40 C
Lahore
Wednesday, May 22, 2024

Book Store

خوفناک فیصلہ

تحریر، جاوید راہی

 داخلی آبادی کرم والا کے سرفراز نے پے در پے فائرنگ کرتے اپنی دونوں بہنوں صائمہ اور صوبیہ کو قتل کر دیا اور موقع واردات سے فرار ہو گیا۔ اس دوہرے قتل کی واردات سنتے ہی ڈی پی او محمد فیصل رانا اپنے منصب کی بجا آوری کو سامنے رکھتے مقتول خواتین کے گھر پہنچ گئے ۔ انسپکٹر عزیز احمد چیمہ تھانہ گوگیرہ کو ملزم سرفراز 48گھنٹوں کے اندر اندر گرفتار کرنے کا عندیہ دیا اور قتل ہونے والی دونوں بہنوں کے پسماندگان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔
غیرت کے نام پر صدیوں پہلے بیٹی پیدا ہوتے زندہ درگور کرنے کا رواج کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ آپؐ سرکار کی تعلیمات کی روشنی میں یہ رواج آہستہ آہستہ دم توڑ گیا مگر حوا کی بیٹی تا حال کبھی اپنی کسی غلطی سے اور کبھی اپنے حقیقی رشتوں کی اَنا کی تسکین کی سولی چڑھتی ہی آرہی ہے۔ عورت ہمیشہ اس وقت کوئی راست قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتی ہے جب اپنے گھر کے چیخ چخاڑے ، اپنی مرضی کی نفی وغیرہ وغیرہ، نسوانی آزادی کے محرکات کو ترقی پذیر معاشرہ ٹھہرایا جاتا ہے ترقی کے اس دور میں سرفراز جیسے افراد کی کمی نہیں ۔ رہتی دنیا تک شائد ایسے رو ح فرسا واقعات جاری رہیں۔
صائمہ اور صوبیہ اپنے کمرے میں پریشانی کے عالم میں بیٹھیں ایک دوسرے کو سرفراز کی بدلتی صورتحال کے بارے میں ڈ س کس کر تے اس بات کا خدشہ ظاہر کر رہی تھیں کہ آج بلا وجہ اس نے دونوں کو ڈانٹا تھا اور گھر سے باہر جانے پر پابندی عائد کر دی تھی۔
’’صوبیہ! اگر یہ ایسا کرے گا تو ہم اپنے راستے تبدیل کر دیں گی کیا‘‘؟
’’صائمہ ہمیں اس کا کوئی حل تو نکالنا ہی پڑے گا ناں‘‘صوبیہ نے دھیمی آواز میں جواب دیا۔
دوسرے روز جو فیصلہ ہوا وہ بڑا ہی خوفناک تھا وہ دونوں گھر سے اپنے اپنے راستے پر ہو گئیں تو والدین نے اغوا کا مقدمہ دائر کروا دیا۔
اِدھر اُدھر بھاگ دوڑ شروع ہو گئی مگر کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوسکا جن پر شبہ نہیںبلکہ یقین تھا ان کے لواحقین تک رسائی کی گئی علاقہ کے معتبر لوگوں کے ڈیرے پر صائمہ اور صوبیہ کی واپسی بارے پنچائیتیں ہوئیں تو دونوں کی واپسی کا وعدہ ہو گیا اور آخر کار دونوں بہنیں واپس گھر آگئیں۔
سرفراز کو ان کے اقدام پر دِلی رنج تھاوہ دونوں کو شیر کی آنکھ سے دیکھ رہا تھا اور اپنے گھر والوں کو بار بار اس بارے دھمکا رہا تھا کہ وہ ان کو زندہ نہیں چھوڑے گا۔
دونوں بہنوں کی حفاظت کے حوالے سے ان کا والد عبدالغفور ولد محمد سلیم قوم آرائیں دونوں کو لے کر شیخو شریف اپنے بھائی غلام مرتضیٰ کے گھر چھوڑ گیا۔ کچھ دِنوں بعد عبدالغفور اور اس کی بیوی زبیدہ ان کو لینے کی غرض سے شیخو شریف گئے ۔ رات بھائی کے گھر رہے صبح تیار ہو کر واپس اپنے گائوں چاہ کرم والا داخلی کیلئے تیار ہو رہے تھے کہ سرفراز اسلحہ لہراتا آیا اور دونوں بہنوں کو فائرنگ کر کے بے دردی سے قتل کر دیا اور موقع واردات سے فرار ہو گیا۔ پورا علاقہ اس لرزہ خیز واردات سے خوفزدہ ہو گیا ۔ صائمہ اور صوبیہ کی لاشیں خون میں ڈوبی اپنے سگے بھائی کی سفاکی پر ماتم کناں تھیں۔
عبدالغفور نے گوگیرہ تھانہ کے انچارج انسپکٹر عزیز احمد چیمہ کو آکر سارے حالات سے آگاہ کیا۔ پولیس نے ابتدائی کاروائی کے بعد دونوں لاشیں اٹھوا کر پوسٹ مارٹم کیلئے ہسپتال پہنچائیں اور قاتل کی تلاش میں سرگرداں ہو گئی۔
گرفتاری کے بعدقاتل سرفراز نے گفتگو کے دوران بتایا کہ
’’میری دونوں بہنوں کی آزادانہ حرکات میرے لئے سوہان روح بنی ہوئی تھیں جب انہوں نے گھرکی دہلیز پار کی تو میری ندامت نے مجھے زندہ درگور کر دیا۔ ہر وقت میں لوگوں کی نظروں سے بچتا اِدھر اُدھر پڑا رہتا اور ہر پل دِل میں ان دونوں کیلئے نفرت کا الائو دہکتا رہتا۔
مار تو میں ان کو اسی رات ہی ڈالتا مگر گھر والے ان کی سخت نگرانی میں ہوتے تھے ۔ میرے رویہ کو دیکھتے دونوں کو میرے چچا کے گھر بھجوا دیا تھا اور مجھے ان کی غلطی معاف کر دینے کی تلقین کرنے میں لگے رہتے۔
میں بہت کوشش کرتا کہ کسی طرح اپنے آپ کو سنبھال لوں مگر جگ ہنسائی کا زخم ہر پل میرے جسم کو لپیٹے رکھتا ۔اگر میرے والد ان دونوں کو چچا کے گھر میں ہی رہنے دیتے اور ادھر ہی سے ان کو رخصت کر دیتے تو شائد یہ نوبت نہ آتی مگر میرے والدین بھی ان دونوں کی طرفداری کرتے اور میرے جذبات کی ان کو سرے سے پرواہ ہی نہیں تھی ۔
جب وہ ان کو واپس لانے کیلئے جا رہے تھے تو میں نے ان کو روکنے کی بہت کوشش کی مگر ان کو میرے کہنے کا کوئی اثر نہ ہوا۔ میں نے 30بور کے ریوالور کا پہلے ہی انتظام کر رکھا تھا جسے میں سنبھالتے ہوئے اپنے چچا کے گھرشیخو شریف چل پڑا جہاں صائمہ اور صوبیہ نے میرے خوف سے پنا ہ لے رکھی تھی۔
جب میں وہاں پہنچا تو وہ لو گ واپس اپنے گھر کیلئے تیار تھے مجھ پر نگاہ پڑتے ہی سارے لوگ گھبرا گئے میں نے صائمہ اور صوبیہ کو نظر بھر کر دیکھا لمحہ بھر کیلئے تو میرے اندر بھی بھائی کا پیار کروٹ لے کر جاگ اُٹھا مگر نفرت کی پھوار نے سارا منظر دھواں دھواں کر ڈالا ۔ میرے ریوالور نے آگ برسانا شروع کر دی میر ے سامنے میری دونوں بہنیں زمین پر گرتے تڑپ تڑپ کر ساکت ہو گئیں۔ میرے پورے وجود پر جیسے برف کی بڑی بڑی سلیں رکھ گی گئیں ہوں۔ میرے ہاتھ میں لہراتے ریوالور کے خوف سے گھر کے سارے لوگ سہمے ہوئے تھے میں نے آخری نگاہ اپنی بہنوں کی لاشوں پر ڈالی اور حسرت سے اپنی والدہ اور والد کو دیکھتا ہوا چچا کے گھر کی چوکھٹ پار کر آیا۔
میرا رُخ گائوں سے باہر جانے والی سڑک کی جانب تھا اور میں تقریباً بھاگنے والے انداز میں آگے بڑھ رہا تھا جب خاصا راستہ میں نے عبور کر لیا تو قریب سے گزرنے والے ایک موٹر سائیکل سوار کو ہاتھ کے اشارہ سے روکنے کا کہا ۔وہ کوئی خدا ترس بندہ تھا مجھے بغیر کسی بھی سوال جواب کے اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ میں بار بار پیچھے مُڑ کر دیکھ لیتا مگر کوئی بھی خاص بات نظر نہیں آرہی تھی ۔ میں چاروں جانب دیکھ کر کوئی معقول جگہ دیکھنا چاہتا تھا تاکہ اِدھر اُدھر ہو جائوں۔ آخر کار ایک گنجان درختوں کا جھنڈ نظر پڑا جو درمیان میں پڑتی نہر کے دوسری جانب تھا اور یہ علاقہ غیر آباد سا دِکھائی دیا ۔ سڑک سے خاصے فاصلے پر ہونے کی وجہ سے مجھے محفوظ بھی لگا ۔ میں نے موٹر سائیکل والے سے روکنے کا کہا اس نے بریک لگاتے مجھے اُتارا اور سلام دعا کے بعد آگے بڑھ گیا۔
مجھے درختوں کے جھنڈ میں مسلسل چلتے رہنے کی وجہ سے بھوک اور پیاس کی شدت نڈھال کر رہی تھی۔دور دور تک کسی بھی جاندار پر نظر نہیں جا رہی تھی جس جگہ میں کھڑا تھا وہاں سطح اونچائی پر تھی چاروں جانب اونچے نیچے ٹیلے اور گھاس کے میدان تھے۔ جدھر بھی دیکھتا ویرانی اور گہری خاموشی کے ڈیرے تھے میں اپنے آپ کو گھسیٹتے ایک طرف آگے بڑھ رہا تھا دھوپ کی تمازت کو چاروں جانب سے چلنے والی ہوائیں قدرے کم کر رہی تھیں۔پیچھے مُڑ کر جائزہ لیا تو ڈھلوان کا نشیبی فاصلہ کافی نیچے کی جانب جا رہا تھا جب وہ راستہ ختم ہوا تو دور سے دریا کی چمکتی ریت دِکھائی پڑی اور اِدھر اُدھر چرتے گھومتے ڈھورڈنگر ساتھ میں کچھ انسانی وجود بھی متحرک نظر آئے۔ مجھے ان کو دیکھ کر اپنے اندر توانائی کا احساس ہوا۔ میری رفتار ان کی طرف تیز ہو گئی قریب پہنچ کر سلام دعا ہو ئی اور میں نے پانی مانگا۔ ایک نے دوسرے کو مخاطب کیا کہ’’ دودھ ہے؟‘‘
’’ہاں ‘‘!۔اس نے اپنے پیچھے لٹکتی پوٹلی میں ہاتھ ڈال کر اس میں سے بوتل نکالی جس میں ایک چوتھائی دودھ موجود تھا۔ میں نے بے صبری سے پکڑتے ایک دو سانسوں میں بوتل خالی کر دی اور واپس دیتے شکریہ ادا کیا۔ ان کے چہروں پر میرے لئے حیرانی تھی کہ میں اِدھر کیا کرتا پھر رہا ہوں۔ آخر کار پوچھنے پر میں نے بتایا کہ میں کھنڈ بوڈ جا رہا ہوں شائد غلط راستہ اختیار کر لیا ہے؟
’’نہیں ،راستہ تو ٹھیک ہے دریا آگے جاکر خاصا تنگ ہو جائے گا تم دوسری طرف ہو جانا درختوں کے جھنڈنظر آئیں گے جدھر سے بھی جائو کھنڈ بوڈہی جا نکلو گے ‘‘۔
دونوں نے مجھے تسلی سے سمجھایا میں ان کا پھر سے شکریہ ادا کرتے اس طرف چل پڑا ابھی چند قدم ہی چلا تھا کہ پیچھے سے انہوں نے آواز دی ۔میں رُک کرگھوما تو وہ پوٹلی والا میری ہی طرف آرہا تھا ۔
’’ جی بھائی‘‘!؟میں نے استفہامیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
’’یہ رکھ لو بھوک لگے تو کھا لینا اس نے دو روٹیاں جن پر اچار رکھا ہوا تھامیرے ہاتھ میں دے دیں میرے لئے یہ دو روٹیاں دو ماہ کے راشن کی حیثیت کے برابر تھیں۔
آدھی روٹی میں نے چلتے چلتے کھالی اور بقایا لپیٹ کراپنی سائیڈ والی جیب میں ڈال لیں۔ دودھ اور روٹی نے میری نقاہت قدرے کم کر ڈالی تھی اور میں تیز تیز قدم اٹھاتا دریا کی کندی کے ساتھ ساتھ آگے بڑھ رہا تھا۔ ایک جگہ دوسری طرف جانے کا راستہ بنا ہوا تھا میں نے ٹٹول کر پائوں کی مدد سے گہرائی دیکھی جب یقین ہو گیا کہ پانی تھوڑا تھوڑا ہے تو میں خدا کا نام لے کر دریا میں اُتر گیا۔ واقعی پانی کی گہرائی نہ ہونے کے برابر تھی یہ دریا کہیں سے خشک اور کہیں سے ٹھاٹھیں مارتا ہوا صدیوں سے بہہ رہا تھا جب بارشیں یا اوپر سے پانی کا بند ٹوٹ جاتا تو چاروں جانب دریا ہی دریا بن جاتا تھا۔ دوسری جانب آکر میں نے اپنے کپڑے درست کئے اور درختوں کے جھنڈ کی طرف چل پڑا جو دریا کے اس کنارے کے ساتھ دور تک پھیلا ہوا تھا۔
چلتے چلتے میری ٹانگیں شل ہو چکی تھیں اور میرا پورا وجود پھوڑے کی مانند دُکھ رہا تھا ۔ ایک جگہ رُک کر میں نے خود کو نیچے گرا دیا اور سیدھا چت لیٹ کر لمبے لمبے سانس لینے لگا۔ چاروں جانب ہلکا ہلکا اندھیرا پھیل چکا تھا اور درختوں پر اُلٹے لٹکے بڑے بڑے چمگادڑ جاگ اُٹھے تھے اور اِدھر اُدھر پھڑ پھڑاتے خوفناک آوازیں پیدا کر رہے تھے۔
دونوں بہنوں کو قتل کر کے دِل کو سفلی تسلی تو ہوئی تھی مگر میرے دِل کے ہی کسی کونے میں چھپا ان کا پیار بھی اُمڈ رہا تھا دونوں کو یاد کر کے میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو چھلک پڑے۔ کافی دیر یونہی پڑا رہا جب دِل کا بوجھ ذرا کم ہوا تو دوبارہ اُٹھ کر ایک سمت کو چل پڑا‘‘۔
ڈی پی اومحمد فیصل رانا نے انسپکٹر عزیز احمد چیمہ کوجو ٹاسک دے رکھا تھا اس کے مطابق میرا رابطہ مسلسل ان سے تھا۔ ڈی ایس پی صدر فاروق احمد خان اس سلسلہ میں خود نگرانی پر مامور تھے میرا جب بھی ان سے پوچھنے کا اتفاق ہوا وہ بڑی اپنائیت سے کہتے بس تھوڑا انتظار ۔میں ان کی طرح داری پر متاثر ہوئے بغیرنہ رہ پاتا۔
پھر ایک رات مجھے انسپکٹر عزیز احمد چیمہ کا فون کاآیا جو مجھے سرفراز کو گرفتار کرنے کی خوشخبری سنا رہے تھے اور صبح تھانہ گوگیرہ آنے کا کہا۔گوگیرہ پہنچنے میں تقریباً دو گھنٹے لگے ٹوٹی پھوٹی سڑک اور جگہ جگہ بنے کھڈے کافی صبر آزما سفر تھا آخر کار تھانہ گوگیرہ کے صدر دفتر جا پہنچا۔عمارت کاایک حصہ سال خوردہ تھا جس کی پیشانی پر 1857؁ء کنندہ تھا ۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ کسی زمانے میں ضلع تھا اور یہاں برکلے نامی انگریز ڈپٹی کمشنر تھا جس کا راج چاروں جانب چلتا۔ علاقہ کو کنٹرول کرنے میں اس کا جواب نہیں تھا اسی دور میں محمد خان کھرل جو ہیرو تھا راوی کا اس کے احکام کو ریت کی دیوار کی مانند ٹھوکر مارتے زمین بوس کر ڈالتا ، یہ تذکرہ پھر کبھی۔
چیمہ صاحب نے مجھے اپنے آفس میں بٹھاتے دوہرے قتل کے ملزم سرفراز کو منگوایا جو سامنے حوالات میں بند تھا ۔تھوڑی دیر بعد سرفراز ہتھکڑی میں جکڑا پولیس ملازم کے ہمراہ آفس میں داخل ہوا۔
میں نے اس کا سر سے پائوں تک جائزہ لیتے چیمہ صاحب سے گفتگو کرنے کی اجازت مانگی جو انہوں نے اُسے مخاطب کرتے کہا کہ جو بھی یہ سوال کریں اس کا جواب سہی سہی دینا۔ سرفراز نے نظریں نیچے کرتے اپنے سر کو جنبش دی۔
’’سرفراز یہ انتہائی اقدام اُٹھانے کی تمہیں کیا ضرورت پیش آئی؟‘‘
’’بس جی غیرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر‘‘۔
’’کیا تمہاری بہنیں اغوا ہوئی تھیں یا اپنی مرضی سے اپنے آشنائوں کے ساتھ گھر سے نکل گئیں تھیں؟‘‘
’’وہ اپنی مرضی سے گئیں یا وہ لوگ بھگا کر لے گئے دونوں صورتوں میں جنازہ تو میری غیرت کا نکلا۔ میں نے جو کچھ بھی کیا میں اس پر شرمندہ نہیں ہوں‘‘اس نے بڑے سپاٹ لہجہ میں جواب دیا۔
’’ٹھیک ہے ‘‘!میں نے چیمہ صاحب کی طرف دیکھا تو انہوں نے ملازم کو لے جانے کااشارہ کیا۔ سرفراز سلام کرتا ان کے آفس سے باہر نکل گیا۔
’’جی جناب !تو کس طرح ہاتھ آیا یہ ؟‘‘ میں نے ان سے پوچھا۔
’’ڈی پی او صاحب اور ڈی ایس پی صدر فاروق احمد خان چونکہ اس سلسلہ میں ذاتی طور پر رابطہ میں تھے اور میں نے بھی چاروں جانب بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ جال بچھا دیا تھا رائیکی کرنے والوں کا۔ رات گئے مجھے اپنے سورسز سے اطلاع ملی کہ ایک آدمی رات کے اندھیرے میں دریا کے ساتھ والے ذخیرہ میں نقل و حرکت کرتے دیکھا گیا ہے میں نے وقت ضائع کئے بغیر اپنی قیادت میں پولیس پارٹی کے جوشیلے ملازموں کا انتخاب کیا اور دو جیپوںپر سرفراز کا تعاقب شروع کر دیا ۔
جو راستہ میں نے اختیار کیا تھا وہ خاصا پُر پیچ ہونے کے ساتھ ساتھ خطرناک بھی تھا ایک دو بار تو مرتے مرتے بچے جیپ یکدم دریا کی طرف گھوم گئی یہ تو خدا کی قدرت تھی کہ ڈرائیور نے فل بریک لگا لئے ورنہ ڈوبنا یقینی تھا۔
جیپیں چھوڑکر ہم لوگ پیدل ہی چل پڑے فون کر کے قریبی گائوں کے نمبردار کو گھوڑے لانے کا کہا رات کے ساڑھے تین کا عمل چل رہا تھا اور ہم ٹارچوں کی روشنی میں دریا کے ساتھ ساتھ آگے بڑھ رہے تھے کہ اتنے میں گھوڑے بھی پہنچ گئے ۔نمبردار اس علاقہ کو جانتا تھا اس لئے اس کی رہنمائی کام آگئی اور ہم گھوڑوں کے ذریعے دریا عبور کر تے درختوں کے بیچ و بیچ چاروں جانب پھیلے ہوئے تھے۔ سورج نکل آیا تھا گہری مایوسی کا سامنا میرے لئے پریشان کُن مرحلہ ثابت ہوا اور ہم سب تھک ہار کر واپس آگئے۔
رات بھر کا میں تھکا ماندا بستر پر پڑتے آنکھ لگ گئی کہ وائرلیس پر ڈی پی او صاحب کا میسج آگیا جو مجھ سے سرفراز کی گرفتاری بارے پوچھ گچھ کر رہے تھے میں نے گزری رات کی ساری کاروائی ان کے گوش گزار کی توانہوں نے نہایت شفقت کا مظاہرہ کرتے میری ہمت بڑھائی اور کہا کہ
’’عزیز احمد تم یہ کر سکتے ہو تم نے پانچ لاکھ انعام کے مفرور کو گرفتار کر لیا تھا یہ تو معمولی ہائوس کریمنل ہے اُٹھو اور مجھے خوشخبری دو اس کی گرفتار ی کی‘‘۔
’’جی سر بہتر‘‘میں احتراماً جواب دیا اور اُٹھ کر دو نفل نمازشکرانہ و عاجزی ادا کی اور پولیس پارٹی تیار کر کے دریا کی جانب چل پڑا کیونکہ مجھے یقین تھا کہ سرفراز اِدھر ہی روپوش ہے اگر تھوڑا وقت اور گزر جاتا تو اس کا اِدھر اُدھر ہو جانا ممکن ہوجاتا۔ دریا کے کٹائو کی طرف آبادی نہ ہونے کے برابر تھی۔ میرا خیال بار بار اس طرف جا رہا تھا آخر کار میں نے ڈرائیور کو اس طرف چلنے کا کہا کافی سفر کے بعد مجھے خانہ بدوش جھگیوں والے نظر آئے جو اپنی بھیڑ بکریوں کی نگرانی میں پیچھے چل رہے تھے میں نے ڈرائیور سے گاڑی روکنے کا کہا اور خود اُتر کر ان کی طرف چل پڑا ۔ اپنی طرف آتا دیکھ کر وہ سہم گئے مگر میری تسلی آمیز باتوں سے ان کا ڈر خوف جاتا رہا تو میں نے ان سے سرفراز کے بارے میں پوچھا۔ چند لمحوں کے بعد جیسے انہیں کچھ یاد آگیا ۔
’’ہاں جناب کل تقریباً شام پانچ بجے جب ہم اپنا ریوڑ واپس لا رہے تھے ایک دُبلا پتلا آدمی ہم نے درختوں کے جھنڈ میں سے نکل کر دریا کی نشیبی جانب جاتے دیکھا تھا‘‘۔جو حلیہ ان کی زبانی معلوم ہوا وہ سرفراز کا ہی تھا میں نے وقت ضائع کئے بغیر اپنے ساتھیوں کو راستہ بدلنے کا کہا او رہم دریا کے بہائو کی طرف بڑھنے لگے چاروں طرف پانی ہی پانی دکھائی دے رہا تھا۔ نہ کوئی بندہ اور نہ بندے کی ذات پتہ نہیں میں کیوں پھر بھی آگے بڑھ رہا تھا ۔ جیسے پروردگار میری خود راہنمائی فرما رہے ہوں دن کی روشنی میں ڈرائیور گاڑی بھی بڑی احتیاط سے چلا رہا تھا ایک دو جگہ نرم ریت میں ٹائر پھنسے مگر میرے جوان دھکا لگا کر گاڑی نکال کر لے جاتے۔
اب درختوں کا سلسلہ پھر سے شروع ہو چکا تھا اور مال ڈنگر چرانے والوں کے سوا کسی سے واسطہ نہ پڑاجس سے پوچھا یہ جواب ملا کہ نہیں ہم نے ایسا کوئی آدمی نہیں دیکھا ۔اسی اثنا ء میں مجھے اپنے چھوڑے ہوئے دوستوں میں سے ایک کا فون موصول کہ سرفراز کو کسی نے فتح پور کی طرف جاتے دیکھا ہے جو شائد راوی کی طرف جانے کا ارادہ رکھتا ہو۔ میں نے وقت ضائع کئے بغیر گاڑیاں اس طرف موڑنے کا کہا اور سرفراز کے تعاقب میں چل پڑے۔
ٹول پلازہ سے تھوڑا پیچھے میں نے رُک وہاں ایک دو ڈیرہ داروں سے گھوڑے لئے اور دریا کی طرف چل پڑے۔ گھوڑے ریت اُڑاتے آگے بڑھ رہے تھے کہ ہمیں دور سے ایک اکیلا آدمی درخت کے نیچے لیٹا دِکھائی دیا ۔ شائد پڑا سو رہا تھا جب گھوڑوں کے بھاگنے اور ہمارے شور کو سُنا تو وہ ہڑ بڑا کر اُٹھ بیٹھا اور ہمیں دیکھتے ایک طرف سر پٹ بھاگ اُٹھااور بھاگتے دو تین فائر ہماری طرف داغ دئیے ۔
میں نے فائر اس انداز سے کرنے کا کہا کہ وہ ڈر کر ہتھار ڈال دے اور ہماری گولیوں سے اس کی موت نہ واقع ہو جائے جس انداز میں ہم اس کی طرف بڑھ رہے تھے وہ خود بخود ہمارے قابو میں آرہا تھا آخر کار وہ رُک گیا اور اپنا ریوالور زمین پر گراتے ہاتھ اوپر اُٹھا دیئے ۔میں نے گھوڑا اس کے عین سر پر آن روکا اور اسے للکارا کہ اگر بھاگنے کی کوشش کی تو اِدھر اُدھر کر دوں گا۔جواب میں اس نے خود کو زمین پر اوندھے منہ گرا دیا۔ پولیس اہلکاروں نے اسے قابوکرتے دونوں بازو اس کی قمیض سے پیچھے کی طرف باندھتے اٹھایا اور دریا کے کنارے کنارے واپسی کیلئے چل پڑے۔
سرفراز کی گرفتاری پر اور پانچ لاکھ سر کی قیمت والے ڈکیت کو گرفتار کرنے پر جناب آئی جی صاحب نے 25000/-روپے نقد اور سر ٹیفکیٹ سے نوازا۔ سرفراز کے خلاف زیر دفعہ302ت پ319/15رپٹ نمبر 13مورخہ01-08-15 مقدمہ درج کرتے جیل بھیج دیا ہے‘‘ ۔بتا کر انسپکٹر عزیز احمد چیمہ خاموش ہو گئے۔
٭٭٭٭٭

Previous article
Next article

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles