13 C
Lahore
Friday, February 23, 2024

Book Store

( مجروح ( قسط نمبر 20

 

( 20 مجروح ( قسط
شکیل احمد چوہان

رات کے پہلے پہر سونے سے پہلے آنیہ اپنے بیڈ پر لیٹی ہوئی ٹرین کے سفر کو یاد کر رہی تھی۔ اُس کی نظروں کے سامنے وہ سارے منظر چلنے لگے۔ کبھی اُس کے چہرے پر خفگی آ جاتی اور کبھی پھیکی مسکراہٹ چہل قدمی کرنے لگتی۔ پھر اُس  نے خود ہی سے شرماتے ہوئے اپنے جسم پر کمبل لے لیا۔ اُسے یاد آیا جب اپنی خواہش کی تکمیل کے بعد وہ سندان کے ساتھ اُس کے کندھے پر سر رکھ کر لیٹی ہوئی تھی تو وہ سندان سے کہنے لگی
بھابھی کے ابو اسٹیل مِل میں ڈیڈی کے کولیگ تھے۔۔۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انکل  نے پنڈی گھر بنا لیا۔۔۔ ہم بھائی کی برات لے کر کراچی سے پنڈی پلین پر گئے۔۔۔ واپسی پر بھابھی کی خواہش پر ہم  نے ٹرین سے کراچی تک کا سفر کیا۔۔۔ پاپا  نے پورا ڈبا ہی بُک کروا لیا تھا۔۔۔ اسی طرح کے ایک کیبن کو بھائی اور بھابھی کے لیے سجایا گیا تھا۔۔۔ تب سے میری بھی خواہش تھی کہ میں بھی اپنی سہاگ رات ٹرین میں ہی مناؤں۔۔۔ فائق کو اس بات پر میں  نے راضی بھی کر لیا تھا، مگر۔۔۔‘‘ آنیہ کے چنچل انداز کو لمحوں میں ہی اُداسی کھا گئی۔ وہ مگر سے آگے کچھ بول ہی نہ پائی، پھر وہ کہنے لگی
بھائی کی لَو میرج تھی اور میری جسٹ میرج۔۔۔ میرے اور فائق کے رشتے کے سب سے بڑے مخالف بھائی ہی تھے۔۔۔ سب نے اُن کی ہی مانی۔۔۔ یہ مرد اتنے خودغرض کیوں ہوتے ہیں؟
آنیہ کے سوال کا سندان نے کوئی جواب نہیں دیا۔ تھوڑی دیر سوالیہ نظروں سے سندان کو دیکھنے کے بعد آنیہ  نے بات شروع کی
’’تُم بھی اپنے بارے میں کچھ بتاؤ نا۔۔۔ ‘‘
فائق بھی خود غرض تھا کیا؟ سندان نے پوچھا۔
وہ ڈرپوک تھا۔۔۔ میں نے اُسے کہا کورٹ میرج کر لیتے ہیں، مگر۔۔۔ آنیہ بات کرتے کرتے چُپ ہو گئی، پھر سندان کو غور سے دیکھتے ہوئے بولی
سمندر کی طرح گہرے ہو۔۔۔ اِسی لیے مجھے ہی یادوں کے ساحل پر بھگائے جا رہے ہو۔۔۔ مجھے بھی کچھ بتاؤ
پوچھو۔۔۔!‘‘ سندان نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
تمہاری بیوی کیسی ہے؟  آنیہ نے دلچسپی سے سوال کیا۔
’’بیوی نہیں ہے۔‘‘
مر گئی کیا؟  آنیہ نے پوچھا تو سندان نے نظروں سے ہی انکار کر دیا۔
کسی سے محبت کرتے تھے کیا؟ آنیہ نے پوچھا۔
عورت کے ساتھ زبردستی کرنے والوں سے نفرت کرتا ہوں۔ سندان خاموش ہوا تو آنیہ نے جلدی سے کہا
’’میں سمجھی نہیں۔‘‘
لمبی کہانی ہے۔۔۔  یہ بول کر سندان نے گردن موڑتے ہوئے نیچے فریدہ کی طرف دیکھا تو آنیہ اُس کا منہ اپنی طرف کرتے ہوئے حق جتانے والے انداز میں بولی
یہ میرا ٹائم ہے۔۔۔ اُن کے اُٹھنے کا ابھی وقت نہیں ہوا۔  آنیہ کا جذباتی پن دیکھ کر سندان زیرِ لب مسکرایا تو آنیہ پیاسی نظروں سے اُسے دیکھنے کے بعد اُس سے چمٹ گئی۔

۞۞۞

آنیہ اپنے بیڈ سے اُٹھ کے بیٹھ گئی۔ اُس کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ اُبھری، پھر اُس نے اپنی بکھری زُلفوں کو سمیٹا اور جا کر ایزی چیئر پر دراز ہو گئی۔ اُس نے یادوں کی گرم سانسیں لیں۔ چابک کی طرح ایک دُوسرے پر پڑنے والے دو جسموں کے جب چراغ گُل ہوئے تبھی وہ ایک دُوسرے سے جدا ہوئے۔ اُسی لمحے آنیہ نے اپنے گرم کوٹ سے اپنی چھاتی کو ڈھانپتے ہوئے کہا
’’مجھے تُم سے محبت سی ہو رہی ہے۔۔۔ تُم کیا محسوس کر رہے ہو؟‘‘
کچھ نہیں۔۔۔ سندان کی صاف گوئی آنیہ کو پسند نہ آئی۔
کافر کافر سے ہو۔۔۔ بالکل میری طرح۔۔۔ تُم کراچی شفٹ ہو جاؤ! آنیہ نے زور دیتے ہوئے کہا تو سندان نے پھیکا سا مسکراتے ہوئے بتایا
میں کراچی میں ہی پیدا ہوا تھا۔۔۔ آنیہ  نے سندان کی بات کاٹتے ہوئے جلدی سے پوچھا
’’پھر حیدرآباد میں کیوں رہتے ہو؟‘‘
سندان یہ بات سنتے ہی قدرے سنجیدہ ہو گیا، پھر کہنے لگا
’’میںکہیں نہیں رہتا۔۔۔ کل پرسوں طے ہو گا کہ مجھے کہاں رہنا ہے۔‘‘
سندان کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے آنیہ بھی سنجیدہ ہو گئی۔ اُس نے پوچھا
’’کل پرسوں کیا ہو گا؟‘‘
’’یہ تو پتا نہیں۔۔۔ کل پرسوں میں خود اُسے ملنے جاؤں گا جو بارہ سال سے مجھے ڈھونڈ رہی ہے۔‘‘
کیوں؟  آنیہ نے دلچسپی سے پوچھا۔
’’وہ میرے بارہ ٹکڑے کرنا چاہتی ہے۔‘‘
’’دشمن ہے تمہاری کیا؟‘‘
’’دوست بھی نہیں۔۔۔‘‘
پھر اُسے ملنے کیوں جا رہے ہو؟  آنیہ نے فکرمندی سے کہا۔
’’اُس نے دعویٰ کیا تھا اور میں نے وعدہ۔ ‘‘
میں سمجھی نہیں۔۔۔  آنیہ نے جلدی سے بتایا۔
’’منّو بارہ سال سے مجھے ڈھونڈ رہی ہے۔۔۔ میں دعوے کو وعدے سے ہرانا چاہتا ہوں۔‘‘
’’انکل مجھے چھوڑ دو۔۔۔ چھوڑ دو مجھے۔۔۔ آہ۔۔۔
سندان کی برتھ کے نیچے والی برتھ پر سوئی ہوئی زینت نے نیند میں ڈرتے ہوئے چیخ ماری۔ آنیہ نے جلدی سے اپنے کپڑے اپنی برتھ پر پھینکے اور خود بھی اپنی برتھ پر چلی گی۔
آنیہ ایزی چیئر سے کھڑی ہو چکی تھی۔ اُس نے دیوار پر لگے وال کلاک پر نظر ڈالی۔ رات کے دس بجنے والے تھے۔ اُس نے دل ہی دل میں کہا
’’اِس وقت کہاں ہو گا؟‘‘

(بقیہ اگلی قسط میں)

۞۞۞۞

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles

Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO