشعل نکالی اور اسے دیا سلائی سے روشن کر دیا۔
مشعل جلی اور اس میں سے نیلے رنگ کا اونچا شعلہ اٹھنے لگا۔ پھر وہ مجھ سے مخاطب ہوا۔ میرے بچے، تم قسمت کے اچھے ہو کہ دریا میں چھلانگ لگا کر جان بچا گئے۔
تم نے بڑی حماقت کی کہ ان کے مقابلے پر چلے گئے۔
انھیں فنا کرنے کے لیے مادی ہتھیاروں کی نہیں، روحانی ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔‘‘
عامل، معمر اور نحیف ہونے کے باوجود جوانوں کی سی تیزی اور جرأت دکھا رہا تھا۔ تیز تیز قدموں چلتے ہوئے ہم ایمس کے مقبرے کی طرف گئے۔ دروازہ ٹوٹا ہوا تھا اور دونوں روحیں ایمس ولڈر کی لاش اٹھائے باہر آ رہی تھیں۔
ایک ثانیے کے لیے رابرٹ رکا اور کچھ کلمات بڑبڑاتا ہوا بدروحوں کی طرف لپکا۔ روحوں نے اسے اپنی جانب آتے دیکھا تو ان کے منہ سے بھیانک چیخیں نکلیں۔
انھوں نے ایمس ولڈر کی لاش وہیں چھوڑی اور ویران باغ کی طرف بھاگیں جہاں تین صدیوں پرانا درخت خاموشی سے یہ تماشا دیکھ رہا تھا۔
عامل مشعل لیے ان کے تعاقب میں دوڑا۔ اب وہ پوری قوت سے چلایا:
’’جلدی کرو، اس درخت کے کھوکھلے تنے میں بیٹنلے کی لاش یا ڈھانچہ پڑا ہو گا۔ باہر نکال کر اسے آگ لگا دو۔‘‘
بدروحیں مسلسل چیخ رہی تھیں اور ان کی آوازوں سے گردونواح کا سارا علاقہ لرز رہا تھا۔
جب عامل درخت کے پاس پہنچا، تو بدروحوں نے اسے ڈرانے کی کوشش کی لیکن عامل قطعاً گھبرایا اور مشعل آگے کر دی۔
روحیں اب چیختی ہوئی مکان کے اس حصے کی جانب بھاگیں جہاں لائبریری کا کمرا واقع تھا۔ میں نے کانپتے ہاتھوں سے درخت کے کھوکھلے تنے میں ہاتھ ڈالا، میرا ہاتھ ہڈیوں سے ٹکرایا۔
ایک ایک کر کے میں نے ساری ہڈیاں باہر نکال لیں۔ آخر میں ایک کھوپڑی ہاتھ آئی، اسے بھی میں نے دوسری ہڈیوں کے اوپر ڈال دیا۔
عامل نے مشعل سے ان کو آگ لگا دی۔ چشم زدن میں ہڈیاں جل کر راکھ ہو گئیں۔
اب جو ہم  نے دیکھا، تو صرف بیٹنلے کی روح باقی تھی۔ اس کی تابع دوسری روح غائب ہو چکی تھی۔
’’دوسری روح کو اس ابدی عذاب سے نجات مل گئی۔‘‘
عامل نے اعلان کیا۔
’’لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ بیٹنلے کی روح واپس کیوں نہیں جاتی۔‘‘
اس نے مجھے حکم دیا کہ ایک بار پھر درخت کے تنے کی تلاشی لوں، شاید کوئی ہڈی جلنے سے باقی بچ گئی ہے۔
بیٹنلے کی روح باربار وحشیانہ انداز میں ہماری جانب حملہ آور ہوتی اور مشعل سے ڈر کر واپس لوٹ جاتی۔
رابرٹ کی پیشانی عرق عرق ہو رہی تھی۔ اس نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا:
’’خدایا، ہم پر رحم کر۔ اگر یہ مشعل جل کر ختم ہو گئی تو روح ہم سب کو ہلاک کر ڈالے گی۔‘‘
یکایک مجھے کچھ یاد آیا اور میں پاگلوں کی طرح دوڑتا ہوا مکان کے اندر گھسا۔
بیک وقت کئی کئی سیڑھیاں چڑھتا اور برآمدے میں پڑی ہوئی کرسیوں اور دوسرے سامان سے ٹکراتا اور گرتا پڑتا بالآخر اپنے کمرے میں پہنچ ہی گیا۔
میں نے کونے میں پڑا ہوا انسانی پنجہ اٹھایا اور اسے لے کر باہر بھاگا۔ مشعل بجھنے ہی والی تھی کہ میں نے یہ پنجہ زمین پر پھینک کر رابرٹ کو اشارہ کیا۔ اس نے مشعل کی بجھتی ہوئی لو سے اسے آگ لگا دی۔
بیٹنلے کی روح نے ایک ہیبت ناک چیخ ماری اور اس کے بدن میں آگ لگ گئی۔ چند سیکنڈ کے بعد راکھ کے ڈھیر کے سوا وہاں کچھ نہ تھا۔
بڈھے عامل نے یہ راکھ سمیٹ کر ایک کپڑے میں باندھ لی۔
بعدازاں ہم نے ایمس ولڈر کی لاش اٹھائی اور اسے دوبارہ دفن کیا۔
جب ہم اس کام سے فارغ ہوئے، تو صبح صادق کی رو پہلی روشنی مشرقی کنارے سے پھوٹ رہی تھی۔
ولڈر ہاؤس پر نہ جانے کب سے چھائے ہوئے تاریک اور منحوس سائے دور ہو رہے تھے۔


Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles