33 C
Lahore
Wednesday, April 24, 2024

Book Store

لوٹ آؤ جاناں

لوٹ آؤ جاناں

شکیل احمد چوہان 

لفٹ سے نکلنے کے بعد اُس کے اپارٹمنٹ کی طرف چڑھنے والے چند زینے اُسے کوہ ہمالیہ کی طرح معلوم ہو رہے تھے۔ اُس نے اپنا ہینڈ کیری سیڑھیوں کے پاس کوریڈور کے ایک کونے میں رکھ کر اُس کے اوپر اپنا آفس بیگ بھی ٹکا دیا۔ اُس کے ذہن میں خیالوں کا جم غفیر تھا۔ وہ اپنے ہی خیالوں سے دست و گریبان تھا۔
اپنی بے چینی کو دور کرنے کے لیے اُس نے بوجھل قدموں سے چلنا شروع کر دیا۔ وہ اِدھر سے اُدھر کاریڈور میں کتنے ہی چکر لگا چکا تھا۔
اوپر سے نیچے آتے ایک شخص کو دیکھنے کے بعد اُس نے بھی سیڑھیاں چڑھنے کا فیصلہ کر لیا۔ بیل بجانے کے بجائے اُس نے دروازے پر معزز دستک دی، جیسے دستک دینے کی رسم ادا کر رہا ہو۔
اُس سے بھی زیادہ اکرام کے ساتھ یہ رسم دوبارہ ادا کی گئی مگر باہر کوئی نہیں نکلا۔ وہ پلٹ کر سیڑھیوں کی طرف چل پڑا۔جیسے ہی اُس نے پانچویں سیڑھی پر قدم رکھا اُس کی سماعتوں سے ایک آواز ٹکرائی۔
’’ساحر…‘‘
وہ بجلی کی رفتار سے اُس کی طرف لپکی اور سیڑھیوں کی گرل کے پاس آ کر رک گئی۔ اب اُن کے درمیان وہ سلور کی گرل تھی۔ ساحر سیڑھیوں پر کھڑا تھا اور وہ گرل کو تھامے سیڑھیوں سے اوپر، اُس کی بھوری آنکھوں میں شوق دید تھا، جبکہ ساحر کی نظروں میں ہجر کا درد۔
وہ چشم حیراں سے ٹکٹکی لگائے ساحر کو تکتی جا رہی تھی۔ وہ کبھی چنچل جھیل کی طرح ہوا کرتی تھی، جبکہ ساحر بے تاب چشمے کے پانی کی طرح جو ہر حال میں اُس جھیل میں شامل ہونا چاہتا تھا۔ آج وہ دونوں یکسر مختلف ہیں۔
تم… اُس کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔ ساحر خاموش رہا۔
’’یہاں…؟‘‘ ساحر بے تاب قطرے کی طرح حسین جھیل میں ڈوب چکا تھا۔ کتنی ہی دیر وہ دونوں ایک دوسرے کو فرطِ محبت سے دیکھتے رہے۔ جب وہ قطرہ بھاپ بن کر اُس پر محبت کی ہلکی ہلکی پھوار برسانے لگا تب اُس نے میٹھے لہجے میں اُس کا نام لیا:
’’ساحر!‘‘
ساحر ہوتا تو اپنی محبت کے قفس میں تمھیں قید نہ کر لیتا۔ میں تو۔۔۔ ساحر منظور ہوں! مستری منظور کا بیٹا! ساحر نے کرب سے بتایا۔ اُس کی خوبصورت بھوری آنکھیں شرم سے جھک گئیں۔ اُس نے اپنی جگہ سے آگے بڑھتے ہوئے جلدی سے بات کا رخ بدلا۔
’’مطلب تم یہاں کیسے…؟‘‘ جتنا وہ ساحر کی طرف بڑھی تھی اتنا ہی ساحر پیچھے کی طرف ہٹ گیا، اب وہ ساتویں سیڑھی پر تھا۔
دبئی والے بھی تمھارے ہی جیسے ہیں۔ تم پیسے کے پیچھے دبئی آئی تھی۔ ان کے آگے پیسہ رکھو تو یہ کسی کو بھی دبئی آنے دیتے ہیں۔
ساحر نے بغیر کسی تردد کے تیکھے لہجے میں بول دیا۔ اُس کے حسین رخسار پر مزید پیشمانی اُمڈ آئی۔ اس کے باوجود اُس نے خلوص سے کہا
آؤ اندر چلو۔
’’اس وقت بیٹا تمھارا اسکول میں ہے اور شوہر جیل میں۔ اس لیے اندر نہیں آسکتا میں۔
ساحر کی بات سُن کر وہ ششدر رہ گئی تھی۔ کئی اندیشے اُسے لاحق ہوگئے۔ پھر بھی اُس نے ہونٹوں پر تبسم سجا کے کہا
سات سال بعد دیکھا ہے تمھیں۔
دس دن کم بتائے ہیں تم  نے۔‘‘ ساحر نے اُسے ہجر کے دنوں کا درست حساب بتایا۔
اُس نے سرجھکا لیا وہ نادم سی کھڑی تھی۔
’’اب میں بھی بہت بڑا بزنس مین ہوں۔‘‘ ساحر نے بڑے تفاخر سے اطلاع دی تو اُس نے گردن اُٹھا کر ساحر کی طرف دیکھا۔ ساحر اور اُس کی نظریں ٹکرائیں۔
’’صرف تمھیں دیکھنے کے لیے کینیڈا سے دبئی آیا ہوں اورپچھلے دس دن میں بہت کچھ دیکھ لیا ہے میں نے ۔‘‘
کیا؟ وہ بوکھلا گئی۔
کیا دیکھا تم  نے …؟‘‘ وہ غصے سے چلائی۔ ساحر نے مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے بتایا
’’صرف تمھیں… ہوٹل میں تمھارے اپارٹمنٹ کے سامنے والا کمرا تھا میرے پاس‘‘
’’تھا مطلب…؟‘‘ اُس نے پوچھا۔
ساحر نے مڑ کر اپنے ہینڈ کیری کی طرف دیکھا تو اُس کی بھی ہینڈ کیری پر نظر پڑی۔ وہ یک لخت بولی
رک جاؤ۔
کس کے لیے…؟‘‘ ساحر کی بات کا جواب دینے کی بجائے اُس نے فوراً بات بدلی
’’کتنے بچے ہیں تمھارے…؟‘‘
شادی نہیں کی میں نے…‘‘ ساحر نے بھرائی ہوئی آواز میں خبر دی۔ نا چاہتے ہوئے بھی اُس نے پوچھ لیا
’’کیوں…؟‘‘
جس سے کرنا چاہتا تھا۔ اُس نے کسی اور سے کر لی… آج کل اُس کا شوہر قتل کے کیس میں جیل کاٹ رہا ہے اور وہ…‘‘ ساحر جذباتی ہو گیا۔ اُس کی بات کو کاٹتے ہوئے وہ حواس باختہ ہوتے ہوئے چلائی۔
اور وہ اُسے چھڑوانے کے لیے دھن…‘‘ اُس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔ وہ پہلی سیڑھی پر پاؤں رکھ کے اُدھر ہی بیٹھ گئی۔ وہ کپکپا رہی تھی۔ اُس نے اپنا سر اپنے گھٹنوں میں لے لیا۔ ساحر اپنا ہاتھ اُس کے کندھے پر رکھنا چاہ رہا تھا مگر رکھ نہیں پایا۔
چند منٹ بعد اُس نے گردن اُٹھا کر گیلی آنکھوں سے ساحر کو دیکھا۔ اس سے پہلے وہ ساحر کو کچھ کہتی وہ ہی نرم شگفتہ لہجے میں بول پڑا
محبت سے محبت کرو تو دولت مل جاتی ہے مگر دولت سے محبت کرنے سے محبت نہیں ملتی!
ساحر کی بات سننے کے بعد بھی وہ خاموش رہی۔ ساحر نے اپنی بلیک لیدر کی جیکٹ سے ایک بٹوہ نکال کر اُس کی طرف بڑھایا
اس میں میرا وزٹنگ کارڈ اور ڈالر ہیں۔‘‘ اُس نے ساحر کی طرف ٹٹولتی نظروں سے دیکھا پھر ساحر کے ہاتھ کی طرف جو اُس کی طرف بڑھا ہوا تھا۔
پلیز …رکھ لو ۔ ساحر  نے اتنی اپنائیت سے درخواست کی تھی کہ وہ انکار نا کر پائی۔ اُس نے وہ  بٹوہ پکڑ لیا۔
ساحر وہاں سے جانے کے لیے پلٹا اور ساتھ ہی تھم گیا۔ وہ اُس سے بہت کچھ کہنا چاہتا تھا مگر اس ڈر سے بول نہیں پا رہا تھا کہ وہ دوبارہ سے نا رو دے ۔
تمھارا شوہر قتل کرنے سے پہلے… عیاش جواری، شرابی بھی تھا۔ ایک گناہ گار کو بچانے کے لیے تم کتنے گناہ کرو گی؟ اِن پیسوں سے اپنا کاروبار شروع کرو اور چھوڑ دو دھندہ۔۔۔
ساحر یہ سب دل ہی دل میں بول پایا تھا۔ اس کے باوجود ایک بات اُس نے حوصلہ کر کے کہہ ہی دی۔
’’لوٹ آؤ جاناں!‘‘

Previous article
Next article

Related Articles

1 COMMENT

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles