30 C
Lahore
Saturday, May 18, 2024

Book Store

خونخوار کتے

تحریر، جاوید راہی

میرے ایک جاننے والے نے مجھے فون کر کے بتایا کہ گوجرانوالہ کے ایک نواحی گائوں سے کسی لاوارث لڑکی کو بھگا کر لے جانے والے اسلم عرف اچھو کو اس لڑکی سمیت اسکی سہیلی کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت کی سزا ہو چکی ہے۔اسکی زبانی جو واقعہ پیش آیا وہ کچھ اور ہے مگر اسے دوہرے قتل کے جرم میں ٹھوس شہادتوں اور خود اس کے اقرار جرم کی بنا پر فاضل عدالت نے سزا دی ہے ۔ کوئٹہ سے مچھ جیل سے واپسی پر میں نے عیدالفطر کے فوراً بعد اچھو قصاب سے ملنے کا پروگرام بنایا جو جیل میں سزائے موت پانے والے سیل میں پھانسی کا منتظر تھا۔
عمر کے لحاظ سے تو وہ ہوش مند نظر آیا مگر جب اس نے مجھے اپنے ساتھ پیش آنیوالے واقعات سنانے شروع کئے تو مجھے اس کی ذہنی حالت پر شک گزرا مگر جس ربط سے وہ مجھے اپنی روداد سنا رہا تھا میرے لئے اس پر یقین کرنا محال ہو رہا تھا ،بہر کیف میں نے بڑے تحمل کا مظاہرہ کرتے سب کچھ سنا اور اس کی بتائی باتوں کو آپکی خدمت میں من و عن دہرا رہا ہوں ہو سکتا ہے کہ آپ میں سے کسی اور صاحب کو بھی ایسے حالات سے واسطہ پڑا ہو مگر کم از کم میری نظر سے ایسی کوئی بات نہیں گزری ۔سُنی سنائی باتوں پر یقین کرنے سے پیشتر سنانے والے کی صوابدید کا فیصلہ کرنا آپکی اپنی عقل کا بھی امتحان ہو شائد ۔
گو کہ میرا اپنا بھی ذاتی مشاہدہ ہو چکا ہے ایسے حالات سے مگر یہ واقعہ مجھے کچھ اور ہی نوعیت کا دکھائی دیا ہے ۔ اچھو قصاب جیل حکام کی بدولت پنجگانہ نماز اور قرآن کریم کی سعادت پا کر اللہ کے حضور ہر وقت اپنے گناہ کی معافی کا طلبگار رہتا ہے۔ اس وقت بھی وہ تلاوت میں مصروف تھا جب جیل اہلکار مجھے اس کے سیل کے باہر چھوڑ گئے تھے۔ تلاوت سے فارغ ہو کر اس نے بلند آوازمیں اپنے اور تمام جیل کے قیدیوں کیلئے دعا مانگی اور سلاخوں سے ہاتھ نکال کر مجھ سے ہاتھ ملایا۔
جی فرمائیں،اس نے نرم لہجہ میں مجھ سے بات شروع کی، میں نے وہی سوال دہرایا جو اکثر میں ایسے قیدیوں سے کرتا ہوں کہ یہ کیسے ہوا ؟کیوں ہوا؟وغیرہ وغیرہ۔اچھو چند پل سارے حالات کی کڑیاں ملانے کے بعد بولا،دو دن سے مسلسل بارش نے کاروبار زندگی مفلوج کر کے رکھ دی تھی، ڈنگر زیادہ دیر باڑے میں کھڑے کھڑے تنگ پڑ گئے اور ایک دوسرے پر سینگ زنی پر اُتر آئے تھے۔ حویلی کی پرانی خدمتگار مائی سکینہ نے آکر بابا چودھری کا پیغام دیا کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ مال نکال کر اوپر ٹبی کی جانب لے جائو تاکہ ان کی ٹانگیں کھل جائیں اور ہریالی کو منہ بھی مار لیں۔ جی مائی جی اچھو نے چارپائی سے اٹھتے باڑہ کی طرف جاتے جواباً کہا اور سب ڈنگروں کے سنگل کھولنے لگا۔ اسلم کی ماں جب وہ تین سال کا تھا اسے اپنی شفقت سے محروم کر گئی ۔ اسلم کے والد پر دونوں بہن بھائی کی ذمہ داری کا پہاڑ ٹوٹ پڑا گھر والی چاہے پرانی مریضہ تھی مگر دونوں بچوں کا تواسے کوئی فکر نہیں تھا۔ رضیہ سے چھوٹی کلثوم تھی جو سوا سال کی عمر میں ہی نمونیہ کا شکار ہو کر چل بسی ۔ رضیہ سات سال کی عمر میں باپ اور چھوٹے بھائی کیلئے گھر کے کاموں میں اُلجھ گئی گائوں میں تو کوئی رشتہ دار تھا نہیں جو ان بچوں کا خیال کر کے رمضان کی شادی کروا دیتا بس رمضان ان دونوں بہن بھائی کی پرورش کا ہی ہو کر رہ گیا۔ گائوں میں رمضان کو چھپر کے نیچے جوتے اور سائیکل مرمت کر تے کرتے رضیہ اٹھا رہ سال کی ہوگئی اور اسلم پندرہ سال میں جا لگا۔ گائوں کے نمبردار نے رمضان کی بیٹی رضیہ کو سُکھ پور میں اپنی بڑی بہن کے گھر میں کام کرتی ملازمہ کے بیٹے سردار علی سے بیاہ دیااور اسلم کو بابا چودھری کی حویلی میں ڈھور ڈنگر کے باڑہ کی چاکری دلوا دی۔ رمضان دمہ کا دائمی مریض تھا اور ایک روز وہ بھی کھانستے کھانستے اللہ کو پیار ا ہو گیا۔ اچھو نے اپنا چھوٹا سا کچا گھر بمعہ سامان اپنے پڑوسی چاچا کرم الٰہی کو سونپ دیا ور خود بابا چودھری کی حویلی میں دن رات مال ڈنگر والے باڑے کے ساتھ چھوٹی سی کوٹھڑی میں آن بسا تب سے آج تک وہ حویلی کا ہی ہو کر رہ گیا تھاجب کبھی رضیہ کا دل بھائی کی یاد میں تڑپ اٹھتا تو وہ سکھ پور سے اپنے دونوں بچوں سمیت بھائی کو آکر مل جاتی۔ اسے بس ایک فکر تھا کہ کسی طرح اچھو کا بیاہ ہو جائے اور وہ بھی اپنے گھرو الا بن جائے مگر بابا چودھری یہ کہہ کر رضیہ کی بات کاٹ دیتا کہ یہ کو ن سا ابھی بوڑھا ہو رہا ہے ہو جائے گا جب اللہ کو منظور ہوا۔
اچھو نے تمام بڑی چھوٹی گائیں بھینسیں سنگلوں سے آزاد کر تے باڑے کا بھاری بھرکم گیٹ پوری طاقت صرف کرتے کھول دیا جو مسلسل بارش کے باعث بھیگ کر دوگنا وزنی ہو چکا تھا۔ سارا مال ایک دوسرے سے زور آزمائی کرتا باہر نکل گیا۔ بارش گو کہ کم ہو گئی تھی مگر سست روی سے جاری تھی اچھو نے چلتے ہوئے باڑہ سے ٹاٹ کی پلی اُٹھا کر اپنے سر کو ڈھانپ لیا تھا جس میں چارہ بھر کر وہ مال کی کھرلیوں میں ڈالتا تھا۔ چاروں جانب جل تھل نے کیچڑ ہی کیچڑ کر رکھا تھا اس نے کھیتوں کی بجاجے مال ڈنگر کا رخ پرانی ٹبی کی جانب موڑ دیا تھا۔ پرانی ٹبی جس کے بارے میں کہاجاتا تھا کہ پچھلے وقتوں میں وہ شاہی گھوڑ سرائے تھی جہاں شاہی قافلے دوران سفر آرام کیلئے رکتے تھے پھر گردشِ ایام نے چھوٹی اینٹ کی بنی عمارت کھنڈرات میں بدل دی۔ پرانی ٹبی گائوں سے کافی دور ہونے کے سبب کم ہی لوگوں کی گزر گاہ تھی اِدھر سے گزرنے والے یا تو شہر جاتے وقت اس راستے کو استعمال کرتے یا پھر اِدھر اُدھر کے گائوں کو آنے جانے والے اس راستے پر سے گزرتے تھے۔ ہلکی بارش کے باوجود اچھو کے سر اور جسم پر ٹاٹ کی پلی پوری طرح بھیگ چکی تھی ۔ اگست کے ملے جلے موسم کے باعث اس کے کثرتی جسم میں ٹھنڈک کی لہر گردش کرنے لگی تھی۔ مال ڈنگر بارش میں بھیگی گھاس، جڑی بوٹیوں پر منہ مارتا گھوڑ سرائے کی طرف چڑھنے والی گھاٹی کی جانب آگے بڑھ رہا تھا۔ اچھو درختوںکا سہارا لیتا پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔ گھوڑ سرائے کی چاروں اطراف خاصا خودرو جھاڑ جھکاڑاُگا ہوا تھا ۔ سارا مال ڈنگر چرنے میں لگ گیا اور اچھو گھوڑ سرائے کی کھنڈرات عمارت کے اندر دلان نما راہداری عبورکرکے اوپر والے حصہ میں آگیا جہاں سے چاروں جانب مال ڈنگر پر نگاہ رکھی جاسکتی تھی۔ بوندا باندی کے ساتھ ساتھ کبھی تیز اور کبھی آہستہ رفتار سے ہوا کی سائیں سائیں ماحول کو پراسرار بنا رہی تھی اچھو نے اپنے اوپر والا ٹاٹ کا بڑا سا ٹکڑا خود سے جدا کر کے اندر والی ٹوٹی دیوار کے اوپر پھیلا دیا تھا جس میں سے پانی کی بوندیں ٹپک کردھول کر اوپر گر رہی تھیں۔ دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر اس نے اپنی ٹانگیں لمبی کرتے سر آگے کو جھکتی مہراب پر ٹکا لیا اور ہر یالی چرتے مال گو گن کر اس نے تسلی کر لی اور آنکھیں موند لیں۔
اچانک اچھو کو اپنے نتھنوں میں ایک عجیب سی مہک کا احسا س ہوا تو اس نے فوراً اپنی آنکھوں کو کھولتے اپنی ٹانگوں کو سمیٹا اور اُٹھ کر کھڑا ہو گیا۔اپنے ارد گرد کا جائزہ لیا اور مطمئن ہو کر گیلا ٹاٹ سنبھالتا عمارت سے باہر نکل آیا۔ اس اچانک اٹھنے والی مہک نے پل بھر کیلئے اس کے وجود کو ہلکے خوف کے احساس میں اُلجھا ڈالا تھا وہ پہلے بھی کئی بار گھوڑ سرائے کی اس چراگاہ میں حویلی کے مال ڈنگرکو چرانے کیلئے لاچکا تھا مگر اس نے آج والی کیفیت کبھی محسوس نہ کی تھی۔ وہ اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ ایک بار پھر اسے اپنے آس پاس ویسی ہی مہک کا سختی سے احساس ہو ا تووہ واقعی خوفزدہ ہو گیا جب اس نے اپنے پیچھے گھوم کر دیکھا تو چند قدم فاصلے پر ایک انتہائی خوبرو دوشیزہ کو کھڑے پایایکدم اس کے ذہن میں بھوت پریت کا خیال جاگ اٹھا اور وہ بھاگنے ہی والا تھا کہ وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے قریب آگئی اچھو کے پائوں مَن مَن کے ہو چکے تھے اور حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے ۔ ڈرو مت ،میں کوئی ایسی ویسی چیز نہیں ہوں جو تمہیں نقصان پہنچائے گی میں بھی تمہاری ہی طرح کی جیتی جاگتی حقیقت ہوںاس نے اپنے دونوں ہاتھ اچھو کے کپکپاتے ہاتھوں پر رکھتے اسے یقین دلانے کی کوشش کی۔ تم کون ہو؟ اور یہاں اجاڑ میں اس وقت کیا کرتی پھرتی ہو۔ ادھر اوپر آجائو میں تمہیں سب بتاتی ہوں۔ اگر کسی نے مجھے یہاں دیکھ لیا تو مصیبت آجائے گی اس نے اچھو کا ہاتھ تھامتے گھوڑ سرائے کے مسمار کھنڈرات کی طرف چلنے کا کہا۔ اچھو کسی معصوم بچے کی طرح اس کے پیچھے پیچھے ٹوٹی پھوٹی عمارت کے اندر داخل ہو گیا اب وہ دونوں اسی جگہ آگئے جہاں اچھو نے پہلے بارش سے بھیگنے کی بچت کی تھی ۔ میرا نام سبینا ہے اور میں شہر سے بھاگ کر یہاں آئی ہوں رات سے ، مگر کیوں ؟اچھو نے تذبذب کے عالم میں سبینا سے سوال کیا۔ یہ لمبی کہانی ہے سبینا نے دیوار کا سہارا لیتے اسے جواب دیا مگر اس تیز بارش میں شہر سے گائوں۔ یہ اتفاق جانو میں ٹریکٹر ٹرالی میں اس وقت چھپی تھی جب ڈرائیورڈیزل بھراونے میں مصروف تھا۔ اس نے تمہیں دیکھا نہیں ۔ نہیں میں ٹرالی میں پڑے خالی ٹوکروں کے پیچھے دُبک گئی تھی۔ کمال ہے اچھو نے غیر یقینی انداز میں اپنے شانے اچکائے اتنے میں سبینا اٹھ کر دوسرے جانب کے ٹوٹے پھوٹے حصہ میں چلی گئی جب واپس پلٹی تو اس کے ہاتھ میں چھوٹی سی گٹھٹری تھی جسے اس نے کھول کر اچھو کے سامنے رکھ دیا۔ کچھ کپڑے اور کھانے پینے کی چیزیں تھیں اس کے علاوہ چھوٹے سے ہینڈ پرس میں کرنسی نوٹ جو سبینا نے اسے دکھا کر دوبارہ گٹھڑی باند ھ لی۔چلو یہ تو ٹھیک ہے مگر تم گھر سے بھاگی کیوں ؟اچھو نے پہلی بار بھرپور نظروں سے سبینا کے سراپا کا جائزہ لیا۔ بڑی بڑی طلسماتی آنکھیں کھلی کھلی رنگت ، سرخی مائل ہونٹ، تیز ناک جو سوٹ اس نے پہن رکھا تھا شائد بارش میں مسلسل بھیگتے رہنے کی وجہ سے وہ مہک جو خمار آلود ہو چکی تھی اس کے احساس نے اچھو کو بے خوف کر دیا اور لمحہ بھر کیلئے سب کچھ بھول گیا۔
تمہیں اتنی رات اکیلے اس ویرانے میں خوف نہیں آتا؟تمہارا نام کیا ہے ؟۔ اسلم،لوگ اچھو کہہ کر بلاتے ہیں تم بھی اچھوکہہ کر بلا سکتی ہو اس نے ہلکی سی مسکراہٹ میںسبینا کواپنا نام بتایا ۔اچھو موت کے خوف سے تو زیادہ خوفناک یہ کھنڈرات نہیں۔ٹریکٹر ٹرالی شائد کسی گھر کے آگے رُکی تھی ڈرائیور اُتر کی گیٹ کھولنے گیا تو میں چپکے سے اپنی گٹھڑی سنبھالتی ٹرالی کے کونے میں سے اتر کر درخت کی اوٹ میں ہوگئی جب تک وہ ٹریکٹر ٹرالی اندر نہیں لے گیا میں اپنی جگہ چھپی کھڑی رہی پھر اس نے اندر جاکر انجن بند کرتے گیٹ کے دونوں کواڑ آپس میں بند کر دیئے سارا گائوں میں بارش ڈوبا ہو اتھا میں نے اچھی طرح تسلی کرتے وہ جگہ چھوڑ دی اور گائوں سے باہر جانے والے راستے پر آگے بڑھنے لگی ۔ دور سے اس ویران عمارت کے کھنڈرات نظر آرہے تھے یہاں آکر میں نے خود کو اس تاریک اور سنسان ماحول کی گود میں گرادیا،بتا کر وہ تاحد نظر جھاڑ جھکاڑ کے ناہموار میدان میں ادھر اُدھر منہ مارتے مال ڈنگر کی طرف دیکھنے لگی۔ کچھ دیر توقف کے بعد اچھو بولا تم نے بتایانہیں کہ آخر تمہیں کونسی آفت آن پڑی جو اس طوفان بھری رات میں گھر سے نکل بھاگی۔ ہاں اچھو میں کیوں گھر سے نکلی اگر مجھے اس بات کا پتہ نہ لگتا کہ میرے چچا زاد مجھے قتل کرنے والے ہیں تو شائد میں تمہارے سامنے اس وقت یہ سب کچھ بتانے کیلئے زندہ نہ ہوتی۔ میرے والد کے کام میں ہاتھ بٹاتا آرہا تھا پرلے درجے کا لالچی ،میری پیدائش کے کچھ دن بعد میری والدہ اندرونی انفکشن کے باعث دم توڑ گئی ۔میرے والد صاحب صدمہ کی حالت میں مشکل سے دو ماہ نکال سکے اور میں چچا اور اس کے گھر والوں کے رحم و کرم پر رہ گئی۔ میڑک بہت ذلت سے کیا ہر وقت چچی کے طعنے، میں شکایت کر تی تو چچا برس پڑتے تما م جائیدا جو کروڑوں میں تھی کی میں واحد جائز وارث تھی مجھے ایک دوبار میرے چچا نے کورٹ میں چل کر سب کچھ اپنے نام کروانے کی کوشش کی میرے سخت انکار پر وہ سارے یکدم خاموش ہو گئے۔انکی خاموشی کو میں ناکام جانتے مطمئن ہو گئی مگر ایک روز میں نے ان سب کو اپنے قتل کا پلان تیار کرتے سن لیا کہ وہ مجھے رات سوتے میں گلا دبا کر مارنے کے بعد دریا برد کر کے گھر سے فرار ہونے کی افواہ پھیلا دیں گے مگر میں خبردار ہو گئی اور گھر سے فرار کے منصوبے تیار کرنے لگی یہ تھوڑا بہت سامان میں نے تیار کر کے اپنے کمرے میں چھپا رکھا تھا ۔ بارش کی رات موقع پاکر میں گھر سے نکل آئی اور باقی سارے حالات سے میں نے تمہیں آگاہ کر دیا ہے بتا کر سبینااچھو کی آنکھوں میں دیکھنے لگی ۔ نجانے اس کی آنکھوں میں کیسی چمک تھی کہ اچھو نے گڑ بڑا کر نظریں چرا لیں۔ اب تمہارا آگے کا کیا ارادہ ہے؟۔ اچھو نے سوال کیا ۔فی الحال تو اس سے محفوظ جگہ میری نظر میں اور کوئی نہیں سبینا نے کھنڈرات سے باہر دیکھتے اس کے سوال کا جواب دیا۔ یہاں تم اکیلی رہو گی؟پچھلی رات بھی تو اکیلے گزاری ہے میں نے اگر تم ادھر اپنا مال نہ لے کر آتے تو میں ادھر اکیلی ہی تھی نا اس نے شوخی سے اچھو کی بات کا جواب دیا مگر اچھو کے چہرے پر ناگواری اور پریشانی کے تاثرات ابھر کر ڈوب گئے۔ ارے پاگل لڑکی، یہی تھوڑا بہت خشک راشن اور تمہاری پانی کی یہ دو بوتلیں کب تک تمہارا ساتھ دیں گی؟ اب کس بات کی فکر ہے مجھے تم جو مل گئے ہو خود ہی میرا خیال رکھو گے نا سبینا نے اپنے دنوں شانے اوپر کرتے اس کی طرف دیکھا۔ اچھو آدھی خالی بوتل اس سے لیکر اٹھتا ہوا عمارت سے باہر نکل آیا، جنگلی پیال کے بڑے بڑے دو تین پتے نوچ کر ان کو آپس میں اس طرح جوڑا کہ وہ پیالہ نما برتن بن گیا بوتل والا پانی اس نے احتیاط سے نکال کر محفوظ کرتے قدم مال ڈنگر کی طرف بڑھا دیئے۔ سارے مال میں بھاگ بھری سب سے اصیل بھینس تھی جس کے قریب جا کر اس نے پیار سے اسے تھپکی دیتے دودھ دھونے کیلئے کھڑا کر لیا اور دو چار ہاتھ مارتے بوتل دودھ سے بھر لی اور واپس گھوڑ سرائے کے کھنڈرات میں آگیا ۔ سبینا اسی ٹوٹی منڈیر پر ٹانگیں پھیلائے اچھو کے انتظار میں بیٹھی تھی اسے قریب آتے دیکھ کر بولی میں تو سمجھی تھی کہ مجھے اکیلا چھوڑ کر چلا گیا ہے۔ نہیں سبینا میں تو تیری بھوک پیاس کا بندوبست کرنے گیا تھا لو تازہ اور خالص دودھ پیو تم شہر والے تو نقلی دودھ پر گزارا کرتے ہو کہتے ہوئے اس نے ڈھکن ہٹا کر بوتل اس کے ہاتھ میں پکڑا دی جو سبینا نے فوراً منہ کو لگاتے آدھی سے زیادہ چڑھا لی۔ میں مال واپس لے جاکر تمہارے لئے کھانے پینے کا سامان اور دو ایک برتن اور بستر لے آئونگا پھر سارے کاموں سے فارغ ہو کر تیرے پاس آجائوں گا تم دلیر لڑکی ہو مجھے پتہ ہے تم سارے حالات کا مقابلہ کر لو گی اور ہاں جب تک میں ادھر ہوں تم بے فکر ہو کر کمر سیدھی کر لوتاکہ رات کو تمہیں اگر جاگنا بھی پڑے تو تمہیں کوئی دِقت نہ ہو۔
سبینابوتل ایک طرف رکھتے اپنی گٹھڑی کا سرہانہ بناتے دیوار کے ایک سائیڈ ہو کر لیٹ گئی اور آہستہ آہستہ اس کی آنکھیں بند ہو تی چلی گئیں۔اچھو کن اَکھیوں سے اس کے سراپے کا جائزہ لے رہا تھا بچپن سے جوانی تک اس گائوں کی سیدھی سادھی لڑکیوں کو ہی دیکھتا آرہا تھا مگر زندگی میں پہلی بار سبینا جیسی خوبرو لڑکی کو دیکھ کر، مل کر اور اپنے سامنے اس طرح لیٹے دیکھ کر اس کی اندرونی کیفیت میں ہلچل سی اُٹھ رہی تھی۔ سبینا لیٹتے ہی خراٹے بھرنے لگی اور اس کی چادر اس کے جسم سے ڈھلک کر ایک طرف ہو گئی اور اچھو کا وہاں بیٹھنا محال ہو گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ اُٹھ کر باہر نکلتا سبینا سوتے میں پلٹی اور اپنا آدھا جسم اچھو کے اوپر لے آئی اور ایک بازو اس نے اچھو کی رانوں پر پھیلا دیا۔ اچھو کو لگا جیسے کوئی پھولوں کی نرم ڈالی اس کے وجود سے لپٹ گئی ہو۔
باہر بارش کی رفتار قدرے تیز ہو گئی اور اچھو سبینا کے قریب کھسک آیا سبینا نے اپنے چہرے پر گرم سانسوں کو محسوس کر تے یکدم آنکھیں کھول دیں اور اچھو فوراً پیچھے ہٹ گیا مگر سبینا بدستور اس کی خمار بھری آنکھوں میں جیسے خود کو تلاش کر رہی تھی پھر وہ دیوار کا سہارا لیتے اس انداز میں اٹھی جیسے اسے خود پر بھی قابو نہ رہا ہو۔ اچھو اس کا سر اپنے کندھے پر محسوس کر کے بے بسی سے سمٹ گیا ، باہر بارش کی شدت میں اضافہ ہورہا تھا اور گھوڑ سرائے کے ٹوٹے پھوٹے در و دیوار ایک دوسرے کو سنبھلنے میں مدد دے رہے تھے۔ اچھو کی روح اس کے جسم کو پاش پاش کرنے کی سعی میں بے بس ہو رہی تھی بادلوں کی گھن گرج اور بجلی کی کوند نے والی چمک نے یکدم گھوڑ سرائے کی نیم تاریکی کو منور کر ڈالا۔ اچھو سبینا سے نظریں چراتے باہر دیکھتے بولا سارا مال واپس جانے کیلئے گائوں کے واپسی راستے کی طرف بڑھنے لگا ہے سبینا خود کو چادر میں لپیٹتے بولی تم کب آئو گے اچھو؟بارش تھمنے کا نام نہیں لے رہی مگر میں پھر بھی تمہارے پاس آئونگا اچھو کے لہجہ میں خود اعتمادی کا رنگ نمایاں تھا۔ پھر وہ اسے اپنا خیال رکھنے کی تاکید کر تا مال ڈنگر کے پیچھے چل پڑا ، سبینا بڑی اپنائیت سے اسے جاتے دیکھ رہی تھی پھر اس کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ اُبھر کی ڈوب گئی۔
اچھو مال کو باڑہ میں بند کرتے دودھ دھونے کے برتن کو ٹھٹھری سے نکا لنے کیلئے جانے لگا تو مائی سکینہ نے اسے پیچھے سے آواز دیتے کہا کہ تمہارا کھانا رکھ کر جا رہی ہوں۔ ٹھیک ہے، اس نے جاتے جاتے جواب دیا اور برتن اٹھا کر باڑہ میں آگیا۔ وہ جلدی جلدی دودھ نکالنے سے فارغ ہونا چاہتا تھا۔ اس کام سے فارغ ہو کر اس نے اپنی کوٹھٹھری سے ضروری برتن لئے اور ڈولنی میں دودھ ڈالا اور کھانے کے قریب رکھتے دودھ میں سے لیا ہوا دودھ پورا کرنے کیلئے پانی کی آمیزش کرکے دودھ اندر حویلی میں پہنچایا اور مال کو چارہ ڈالنے کی تیاری کرنے لگا جب وہ سب کاموں سے فارغ ہو گیا تو سارا سامان روٹی سمیت اٹھاتے اپنی کوٹھٹھری سے باہر نکل کر گھوڑ سرائے کی جانب چل پڑا ۔
بوندا باندی جاری تھی مگر بارش کا زور ٹوٹ گیا تھا۔ گھوڑ سرائے کے درو دیوار نیم تاریکی میں ڈوبے گہرے سکوت کی تصویر دکھائی دے رہے تھے ،اچھو نے آہستہ آواز میں سبینا کو پکارا مگر کوئی جواب نہ آیا دوسری بار اسے ذرا اونچی آواز دی مگر گھوڑ سرائے کے کھنڈرات میں اسے اپنی ہی آواز کی گونج محسوس ہوئی اسے سبینا کو یہاں نہ پا کر صرف ایک ہی خیال آیا کہ کہیں اس کے ساتھ کوئی مسئلہ تو نہیں پیش آ گیا وہ ہاتھوں میں اٹھایا سامان ایک طرف رکھتے گھوڑ سرائے کی ٹوٹی پھوٹی سیڑھیاں چڑھتا اوپر والے حصہ میں آ گیا چاروں جانب نیم تاریکی میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا کہ نیچے کی جانب سے اس کے نتھنوں میں وہی مانوس سی مہک چھوکر گزر گئی۔ اچھو جلدی سے سیڑھیاں ٹٹولتا نیچے کی طرف آیا تو سامنے والی ٹوٹی منڈیر پر سبینا ٹانگیں نیچے کی طرف پسارے اپنے لمبے گھنے بال شانوں کے اِدھر اُدھر پھیلائے اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔ کہا ں تھی تم؟ اچھو نے اسے پیار سے دیکھتے پوچھا،اِدھر باہر ضروری کام سے گئی تھی میں نے تمہیں دیکھ لیا تھا سبینا نے دیوار کا سہارا لیتے منڈیر پر سے اُترتے اس کی بات کا جواب دیا۔ چلو آئو ہاتھ دھو کر کھانا کھالیں مجھے بھوک لگی ہے اچھو نے پانی والا وہ برتن جو ساتھ لایا تھا اٹھاتے اسے مخاطب کیا۔ پھر وہ دونوں ہاتھ دھو کر کھانے میں لگ گئے ۔سبینا نے واجبی سا کھانا لیا تھا اور اچھو کا لایا دودھ وہ بڑی رغبت سے پی رہی تھی۔ پھر اچھو نے ایک کونے میں اپنے ساتھ لایا بستر زمین پر بچھاتے اسے مخاطب کیا سبینا تم کب تک یہاں چھپی رہو گی موسم ٹھیک ہوتے ہی گائوں کے لوگ ادھر آنے جانے لگتے ہیں۔ اچھو تو مجھے اپنے ساتھ لے چلو نہ اپنے پاس۔ واپس تو میں نے جانا نہیں اور تم سے جو رشتہ بن چکا ہے اس کی ذمہ داری سے اب مجھے سنبھالنا تمہارے فرائض کا حصہ ہے سناتم نے ،اس نے اچھو کے بچھائے بستر پر بیٹھتے اس کی جانب دیکھا۔اچھو کی خاموشی میں پریشانی بھی شامل تھی۔
حویلی کے لوگ تو بالکل بھی اس معاملہ میں میرا ساتھ نہیں دیں گے میں یہاں ہی پیدا ہوا ہوں او رکبھی گائوں سے باہر نکلا نہیں اس کا لہجہ تذبذب میں ڈوبا ہوا تھا۔ میں نے تو شہر دیکھاہے نہ میں شہر میںپلا بڑھا ہوں۔ سبینا نے پشت دیوار کے ساتھ لگاتے اس کی بات کا جواب دیا تو پھر کیا کرنا چاہئے مجھے ، اچھو نے اس کے پاس بستر پر بیٹھتے پوچھا۔ کرنا کیا چاہئے یہاں سے نکل کر شہر کی طرف چلتے ہیں اور کیا کرنا چاہئے میرے پاس کافی کچھ ہے گہنے روپیہ اس سے تم شہر میں کوئی کام کرنا میں گھر میں بیٹھ کر تمہارے آنے کا انتظار کیا کروں گی۔ سبینا نے اچھو کے کندھے پر ہاتھ رکھتے بے پناہ پیار سے اس کی بات کا جواب دیا۔ اچھو چند پل خیالوں میں کھویا رہا پھر اس نے سبینا کی بات کو تسلیم کرتے اس کے ساتھ جانے کی حامی بھر لی تو پھردیر کس بات کی چھوڑو سب کچھ اِدھر ہی ہم وقت ضائع کئے بغیر یہاںسے نکلتے ہیں سبینا نے اسے ٹٹولا۔ ٹھیک ہے اچھو نے اپنا لایا سامان اکٹھا کیا اور سبینا کی طرف دیکھا ۔سبینا اٹھ کر کھنڈرات کے اس طرف چلی گئی جہاں اس نے اپنا سامان رکھ چھوڑا تھا پھر وہ بھی چھوٹی سی گٹھڑی اٹھائے اس کے قریب آگئی دونوں آگے پیچھے گھوڑسرائے کے اندرونی حصہ کو خیر آباد کہتے باہر نکل آئے۔
نیم تاریکی میں دونوں آگے پیچھے چلتے رِم چھم میں بھیگتے چل رہے تھے۔ چلتے چلتے اچھو کی ٹانگیں پھول گئی تھیں مگر سبینا بغیر تھکے اس کے آگے آگے بڑھی جا رہی تھی گائوں سے نکلتے وقت اچھو نے اپنے سامان کو راستے میں ہی چھوڑ دیا تھا اور سبینا نے اپنی گٹھڑی اس کے سپرد کر دی تھی۔پچھلی پہر کا کافی سارا وقت گزر نے جا رہا تھا دونوں اس وقت ایسے راستے پر گامزن تھے جہاں سے شہری حدود شروع ہو چکی تھی ۔سبینا،میری تو اب بس بس ہو رہی ہے اچھو نے اسے مخاطب کیا ۔ جب یہ سڑک بڑی سڑک کو جالگے گی پھر کوئی نہ کوئی سواری مل جائے گی ہمیں سبینا نے بدستور آگے بڑھتے اس کی بات کا جواب دیا۔ اچھو خاموش ہو گیا۔
دن کا اُجالا نمودار ہو رہا تھا اور وہ دونوں شہر کو جانے والی سڑک سے تھوڑے فاصلے پر پہنچ چکے تھے دور سے گزرنے والی ٹریفک کی آتی جاتی گاڑیوں کی بتیاں نظر آنے لگی تھیں ۔ سبینا کچھ دیر آرام کر لیں میں تو سارا دن بیٹھنے والا اور صرف مال ڈنگر تک محدود بندہ ہوں چل چل کر میرا برا حال ہو گیا ہے۔ اچھو تھوڑی ہمت کر لو جہاں ٹھہریں گے وہاں خوب دبائوں گی سبینا نے پیچھے مڑ کر اس کی ڈھارس قائم کی۔ سڑک پر پہنچ کر دونوں سواری کے انتظار میں کھڑے ہو گئے۔ کئی گاڑیاں ، ٹرک ،بسیں گزر گئیں مگر ان کے اشارے پر کوئی نہ رُکا۔ آخر کا ر ایک وین والے کو دونوں پر شائد رحم آگیا اس نے وین روک کران کو بیٹھنے کا اشارہ کیا ،سبینا بے فکری سے اچھو کو لے کر وین میں سوار ہو گئی ۔ڈرائیور شریف آدمی تھا اس نے کوئی سوال جواب نہ کیا اور وین کی رفتار بڑھا دی۔ اچھو زندگی میں پہلی بار شہر آیا تھا بڑی حیرانی سے چاروں جانب دیکھ رہا تھا تقریباً دو گھنٹے کی مسافت کے بعد وین شہر میں داخل ہو گئی ایک جگہ روک کر ڈرائیور نے انہیں اتارتے وین آگے بڑھا دی۔ سبینا اچھو کو لیکر ایک طرف چل پڑی، قریب سے گزرتے خالی رکشہ کو اس نے روکا اور ڈگری کالج کا کہتے اچھو کو بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔ رکشہ مختلف شاہراہوں پر آگے بڑھا جا رہا تھا۔ دور سے بہت بڑی بلڈنگ کے آثار نظرآنے لگے تھے ۔رکشہ مین گیٹ کو چھوڑتا سبینا کے بتائے پتہ پر آرُکا،وہ راستہ شائدکالج ملازمین کی رہائش گاہوں کا تھا ۔ رکشہ والے کو کرایہ دیتے سبینا نے گٹھڑی دوبارہ اچھو کے سپر د کر دی تھی ۔ گیٹ عبور کر کے سبینا آگے اور اچھو پیچھے چل پڑا ۔بہت بڑی کالونی تھی ڈگری کالج بڑی بڑی کوٹھیوں سے بعد کواٹروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ کواٹروں کی آگے پیچھے دو لائنیں تھیں بیک سائیڈ پر سب سے آخر ی کواٹر کے سامنے رُکتے سبینا نے دستک دی۔
چند پل لگے انتظار کرنے میں ، دورازہ کھولنے والی دراز قد خاتون تھی جس نے سبینا کو دیکھ کر اندر آنے کا کہا ۔آئو ،سبینا نے اچھو کو اشارہ کیا۔ بیٹھو اچھو میں آتی ہوں سبینا خاتون خانہ کو دوسرے کمرے میں لے گئی جب دونوں واپس آئیں تو دوونوں کے پاس ناشتہ کی ٹرے اور چائے وغیرہ تھی ۔ تمام رات چلتے اور بھوک کی شدت چمک اٹھی ، سب کچھ دیکھ کر اچھو اشارہ پاکر بے صبری سے جُٹ گیا۔ ناشتہ میں اس دوران سبینا نے اسے بتایا کہ یہ روبینہ ہے میری کلاس فیلواوریہاں اسی کالج میں لیب اسسٹنٹ کے طور پر ملازت کرتی ہے میں نے اسے اپنے اور تمہارے بارے میں سب کچھ بتا دیا ہے ہمیں یہاں کسی قسم کو کوئی پریشانی نہیں ہو گی۔ اتنے بڑے کواٹر میں یہ اکیلی رہتی ہے شادی کی تھی مگر خاوند اسے چھوڑ کر چلا گیا۔چائے پینے کے دوران روبینہ نے سبینا کو رہنے کیلئے کواٹرکے اوپر والا حصہ دے دیا۔ ناشتہ کے خالی برتن سمیٹ کردونوں گیسٹ روم سے نکل گئیں۔ اچھو کی تھکاوٹ ذرا کم ہو ئی اور ذہن کچھ سوچنے کے قابل ہو ا ۔اسے ہوش آیا اس نے یکدم کتنا بڑا فیصلہ کر ڈالا تھا سبینا کیلئے مگر اب کیا ہو سکتا تھا اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ سبینا آگئی اور اس نے بیٹھتے اچھو کو مخاطب کر تے بتایا کہ میں نے روبینہ کو بتا دیا ہے کہ ہم دونوں میاں بیوی ہیں اچھو شرم سے جھینپ گیا۔ہم تھوڑی دیر آرام کرتے ہیںپھر اوپر والے حصہ کو مل کر رہنے کے قابل بناتے ہیںدونوں الگ الگ صوفہ پر ڈھیر ہو گئے۔ اچھو تو دراز ہوتے ہی خراٹے لینے لگا سبینا خاموشی سے اٹھی اور روبینہ کے کمرے میں آگئی۔
روبینہ چکن کے ٹکڑوں کو نمک مرچ کے بغیر ہی رغبت سے کھا رہی تھی اپنے سامنے پڑی بڑی سی ٹرے جس میں تازہ چکن کے بہت سارے کچے ٹکڑے پڑے تھے سبینا کی طرف کر دی سبینا نے لہو لگا چکن کا بڑا سا ٹکڑا اٹھایا اور دانتوں سے نوچ کر کھانے لگی۔ دونوں کے منہ سے ہڈیاں چبانے کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی جب ٹرے خالی ہو گئی تو دونوں نے اپنی زبان سے اپنے ہونٹ اور ہاتھ چاٹ کر صاف کر تے ایک دوسرے کو ساتھ لگا لیا۔ دونوں ایک دوسری میں اسطرح گھٹی پڑی تھیں جیسے پالتو کُتیاں راتب کھانے کے بعد ایک دوسری کا سہارا لے کر آرام میں ڈوب جاتی ہیں۔
صبح سبینا نے بے فکر سوئے اچھو کو جھنجھوڑتے اٹھایا ہم نے اوپر والا حصہ صاف کر نا تھا۔ اس میں میرا کیا قصور تم نے جگایا ہی نہیں اچھو نے صوفہ پر ہی پڑے پڑے جواب دیا۔ چلواٹھو اور جا کر نہا لو پھر ناشتہ کرنے آجائو روبینہ باجی نے ڈیوٹی پر جانا ہے ۔ سبینا نے کچن کی طرف جاتے اسے تیار ہونے کا کہا وہ اٹھ کر واش روم کی جانب چل پڑا۔ روبینہ نے اپنے میاں کا ایک جوڑا سبینا کے کہنے پر نکال کر اسے دیتے اچھو کو پکڑانے کا کہتے اس کے ہاتھ سے ناشتہ کا سامان لے لیا۔ ناشتہ سے فارغ ہو کر روبینہ کالج کی لیب کیلئے کواٹر سے نکل گئی جبکہ وہ دونوں اوپر والے حصہ کی جھاڑ پونچھ میں لگ گئے۔ روبینہ کے آنے تک سبینا نے کھانا تیار کر لیا تھا تینوں نے ملکر کھانا کھایا اور کواٹر لاک کرتے اچھو کو شہر گھمانے لے کر چل پڑیں۔
رات گئے تینوں کی واپسی ہوئی پھر وہ دونوں سونے کیلئے اوپر آگئے۔ اچھو تمہیں کوئی کام دھندا بھی آتا ہے یا ساری توجہ مال ڈنگر پر ہی تھی۔ گائوں میں گوشت والے کے ساتھ ہاتھ بٹاتا تھا جس نے مجھے بکرے، چھترے اور ڈنگر کاٹنے میں خاصا ماہر کر رکھا ہے اگریہاں کوئی کام آسانی سے کر لوں تو یہی میرے لئے آسان کام ہو گا۔ٹھیک ہے صبح روبینہ باجی سے بات کرتی ہوں سبینا نے اس کے بازو پر اپنا سر ٹپکاتے کہا پھر وہ دنیا مافیا سے بے نیاز ہوگئے۔
صبح روبینہ نے یہ مشورہ دیا کہ مارکیٹ میں ایک جاننے والے کے پاس اسے چند روز تک کام سمجھنے کیلئے چھوڑ دیتے ہیں پھر جب یہ شہر کی صورتحال کے قابل ہو جائے گا تو اس کو کہیں شاپ کھول دیں گے۔ دونوں نے روبینہ کی بات سے اتفاق کیا ، ڈیوٹی سے فارغ ہو کر کواٹر لاک کرتے تینوں مٹن مارکیٹ جانے کیلئے چل پڑے، روبینہ کے واقف کار قصاب نے اپنی شاپ پر اچھو کو کام سکھانے کی حامی بھر لی۔
دوسرے روز اچھو مٹن مارکیٹ میں کام سیکھنے کی غرض سے امین قصاب کی شاپ پر پہنچ گیا۔ اب اس کا معمول بن گیا مارکیٹ سے واپس آکر وہ سبینا کے ساتھ ادھر اُدھر گھومنے نکل جاتا اور رات گئے دونوں واپس اپنے کمرے میں آتے ۔سبینا اس پر کافی مہربان تھی جس کے باعث اچھو کو ماسوائے اس کے کہیں اور کی کوئی پراوہ نہیں تھی حتیٰ کہ اسے اپنی بہن تک کی یادبھول گئی تھی۔ پورے شہرکو اچھو نے اَز بر کر لیا تھا گائوں کی ایک ہی ڈگر پر چلنے والی زندگی سے نکل کر وہ شہر کی ہنگامہ خیز ی میں رچ بس گیا تھا۔ امین کی توجہ سے وہ اب اس کی غیر موجودگی میں مٹن شاپ چلانے کے لائق ہو گیا ۔ امین دوپہر کو اسے مٹن شاپ پر چھوڑ کر خود بکر منڈی چلا جاتا تھا اچھو اب مکمل دوکاندار بن چکا تھا۔
دونوں نے فیصلہ کر لیا کہ اب اچھو کو کسی مناسب جگہ پر اپنی دوکان کھول دینی چاہئے۔ وہ بکر منڈی بھی آتا جاتا تھا امین کے ساتھ،اسے جانور بھی لینے دینے آگئے تھے او رکئی ایک اچھے لوگوں سے اس کی واقفیت بھی ہو چکی تھی۔روبینہ کے کسی جاننے والے نے شہر کے ایک پوش علاقہ میں بنی مارکیٹ کے کونے پر عارضی جگہ لے دی اور سامان رکھنے کا بندوبست سامنے کے سبزی والے کو کہہ کر دیا۔ پہلے روز اس نے دو بکرے سلاٹر ہائوس سے لئے اور اللہ کا نام لے کر اپنی دوکان پر آن بیٹھا، سبزی والے نے بھی اس کی مدد کی اور کئی گاہک اس کے پاس بھیجے، دوپہر تک اچھو دونوں بکرے بیچ کر فارغ ہو گیا۔ اچھا گوشت اور گاہک کی مرضی شامل ہونے پر اچھو کا کام بہتر سے بہتر ہوتا گیا۔اسی دوران مارکیٹ کے اندر ایک دوکان خالی ہوئی تو مارکیٹ کے مالک نے جو اچھو سے گوشت خریدتا تھا اس نے کرایہ پر دوسروں سے کم ایڈوانس پر دینے کی پیشکش کی تو اس نے سبینا سے بات کی جس نے فوراً لینے کا کہا ۔مگر ہمارے پاس تو ایڈوانس کی رقم کہاں سے آئیگی؟یہ سوچنا میرا کام ہے سبینا نے اچھو سے یہ کہتے رقم کا بندوبست کر دیا کہ میں نے اپنا زیور اور روبینہ سے اُدھار لے لیا ہے۔ اچھو قصاب نے باہر سے اٹھ کر اندر مارکیٹ میں مٹن کی شاپ کھول لی اور روز بروز اس کا کام ترقی کر تا چلا گیا۔ گھر کی مٹن شاپ تھی اور گھر میں گوشت کی گنگا بہنے لگی۔ ایک دوبار اچھو نے سبینا سے بات کرنے کی کوشش کی کہ ہم الگ سے مکان لے لیتے ہیں کب تک یونہی روبینہ کے گھر میں بیٹھے رہیں گے جواب میں سبینا نے یہ کہہ کر اسے مطمئن کر دیا کہ ہمارے رہنے سے روبینہ کو کوئی ٹینشن نہیں اگر تمہیں محسوس ہوتا ہے تو اوپر والے حصہ کا کرایہ مقرر کر دو، یہ بات ٹھیک ہے اچھو نے کھانا کھاتے سبینا کی تجویز کو مانتے جواباً کہا۔اور ہاں اچھو سامنے والوں نے قیمہ لانے کے پیسے دیئے تھے ساتھ میں گھر کیلئے بھی ڈھیر سارا قیمہ لیتے آنا شام کو۔ٹھیک ہے،دوسرے روز اچھو پڑوسیوں کا اور گھر پکانے کیلئے کافی سارا قیمہ بنا لایا۔ روبینہ اور سبینا نے معنی خیز انداز میں ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور مسکرادیں۔
اچھو مارکیٹ سے جلد فارغ ہو کر واپس کواٹر پہنچا تو باہر تالا پڑا ہوا تھا وہ اسی طرح سامان جو وہ گھر کیلئے لایا تھا پکڑے پکڑے واپس کالج کی لیب کی طرف چل پڑا اکثر سبینا روبینہ کی لیب میں چلی جاتی تھی مگر روبینہ نے جواباً بتایا کہ وہ یہاں نہیں آئی شائد گھر کا ضروری سامان لینے نہ چلی گئی ہو،تم یہ چابی لے جائو آخری پیریڈ پریکٹیکل کا ہے میں بھی فارغ ہو کر آتی ہوں روبینہ نے چابی اسے پکڑاتے کہا۔ ٹھیک ہے اس نے چابی لی اور کواٹروں کی جانب چل پڑا جب وہ اپنے کواٹر کے قریب آیا تو کئی خونخوار کتوں کو اِدھر اُدھر بے چینی سے چکر کاٹتے پایا اور کواٹر اندر سے بند تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ سبینا اس کے جانے کے بعد واپس آچکی تھی۔ اچھو پر نظر پڑتے وہ کتے دور بھاگ گئے مگر کواٹر کے آس پاس تھے جب سے وہ یہاں رہ رہے تھے آج پہلی بار اتنے سارے بڑے بڑے کتے اس نے دیکھے تھے۔ دروازہ کھٹکھٹانے پر سبینا نے اندر سے کنڈی کھولی تو یکدم سارے کتے دروازے کیطرف لپکے ، اچھو نے اندر داخل ہو کر جلدی سے دروازہ بند کر لیا ۔کہاں گئی تھی تم؟ذرا بازار تک کچھ چیزیں لانا تھیں سبینا نے سامان اس کے ہاتھ سے پکڑتے جواب دیا ۔ جب وہ سامان پکڑنے اس کے قریب آئی تو اچھو کے نتھنوں میں اس کے جسم سے پھوٹتی سمجھ نہ آنے والی مہک ٹکرائی جو پہلی بار اس کے احساس کو چھوتی اسے مدہوش کر گئی۔ سبینا سامان رکھتے اوپر جانے کیلئے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی۔ باہر کتوں کے بھونکنے کی کرب ناک آوازیں ان کے کانوں میں پڑ رہی تھیں۔ اچھو نے اسے مخاطب کیااور پہلی بار اتنے کتے کواٹر کے اِدھر اُدھر بے چینی سے بھونکنے کا سبب پوچھا۔ مجھے کیا معلوم؟سبینا نے بیٹھ کر کروٹ بدلتے جواب دیا۔ ان کی بے چینی یہ ثابت کر رہی ہے جیسے آس پاس کوئی کُتیا ہے جیسے ہمارے گائوں میں ایک کُتیا کے پیچھے کئی ایک آوارہ کتے ایک دوسرے کو نوچتے اور مرنے مارنے پر تُل جاتے مگر مجال ہے وہ اس کا پیچھا چھوڑیں۔ اچھا تم اپنے گائوں کی کہانی چھوڑو ان کو بھونکنے دو یہ ان کی عادت میں عام بات ہے ۔ اچھو سبینا کے وجود سے پھوٹنے والی اس عجیب و غریب بُو سے تمام رات اُلجھا رہا مگر اس نے سبینا پر یہ بات ثابت نہ ہونے دی کہ وہ اس سے خاصا بیزار ہے۔ صبح جب وہ سلاٹر ہائوس جانے لگا تو کئی بڑے چھوٹے کتے کواٹر کے باہر اِدھر اُدھرپڑے ہوئے تھے اچھو پر نظر پڑتے ہی وہ یکدم چوکنے ہوگئے جیسے کوئی ان سے بڑا خونخوار ان کی ہی برادری کا ہو۔ وہ ان سے بچتا ہواکالج کے گیٹ کی طرف چل پڑامگر تمام دن وہ کام کے دوران ان کتوں اور سبینا سے آنیوالی بُو کے بارے میں غور کر تا رہا۔ شام کو جب واپس آیا تو کتے اسے اپناا ستقبال کرتے ملے مگر اسے قریب پاکر وہ دور بھاگ جاتے۔ یہ سلسلہ تین چار روز تک یونہی جاری رہا اس دوران وہ عجیب بُوجو سبینا کے وجود سے اُٹھ رہی تھی وہ قدرے کم ہو گئی ۔ ادھر کتوں کی تعداد ہوتے ہوتے بالکل ختم ہو گئی تھی۔سبینا دن رات اَدھ موئی سی پڑی رہتی جیسے اس کا جسم نقاہت سے چور چور ہو اچھو گھر آتے ہی اس کی خدمت میں لگ جاتا۔ روبینہ گھر کے کام کرتی جبکہ سبینا بیڈ پر پڑی رہتی ایک دو بار اچھو نے کوشش کی کہ وہ اسے ڈاکٹر کے پاس لے جائے مگر اس نے یہ کہہ کر بات ٹال دی کہ خود بخود ٹھیک ہو جائوں گی تم فکر نہ کرو اس صورتحال سے ہم خواتین کو گزرنا پڑتا ہے۔ سبینا کے جواب سے اچھو مطمئن ہو گیا۔
اچھو کو آنے میں دیر ہو گئی تو سبینا پریشان ہو گئی پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ اچھو اتنی رات گئے تک گھر نہیں لوٹا تھا روبینہ بھی پریشان تھی اس بات پر ۔ آخر باہر دستک ہوئی سبینا نے بھاگ کر دروازہ کھولا تو سامنے اچھو کو بُری حالت میں کھڑا پایا،ہونٹوں سے خون رس رہا تھا اور سامنے کے حصہ سے قمیض بھی بُری طرح پھٹی ہوئی تھی۔ روبینہ بھی آگئی اسے اس حالت میں پاکر وہ بھی پریشان ہو گئی اور پوچھا یہ کیسے ہوا؟۔ سامنے والی دوکان کے بھائی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا اسے لے کر میں بھی ان کے ہمراہ ہسپتال چلا گیا تھا وہاں دیر ہو ئی واپسی پر چھوٹا گیٹ اندر سے بند تھا میں بڑے گیٹ کو پھلانگ کر اندر آگیا ۔ بڑے دفتر کے رات والے چوکیدار سے تکرار ہو گئی اور ہاتھا پائی میں اس نے میرے تھپڑ دے مارا ،میرا ہونٹ پھٹ گیا ، اچھو نے پھٹی قمیض اُتارتے روبینہ کو بتایا۔ چلو کوئی بات نہیں تم منہ دھو کر دوسرے کپڑے بدل لو سبینا کہتے اوپر چل پڑی ،روبینہ منہ میں بڑبڑاتی اپنے کمرے کی طرف ہوگئی۔ معمولی بات تھی ایک دو روز بعد حالات نارمل ہو گئے ناغہ والے دن اچھو بے فکری سے پڑا سویا رہتاتھا مگر باہر ہونیوالے شور نے اسے اٹھنے پر مجبور کر دیا سبینا اور روبینہ نیچے والے کمرے میں تھیں وہ اُٹھ کر ان کی طرف آیا تو وہ بھی بے خبری سے ایک دوسری میں گھٹی بے ترتیبی سے خراٹے بھر رہی تھیں وہ دروازہ کھول کر باہر نکلا تو آس پاس کے سبھی رہائشی جمع تھے۔ اچھو نے دریافت کیا کہ کیا مسئلہ ہے تو اسے پتہ چلا کہ کسی خوفناک درندے نے رات کو بڑے دفتر کے چوکیدار کو نوچ نوچ کر مار ڈالا اور کئی جگہ سے اس کا گوشت بھی چبا ڈالا ، اچھو نے کواٹر کا دروازہ باہر سے بند کیا اور مین آفس کی طرف چل پڑا ، وہاں خاصا رش لگا ہوا تھا ۔پولیس موقع واردات کا معائنہ کر رہی تھی سامنے اس چوکیدار کی جگہ جگہ سے نوچی لاش پڑی تھی جیسے کئی کتوں نے مل کر اس پر حملہ کر کے اس کو مار ڈالا ہو ۔فوراً اس کے ذہن میں وہ بہت سارے خونخوار کتے جاگ اٹھے جو کچھ دنوں پہلے اس کے کواٹر کے آگے دن رات جمع رہتے تھے پھر اچانک غائب ہو گئے تھے۔اس نے ان آوارہ کتوں پر حملہ کیا ہو اور وہ مل کر اس پر پل پڑے ہوں۔ کچھ دیر تک وہ وہاں ساری کاروائی دیکھتا رہا پھر واپس کواٹر کی جانب چل پڑا۔
کچھ دن گزرے تھے کہ کالج کی اس سائیڈ جہاں پر مرکزی قبرستان تھا اس سڑک پررات کے ناکہ پر کھڑے پولیس قومی رضار کی اسی طرح ادھڑی ہوئی لاش صبح پڑی ملی اوپر نیچے دو وارداتوں نے پورے شہر میں خوف و ہراس پھیلا دیا تھا۔ لوگ رات کو گھروں سے نکلتے ہوئے گھبراتے تھے۔اچھو نے سبینا اور روبینہ کو مخاطب کر تے کہا کہ یہ اچانک کونسی بلا اس شہر میں آن وارد ہو ئی ہے مجھے تو خود صبح منہ اندھیرے نکلنا ہوتا ہے اچھو کے چہرے پر خوف و پریشانی دکھائی دے رہی تھی ، دونوں نے ایک دوسری کی جانب مسکراتی آنکھوںسے دیکھا۔ بجائے ہم دونوں کو تسلی دینے کے تم تو خود ڈر رہے ہو سبینانے اچھو پر فقرہ کسا تمہارے گھر سے نکلنے کے بعد ہم دونوں گھر میں اکیلی رہ جاتی ہیں اگر وہ بَلا، یا جو کوئی بھی ہے ادھر آگئی تو ہم ٹھہری کمزور لڑکیاں کیا بنے گا ہمارا ؟روبینہ نے اسے اپنی طرف مخاطب کرتے پوچھا ۔تمہیں اللہ تعالیٰ کے سپر د کر کے جاتا ہوں اچھو نے اپنا اندرونی خوف دباتے جواباً کہا۔
اچھو کہنے لگا یہ جو میں نے آپ کو ابھی تک بتایا ہے ملے جلے واقعات ہیں مگر اب میں وہ کہنے جارہا ہوں جس کی مجھے سزا ہوئی ہے ۔
جب سے سبینا میری زندگی میں وارد ہو ئی تھی مجھے اس کے سوا اور کچھ سوج بوجھ ہی نہیں رہی تھی۔ میرا کام خاصا بڑھ چکا تھا میں بہت کوشش کرتا کہ اپنی کمائی ہوئی رقم سبینا پر خرچ کروں مگر وہ انتہا درجہ کی سادہ اور الگ تھلگ رہنے والی لڑکی تھی ۔ زیادہ سے زیادہ اس کی فرمائش یہ ہوتی تھی کہ میں گھر آتے قیمہ ، دل کلیجی اور بغیر ہڈی کے بوٹیاں لیتا آئوں جو میں نے جب سے دوکان کھولی تھی باقاعدگی سے لارہا تھا۔ دونوں بڑی رغبت سے بھون بھون کر کھاتیں اور مجھے بھی کھلاتی جب وہ کچن میں ہوتیں تو مجھے یہ کہہ کر اوپر بھیج دیتیں کہ گوشت سے اُٹھنے والا دھواں آئے گا تمہیں ، میں اوپر ہی لاتی ہوں تم جائو۔میں اس کی بات مان کر اوپر چلا جاتا ۔
ایک رات میں واش روم جانے کیلئے اُٹھا تو سبینا بیڈ پر نہیں تھی میں سمجھاوہ واش روم ہے مگر واش روم کا دروازہ کھلا تھا جس کامطلب یہ تھا کہ سبیناواش روم میں نہیں تھی میں نے اوپر دیکھ کر نیچے جانے کا فیصلہ کیا کہ اس وقت وہ مجھے سویا چھوڑ کر روبینہ کے پاس کیا لینے گئی ہوگی ۔ نیچے مکمل خاموشی اور گہرا اندھیرا تھا میں نے روبینہ کے کمرے کو دیکھا پھر کچن اور باہر والا کمرہ دیکھا مگر وہ دونوں نظر نہ آئیں میں اندر سے لگی کنڈی دیکھ کر اور بھی زیادہ فکر مند ہو گیا اگر وہ باہر گئیں ہیں تو پھر اندر کون ہے جس نے کنڈی اندر سے لگا دی ۔ میرے وجود میں عجیب طرح کی کیفیت ابھر کر ڈوب گئی ۔ اچھی طرح جائزہ لینے سے بعد میں چلتا ہوا واش روم آیا اور پھر بغیر روشنی کئے اپنے بیڈ پر آگیا میرے کان ہر آہٹ پر لگے ہوئے تھے مگر پورے کواٹر میں صرف مجھے اپنی ہی سانس کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی یکدم میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں سبینا دروازے سے اندر آرہی تھی میں اس طرح بے حس و حرکت پڑا ہوا تھا جیسے میں بے خبر پڑا سورہا ہوں ۔ وہ آہستہ سے بیڈ کے دوسرے کونے میں لیٹ گئی۔ مجھے کمرے سے ایسی بُو آنے لگی تھی جیسے دو تین دن پرانی انسانی لاش سے آتی ہے ۔ میں اس صورتحال سے خاصا پریشان ہو چکا تھا۔ نیند مجھ سے کوسوں دور مگر سبینا پڑی بے خبر سو رہی تھی جب مجھے یقین ہو گیا کہ سبینا سو چکی ہے میں چپکے سے اٹھا اور نائٹ بلب روشن کرتا ہوا اس کے قریب آگیا اس کا چہرہ مدھم روشنی میں مجھے عجیب سا دکھائی دیا جو ہاتھ اور اور کلائی اس نے اپنے سینے پر رکھی ہوئی تھی اس پر جگہ جگہ خون لگا ہوا تھا ۔ غور سے دیکھنے پر اس کے ہونٹوں پر بھی خون کی سرخی دکھائی دی اس سے پہلے کہ کوئی گڑ بڑ ہوتی میں نے نائٹ بلب آف کر دیا اور دبے قدموں چلتا ہوا بیڈ پر آن لیٹا۔ میرا تجسس بڑھ رہا تھا کہ آخر یہ ماجرہ کیا ہے سبینا کے جسم پر تازہ خون اچانک میرے ذہن میں ایک خوف اُبھر کر ڈوب گیا کہیں روبینہ کو تو اس نے ۔۔۔۔۔۔۔اس سے آگے میں سوچتا چلا گیا بڑی ہمت کر کے میں اُٹھا اچھی طرح تسلی کرلینے کے بعد کہ سبینا بے خبر پڑی سو رہی ہے دبے قدموں چلتا سیڑھیاں اُتر آیا ،روبینہ کا کھلا دروازہ اب اندر سے بند تھا میں کمرے کی کھڑکی کی طرف آگیا ، لہراتے پردے کے کونے سے اندر جھانکا روبینہ نیم لباس میں اپنے بیڈ پر کروٹ لئے لیٹی سو رہی تھی اور قریب پڑی قمیض پر خون کے دھبے نمایاں دکھائی دے رہے تھے اب میرا یہ حال تھا کہ ڈر کے مارے کانپ رہا تھا بڑی مشکل سے میں آواز کئے بغیر اوپر آ کر لیٹ گیا۔ کب نیند نے آلیا خبر نہ ہوئی۔
سبینا حسبِ عادت میرے قریب بیٹھی مجھے جگا رہی تھی سلاٹر ہائوس جانے کیلئے۔ میں نے اس پر کچھ بھی ظاہر نہ ہونے دیا کہ رات کی ساری صورتحال میرے علم میں ہے۔ میں روز کی طرح اٹھا ضروریات سے فارغ ہوکر سبینا کا بنایا ناشتہ کرنے کیلئے،ساتھ ہی کن اَکھیوں سے اس کے سراپے کا جائزہ بھی لے رہا تھا اس نے اپنے آپ کو صاف ستھرا کر رکھا تھا اور رات والے کپڑے بھی بدل لئے تھے ۔ دھونے والے تمام کپڑے سیڑھیوں کے نیچے کونے میں رکھے ہوئے تھے میں نے سبینا سے آنکھ بچا کر جلدی سے اس کے اُتارے کپڑے چیک کئے تو ان پر جگہ جگہ خون جما ہوا تھا۔پھر میں اپنے کام پر جانے کیلئے کواٹر سے باہر نکل آیا جب رکشہ اسٹیشن کے قریب پہنچا تو وہاں بہت سارے لوگ جمع تھے ۔ چھوٹے سے ہوٹل کے اگلے تھڑے پر روٹیاں لگانے والے بد نصیب کی جگہ جگہ سے اُدھڑی ہوئی لاش پڑی تھی ۔ قریب کھڑے ہوئے ایک آدمی سے دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ اسے بھی کسی خوفناک بلا نے چیر پھاڑ ڈالا تھا۔مجھے اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا، میری سمجھ میں کچھ کچھ آرہا تھا بڑی مشکل سے خود پر قابو پایا اور بے دلی سے دوکانداری کی۔
شام کو واپس آتے میں نے جان بوجھ کر گھر کیلئے گوشت وغیرہ نہ لیا میں دونوں کا ردِ عمل دیکھنا چاہتا تھا مگر دونوںنے اس بات کا کوئی نوٹس نہ لیا ۔شام کے کھانے کی جگہ مجھے اور خود دونوں نے دودھ پیا میں جان تو گیاتھا کہ یہ دوچار روز اسی طرح کریں گی کیونکہ چوکیدار کے قتل سے بعد بھی گھر میں ایسا ہی ہوا تھا پھر سب کچھ روٹین میں ہونے لگا۔ خون تو دونوں کے کپڑوں اور جسم پر میں دیکھ چکا تھا اب صرف مجھے اس بات کا انتظار تھا کہ دونوں کب انسانی شکار پر نکلتی ہیں۔ جو کچھ میرے مشاہدے میں آرہا تھا اسے میں سابقہ روٹین اور موجودہ صورتحال سے ملا کر اس کا جائزہ لے رہا تھا گزشتہ دو وارداتوں کے بعد دونوں اسی انداز میں نڈھال ہو کر دو تین دن واجبی سا کھاتی پیتی تھیں۔ میں نے کبھی نوٹس نہیں لیا تھا جب سے میرے دیکھنے میں آیا تو پچھلی ساری کڑیاں جوڑتے جوڑتے میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ دونوں مافوق الفطرت چیزیں ہیں جو انسانوں کی شکل میں انسانوں کے بیچ رہ رہی ہیں۔ فدا بھٹہ صاحب نے بتایا تھا کہ جنات اکثر سانپ کی شکل میں دکھائی دیتا ہے اگر وہ راستہ روک لے تو اسے تنبیہہ کرتے کہا جائے کہ اگر تو جن ہے تو راستہ چھوڑ دو اگر وہ چلا جائے تو جن اگر نہ جائے تو اسے ٹھکانے لگا دینا چاہئے۔ انہوںنے یہ بھی بتایا تھا کہ اگر ایسے حالات میں جو بھی شکل اختیار کر رکھی ہواس نے تو وہ مرنے کے بعد بھی اسی شکل میں رہے گا ۔میرے وجود میں سبینا کا خوف اس لئے بھی کم تھا کہ وہ میری شریک حیات کے طور پر میرے ساتھ بلکہ مجھے اس نے اپنے ساتھ رکھ چھوڑ ا تھا مگر جو حالات پہ در پہ سارمنے آرہے تھے اس وجہ سے میں خاصا پریشان ہو چکا تھا۔ میں نے ان پر یہ ظاہر نہیں ہونے دیا تھا کہ مجھے ان دونوں پر شک ہوچکا تھا کہ جو قتل بار بار شہر میں ہورہے ہیں ان کی نشاندہی اور میرا آنکھوں دیکھا منظر مجھے یقین کی سطح پر لے آیا تھا۔
روبینہ نے مجھے مخاطب کرتے پوچھا کہ اچھو بھائی آج کل آپ چپ چپ اور گم صم سے رہنے لگے ہیں اور گھر گوشت وغیرہ بھی نہیں لارہے کہیں کاروبار میں کمی بیشی تو نہیں چل رہی ۔ نہیں آپی ،میں روبینہ کو آپی کہہ کر بلاتا تھا در اصل گوشت اچھا نہیں مل رہامیں نے بات بنائی۔ تو ٹھیک ہے آج گھر کا سامان لینے جانا ہے ہم لیتے آئیں گے۔ روبینہ میں بھی دیکھ رہی ہوں کہ یہ مجھ سے بھی سیدھے منہ بات نہیں کرتا سبینا نے بیچ میں بولتے ہوئے شکایتی انداز میں میری طرف دیکھا۔ گوشت کا ناغہ تھا اس لئے میں گھر پر ہی تھا وہ دونوں مارکیٹ سودا وغیرہ لینے چلی گئیں تو میں نیچے آگیا پورے کمرے کا جائزہ لیا حتیٰ کہ روبینہ کے رکھے سامان کو بھی دیکھا مگر کوئی بھی غیر ضروری چیز نہ دکھائی دی ما سوائے اس رات کو دیکھے گئے واقعات کے ۔ آہستہ آہستہ زندگی پھر سے اسی ڈگر پر رواں دواں ہو گئی میں پھر سبینا کے اشاروں پر چلنے لگا ۔گوشت سے فریج پھر بھر گئی اب وہ خود بھی آتے جاتے مارکیٹ سے اپنی پسند کا گوشت وغیرہ لے آتی تھیں میں نے اس بات کا کوئی نوٹس نہ لیا مگر میں اب رات کو خبردار ہو کر سوتا تھا۔ سبینا بے فکری سے پڑی سوئی رہتی اس کی محبت میں مزید اضافہ ہو ا تھا۔ میں اسی کشمکش میں رہا کہ وہ میرا وہم تھا ہو سکتا ہو میں نے وہ سب کچھ خواب میں دیکھا ہواور اسے سچ جان بیٹھا مگر ہر پل میں دونوں کی ٹوہ میں رہتا تھا۔ اب میں جان بوجھ کر گھر کیلئے قیمہ اور دل کلیجی لاتا وہ بھی خون میں لتھڑی ہوئی مگر ان کی طرف سے کوئی ایسی بات دکھائی نہ دی جس سے میرا وہم یقین میں بدل جاتا ان وارداتوں میں کئی ماہ سے کوئی پیش قدمی نہیں ہوئی تھی اور لوگ آہستہ آہستہ سب بھول چکے تھے میں دونوں کے ساتھ نارمل رویہ اختیار کر چکا تھا۔
دو دن سے آپی کی طبیعت خراب تھی اور گھر کا سارا کام دھندا سبینا کر رہی تھی اب بھی وہ نیچے تھی میں آپی کی خیریت دریافت کرنے کیلئے اٹھا اور سیڑھیاں اترتے نیچے آگیا دروازہ اندر سے بند تھا اور وہ دونوں کمرے میں تھیں پہلے خیال آیا کہ دستک دوں مگر پھر رُک گیا اور دروازے کی درمیانی درز سے آنکھ لگاتے اندر جھانکا۔ دونوں بیڈ پر بیٹھی کچھ کھا رہی تھیں ذرا غور کیا تو میں بُری طرح چونکا پلیٹ میںمیرا لایا گوشت اور دل کلیجی تھی اور وہ دونوں کچا ہی کھانے میں مصروف تھیں۔ میرے پائوں مَن مَن کے ہو رہے تھے اور میں دبے قدموں چلتا اوپر اپنے کمرے میں آگیا اور بیڈ پر کٹے درخت کی مانند گر پڑا ۔ میرا ذہن بُری طرح ڈاواں ڈول ہو رہا تھا مجھے وہ سب کچھ یاد آنے لگا کہ جب یہ دونوں کچن میں کباب وغیرہ بنا رہی ہوتی تھیں تو مجھے کیوں دھویں کے بہانے اوپر بھیج دیتی ۔ یہ کون تھیں؟اور کیا راز تھا ان کا ؟مجھے سبینا گھوڑ سرائے کے کھنڈرات میں اس حالت میں ملی تھی کہ جیسے وہ سچ مچ گھر سے فرار ہو کر آئی ہو وہاں تاریک کھنڈر میں بے خوف و خطر اکیلی ،یا خدا مجھے معاف کرنا میں ان کی اصلیت جان چکا تھا ۔ شہر میں ہونیوالی قتل کی وارداتیں ان کا ہی کیا دھر ثابت ہوا۔ یہ سوچ کر کہ یہ دونوں کبھی بھی میرا کام تمام کر سکتی ہیں میں کانپ کر رہ گیااب میں ہر پل آنیوالے وقت سے نمٹنے کیلئے تیاررہتا۔ پہلے میں نے سوچا کہ چپکے سے بھاگ جائوں مگر پھر یہ سوچ کر کہ جائوں گا کہاں۔سبینا اور روبینہ کی غیر مرئی قوت کا مظاہرہ میں اس رات دیکھ چکا تھا جب دروازہ اندر سے بند تھا اور یہ دونوں گھر پر نہیں تھیںاور پھر اچانک جیسے آسمان سے ٹپک پڑی ہوں جو بھی تھیں مگر تھی پُر اسرار دونوں انسانی شکل اور وجود میں۔میں نے گوشت کاٹنے والا چُھرا دوکان سے لاکر اپنے کمرے میں چھپا رکھا تھا اپنی حفاظت کیلئے اور خود ہر پَل چوکنا تھا دونوں مجھ سے بے خبر تھیں کہ مجھے ان کی اصلیت کا پتہ چل چکا ہے۔
ایک دو روز سے میں ان پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھا ، خاص کر سبینا پر جو ضرورت سے زیادہ ایکٹو تھی اس کی آنکھوں کی بے چینی بتا رہی تھی کہ کچھ ہونیوالا ہے میں کھانا کھانے کے بعد نیچے والے کمرے میں آگیا جہاں ٹی وی رکھا ہوا تھا ، تھوڑی دیر بعد میں اوپر آگیا سبینا کوئی کتاب دیکھ رہی تھی مجھے دیکھ کر اس نے کتاب رکھ دی اور میرے پاس بیڈ پر آبیٹھی کیا بات ہے جلد آگئے ۔ ہاں تھکاوٹ سی تھی نیند آرہی ہے۔ چلو سو جائو میں تمہارا سر دبا دیتی ہوں اس نے میرا سر اپنے ہاتھوں میں لیتے کہا اس کے دبانے سے مجھے راحت تو مل رہی تھی مگر اندرونی کیفیت مجھے خبردار کر رہی تھی ۔آہستہ آہستہ میں نے آنکھیں بند کرتے سونے کی ایکٹنگ کی اور پھر میں خراٹے لینے لگا مجھے اچھی طرح سوتے دیکھ کر وہ بیڈ سے اُٹھی اور دروازہ بند کر تے باہر نکل گئی میں دم سادھے پڑا سوتا رہا تھوڑی دیر بعد سیڑھیوں پر آہٹ ہوئی میں کروٹ لئے بظاہر سورہا تھا مگر نیم وا آنکھوں سے دروازے کی ہی جانب دیکھ رہا تھا ۔ دروازہ کھلا اور دونوں اندر آئیں مجھے سوتے دیکھ کر وہ دونوں مطمئن ہو گئیں اور دوبارہ دروازہ بند کر تے باہر نکل گئیں۔
جب مجھے مکمل یقین ہو گیا کہ نیچے کوئی حرکت نہیں ہو رہی میں بڑی آہستگی سے اٹھا اور بغیر آوا ز پیدا کئے دروازہ کھولتے بڑے محتاط انداز میں سیڑھیاں اُتر کر نیچے آگیا دروازہ اندر سے بند تھا اور وہ دونوں غائب تھیں۔ اچھی طرح یقین کر لینے کے بعد میں ڈرا سہما اوپر آ گیا۔ پہلے میرا دل کیا کہ بھاگ جائوں مگر اس ڈر سے کہ وہ مجھے ڈھونڈ لے گی اس لئے دل مضبوط کرکے ان کے آنے کا انتظار کرنے لگا رات کے آخری پہر ان کے آنے کے آثار محسوس ہونے لگے ۔ میرے کان مسلسل آہٹ کی طرف متوجہ تھے،واش روم میں بہتے پانی کی آواز پر مجھے یقین ہو گیا کہ وہ خود کو صاف کر رہی ہے پھر تھوڑی دیر بعد سبینا میرے پاس بیڈ پر آلیٹی ایک دو بار اس نے جان بوجھ کر مجھ پر بازو پھینکا جیسے نیند میں کروٹ لیتے وہ کرتی تھی ،میں نے اس پر یہی ظاہر کیا کہ میں بے خبر سو رہا ہوں۔ جب مجھے یقین ہو گیا کہ وہ بے سدھ ہو کر سو چکی ہے میں نے اپنے دل میں باندھے پکے ارادے کو عملی جامہ پہنانے پر غور کرنا شروع کر دیاخود کو ہر زاویے پر جانچنے کے بعد میں نے سبینا پر گہری نظر ڈالی جو سوتے میں بڑی معصوم دکھائی دے رہی تھی پھر یکدم جیسے مجھے ہوش آگیا اور میں اپنی پوری قوت صرف کرتے اٹھا اور کمرے میں چھپایا ہوا چھرا نکالتے سبینا کے قریب آگیا۔
اس کا چہرہ دوسری جانب تھا اور گردن میری نظر کی زد میں تھی۔ میرے اندر کا قصاب جاگ گیا تھا میرا ہاتھ اُٹھا اور سبینا کا سر تن سے جدا ہوکر بیڈ سے نیچے جا پڑا اس کے تڑپتے جسم کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں میں دبوچ رکھا تھا پھر وہ ساکت ہو گئی اس کا سر بالوں سے پکڑ کر میں نے اس کے جسم کے ساتھ رکھتے بستر کی چادر میں اس کو اچھی طرح لپیٹ دیا اور اسی پوزیشن میں چھُرا پکڑے دبے قدموں سیڑھیوں کی طرف آگیا روبینہ کمرے میں نائٹ بلب کی روشنی میں ڈوبی بے خبر پڑی سو رہی تھی ۔دروازہ کھلا ہوا تھا جو بغیر آواز کے اندر کی جانب کھل گیا میرے اندر جو جنونی جذبہ موجزن تھا اس میں انسانیت کی بھلائی کارفرماتھی جو ان دونوںکو صفحۂ ہستی سے مٹانے کا موجب بن گیا وہ میرے کمرے میں آنے سے بے خبر پڑی خراٹے لے رہی تھی پَل بھر کو میں اس کا جائزہ لیتا رہا کہ عام زندگی میں سیدھی سادھی دکھائی دینے والی روبینہ در حقیقت کوئی خون آشام بلا ہوگی یہی سوچ سبینا کیلئے تھی مگر دونوں بے قصور انسانوں کی قتل و غارت گری میں ملوث ، خدا جانے کب سے چلی آرہی تھیں۔ میرا ہاتھ اٹھا اور ساتھ ہی روبینہ کا سر بھی تن سے جدا ہو گیا ۔اسے میں اسی طرح تڑپتا چھوڑ کر چھرا لے کر باہر نکل آیا ۔دروازہ باہر سے بند کرتے پیدل جانے والے راستے کی طرف ہو گیا جسے کواٹر کے مکین باہر جانے کیلئے استعمال کر تے تھے۔ میرا سارا جسم ٹوٹ رہا تھا چلتے چلتے میرے پائوں میرا ساتھ چھوڑ رہے تھے بڑی مشکل سے خود کو سنبھالتے کوتوالی پہنچا اور چُھرے سمیت خود کو پولیس کے حوالے کر دیا میرے اقرار ِ جرم پر پولیس پارٹی کالج کے کواٹر پہنچی اور دونوں کی لاشیںقبضہ میں لے کر پوسٹ مارٹم کیلئے بھجوا دیں جہاں پہلے سے ایک لاوارث لاش موجود تھی جسے کسی بے رحم نے اسٹیشن کے بتی گودام کے قریب بُری طرح چیر پھاڑ ڈالا تھا۔
اس دن کے بعد شہر میں کوئی بھی اس طرح کی دل دہلا دینے والی واردات نہ دیکھنے اور نہ سننے میں آئی ہے۔ اچھو نے اٹھتے ہوئے بتایا اور واپس اپنے سیل کی طرف چل پڑا۔

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles