36 C
Lahore
Saturday, May 25, 2024

Book Store

چالباز گھرانا

تحریر، جاوید راہی

گھر کے حالات خستہ حالی کی طرف دن دوگنی اور رات چار گنی کی مثال آگے ہی آگے بڑھ رہے تھے۔ سب سے چھوٹی تھی مگر میری سوچیں ایک دم پرفیکٹ اور بڑی تھیں۔ اسکول آتے جاتے کئی بار میرا آمنا سامنا ایسے لڑکوں سے ہو جاتا جو گھر سے اسکول تک اپنے اپنے ایرئے میں مجھے باحفاظت مجھ سے دو چار قدم پیچھے رہ کر سیکیورٹی گارڈ کے فرائض سر انجام دیتے ۔ ان کے لیٹروں کا جواب میں بڑے دھیان سے دیتی ۔ سب سے میں نے موبائل فون اینٹھ رکھے تھے ،ایک دو جو کھاتے پیتے گھروں کے بگڑے ریئس زادے تھے ان سے تو میں اپنے گھر کی ضرورتوں کو بھی پورا کروا لیتی تھی ۔ فرتاشہ نے تھانہ اے ڈویژن کے کمرے میں دیوار سے ٹیک لگاتے اپنی نجی ماردھاڑ سے پردہ ہٹاتے کہنا شروع کیا۔
’’سر جی! مجھے گائوں سے اپنے بھائی کے ہمراہ روز موٹربائیک پر شہر اسکول آنا پڑتا تھا ۔ بھائی مجھے چھوڑ کر اپنے کالج چلا جاتا اور واپسی پر ہم دونوں بہن بھائی گھر کا سامان لیتے واپس گائوں آجاتے ، گھر میں میری والدہ کی حکومت تھی۔دوسرے بہن بھائی بڑے تھے اور ہم دونوں چھوٹے ہونے کے ناطہ پورے گھر کی توجہ میں ہوتے، کئی بار گھر میں یہ بات چلی تھی کہ گائوں کو خیر آباد کہتے ہم سب شہر میں شفٹ ہو جائیں اور پھر میری والدہ نے اپنے ایک ملنے والے کی شہر میں کوئی معقول رہائش تلاش کرنے کی ڈیوٹی لگادی ۔
وہ جو میری والدہ کا واقف کار تھا جسے ہم سب چاچو کہتے تھے وہی گھر کاکرتا دھرتا بھی تھا جس نے شہر کے گنجان علاقہ میں گھر کرایہ پر تلاش کر دیا۔ گائوں والے گھر میں بڑی بہن جو شادی شدہ تھی کو چھوڑ کر ہم لوگ شہر شفٹ ہو گئے۔ ہم سب بہن بھائی شہر آکر بہت خوش تھے۔ چاچو کی توجہ اور محنت سے گھر کی آسائش اور ہمارا رہن سہن میری والدہ کی ایکسٹرا توجہ سے خاصا ماڈرن ہو گیاکچھ میں بھی اپنی ذہانت سے دو چار ہوتے اپنے گھر کی ترقی میں اپنے گھر والوں کا ہاتھ بٹانے لگی تھی۔
جس بلاک میں ہماری رہائش تھی اس کے درمیان میں ٹی ایم او کی طرف سے ایک پارک اہل علاقہ کیلئے بنایا گیا تھا جس کی دیکھ بھال تحصیل میونسپل کے ہی ملازم کرتے تھے۔ صبح و شام پارک میں واک کرنے والوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ میںبھی بہنوں کے ساتھ واک کرنے اس پارک میں آجاتی تھی۔ اس دوران میں نے محسوس کیا کہ ایک لڑکا ہمارا پیچھا کرتا پارک پہنچ جاتا اور مجھے احساس دلاتا کہ وہ میرے ہی پیچھے پارک میں آتا ہے ۔
ایک شام میں جان بوجھ کر اپنی بہن اور بھابھی سے الگ ہو کر واک کرتی اس کے سامنے سے گرزی جو پتھر کے بنے بنچ پر بیٹھامیری ہی جانب دیکھ رہا تھا ۔ جس روش پر میں چل رہی تھی اس پر کم ہی لوگ واک کر رہے تھے۔ وہ دیدہ دلیری کا مظاہرہ کرتے میرے پیچھے پیچھے قدم اٹھاتا میرے نزدیک آتا جا رہا تھا میںنے بھی جان بوجھ کر اپنی رفتار کم کر دی ۔یکدم میرے کانوں میں اس کی آواز ٹکرائی۔
’’میرا نا م طاہر ہے مجھے آپ کا سیل نمبر چاہیے میں آپ سے بات کر نا چاہتا ہوں‘‘۔
میں نے قدم تیز کر تے اسے جواب دیا کہ میرے پاس سیل فون نہیں ہے ۔اس نے جھٹ اپنی جیب سے اپنا فو ن نکالا اور میرے ہاتھ میںدیتا تیزی سے آگے بڑھ گیا۔ میں نے چلتے چلتے موبائل کا جائزہ لیا نوکیا کا خاصا قیمتی سیٹ تھا جسے میں نے فوراً آف کرتے قابو کیا اور اس طرف مڑ گئی جدھر بھابھی اور باجی واک کر رہی تھیں۔
وہ لڑکا جس نے اپنا نام طاہر بتایا تھا ہمارے قریب سے گزرتے مجھے ہاتھ کے اشارے سے فون سننے کا اشارہ کرتے آگے نکل گیا۔ میں نے جان بوجھ کر موبائل آن نہ کیا۔ رات گئے تک میں ہوم ورک سے فارغ ہو ئی اور اپنے بیڈ پر آتے میں نے موبائل آن کیا تو یکے بعد دیگرکئی میسج آئے وہ سب کے سب طاہر کے تھے جو اپنی جان تک دینے کیلئے تیار بیٹھا تھا پھرموبائل پر بیل ہوئی ۔ میں نے کال ریسیو کرتے موبائل کان سے لگا لیا دوسری جانب طاہر بول رہا تھا ۔ میں نے ڈری سہمی آواز کی نقل کرتے اسے جواب دیا کہ میرے گھر والے بڑے سخت ہیں آپ نے اتنی جلدی فون پکڑاتے نکل جانے میں جلدی کی کہ میں آپ کو روک بھی نہ سکی۔ اب آپ صبح کسی طرح اپنا موبائل مجھ سے پکڑ لیجئے گامیں ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں ۔
جواباً اس کے لہجے میں سخت منت سماجت تھی اور وہ مجھ سے محبت کا بار بار اظہار کرنے میں بضد تھا اور مجھ سے ملنے کی التجا کر رہاتھا میں نے اس کی سختی سے نفی کرتے اسے موبائل واپس لینے کی گذارش کی جس کے جواب میں اس نے یہ کہہ کر سلسلہ منقطع کر دیا کہ اسے توڑ دینا میں نے واپس نہیں لینا ۔
میں اسے ابھی آزما رہی تھی کہ وہ کہاں تک میرے لئے فائدہ مند ثابت ہو سکے گا۔ موبائل آف کرکے میں نے اسے اپنے اسکول بیگ میں رکھ لیا ۔ جب سے ہم لوگ گائوں سے شہر آئے تھے چاچو نے میرے اسکول آنے اور جانے کیلئے رکشہ لگوا دیا تھا جس میں اور بھی لڑکیاں ہوتی تھیں۔
صبح جب میں گھر سے نکل کر باہر آئی تو طاہر اپنی موٹرسائیکل پر دوسری جانب کھڑا ملا ،مجھ پر نگاہ پڑتے ہی اس نے ہاتھ بالوں میں پھیرنے کے انداز میں مجھے سلام کیا میں نے کوئی جواب دیئے بغیر اپنے بیگ سے موبائل نکالتے اشارے سے واپس لینے کا کہا جس پر اس نے انکارمیں سر ہلایا اور اُلٹا مجھے موٹر سائیکل پر اسکول چھوڑنے کا جوابی اشارہ کر ڈالا۔ اتنے میں رکشہ آگیا اورمیں جان بوجھ کر پچھلی سیٹ پر دوسری لڑکی کے ہمراہ بیٹھ گئی۔ وہ بھی اپنے موٹر سائیکل پر پیچھے پیچھے چل پڑا۔ کسی اشارہ پر رکشہ رکتا تو وہ عین میرے سامنے آن کھڑا ہوتا میں بھی اسے یہ تاثر دے دیتی کہ جیسے اس کے پیچھے آنے پر میں نا خوش ہوں۔
چھٹی کے وقت بھی طاہر اسکول کے صدر گیٹ کے قریب اپنی بائیک پر موجود تھا اور موبائل آن کرنے کے اشارے کر رہا تھا مگر میں اسے ابھی یہی تاثر دے رہی تھی کہ مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں۔ میرا یہ سلسلہ کئی روز تک چلتا رہا جب مجھے یقین ہو گیا کہ طاہر اب میرے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے تو میں نے اس سے ریسٹورینٹ میں ملنے کا پروگرام بنا لیا اور اپنے بھائی کو نگرانی کرنے کی بھی تاکید کر دی۔
اسکول سے چھٹی کے بعد میں رکشہ پکڑ کر بابا عزیز ہوٹل وینس چوک کا بتا کر بیٹھ گئی۔ طاہر مجھے وینس چوک ہوٹل کے باہر کھڑا دکھائی دیا جس نے قریب آتے رکشہ والے کو کرایہ دیا اور مجھے ساتھ لیا اوپر فیملی کیبن میں آگیا۔ ہم دونوں کیبن میں خاموش بیٹھے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ بولنے میں پہل اس نے کی ۔
’’ آپ میڑک میں ہیں‘‘
جی، میں نے گھبراہٹ کی ایکٹنگ کرتے اسے جواب دیا۔ اس نے میری کیفیت دیکھتے میرے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے مجھے تسلی دی کہ میں کوئی ایسا ویسا لڑکا نہیں ہوں آپ مجھے پہلی نظر میں دیکھتے ہی بھا گئی تھیں۔پھر وہ مجھے اپنے بارے میں بریف کرنے لگا کہ وہ خاصے بڑے گھر کا ہے اور مجھ سے فرینڈ شپ کرنا چاہتا ہے اس نے اپنے بارے میں بتایا کہ وہ ایف ایس سی کر رہا ہے آگے چل کر ڈاکٹر بننے کا ارادہ ہے ۔ میں نے دل میں کہا جس کالج میں تم داخلہ لے رہے ہو اس کی فیسوں سے بچو گے تو کسی میڈیکل کالج جائو گے۔
بیرا آیا جسے اس نے بروسٹ کا آرڈر دیا اور پھر مجھے شیشے میں اُتارنے لگا۔ ’’فرتاشہ تم کم از کم میرا فون تو سن لیا کرو‘‘۔
کیسے سنو ؟موبائل تو دو دن سے میرے پاس نہیں۔ میرے ذہن نے موقع پر جھوٹ گھڑا۔ اسکول کی کلاس فیلو نے ٹیچر کو میرے پاس موبائل کی شکائت کر دی تھی انہوںنے میرے اسکول بیگ میں رکھا آپ کا دیا موبائل برآمد کرتے ہیڈ مسٹریس کے پاس پہنچا دیا میری جواب طلبی ہوئی اور میں نے جھوٹ بولتے انہیں بتایا کہ یہ موبائل تو مجھے صبح کنٹین کے پاس والے گراس پلاٹ میں پڑا ملا تھا تب میں بچ گئی۔ چلو چھوڑو کوئی بات نہیں یہ کہتے طاہر نے جیب سے نیا موبائل جو شائد اس نے اسی دن خریدا تھا مجھے دیتے تاکید کی کہ اب دھیان سے رکھنا اس لئے نہیں کہ یہ قیمتی ہے بلکہ مجھے آپ سے بات کرنا بے حد قیمتی ہو گا ۔میں نے شکریہ کہتے وہ موبائل بھی قابو کر لیا ۔ اِدھر اُدھر کی باتوں میں ہم نے بروسٹ ختم کیا اور اُٹھ کر نیچے آگئے میں نے رکشہ روکنا چاہا مگر اس کے اصرار پر اسکی بائیک پر بیٹھ گئی میں نے دور سے بھائی کو دیکھ لیا تھا جو اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھا مجھ پر ہی نظر رکھے ہوئے تھا۔ وہ مجھے بڑی احتیاط سے ہمارے گھر سے تھوڑا دور چھوڑ کر واپس پلٹ گیا۔
ایک فون میں نے اپنے بھائی کے سپرد کر تے اسے تاکید کی کہ وہ پہلی سم ضائع کر دے ۔اب آہستہ آہستہ فون پر ہماری گفتگو شروع ہو چکی تھی میں کوئی بھی فرمائش کرتی وہ فوراً پوری کر تا ۔یہاںتک کہ وہ اپنی بہنوں کے زیوارت تک گھر سے چوری کر کے میرے ہاتھ پر رکھ جاتا میری اس کامیاب واردات پر میرے گھر والے صدقے واری ہو رہتے تھے۔ دوسری بہن اور بھابھی نے بھی یہاں آکر خاصے پر پُرزے نکال لئے تھے۔ہمارے گھر سے چار گھر آگے ایک وکیل کا گھر تھاجس کے تعلق میری بڑی بہن سے بن چکے تھے گو کہ وہ شادی شدہ تھا مگر میری باجی کا بھی خیال دل وجان سے کرتا ۔ میرا بھائی کالج سے آکر وکیل بھائی کے چیمبر پر بطور کلرک کام کرتا تھا اسی آڑ میں وہ ہمارے گھر بلا روک ٹوک آتا جاتا اسے کوئی ڈر خوف نہیں تھا ۔ وکیل بھائی کی شہہ پر ہم پورے بلاک پر راج کر رہے تھے۔ آس پڑوس کے لوگ ہم سے خاصے پریشان تھے مگر ہم انہیں کوئی اہمیت نہ دیتے تھے۔ جب بھی میرے ہتھے کوئی چڑھتا سب سے پہلی فرمائش میری قیمتی موبائل کی ہوتی جو ڈبہ بند ہی بھائی فروخت کر آتا ، مشکل سے ہاتھ آنے والا شکار دو تین ہی موبائل دے پاتا اور خود ہی کنارہ کشی کر لیتا۔
بھائی جب سے ضلع کچہری میں جارہا تھا اس کا دماغ منفی کاموں کی طرف بھاگنے لگا تھا۔ ایک روز اس نے نیا پلان تیار کیا مجھے یا میری بڑی بہن کو موبائل نمبر دے کر فون کرواتا اور فون پر ہی را ز و نیاز کی باتوں میں ہم اسے اُلو بناتے کسی ایسے مقام پر بلوا لیتیں جہاںاوپر سے بھائی اپنے دو تین ساتھیوں سمیت آجاتا اور ہمارے بلائے شکار پر جھپٹ پڑتا ہمیں بھی جھوٹ موٹ کی ڈانٹ پڑتی ۔ حاضر وقت جو بھی اس سے ملتا وہ قبضہ میں کر کے تھانے لے جانے کی دھمکی دیتے وہ منت سماجت پر اُترتے بڑی مشکل سے اپنی جان چھڑاتا۔ ہم دونوں بہنوں کی یہ وارداتیں اتنی احتیاط سے ہوتیں تھیں کہ اس کی باز گشت کا پتہ نہ چلتا تھا۔
اسی دوران میری اپنی زندگی عجیب دوراہے پر آن کھڑی ہوئی ۔عاطف نے میرے نیم تاریک من کے آنگن میں ہولے سے قدم رکھ دیا۔وہ میری کلاس فیلو آمنہ کا بڑا بھائی تھا۔ آمنہ کی سالگرہ پر ہم دونوں بہنیں مدعو تھیں۔ میرے دل میں اس کے احساس کی پھانس چبھ گئی جس کی ٹیس نے میرا پورا وجود اپنے حصار میں لپیٹ لیا ۔ واپسی پر عاطف اور آمنہ ہمیں اپنے گاڑی میں گھر چھوڑنے آئے وہ گاڑی کے اندرونی شیشے کو مجھ پر فوکس کئے ہوئے تھا اور میری نظر جب بھی اُٹھتی وہ مجھ پر ہی نظر رکھے ملتا۔آمنہ میری بہن سے کسی مسئلہ پر بات کرنے میں مصروف تھی اور وہ مجھے اپنی دنیا میں کھینچنے کی کوشش میں لگا ہوا تھا۔ میرا اپنا دل چاہ رہا تھا کہ عاطف اسی طرح مجھ پر لائن مارتا رہے۔ میری جانب سے حوصلہ پاکر اس نے مسکرا کر مجھے اشارہ دے مارا جواباً میں نے بھی اس کی تائید کر دی۔ میرے اصرار پر دونوں بہن بھائی چائے کیلئے رضا مند ہوگئے۔ گھر والوں نے بھی ان دونوں کا بھر پور خیر مقدم کیا۔چائے رکھتے وقت میں نے اپنا نمبر عاطف کی گود میں پھینک دیا جو میں نے کچن میں چائے بنانے کے دوران کاغذکے ٹکڑے پر لکھ رکھا تھا۔ اس نے بڑی ہوشیاری سے وہ کاغذ کا ٹکڑا اٹھا کر اپنی جیب میں رکھ لیا ۔
نہ جانے کیوںمیرے مکار دل کو عاطف کھینچا تانی لگ گئی۔ میرے اندر تو صرف اپنے فائدے کی ہی پلاننگ ہوتی تھی مگر عاطف کی طرف سے اپنے آپ کو بے بس محسوس کر رہی تھی اس کی شخصیت نے میرے احساسات کے بنجر میدان پر اتنی زور سے بادل برسائے تھے کہ میں برستے پانی میں سر سے پائوں تک بھیگ چلی تھی اس بے نام بے چینی نے مجھے خوفزدہ کر کے رکھ دیاتھا۔ رات گئے تک عاطف کی طرف سے کوئی کال موصول نہ ہوئی میں بار بار سیل فون کی سکرین آن کر کے دیکھتی مگر گہری ناامیدی کے باعث میری آنکھوں سے نیند بھی کوسوں دور تھی۔ پہلی بار میرے احساسات کے تاج محل کی تاریک بالکونیوں میں گل رنگ جگنوئوں کا جلتا بجھتا سماء چاروں جانب لہرا رہا تھا۔ یہ سب کیوں ہو رہا تھا؟ اس بارے میں میرا ناتوں دل کسی پل بھی چین نہیں لے رہا تھا جب تک جاگتی رہی عاطف کے فون کا انتظار کیا اور اس کے بارے میں ہر طرح سے سوچتی رہی۔ چاروں جانب اس کیلئے سو فٹ کارنر ہی دکھائی دیا۔
دوسرے دن بھی میرا انتظار کرتے گزرا۔ آمنہ سے بہانے بہانے عاطف کے بارے میں پوچھا تو اس کی زبانی معلوم ہو ا کہ وہ لا پروا ، موڈی سا لڑکا ہے ۔ میں آمنہ کو زیادہ اس کے بارے میںزیادہ پوچھ کراسے مشکوک نہیںکرنا چاہتی تھی۔ ایک بار تو دل چاہا کہ اس سے عاطف کا نمبر پوچھ لوں مگر میری ہمت نہ پڑی۔
اُدھر طاہر کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی میری امی نے گھر میں فرج کی کمی کا تذکرہ کیا تو میں نے طاہر سے فرج کی فرمائش کر دی اس نے کہا کہ آپ دو دن بعد سرور الیکٹرونکس پر آکر گھرو الوں کے ساتھ فرج پسند کرلینا میں زاہد بھائی کو کہہ دوں گا۔ دو دن بعدمیں اپنی امی اور باجی کے ہمراہ ضلع کونسل پلازہ کے کارنر پر واقع سرور الیکٹرونکس پر آئی۔زاہد صاحب کو طاہر نے فون کر دیا کہ جو فرج ان کو پسند آئے دے دیجئے گا ۔بڑی بہن اور والدہ نے Pellکا بڑا فرج پسند کیا جو شاپ کے مالک زاہد صاحب نے سوزوکی لوڈر میں ہمارے ساتھ بھیج دیا۔
بات میں طاہر سے کر رہی ہوتی مگر تصورات میں میرے عاطف ہوتا۔ میں ہوم ورک کر کے دودھ کا کپ بنانے کچن میں آئی تو میرے سیل فون کی گھنٹی بجی،موبائل جو میں نے کچن کے کارنر پر رکھا ہوا تھا اٹھاتے نمبر دیکھا غیر مانوس نمبر تھا۔ جب میں نے کال ریسیو کی دوسری جانب سے عاطف کی آواز نے چونکا کر رکھ دیا یکدم میرے ہاتھ پائوں پھول گئے لرزتی آواز میں میں نے ہیلو کہتے عاطف کی ہیلو کا جواب دیا۔
’’جناب کیا حال ہے‘‘؟اس نے نرم لہجے میں پوچھا۔آواز میرے گلے میں اَٹک رہی تھی ، بڑی مشکل سے جواب دے پائی اس دن کے بعد آج آپ کو خیال آیا ہے میرا حال پوچھنے کا۔
در اصل آپ کا دِیا نمبر میں رکھ کر بھول گیا تھا عاطف نے اسی لہجہ میں جواباً کہا ۔
تو پھر مجھ سے بھول ہوئی ناں۔
’’کس بات کی‘‘؟ عاطف نے دوسری جانب سے برجستہ پوچھا۔
عاطف جی! گاڑی میں آپ کی آنکھوں نے جو جواب سوال کئے تھے کیاانہیں میں فلرٹ جانوں؟ میرے اس سوال پر عاطف گڑ بڑا گیا تھا۔
’’اچھا چلیں چھوڑیں بتائیں کیا چل رہا ہے‘‘؟
سٹڈی کر کے سونے کی تیاری کر رہی تھی ، سونے سے قبل ایک دودھ کا کپ پیتی ہوں جو کچن میں لینے آئی تھی کہ آپ کا فون آگیا ۔ میں نے خود کو سنبھالتے کپ اٹھایا اور کمرے میں آگئی اتفاق سے امی گائوں گئی ہوئی تھی اس لئے میںکمرے میں اکیلی تھی اور بیڈ پر بیٹھتے میں نے کہا دودھ پئو گے؟
دوسری طرف سے عاطف نے ہنس کر کہا کب پلا رہی ہو؟
جب آپ ہمارے گھر آئو گے چائے کی بجائے دودھ ہی پلائوں گی ، گائوں سے آتا ہے ہمارا دودھ، باجی کی دو بھینسیں ہیں ایک کا دودھ وہ دودھی کو دیتے ہیں وہی روز شہر آتا ہے اورہمارا ڈبہ دے جاتا ہے میں نے تفصیل بتائی۔
چلو ٹھیک ہے جب بلائو گی ضرور آئوں گا تمہارے گائوں کا دودھ پینے عاطف نے ہنستے ہوئے کہا ، کافی دیر تک وہ مجھ سے طرح طرح کی باتیں کرتا رہا اس کی باتیں میری روح کو سرشار کر تی میرے اعصاب پر چھا رہی تھیںپھر دوبارہ فون کرنے کا کہتے اس نے سلسلہ منقطع کر دیا۔
اس کا نمبر میرے پاس آگیا تھا اب میرا ٹیلی فونک رابطہ پکا ہوتا جا رہا تھا دوسری طرف طاہر کو میں دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی تھی اس نے میرے گھر آنا جانا شروع کر دیا تھا میری امی کی تربیت میں سب سے پہلا اشارہ دور دور ہٹ کر بات کرنے کا تھا جس روز فاصلہ کم ہوا سمجھو پنچھی اُڑن چھو۔میں اس پر عمل کرتے طاہر کو قاعدہ قانون سے آگے نہ بڑھے دیتی تھی۔ طاہر اب بھائی کا دوست بن چکا تھا اس سے ملنے کے بہانے اکثر گھر آجاتا جب وہ ہمارے گھر آتا ڈھیروں کے حساب سے طرح طرح کی چیزیں اس کے ساتھ ہوتیں ۔ آتے ہی بھابھی کو فرمائش کر تا کہ آج بریانی ہو نی چاہئے وہ گوشت ، بیف ، مٹن ، مرغی اکٹھا لاتا تھا پکتے پکاتے کئی گھنٹے لگ جاتے اس کی چال میں خوب جانتی تھی۔ اس بہانے وہ میرے پاس بیٹھا میرا قرب محسوس کر تا رہتا ، باپ سرکاری محکمہ میں کسی بڑی جاب پر فائز تھا گھر میں پیسہ عام تھا اور اسی کے بل بوتے وہ دل پھینک ثابت ہوا تھا۔
بارش کی شدت اور وہ بھی مسلسل دو دن تک ، دن رات کبھی طوفانی رفتار سے اور کبھی ہلکی ہلکی ہونے کے سبب ٹی ایم او کی ناقص کارکردگی کے باعث ہمارا پورا بلاک اور ہمارے گھر میں چاروں جانب بارش اور سیوریج کا گندہ پانی بھرا ہوا تھا ۔ بار بار شکایت کے باوجود ٹی ایم او کا عملہ کوئی اقدام نہیں کر رہا تھا۔ طاہر کا فون آیا تو میںنے اسے بتایا کہ گھر کا سارا نظام درہم برہم ہو اپڑا ہے ، اوپر سے گیس کی بھی لوڈ شیڈنگ چل رہی ہے ایک تو کھانا بھجوا دے دوسرا ٹی ایم او کے عملہ سے بلاک میں بھرا پانی نکلوانے میں مدد کرے۔
’’ ٹھیک ہے فرشو‘‘ ۔
وہ مجھے پیار سے فرشو کہہ کر مخاطب کرتا تھا ۔ آپ فون رکھو،کھانا تو بعد میں آیا مگر ٹی ایم او کی گاڑیاں اور سیوریج کا عملہ پہلے پہنچ گیا اس ٹیم کے انچارج جاوید گوندل نامی آفیسر تھے جنہوںنے بلاک کے جنرل سٹور سے بھائی کا پتہ پوچھا تو اس نے ہمارے گھر کاراستہ بتاتے قریب کھڑے گاہکوں کی طرف عجیب نظروں سے بھی دیکھا ہوگا کیونکہ پورے بلاک میں کوئی بھی گھر اس کے شر سے محفوظ نہیں ہوتا تھا۔ بڑا چالو انکل تھا فرتاشہ کے چہرے پر بتاتے ناگواری کے تاثرات نمایاں دکھائی دے رہے تھے مجھے۔
جاوید گوندل بڑا ملنسار آفیسر تھا بھائی نے گھر کے آگے بنے تھڑے پر کرسیاں رکھواتے مجھے کولڈ ڈرنک بھیجنے کا کہا ملازمہ اوپر چھت پربارش کا رُکا پانی نکال رہی تھی اس لئے میں ٹرے میں کوک اور گلاس رکھتے دروازہ کھولتے باہر آئی جاوید گوندل جس کا نام مجھے بھائی نے اندر آتے بتایاتھا سامنے بیٹھا ہوا تھا خاصا بارعب اور ہینڈ سم سا لڑکا تھا چھوٹی سی عمر میں بڑے عہدے پر فائر ہونا بڑی بات ہوتی ہے ۔
بھائی نے میرے ہاتھ سے ٹرے پکڑ لی مگر میں واپس اندر جاتے لمحہ بھر کیلئے گوندل صاحب کو زور کا جھٹکا دھیرے سے لگاگئی مگر اندر پہنچ کر مجھے شدت سے اس بات کا احساس ہو ا کہ کہیں وہ میری شکایت طاہر سے نہ کر دے اس خیال کے آتے ہی مجھے اپنی امی کے افکار یا د آگئے کہ کسی راہ چلتے کو زیادہ سر پر نہیں چڑھایا کرتے ایک طاہر چھوڑ تم سینکڑوں طاہر اپنے پیچھے لگا سکتی ہو۔
کئی گھنٹوں کی مشقت کے بعد پورے بلاک کا پانی نکال دیا گیا طاہر کا بھیجا کھانا میں نے ملازمہ کے ہاتھ جاوید گوندل صاحب اور عملہ کیلئے بھی بھیجا۔گیس کی بندش قدرے بحال کر دی گئی تھی اس لئے چائے اور دیگر لوازمات بھی دو تین بار بھجوائے ۔ جب بھی دروازہ کھلتا جاوید گوندل فوراً آنکھیں جھکا لیتا جس سے میںنے اس کی شرافت کا اندازہ لگا لیا تھاکہ یہ انگور کھٹے ہیں اس لئے انکو بیل پر ہی چھوڑ دیا جائے۔
شام کو جاتے وقت انہوںنے ایک پرفارمہ ملازمہ کے ہاتھ اندر بھجوایا جس پر سیوریج سسٹم کی بحالی بارے کوائف کا اندراج تھا۔ میں نے جان بوجھ کر اپنے سائن اردو میں کئے اور ساتھ میں اپنا سیل نمبر بھی لکھ دیا ۔ یہ نمبر میں نے کیوں لکھا اس کی مجھے کوئی سمجھ نہیں آئی تھی۔
موسم قدرے خوشگوار ہو چکا تھا اور عاطف مجھ سے ملنے کا تقاضا کر رہا تھا۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں طاہر نے دیکھ لیا تو مصیبت آجائے گی حالانکہ عاطف کی گاڑی کے شیشوں پر بلیک پیپر لگے ہوئے تھے۔ میں ایک دو بار اس کیساتھ گاڑی میں لمبی ڈرائیو پر بھی گئی تھی۔ اس میں ایسی کوئی بھی غیر معیاری عادت نہیں تھی حالانکہ میں نے اسے مکمل آزادی دے چھوڑی دی اس کے باوجود عاطف ایک حد سے آگے نہیں جاتا تھا۔ میں نے اسے چھٹی کے بعد اسکول کے باہر آنے کا کہہ دیا۔ چھٹی ہونے پر میں نے اِدھر اُدھر دیکھا عاطف سڑک کے دوسری جانب اپنی گاڑی کے پاس کھڑا دکھائی دیا ۔میں سڑک کراس کر کے اس کے پاس پہنچ گئی حسبِ عادت اس نے پچھلا دروازہ کھول کر مجھے اندر بٹھایا اور گاڑی آگے بڑھا دی۔ شہر کی حدود سے نکل کر اس نے گاڑی کا رخ بنک نہر کی طرف کر دیا یہی ایک واحد جگہ تھی جہاں ہم جیسے لوگ آجاتے تھے میں پچھلی سیٹ سے اُٹھ کر جھکتی ہوئی اگلی سیٹ پر عاطف کے برابر آبیٹھی تھی ۔میرا سر اُس کے کندھے پر تھا اور ہاتھ اس کے سر کی پشت پر بالوں کو سہلانے میں مصروف تھا۔ عاطف نے ایک ہاتھ سے سٹیرنگ سنبھالا ہوا تھااور دوسرا ہاتھ کمرکے گرد جما رکھا تھا۔
مجھے عاطف کے ساتھ ایک طرح کی بھرپور سیکیورٹی محسوس ہوتی تھی کبھی کبھی ہم دونوں اِدھر اُدھر گھومنے نکل آتے تھے۔ ابھی تک نہ تو عاطف نے مجھ پر کوئی رسماً عنائت کا بوجھ ڈالا تھا اور نہ ہی میں نے اسے اپنی ضرورتوں کا حصہ بنایا تھا۔ میرے بھائی اور امی نے ایک دوبار دبی زبان میں میری اس صورت حال پر برہمی کا بھی اظہار کیا تھا ۔میری امی کا خواب تھا کہ شہر میں ہمارا اپنا ذاتی گھر ہوا اور بھائی کا ذاتی کاروبار بھی ۔جوہم مل کر لوٹ مار کرتے وہ اپنی شاہانہ ضروتوںپر خرچ کر ڈالتے ۔
طاہر پر میری توجہ نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی مگر وہ اس سے بھی بے نیاز میرے اشاروں پر سر خم کئے ہوئے تھا۔ اگر وہ کوئی ایسی ویسی بات کرتا تو میں کمال ہوشیاری کرتے اسے اپنے بس میں کر لیتی ۔ اس بات کا تذکرہ میںنے امی اور بھائی سے کھل کر کرڈالا تھابلکہ یہ کہہ دینا زیادہ مناسب ہو گا کہ میں اس سے پیچھے ہٹنے کی کوشش میں مصروف تھی۔ میری توجہ کا مرکز عاطف بن کر رہ گیا تھا۔
اسی دوران میرے سیل فون پر ایک نمبر بار بار آنے لگا۔ آواز سے وہ کوئی ایسا لگتا تھا جو بلا مقصد لوگوں کے فونز پر کالیں کرنے کی لت میں مبتلا ہو جاتے ہیں ایک دو بار میری آواز سن کر اس نے باقاعدہ مجھے رانگ کالز میں شامل کر لیا تھا۔ میں جان بوجھ کر اس کی کالز کا کوئی نوٹس نہیں لے رہی تھی کیونکہ مجھے عاطف سے فرصت نہیں تھی جو میں کسی اور طرف توجہ دیتی ۔
طاہر نے آئی فون لیا تھا جو مجھے بہت اچھا لگا میرے دل میں فوراً یہ خیال اُبھرا کہ میں آئی فون عاطف کو گفٹ کر وں۔ جب بھی مجھے کوئی مطلب ہوتا تو میں طاہر سے فون پر گھنٹوں باتیں کر کے اسے شیشے میں اُتار تی جب مجھے یقین ہو جاتا کہ اب لوہا اس حد تک گرم ہو چکا ہے کہ اسے جس طرف مرضی موڑ لو تو میں جھٹ سے فرمائش کر دیتی ۔ آئی فون کی جستجو میں نے طاہرکودن میں کئی کئی بار کال کر کے اسے یقین دلا یاکہ میں تم سے بہت پیار کر تی ہوں ۔جواباً وہ مجھے آسمان سے تارے توڑ کر لادینے کی حد تک جذباتی ہو گیا تو میں نے آئی فون کی فرمائش کر دی۔ آجائے گا جواباً اس نے بڑی اپنائیت سے کہا میں نے فون پر قربان ہو جانے کی ایکٹنگ کی پھر کام کا بہانہ کرتے میں نے فون بند کر دیا۔
دو دن بعد طاہر آئی فون سمیت مجھے اسکول کے باہر ملا جس کے ساتھ میں اس کی موٹر بائیک پر کئی گھنٹے اِدھر اُدھر گھومتی رہی۔ گھر میں نے فون کر کے بتا دیا کہ میں طاہر کے ساتھ ہوں بھابھی نے واپسی پربار بی کیو لانے کا آرڈر کر دیا ۔ مجھے بھی لگی بھوک ہوئی تھی ہم دونوں زم زم ریسٹورینٹ چرچ روڈ پر آگئے اور خالی کیبن میں طاہر نے مجھے اپنے بازئوں میں سمیٹ لیا۔ کچھ اس نے گھرکیلئے اور کچھ کھانے کیلئے آرڈر کیا پھر اپنا پرس کھولتے اس میں سے ہزار کے کچھ نوٹ میری طرف بڑھاتے شاپنگ کرنے کا کہا۔ کبھی کبھی تو مجھے خود سے خوف آنے لگتا تھا کہ جس راستے پر میں طاہر کے ساتھ چل رہی تھی اس کا انجام کیسا ہوگا؟ پھر کچھ سوچ کر خود کو حالات کے سپرد کر دیتی ۔
میں نے رات کو عاطف کو فون کیا کہ میں آپ سے ملنا چاہتی ہوں۔ صبح میں اسکول جانے کیلئے آئوں گی مگر میں کلاس میں جانے کی بجائے کا آپ کا نادرا آفس کے باہر انتظار کروں گی۔
’’کیوں خیر ہے؟‘‘ عاطف نے دوسری جانب سے چہک کر پوچھا۔
بس مجھے آپ سے ضروری کام ہے میں نے آئی فون کا ڈبہ اپنے ہاتھ میں گھماتے جواب دیا۔
ٹھیک ہے میں آپ سے پہلے گاڑی لے کر نادرا آفس پہنچ جائوں گا اس نے بڑے یقین سے مجھے جواب دیا ۔
صبح رکشہ والا مجھے گیٹ پر چھوڑ کر واپس چلا گیا میں اندر جانے کی بجائے اسکول کے کونے میں کواَپ سٹور کی طرف چل پڑی جیسے میں نے اسکول کی کوئی کاپی کتاب وغیرہ لینی ہو۔ اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد کہ مجھ پر کسی کا دھیان نہیں میں کارنر والی سڑک گھوم کر اسٹیڈیم روڈ پر آگے کی جانب نادرا آفس والے راستے پر چل پڑی۔
عاطف مجھے نادرا آفس کے باہر کھڑا مل گیا میں اگلا دروازہ کھولتے سیٹ پر اس کے ساتھ بیٹھ گئی۔ اپنا بیگ میں نے پیروں میں رکھ لیا۔ عاطف نے ریلوے پھاٹک عبور کرتے گاڑی کینٹ کی طرف موڑتے پیار سے پوچھا،یہ اچانک آپ کو اس غریب آدمی سے کیا کام آن پڑا؟۔ جواباً میں نے اپنے بیگ کی زیپ کھولتے موبائل کا ڈبہ نکالتے زیپ بند کی اور ڈبہ عاطف کی طرف بڑھاتے کہا کہ اس غریب آدمی کیلئے چھوٹا سا گفٹ لیا تھا۔میری آواز میں شوخی کا عنصر نمایاں تھا۔
ارے یہ کیوں تکلف آپ نے، عاطف نے ڈبہ میرے ہاتھ سے پکڑتے میری گود میں واپس رکھتے کہا
بس میرا دل کیا میں نے اس کی آنکھوں میں اپنے جواب کے تاثرات تلاش کرنے کی کوشش کی۔
’’ آپ سے بڑھ کر میرے لئے کوئی گفٹ نہیں فرشو۔‘‘
عاطف مجھے اب فرشو کہہ کر بلانے لگا تھا۔ کینٹ کے خوبصورت ریسٹورنٹ میں آکر اس نے کافی اور پیزہ کا آرڈر کیااور میرا دیا ہوا موبائل کھولنے لگا ۔
طاہر نے جس خلوص سے مجھے یہ آئی فون لے کر دیا تھا اس کو آگے دینے کا مجھے کوئی حق نہیں تھا مگر میں عاطف کے پیار میں اس قدر آگے جا چکی تھی کہ میرا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ میں اپنی جان بھی اس پر نثار کر ڈالتی۔
چھٹی سے قبل میں اسکول کے گیٹ پر آگئی عاطف مجھے اسکول کی کنٹین کے کارنر پر اُتار کر واپس چلا گیا تھا۔ رکشہ آنے پرمیں عاطف کے قرب میں گزرے لمحات دہراتی گھر کی طرف بڑھ گئی ۔ جس دن میں چھٹی کرتی آمنہ سے ہوم ورک کے بارے میں فون پر پوچھ لیتی اور یوں اسکول کا کام بھی ہوجاتا۔
میرا بھائی جاوید نور جو وکیل کے پاس بطور کلرک کام کرتا تھا ہمارا کزن فیصل بھی اس کے پاس منشی تھا فیصل نے جاوید بھائی کو کہا کہ میرا دوست زین طاہر جو اکثر مجھے ملنے آتا رہتا ہے اس کا والد بڑا امیر ٹھیکیدار ہے اور زین اس کا اکلوتا بیٹا ہے اگر اسے اغوا کر لیا جائے تو اس کے باپ سے لاکھوں نکلوائے جاسکتے ہیں۔ فیصل اور جاوید بھائی کئی دن تک اس پلان پر ڈس کس کرتے رہے۔ آخر کار دونوںنے اس کام کا فیصلہ کر لیا فیصل چونکہ اس کام کا ماسٹر مائنڈتھا اس لئے اس کی پلاننگ میں جاوید بھائی کا ایک دوست نوید بھی شامل ہو گیا نوید جو کہ پہلے بھی اس طرح کے ناجائز دھندے کرتا رہتا تھا اس کے کئی ایک دوست جن میں ایک قتل کے مقدمہ میں بھی مقدمہ بھگت رہا تھا طارق ندیم اسے بھی اس اغوا کاری میں شامل کر لیا گیا۔
تمام اخراجات نوید کے ذمہ ہو گئے بازار سے ایک نیا موبائل خریدا گیا اور نئی سم بھی بھائی جاوید نور اور فیصل بھائی میرے کمرے میں آگئے اور مجھے اپنے اعتماد میں لیتے زین طاہر کو فون کر کے شیشے میں اتارنے کا کہا۔
میرے لئے کونسا یہ مشکل کام تھا میں نے انہیں مطمئن کر کے موبائل ان سے لے لیا۔ میں نے نمبر ڈائل کیا زین طاہر نے مجھے رانگ نمبر کہتے فون کاٹ دیا۔ میں نے پھر اسے کال کی اس نے پھر کاٹ دی۔ کچھ دیر کے بعد میں نے اسے پھر کال کی اس بار زین نے مجھے جھجکتے ہوئے کہا کہ آپ کو نیند نہیں آرہی ؟۔
نہیں، اسی لئے تو میں تمہیں بار بار فون کر کے کہہ رہی ہوں کہ مجھ سے باتیں کرو۔ میں نے زین کو خود سے باتیں کرنے پر رضا مند کر لیا اور آخر کار ہم دونوں کال فرینڈ بن گئے۔
زین بہت شرمیلا لڑکا تھا جب میں نے اسے بتایا کہ میں بھی میڑک کی سٹوڈنٹ ہوںتو اسے بہت اچھا لگا ۔ اس کال کال میں دو ہفتے بیت گئے اور دوبار زین مجھے بازارمیں اور اسکول کے باہر ملا۔ اس نے مجھے اور میں نے اسے آمنے سامنے دیکھ لیا تھا اس لئے زین اور میں ایک دوسرے کیلئے اجنبی نہیں رہے تھے۔ میں تو پہلے بھی اس کام میں ماہر تھی۔ میری بھابھی اپنی شادی سے قبل جس لڑکے کے ساتھ اٹیچ تھی وہ کینڈا جا چکا تھا مگر اپنے چھوٹے بھائی کے تھرو میری بھابھی سے خیر خیریت کا سلسلہ فون پر رہتا ۔ اسی دوران میری بھابھی نے میری علیک سلیک اپنے کینڈین فرینڈ کے بھائی سے کرو ادی تھی جو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے میرے دل پر حکومت کرنے لگا تھا۔ ہم نے شادی کا بھی پروگرام بنا لیا تھا کیونکہ وہ بھی اپنے بھائی کے پاس کینڈا جانے کی تیاریوں میں مصروف تھامگراسی دوران میں دل سے عاطف کی گرفت میں آگئی اور اس کے کئی آنے والے فونز کا جواب ایک آدھ بارہی دے پاتی مگرمیرا اس سے رابطہ تھا۔
جاوید بھائی اور فیصل بھائی نے پروگرام بنایا کہ میں زین طاہر کو فون کر کے صفدر شہید پارک میں آنے کا کہوں پھر اسے باتیں کرتے کرتے پارک اور کالج والی سڑک پرلے آئوں، آگے گاڑی کھڑی ہوگی ہم اسے گاڑی میں خود کھینچ لیں گے۔
ٹھیک ہے میں نے دونوں سے اس کام کی حامی بھر لی۔
دوسرے دن میں نے اپنی آواز میں مکار انہ مٹھاس بھرتے اسے پارک میں آنے کا کہا ۔ زین فوراً آنے کیلئے رضا مند ہو گیا۔ وہ لوگ گاڑی میں پچھلی سڑک پر کھڑے تھے اور میں زین کے ساتھ پارک میں بل کھاتی پگڈنڈیوں پر اس سے رومانس بھری باتیں کرتے اسے پچھلے گیٹ پر لے آئی ۔ گیٹ سے چند قدم دور گاڑی موجود تھی اگلی سیٹ پر نوید ، جاوید اور پچھلی سیٹ پر طارق ندیم اورکاشف بیٹھے تھے جوں ہی ہم گاڑی کے قریب سے گزرے طارق اور کاشف نے زین کو اندر گھسیٹ لیا اور دونوں نے پستول نکال کر اس کے سر پر تانتے گاڑی طوفانی رفتار سے آگے بھگا لی ۔
میں نے چاروں جانب دیکھا ہر طرف لوگ اپنے آپ میں مصروف تھے میں آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ٹھنڈی سڑک پر مڑ گئی ۔قریب سے گزرتے خالی رکشہ کو اشارہ کیا اور گولچوک کا بتاتے اندر بیٹھ گئی ۔ یہ سب کچھ بڑی خاموشی سے انجام پا گیا تھا۔ جب مجھے یقین ہو گیا کہ میری اس واردات کا کسی کو کانوں کان پتہ نہیں چلا تو میں نے گھر جانے کیلئے آٹو پکڑتے اسے چلنے کا کہا۔
میرے والے کمرے میں زین کرسی کے ساتھ بندھا ہوا بیٹھا تھا۔اس کے کانو ں میں موبائل کی ہیڈ فری سختی سے گھسیڑی ہوئی تھی منہ پر ٹیپ لگا کر بولنے کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا تھا ،موبائل وہ بھی چائنا کا جس کی آواز بغیر ہیڈ فری کے اعصاب توڑنے میں معاون ثابت ہو تی ہے فل آواز میں گانوں کی ترسیل وہ بھی مسلسل زین کے کانوں میں گونج رہی تھی تاکہ اسے ہمارے ہلتے ہوئے ہونٹ ہی نظر آئیںہم آپس میں کیا باتیں کر رہے ہیں اس کا کسی کو کچھ سنائی نہ دے۔
ایک لمحہ کیلئے تو زین کی حالت دیکھ کر میں اندر سے ٹوٹ کر رہ گئی ۔ میرے آنے پر گھر کے تمام لوگوں کو سختی سے زین کی نگرانی پر مامور کر تے طارق ندیم ، جاوید بھائی ، نوید اور کاشف ہمیں ضروری باتیں سمجھاکر اسی گاڑی میں کرمانوالہ ٹائون فیز تھری سے نکل کر اپنے اگلے پلان کو میچور کرنے چل دیئے۔
زین کا موبائل وہ اپنے ساتھ لے گئے تھے جس فون پر میں زین کو کال کرتی رہی تھی اس کو اور دونوں نئی سموں کو اِدھر گھر میں ہی تلف کر دیا گیا تھا تاکہ سیٹلائٹ رابطہ جو بند موبائل میں بھی ایکٹو رہتا ہے وہ ختم ہو جائے۔
میرے بھائی اور کزن فیصل نے بڑی مہارت سے زین کو اغوا کر نے کا منصوبہ تیار کیا تھا ‘‘۔یہ بتا کر وہ خاموش ہو گئی ۔
میں نے ایس ایچ او انسپکٹر اے ڈویژن جاوید خان سے ہونیوالی انوسٹی گیشن کی بابت پوچھا تو اس نے ابھی اس بارے کچھ نا بتانے کیلئے معذرت کر لی۔
اغوا ہونیوالا زین طاہر شہر کے معروف تاجر جو کہ انجمن تاجران کے صدر چودھری محمد سلیم صادق کا اور سابق صدر پریس کلب اوکاڑہ عبدالحمید جج کا بھتیجا تھا ۔ ان سے رابطہ کیا تو انہوںنے صرف یہی جواب دیا کہ ڈی پی او بابر بخت قریشی نے اغوا کاروں تک رسائی کیلئے پولیس کے ذہین ترین انسپکٹر ملک طارق اعوان جسے ’’ہچکاک‘‘ کا درجہ حاصل ہے سمیت انسپکٹر جاوید خان اور کئی ذہین پولیس ملازمین کو زین کی بازیابی پر لگا دیا ہے جونہی بہتر نتائج سامنے آئے ہم خودرابطہ کر لیں گے۔
جب دس روز تک اغوا کاروں کے قبضہ میں رہنے کے بعد زین گیارویں دن واپس گھر آیا تو عبدالحمید جج صاحب کا فون آگیا کہ ہم نے زین کو برآمد کر لیا ہے آپ کسی روز آجائیں اس اغواڈرامے کا ڈراپ سین سننے کیلئے۔ میں جج صاحب کے مدینہ ٹریڈ سنٹرپر پہنچ گیا وہاں زین کا والد ابو طاہر ولد محمد بخش بھی موجود تھا۔
راہی بھائی! جب رات کو زین کے فون سے ہمیں کال موصول ہوئی تو اس کے پسِ پردہ کسی ہوٹل پر موجود پشتو بولتے لوگوں کی آوازیں بھی آرہی تھیں اغوا کار خود کو پٹھان ظاہر کر رہے تھے بولنے والے کا لہجہ بھی پشتو اردو تھا جس نے طاہر بھائی سے دوکروڑ روپے کا مطالبہ کیا اور عدم دستیابی رقم یا پولیس کو خبردار کرنے کے نتیجہ میں زین کی زندگی کی ضمانت نہیں ہوگی کہتے ہوئے اس نے کال سلسلہ منقطع کر دیا۔
ملک طارق اعوان نے اپنے سورسز استعمال کرتے اس امر کاپتہ بخوبی لگا لیا تھا کہ اغوا کا رزین کو واپس کرنے کے مطالبات پشاور کے ایریا سے ہی کر رہے تھے جبکہ بعد میں پتہ چلا کہ زین تو فرتاشہ کے گھر میں قید تھا۔اغوا کا ر پشاور جا کر یہ تاثر دے رہے تھے کہ اگر وہ کالز ٹریس کرنے نکلیں گے جیسا کہ ہم قدم قدم پر یہ سب کچھ کر رہے تھے تو انہیں یہ لگے گا کہ وہ زین کے ہمراہ پشاور سائیڈ پر ہیں۔
ہم نے باقاعدہ سیکرٹ ایجنسیز کی بھی خدمات حاصل کر رکھی تھیں۔ اس دوران اغوا کاروںکے بقایا ساتھی جن میں جاوید نور کا بہنوئی، ڈی ایم ایس ڈاکٹر فرخ بھی شامل تھا جو رات کے اندھیرے میں فرتاشہ کے گھر سے زین کو پاکپتن سے آٹھویں کلو میٹر پر غیر آباد نئی تعمیر ہونیوالی بستی میں اپنے گھر لے آیا تھا ۔ دوچار گھر تھے آس پاس۔ ہمیں ایک کڑی یہ ملی کہ زین کے فون پر زیادہ کا لیں جس نمبر سے آتی تھیں ایک دو کالوں کے سوا اسی نمبر کی تھیں ہماری خوش قسمتی یہ نکلی کہ وہ نمبر آن تھا۔ ہم ملک طارق اعوان ’’الفرائیڈ ہچکاک‘‘ کے اگلے اقدام پر چلتے اس نمبر پر جا پہنچے جو لاہور ائیر پورٹ کے ٹاورکی نشاندہی کر رہا تھا ائیر پورٹ پہنچ کر ہم نے اس نمبر کو ٹریس کر لیا جو فلائٹ کے انتظار میں لائونچ میں موجود تھا ،ایک نوعمر لڑکا تھا ملک طارق اعوان نے اس کے سر پر پہنچ کر کال کی اس نے موبائل ایکٹو کیا جب پکا یقین ہو گیا کہ اسی نمبر پر ہم کال کرتے یہاں تک پہنچے ہیں تو اسے قابو کر لیا جو سعود ی عرب جار ہا تھا۔
ابتدائی تفتیش میں اس نے اپنا نام ارشد بتایا اور جس کال نمبر پر ہم اس تک پہنچے تھے اسی نمبرسے زین کو کالیںآتی تھیںاس نمبر سے کال والی کا نام اس نے رابعہ نور اور مصباح نور اور اس کے بھائیوں کے نام جنید نور، جاوید نور ، عابد نور بتایا۔ وہ اس کی محبوبہ تھی اس نے رابعہ نور عرف فرتاشہ کے گھر واقع کرمانوالہ فیز IIIکی نشاندہی کی ہم نے وہاں پہنچ کر گھر کا گھرائو کرتے فرتاشہ سمیت اس کی والدہ ،بہن مصباح، بھابھی اور بھائی نور کو حراست میں لے لیا اور تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا۔
آٹھ روز کی مکمل خاموشی رہی ہمیں یہ پریشانی لاحق ہو گئی کہ زین کو خدانہ کرے کچھ ہو تو نہیں گیا مگر پھر کال موصول ہوئی دو کروڑ سے ایک کروڑ پھر بیس لاکھ پر بات طے ہو گئی۔جاوید نور نے ستگھرہ روڈ پر پیسے لے کر آنے کا عندیہ دیا۔
بیس لاکھ روپے لے کر طاہر بھائی اپنے ایک ساتھی جس کو بعد میںایک نرسری میں چھپا کر پیسے دینے چل پڑا۔
پولیس اِدھر اُدھر چاروں جانب مختلف بہروپ میں پھیلی ہوئی تھی اس سارے پلان کی نگرانی خود ڈی پی او اوکاڑہ بابر بخت قریشی کر رہے تھے۔ طاہر بھائی کو کال موصول ہوئی کہ ہم نے تمہیں دیکھ لیا ہے اسی راستے آگے بڑھتے رہو ۔
وہ تین لوگ تھے موٹر سائیکل پر پھر اسے کال موصول ہوئی کہ باری کوٹ والی سڑک پر گھوم جائو وہ کوئی بہت بڑی پرانی عمارت تھی ۔پولیس اس کے آس پاس بھی موجود تھی چاروں جانب کے علاقہ کو بہت بڑی پولیس نفری نے گھیرا ہو ا تھا۔ جاوید نور نے موٹر سائیکل جس پر نوید اور طارق ندیم بھی موجود تھے روکتے طاہر بھائی سے وہ شاپر جس میں بیس لاکھ کے کرنسی نوٹ موجود تھے پکڑتے نوید کے سپر د کر دی ۔نوید نے شاپر کھول کر رقم کا جائزہ لیتے دو لاکھ کی گڈیاں اپنی بنیان کے اندر ڈالتے جاوید کو چلنے کا کہتے ہوئے طاہر بھائی کو زین کی واپسی بارے صرف اتنا ہی کہا کہ تمہیں فون پر بتا دیں گے۔
اسی اثناء میں پولیس جو چند قدم دور ٹیوب ویل کی عمارت میں موجود تھی نکل آئی اور گھیرا ڈال لیا جاوید نور اور طارق ندیم قابو آگئے جبکہ ان کا ساتھی رقم لے کر بھاگنے میں کامیا ب ہو گیا۔
جاوید نور کی نشاندہی پر زین کو پولیس پارٹی جس کی قیادت انسپکٹر جاوید خان، انسپکٹر ملک طارق اعوان کر رہے تھے نے پاکپتن روڈ سے آٹھویں کلو میٹر کی اس غیر آباد کالونی کے گھر میں قید زین طاہر کو برآمد کر لیا ۔جب ہم وہاں پہنچے تو پڑوس کی عورت نے بتایا کہ وہ تو سب لوگ صبح سے گھر بند کر کے کہیں چلے گئے ہیں۔ ملک طارق اعوان نے پولیس کے جوانوں کو دیوار پھلانگ کر اندر جانے کا کہا ۔ اندر اسی طرح سبزی کٹی پڑی تھی سامان جو ں کا توں پڑا تھا ۔اندر زین طاہر جس کے منہ پر ٹیپ ، کانوں میں ہینڈ فری بغیر موبائل کے لٹک رہی تھی ،باپ کی حالت بیٹے اور وہ بھی اکلوتے بیٹے کو دیکھ خراب ہو رہی تھی ،سب اشک بار تھے۔
عبدالحمید جج کے چہر ے پر یہ سب کچھ بتاتے کرب کی پرچھائیاں نمایاں تھیں۔ بعد ازاں زین طاہر کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی نشاندہی پر رابعہ نور عرف فرتاشہ، مصباح نور، جنید نور، جاوید نور، عابد نور، نوید ، فیصل اوراغوا کے ماسٹر مائنڈ ، طارق ندیم، ڈاکٹر فرخ، کاشف وغیرہ کے خلاف زیر دفعہ 365ت پ مقدمہ نمبر8-5-15,53/14رپٹ نمبر37کے تحت گرفتار ملزمان جن میں فرتاشہ عرف رابعہ نور، مصباح نور، جاوید نور اور اس کے ساتھ دوسرے لوگوں کو ساہیوال جیل بھیج دیا گیا۔ یوں فرتاشہ اینڈ فیملی کی وارداتیں اور مار دھاڑ غیر معینہ مدت تک کیلئے بند ہو گئیں۔

Previous article
Next article

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles