30 C
Lahore
Saturday, May 18, 2024

Book Store

خطرناک بچھو

تحریر، جاوید راہی

جیل کہانی کی وسا طت سے بہت سے بے گناہ اور ناکردہ گناہوں کا کفارہ ادا کرتے چاروں صوبوں کی جیلوں سے رہائی پانے والے مرد اور خواتین کی دعائیں تو آتی رہتی ہیں مگر اصل دعائوں کے حق دار چیف صاحب ، ڈپٹی چیف صاحب اور میگزین کارکنان ہیں جن کے ذریعہ ایسے افراد کی شنوائی اعلیٰ حکام تک پہنچی اور ہونے والی تحقیقات میں وہ گنہگار بے گناہ پائے گئے۔ میرے سامنے مچھ جیل سے آیا عمر قید پانے والے قیدی کا خط پڑا ہے جس میں اس نے اپنی استدعا میں لکھا ہے کہ میری پیروی کرنے والا پیچھے کوئی نہیں میں سراسر بے گناہ ہوں مگر پولیس کا بنایا خود ساختہ کیس اور پولیس کے ہی زیر اثرگواہان کی جھوٹی گواہی کے طفیل مجھے عمر قید کی سزاہوگئی۔ قیدی جس نے اپنا نام امتیاز علی بلوچ لکھا ہے اور بے شمار منت سماجت میں یہ التجا کی ہے کہ میں مچھ جیل میں آکر اس سے ہونیوالی ناانصافی اس کی زبانی سن کر جیل کہانی میں عوام الناس تک پہنچائوں۔
بلوچستان خاص کر مچھ جیل کے گردونواح میں جون کی گرمی کوجھیلنامقامی لوگوں کا ہی جگرا ور حوصلہ ہے ۔ اخبار اس معاملہ میں بڑا سخی دل واقعہ ہوا ہے فوراً ہوائی سفر کا اہتمام ہو گیا اور بندہ کو ئٹہ پہنچ کر ایک اچھے ہوٹل میں کمرہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ آئی جی جیل خانہ جات بشیر احمد بول زئی سے رابطہ ہوا اور انہوںنے اپنے پی اے حاجی سعید اللہ کو مچھ جیل کے سپرنٹنڈنٹ سکندر خان کا کڑ تک رسائی میں راقم الحروف کی مدد فرمائی جنہوںنے مچھ جیل آنے کی اجازت دیتے میرے لئے آسانیاں مہیا کر دیں۔ کوئٹہ سے بذریعہ گاڑی میں امتیاز بلوچ کو ملنے چل پڑا جو اپنی بے گناہی کی کتھا مجھ سے شیئر کرنا چاہتا تھا۔
مچھ جیل کی جانب جاتے ہوئے مجھے مُلک کے معروف دانشور ،کالمسٹ، رائٹر، شاعر اور اللہ کے نیک ولی جناب جبار مرزا یاد آگئے جب وہ 1999ء میں روزنامہ مرکزاسلام آباد کے ایڈیٹر ہوا کرتے تھے ان کا ایک کالم بچھو نشہ’’ آن دی ریکارڈ ‘‘میں پڑھنے کا اتفاق ہوا جناب نے اپنے کالم میں بچھو نشہ جو محترمہ ہیروئین کے بعد معرض وجود میں آیا تھا جس کو کسی ہیرونچی کیمیا گر نے متعارف کروایا ہو گا، جب یہ نشہ متعارف ہوا مَری اور گردو نواح میں بچھو کی نسل ختم کرنے پر ہیرونچی حضرات کمر بستہ ہو گئے اور باقاعدہ بچھو تجارت شروع ہوگئی،برائون بچھو 75روپے اور کالا بچھو 100روپے میں فروخت ہونے لگا ہیرونچی حضرات بچھو کو قابو کر کے کسی بند کمرے یا اپنی چادر میں خود کو چھپا کر دہکتے کوئلے پر بچھو کورکھتے اور اس کے جلتے وجود سے اٹھنے والے زہریلے دھویں کو کسی نلکی یا پائپ سے دھویں کو نگلنے لگتے ، دو چار سوٹے لیتے ہی نیم بیہوشی کے عالم میں کھو جاتے۔بچھو نشہ کے بعد چھپکلی پائوڈراور نجانے کیا کیا ان ہئرونچی کیمیاگروں نے خود کو غرق کرنے کیلئے ایجاد کر ڈالا۔ بولان تک پہنچ کر میں نے ڈرائیور سے دریافت کیا کہ اب کتنا سفر رہ گیا ہے؟اس نے جواباً بتایا کہ ہم نے آدھا راستہ طے کر لیا ہے یعنی کوئٹہ سے مچھ جیل کا دورانیہ تقریباً پونے دو گھنٹے کا تھا۔ قیامت خیز گرمی کی بدولت گاڑی کا اے سی بھی برائے نام کولنگ کر رہا تھا۔ چند منٹ بولان میں ٹھہرنے کے بعد سفر دوبارہ شروع کر دیا۔
جیل آبادی سے باہر تھا ،بڑے گیٹ پر پہنچ کر میں نے سکندر خان کاکڑ کو اپنے آنے کی اطلاع بھجوائی زیادہ دیر انتظار نہ کرنا پڑا میں ڈرائیور کو انتظار کرنے کا کہتے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے ہمراہ جیل کا بڑا گیٹ عبور کرکے خان صاحب کے آفس میں آن بیٹھاوہ شائد رائونڈ پر تھے ان کے آفس کے سے جیل کا اندرونی منظر صاف دکھائی دے رہا تھا۔ ہمارے پنجاب کی جیلوں سے بہت کم رونق تھی مچھ جیل میں ۔ہماری جیلوں کی کیا بات ،چاروں جانب قیدیوں کی آمدو رفت چھوٹی سے چھوٹی جیل میں بھی تین سے چار ہزار قیدی توموجود ہی ہوتے ہیں مگر مچھ جیل جو کافی بڑی تھی مگر تھوڑے بہت ہی قیدی ادھر اُدھر نظر آرہے تھے ۔ یکدم بوٹوں کی بھاری آواز اور ہوشیار باش کی صدا گونجی،سکندر خان کاکڑ اپنے آفس میں داخل ہوئے میں نے اُٹھ کر ان کا بڑھا ہاتھ تھامتے اپنا تعارف کروایا اور مچھ جیل آنے کی وجوہات بیان کی۔ انہوںنے فون پر چائے وغیرہ کا آرڈر دیا اور مجھ سے مخاطب ہوئے۔پنجاب میں تو اتنی گرمی کبھی نہیں پڑی ہو گی۔ جی آپ نے بالکل درست فرمایا ہے میں نے جواب دیتے وہ لیٹر نکال کر انکے سامنے رکھ دیا۔ انہوں نے کھول کر اسے بغور پڑھا اور مخاطب ہوئے ’’آئی جی صاحب سے بات ہوئی ہے آپکی اس سلسلہ میں ؟‘‘میں نے نفی میں جواب دیا۔پھر وہ فون پر بات کرنے لگے۔ دوسری طرف سے شائد امتیاز بلوچ تک میری ہیلو ہائے کو یقینی بنا دیا گیا تھا کیونکہ انہوںنے ڈپٹی صاحب کو عمر قید پانے والے قیدی امتیاز بلوچ کو عمر قید پانے والے سیل سے اپنے آفس بلا کر بٹھانے کو کہا تھا۔ چائے میں بڑا اہتمام کیا گیا تھا۔سر ہمارے پنجاب کی جیلوں میں تو خاصی گہما گہمی ہوتی ہے مگر یہاں ماحول خاصا پر سکون دکھائی دے رہا ہے۔
راہی صاحب دراصل یہاں کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد پنجاب کی جیلوں سے قدرے کم ہوتی ہے جیسا کہ میری اس جیل میں قیدیوں تقریباً نوسو سے ہزار گیارہ سو تک مختلف قیدی ہیں۔ ہماری جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ خاصا بہتر سلوک کیا جاتا ہے۔ یہاں بہت سی سہولتیں فراہم ہوتی ہیں قیدیوں کو، بلوچستان حکومت قیدیوں کو بہتر آگاہی فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں رکھتی مثلاًجیل کے اندر تعلیم کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر اور دینی تعلیم کی طرف بھرپور توجہ دی جاتی ہے قیدیوں کی تعداد کم ہونے کی بنا پر کھانا بھی معیاری اور قیدیوں کی اصلاح کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے ۔ خاص کر مچھ جیل کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں غفار خان اور اچکزئی و دیگر نامی گرامی سیاستدان جن میں اکبر بگٹی بھی شامل ہے اپنی اپنی قید کاٹ چکے ہیں ، اور بھی کئی معاملات پر گفتگو جاری رہی کہ اتنے میں ڈپٹی صاحب نے آکر بتایا کہ امتیاز بلوچ ان کے آفس میں آچکا ہے۔
ٹھیک ہے آپ ان کو لے جائیں اور ان کی ملاقات اپنی موجودگی میں کروا دیں اس کے ساتھ سکندر صاحب نے انہیں مجھے ساتھ لے جانے کا اشارہ کیا میں ان کا شکریہ ادا کرتے ڈپٹی صاحب کے ہمراہ آفس سے باہر نکل آیا۔ ڈپٹی کا آفس کا کڑ صاحب کے آفس سے ذرا ہٹ کر تھا۔
جون کا مہینہ اور پھر چاروں جانب سنگلاخ پہاڑ ،پچاس سے اوپر درجہ حرارت جس نے مجھے دہلا کر رکھ دیا تھا ،ہینڈ ٹاول سے بار بار میں چہرہ پر آیا پسینہ صاف کرتے ڈپٹی کے قدم سے قدم ملاتا ان کے آفس کی جانب بڑھ رہا تھا۔
ڈپٹی کے آفس میں داخل ہو تے میری نظراس قیدی پرپڑی جو دو پولیس وارڈن کے درمیان نظریں جھکائے کھڑا اپنے پیروں کی جانب دیکھ رہا تھا۔ ڈپٹی نے اپنے چیئر پر بیٹھتے مقامی بولی میں دونوں سے کچھ کہا وہ سلوٹ کرتے باہر چلے گئے۔اب میں اور امتیاز بلوچ آمنے سامنے کھڑے ایک دوسرے کا جائزہ لے رہے تھے۔ دُبلا پتلاچالیس سے اوپر کا امتیا زبلوچ جس کے چہرے پر جیل کی زندگی کے آثار نمایاں دکھائی دے رہے تھے، بڑی دھیمی آواز میں بولا جناب آپ کی غریب پروری کا تاحیات احسان مند رہوںگا آپ میری گذارش پر لاہور سے بلوچستان اس قیامت کے موسم میں تشریف لائے ہیں میرے پاس کوئی الفاظ نہیں جو میں آپ کی نذر کروں۔ میں نے ڈپٹی صاحب کو مخاطب کرتے اسے بیٹھ جانے کی اجازت طلب کی انہوںنے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ شکریہ کہتے کارپٹ پر آلتی پالتی مارتے میرے سامنے بیٹھ گیا۔ کب سے میری کہانیاں یعنی جیل کہانیاں پڑ ھ رہے ہو؟ جی باقاعدگی سے تو نہیں ایک آدھ بار ملاقاتی حضرات اپنے عزیزوں کی ملاقات کے دوران اخبارات، رسائل بھی جاتے ہوئے چھوڑ جاتے ہیں جو پڑھنے کو مل جاتے ہیں۔ آپ کی تحریر کردہ جیل کہانیاں پڑھنے کے بعد میںنے اپنے ساتھ ہونیوالی ناانصافی بارے اپنی آواز اعلیٰ حکام تک پہنچانے کا فیصلہ کر تے آپ کے چیف صاحب کو لیٹر لکھا تھا۔اس نے پرامید نظروں سے میری جانب دیکھتے بتایا۔ ہاں تو شروع کر یں میں نے اپنے آگے رکھے پانی کے گلاس کو ایک سائیڈ پر کرتے اسے متوجہ کیا۔
’’میری بد قسمتی کا آغاز اس وقت ہوا جب نیو کیمس ہائی سکول کے ٹیچر بشارت علی چوہان صاحب سے زیارتوں پر جانے اظہار کیا یہاں میں عرض کرتا چلوں کہ ہم بلوچوں کی آبادی شہر کے وسط میں ایک ہی جگہ آباد تھی ہمارے قبیلہ کے مردو خواتین مل کر کام دھندا کرتے آرہے ہیں یہ سلسلہ ہماری کئی پشتوں سے چلا آرہا ہے۔ میرے رشتہ دار مرد عورتیں زیارتوں کی آڑ میں ایران سے واپسی پر بہت سارا مال اپنے ساتھ لے آتے اور خوب منافع کماتے۔ میرا ارادہ بھی یہی تھا جو مجھے چوہان صاحب کے گھر لے گیا۔بشارت علی چوہان کا مکمل خاندان اہل تشیع تھا اور وہ ضلع بھر کی تنظیم کے عہدیدار بھی تھے ان کے جاری کردہ سفارشی لیٹر پر ایران کا ویزہ آسانی سے لگ جاتا تھاسو ایک دو بار چکر لگانے پر چوہان صاحب نے سفارشی لیٹر دے دیا جو پتوکی امام بارگاہ کی تنظیم کے نام تھا۔میں پتوکی اسٹیشن کے کواٹروںمیں جعفری صاحب سے ملا انہوںنے لیٹر پڑھ کر میرا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ آٹھ تصویریں اور پانچ سو روپے لے کر رکھ لئے اور میرا رابطہ نمبر لکھ کر ویزہ لگ جانے کی اطلاع دینے کا وعدہ کرتے مجھے اجازت دے دی۔ تقریباً دس روز بعد مجھے فون آیا کہ تمہیں ٹھوکر نیاز بیگ ونگ جسے سید اعجاز حسین شاہ نقوی کمان کریں گے کے ساتھ شامل کر دیا گیا ہے۔ میں نے دھڑکتے دل سے اس نمبر پر فون کیا دوسری طرف سے بولنے والے خود اعجاز نقوی تھے ، بڑی محبت سے پیش آئے اور مجھے ایک ہفتہ بعد آنے کا دن اور ٹائم بتایا ، قافلہ چلنے کا اور آنے جانے کا خرچہ مکمل کھانا پینا رہائش ساڑھے آٹھ ہزار روپے فی کس بتا کر فون بند کر دیا۔ میں نے ایران جانے کی تیاری شروع کر دی ۔پاکستان سے الیکٹرونک کا سامان جس میں ٹیپ ریکارڈر اور ایسا ہی چھوٹا موٹا سامان جو ہمارے لوگ لے کر جاتے تھے وہ میں نے بھی تھوڑا سا ساتھ رکھ لیا اور وقت مقررہ پر ریلوے اسٹیشن پر آگیا۔ زیادہ تلاش نہ کرنا پڑا ہمارا زیارتی قافلہ ایک فرسٹ کلاس کے ڈبہ میں 25افراد پر مشتمل تھا جس میں سات خواتین اور میرے سمیت اٹھارہ مرد تھے۔
تمام زائرین کیلئے جوس، بسکٹ ،منرل واٹراور ایسے ہی خشک خورونوش کا بندوبست تھا، گیس کے سلنڈراور برتن ، مصالحہ جات ، دالیں ، چاول ، آلو پیاز وغیرہ طالب اور حنیف نامی لڑکوں کے کنٹرول میں تھا جو ٹرین کے ڈبہ میں ہی کھانا بنانے کے ماہر تھے۔میرے سوا تمام زائرین ایک دوسرے کو جانتے تھے ۔ایک دو سٹاپوں کے بعد میں بھی ان میں سے دو چار کا واقف کا ر ہو چکا تھا۔ اعجاز نقوی واقعہ کربلا اور مجلس بہت خوبصورت انداز میں پیش کر تے آرہے تھے میرا مسلک سنی تھا مگر میں نے ان پر یہ بات سرے سے ثابت ہی نہیں ہونے دی تھی میں توان میں پھیرے کی آڑ میں زائرین کا لبادہ اوڑھے بیٹھا تھا۔ کوئٹہ پہنچ کر رات پلیٹ فارم پر بسرکی اور دوسرے روز تفتان کیلئے ٹرین میں سوار ہو گئے۔ رات بازار جاکر نقوی صاحب نے کھانے پینے کے سامان کے علاوہ فروٹ بھی وافر مقدار میں خرید لیا تھا۔ اگلا سفر خاصا خوشگوار ثابت ہوا، ٹرین میں صرف زائرین تھے یا ایسے مسافر جو راستے میں آنے والے چھوٹے چھوٹے اسٹیشنوں پر اتر چڑھ تھے ۔
دوپہر کا کھاناٹرین میں ہی کھایا تقریباً چار بجے گاڑی تفتان بارڈر پر پہنچ کر رُک گئی ، نقوی صاحب نے مجھے سب کے پاسپورٹ دیتے لسٹ بنانے کا کہا میں نے ترتیب وار لسٹ بنا کر پاسپورٹ امیگریشن کے سپرد کر دیئے۔ رش اتنا بھی زیادہ نہیں تھا کہ دھکم پیل کا سلسلہ چل نکلتا اسی دوران تھوڑے فاصلے پر بنے چھپروں کے بازار کی طرف چل پڑا چاروں جانب دوکانوں پر طرح طرح کا ایرانی سامان اور کھانے پینے کی اشیاء موجود تھیں ۔ ایک ہوٹل پر تازہ کباب اور قہوہ پیا اور گھوم پھر کر واپس اسٹیشن پر پہنچ گیا ابھی تک بارڈر کراس کرنے کی اجازت نہیں ملی تھی۔ ہمارے گروپ کے لوگ اسٹیشن پر بنے لوہے کے شیڈ کی چھائوں میں بیٹھے اِدھر اُدھر کی باتوں میں مصروف تھے میں بھی ان کے پاس آبیٹھا۔ تھوڑی دیر بعد سب کے پاسپورٹ مکمل ہوکر مل گئے ہم بھی دوسرے لوگوں کی طرح ٹرین میں آبیٹھے آخر کار ٹرین رینگتی ہوئی ایران کی حدود میں داخل ہو گئی۔ یہاں بھی امیگریشن کا معاملہ شرو ع تھا۔ میرا بیگ جس میں برائے نام الیکٹرونک کا سامان تھا وہ میں لاغرضی سے سب کے سامان میں گھسیڑ رکھا تھا اور بے فکر ہو کر ایران کی سرحد میں اِدھر اُدھر سٹالوں پر چکر کاٹنے میں مصروف تھا۔ ہمارے گروپ میں جتنے بھی لوگ تھے وہ کئی کئی بار ایران آچکے تھے اس لئے انہیں ساری اونچ نیچ کا پتہ تھا۔ اعجاز نقوی صاحب امیگریشن سے نپٹ کر ہمارے درمیان آرکے اور سب کو اگلے سفر کے بارے میں سمجھانے لگے طالب نوشابہ کے یخ ٹین پیک سب کو بانٹ رہا تھا۔ پینے والے مشروب کو ایران میں نوشابہ کے نام سے مانگا جاتا تھا۔ چیکنگ مکمل ہونے پر ٹرین زاہدان کی جانب روانہ ہو گئی۔راستے میں ایک دو بار تھوڑی دیر کیلئے گاڑی رکی اور آخر کار زاہدان کے پر رونق اسٹیشن پر انجن خامو ش ہو گیا۔ زائرین کی آمد پر ایران کی فلاحی و اسلامی تنظیمیں ہاتھوں ہاتھ زیارتوں پر آئے لوگوں کو سنبھال رہی تھیں آرام دہ بسوں کی لائنوں میں اپنی تنظیمیوں کے نشان آویزاں تھے اور وہ لوگ اپنے اپنے گروپ آپس میں تقسیم کر رہے تھے ہمیں جو بس تہران کیلئے ملی وہ وطیانہ بسکٹ فیکٹری کی جانب سے تھی ۔ہمارا گروپ وطیانہ بسکٹ بنانے والی کمپنی کا مہمان تھا۔ بس میں ہمارے سوا میرجاواسے بھی زائرین تھے ۔ تقریباً پچاس لوگوں کو لے کر بس اپنے اگلے سفر پر روانہ ہو چکی تھی بس میں پانی اور قہوہ کا بہترین اہتمام تھا اور پونے دو گھنٹے کی مسافت کے بعد بس ایک خوبصورت مسجد کے دلان میں آرُکی۔ مختلف اقسام کے پکے پکائے تیار کھانے ڈبوں میں بند تھے وہ ایرانی روٹیوں کے ہمراہ تمام لوگوں میں تقسیم کر دیئے گئے۔بند ڈبوں میں مٹن، چکن سبزیاں اور مقامی سالن تھا۔ بھوک برائے نام تھی مگر کھانے کا لطف آیا جہاں بھی ہماری بس رُکتی مقامی لوگ بس کو گھیر لیتے اور کھانے پینے کی چیزوں کے ڈھیر لگا دیتے۔ تمام رات طیار(بس) محو سفر تھی صبح فجر سے قبل تہران سٹی میں داخل ہوئی سامنے امام خمینی کا روضہ بقہ نور کی مثال نظر آیا، بس روضے کے اطراف آدھا چکر کاٹتے ایک بڑی شاہراہ کی جانب مڑ گئی۔کافی سڑکیں بدلتے ایک وسیع میدان نظر آیا جو زائرین سے اَٹا پڑا تھا۔ ہماری بس کا منتظم ہمیں ایک جگہ اکٹھا رہنے کی تلقین کر رہا تھا وہ ایک پاکستانی تھا اور ایران میں تعلیم کے حصول کیلئے رہ رہا تھا۔ احمد نام تھا اس کا دوران سفر اس نے تمام رائزین کی لسٹ مرتب کر لی تھی اور باقاعدہ نام بول کر تعداد پوری کررہا تھا۔سب لوگ جو بس میں سے نکل کر ایک سائیڈ پر کھڑے ہو چکے تھے کو مخاطب کر تے اس نے بتایا کہ یہ بس پندرہ روز تک ان کے استعمال میں رہے گی اورہائش وطیانہ بسکٹ فیکٹری میں ہو گی اور سب کے پاس یہ کارڈ رہے گا اگر بھول بھال ہو جائے تو کارڈ کو دکھا نے پر آپ اپنی رہائش پر پہنچ جائیں گے ایسی ہی کئی ضروری باتوں کے بعد ہم سب میں کارڈ تقسیم کئے گئے اور ساتھ ہی کمبل بھی اور چھوٹے چھوٹے قالین بھی جوشائد ہمارے بستر تھے پھر دوبارہ ہمارا قافلہ بس میں سوار ہو کر وطیان چل پڑ ا
بہت بڑی فیکٹری تھی جس کے کئی ایک پورشن تھے ہمیں ایک بہت بڑے ہال میں شفٹ کر دیا گیا مقامی میزبان جن میں خواتین اور اسکائوٹ لڑکے شامل تھی ہمیں ہر طرح کی سہولت فراہم کر رہے تھے۔جوس اور آئسکریم سے ہماری خاطر تواضع کی گئی پھر ناشتہ جو خالص ایرانی انداز کا تھا چاول ، ٹماٹر اور سیخ کباب فروٹ دہی وغیرہ خوب سیر ہو کر ناشتہ کیا ۔بعد ازاں ہمارے میزبان مالکان آگئے بڑی محبت سے پیش آئیے اور ہمارا ہر طرح کا خیال رکھنے کی یقین دہانی کرواتے ہمیں آرام کرنے کا کہہ کر چکے گئے تمام رات کے تھکے ہوئے تھے سب لوگ سو گئے۔ ایرانی خواتین جو تعداد میں سات تھیں کرسیوں پر بیٹھی ہمارے کسی بھی حکم کی منتظر تھیں۔ دو بجے کے بعدبڑا پر تکلف کھانا پیش کیا گیا ۔ اس دوران نوشابہ ، آئسکریم، کلفیاں، قہوہ ، جوس کے پیکٹ ، خشک میوہ جات بھی رکھے جارہے تھے۔ کھانے سے فارغ ہو کر سب کو پہلی زیا رت امام خمینی چلنے کا کہتے نقوی صاحب نے نیچے بس میں چلنے کا اعلان کیا۔ یوں ہم سب تیار ہو کر بس میں سوار ہو نے کیلئے نیچے آگئے پھر مقدس زیارات کا آغاز شروع ہو گیا۔ سورج غروب ہونے سے پیشر واپسی ہوئی فیکٹری پہنچ کر تھوڑی دیر آرام کیا اور دوسرے لوگوں کی طرح طالب زرگر اور حنیف ڈرائیور اور میں بد نصیب ایران کی جگمگاتی شاہراہوں ، دوکانوں اور دوسرے مقامات کی طرف مٹر گشت کرنے چل پڑے۔ وہ دونوں خرید وفروخت میں مصروف تھے جبکہ میں اپنے ساتھ لایا تھوڑا سا الیکڑونک سامان ٹھکانے لگانے کی فکر میں تھا ایک سٹور دکھائی دیا جس میں الیکٹرونک سامان بھی سجا ہوا تھا میں چپکے سے کائونٹر پر موجود ایرانی شاپ کے مالک کے پاس پہنچ گیا یہاں اردو مکمل اعتماد سے بولی اور سمجھی جاتی تھی میں نے اپنا مدعا بیان کیا تو وہ جھٹ خریداری پر آمادہ ہو گیا۔واپس پہنچ کر میں نے اپنے سامان سے وہ دو چار چیزیں جوا س امید پر ساتھ لایا تھا کہ کام آئیں گی بیگ میں ڈالتے اس سٹور پر آگیا ۔ سٹور مالک نے ان کی اچھی طرح جانچ پڑتال کی اور اپنا ریٹ لگایا جو خاصابہتر تھا میں نے فروخت کرنے کی رضا مندی ظاہر کر دی اور اس نے سامان سنبھالتے رقم گن کر میرے ہاتھ میں دے دی، چائے وغیرہ کے دوران میں نے اس سے سوال کیا کہ اِدھر سے کیا لے کر جائوں جو خرچہ نکل آئے، کچھ دیر وہ سوچتا رہا پھر مجھ سے مخاطب ہو ا، بھاری سامان میں تو قالین برتن اور چمڑے کا سامان ہی لوگ لے کر جاتے ہیں مگر میرے خیال میں اگر تم پرندے لے کر جائو تو خاصی آمدنی ہوگی۔ کونسے پرندے؟مجھے تو کچھ سمجھ نہیں۔کنیری برڈ چھوٹی سی خوشنما رنگ چڑیا ہے جو یہاں سے پاکستانی چار پانچ روپے میں مل جاتی ہے پاکستان میں شوقین لوگ یعنی پرندوں سے محبت کرنے والے پانچ ہزار تک خرید لیتے ہیں۔ میں نے پرندوں کی کئی ایک دوکانوں سے اس بارے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ وہ سٹور مالک صحیح کہہ رہا تھا ایک معقول دوکان دار سے میں نے اظہار کیا کہ میں واپسی پر یہ سونگ برڈ لے کر جانا چاہتا ہوں کتنی تعداد تک لے جانے میں کوئی دشوار ی نہیں ہو گی۔ اس نے میری نیت بھانپتے میرے دل کی بات بول دی ۔ بہت سارے طریقے ہیں جیسے پاکستان سے گرین پیرٹ یہاں لائے جاتے ہیں شارک جسے پاکستان میں لالی کہتے ہیں یہاں مینا کے طور پر بھاری قیمت میں فروخت کی جاتی ہے۔پاکستان سے طوطا اور لالی دو سوروپے جوڑا کے حساب سے یہاں لایا جاتا ہے مگر یہاں ہزاروںمیں فروخت ہوتا ہے۔ اسی طرح یہاں سے سونگ برڈ ، اگن ، چکور اور ایسے ہی کئی ایک پرندے اور ایرانی بلیاں سملنگ ہو کر جاتی ہیں جب تمہاری واپسی ہو تو میرے پاس آنا میں تمہیں ایک پیکج بنا دوں گا اور آسانی سے لے جانے کی ترکیب بھی بتا دوں گا۔ میں زیارتوں سے فارغ ہو کر مارکیٹ نکل جاتا اور گھوم پھر کر معلومات حاصل کرتا رہتا کہ کونسی چیز جو میں ادھر سے لے کر جائوں گا تو آمدنی ہو گی۔ واپسی سے ایک روز قبل میں پرندوں کی مارکیٹ میں پہنچ گیا اس شاپ والے کے پاس جس کا نام احمد حسن تھا۔جس نے ایک چھوٹے سے پنجرے میں 30کے قریب چھوٹی چھوٹی چڑیاں اور 10عدد اگن ڈال دیئے ایک چھوٹے سے ڈبے میں پچاس کے قریب کاکروج سے ذرا بڑے رنگین کچھوے ڈال کر اس نے ڈبے میں پانی اور خوراک بھر دی جو پانچ روز تک کیلئے کافی تھی۔ اسی طرح پنجرے میں چڑیوں کیلئے خوراک اور پانی ڈال دیا ان سب پرندوں اور کچھووں کا تقریباً بیس ہزار بنا جو میں نے ادا کر دیا اس کے علاوہ میں نے ایرانی یاقوت فی عدد ایک سو روپے خریدا جو تعداد میں دو سو تھے باقی ایک قالین کچھ ایسی ہی چھوٹی چھوٹی چیزیں تھیں۔ واپسی ٹرین پر ہی تھی کچھووں کا ڈبہ میں نے بیگ میں اس طرح رکھا کہ زیپ سے ہوا جاتی رہے چڑیوں کا پنجرہ میں نے سیٹ کے نیچے رکھ دیا ور آگے اپنا بیگ ۔ پانی کے کولر عام تھے ہر زائرین کے پاس دوسے تین کولربھرے پانی کے تھے گاڑی میں واپسی کے سفر میں کسی بھی دشواری کا سامنا نہ کر نا پڑا اور میںخیریت سے واپس گھر آیا کوئی پرندہ اور کچھوا راستے میں کم نہ ہوا ،کچھوے تو رنگین فش فروخت کرنے والوں میں اچھی قیمت سے بک گئے اور چڑیاں ٹولٹن مارکیٹ میں ہاتھوں ہاتھ اچھے خاصے داموں سے بک گئیں اس کے بعد ایرانی یاقوت سوہا بازار میں سات سوروپے فی کس کے حساب سے نکل گئے۔ مجموعی طور پر اس پھیرے کا مجھے پونے دو لاکھ بچ گیا۔
اتنی آسانی سے اور ایک ہی پھیرے سے اتنے پیسے بچ جائیں گے اس کا مجھے اندازہ ہی نہیں تھا گھر والوں کو راضی کرتے میں کوئٹہ کیلئے روانہ ہو گیا میں نے ایک بار میں ایران آنے جانے کا آسان راستہ تلاش کر لیا تھا ۔ تفتان کے مقامی لوگ کھلے عام آتے جاتے اِدھر اُدھر اور میں نے بھی یہی طریقہ استعمال کرنے کا سوچا تھا۔ جس ہوٹل پر میں نے واقفیت بنائی تھی اس پر آکر میں نے کھانے کا آرڈر دیا اور باتوں باتوں میں ایران جانے کی خواہش کا اظہار کیا اس نے ایک مقامی ڈرائیور فرمان علی سے میرا تعارف کروایا اور دو ہزار روپے کے عوض اس نے تہران لے جانے کی حامی بھر لی وہ ایران سے لوہا بھر کر پاکستان لاتا تھا ۔رات کے پچھلے پہر اس نے مجھے اپنے ٹرک پر بٹھا لیادوآدمی اور بھی تھے بارڈڑ پر رُک کر وہ چوکی کے اندر گیا پھر باہر آکر انجن سٹارٹ کرتے کراسنگ عبور کر لی ۔صبح فجر سے بعد اس نے مجھے ایک دوسرے آدمی جس کا نام روشن تھا کو ایک سڑک کے کنارے اُتار ا اور جاتے ہوئے اپنا نمبر لکھوایا جب واپسی جانا ہو مجھے فون کر لینا اور ہاں کرایہ مال دیکھ کر ہوگیا۔
روشن کو تمام راستوں کا علم تھا اس نے خالی گزرتی ٹیکسی کو اشارہ کیا اور بھائو تائو کر کے روضہ مبارک امام رضا عالی مقام چلنے کا کہا۔ میں روضہ مبارک پر حاضری دے کر دربار شریف سے باہر آکر پیدل ہی ادھر اُدھر گھومتا مارکیٹ پہنچ گیا۔ جس برڈ سینٹر سے میں نے چڑیاں اور کچھوے خریدے تھے اس کامالک مجھے دیکھ کر خندہ پیشانی سے پیش آیا اور مجھے اندر بنے اپنے آفس میں لے آیا قہوہ کجھور سے میری خاطر مدارت کی اورکاروباری امورپر تبادلہ خیال کرنے لگا اس نے کراچی کے ایک دو دوکانداروں کے بارے میں مجھے بتایا جو بہت بڑے تاجر تھے جانوروں اور پرندوں کے اور اپنا کارڈ بھی دیا کہ اس بار تم مال ان کے پاس لے کر جانا اچھے دام ملیں گے۔ دو چار روز تک میں ایران میں رُکا رہا پھر احمد حسن کے پاس آیا اور واپسی کا اظہار کیا کیونکہ میں نے ڈرائیور فرمان علی سے رابطہ کر کے واپسی کا بندوبست کر لیا تھا۔ جس نے رات مجھے ٹرک ٹرمینل پہنچ جانے کا کہا تھا حسبِ سابق احمد حسن نے مجھے اس بار بہت عمدہ کنیری چڑیاں، اگن اور کچھوے دوگنی تعداد میں دیئے اور دو ایرانی بلیوں کے بچے بھی ٹوکری میں ڈال دیئے اس بار میرا بل اسی ہزار پاکستانی کرنسی میں بنا۔ مختصر سامان بنا جو میں اٹھا کر ہوٹل آگیا اور رات مقررہ وقت سے قبل میں نے ہوٹل چھوڑ دیا اور ٹرک ٹرمینل پہنچ گیا،فرمان علی سے رابطہ ہو گیا۔ جس نے مجھے فردوسی گڈز پر پہنچے کا کہا فردوسی گڈز قریب ہی تھا ایک دو بار گزرتے راہگیروں سے پوچھتا ہوا وہاں پہنچ گیا۔ فرمان علی میرے ہاتھ میں چھوٹی سی ٹوکری اور پنجرہ ،ڈبہ دیکھ کر بولا بس یہی کیرج ہے ؟ہاں فرمان بھائی، اس نے پنجرے کا کپڑا ہٹا کر چڑیوں کو دیکھا پھر کچھوے، اگن اور بلیوں کا جائزہ لیا۔ پانچ ہزار ،پھر خود ہی چار ہزار روپے پر بات پکی کر لی۔اس بار مجھے اوپر ٹول بکس میں میرے کیرج سمیت ایڈجسٹ کر دیا۔ نیچے ایک اور مقامی آدمی تھافرمان علی کے ہمراہ رات کو سفر شروع ہو گیا۔ راستے میں ایک ہوٹل پر رکتے کھانا کھانے کے درمیان ڈرائیور فرمان علی سے میں نے کراچی تک کسی ٹرک والے کے ساتھ جانے کی بات کی تو اس نے حامی بھر لی کہ بھیج دے گا۔ خیریت سے واپس تفتان پہنچ کر میں بے فکر تھا کیونکہ اپنے ملک میں تھا اور میرے پاس جو کچھ تھا وہ سمگلنگ شدہ ہونے کے باوجود دیکھنے والے کو میرا شوق ہی نظر آتا۔ ٹرک ڈرائیور اور دوسرے دو لوگ بہت اچھے انسان تھے۔ نمازی پرہیز گار جہاں وہ رکتے مجھے اپنے ساتھ کھانے پینے میں بطور مہمان شامل کرتے بغیر کسی پریشانی کے میں اپنے مال کے ہمراہ کراچی پہنچ گیا۔ ان لوگوں کا شکریہ ادا کرتے میں اپنا سامان سنبھالتا ٹرک سے نیچے اُتر آیا خالی گزرتی ٹیکسی رکوا کر صدر کا بتایا اور پنجرہ ، ڈبہ ، ٹوکری پچھلی سیٹ پر رکھتے ڈرائیور کے ہمراہ اگلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ مختلف سڑکوں کے چکر کاٹنے ٹیکسی والا بند رروڈ کے کارنر پر واقع پرندوں کی بڑی مارکیٹ کے آگے آرُکا۔ احمد حسن کی بتائی شاپ تلاش کرنے میں دقت پیش نہ آئی ملازم نے بتایا کہ سیٹھ صاحب گھنٹہ بھر بعد آئیں گے آپ انتظار کر لیں میرے پاس پنجرہ وغیرہ دیکھتے اس نے پوچھا ایرانی مال ہے میں نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔زیادہ دیر انتظار نہ کرنا پڑا ایک دراز قد سندھی شاپ میں داخل ہوا ملازم نے سلام کرتے میرا بتایا وہ مجھے لے کر پیچھے کی طرف آگیا۔ میں نے احمد حسن کے بارے میں بتایا تو وہ ہنس کر بولا اس کے تمام کسٹمر میرے پاس ہی آتے ہیں انشاء اللہ مارکیٹ سے اچھا دام ملے گا پھر اس نے کنیری اگن، بلیاں ننھے منے کچھوے دیکھے اور بولا بالکل برابر ہے پھر کلکولیٹر پر اس کا حساب بنانے میں مصروف ہو گیا۔ اتنے میں ملازم ناشتہ رکھ کر واپس چلا گیا خرید سے بھی ڈبل منافع اس نے لگایا تھا اور ساتھ میں یہ بھی شرط بیان کر دی کہ پوری مارکیٹ میں مال چیک کروالو ایک روپیہ زیادہ ملے میں ڈبل دونگا اور ہاں مال کی پانچ ہزار روپے محکمہ شکاریات اہلکاروں کی کٹوتی جائے گی میں نے سر ہلاتے ہاں کر دی اس نے ملازم کو آواز دے کر میرا لایا مال اس کے سپر دکر دیا جس نے فوراً وہ سارا مال الگ الگ بڑے پنجروں میں منتقل کر دیا اور کچھووں کا ڈبہ جس کی میں بڑی حفاظت کرتا آیا تھا بار بار پانی خوراک کا خیال رکھتا آرہا تھا۔ پانچ ہزار کاٹ کر اس نے رقم میرے سپر دکرتے ایک چھوٹے سے قریبی ہوٹل میں میری رہائش کا بندوبست کر دیا۔ کمرے میں جاتے ہی میں بے سدھ ہو کر بسترپر دراز ہو گیا پتہ نہیں کب تک سوتا رہا خود ہی میری آنکھ کھلی تھی نہا کر کپڑے بدلے اور لاک لگا کر ہوٹل سے باہر نکل آیا۔ یونہی گھومتا ہوا ایمپریس مارکیٹ نکل آیا یہاںبھی پرندوں کی بہت بڑی مارکیٹ تھی ۔ ایک شاپ کے باہر فلیکس آویزاں تھی جس پر کالے بچھو کی تصویر تھی اور اس کا وزن ایک سو دس گرام درج تھا اور قیمت چالیس لاکھ ۔ میں نے بار بار پڑھا اور شاپ کے اندر داخل ہو گیا۔ شاپ کے اندر پنجروں میں ہر نسل کے بڑے چھوٹے طوطے موجود تھے کسی کی قیمت لاکھوں میں تھی میں نے وائٹ میکائو کا ریٹ پوچھا گھریلو جوڑے کا ساٹھ ہزار اور جنگلی کا پچیس ہزار میں نے دوکان دار کواپنے بارے میں بتایا تو اس نے بڑی محبت سے مجھے بٹھاتے ملازم کو چائے لانے کا اشارہ کیا اس نے ایک میکاؤجس کی ٹانگ میں سٹیل کی ہلکی سی زنجیر پڑی ہوئی تھی کو اپنے کندھے پر بٹھاتے کرسی چھوڑ دی۔ میں نے مال جو لایا تھا اس کی بابت بتایا اس نے دینے کا ریٹ پوچھا اور نہ ہی میں نے بتایا اور بات آگے چل پڑی ۔ اس نے مشورہ دیا کہ دو جوڑی جنگلی میکاؤکی جاتے پنجاب سے لیتے جانا خرچہ نکل آئیگا۔ میں تمہیں لینے والے کا ایڈریس بتا دونگا دو جوڑی تیس ہزار میں دے دونگا تمہیں۔ میں نے اس کی بات پر سر ہلاتے کالے بچھو جس کی قیمت اس نے چالیس لاکھ لکھ رکھی تھی کی بابت پوچھا تو اس نے بتایا کہ بچھو کینسر کے علاج میں کام آتا ہے اور بڑا نایاب ہے اس وزن تک جاتے اس کی عمر پچاس سال سے بھی اوپر ہو جاتی ہے ۔ آپ کے پاس ہے ؟میں نے سوال کیا۔ جی ،جبھی تو باہر بورڈ لگا رکھاہے۔ ہمارے پنجاب میں تو ایسے بچھو عام ہو تے ہیں۔بچھو تو عام ہوتے ہونگے مگر اس وزن کا اتنا نہیں ہو سکتا بڑی محنت اور تلاش کے بعد شکاری ا س کو پکڑ پائے ہیں۔ کیا میں دیکھ سکتا ہوں آپ کا بچھوہو سکتا ہے مجھے اپنے گائوں سے ایسا کوئی بچھو مل جائے ۔ میں شاپ بند کر کے گھر جائوں گا تو میرے ساتھ چلنا ۔ میری بے چینی بڑھ رہی تھی اور وہ مجھے میکاؤ خریدنے پر آمادہ کرنے لگا ہو ا تھا۔ جب اس نے شاپ بند کر دی تو مجھے اپنی گاڑی میں بٹھا کر لالو کھیت کی طرف چل پڑا۔
گھر پہنچ کر اس نے گاڑی روکی اور مجھے لے کر ڈرائینگ روم میں آگیا۔ چاروں جانب پرندوں کی تصویریں آویزاں تھیں جس میں وہ ان کے ساتھ موجود تھا۔ ملازم چائے اور دیگر لوازمات رکھ کر ایک جانب جا بیٹھا میںبے چینی سے انتظار کر رہا تھا کہ پردہ ہلا اور وہ ایک خوبصورت جالی کا بکس تھامے اندر داخل ہو ا شیشے کی ٹیبل پر رکھتے میرے ساتھ بیٹھ گیا۔ میری آنکھوں کے سامنے گھروںمیں رہنے والی چڑیا کے برابر گہرا سیاہ بچھو اس جالی کے بکس میں رکھے چھوٹے چھوٹے پتھروں کے اوپر ادھر اُدھر رینگ رہا تھا۔ اسے دیکھ کر میرے جسم میں سرد لہر دوڑ گئی۔ اس سے پہلے کبھی دیکھا ہے ایسا بچھو؟ میں نے نفی میں سر ہلا دیا۔ 37لاکھ اس کے لگ چکے ہیں بس آج کل میں جانے والا ہے حیدر آباد کی پارٹی ہے جو ملک سے باہر سمگلنگ کر تی ہے ایسے بچھو یہ کروڑوں کا دھندہ ہے اس نے بتاتے وہ بکس اپنے ملاز کے سپرد کر دیا اور خود چائے بنانے لگا ساتھ میں پھر میکائو طوطے کے بارے میں مجھے بتانے لگا۔ کچھ دیر بعدمجھے وہ اپنی گاڑی میں بٹھا کر اپنی رہائش سے باہر لایا او رخالی گزرتے رکشہ میں مجھے چلتا کرتے واپس پلٹ گیا۔ میرے ذہن میں کالا بچھو رینگ رہا تھا۔ میں نے دوسرے روز اللہ ڈسایا کے پاس جاکر اس بات کا تذکرہ کیا جو میری لائی کنیری چڑیاں الگ الگ پنجروں میں جوڑا جوڑا کر کے شاپ کے باہر لگے ڈسپلے میں لٹکا رہا تھا ۔جب اس کام سے فارغ ہو ا تو اس نے وہ سب کچھ سچ پر مبنی بتایا اور کالے بچھو کی بابت کھوج لگانے کی بھی بات کی اور جنگلی میکائو دس ہزار میں جوڑا دینے کا کہا میں نے جھٹ دو جوڑے کی بات پکی کر لی۔
میکائو لیکر جانے کی کوئی پابندی نہیں تھی مگر اکٹھے چار عدد پر محکمہ ریلوے کو اعتراض تھامگر میری یہ مشکل ایک قلی نے حل کر وا دی ڈائنگ کار کے ایک بیرے نے دو ہزار میں صحیح سلامت آخری منزل تک پہنچانے کا سودا کر لیا۔ اللہ ڈسایا نے چاروں میکاؤجوڑا جوڑا کر کے مضبوط ٹوکریوں میں مکئی اور چنے کے دانوں سمیت پیک کر دیے اور گتے کے خالی ڈبوں کے اندر ٹوکریاں رکھ دیں ٹوکریوں کے اندر پانی کیلئے لوہے کے ڈبے باندھے ہوئے تھے۔ مقررہ وقت پر قلی نے وہ دونوں گتے کے ڈبے بمعہ دو ہزار دیتے بیرے کے سپرد کر تے اسے پانی کا خیال رکھنے کی تاکید کی اس نے جواباً کہا کہ یہ کوئی نئی بات ہے آپ بے فکر ہو جائو ۔میرا ٹکٹ فرسٹ کلاس کا تھا جہاں بھی ٹرین رکتی اس بیرے جس کا نام لطیف تھا کو اشارہ کر کے پوچھتا وہ انگوٹھا اور انگلی ہلا کر اوکے کی رپورٹ دے دیتا۔
بڑی ذمہ داری سے اس نے وہ دونوں ڈبے اسٹیشن کی عمارت سے باہر لا کر میرے سپر د کئے اور میں نے مزید دو سو ورپے اس کے ہاتھ پر رکھ دیئے وہ شکریہ کہتے پھر خدمت کرنے کاکہہ کر پلیٹ فارم کی طرف بڑھ گیا۔ میں ڈبے سنبھالتا ٹیکسی کے انتظار میں آکھڑا ہوا جلد ٹیکسی مل گئی میں گھر کا بتا کر بے فکر ہو گیا۔ دوسرے روز مارکیٹ میں گیا اور ایک پیرٹ شاپ والے کو دو جوڑے میکاؤ فروخت کرنے کی بات کی وہ فوراً میرے ساتھ چلنے کیلئے تیار ہو گیا میں اسے موٹر سائیکل پر بٹھا کر گھر لے آیا اس نے تیس ہزار سے بات شروع کی اور پینتیس ہزار روپے میں سودا طے ہو گیا۔ قیمت ادا کر کے اس نے دونوں ٹوکریاں اٹھائیں اور میرے گھر سے باہر نکل گیا۔ میرے لئے بشارت چوہان کی مہربانی رنگ لائی اور میں تھوڑے عرصہ میں اپنے پائوں پر کھڑا ہو گیا۔ مجھے بچھو کی تلاش تھی جس کیلئے میں نے بہت سے پرندے پکڑنے والوں سے رابطہ کیا ۔پہلی بار معلوم ہوا کہ جانوروں ،پرندوں کے علاوہ جنات بھی برائے فروخت تھے مگر بچھوئوںکے شکاری سامنے نہ آئے ۔ اس دوران میں ایران کے دو چکر اور لگا بیٹھا تھا اور میں نے پرندے امپورٹ ایکسپورٹ کرنے کا لائسنس بھی حاصل کر لیا تھا اور پاکستان سے باہر جانے والے پرندوں اور جانوروں جس میں چمگادڑ، کتے، سانپ وغیرہ ٹیکس ادا کر کے ایران لے جاسکتا تھا مگر میرا ذہن کالے سو گرام تک بچھو میں اٹکا ہوا تھا۔
ایک روزمیں داتا صاحب حاضری دیکر پیدل ہی یاد گار پاکستان کی طرف جا رہا تھا کہ لیڈی ولنگٹن ہسپتال کے کارنرپر ایک نیم حکیم کو مختلف قسم کے کیڑے مکوڑوں، سانپ،بچھو، سانڈے کا تیل فروخت کرتے دیکھا ۔ جس نے سانڈے ، سانپ ، بچھو زندہ ہی پبلک کے یقین کیلئے سب کے سامنے رکھ چھوڑے تھے۔ میری نظر مٹی کے برتن میں رینگتے سیاہ بچھوں پر پڑی جو جسامت میں عام بچھوئوں سے ذرا بڑے تھے۔ میں اس انتظار میں تھا کہ وہ اپنا کام پورا کر ے اور میں اس سے سوال جواب کروں اس نیم حکیم کا نام رانا وارث تھا جب وہ فارغ ہو گیا تو میں نے اپنا تعارف کروایا اور اس کے پاس جو بچھو تھے ان کے بارے میں دریافت کیا کہ یہ وہ کہاں سے لایا تھا اس نے بتایا کہ یہ پہاڑی بچھو ہیں جو سوات میںان شکاریوں سے مل جاتے ہیں جو جانور وغیرہ پکڑ کر انہیں فروخت کرتے ہیں میں نے دوسرا سوال کیا کہ اس سے بڑے سائز کے بھی ہو تے ہیں ان کے پاس؟جس پر وہ فٹ پاتھیا قدرے مسکرایا اور بولا جناب جس بچھو کے بارے میں آپ پوچھ رہے ہو وہ ہمارے ہی علاقہ میں پایا جاتا ہے جس کے زہر سے بڑی بڑی کمپنیاں میڈیسن وغیرہ بناتی ہیںخاص کر کینسر کی میڈیسن۔ یہ بچھو اگر کسی کو ڈنک مار بھی دے تو پیلے بھونڈ جتنا اثر ہے ۔ وارث سے خاصی معلومات ملی مجھے بچھوئوں کے بارے میں۔اسی طرح کام کر تے کرتے پرندوں جانوروں کا ماہر ہو گیا اب میں دوبئی کیلئے باز، شاہین ، شکرے ، بحری، لگڑ کی خرید و فروخت کا کام بھی کرنے لگا تھا۔ یہ کام بھی لاکھوں کا تھا جو چوری چھپے ہی کیا جاتاتھا کیونکہ محکمہ وائلڈ لائف اس پر کڑی نظر رکھتا۔
ایک روز گجرات سے مجھے سرور کا فون آیا یہ بھی میری طرح جانور پرندے وغیرہ لیتا دیتاتھا۔ اس نے بتایا کہ ایک ستر اسی گرام کا سیاہ بچھو برائے فروخت ہے اِدھر کسی کے پاس کیونکہ میں نے سرور سے ایک دوبار شکرے لئے تھے اور اسے اپنے ایرئے کے بڑے بچھوئوں کی بابت کہا تھا۔ فون پر اس نے بتایا کہ یہ بچھو کسی زمیندار کے پاس تھا جو اس کی خاندانی پرانی حویلی کی دیوار مسمار ہونے پر اسے ملا تھا جسے اس نے قابو کر کے مٹی کی ہنڈیا میں ریت ڈال کر ہنڈیا میں چھوٹے چھوٹے سوراخ کر کے ہنڈیا کا ڈھکن لگا دیا تھا۔ ایک دو شکار ی آئے تھے اسے دیکھنے اور تیس ہزارتک لگا گئے تھے مگر زمیندار فروخت کرنے کو تیار نہیں تھا۔ سرور کے فون کے بعد میں نے کراچی فون کر کے اللہ ڈسایا کو بتایا کہ مجھے ستر گرام کا ایک مقامی سیاہ بچھو کا پتہ چلا ہے جس کے مالک کو تیس ہزار لگے ہیں اس کے مگر وہ لاکھ سے اوپر مانگتا ہے ادھر سے جواباً اس نے کہا کہ اگر واقعی ستر گرام کا مقامی بچھو یعنی دیسی ہے تو پچاس ساٹھ ہزار کا خرید لو یہاں یہ لاکھ سے اوپر جائیگا۔ میں فون رکھ کر گجرات جانے کی تیاری کرنے لگا۔
صبح گجرات کی بس میں سوارہو کر تقریباً دو بجے سرور کے پاس پہنچ گیا ہم دونوں موٹر سائیکل پر اس گائوں کی طرف چل پڑے جہاں کے زمیندارکے پاس بچھو تھا۔ وہ اپنی حویلی پر ہی مل گیاہم نے اپنے آنے کا مقصد بتایا تو اس نے اپنے ملازم سے بچھو والی ہنڈیا منگوائی میں چونکہ کراچی والا بچھو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا تھا اس لئے مجھے اس کا سائز اس سے ذرا چھوٹا لگا اور جسامت بھی کمزور تھی مگر تھا پھرتیلا۔ میں نے کراچی فون کر کے پھر رابطہ کیا اور اس کا سائز رنگ اور جسامت بتائی دوسری طرف سے وہی جواب ملا جو گھر سے چلتے وقت فون پر ملا تھا۔ میرے استفسار پر وہی سوا لاکھ مانگا زمیندار نے، کافی مغز کھپائی کے بعد 55ہزار روپے میں بات پکی ہوگئی ہم نے رقم دے کر بچھو خرید لیا۔ سرور موٹر سائیکل کے پیچھے ہنڈیا لے کر بیٹھ گیا اور شہر جانے کیلئے چل پڑا۔ رات سرور کے پاس گزاری ، دوسرے روز واپس جانے کیلئے چل پڑا ہنڈیا ہینڈ باسکٹ میں رکھی اور ویگن میں سوار ہو گیا۔ گھر آکر میں نے اللہ ڈسایا کو بتایا کہ میں نے بچھو 75ہزار میں خرید لیا ہے اور ایک آدھ دن میں لے کر آرہا ہوں اس کو فروخت کرنے کا بندوبست کر و۔ جواباً اس نے کہا کہ کراچی میںریسرچ سنٹر اور کئی ایک میڈیسن کی فیکٹریاں ہیں ان سے رابطہ کرتا ہوں میرا 10پرسنٹ ہو گااللہ ڈسایا نے کہہ کر فون بند کردیامیں رات کی ٹرین میں کراچی کی طرف چل پڑا دوسرے دن تقریباً دوپہر تک کراچی پہنچ گیا۔
اسٹیشن سے سیدھا اللہ ڈسایا کے پاس پہنچا ۔ اس نے بچھو کا بغور جائزہ لیا اور سر ہلاتے اس کی کوالٹی کی تائید کر دی پھر اس نے فون پر کسی سے بات کی اور آنے کا کہا۔ دن ڈھلنے سے قبل وہ لوگ آئے اور میرے بچھو کو بغور دیکھنے کے بعد ایک لاکھ دس ہزار قیمت لگائی مگر اللہ ڈسایا نے انکار کر دیا جاتے جاتے ایک پندرہ کہتے اپنی گاڑی میں سوار ہو گئے۔ میں نے اللہ ڈسایا سے مشورہ مانگا کہ کیوں نہ ایمپریس مارکیٹ والے کو بھی دکھایا جائے اس نے کہا چلو چلتے ہیں۔ ہم دونوں پیدل ہی بچھو والی ٹوکری اٹھا کر ایمپریس مارکیٹ طرف چل پڑے۔ یہاں افضل بھائی کے علاوہ اور بھی لوگ کام کرتے ہیں مگر افضل بھائی چھوٹا موٹا کام نہیں کرتے ان کا رابطہ چاروں صوبوں میں شکاریوں سے ہے اس لئے ان کے پاس بچھو آتے رہتے ہیں۔ہم باتیں کرتے افضل بھائی کی شاپ پر پہنچ گئے وہ فلیکس ابھی تک ان کی شاپ پر آویزاں تھی وہ بڑی محبت سے ملے اللہ ڈسایا سے مارکیٹ کے بارے میں گفتگو کرتے مجھ سے مخاطب ہوتے سنائو کوئی دانہ ہاتھ لگا ، میں نے ٹوکری سے ہنڈیا نکال کر اس کے آگے رکھ دی اس نے ڈھکن ہٹا کر میرا لایا بچھو دیکھا اور بولا مہران لیبارٹری والوں کو ضرورت ہے تم نے دکھایا ہے انکو ؟نہیں ایک باہر کی پارٹی نے ایک پندرہ لگایا ہے اللہ ڈسایا نے افضل بھائی کی بات کا جواب دیا۔ میں فون کروں افضل بھائی نے اللہ ڈسایا سے پوچھا ۔ ہاںکر لو اگر دام صحیح لگائیں تو ، کوشش ہے آگے اللہ مالک ۔ افضل بھائی نے نمبر ڈائل کرتے جواب دیا۔ پھر وہ دوسری جانب کسی خالد صاحب سے میرے بچھو کے بارے میں بات کرنے لگا پھر فون بند کر تے ان کے آنے کا بتایا ان کا آفس بندر روڈ پر تھا اور وہ دیکھنے آرہے تھے۔
چائے کے دوران خالد صاحب اور ان کے ہمراہ دو اور ساتھی تھے آگئے اور افضل بھائی نے میرے بچھو کو ہنڈیا سے نکال کر شیشے کے جار میں چھوڑ دیاجسے وہ چاروں جانب سے پرکھ رہے تھے پھر وہ افضل بھائی سے مخاطب ہوئے کیا ڈیمانڈ ہے؟پانچ لاکھ، ارے نہیں چھوتھے نمبر کا ہے ۔نہیں سیٹھ تیسرے نمبر پر آرہا ہے ، افضل بھائی نے کاروباری پلٹا مارا اور ابھی تک پورا ہے اس نے دراز سے شیشہ نکال کر خالد صاحب کے ہاتھ میں دیتے گارنٹی دی خالد صاحب نے جار گھما کر بچھو کی دم کو قریب کر کے دیکھا اور شیشہ واپس دیتے جھٹ دو لاکھ کی آواز لگائی تو اللہ ڈسایا کو د پڑا سیٹھ وہ جو آپ نے تین لاکھ میں لیا تھا اس سے کہیں نیچے تھا اور دوباراس کو خالی بھی کیا ہوا تھا مگر اس کی تھیلی سیل بند ہے سوا دو کہہ کر وہ اٹھ گئے میں پریشانی میں الجھا ہوا تھا کہ دیکھیں اب کیا ہوتاہے مگر دونوں نے انہیں نہیں روکا میں دل ہی دل میں خوش تھا کہ میرے لائے بچھو کی قیمت بڑھ رہی تھی۔ ایک دو جگہ پر انہوںنے فون کئے ایک طرف سے جو بات ہو ئی و ہ قلات میں قائم ایسے ہی ادارے کے مالک کی تھی جو اس وزن اور سائز کے پونے تین لاکھ دینے کو تیار تھا دونوں نے مجھے قلات جا کر بچھو فروخت کرنے کا مشور ہ دیا تو میں نے ان کی کمیشن کی بابت پوچھا تو انہوںنے کہا جو آدمی تمہیں اسٹیشن پر لینے آئے گا وہی سب کچھ کرے گا تم فرسٹ کلاس ویٹنگ روم میں چلے جانا، امین خان تمہیں وہیں بیٹھا ملے گا وہ باقی سب کام سنبھال لے گا۔ میں رات کو کوئٹہ ایکسپریس میں فرسٹ کلاس کا ٹکٹ لے کر بیٹھ گیا تمام رات سفر جاری رہا دوسرے دن میں کوئٹہ پہنچ گیا۔ بیگ اور ٹوکری سنبھالے میں فرسٹ کلاس ویٹنگ روم میں آگیا اِدھر اُدھر نظریں دوڑائیں تو ایک درمیانے قد کا مقامی آدمی میرے قریب آیا اور بولا امیتازبلوچ؟میں نے بتایا ہاں۔مجھے افضل بھائی نے آپ کیلئے بھیجا ہے اس نے میرا بیگ پکڑتے کہا اور ہم دونوں باہر آگئے۔
بچھو والی ٹوکری میرے ہاتھ میں تھی اس نے رکشہ رکوا کر طوغی روڈ چلنے کا کہا۔گوشت مارکیٹ کے قریب رکشہ رکواتے اس نے کرایہ دیا اور مجھے ساتھ لیکر مارکیٹ کے عقب بستی کی طرف چل پڑا۔ زیادہ چلنا نہ پڑا وہ ایک درمیانے درجہ کا چھوٹا سا مکان تھا جو لوہے کی چادروں کو جوڑ کر بنایا گیا تھا اس نے باہر لگا تالا کھولا اور اندر آنے کا کہا۔ ایک طرف دو کمرے اور دوسری طرف دلان نما برآمدہ تھا جس میں خالی پنجرے اوپر نیچے رکھے تھے ۔ بستر زمین پر ہی لگا ہوا تھا اس نے میرا بیگ ایک طرف رکھتے بتایا کہ بچے گائوں گئے ہوئے ہیں۔
وہ رات میں نے امین خان کے گھر گزاری وہ بھی پرندوں اور جانوروں کا کاروبار کرتا تھا پاکستانی پرندے جانور ایران بھجواتا اور ادھر کے جانور پرندے ادھر سمگل کرتا تھا۔ صبح اٹھ کر میں نے خوارک پانی چیک کیا اپنے بچھو کا جو مجھے لاکھوں کا فائدہ پہنچانے والا تھا مطمئن ہو کر میں امین خان کا باہر سے لایا ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گیا پھر ہم تیار کر دونوں بس اسٹینڈ پر آئے اور قلات جانے کیلئے سوار ہو گئے۔
بچھو والی ٹوکری جس میں کچی ہنڈیا میں میرا دو لاکھ کا فائدہ رینگ رہا تھا اسے احتیاط سے سیٹ کے نیچے رکھا اور باہر کے مناظر میں گم ہو گیا۔ قلات پہنچ کر رکشہ لیا اور فیکٹری کا بتاتے ہم بیٹھ گئے۔ فیکٹری آبادی سے کافی باہر تھی خاصا رقبہ تھا فیکٹری کا ۔زیادہ انتظار نہ کرنا پڑ ا اور ہمیں فیکٹری منیجر نے اندر بلوا لیا۔ جتنی دیرخاطر مدارات میں مصروف رہے اسی دوران فیکٹری کے ڈائریکٹر اور لیبارٹری انچارج آگئے۔
مجھے بچھو دکھانے کا کہا میں نے امین خان کی طرف دیکھا جس نے فوراً ٹوکری میں سے ہنڈیا نکالی اور میز پر رکھتے اس کا ڈھکن اٹھا یا ، بچھو ڈھکن کی اندرونی سطح پر چمٹا ہوا تھاڈھکن اٹھتے ہی وہ امین خان کی گود میں آن گرا اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتا بچھو اپنا کام کر گیا ۔ شائد وہ اس کا پہلا ڈنک تھا جو لگتے ہی امین خان کا کام تما م کر گیا۔ فیکٹری میں موجود ڈاکٹر اور لیبارٹری انچارج نے بڑی کوشش کی امین خان کو بچانے کی مگر وہ تڑپ تڑپ کر ٹھنڈا ہو چکا تھا۔
بچھو کو دوبارہ ہنڈیا میں ڈا ل کر فیکٹری مالکان نے مقامی پولیس کو خبر کر دی اور مجھے میرے بچھو سمیت گرفتار کر لیا گیا میرا مقدمہ چلا اور مجھے خطرناک بچھو رکھنے کے جر م میں عمر قید کی سزا ہوگئی حالانکہ میرے پاس لائسنس تھا پرندوں جانوروں کی خریدو فروخت کا مگر کوئی حربہ بھی کام نہ آسکا۔ میں نے بچھو جان بوجھ کو تو نہیں پھینکا تھا امین خان پر، وہ تو اس کی بے احتیاطی اور اس کی تقدیر تھی۔ ورنہ میں بھی تو کئی دنوں سے خوفناک موت کو دن رات ساتھ لئے پھر تا آرہا تھا۔ آپ تک یہ رسائی شائد میرے کچھ کام آسکے بتا کر امتیاز بلوچ خاموش ہو گیا‘‘۔
٭٭٭٭٭

Previous article
Next article

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles