32 C
Lahore
Thursday, July 18, 2024

Book Store

کسک

کسک

بشریٰ رحمٰن

 

گزرے دنوں کی بات ہے۔
بی ایس سی کرنے کے بعد میں ملازمت کی تلاش میں مارا مارا پھرتا رہا ۔ تھک ہار کر ایک دن نسبت روڈ پر ، ایکسرے کلینک میں نوکری کر لی۔
اپنی بے کاری سے خود اوب چکا تھا اور پھر قسمت نے ڈاکٹر نہیں بننے دیا تھا۔
اس لیے ایکسرے مشین کا آپریٹر بن کر اپنی یہ حسرت پوری کر رہا تھا۔ یہ تجربہ بھی اچھا تھا۔ گونگی مشینیں آدمی کے اندر کی تصویر اُتار لاتی تھیں اور میں روز ایک نئے تجربے سے گزرتا۔
اس روز صبح بڑی زرد اور کملائی ہوئی تھی ۔ اچانک ایک لڑکی کلینک میں داخل ہوئی ۔ ڈاکٹر راشد اس وقت دکان میں نہ تھے ۔ میں اکیلا ہی بیٹھا ہوا تھا ۔
مجھے ایکسرے کرانا ہے‘‘… اس نے مدھم اور اُداس آواز میں کہا۔
’’کس جگہ کا…؟‘‘
’’سینے کا‘‘… اس نے اپنے ڈاکٹر کی چٹ میرے ہاتھ میں پکڑا دی۔ میں نے اُسے ایک نظر دیکھا اور پھر کہا… آئیے!
وہ اندر آ گئی اور اپنی آنکھوں پر لگی کالی عینک اُتار دی ۔ میری ہدایات پر اس نے اپنی لمبی چٹیا سر کے اُوپر لپیٹ لی ۔ میں نے اس کا رُخ مشین کی طرف کر اس کے دونوں بازو پکڑ کے کمر پر رکھ دیے ، ٹھوڑی تختے کے ساتھ ٹکا دی ۔ خود بٹن کے پاس چلا گیا اور کہا، لمبا سانس لیجیے…
کھٹ… ایکسرے اُتر گیا۔ وہ جانے کے لیے مڑی۔ میں نے کہا…
ذرا ٹھہریے، میں رزلٹ دیکھ لوں۔‘‘ میں جب ڈارک رُوم سے واپس آیا تو وہ دو پٹے سے اپنا آپ ڈھکے مغموم سی بیٹھی تھی۔
آپ کو تکلیف کیا ہے…؟ یہ غیر پیشہ ورانہ سوال تھا مگر میں  نے کر ہی دیا۔
دو مہینے سے کھانسی کی شکایت ہے۔
علاج کر رہی ہیں…؟
جی۔… اس نے ڈاکٹر کا نام بتایا…۔
اور انھی کے مشورے پر ایکسرے کروانے آئی ہوں۔
اچھا تو آپ کل شام رات بجے رپورٹ لے جائیے گا ۔ بعض اوقات گلے کی خرابی کی وجہ سے بھی کھانسی ہونے لگتی ہے۔ فکر کرنے کی بات نہیں۔ مجھے لگ رہا تھا کہ میں غیر ضروری بات کر رہا ہوں مگر میرا جی چاہ رہا تھا کہ میں اس سے باتیں کروں اور کسی بہانے اُسے بٹھائے رکھوں…
اس نے زیرِ لب کچھ کہا یا شاید یونہی اس کے ہونٹ ہلے ، یا میرے کان بجے… اس نے بل ادا کیا ۔ اپنی کالی عینک آنکھوں پر لگائی اور باہر نکل گئی ۔ مجھے یوں محسوس ہوا ، جیسے ہوا کا ایک ہلکا جھونکا اندر آیا اور کھڑکیوں ، دیواروں کو ہلا کر باہر چلا گیا ہے۔
دوسرے دن میں گویا اس کے آنے کی دُعا کر رہا تھا کہ وہ آ گئی۔ وہی ٹھہرا ٹھہرا پُرسکون انداز ، زرد رنگ اور نیم وا ہونٹ!
تشریف رکھیے… میں نے اُسے بٹھایا اور ایکسرے والے لفافے ٹٹولنے لگا۔
آپ کا نام؟… میں نے تصدیق کے لیے پوچھا۔
جی تمکنت…
یہ آپ کا ایکسرے ہے۔… میں نے لفافہ آگے بڑھایا ۔ مجھے ایسے محسوس ہوا جیسے میں کوئی جرم کر رہا ہوں یا کر چکا یا مجھ سے کوئی ناخوشگوار حرکت ہو گئی ہے کیونکہ کل شام میں نے خلاف عادت ڈاکٹر صاحب سے اس ایکسرے کی تفصیلی رپورٹ معلوم کر لی تھی۔
اس نے لفافے میں سے رپورٹ نکالی۔ غور سے پڑھتی رہی۔ پھر اس کے چہرے پر زرد گلاب کی سی کیفیت پیدا ہوئی۔
میں از خود بول اُٹھا…
آپ کو تھوڑی سی تکلیف ہے ۔ آپ کا دایاں پھیپھڑا متاثر نظر آتا ہے ۔ صرف گول بیر کی گٹھلی جتنا داغ ہے اور یہ ابتدائی تکلیف دو تین ماہ کے علاج سے رفع ہو جائے گی۔ فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
جی‘‘… اس کے لب ہلے ۔ پھر ایک سوگوار سی ہنسی اس کے ہونٹوں پر اُبھری ۔ جیسے بہت سے ارمان اور آرزوئیں اس کے اندر کھلبلی مچا رہے ہوں اور وہ ان سے پیچھا چھڑانے کے لیے ہنس پڑی ہو۔
’’میں نے کب آپ سے کہا کہ میں فکر مند ہوں؟‘‘ اس نے کالی عینک اُتار دی۔
مجھے اپنے مشورے زائد ہونے کا احساس ہوا۔ میں اس کی آنکھوں کو دیکھنے لگا۔ ان میں ایک بھیگا بھیگا سوز اور رویا رویا سا خمار تھا۔ جس طرح کنول پانی میں ڈوبے رہنے سے کبھی ہنستے کبھی روتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ مجھے یوں لگا، ان خوابیدہ آنکھوں میں حسین خوابوں کی ایک دُنیا پڑی سوتی ہے جو قیامت خیز بن سکتی ہے مگر اِس دُنیا کو جگانے سے پہلے اُس زندگی کو بیدار کرنے کی ضرورت تھی جو ندی کی ایک سوئی ہوئی لہر کی طرح خشک ہو جانے کا تہیہ کیے ہوئے تھی۔
میں نے اسے دو تین چیسٹ سپیشلسٹ ڈاکٹروں کے پتے بتائے۔ اس کی نم آلود اور چمکدار آنکھیں دُور خلاؤں میں دیکھتی رہیں ۔ پھر اس نے کالی عینک آنکھوں پر لگا لی۔ بہت سیانی تھی وہ۔ کالی عینک کا استعمال غالباً ایسی آنکھوں کے لیے بہت ضروری تھا ۔ وہ اُٹھی اور دھیرے سے باہر نکل گئی ۔  ہوا کے نرم جھونکے کی مانند ۔ سڑک پر تانگہ روکا اور اس میں سوار ہو کر لہروں پر رواں کشتی کی مانند نظروں سے اوجھل ہو گئی۔
کچھ عرصہ بعد مجھے دوائیوں کی ایک لیباریٹری میں ملازمت مل گئی۔ روزگار کی دلفریبی  نے ذہن سے کئی نقش کھرچ ڈالے۔ دو سال بعد مجھے اس سے بھی اچھی نوکری مل گئی ۔ اب میری تنخواہ بھی دو چند ہو گئی تھی۔ دونوں چھوٹی بہنوں کی شادی بھی ہو چکی تھی ۔ بڑے بھیا مجھے بوجھ بھی تصور نہیں کرتے تھے ۔ چھوٹے سے دو منزلہ مکان کی تیسری چھت پر میں  نے اپنے لیے ایک کمرا اور غسل خانہ بنوا لیا ۔ بظاہر زندگی کا رویہ بڑا معقول ہو گیا۔
ایک دن ماں بولی
خالہ ارجمند بڑا زور دے رہی ہیں ۔ تجھے ان کی لڑکی آفندہ سے بیاہ کرنا ہو گا۔ میں زبان دے چکی ۔ ایک متوسط طبقے کے آدمی کو اپنے اردگرد کے رشتوں پر ہی اکتفا کرنی چاہیے۔ اپنے پھر اپنے ہوتے ہیں۔ بہت سے عیبوں کا پردہ رہ جاتا ہے۔ زیادہ دھوم دھڑکے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی اور سفید پوشی میں گھر بس جاتے ہیں۔
اگر گھر بسانا ہی مقصود ہے تو وہ چھوٹے سے دو منزلہ مکان کی تیسری چھت کے ایک دھوپ زدہ کمرے میں ، ارجمند خالہ کی بیٹی آفندہ ہی سے سہی
(اللہ کرے اس معصوم اور مغموم لڑکی کو اب آرام آ گیا ہو)
گھر بھر میں شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں ۔ تیاریاں کیسی ، مذاق ہی ہوتا ہے غریبوں کے ساتھ… لوگ تو دو چار دن بندھی ٹکی زندگی سے اِدھر اُدھر ہو کر خوش ہو جاتے ہیں۔
جس روز بارات گھر میں واپس آئی اور آفندہ کو دُلہن بنا کر تیسری چھت کے روشن کمرے میں لایا گیا، میں اپنی کھڑکی میں کھڑا بازار کا نظارہ کر رہا تھا۔ محلے کے اتنے گھروں میں ہمارا گھر الگ تھلگ لگ رہا تھا ۔ اس پر روشنیوں کی دو لڑیاں لٹک رہی تھیں اور صاف پتا لگ رہا تھا، اس گھر میں دلہن آئی ہے۔
میں نے مڑ کر دیکھا، آفندہ دُلہن بنی پلنگ پر بیٹھی تھی ، اور میری بہن کب کی جا چکی تھی ۔ کمرے میں بہت سے پھول نظر آ رہے تھے۔ گلاب کے کم اور گیندے کے زیادہ۔ غریبوں کی شادیاں گیندےجیسے پھولوں ہی سے سج جاتی ہیں۔ اچانک میرا خیال زقند بھر کے کھڑکی سے باہر نکل گیا۔
(اللہ کرے اس اجنبی کھردری لڑکی کو آرام آ گیا ہو ، اللہ کرے اسے اچھا سا ڈاکٹر مل گیا ہو)
میرا گھر بسے ایک سال بھی ہو گیا۔ ایک منا آیا اور چلا بھی گیا۔ یہ گھر بسنے کی بین دلیل تھی ، ورنہ محلے دار مشکوک ہی رہتے ۔ شکر ہے ، سب اس یقین میں رہے کہ آفندہ اور کلیم دونوں بہت خوش ہیں۔ تیسری چھت کا یہ اکلوتا کمرا بڑا ہی نامعقول تھا۔
گرمیوں میں یہاں قیامت کی گرمی ہوتی، تپش اور حبس جان نکال دیتے اور سردیوں میں یہ گرم ہونے سے ایک دم انکار کر دیتا۔ گرما کی غضب ناک دوپہریں میں اپنے دفتر کے ٹھنڈے کمرے میں گزارنے لگا اور سردیوں کی طویل راتوں میں ، نیچے اپنی ماں کے پاس چلا جاتا۔
ماں سب سے نچلی منزل میں رہتی تھی۔ بڑے بھیا دوسری منزل میں۔ میں اگر تیسری منزل پر یہ کشادہ کمرا نہ بنواتا تو شاید مجھے گھر بسانے کا حق بھی نہ ملتا۔ دوسرے لفظوں ، میں تیسری چھت کا یہ کمرا بسانے کے لیے ہی میں نے شادی کی تھی ، جہاں بے چاری آفندہ سردی گرمی میں پڑی کڑھتی رہتی۔
اللہ کے فضل سے اس کا ساس اور جیٹھانی کے ساتھ دل نہیں ملا تھا۔ آمنا سامنا ہمیشہ ’’توُتوُ میَں میَں‘‘ پر ہی مُنتج ہوتا۔ نتیجتاً دونوں طرف سے کوسنے مجھے ہی سنائے جاتے ۔ مجھ میں نہ تو اتنا یارا تھا کہ اُوپر والے کمرے کو ایئرکنڈیشنڈ کروا دوں اور نہ اتنی ہمت کہ ماں سے اپنا حق مانگوں۔
کبھی کبھی جب تپتی ہوئی دوپہر میں سر گیلے تولیے سے ڈھانپے میں تیسری چھت کے کمرے میں داخل ہوتا تو آفندہ بھرے غبارے کی طرح پھٹ پڑتی…میں سر کے ساتھ منہ بھی لپیٹ لیتا اور سوچا کرتا…
(اللہ کرے اس لڑکی کو آرام آ گیا ہو، زمانے کے سرد و گرم نے اس کو مایوس نہ کر دیا ہو، اب اس کے ٹھہراؤ میں تھوڑی سی ہلچل پیدا ہو گئی ہو)
آفندہ تیسری چھت کے اس کمرے میں لکشمی دیوی بن کر نہیں آئی تھی، چنانچہ ہم دونوں کشمکشِ حیات سے نبردآزما رہے۔ یہیں پر اس نے مزید دو بچوں کو جنم دیا اور دو دفعہ میری نوکری جاتی رہی۔ ملازمت بھی آج کل کے زمانے میں پنسلین کا انجکشن بن گئی ہے ۔ اگر راس نہ آئے تو خاتمہ کر دیتی ہے ۔ ہاتھ پاؤں مارنے سے وقت گزر رہا تھا مگر آسودگی شاید نصیب میں نہیں تھی۔ پھر جلنے کڑھنے والی اور ہر دم بچوں پر چیخنے چلانے والی آفندہ نے بیمار رہنا شروع کر دیا۔
غربت اور بیماری کا ساتھ ایک جیسا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ سایہ اندھیرے میں غائب ہو جاتا ہے مگر بیماری کا سایہ غربت میں آگے آتا ہے۔ اس کی نت نئی شکایتوں نے مجھے اُس سے بیزار اور دُور کر دیا۔ راتوں کو جب وہ مسلسل کھانسے جاتی تو میں بھرّا کر اپنے آپ سے پوچھا کرتا… (کیا اس لڑکی کو آرام آ گیا ہو گا جسے ہلکی ہلکی کھانسی پریشان کیا کرتی تھی…)
آخر وہ وقت آ گیا جب عزیزوں کے اصرار پر مجھے آفندہ کو ایک خیراتی اسپتال میں داخل کرانا پڑا۔ چار سال سے وہ ایڑیاں رگڑ رہی تھی ۔ اب پانچواں سال لگا… سات سال کی منی اور پانچ سال کا ککو میرے لیے مستقل سر درد بن کر رہ گئے تھے… رات کو جب ککو ماں کو نہ پا کر رویا کرتا تو میں سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ، اور دل میں دُعا کرتا…
(اللہ کرے اس بکھری نکھری لڑکی کو آرام آ گیا ہو… وقت اس پر مہربان ہو گیا ہو…)
چھے ماہ پہلے ڈاکٹروں نے آفندہ کو جواب دے دیا۔ میں اسے گھر لے آیا۔ آج اس نے بہت خون تھوکا۔ اس کا چہرہ بہت خوفناک ہو گیا تھا۔ مجھے بلا کر اس نےد ونوں بچوں کے ہاتھ میرے ہاتھ میں تھما دیے اور مجھ سے ہاتھ جوڑ کے اپنی سب کوتاہیوں کی معافی مانگی۔
آج زندگی میں پہلی بار میں نے آفندہ کو غور سے دیکھا۔ وہ خوبصورت لڑکی تھی۔ میں نے اس کی خوبصورتی کی قدر نہیں کی تھی۔ تیسری چھت کے بے درد کمرے اور اپنی کج روی سے اسے موت کے منہ میں دھکیل دیا۔ اگر میں اس کی پروا کرتا تو وہ ایک خدمت گار بیوی بن سکتی تھی۔ میں اس کو دوا، دُعا کچھ بھی نہ دے سکا۔ اب تو ڈاکٹروں نے اسے زیادہ باتیں کرنے سے بھی منع کر دیا تھا۔
مگر اس نے کہا کہ وہ آج مجھ سے بے شمار باتیں کرنا چاہتی ہے… خواہ اس کے بعد وہ کبھی نہ بول سکے۔ میں نے چاہا، آج میں بھی اسے جی بھر کر تسلی دوں اور اپنی بدسلوکیوں کا اعتراف کر لوں۔ اس سے اظہار محبت کروں اور کہوں۔
آفندہ! فکر کیوں کرتی ہو، میں تمہیں ہر حالت میں بچا لوں گا۔
اللہ بے رحم نہیں ۔ تمہیں اپنے دونوں بچوں کے لیے جینا ہو گا۔ میرے لیے زندہ رہنا ہو گا ۔ میں تمہارے لیے کسی بہت اچھے اسپیشلسٹ کا بندوبست کروں گا۔
روپیہ پانی کی طرح بہا دوں گا ۔ تمہیں ضرور آرام آ جائے گا۔ میں آج ہی تمہیں کسی بڑے اچھے اسپتال میں داخل کرا دوں گا ۔ میں دن رات تمہاری پٹی کے ساتھ جڑ کر بیٹھا رہوں گا
مگر یہ سب کہنے کے بجائے میں سوچ رہا تھا۔
اللہ کرے وہ معصوم اور مغموم لڑکی بچ گئی ہو ، اسے تیسری منزل کا منحوس کمرا نصیب نہ ہوا ہو ، اللہ نے اس کو لمبی عمر دی ہو ۔ اس کی آنکھوں کی نمی میں سوگواری کے بجائے چاند اُتر آیا ہو ۔ اس کی کھانسی کو آرام آ گیا ہو۔
اس کے پھیپھڑے پر بیر کی گٹھلی جیسا نشان مٹ گیا ہو ۔ وہ خوش و خرم ہو۔ اس کے روشن چہرے سے کسی گھر کی پیشانی دمک رہی ہو
٭٭٭

Previous article
Next article

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles