30 C
Lahore
Saturday, May 18, 2024

Book Store

( مجروح ( قسط نمبر 26

 

( 26 مجروح ( قسط
شکیل احمد چوہان

سیڑھیاں ختم ہوتے ہی دو باڈی گارڈ ٹونی اور گوشی کھڑے تھے۔ سخت سردی میں بھی اُن دونوں نے اپنے ڈولے دکھانے کے لیے ہاف بازو شرٹس پہن رکھی تھیں۔ سرمد چھت پر جانے لگا تو ٹونی نے اپنے بازو کی دیوار سرمد کے سامنے تان دی۔ گوشی نپے تُلے انداز میں بولا
’’سر۔۔۔! پاس پلیز۔۔۔‘‘
سرمد نے ٹونی کی طرف دیکھا، پھر سنجیدگی سے بتایا
’’کشمالہ میری کزن ہے اور ستارہ بائی میری سگی خالہ۔‘‘
آپ کی ماں کا نام؟   گوشی نے بھی بڑے اعتماد سے سوال کیا۔
’’گوہر جان۔ سرمد نے آگاہ کیا۔
اور نانی کا نام؟  گوشی کا اگلا سوال تھا۔
’’بیگم نیلوفر جان۔‘‘
یہ سنتے ہی گوشی نے ٹونی کو آنکھ کا اشارہ کر دیا۔ اُس نے آگے سے بازو ہٹا دیا۔ سرمد کوٹھے پر چلا گیا۔ اُوپر سے کوٹھا کیا تھا، شیش محل کا بچپن ہی تھا۔ سائز میں چھوٹا، مگر سجاوٹ پوری۔
سرمد مجرے والے مرکزی ہال میں داخل ہونے لگا تو ایک لڑکی نے اُس کے ہاتھ پر عطر لگایا تو دُوسری نے لیدر کی جیکٹ کی اُوپری پاکٹ میں گلاب کی ایک کلی لگا دی۔
وہ مرکزی ہال کے اندر داخل ہوا تو سامنے ایک چھوٹا سا برآمدہ تھا جس میں ایک درمیانی عمر کی خاتون چندا ہاتھ میں پنک ڈائری تھامے اندر سے باہر نکلی۔
چندا  نے جب دیکھا کہ سرمد جوتے اُتارے بغیر ہی اندر گھسا چلا جا رہا ہے تو اُس نے نظروں سے ہی سرمد کو لیدر کے بوٹ اُتارنے کی گزارش کی۔
سرمد نے نیچے دیکھا تو تلّے والے کھسّے کئی ایمپورٹڈ شوز اُن کے ساتھ کئی دیسی جوتیاں بڑی ترتیب سے ایک ہی قطار میں رکھی ہوئی تھیں۔
اس  نے بھی اپنے بوٹ اُدھر ہی اُتار دیے اور مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوا تو اُس دروازے کے دائیں بائیں بھی دو حسین لڑکیاں کھڑی تھیں۔ ایک نے پیتل کے بڑے سے گول تھال میں گجرے سجائے ہوئے تھے اور دُوسری نے اپنے تھال میں میٹھے، تمباکو والے اور کئی قسم کے پان کھلے ہی رکھے ہوئے تھے۔ سرمد نے کوئی گجرا نہیں اُٹھایا تو پان والی لڑکی خوشبو نے میٹھی زبان میں عرض کی
’’حضور۔۔۔! پان ہی لے لیجیے!‘‘
سرمد نے نفی میں گردن ہلائی اور آگے بڑھ گیا۔ موٹے سے کارپٹ کے اُوپر ایرانی قالین بچھے ہوئے تھے جن کے اُوپر گاؤ تکیے بڑی ترتیب سے رکھے ہوئے تھے۔
جب سرمد جائزہ لے چکا تو اُس نے محسوس کیا کوئی اُس کے پیچھے کھڑا ہے۔ اُس نے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو چندا کی مسکراہٹ نے اُس کا استقبال کیا۔
چندا  نے ایک بار پھر سے اپنے لفظ بچاتے ہوئے سرمد کو ایک طرف بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ سرمد نے بیٹھتے ہوئے اردگرد نظر دوڑائی۔ شہر کے معززین کہہ لیں یا امیرترین سب ہاتھوں میں گجرے پہنے اور منہ میں پان ڈالے جگالی کر رہے تھے۔ سب کے پہلو میں اُگال دان پڑے ہوئے تھے۔

۞۞۞

کتنے پاس تمہارے پاس نہیں آئے؟  ستارہ بائی نے گوشی کے قریب کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا۔ وہ دونوں نیچے سیڑھیوں کی طرف دیکھ رہے تھے۔ گوشی نے چونک کر ستارہ بائی کی طرف دیکھا، پھر سیڑھیوں سے نیچے دیکھتے ہوئے بولا
’’وہی ایک۔۔۔ اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔‘‘
افروز سبحانی؟  ستارہ نے آنکھیں مٹکاتے ہوئے پوچھا۔
جی باجی۔۔۔!‘‘ گوشی کا جواب سننے کے بعد جیسے ہی ستارہ بائی وہاں سے جانے لگی تو وہ فوراً بولا
’’گوہر خالہ کا بیٹا آیا ہے۔‘‘
ستارہ بائی کے لمحوں میں ہی تیور بدل گئے۔ وہ دانت پیستے ہوئے بولی
’’کوئی رنگ باز تمھیں چُونا لگا گیا ہے۔‘‘
گوشی نے بڑے اعتماد سے کہا
’’نہ باجی نہ۔۔۔ اتنا حسین بندہ گوہر خالہ کا بیٹا ہی ہو سکتا ہے۔‘‘
ستارہ بائی اپنے بیٹے گوشی کے جواب سے زیادہ متاثر نہ ہوئی اور خود اُس رنگ باز کو دیکھنے کے لیے اندر کی طرف لپکی۔ ستارہ بائی نے ہال کے اندر بیٹھے ہوئے سارے چہروں کو لمحوں میں ہی اپنی نظروں سے  اسکین کر لیا تھا۔ سرمد کے چہرے پر جا کر اُس کی مشین خراب ہو گئی۔
وہ ٹکَر ٹکَر اُسے ہی دیکھے چلی جا رہی تھی۔ اتنے میں افروز سبحانی اپنے دو محافظوں کے ساتھ ہال میں داخل ہوا۔ محافظوں کو دیکھتے ہی ستارہ بائی کو تپ چڑھ گئی۔
وہ افروز سبحانی کے پاس گئی اور دانت پیستے ہوئے بولی
’’سبحانی صاحب۔۔۔! آپ کو پہلے بھی بتایا تھا میرے کوٹھے پر اسلحہ اور محافظ لانے کی اجازت نہیں ہے۔‘‘
یہ یہاں سے نہیں جائیں گے۔
افروز سبحانی نے شراب کے نشے سے زیادہ اپنی طاقت کے نشے میں جواب دیا۔
میری کشمالہ پری ہے پری۔۔۔ کوئی چائنہ کی گڑیا نہیں جو ہر کوئی اُسے دیکھتا پھرے۔۔۔ یہ جو سب شرفا بیٹھے ہیں سب کے سب اپنے اپنے محافظوں اور ڈرائیوروں کو اُدھر مین سڑک پر ہی چھوڑ کے آئے ہیں۔
ستارہ بائی نے جلالی انداز میں گھومتے ہوئے اشارہ کیا۔ سرمد اِس مکالمے بازی سے محظوظ ہو رہا تھا۔ ہال میں مکمل خاموشی تھی۔
خاموشی کا سینہ پائل کی آواز  نے چیر کے رکھ دیا۔ مہندی رچے پیروں، ایک ہاتھ میں کانچ کی چوڑیاں اور دُوسرے میں سونے کے کنگن پہنے پری چہرہ کشمالہ کی آمد پر سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔
افروز سبحانی نے بیٹھتے ہوئے اپنے محافظوں کو وہاں سے دفع ہو جانے کا اشارہ کیا۔
کشمالہ  نے کالا لباس پہن رکھا تھا جس پر گولڈن کام ہوا تھا۔ جیسے ہی وہ ہال کے درمیان میں فانوس کے نیچے آکر کھڑی ہوئی، اُس  نے گھوم کر ہر طرف سب کو سلام پیش کیا۔ اس کے بعد وہ بڑی نزاکت سے بیٹھ گئی۔ ہال کے دروازے کو بند کر دیا گیا۔ دونوں دروازوں پر کھڑی ہوئی لڑکیاں بھی تیار ہو کے آ گئیں۔
چندا نے کشمالہ کو گھنگھرو پیش کرنے کے بعد انھیں باندھنے میں اُس کی مدد بھی کی۔ سازندے بھی ہال میں داخل ہو کر اپنے اپنے سازوں کو ترتیب سے رکھنے لگے۔
جب سب تیار ہو گئے تو کشمالہ نے ستارہ بائی کی طرف دیکھا جو اُس کو ہی بڑی فخریہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ کشمالہ نے نظروں سے ہی اجازت مانگی۔ ستارہ بائی نے اُس کی بلائیں لیتے ہوئے اپنی پلکوں کو بڑی اَدا سے جھکاتے ہوئے اجازت دے دی۔ ستارہ بائی کو چندا نے پان پیش کیا۔
دو ہزار بیس میں بھی ستارہ بائی کے کوٹھے کو دیکھ کر یہ گمان ہوتا جیسے یہ صدیوں پہلے والا ’’راجا اِندر کا اکھاڑا‘‘ ہو۔ کشمالہ کے ساتھ ساتھ دُوسری چار لڑکیاں بھی ایک سے ایک قیامت تھیں۔ مجرا شروع ہو گیا۔ ساتھ ہی کشمالہ پر نوٹوں کی بارش ہونے لگی۔ چندا اور طبلہ بجانے والے کا ایک چھوٹا۔۔۔ لال، ہرے، نیلے اور کچھ کچھ پیلے نوٹوں کو اکٹھے کرنے میں لگ گئے۔

۞۞۞


مجرا ختم ہوا تو سب ہولے ہولے جانے لگے۔ افروز سبحانی اور سرمد وہاں سے نہیں اُٹھے۔ افروز سبحانی نے ایک کال کی اور ساتھ ہی اُٹھتے ہوئے بولا
ستارہ بائی۔۔۔! آج ہر حال میں کشمالہ کو اپنے ساتھ لے کر جانا ہے۔
دیکھیں سبحانی صاحب۔۔۔! میں نے پہلے بھی آپ کو بتایا تھا اگلے مہینے کشمالہ کی نتھ اُتروائی کی رسم ہے۔‘‘
ساتویں بار۔۔۔  چندا نے دھیرے سے کہا۔
’’اُس دن جو زیادہ بولی لگائے گا،کشمالہ اُسی کے ساتھ جائے گی۔ ‘‘
افروز سبحانی کے دو کے بجائے چار گارڈ ہال میں داخل ہو چکے تھے۔
انھیں دیکھتے ہی افروز سبحانی نے اپنے سیدھے ہاتھ سے کشمالہ کی اُلٹی کلائی تھام لی۔ کانچ کی رنگ برنگی کئی چوڑیاں ٹوٹ کر نیچے قالین پر خاموشی سے گر گئیں۔
اس کے باوجود سرمد کو چوڑیوں کے ٹوٹنے کا بہت شور سنائی دیا۔ کشمالہ بڑی نزاکت سے اپنی کلائی چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی۔ چاروں لڑکیاں اندر سے اپنے اپنے موبائل نکال لائیں اور دو ویڈیو بنانے لگیں۔ اُن میں سے ایک گجرے والی اور دُوسری پان والی خوشبو تھی۔
دو کو ستارہ بائی نے نظروں سے ہی کال ملانے کا اشارہ کر دیا۔ اُنھوں  نے کانوں سے اپنے اپنے موبائل لگا لیے۔ کشمالہ کا بھائی گوشی اور ٹونی بُت بنے کھڑے تھے۔ سارے سازندے وہاں سے نو دو گیارہ ہو گئے۔ ستارہ بائی نے بڑے تحمل سے کہا
’’سبحانی صاحب۔۔۔! بے بی کو چھوڑ دیجیے۔۔۔ اس کی کلائی زخمی ہو جائے گی۔‘‘
اب یہ کلائی زخموں سے چوُر چوُر ہو چکی ہے۔
سرمد کی ماں کا ایک جملہ اُس کی سماعتوں سے ٹکرایا۔ سرمد کا دماغ گھوم گیا۔ اُس نے آگے بڑھ کر ایک زوردار تھپڑ افروز سبحانی کے گال پر جڑ دیا۔ افروز سبحانی کے زمین پر گرتے ہی اُس کے محافظوں نے اکیلے سرمد پر دھاوا بول دیا۔
پہلے تو سرمد اُن چاروں سے باری باری لڑتا رہا، پھر وہ سرمد پر بھاری پڑنے لگے۔
ایک نے سرمد کو کمر سے دبوچ رکھا تھا اور دو نے کندھوں سے جکڑ لیا۔ چوتھے نے سرمد پر مکّوں کی بارش کر دی۔ افروز سبحانی کے چہرے پر شدید غصہ تھا۔ اُس نے اپنے چوتھے محافظ کو روکا تو سرمد کا چہرہ صحیح طرح سے دکھائی دینے لگا۔
اُس کے ماتھے سے خون نکل آیا تھا۔ جیسے ہی ستارہ بائی کی اُس کے خون پر نظر پڑی اُس نے آگے بڑھ کر مکّے مارنے والے محافظ کے منہ پر تھپڑ مار دیا۔ پھر کیا تھا ستارہ بائی نے باقاعدہ طور پر جنگ کا آغاز کر دیا تھا۔
ٹونی اور گوشی بھی اس لڑائی میں کُود پڑے۔ اُنھوں نے سرمد کے ساتھ مل کر افروز سبحانی کے محافظوں کی خوب دُھلائی کی۔ ستارہ بائی کا چہرہ غصے سے لال ہو چکا تھا۔
باجی۔۔۔! 15پر کال مل گئی۔  عطر والی لڑکی نے بتایا۔
کاٹ دے۔۔۔  ستارہ بائی نے جواب دیا۔
پھول لگانے والی نے اطلاع دی
’’باجی۔۔۔! ڈپٹی صاحب نے فون اُٹھا لیا۔‘‘
اپنا نمبر ہی بند کر دے۔  ستارہ بائی نے فیصلہ کُن انداز میں کہا۔
افروز سبحانی کے سارے محافظ زمین پر گر چکے تھے۔ سرمد نے اب افروز سبحانی کو پکڑ لیا اور اُسے دھڑادھڑ مکّے مارتے ہوئے دیوانوں کی طرح کہنے لگا
’’پھر زخمی کرے گا کسی کی کلائی؟‘‘
سرمد نے نہ جانے کتنی بار اس جملے کو دُہرایا۔ سب سرمد کی دیوانگی سے ڈرنے لگے۔ ستارہ بائی نے آگے بڑھ کر اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور شائستہ لہجے میں بولی
’’چھوڑ دو بیٹا۔۔۔ ‘‘
سرمد نے پلٹ کر دیکھا، اُسے اپنی ماسی کے چہرے میں اپنی ماں سی دکھائی دینے لگی، مگر اُس کا غصہ ابھی کم نہ ہوا تھا، وہ پھر سے افروز سبحانی کو مارنے لگا تو ستارہ بائی نے بتایا
’’اِس کا باپ مذہبی اُمور کا وزیر ہے۔‘‘
یکایک سرمد کا ہاتھ رُک گیا۔ اُس نے اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے لمحہ بھر سوچا پھر ویڈیو بناتی ہوئی گجرے اور پان والی لڑکیوں میں سے پان والی خوشبو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
’’الائچی۔۔۔ ادھر آؤ۔۔۔ ‘‘
وہ لڑکی گھبرائی ہوئی سرمد کے پاس گئی تو وہ بولا
’’جو ریکارڈ کیا ہے وہ دکھاؤ۔۔۔ ‘‘
لڑکی نے ویڈیو  پلےکرتے ہوئے موبائل سرمد کو دے دیا۔ سرمد نے وہ موبائل افروز سبحانی کے سامنے کرتے ہوئے کہا
اگر یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر آ گئی تو تیرے باپ کی وزارت تو جائے گی ہی۔۔۔ اگلے الیکشن میں پارٹی ٹکٹ بھی نہیں ملے گا۔۔۔ اب نکل یہاں سے۔۔۔
اُس نے افروز سبحانی کو دھکا دیا۔ وہ اور اُس کے محافظ لنگڑاتے بل کھاتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔

۞۞۞

ستارہ بائی نے سرمد کے ماتھے پر غور کیا، پھر وہ چندا اور دو لڑکیوں کے ساتھ ہال کے پیچھے چلی گئی۔ سرمد ہال کے مرکزی دروازے کی طرف دیکھنے لگا۔
’’اوئے مس کال۔۔۔‘‘
اُس نے کشمالہ کی آواز پر پلٹ کر دیکھا۔ وہ اُس کے پیچھے کھڑی تھی۔
سب تماش بینوں نے مجھ پر روپے وارے کیے سوائے تیرے۔۔۔ تماش بینی آتی نہیں اور تماشہ لگا دیا۔۔۔ میں خود ہی اُس سے اپنی کلائی نہیں چھڑوا رہی تھی۔
کشمالہ کی ڈانٹ ڈپٹ سرمد خاموشی سے سنتا رہا۔ کشمالہ نے تھوڑا سا توقف کیا، پھر سُر بدل کر افسردگی سے کہنے لگی
آج بھی کچھ نہ کچھ ڈاؤن لوڈ ہو ہی جاتا، مگر تُمہارے وائرس کی وجہ سے۔۔۔
کشمالہ ابھی بات کر ہی رہی تھی کہ ستارہ نے سرمد کو بازو سے پکڑ کر نیچے بٹھا لیا۔ خوشبو نے اُسے کے پیچھے بڑی محبت سے گاؤ تکیہ رکھ دیا۔ چندا سرمد کے ماتھے پر روئی سے پایوڈین لگانے لگی۔ پھولوں والی لڑکی پانی کا گلاس لے آئی۔ کشمالہ کھڑی کھڑی حیران ہو رہی تھی۔ جب چندا نے سرمد کے ماتھے پر پٹی لگا دی تو ستارہ اُسے بازو سے پکڑ کر اپنے کمرے میں لے گئی۔ کشمالہ نے چندا سے پوچھا
’’کس حرامی کا اسٹیٹس ہے یہ؟‘‘
ایک طرف کھڑا ہوا کشمالہ کا باڈی گارڈ بھائی گوشی بولا
’’اپنا ہی ہے۔‘‘
کشمالہ نے حیرت سے اپنے بھائی کی طرف دیکھا۔

(بقیہ اگلی قسط میں)

۞۞۞۞

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles