31 C
Lahore
Monday, June 17, 2024

Book Store

( مجروح ( قسط نمبر 40

 

( 40 مجروح ( قسط
شکیل احمد چوہان

۞۞۞

رمشا ماڈل ٹاؤن پارک کے اڑھائی کلومیٹر لمبائی والے گول ٹریک پر جاگنگ کر رہی تھی۔ اُسے خود کی طرح ٹریک سوٹ پہنے ہوئے سامنے سے سرفراز آتا ہوا دکھائی دیا۔
رمشا  نے سرفراز کو دیکھتے ہی اپنی رفتار کم کی، مگر سرفراز نے اُس پر توجہ ہی نہ دی۔ وہ اپنی دُھن میں دوڑے چلا جا رہا تھا۔ سرفراز نے رمشا کو دیکھ کر اَن دیکھا کر دیا تھا۔ رمشا نے رُکنے کے بعد پلٹ کر سرفراز کو دیکھا۔ وہ اُس سے دُور جا رہا تھا۔
سرفراز کے نظرانداز کرنے پر رمشا کو غصہ آیا۔ وہ اپنی ہی سمت میں تیز تیز بھاگنے لگی۔ وہ پھر سے سرفراز کے روبرو ہونا چاہتی تھی، مگر پیچھا کر کے نہیں، بلکہ سامنے سے۔ اگلے چند منٹ کے اندر اندر وہ پھر سے سرفراز کے سامنے تھی۔ سرفراز نے اِس بار بھی اُس پر توجہ نہ دی۔ وہ پھر سے اُس کے قریب سے گزر گیا۔
رمشا کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا۔ وہ اُدھر سے واپس مُڑی، ٹریک سے اُتری اور گراؤنڈ میں سے بھاگتے ہوئے پارک کے ایک نمبر گیٹ سے باہر نکل گئی۔ وہ جاتے ہی اپنی سفید کار کے اندر بیٹھ گئی۔ ڈرائیور کے کار میں بیٹھتے ہی اُس نے پھولی ہوئی سانس کے ساتھ حکم دیا:
’’ثمرہ کے ہاسٹل چلو۔۔۔ ‘‘

۞۞۞

اگلے دن سرفراز ماموں مومن جوس کارنر پر بیٹھا ہوا ایک مسمی کا چاقو سے چھلکا اُتار رہا تھا۔ ثمرہ مٹکتی مٹکتی اُس کے پاس پہنچی۔ آج وہ باقاعدہ تیار ہو کر آئی تھی۔
ایک سیب کا شیک دینا۔  ثمرہ کے آرڈر کرنے پر اُس نے ایک نظر اُسے دیکھا، پھر جوسر کے جگ میں دودھ، چینی اور چھلے ہوئے سیب کے ٹکڑے ڈالنے لگا۔ اس کے بعد سرفراز نے جگ بند کر کے جوسر چلا دیا۔ جوسر کی آواز گونجنے لگی۔ جتنی دیر جوسر چلتا رہا، ثمرہ ٹکَر ٹکَر سرفراز کو دیکھتی رہی ۔ سرفراز کو خبر تھی، مگر وہ اَنجان بنا رہا۔ جیسے ہی سرفراز نے ملک شیک گلاس میں ڈالنے کے لیے جگ اُٹھایا۔ ثمرہ فوراً بولی
’’شیشے کے گلاس میں ڈالنا۔‘‘
سرفراز نے ایسا ہی کیا۔ اُس نے اسٹرا  گلاس میں ڈالتے ہوئے ثمرہ کو گلاس پیش کیا تو ثمرہ نے گلاس پکڑنے کی آڑ میں سرفراز کے ہاتھ کو چھوتے ہوئے رومانوی انداز میں کہا
’’کہیں باہر ملیں؟‘‘
میں غریب آدمی ہوں مس۔۔۔! سرفراز نے سنجیدگی سے بتایا۔
کیا مطلب ہے تمھارا؟ ثمرہ نے شیشے کا گلاس پکڑتے ہوئے پتھر  لہجے میں پوچھا۔
کوئی مطلب نہیں ہے جی۔۔۔! سرفراز نے عاجزی سے جواب دیا اور اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔
ثمرہ شیک پینے کے دوران بھی اُسی کو تاڑتی رہی، مگر اُ س نے دھیان ہی نہیں دیا۔ ثمرہ نے ملک شیک ختم کیا۔ کاؤنٹر پر گلاس پٹخا۔ پیسے پھینکے اور منہ پھلا کے وہاں سے چلی گئی۔

۞۞۞

جیسے ہی ثمرہ یونیورسٹی کے گیٹ جو برکت مارکیٹ سے شیخ زید کی طرف جانے والی سڑک پر واقع ہے اُس گیٹ سے باہر نکلی جبران جپہ ایک کھٹارا سی موٹرسائیکل لیے کندھے پر کیمرے والا بیگ لٹکائے اُس کے انتظار میں کھڑا تھا۔ ثمرہ بغیر کچھ بولے موٹرسائیکل پر جبران کے پیچھے بیٹھ گئی اور کہنے لگی
میں اُسے جھوٹ بھی بتا دوں تو وہ پھر بھی اپنی مرضی ہی کرے گی۔ یہ سنتے ہی جبران کا منہ اُتر گیا۔ وہ کچھ نہ بولا تو ثمرہ اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے بڑی رازداری سے بولی
’’آفرین کے ڈیڈی کی بھی دو شوگر ملز ہیں۔۔۔ اُس پر ٹرائی مارو۔۔۔ ‘‘
یہ سنتے ہی جبران نے بڑے جوش سے موٹرسائیکل کی کک ماری اور زور زور سے ریس دینے لگا۔ موٹرسائیکل ظاہر کے ساتھ ساتھ انجن کی بھی کھٹارا ہی نکلی۔ اپنے پیچھے اُس نے دُھواں ہی دُھواں کر دیا تھا۔
شوگر ملز والی بات تو کلاس میں کوئی نہیں جانتا نا۔۔۔؟  جبران نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا۔
اِسی لیے تو تمھیں بتا رہی ہوں۔‘‘ ثمرہ نے جبران کے کان کے پاس اپنے ہونٹ لے جاتے ہوئے بتایا۔
جبران نے جلدی سے پوچھا
’’تمھیں کس نے بتائی یہ بات؟‘‘
’’جس پر تم سب فقرے لائن مارتے ہو۔‘‘
’’مطلب رمشا نے؟‘‘
ثمرہ نے گردن ہاں میں ہلانے کے بعد کہا
رمشا کو دیکھ دیکھ کے آفرین  نے اپنی حیثیت کسی پر ظاہر ہی نہیں ہونے دی۔۔۔ ایک تو وہ کوجی۔۔۔ اُوپر سے رمشا نے اُس کے ذہن میں یہ بات ڈال دی کہ لڑکے میری دولت کی وجہ سے مجھے سیٹ کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ اس وجہ سے اُس نے آفرین کو اپنی حیثیت ظاہر نہ کرنے کی تاکید کر رکھی ہے۔
یہ سنتے ہی جبران سوچ میں پڑ گیا۔ ثمرہ نے اُس کی سوچ کے سلسلے کو توڑتے ہوئے جلدی سے کہا
اِس سے پہلے کہ وارڈن کا کوئی جاسوس دیکھے، نکلو یہاں سے۔۔۔  جبران کی موٹرسائیکل زہریلا دُھواں چھوڑتی وہاں سے چلی گئی۔

۞۞۞

میں لائن مارتی رہی، مگر وہ لائن پر آیا ہی نہیں۔۔۔ وہ خوددار ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی شریف بھی ہے۔
رمشا کے بیڈروم میں بیٹھی ہوئی ثمرہ اُسے بتا رہی تھی۔ ثمرہ کے سامنے بیکری اور گھر کی بنی ہوئی بے شمار اشیاء چائے کے ساتھ پیش کی گئی تھیں۔ اس کی رپورٹ سننے کے بعد رمشا سوچ میں پڑ گئی۔
ثمرہ نے چینی کی پلیٹ میں کیچپ نکالی، پھر دم کباب کو کیچپ لگا لگا کے کھانے لگی۔ کباب کھاتے کھاتے اُس نے رمشا کی سوچ کے سلسلے کو توڑا
’’مجھے ڈر ہے کہیں وہ ماموں مومن کی بیٹی کے لیے ہاں نہ کر دے۔‘‘
ثمرہ کے اِس خدشے کا رمشا نے کوئی جواب نہیں دیا۔ رمشا اپنی ایزی چیئر سے اُٹھی اور واش روم میں چلی گئی۔ کوئی دس منٹ بعد رمشا واش روم سے برآمد ہوئی۔ اس دوران صوفے پر بیٹھی ہوئی ثمرہ نے شیشے کی میز پر رکھی ہوئی ہر چیز کو چکھا۔ پیزے کا سلائس منہ میں ڈالتے ہوئے ثمرہ کے ہاتھ رُک گئے جب اُس نے رمشا پر غور کیا۔ رمشا پنک رنگ کا ایک ٹریک سوٹ پہنے اُس کے سامنے کھڑی تھی۔
اُس نے اپنے لمبے گیسو، پونی ٹیل کے ساتھ مضبوطی سے باندھ رکھے تھے۔ بغیر میک اَپ کے بھی اُس کے رُخساروں پر لالی تھی۔ وہ الگ بات ہے لالی کہیں ہلکی اور کہیں گہری تھی۔ ثمرہ نے پیزے کے سلائس کو دانتوں سے کاٹنے کے بعد اُسے چباتے چباتے پوچھا
پنک سولجر کس پر حملہ کرنے جا رہی ہے؟‘‘
تمھاری پسند کا کھانا بن رہا ہے۔۔۔ تب تک تم کوئی فلم دیکھو۔۔۔ کھانے کے بعد ہاسٹل ڈراپ بھی کر دوں گی۔
پنک سولجر  نے لڑائی کی جگہ خوشحالی کی بات کی اور بیڈ روم کا دروازہ کھول کر باہر جانے لگی تو ثمرہ بولی
’’ہاسٹل سے میں  نے سامان لینا ہے، پھر تم مجھے لاری اڈّے ڈراپ کرو گی۔‘‘
لاری اڈّے کیوں؟  رمشا نے پوچھا۔
بتایا تو تھا کزن کی شادی ہے۔۔۔ تم بھی چلتی تو میرے ٹھاٹھ بڑھ جاتے۔۔ ادھر ٹاؤن شپ میں ہی اُس کی بارات آنی ہے۔۔۔ دو تین دن ہی کی تو بات ہے۔۔۔ چلو نا یار۔۔۔
سوری۔۔۔! میں نہیں جا سکتی۔  رمشا نے یہ کہا اور وہاں سے چلی گئی۔

(بقیہ اگلی قسط میں)

۞۞۞۞

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles