31 C
Lahore
Monday, June 17, 2024

Book Store

( مجروح ( قسط نمبر 6

 

( 6 مجروح ( قسط
شکیل احمد چوہان

جیسے ہی وہ ہوٹل سے نکلا سامنے ایک ٹیکسی آ کر رُکی۔ سلمان ٹیکسی میں بیٹھتے ہی بولا
’’پنڈی ریلوے اسٹیشن‘‘
ٹیکسی چل پڑی۔ فجر کی اذان سے پہلے اسلام آباد کی سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی۔ سلمان کے ٹیکسی میں بیٹھے بیٹھے ہی فجر کی اذانیں ہونے لگیں۔
ٹیکسی پنڈی ریلوے اسٹیشن کے مرکزی داخلی دروازے سے تھوڑی دُور ہی تھی تو سلمان نے اُسے رُکنے کا بول دیا۔ اُس نے ڈرائیور سے کچھ پوچھے بغیر ہی اُسے ہزار کا ایک نوٹ دیا اور خود ٹیکسی سے اُتر گیا۔
سورج کی غیرحاضری کے باوجود محسوس ہو رہا تھا کہ رات اب سو گئی ہے اور دن جاگ گیا ہے۔ ہلکی ہلکی سی دُھند سردی بڑھانے کا سبب بن رہی تھی۔
سلمان نے اردگرد نظر دوڑائی۔ اُسے اسٹیشن سے کچھ فاصلے پر سڑک کنارے آباد ہوٹل دکھائی دیا۔ ہوٹل کے باہر بڑے سے توے پر پکتے ہوئے پراٹھوں کو اُس نے دیکھا، پھر وہ اُس طرف چل دیا۔


۞۞۞


جب وہ ناشتا کر کے ہوٹل سے نکلا تو چہل پہل بڑھ چکی تھی۔ فقیر سے لے کر موبائل والے تک سب اپنے اپنے اڈّوں پر بیٹھ کر اپنے گاہکوں کو متوجہ کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔
غریب محتاج ہوں۔۔۔ گھر میں کمانے والا کوئی نہیں ہے۔۔۔ اللہ کے نام پر دیتے جاؤ
فقیر سے تھوڑی دُور فٹ پاتھ پر ایک موبائل کمپنی کے کاؤنٹر کے سامنے پڑے ہوئے اسپیکر سے مسلسل آواز آرہی تھی
فری۔ ابھی آئیں۔۔۔ ابھی پائیں۔۔۔ موبائل سم کے ساتھ ایک گفٹ مفت
سلمان نے اپنی جیکٹ کی پاکٹ سے اپنے نوکیا کے عام سے موبائل کو نکالا، اُس میں سے سِم  نکال کر ہاتھ سے توڑی، پھر کمبل اوڑھے فٹ پاتھ پر بیٹھے فقیر کے پاس جا بیٹھا اور اُسے ایک ہزار کا نوٹ دکھاتے ہوئے بولا
’’گفٹ کے ساتھ ساتھ یہ بھی تجھے مل سکتا ہے۔‘‘
کیسے۔۔۔؟ فقیر نے للچائی ہوئی نظروں کے ساتھ پوچھا۔
اپنی سم مجھے دے دو اور وہاں سے فری سم کے ساتھ گفٹ لے لو۔
سلمان نے اُس لاوارث کاؤنٹر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ فقیر  نے جانچتی نظروں سے سلمان کو بڑے غور سے دیکھا، چہرے پر ماسک لگائے امپورٹڈ گرے جیکٹ اور شوز پہنے ایک وجیہہ مرد اُس کے روبرو اپنے گھٹنوں پر بیٹھا تھا، جس کی ایک کلائی میں کڑا اور دُوسری میں بہت سارے دھاگے بندھے ہوئے تھے، مگر اُس کے ہاتھ میں موبائل عام سا ہی تھا۔ فقیر کے دماغ  نے اُسے بتایا
’’بندہ تو مشکوک ہے۔‘‘
اگلے ہی لمحے اُس کی حرص نے اُسے کہا
’’تجھے کیا۔۔۔ تو دیہاڑی لگا۔۔۔ تیری سم کون سی تیرے نام ہے۔‘‘
فقیر نے فیصلہ کرنے کے بعد دو ٹوک انداز میں بتایا
’’ایک ہزار اور لوں گا۔‘‘
وہ کیوں؟ سلمان نے بڑے مزے سے پوچھا۔
’’رات ہی ہزار والا کارڈ نئی سم میں ڈلوایا ہے۔
فقیر نے بڑے فخر سے بتایا۔ سلمان نے ایک اور ہزار کا نوٹ جیکٹ کی جیب سے نکال کر اُس کے سامنے کر دیا۔
فقیر نے اردگرد کا جائزہ لیا۔ اُن دونوں کو کوئی نہیں دیکھ رہا تھا۔ فقیر نے جلدی سے سلمان کے ہاتھ سے وہ دو ہزار اُچک لیے اور اپنی میلی کچیلی تلائی کے نیچے سے ایک ٹچ موبائل نکال کر اُسے دکھاتے ہوئے شوخی بکھیری، پھر اپنی کمر کے پیچھے سے زنگ آلود مٹھائی کا ڈبا پکڑا۔ ڈبا کھولا تو اُس میں بہت سارے وزٹنگ کارڈ کے نیچے سے ایک نیا سم کارڈ نکال کر اُسے دیتے ہوئے بولا
’’رات ہی نئی سم لی تھی۔‘‘
سلمان نے فقیر کے ہاتھ سے سم کارڈ پکڑتے ہوئے گومگو کے انداز میں پوچھا
’’ایکٹیو کروانی ہے کیا؟‘‘
’’سم کے چلنے کے بعد ہی اُس میں لوڈ ہوتا ہے۔۔۔ چوہدری جبار حرام نہیں کھاتا۔‘‘
فقیر کے منہ سے چوہدری جبار سننے کے بعد سلمان کو تھوڑی سی حیرت ہوئی، پھر اُس  نے اپنے مطلب کی بات پوچھ لی
’’پنڈی میں چند دن چھپنے کے لیے کوئی مناسب سی جگہ مل سکتی ہے کیا؟‘‘
’’آئے کدھر سے ہو؟‘‘
جہلم سے۔۔۔ سلمان نے اردگرد دیکھتے ہوئے بتایا۔
’’ایک نیلا نوٹ اور لوں گا۔
فقیر نے فوراً کہا۔ سلمان نے ہزار کا ایک اور نوٹ نکال کر اُس فقیر کو دے دیا۔ فقیر نے اُسی زنگ زدہ ڈبے سے ایک کارڈ نکال کر سلمان کو تھماتے ہوئے کہا
یہاں سے سیدھے جاؤ۔۔۔ اُلٹے ہاتھ گلستان ہوٹل آئے گا۔۔۔ اندر جا کر بتانا اسٹیشن والے چوہدری جبار نے بھیجا ہے۔
سلمان کارڈ لے کر وہاں سے اُٹھنے لگا تو ایک لڑکے نے فقیر کے سامنے ناشتا رکھتے ہوئے کہا
یہ لے چوہدری! تیرا ناشتہ۔‘‘ وہ لڑکا یہ کہتے ہی موبائل کاؤنٹر کی طرف چل دیا۔ سلمان کھڑا ہو چکا تھا۔ اُس نے فقیر کی طرف دیکھتے ہوئے بڑے خلوص سے کہا
’’شکریہ چوہدری جبار۔۔۔‘‘
تم نے اپنا نام تو بتایا ہی نہیں۔ چوہدری جبار۔۔۔ یعنی فقیر نے پوچھا۔
ساحل۔۔۔
فقیر کو اپنا نیا نام بتانے کے بعد سلمان وہاں سے چلنے لگا تو فقیر نے آناً فاناً ہی اگلا سوال پوچھ لیا
’’لڑکی کدھر ہے؟‘‘
’’سب کچھ آج ہی پوچھ لو گے کیا؟
ساحل نے چلتے چلتے فقیر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ سامنے سے وہ کسی سے ٹکرا گیا۔
’’کیوں نازک بدن کو کندھا مارتے ہو؟
کسی نے مسکراتے ہوئے شائستہ لہجے کے ساتھ شکوہ کیا۔ ساحل نے بغور اُس کی طرف دیکھا۔ بغیر میک اپ کے ایک ہیجڑے نے گرم چادر کا نقاب اپنے چہرے سے ہٹایا۔ اُس نے مردانہ شلوار قمیض پہن رکھی تھی۔
ساحل نے اُس کے قدموں کی طرف دیکھا۔ اُس کے پیروں میں پلاسٹک کی ہوائی چپل تھی۔ یہ دیکھتے ہی ساحل نے بڑی ہمدردی سے پوچھا
’’گرو۔۔۔! تمھیں سردی نہیں لگتی کیا؟‘‘
صاحب۔۔۔! سردی، گرمی سے زیادہ بھوک لگتی ہے۔ ہیجڑے کے جملے پر ساحل نے لمحہ بھر غور کیا، پھر اپنی جیکٹ کی اندرونی پاکٹ سے ہزار ہزار کے پانچ نوٹ نکال کر اُسے دیتے ہوئے بولا
’’لنڈے سے کچھ گرم کپڑے اور بوٹ لے لینا۔‘‘
ہیجڑے نے فقیر کی عقابی نظروں سے نوٹوں کی تعداد چھپاتے ہوئے جلدی سے شلوار کی جیب میں انھیں رکھ لیا۔ ساحل چل پڑا تو ہیجڑے نے یک لخت پوچھا
صاحب۔۔۔! بھوک کا کیا کروں؟ ہیجڑے کی بات سنتے ہی ساحل نے پلٹ کر بتایا
’’گرو۔۔۔! میں دولہ ہوں، مولا نہیں‘‘
ہیجڑے نے ماسک پہنے ہوئے ساحل کے چہرے کو غور سے دیکھا، پھر کہنے لگا
’’میں بھی چیلا ہوں، گرو نہیں‘‘
ساحل نے ہیجڑے کی بات پر گردن ہلاتے ہوئے کہا
مولا نے تو ہر بندے میں گرو بننے کی صلاحیت رکھی ہے، مگر وہ خود ہی ساری زندگی چیلا بنا رہتا ہے۔
ساحل کے اِس جملے سے ہیجڑا سوچ میں پڑ گیا۔ ساحل چلتا ہوا اُس سے دُور جا چکا تھا۔ ہیجڑا اُسی جگہ کھڑا رہا، جب تک ساحل سڑک کا موڑ مڑتے ہوئے اُس کی نظروں سے اوجھل نہیں ہو گیا۔
شمیم۔۔۔ آ۔۔۔ ناشتہ کر لے۔‘‘ فقیر کے بلانے پر شمیم نامی ہیجڑے  نے اُس کی طرف دیکھا، پھر وہ چلتا ہوا فقیر کے پاس بیٹھتے ہوئے کہنے لگا
’’ایسے نمونے آج کل کدھر ملتے ہیں۔‘‘
فقیر نے حلوے والے شاپر کا منہ کھولتے ہوئے کہا
’’گلستان ہوٹل میں۔۔۔ جا کے مل لینا۔‘‘
شمیم پوری کا نوالہ توڑتے ہوئے کہنے لگا
’’سمجھ نہیں آئی۔۔۔‘‘
فقیر نے چنے والے شاپر سے پوری کی مدد سے چنوں کو مسلتے ہوئے اپنے منہ میں ڈالا، پھر کھاتے کھاتے کہنے لگا
’’جہلم سے لڑکی نکال کے لایا ہے۔‘‘
’’اوہ۔۔۔
یہ بولنے کے بعد شمیم کچھ سوچتے ہوئے ہلکا سا مسکرایا۔ ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد شمیم نے چائے منگوائی۔
جیبیں گرم کرنے کے بعد اب وہ دونوں گرما گرم چائے سے اپنے جسموں کو گرما رہے تھے۔ اتنے میں ایک ٹیکسی اُن کے پاس سے گزری۔
ٹیکسی میں بیٹھے ہوئے ساحل نے اُن دونوں کو ایک نظر دیکھا۔ وہ دونوں چائے کی چسکیاں لینے کے ساتھ ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
میری دو کی۔۔۔ تیری کتنے کی لگی؟ فقیر نے جانچتی نظروں سے شمیم کی طرف دیکھ کر پوچھا۔
’’میری بھی دو کی۔۔۔‘‘
’’چل جھوٹا۔۔۔ فقیر نے چائے کا خالی کپ فٹ پاتھ پر رکھتے ہوئے کہا۔


(بقیہ اگلی قسط میں)

۞۞۞۞

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles