42.1 C
Lahore
Friday, July 12, 2024

Book Store

( مجروح ( قسط نمبر 46

 

( 46 مجروح ( قسط
شکیل احمد چوہان

۞۞۞

’’کیسے؟‘‘ سرمد کا یہ سوال منشا کے دماغ میں اٹک گیا تھا۔ وہ اپنے بنگلے کے ٹیرس پر بیٹھی ہوئی سامنے جامن کے پیڑ پر شہد کی مکھیوں کے جھلڑ کو غور سے دیکھ رہی تھی۔
’’بی بی سرکار۔۔۔!‘‘
عطا کی آواز نے اُس کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی۔ عطا گردن جھکائے کھڑا تھا۔
’’مطلب ۔۔۔ وہ نہیں ملا۔‘‘ منشا نے کچھ پوچھے بغیر ہی بتا دیا۔
عطا نے جلدی سے صفائی پیش کی:
’’بی بی سرکار! ہزاروں بندے اُس کے پیچھے لگائے ہیں، مگر۔۔۔ میرے خیال میں ہمیں پولیس کی مدد لینی چاہیے۔‘‘
’’کیا بتائیں گے پولیس والوں کو۔۔۔؟ گاؤں میں تو ہم نے پولیس کو بھنک بھی نہیں پڑنے دی تھی۔۔۔ یہاں ۔۔۔؟عطا۔۔۔! اُس کے پاس رمشا کی وہ تصویریں۔۔۔‘‘ منشا کی آواز اُس کے حلق میں ہی دب گئی۔ اُس نے اپنا ماتھا پکڑ لیا۔
عطا وہاں سے جانے کے لیے پلٹا تو سامنے سے ملازمہ آتی ہوئی دکھائی دی۔ملازمہ نے پاس آتے ہی بتایا:
’’عطا صاحب۔۔۔! رمشا بی بی کی سہیلی ثمرہ آئی ہے۔‘‘
یہ سنتے ہی منشا کا رنگ ڈھنگ لمحوں میں ہی بدل گیا۔ وہ جوش سے کھڑی ہو گئی۔ جیسے اُس کے ہاتھ کوئی کڑی لگ گئی ہو۔ عطا نے یہ دیکھا تو اُس نے بڑے تحمل سے کہا:
’’اُسے ڈرائینگ روم میں بٹھاؤ۔۔۔ چائے وائے پلاؤ۔۔۔ بی بی سرکار آتی ہیں۔‘‘
حتی الوسع کوشش کے باوجود منشا اپنے جذبات کو چھپانے میں بار بار ناکام ہو رہی تھی۔ ایک بائیس سالہ لڑکی سے زیادہ وہ سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی تھی، پھر بھی مزید سنجیدگی اور معاملہ فہمی کی ضرورت تھی۔ جہاں وہ چوک جاتی، عطا آگے بڑھ کر بات سنبھال لیتا۔

۞۞۞

ثمرہ چائے پینے کے ساتھ ساتھ اپنے سامنے سجے چائے کے لوازمات پر بھی ہاتھ صاف کر رہی تھی۔ اُس کے چہرے پر سکون ہی سکون تھا۔ دروازے کی اوٹ سے یہ دیکھنے کے بعد منشا نے عطا کی طرف مشاورتی نظروں سے دیکھا۔ عطا نے منہ بسورتے ہوئے گردن کو نفی میں ہلا دیا۔ منشا نے ٹھنڈی سانس بھری اور ڈرائینگ روم میں داخل ہو گئی۔ عطا اُس کے پیچھے تھا۔ منشا کو دیکھتے ہی ثمرہ کھڑی ہو گئی۔ اُس نے جلدی سے سینڈوچ نگلتے ہوئے پوچھا:
’’رمشا کدھر ہے؟‘‘
’’مر گئی۔‘‘ منشا نے جھپاک سے بتا دیا۔ ثمرہ کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا ۔ منشا صوفے پر بیٹھی تو ثمرہ نے بھی بیٹھتے ہوئے پوچھا:
’’تم مذاق کر رہی ہو۔۔۔ نا؟‘‘
’’تمھارا میرا مذاق ہے کیا۔۔۔؟‘‘ منشا نے تیکھے انداز میں سوال کے اُوپر سوال کر دیا۔
لمحوں میں ہی ثمرہ کی رنگت بدل گئی۔ وہ بڑی مشکل سے پوچھ پائی:
’’کب۔۔۔ کیسے۔۔۔؟‘‘
’’خودکشی کی وجہ تو تمھیں پتا ہونی چاہیے۔‘‘ منشا نے روکھے انداز میں کہا۔
’’خودکشی۔۔۔؟‘‘ ثمرہ ششدر تھی۔
’’کیوں کی اُس نے خودکشی؟‘‘ منشا نے ثمرہ کو آنکھیں دکھاتے ہوئے پوچھا۔
’’مجھے کیا معلوم؟‘‘ ثمرہ نے احتجاجی لہجہ اپنایا۔
’’تم اُس کے سب سے زیادہ قریب تھی۔‘‘ منشا نے حتمی انداز میں بتایا۔ ثمرہ نے اپنی جگہ سے اُٹھتے ہوئے بھرائی ہوئی آواز میں پوچھا:
’’تم سے بھی زیادہ قریب تھی کیا؟‘‘
منشا کے پاس ثمرہ کے اِس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ ثمرہ نے ڈرائینگ روم کے ایک کونے میں کھڑے ہوئے عطا پر سوالیہ نظر ڈالی۔ عطا بھی ٹٹولتی نظروں سے ثمرہ کو ہی دیکھ رہی تھا۔ یکایک ثمرہ کی آنکھیں بھر آئیں۔ وہ چلتی ہوئی منشا کے پاس پہنچی۔ منشا بھی اُٹھ گئی۔ منشا کو غور سے دیکھتے ہوئے ثمرہ کے آنسو چھلک گئے۔ اُس نے اُلٹی ہتھیلی سے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا:
’’میں رمشا کے قریب تھی، مگر تم نے دُور کر دیا۔‘‘
اپنی بات کہنے کے بعد ثمرہ وہاں سے چلی گئی۔ منشا بت بنی کھڑی رہی۔

(بقیہ اگلی قسط میں)

۞۞۞۞

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles